Baaghi TV

Tag: پنجاب

  • کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل  کی پیشگوئی

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے کل سے صوبے بھر میں مون سون کا 9 واں اسپیل شروع ہونے کی پیش گوئی کی ہے-

    پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کردی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کا 9 واں اسپیل کل سے شروع ہوگا، 29 اگست سے 2 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہےراولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی،نبیل جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مون سون بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں تمام ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران فیلڈ میں موجود رہیں محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور لایئو اسٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہےشہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل

  • وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعرات کو پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا فضائی اور زمینی دورہ کیا۔

    اس موقع پر انہیں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،روانگی سے قبل چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیراعظم کو ملک بھر کی سیلابی صورتحال اور جاری ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

    فضائی معائنے کے دوران وزیراعظم کو خاص طور پر نارووال اور گوجرانوالہ ڈویژن میں شدید متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مزید جانی و مالی نقصان روکنے اور ریلیف آپریشن تیز کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔

    https://x.com/GovtofPunjabPK/status/1960961380531781790

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گوجرانوالہ ڈویژن میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سیالکوٹ کے 5، گجرات کے 4، نارووال کے 3، حافظ آباد کے 2 اور گوجرانوالہ کے 1 شہری شامل ہیں۔ مزید 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    حکام کے مطابق: پنجاب بھر میں 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد اور 35 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جب کہ769 دیہات زیرِ آب آ گئے جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو چکی ہے،نارووال میں سیلابی ریلوں نے تاریخی گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے احاطے کو بھی ڈبو دیا-

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے کہا کہ 39 ہزار 638 افراد کو مختلف اضلاع سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جن میں سیالکوٹ، سرگودھا، چنیوٹ، گوجرانوالہ، ننکانہ، حافظ آباد، منڈی بہاالدین، گجرات، لاہور، نارووال، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی، بہاولپور اور لودھراں شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (UNOCHA) کے مطابق اس سال مون سون سے ہونے والی اموات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہیں۔

  • پنجاب میں بارشوں اور طغیانی سے سیلابی صورتحال، ہنگامی نمبرز جاری

    پنجاب میں بارشوں اور طغیانی سے سیلابی صورتحال، ہنگامی نمبرز جاری

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، متاثرین کی فوری امداد اور ریسکیو کے لیے انتظامیہ نے ہنگامی نمبرز جاری کر دیے۔

    ترجمان کے مطابق سیلابی علاقوں میں پاک فوج کے جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، درجنوں دیہات سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔پنجاب میں سیلاب کے باعث ٹرینوں کے شیڈول میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔

    ہنگامی رابطہ نمبرز
    ساہیوال: 03040920056، 0409200499، 03040920086
    تاندلیانوالہ: 03230660267، 03218515007، 0409200499
    جڑانوالہ: 03326695050
    پاکپتن: 03457308886، 03004332713
    گجرات: 03465391803، 0409200499
    پیر محل: 03007855960، 0409200499
    پنڈی بھٹیاں: 0409200499، 03008641649
    چنیوٹ: 03040920089

    لاہور ڈویژن میں 500 فوجی افسران اور جوان مختلف مقامات پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ قصور اور دیگر متاثرہ علاقوں میں فوجی و سول انتظامیہ نے اب تک 21 ریسکیو اور ریلیف کیمپس قائم کیے ہیں۔ترجمان کے مطابق 72 دیہات سے تقریباً 10 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں کشتیوں اور دیگر آلات کے ذریعے مسلسل متاثرہ علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔

    متاثرین کو خوراک، پانی اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ابتدائی طبی امداد کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔دریاؤں میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے متعلق بھارت نے بھی پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔

    29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

  • وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت سیلابی صورتحال پر ہنگامی اجلاس

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت سیلابی صورتحال پر ہنگامی اجلاس

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں جاری شدید بارشوں اور دریاؤں میں سیلابی صورتحال پر ہنگامی اجلاس کی صدارت کی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے سیلابی صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ دی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خصوصی ہدایت کی کہ این ڈی ایم اے نے اب تک پنجاب کے متاثرہ علاقوں کے لیے 5 ہزار خیمے مہیا کیے ہیں، دیگر ضروری سامان کی ترسیل بھی جاری رکھی جائے، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور میں اربن فلڈنگ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامی اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں، گزشتہ روز این ڈی ایم اے کی طرف سے سیلابی صورتحال اور بارشوں کی وارننگ کی بروقت پیشگی اطلاع نے قیمتی جانی و مالی نقصان کو بچایا این ڈی ایم اے، پنجاب کے پی ڈی ایم اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہےپیشگی اطلاع پہنچانے کا یہ سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے۔

    شہباز شریف نے حکم دیا کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر بجلی کی بلا تعطل فراہمی، ذرائع مواصلات اور سڑکوں کی بحالی یقینی بنائی جائے، کسی بھی صوبے میں سیلابی صورتحال سے پیدا ہونے والے مسائل کو ملکی سطح پر مکمل ہم اہنگی سے حل کیا جائے گا، وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظرہر ممکن تعاون فراہم کیا، پنجاب میں بھی وفاقی حکومت بھرپور تعاون کرے گی، پنجاب کے بعد سیلابی ریلوں کی سندھ آمد کی بر وقت پیشگی اطلاع کو یقینی بنایا جائے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

    وزیراعظم سے جاپانی بینک کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوامی نمائندگان اور حکومتی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بروقت انخلا، محفوظ مقام پر منتقلی اور امدادی کاروائیوں کی موثر نگرانی کریں، وزیراعظم کی ہدایت سیلابی صورتحال کے پیش نظر انسانی جان و مال، فصلوں اور مال مویشی کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے موثر حکمت عملی کے تحت حفاظتی اقدامات کیے جائیں،سیلابی صورتحال سے دو چار تمام اضلاع اور تحصیل کی سطح پر درپیش مسائل کو لوکل اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

    اجلاس میں وزیراعظم کوبریفنگ دی گئی کہ دریائے چناب میں پانی کا اخراج بڑھنے کے پیش نظر ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے ، دریائے راوی میں جسٹر اور شاہدرہ اور دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقام پر پانی کے اخراج کا زیادہ دباؤ ہے، خانکی، بلوںکی اور قادر آباد میں پانی کے اخراج سے پیدا ہونے والے دباؤ کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

    دریاؤں میں سیلابی صورتحال،بھارت نے پاکستان کو آگاہ کر دیا

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے اجلاس میں بتایا کہ ریسکیو1122، سول ڈیفنس، رینجرز، پی ڈی ایم اے اور تمام دیگر متعلقہ ادارے پوری مستعدی سے کام کر رہے ہیں، بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب کے کچھ علاقوں میں سلیابی صورتحال کے نقصانات سے بچاؤ کے لیے پیشگی انخلا کے لیے آرمی کے جوانوں اور پولیس کی خدمات کو حاصل کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

    بھارت نے چمیرا ڈیم سےپانی چھوڑ دیا، دریائے راوی میں پانی کی سطح مزید بلند

  • سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، 72 سے زائد دیہات شدید متاثر

    سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، 72 سے زائد دیہات شدید متاثر

    بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے کے باعث دریائے ستلج، راوی اور چناب بپھر گئے، دریائے ستلج میں شدید طغیانی سے 72 سے زائد دیہات زیر آب آگئے-

    دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، ستلج کے پانی سے بیری پیر سمیت کئی مقامات پر سے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، 72 دیہات شدید متاثر گھروں اور کھیتوں میں پانی داخل ہوگیا، لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے، گنڈا سنگھ کے قریب 50 سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی منتقلی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 4 53 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 23 فٹ تک پہنچ گئی، دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال پر فوج بھی طلب کر لی گئی ہے، ریسکیو آپریشن سمیت امدادی سرگرمیوں میں فوج حصہ لے گی۔

    ڈپٹی کمشنر عمران علی نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے مزید پانی کی آمد کا عندیہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122، پولیس اور ریونیو عملہ رات بھر پانی میں پھنسے لوگ کو نکالنے میں مصروف رہا، ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال ہے اب 24 گھنٹے کام کریں اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے۔

    ڈپٹی کمشنر عمران علی نے کہا کہ لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اس مصیبت میں ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ دوسری جانب دریائے چناب میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلابی پانی وزیر آباد کے متعدد دیہاتوں میں داخل ہوگیا، متاثرہ علاقوں میں سوہدرہ، رسول نگر، رتووالی شمال، گورالی، شامل ہیں، کوٹ کہلوان، چک علی شیر، جھامکے کے 5 مواضعات بھی شدید متاثر ہیں۔

    برج دھلا، بھرج چیمہ، گڑھی غلہ، کوٹ راتہ اور تھاٹی بلوچ کے علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، ڈپٹی کمشنرگوجرانوالہ کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں 13 ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ نے اب تک 5 ہزار 100 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، سیلابی پانی سے 1 ہزار 700 جانوروں کا بھی انخلاء مکمل کیا گیا ہے،دریائے راوی میں ممکنہ سیلاب کے بارے میں الرٹ جاری کر دیاگیا ہے،فتیانہ، ماڑی پتن اور عالم شاہ کی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    نارووال کے نالہ بئیں کا برساتی پانی آبادی میں داخل ہوگیا جہاں سے 126 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔ اسی طرح ظفروال میں پانی تیز بہاؤ کے باعث پل بہہ گیا۔ سیلاب کے نتیجے میں دریا کنارے کی درجنوں بستیاں زیر آب آ گئیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر امدادی اقدامات کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں،سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب کے 7 اضلاع لاہور، اوکاڑہ، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، سرگودھا اور نارووال میں سول انتظامیہ کی امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوج طلب کرلی گئی ہے۔

    پنجاب کے 7 اضلاع میں ضلعی انتظامیہ نے فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کی تھی جس کے بعد آج محکمہ داخلہ پنجاب نے فوج کی فوری تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے، جس کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سیلابی صورتحال میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے، بھارت کی آبی جارحیت سے پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے، ان 7 اضلاع میں فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد طے ہوگی، سیلابی علاقوں میں آرمی ایوی ایشن سمیت دیگروسائل فراہم ہوں گے جبکہ پنجاب حکومت کےتمام ادارے سیلابی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب این ڈی ایم اے نے دریائے چناب، راوی اور ستلج بارے ایمرجنسی الرٹ جاری کیا ہے، نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے، دریائے چناب میں مرالہ پر 7لاکھ69ہزار481 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود جو مزید تجاوز کر سکتا ہے۔

    دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر 7لاکھ 5ہزار225 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود، جسکا بہاؤ کم ہو رہا ہے،دریائے راوی میں جسر کے مقام پر 2 لاکھ2ہزار200 کیوسک کا اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جو 2 لاکھ29ہزار700 کیوسک پر پہنچ سکتا ہے،دریائے چناب کے اطراف میں 128 دیہات زیرِ آب آچکے ہیں تاہم لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے 90 کروڑ روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔

    دریائے چناب میں پانی بڑھنے سے سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے 41 دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ قریبی دیہات سے آبادی کا انخلا جاری ہے

    دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر72900 کیوسک کابہاؤ جاری ہے، سیلابی ریلے کی وجہ سے شاہدرہ،پارک ویو اور موٹر وے ٹو کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 2.45 لاکھ کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ برقرار ہے، دریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقام پرحالیہ بہاؤ 1 لاکھ 355 کیوسک سیلابی ریلہ برقرار ہے۔

    وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں کی نگرانی کر رہا ہے،نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے کے لئے مکمل فعال ہے،این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے، دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افرادکو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا

    عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا۔

    اپنے بیان میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یہ خبر جھوٹ اور غلط فہمی پر مبنی ہے اور مالیاتی معاملات کی بنیادی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے افراد ایسی اطلاعات پھیلا رہے ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک روپیہ بھی قرض نہیں لیا، رپورٹ میں جس رقم کا ذکر ہے وہ دراصل پنجاب حکومت کی فیڈرل گورنمنٹ کے ٹی بلز میں سرمایہ کاری ہے، جس کا مقصد منافع حاصل کرنا ہے، قرض لینا نہیں، پنجاب اس وقت ایک سرپلس صوبہ ہے اور صوبائی حکومت کے اکاؤنٹس میں ایک ٹریلین روپے سے زائد رقم موجود ہے، اس لئے پنجاب کو کسی سے قرض لینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ٕ

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ رپورٹ میں جن اداروں کا ذکر ہے وہ ممکنہ طور پر وفاقی حکومت کے ہیں، پنجاب کے زیر انتظام کسی ادارے نے کوئی قرض نہیں لیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ خبر لکھنے والے کو یہ بنیادی بات بھی معلوم نہیں تھی کہ 2019 کے بعد سٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت کسی بھی حکومت، چاہے وفاقی ہو یا صوبائی، کو براہ راست سٹیٹ بینک سے قرض لینے کی اجازت نہیں،جھوٹی اور بے سروپا خبریں پھیلانے والے صحافی کو اپنی خبر پر شرمندگی کا اظہار کرنا چاہیے، بصورت دیگر حکومت قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان کے وکلا اور اہلخانہ کو سماعت میں شامل ہونے کی اجازت

  • پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    لاہور: صوبہ پنجاب رواں مالی سال کے آغاز میں ملک کا سب سے بڑا قرض لینے والا صوبہ بن گیا ہے، جہاں صرف 38 دنوں (یکم جولائی سے 8 اگست 2025) کے دوران اسٹیٹ بینک سے 405 ارب روپے کا بھاری قرض لیا گیا۔

    بلوم،پاکستان،کےمطابق،یہ قرضہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جو مالیاتی ماہرین کے مطابق صوبے کے معاشی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہےاعداد و شمار کے مطابق سندھ نے اسی مدت میں 16 ارب، خیبرپختونخوا نے 21 ارب جبکہ بلوچستان نے صرف 13 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا جس کے مقابلے میں پنجاب کا قرضہ تقریباً 25 گنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث اسٹیٹ بینک سے براہِ راست قرض نہیں لے سکتی تاہم صوبائی حکومتیں بدستور مرکزی بینک پر انحصار کررہی ہیں۔

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ 30 سال سے زائد پرانے 675 ارب روپے کے بینکی قرضوں کی ادائیگی مکمل کرلی گئی ہے جو زیادہ تر گندم کی خریداری اور سبسڈی پروگرامز سے وابستہ تھےاس اقدام کو تاریخی فیصلہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں روزانہ 25 کروڑ روپے سود کی ادائیگی کا بوجھ ختم ہوگیا ہے اور وسائل عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے دستیاب ہوسکیں گے، بشمول اپنا گھر اپنی چھٹ پروگرام جس کا مقصد سستی رہائش ہے۔

    حکام کے مطابق قومی بینک کو 13.8 ارب روپے کی آخری قسط بھی ادا کردی گئی ہے اور بینکوں کی طرف سے قرض کو رول اوور کرنے کی تمام درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں اگر یہ ادائیگی نہ کی جاتی تو پنجاب کو ماہانہ 50 کروڑ روپے کے سود کا سامنا کرنا پڑتا۔

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    دوسری جانب سرکاری ادارے بدستور خسارے میں چل رہے ہیں اور صرف اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے مزید 65 ارب روپے کے کمرشل بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں ان اداروں کا مجموعی واجب الادا قرض اب 2166 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

    وفاقی حکومت نے بھی اپنے محدود دائرہ کار میں رہتے ہوئے 55 ارب روپے کی ادائیگی اسٹیٹ بینک کو کی ہے، جس سے 30 جون 2025 تک اس کے واجب الادا قرضے کم ہوکر 5269 ارب روپے رہ گئے ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

  • ورلڈ بینک نے پنجاب میں تعلیمی منصوبے کیلئے 47.9 ملین ڈالر گرانٹ منظور کر لی

    ورلڈ بینک نے پنجاب میں تعلیمی منصوبے کیلئے 47.9 ملین ڈالر گرانٹ منظور کر لی

    عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 4 کروڑ 79 لاکھ ڈالر گرانٹ کی منظوری کر لی ہے-

    عالمی بینک کے مطابق یہ فنڈنگ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن فنڈ کے تحت منظور کی گئی ہے، اس تعلیمی منصوبے سے 40 لاکھ سے زائد بچے مستفید ہوں گے، جن میں پری پرائمری اور پرائمری سطح کے طلبا شامل ہیں،منصوبے کا بنیادی مقصد بچوں کی ابتدائی تعلیم میں شمولیت کو بڑھانا، اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنا اور معذور بچوں کے لیے تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

    ورلڈ بینک کے بیان کے مطابق اس منصوبے سے 80 ہزار آؤٹ آف اسکول بچے اور 1 لاکھ 40 ہزار معذور بچے براہ راست فائدہ اٹھائیں گے جبکہ 30 لاکھ سے زائد سرکاری اسکولوں کے طلبا اور 8.5 لاکھ غیر رسمی تعلیمی اداروں سے وابستہ بچے بھی منصوبے میں شامل ہوں گے،جبکہ،منصوبے کے تحت 1 لاکھ اساتذہ اور اسکول لیڈرز کو تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے، جس سے تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی، یہ منصوبہ نہ صرف پنجاب میں سسٹم ریفارمز کا باعث بنے گا بلکہ صوبے کی پائیدار تعلیمی ترقی میں بھی اہم سنگ میل ثابت ہوگا، یہ اقدام حکومت پنجاب کے تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

    دیر بالا :پولیس اور سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، 5 خوارج ہلاک، 8 پولیس اہلکار معمولی زخمی

    سپریم کورٹ نے بہن کے وراثتی حصہ کے خلاف بھائی کی درخواست خارج کر دی

    سپریم کورٹ نے ممبر ویلج ڈیفنس کمیٹی کے شہدا پیکج کا کیس خارج کردیا

  • پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی صورتحال

    پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی صورتحال

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی صورتحال سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔

    پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے مون سون بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے باعث کئی علاقوں میں نچلے اور درمیانے درجے کا سیلاب پیدا ہو چکا ہے،دریائے سندھ میں تربیلا اور کالا باغ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جب کہ چشمہ اور تونسہ بیراج پر پانی کی سطح درمیانے درجے کے سیلاب کے برابر پہنچ چکی ہے۔ دریائے ستلج میں بھی گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ سلیمانکی کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔

    ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے کابل، جہلم، راوی اور چناب میں اس وقت پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم لاہور میں نالہ ایک، پلکھو اور نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں صورتحال حساس ہو سکتی ہےادھر تربیلا ڈیم 99 فیصد بھر چکا ہے اور اس وقت اس کا واٹر لیول 1549 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ منگلا ڈیم 74 فیصد بھر چکا ہے جس کا موجودہ سطحی لیول 1216.55 فٹ ہےپانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث قریبی نشیبی آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

    پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں، نہروں، ندی نالوں اور تالابوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور نہ ہی ان میں نہانے کی کوشش کریں،دریاؤں کے پاٹ میں رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم

  • 19 سے 22 اگست تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

    19 سے 22 اگست تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات نے آئندہ 4 روز کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کردی ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق 19 سے 22 اگست تک بالائی پنجاب کے شہروں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں شدید بارشوں کا امکان ہےاسلام آباد اور راولپنڈی کے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے جبکہ اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے-

    اس کے علاوہ بلوچستان کے اضلاع قلات، خضدار، لسبیلہ اور تربت میں ندی نالوں میں طغیانی کی پیش گوئی کی گئی ہےمحکمہ موسمیات نے عوام اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور برساتی نالوں کے قریب احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کردیا ہےپی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا، جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، کمشنر ڈیرہ غازی خان ، بہاولپور ڈویژن اور تونسہ کی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

    پی ڈی ایم اے نے دریائے سندھ کے پاٹ میں موجود شہریوں کے فوری انخلاء کا حکم جاری کر دیا ہےعرفان علی کاٹھیا نے ہدایت کی کہ مساجد میں اعلانات کے ذریعے شہریوں کو آگاہ کیا جائے، شہریوں کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو کیا جائے، فلڈ ریلیف کیمپس میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    ادھرکراچی کے مختلف علاقوں میں تین گھنٹے سے مسلسل تیز بارش جاری ہے جس کے باعث گلیاں، محلے پانی میں ڈوب گئےکراچی میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ ٹریفک پولیس نے ناظم آباد، لیاقت آباد، غریب آباد ، خیابان اقبال، کلفٹن سمیت دو تلوار انڈر پاس بھی ٹریفک کیلئے بند کر دیا ہےشہر کے مختلف علاقوں میں 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی بھی بند ہوگئی۔ بارش کے بعد کے الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام تاحال غیر مستحکم ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مون سون بارشوں کے دوران متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے شدید بارشوں کے پیش نظر ریسکیو اور انتظامیہ کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہےوزیراعلیٰ نے میئر کراچی کو ہدایت کی کہ بارش کے پانی کے فوری اخراج کے لیے مشینری اور عملہ متحرک رکھا جائے، شدید بارشوں کے دوران عوام کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرے۔