Baaghi TV

Tag: پشاور ہائی کورٹ

  • پشاور ہائیکورٹ نے بھی چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کا عمل روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے بھی چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کا عمل روک دیا

    پشاور ہائی کورٹ نے بھی چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کا عمل روک دیا۔ پشاور ہائی کورٹ میں چیئرمین پی سی بی منتخب کرنے کے لیے الیکشن کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور ارشد علی نےکی۔درخواست پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کے سابق ممبر کبیر آفریدی نے دائر کی تھی۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین کے انتخاب کے لیے بورڈ آف گورنرز کے 16 میں سے 9 ممبران کو اجازت دی گئی ہے، پی سی بی چیئرمین کے لیے نامزد شخص کی تعلیمی اہلیت مکمل نہیں، مینیجمنٹ کمیٹی کا اجلاس بھی غیرقانونی ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کا عمل روکا جائے۔
    پشاور ہائی کورٹ نے چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کا عمل روک دیا اور چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کے خلاف عدالت نے حکم امتناعی جاری کردیا۔عدالت نےکیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
    واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان ہائی کورٹ بھی چیئرمین پی سی بی کے انتخابات روکنے کے احکامات دیتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کرچکی ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ نے چیئرمین پی سی بی کے الیکشن 17 جولائی تک روکنے کا حکم دیا ہے اور وزیراعظم، وزارت بین الصوبائی رابطہ اور ذکا اشرف سمیت فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔بلوچستان ہائیکورٹ نے چیئرمین پی سی بی کا الیکشن روکنے کا حکم دے دیا،
    عدالت نے یہ احکامات پی سی بی کے سابق مینیجمنٹ کمیٹی کے رکن گل کاکڑ کی درخواست پر جاری کیے۔
    بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا انتخاب ملتوی کیا جاچکا ہے۔پی سی بی کے مطابق چیئرمین کا انتخاب بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ملتوی کیا گیا ہے، پی سی بی چیئرمین کا انتخاب آج شیڈول تھا۔
    بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم کے بعد چیئرمین پی سی بی کا انتخاب ملتوی کیا جا چکا ہے،
    خیال رہے کہ پیپلزپارٹی نے چند روز پہلے ذکا اشرف کو چیئرمین پی سی بی بنانے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین کی تعیناتی کیلئے بورڈ آف گورنرز کیلئے ذکا اشرف اور مصطفیٰ رمدے کے ناموں کی منظوری دے دی۔
    امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سابق چیئرمین ذکا اشرف ایک بار پھر چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سنبھالیں گے۔

  • پشاورہائی کورٹ میں  محمود جان کے کیس کی سماعت

    پشاورہائی کورٹ میں محمود جان کے کیس کی سماعت

    قتل مقدمے میں گرفتار سابق ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا محمود جان کی درخواست ضمانت پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ہے،
    :درخواست پر سماعت جسٹس شکیل احمد نے کی، عدالت نے سابق ڈپٹی سپیکر محمود جان کی ضمانت منظوری کرکے رہائی کا حکم دے دیا،یاد رہے کہ ملزم پر تھانہ ریگی کے حدود میں عیسی خیل قوم کے جلوس پر فائرنگ کا الزام ہے،پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے،فائرنگ کا واقع ملزم کے علاقے عیسی خیل قوم سے زمینی تنازعہ پر سامنے آیا تھا،

  • پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور انور تاج کی راہداری ضمانت منظور کرلی

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور انور تاج کی راہداری ضمانت منظور کرلی

    پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنماء اسد قیصر اور انور تاج کیخلاف اسلام آباد میں درج مقدمات پر سماعت ہوئی،درخواست پر سماعت جسٹس وقار احمد نے کی، عدالت نے اسد قیصر اور انور تاج کی رہداری ضمانت منظور کرلی ، عدالت نے دونوں کو 3 جولائی تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا،ضمانت منظور ہونے پر عدالت نے اسد قیصر اور انور تاج کو ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،
    عدالت کے جانب سے 3 جولائی تک متعلقہ عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت یہ آرڈر واپس تصور ہونے کا حکم دیا گیا،
    واضح رہے کہ ان مقدمات میں گزشتہ روز اسلام آباد کی عدالت نے سابق سپیکر اسد قیصر اور انور تاج ضمانت خارج کی تھی،

  • پشاور ہائی کورٹ میں 9 مئی کے واقعات پر سماعت

    پشاور ہائی کورٹ میں 9 مئی کے واقعات پر سماعت

    پشاور ہائی کورٹ میں 9 اور 10 مئی کے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیس پر سماعت ہوئی،:چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس مسرت ہلالی نے درخواست پر سماعت کی ، سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے سابق مشیرعبدالکریم کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی ،عبدالکریم کے وکیل کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کی استدعا کی گئ تھی،سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے 9 اور 10 مئی کے واقعات پر ذاتی دکھ کا اظہار کیا،
    عدالت کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہونے کے بعد متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کردی،

  • پشاور ہائی کورٹ میں تجاوزات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت

    پشاور ہائی کورٹ میں تجاوزات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت

    پشاور ہائیکورٹ نے صدر کینٹ میں مختلف سڑکوں پر تجاوزات کے خلاف دائر درخواست پر ڈی سی پشاور, کنٹونمنٹ ایگزیکٹیوں آفیسر, سیکرٹری ڈیفنس, اسٹیشن کمانڈر پشاور اور محکمہ موحولیات سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا
    پشاور ہائی کورٹ میں صدر کینٹ میں مختلف سڑکوں پر تجاوزات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے ڈپٹی کمشنر پشاور, کنٹونمنٹ ایگزیکٹیوں آفیسر, سیکرٹری ڈیفنس, اسٹیشن کمانڈر پشاور سے جواب طلب کرلیا، درخواست گزار وکیل کے مطابق صدر بازار, فخر عالم روڈ, کالا باڑی اوردیگر سڑکوں پر قائم تجاوزات سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وکیل کے مطابق درخواست گزار نے دوکانداروں سے تجاوزات ہٹانے پر دھمکیاں دی گئی۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار کا صدر میں دفتر ہے اور تجاوزات اور ٹریفک جام کی وجہ سے ان کو بھی کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وکیل نے کہا کہ صدر میں ٹریفک مسائل پر کنٹونمنٹ اتھارٹی اور ٹریفک پولیس خاموش تماشائی بنی ہے۔

  • سرکاری ہسپتالوں کے قریب پرائیویٹ  کلینک پر پابندی

    سرکاری ہسپتالوں کے قریب پرائیویٹ کلینک پر پابندی

    خیبر پختونخواہ سرکاری ہسپتالوں کے قر یب کسی بھی پرائیوٹ کلینک پر پابندی لگا دی گئی ہے،یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کے روشی میں ہواہے،محکمہ صحت کی جانب جاری کردی ایک بیان میں موقف اپنایا گیا ہے، کہ سرکاری ہسپتالوں سے تقر یبا پانچ سو میٹر پر کوئی پرائیویٹ کلینک نہیں کھولا جائے گا، پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کا بھی حکم دیا گیا ہے،واضح رہے کے سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز نے قریبی علاقوں میں اپنے کلینک بنائے ہے اور ہسپتال میں چیک اپ کے لئے آنے والے مریضوں کو اپنے کلینکس میں بھجوا کے مہنگے داموں علاج کے سہولیات لینے پر مجبور کیا جاتا ہے،جسکا پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس لے کر تمام کلینکس کو بند کرنے کے بھی احکامات جاری کئے ہیں،

  • صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

    صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

    صدر مملکت عارف علوی نے پشاور ہائیکورٹ میں 3ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے جسٹس کامران حیات میاں خیل ، جسٹس محمد اعجاز خان اور جسٹس محمد فہیم ولی کی بطور ایڈیشنل ججز مستقلی کی منظوری دی گئی-

    صدرمملکت عارف علوی نے پشاور ہائیکورٹ میں ججز کی مستقلی کی منظوری آئین آرٹیکل 175 اے 13 کے تحت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی-

    دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کے کاغذات نامزدگی جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے،الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے مطابق خیبر پختونخوا سے8 قومی اسمبلی کی نشستوں پر 79 امیدواروں نے کاغذات نامزدگیاں جمع کیں،امتیاز علی شاہ گولڈ میڈلسٹ ہیں، انہیں 9 امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا-

    الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 4 سوات 9،این اے 38 ڈیرہ اسما عیل خان پر 13امیدواروں نے کا غذات جمع کروائے،این اے17ہر ی پور8،این اے18صوابی 11، این اے32کو ہاٹ پر7امیدواروں نے کا غذات جمع کر وائے،این اے25 نوشہرہ ون 9، حلقہ این اے26 نوشہرہ ٹو پر12امیدواروں نے کا غذات جمع کر وائے،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے43خیبر پر10امیدواروں نے کا غذات جمع کروائے ہیں-

    الیکشن کمیشن کے پی کے مطابق 13فروری تک کاغذات جانچ پرتال کی جا ئے گی،23کو حتمی فہرست اور انتخابی نشانات الاٹ ہوں گے-

  • عدلیہ کا اختیار بیوروکریسی کودینےپرصوبائی حکومت سے وضاحت طلب:کے پی حکومت کا اعلامیہ معطل

    عدلیہ کا اختیار بیوروکریسی کودینےپرصوبائی حکومت سے وضاحت طلب:کے پی حکومت کا اعلامیہ معطل

    پشاور:عدلیہ کا اختیار بیوروکریسی کو دینے پر صوبائی حکومت سے وضاحت طلب:کے پی حکومت کا اعلامیہ معطل ،اطلاعات کے مطابق آج پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے اعلامیے کو معطل کرتے ہوئے عدلیہ کا اختیار بیوروکریٹ کو دینے پر صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کرلی ہے

     

    پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس بھیج دیا

    پشاور سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخواحکومت نے سیاسی مقاصد کےلئے سی آر پی سی سیکشن 196 کے تحت عدلیہ کا اختیاربیوروکریسی کے حوالے کیا۔ لیکن پشاور ہائی کورٹ نے اعلامیہ معطل کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے 13 ستمبرتک جواب طلب کرلیا ہے۔حکومت سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ بالآخرحکومت کو کیا مجبوری تھی اس قانون کو تحویل میں لینے کی ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں آج پشاور ہائی کورٹ میں صوبائی حکومت کے اعلامیے کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس شکیل خان پر مشتمل بینچ نے کی۔

    پاکستان سکھ کمیونٹی کا کرپان سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    کے پی حکومت کے خلاف اس حوالے سے درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ صوبائی کابینہ نے سیاسی مقاصد کے لیے سی آر پی سی کے سیکشن 196 کے تحت بغاوت کے مقدمات درج کرنے کی منظوری دی تھی جب کہ سیکشن 196 کسی افسر کو ایف آئی آر درج کرانے کا اختیار نہیں دیتا۔

    ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے زیادہ تر نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے، پشاور ہائی کورٹ

    اس سماعت کےبعد پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے اعلامیے کو معطل کردیا، اور فوجداری قانون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لئے عدلیہ کا اختیار بیوروکریٹ کو دینے پر صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کرلی۔ہائی کورٹ نے سیکشن 196 کے اختیار کے حوالے سے آئینی رائے بھی مانگ لی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کے پی حکومت نے اس سلسلے میں ہائی کورٹ کو مطمئن کرنے کے لیے وضاحت کے آئینی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے

    یاد رہے کہ آج کے پشاور ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے بعد ڈی آئی خان میں پی ڈی ایم قائدین پر درج ہونے والے مقدمات کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی۔

  • سیاسی رہنماؤں کی تقاریر میں وہ شائستگی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی،پشاور ہائی کورٹ

    سیاسی رہنماؤں کی تقاریر میں وہ شائستگی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی،پشاور ہائی کورٹ

    پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی تقاریر میں وہ شائستگی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی-

    باغی ٹی وی :پشاور ہائی کورٹ میں ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد شیئر ہونے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس قیصر رشید اور محمد ابراہیم خان نےکی۔

    پاکستان میں فیس بک کا دفترکھولنے سے متعلق خبروں پر ایف آئی اےکا بیان سامنے آگیا

    پی ٹی اے کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کوبتایا کہ لاکھوں کی تعداد میں غیراخلاقی ویڈیوزبلاک کی گئیں ہیں اور وارننگ کے بعد فلٹریشن عمل مزید سخت کیا گیا ہے،سیکڑوں ماہرین بھرتی کیےگئےہیں، ویڈیوز اپ لوڈ ہونے سے پہلے جانچ پڑتال کرتے ہیں۔

    وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اب بھی بہت سی چیزیں اپ لوڈ ہو رہی ہیں۔

    ریاست کے خلاف لانگ مارچ ہوا تو سختی سے پیش آیا جاۓ گا، رانا ثناء اللہ

    چیف جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیےکہ بعض چیزیں پی ٹی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں، عدالتی احکامات پر اب کافی حد تک عمل درآمد کیا گیا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں ویڈیوز ختم کی گئی ہیں اور ہزاروں ایسے افرادکے اکاؤنٹس بلاک کیےگئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آج کل ٹاک ٹاک ایک طرف، اب تو سیاسی لیڈر شپ بھی ناشائستہ زبان استعمال کر رہی ہے، ان کی تقاریرمیں وہ شائستگی نہیں رہی جو پہلے ہوتی تھی، حکومت کو اس حوالے سے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔

    عدالت عالیہ نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد شیئر ہونے سے متعلق رٹ پٹیشن نمٹادی۔

    عوامی مسا ئل فو ری حل کر نے کیلئے کھلی کچہریاں شر وع کیں،وفاقی محتسب

  • ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے زیادہ تر نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے، پشاور ہائی کورٹ

    ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے زیادہ تر نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے، پشاور ہائی کورٹ

    پشاور: ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والوں کو اسی وقت بلاک کرنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کے لئے دائر درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے زیادہ تر نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے۔

    پب جی گیم پر”پابندی”کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ٹک ٹاک پر غیراخلاقی مواد روکنے کے لئے ہدایات جاری کی تھیں، پی ٹی اے نے رپورٹ پیش کی ہے جس کے مطابق اب تک 2 کروڑ 89 لاکھ 35 ہزار 34 غیر اخلاقی ویڈیوز ہٹا دی گئی ہیں، جب کہ غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والے 14 لاکھ 65 ہزار 612 اکاونٹ بلاک کر دیئے گئے ہیں۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ ہمارے نوٹس میں لایا گیا کہ غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی جارہی ہے، غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے لیکن ان کو سزا نہیں ملتی جس کی وجہ سے وہ دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہیں-

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی اے ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کے لئے جو اقدامات کررہی ہے عدالت اس کو سراہتی ہے، لیکن عدالت چاہتی ہے کہ پی ٹی اے اس ایکسرسائز کو جاری رکھے اور جو غیر اخلاقی مواد شیئر کرتا ہے ان کو اسی وقت بلاک کیا جائے-

    اسلام آباد: گھرمیں کھڑی گاڑی سے کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن برآمد

    عدالت نے حکم دیا کہ اس کے لئے ایک طریقہ کار بنایا جائے تاکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کو بلاک کیا جائے عدالت نے پی ٹی اے سے آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کر لی-

    دوسری جانب آن لائن گیم "پب جی” پر پابندی کے لئے لاہور ہائی کوڑت یں درخواست جمع کرا دی گئی ہے شہری تنویر احمد نے ندیم سرور کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ ،یں درخواست جمع کرائی درخواست گذار نے موقف اپنایا کہ کہ پاکستان میں "پب جی” گیم کے منفی اثرات کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں لاہور میں پب جی کے استعمال سے 14 سالہ لڑکے نے ماں بہن اور بھائیوں کو قتل کر دیا ہے-

    پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں،…

    درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پب جی کے استعمال سے نوجوان نسل کی ذہنی صحت اور زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں انڈیا میں آن لائین گیمز کو ریگولیٹ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں آن لائن گیمز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کو قوانین وضع نہیں کئے گئے درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ "پب جی ” گیم پر فوری پابندی عائد کی جائے اس درخواست پر پیر کے روز سماعت کا امکان ہے-

    دوسری جانب محکمہ پنجاب پولیس نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ایسی خطرناک وڈیو گیمز پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو نوجوانوں میں تشدد کے رجحانات کو فروغ رہی ہیں اور ان پر پابندی سے نوجوان نسل کو ان کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہا جاسکے گا۔

    وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ