Baaghi TV

Tag: پنجاب پولیس

  • پنجاب پولیس زندہ باد :کمرہ عدالت سے گرفتار نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک ساتھیوں سمیت فرار

    پنجاب پولیس زندہ باد :کمرہ عدالت سے گرفتار نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک ساتھیوں سمیت فرار

    راولپنڈی : پنجاب پولیس زندہ باد :کمرہ عدالت سے گرفتار نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مالک ساتھیوں سمیت فرار ،اطلاعات کے مطابق کمرہ عدالت سے گرفتار نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک ندیم اعجاز کو ساتھی پولیس حراست سے چھڑا کر لے گئے، ملزم کو عبوری ضمانت خارج ہونے پر عدالت نے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا،عدالتی حکم پر پولیس اہلکاروں نے ملزم کو ہائی کورٹ سے گرفتار کیا تھا۔ملزم ندیم اعجاز کے مسلح گارڈز نے ہائی کورٹ کے باہر سے پولیس حراست سے ملزم کو فرار کرایا۔

    ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں روانہ کردی گی، ملزم کے ساتھیوں کے خلاف تھانہ ائیرپورٹ میں ایف آئی آر درج کی جارہی ہے، ملزم ندیم اعجاز کو اغوا کے مقدمہ میں جسٹس صداقت عباسی کی عدالت سے ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کیا تھا۔

    دوسری جانب نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے ڈائریکٹر ندیم اعجاز کی ضمانت خارج ہونے پر ہائی کورٹ سے فرار ہونے کے واقعہ پر سی پی او راولپنڈی اطہر اسماعیل نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی صدر کو 24گھنٹے میں ملزمان گرفتارکرنے کا حکم دے دیا، ملزم ندیم اعجاز کیخلاف تھانہ چونترہ میں مقدمہ نمبر50/21بجرم34-1/Bپنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹی ایکٹ کے تحت درج تھا۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ملزم 30نومبر 2021تک ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت پرتھا جس کی عبوری ضمانت خارج ہونے پر معزز عدالت نے گرفتاری کا حکم دیا، ملزم ندیم اعجاز نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے ساتھیوں سمیت فرار ہوگیا۔ ملزم ندیم اعجازاور اسکے ساتھیوں کے خلاف تھانہ ائیر پورٹ میں مقدمہ درج کردیا گیا۔

     

     

  • پنجاب پولیس کی غنڈی گردی ، درخواست گزار لڑکی کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

    پنجاب پولیس کی غنڈی گردی ، درخواست گزار لڑکی کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

    مظفرگڑھ کے نواحی علاقے چوک سرور شہید میں 17 سالہ زیادتی کا شکار مدعیہ پر پولیس کابہیمانہ تشدد ایس ایچ او منیر اور تفتیشی چوہدری افضل نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ڈانس بھی کروایا

    مظفرگڑھ کے نواحی علاقے چوک سرور شہید میں ذیادتی کی شکار متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ ساری رات ہتھکڑی لگا کر ایس ایچ او نے اپنے کمرے میں رکھا متاثرہ لڑکی نے کہا مجھے اپنےماں باپ سے بھی ملنے نہیں دیا گیا متاثرہ لڑکی کے مطابق میرے ساتھ شہزاد نامی لڑکے نے زیادتی کی اس کے علاوہ مجھے ایف آئی آر کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیامتاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے اطلاع دینے والے بے گناہ 3 لوگوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہوا ہیں متاثر لڑکی کے والدین کے مطابق ہمیں دھکے دے کر تھانے سے باہر نکال دیا گیا والدین کےمطابق ہائی کورٹ کے بیلف نے لڑکی کو پولیس سے بازیاب کروایا کے عدالت پیش کر دیا

    جسٹس ہائی کورٹ نے لڑکی کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا والدین کے مطابق جسٹس ہائی کورٹ کی ایس ایچ او منیر اور تفتیشی افضل کی سرزنش لڑکی کا وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سےپولیس اہلکاروں اور زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم شہزاد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ دوسری جانب ریجنل پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نےضلع مظفرگڑھ کے تھانہ سرورشہید کے علاقہ میں 17سالہ لڑکی کے اغواء اور زیادتی کی واردات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او سے رپورٹ طلب کر لی،ڈی پی او حسن اقبال نے آر پی او فیصل رانا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں وقوعہ کا مقدمہ اغواء اور زیادتی کی دفعات کے تحت درج کر کے مرکزی ملزم شہزاد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے آر پی او فیصل رانا نے کہا کہ ڈی پی او اس مقدمہ کی تفتیش کی خود نگرانی کریں گے جبکہ میں اس مقدمہ کی تفتیش کے فالواپ اقدامات کی رپورٹ خود لوں گا.

    مجیب الرحمان شامی باغی ٹی وی مظفرگڑھ

  • پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر  تقرر و تبادلے کیے۔

    پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے کیے۔

    ترقی پانے والے ایس پیز کو بھی نئی پوسٹنگ دے دی گئی
    انور سعید کو ایس پی انویسٹی گیشن نارووال تعینات کر دیا گیا۔ عابد عباس کو ایس پی سکیورٹی راولپنڈی تعینات کر دیا گیا۔ زنیر ہ اظفر کو ایڈیشنل ایس پی راولپنڈی ہیڈکوارٹرز تعینات کر دیا گیا ۔ ظہیر احمد ایس پی وی وی آئی پی سکیورٹی سپیشل برانچ لاہورتعینات۔ ایس پی غلام مصطفی ٰ کی خدمات ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے سپر د ۔ملک طارق محبوب کو ایس پی سی آئی اے راولپنڈی تعینات کر دیا گیا ۔ خالد محمود کو ایس پی انویسٹی گیشن ننکانہ صاحب تعینات کر دیا گیا
    نعیم عزیز کو ایس پی سی آئی اے فیصل آباد تعینات کر دیا گیا ۔ ایس پی فاروق احمد انور کی خدمات ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے سپرد ۔ فیصل سلیم کو ایس پی انویسٹی گیشن چکوال تعینات کر دیا گیا ۔ خالد رشید کو ایس پی انویسٹی گیشن جھنگ تعینات کر دیا گیا
    طاہر مقصود ایس پی انویسٹی گیشن علامہ اقبال ٹاؤن تعینات ۔ اسداللہ کو ایس پی انویسٹی گیشن بھکر تعینات کر دیا گیا۔ شاہد پرویز ایس پی وی وی آئی پی سکیورٹی سپیشل برانچ راولپنڈی تعینات ۔ عبدالطیف طاہر ایس پی انویسٹی گیشن ٹوبہ ٹیک سنگھ تعینات کر دیا گیا۔ فاروق احمد ہندل کو ایس پی انویسٹی گیشن جھنگ تعینات کر دیا گیا۔ ملزوم حسین ایس پی آر آئی بی ساہیوال تعینات ۔ محمد انور خان کو پی سی ہیڈ کوارٹرز فاروق آباد تعینات کر دیا گیا۔ مزمل حسین کو ایڈیشنل ایس پی سرگودھا تعینات کر دیا گیا ۔ فدا حسین کو ایس ایس پی آر آئی بی فیصل آباد تعینات کر دیا گیا

  • پنجاب پولیس میں اہلکاروں کی محکمانہ ترقی کا عمل:کیا میرٹ اور سنیارٹی کا خیال رکھا جائے گا؟

    پنجاب پولیس میں اہلکاروں کی محکمانہ ترقی کا عمل:کیا میرٹ اور سنیارٹی کا خیال رکھا جائے گا؟

    لاہور: پنجاب پولیس میں میرٹ اور سنیارٹی کے مطابق افسران و اہلکاروں کی محکمانہ ترقی کا عمل مکمل کرنے کیلئے احکامات جاری کردیے گئے- آئی جی پنجاب کا 15دنوں میں کانسٹیبل سے ایس پی رینک تک خالی آسامیوں کو پروموشنزکے ذریعے پُر کرنے کا حکم جاری- تمام خالی آسامیوں پر میرٹ کے مطابق افسران و اہلکاروں کی پروموشنز کو یقینی بنایا جائے گا۔

    آئی جی پنجاب تمام فیلڈ یا یونٹ سربراہان خالی آسامیوں پر ترقیوں کا عمل مکمل کرکے 16 فروری تک ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ کو سرٹیفیکیٹ دیں گے۔ آئی جی پنجاب سرٹیفیکیٹ میں ضلع یا فیلڈ یونٹ میں خالی آسامیوں پر افسران واہلکاروں کی ترقیوں کے بعد سیٹیں پُر ہونے کی تفصیل ہوگی۔ آئی جی پنجاب تمام کمانڈ افسران ماتحت سٹاف کی محکمانہ پروموشن کیلئے ذاتی نگرانی میں بروقت اقدامات کو یقینی بنائیں گے-

  • پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    کسی بھی ملک میں پولیس کا محکمہ صرف اور صرف اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کو تحفظ دیا جا سکے ۔ لوگوں کا جان و مال چوروں ، ڈاکوٶں اور لٹیروں سے محفوظ رکھا جا سکے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے پولیس کا محکمہ ایک ایسا محکمہ ہے جہاں انسان سب سے زیادہ بے تحفظ ہے ۔ خاص طور پر پنجاب پولیس کی صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے ۔ پنجاب پولیس نا صرف عوام میں اپنا اعتماد بری طرح کھو چکی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے بیشمار نفرت بھی ڈال چکی ہے ۔ پنجاب پولیس کی وجہ سے جہاں پنجاب کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں وہیں پنجاب پولیس کے جوان بھی انتہاٸی لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں جہاں نا تو پنجاب پولیس کے جوانوں کے پاس نوکری کا مکمل تحفظ موجود ہے اور نا ہی ان کے پاس کوٸی ذاتی طاقت ۔ پنجاب پولیس میں زیادہ تر سیاسی اثر ورسوخ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر کوٸی مجرم طاقت ور ہے تو وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس پر دباٶ ڈال کر لوگوں کا جینا حرام کیے رکھتا ہے ۔ اگر کوٸی شریف اور ایمان دار پولیس والا ایسے مجرم پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا پھر نوکری سے ۔ بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسے پولیس والے کا تبادلہ کہیں دور دراز ایسے علاقوں میں کر دیا جاتا ہے جہاں دوسرے پولیس والے اس سے سبق سیکھ سکیں کہ انہیں صرف اور صرف سیاسی نماٸندوں کی ہی خدمت کرنی ہے ۔ لیکن انہی پولیس والوں کے نزدیک ایک عام انسان جس کے پاس نا دولت ہے ، نا سیاسی اثر و رسوخ ، نا عدالتوں میں چکر کاٹنے کا وقت اور نا ہی مقدمہ لڑنے کے لیے مہنگا وکیل کرنے کے لیے پیسہ تو یہی پولیس والے عام عوام کا جینا حرام کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک عام شہری بغیر جرم کے شامل تفتیش کر دیا جاتا ہے اور وہ بیچارہ پھر دوران تفتیش ہی خالق حقیقی سے جا ملتا ہے ۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس مظلوم پر کسی سیاسی شخصیت نے مقدمہ کروایا ہوتا ہے یا پھر کسی نے اپنی خاندانی دشمنی نکالنے کے لیے پولیس کو بھاری رقم دی ہوتی ہے ۔ دوسری اہم وجہ یہ کہ جب یہی پولیس والے بھرتی ہوتے ہیں تو انہیں نوکری کے حصول کے لیے بھاری رشوت دینی پڑتی ہے

    اور جب انہیں نوکری مل جاتی ہے تو یہ پولیس والے اپنی رشوت کے پیسے لوگوں سے وصول کرنے کے چکروں میں عام پبلک کے خون پسینے کی کماٸی کا ایک ایک سو روپیہ تک اپنی جیبوں میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں آج تک مقدمہ سے لے کر تفتیش تک وہی سسٹم چلا آرہا ہے جو انگریزوں نے برصغیر میں راٸج کیا تھا ۔ انگیریزوں کا پولیس بنانے کا مقصد تو یہی تھا کہ وہ یہاں کے مظلوم اور غلام لوگوں پر اپنا اثر و رسوخ بٹھاٸے رکھیں ، لوگوں پر بلاوجہ ظلم و تشدد کرتے رہیں تا کہ کوٸی آزادی کا نام نا لے ۔ انگریزوں کو گے تقریبا ایک صدی ہونے کو ہے مگر ہمارا پولیس کا نظام آج بھی وہی کا وہی ہے جو آج سے ایک صدی پہلے تھا ۔ ہمارے ہاں پولیس کا آج بھی یہی مقصد ہے کہ عام عوام پر سیاسی لوگوں اور امیر کبیر چوروں ڈاکوٶں کا خوف جماٸے رکھا جاٸے تاکہ یہ لوگ کبھی بھی کسی سیاسی نماٸیندے کے سامنے حق بات نا کر سکیں ۔ بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ چور ، ڈاکو اور بھتہ لینے والے خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی لوٹ مار سے ملنے والی چیزوں میں سے پولیس والوں کو بھی حصہ دیتے ہیں ۔

    کوٸی بھی محکمہ مکمل طور پر برا نہیں ہوتا نا ہی اس محکمے کے سبھی لوگ برے ہوتے ہیں جہاں پولیس والوں میں بہت سے درندے نظر آتے ہیں وہیں چند ایک پولیس والے عوام کی خاطر جانیں بھی لٹا دیتے ہیں ۔ بہت سے پولیس والے اسی عوام کی خاطر اپنی بیوی کو بیوہ ، بچوں کو یتیم ، ماں باپ اور چھوٹے بہن بھاٸیوں کو بے سہارا چھوڑ کر شہادت پا لیتے ہیں ۔ لیکن ایسے اچھے پولیس والوں کو بھی ہمارے پاکستانی بھاٸی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ان کے جذبے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں جب تک نٸی اصلاحات نہیں آٸیں گی تب تک یہ محکمہ کبھی بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اس محکمے کو عوام دوست بنانے کے لیے حکومت کو اس محکمے میں نٸی اصلاحات کرنی چاہیے جو کہ امید تھی کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خاں اپنی حکومت بناتے ہی کر دیں گے مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوٸی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب پولیس سے سیاسی اثر و رسوخ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جاٸے ۔تا کہ پولیس کسی دباٶ میں آٸے بغیر عوام کی جان و مال کو تحفظ دے اور عوام کی زندگیاں آسان بناٸے ۔

    ۔ دوسری بات جو بہت ضروری ہے کہ ایک پولیس والے کو اس کی نوکری کا تحفظ دیا جاٸے ، جان کا تحفظ دیا جاٸے ۔ یہ نا ہو کہ اگر کوٸی پولیس والا کسی سیاسی شخصیت کے دباٶ میں آنے سے انکار کرے تو سیاسی شخصیت یا تو اسے نوکری سے فارغ کر دے یا پھر اس پولیس والے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ تیسری اور اہم بات یہ کہ پولیس کے محکمے سے رشوت کا خاتمہ کیا جاٸے تاکہ کوٸی بھی جوان رشوت دے کر نوکری حاصل نا کرے ۔ اس سے امید ہے کہ یہ پولیس والے عوام کو لوٹنا بند کر دیں گے ۔ پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے پولیس کی اعلی سطح پر اخلاقی تربیت کی جاٸے اور انصاف کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سیکھنا لازمی قرار دیا جاٸے ۔ اس کے علاوہ تفتیشی عمل میں جو غیر انسانی رویہ اپنایا جاتا ہے اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاٸے ۔ مقدمہ درج کرنے کے عمل میں آسانیاں فراہم کی جاٸیں تاکہ کوٸی بھی مظلوم بلاجھجک انصاف کے حصول کے لیے پولیس کے پاس آسکے ۔ روایتی تھانہ کلچر ختم کیا جاٸے اور پولیس کو عوام کے دروازے پر انصاف کے فراہمی کے لیے جانا چاہیے ۔ جو پولیس والے چوروں ، ڈاکوٶں اور بھتہ خوروں کے ساتھ مل کر عوام کا جینا حرام کیے ہوٸے ہیں انہیں سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تاکہ باقی پولیس والے ان لوگوں سے عبرت حاصل کر کے اپنا قبلہ درست کر لیں۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو امن کا گہوارا بناٸے اور ہماری پولیس کو انسانیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین