Baaghi TV

Tag: پنجاب

  • پنجاب میں سرکاری آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں اضافہ،سندھ حکومت نے بھی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

    پنجاب میں سرکاری آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں اضافہ،سندھ حکومت نے بھی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا

    پنجاب میں سرکاری آٹے کے 20 کلو والے تھیلے کی قیمت میں 315 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : محکمہ خوراک پنجاب نے گندم اور آٹے کی نئی قیمت مقرر کر دی ہے جس کے مطابق آٹے کے 20 کلو والے تھیلے کی قیمت 1295 اور 10 کلو تھیلے کی ریٹیل قیمت 648 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    چونیاں – ملاوٹ شدہ ، دودھ اور دہی کی فروخت دھڑلے سے جاری

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالہٰی نے فلور ملوں کا ڈیلی کوٹہ تقریباً 2 ہزار میٹرک ٹن بڑھانے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ فلور ملوں کوروزانہ 18 ہزار600 میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کا فی من ریٹ 2300 روپے مقرر کیا گیا ہے، قیمتوں کا اطلاق راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی ہو گا۔

    ادھر محکمہ خوراک سندھ نے صوبے میں آٹے کی ریٹیل قیمت 65 روپے فی کلو مقرر کر دی ہے جس کے بعد 10 کلو آٹے کی قیمت 650 روپے ہو گئی ہے۔سندھ میں نئی قیمتوں کا اطلاق 26 ستمبر سے ہو گا۔

    پیرمحل – سند یلیا نوالی میں روٹی، نان اور سموسے، پکوڑے شاہی غریب کی پہنچ سے…

    وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے 10 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی ایکس مل پرائس 640 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ فی کلو گرام آٹے کی ایکس مل پرائس 64 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ ملک میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جبکہ نیشنل فلڈ ریسپانس سینٹر کا کہنا ہے کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور قلت کا کوئی خدشہ نہیں، 7 ملین ٹن گندم موجود ہے اور ایک ملین ٹن مزید آ رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لوگوں تک گندم اور آٹا پہنچانے میں مسائل نہیں ہوں گے، ذخیرہ اندوزی کرنے اور قیمت بڑھانے والوں کے خلاف حکومت کارروائی کرے گی، ملک میں بیجوں کی قلت ہے جو جلد پوری ہو جائے گی۔

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا

  • پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود بلدیاتی حکومت (لوکل گورنمنٹ) بل 2021 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایوان کے اجلاس میں بل صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور راجہ بشاور نے پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی البتہ اسپیکر نے اجلاس کو جاری رکھا۔اسپیکر کی جانب سے اجلاس جاری رکھنے پر اپوزیشن اراکین بینچوں پر کھڑے ہوئے اور شور شرابہ کیا اس دوران ایوان نے کثرت رائے سے لوکل گورنمنٹ بل 2021 کو منظور کرلیا۔اپوزیشن اراکین نے الزام عائد کیا کہ لوکل گورنمنٹ بل 2021 پیش کرنے کے لئے قوانین معطل کیے گئے، جو غیرآئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔

    سمبلی سے منظور ہونے والے بلدیاتی بل کے مطابق پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، صوبے میں پچیس ضلع کونسل اور گیارہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ہوں گی، میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ مئیر ہوگا اور عوام براہ راست ووٹ سے مئیر کا انتخاب کر سکیں گے۔

    بل کے مطابق دیہاتوں اور شہروں میں یونین کونسل بنیں گی، تحصیل کونسل اور ٹاونز نئے بلدیاتی ایکٹ میں ختم کردئیے گئے، پنجاب کے ہر گاؤں میں ایک ویلج پنچائت کونسل ہوگی، ہر ضلع میں ضلعی کابینہ ہوگی جبکہ تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، واسا، پی ایچ ایز میٹرو پولٹین کے میئر کےماتحت ہوں گی۔

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ الیکشن تک پارٹی قائد نواز شریف پاکستان واپس آجائیں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ لوگ سیلاب کا شکار ہیں، ایوان وزیراعلیٰ میں تیتر اور بٹیر اُڑائے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی کے پاس بنی گالہ جانے کا وقت ہے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے نہیں۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جو وزیراعلیٰ زمینوں پر قبضے کرے گا اسے ڈاکو ہی کہنا چاہیے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ایل ڈی اے میں اپنے بندے لگا کر زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں، ایک صوبائی وزیر زمینوں پر قبضے کی سرپرستی کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی، شیخ رشید، شیریں مزاری، فرح گوگی کو کلین چٹ دے دی گئی۔
    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں یک جنبشِ قلم دہشت گردی کے مقدمات ختم کر دیے گئے، ہمارے ارکان اپنی ضمانتیں کروا کر شامل تفتیش ہو رہے ہیں۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پرویز الہٰی سے زیادہ انتقامی شخص زندگی میں نہیں دیکھا۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پنجاب میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا نوٹس لے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کو صرف دو ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے، ہماری پارٹی نے ابھی پنجاب حکومت گرانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔

  • بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    پروونشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید تین اموات ہوئی ہیں جاں بحق افراد میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے، تینوں ہی اموات ضلع قلعہ سیف اللہ سے سامنے آئیں –

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 ہوگئی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 133 مرد 64 خواتین اور 84 بچے شامل ہیں سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ جبکہ ژوب سے 22 اور لسبیلہ سے 21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 172 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی

    سیلابی ریلوں اور بارشوں سے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 65 ہزار 197 مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے مجموعی طور پر دو لاکھ 70 ہزار 444 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر کر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 2200 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، جعفر آباد میں خمیہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے بخار اور گسیٹرو اور ملیریا جیسے امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھر افراد خیموں سے بھی محروم ہیں۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں خمیہ بستی میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے معصوم بچے شدید بخاراور گسیڑو میں مبتلا ہونے لگے،،مائیں پانی کے قطرے ڈال کر بخار کی شدت کو کم کرنے کی کوششیں کرتی نظرآتی ہیں جبکہ شدید گرمی میں متاثرین اپنے بچوں کو چار پائی کی مدد سے سایہ دینے کی کوشش کررہے ہیں-

    بھارت پاکستان پرایک اورآبی حملے کا منصوبہ بناچکا:سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی

    امدادی سامان میں مبینہ طور پر غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف متاثرین نے ڈیرہ اللہ یار صحبت پور شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھرافراد خیموں سے بھی محروم ہیں، متاثرین میں بیماریاں پھیل رہی ہیں سڑکیں بحال نہ ہونے کے باعث مسافروں کو بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ 18 ستمبر سے پنجاب کے دریاؤں ستلج، راوی، چناب اوران کے ملحقہ نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 14 سے 20 ستمبر تک موسم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہے، ہوا کا یہ کم دباؤ مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہوا کے اس کم دباؤ کے زیر اثر 18 ستمبر سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کابہاؤ بڑھ سکتا ہے-

    سعودی عرب سے سیلاب متاثرین کے لئے پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی

  • پنجاب اسمبلی اجلاس ، متعدد بلوں کی منظوری

    پنجاب اسمبلی اجلاس ، متعدد بلوں کی منظوری

    پنجاب اسمبلی اجلاس میں متعدد بلوں کی منظوری دے دی گئی، بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 بھی شق وار منظور کرلیا گیا۔

    وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت نے پنجاب پنجاب اکوپیشن سیفٹی اینڈ ہیلتھ بل 2022 ایوان میں پیش کر دیا گیا۔پنجاب اسمبلی نے بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 کو شق وار منظور کر لیا۔پنجاب اسمبلی نے بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 کو شق وار منظور کر لیا۔
    پنجاب اسمبلی نے متروکہ وقف املاک و قوانین برائے بے گھر افراد بل 2021 شق وار منظور کر لیا۔

    صوبائی اسمبلی نے پنجاب سید کارپوریشن ترمیمی بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی،پنجاب اسمبلی نے پنجاب فیکرٹریز ترمیمی بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی۔،پنجاب اسمبلی نے مسودہ ترمیم جنگلات بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی۔پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور کئے جانے والے چھ بل پارلیمانی امور کے وزیر راجہ بشارت نے پیش کئے تھے۔

    اسپیکر نے محکموں کی جانب سے بروقت جواب نہ آنے پراسپیکر نے وقفہ سوالات کو موثر بنانے کیلئے حکومت کو اپوزیشن سےمل کر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونےپر سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اجلاس آج دوپہر تین بجے تک ملتوی کر دیا۔۔

  • ہیلتھ کارڈ پروگرام میں سرجری کی جدید ٹیکنالوجی سائبر نائف شامل کرنے کی منظوری

    ہیلتھ کارڈ پروگرام میں سرجری کی جدید ٹیکنالوجی سائبر نائف شامل کرنے کی منظوری

    ہیلتھ کارڈ پروگرام میں سرجری کی جدید ٹیکنالوجی سائبر نائف شامل کرنے کی منظوری
    وزیر اعلیٰ پنجاب چو دھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا

    اجلاس میں ہیلتھ کارڈ کی افادیت کو مزید بہتر بنانے کا جائزہ لیا گیا ،وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کرانے والے مریضوں کیلئے پینل میں مزید ہسپتال شامل کرنے کی اصولی منظوری دے دی اور کہا کہ ہیلتھ کار ڈ کے ذریعے علاج کرانے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مزید امراض کے علاج کی سہولت بھی دیں گے۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے ہیلتھ کارڈ پروگرام میں سرجری کی جدید ٹیکنالوجی سائبر نائف شامل کرنے کی منظوری دے دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ویژن کے مطابق ہیلتھ کارڈ کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ ہماری حکومت نے ہسپتالوں کی ایمرجینسیز میں مریضوں کے لیے مفت ادویات کا پروگرام شروع کیا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 20لاکھ افراد ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کرا چکے ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلیٰ محمد خان بھٹی،سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر، گھرکی ہسپتال کے محسن گھرکی اور ڈاکٹر عامر عزیز نے اجلاس میں شرکت کی

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    انصاف صحت کارڈ پر پی ٹی آئی جھنڈے کی تشہیری مہم کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے صحت کارڈ کی فراہمی کو موجودہ حکومت کا انتہائی اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کی فراہمی موجودہ حکومت کے ویژن کا اہم جزو ہے۔ معاشرے کے کمزور طبقات تک صحت کی معیاری سہولیات نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ ہماری ترجیحات کا بھی واضح مظہر ہے۔ صحت کارڈاقدام کی بدولت جہاں معاشرے کے کمزور طبقات کو صحت کی معیاری سہولیات میسر آئیں گی وہاں ہسپتالوں کے شعبے خصوصا نجی شعبے کو فروغ حاصل ہوگا مختلف ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے ذریعے جہاں یکساں معیاری سہولیات کو یقینی بنایا جائے وہاں اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ہسپتالوں میں آنے والے افراد خصوصا کم تعلیم یافتہ افراد کی مناسب رہنمائی کی جائے۔صحت کارڈ کے ذریعے معیاری سروس کو یقینی بنانے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سہولت سے مستفید ہونے والے افراد کے فیڈ بیک کو نظام کا مستقل حصہ بنایا جائے تاکہ کسی بھی دقت کو بروقت دور کیا جاسکے

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب کے بعد کیمپوں میں مقیم متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔ مختلف وبا اور بیماریاں پھوٹنے سے 5 افراد انتقال کر گئے ہیں، انہیں حالات کے پیش نظر سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    خیرپور کے سیلاب متاثرہ علاقوں گیسٹرو کا مرض وبائی شکل اختیار کر لیا گیا، جس کے بعد خیرپور میں پیر گوٹھ بچاؤ بند ہونے پر کیمپ میں چار افراد کی زندگی بازی ہار گئی۔ متاثرین خوراک اور علاج کی حالت سے خوفزدہ ہیں، جہاں مزید لوگوں کا بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدشہ ہے کہ ضلع بھر میں تاحال میڈیکل کیمپ نہیں چلا۔سکھر میں بھی گیسٹرو سے بچہ دم توڑ گیا ہے اور یہاں بھی علاج معالجے کی سہولیات نہیں ہیں

    ان علاقوں میں ٹینٹس نہیں اور لوگ دن کو کھلے آسمان تلے سخت دھوپ میں وقت گزارتے ہیں اور رات کو مچھر اور کیڑوں مکوڑوں کے حملوں‌ کا سامنا کرتے ہیں‌ ، ادھر سکھر سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سکھر بیراج کے دوسرے راستے سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد کی گئی۔سکھر بیراج پرموجود حکام کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران واقعات کی تعداد 33 واضح ہے۔ اس سے پہلے والی لاشوں میں 9 خواتین بھی شامل ہیں، تاہم کسی کی شناخت نہ ہو سکی۔

    کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے مرادی میں بارش کو تھمے ہوئے روز گزرے مگر میونسپل کمیٹی ڈی کی جانب سے شہر کے گلی محلوں سے پانی نہیں ملنے جاسکا۔ شہر کے اندر ہر طرف تالاب اور منہدم مکانات سے تباہی دل دہلا دینے کا منظرپیش کررہا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صوبے کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ چکی ہیں اور لوگوں کے پاس علاج معالجے کی سہولت نہیں ہے

    خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی سندھ کی طرح حالات اچھے نہیں ہیں، کوہستان ، کالام ، سوات ، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور دیگرعلاقوں میں سیلاب کی باقیات ابھی موجود ہیں اور لوگ ایک طرف سخت دھوب میں وقت گزار رہے ہیں تو دوسری طرف بیماریوں میں بھی مبتلا ہورہے ہیں

    سندھ میں سیلاب کے پیش نظر ہیلتھ کیئر ورکرز کی کمی ہوگئی ہے سندھ نے پنجاب حکوت سے ڈاکٹرز،نرسز، پیرامیڈیکس بھیجنے کی استدعا کی ہے ۔

    سندھ حکومت کی استدعا پر سب سے پہلے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ڈاکٹرزاور نرسز پر مشتمل 10رکنی وفد لاڑکانہ روانہ کردیا ہے، اور اس وفد کے ساتھ ڈائریا، جلدی امراض، سمیت مختلف بیماریوں کی ادویات کا اسٹاک بھی ساتھ رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹرز سندھ کے مختلف علاقوں میں کیمپ لگائیں گے اورپھرسندھ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں متاثرہ علاقوں میں مزید طبی سہولتیں فراہم کریں گے

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 50 منٹ کی تاخیر سے سپیکر محمد سبطین خان کی زیرِ صدارت شروع ہوا۔ وقفہ سوالات میں محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماہی پروری سے متعلق سوالات پوچھے گئے جن کے جوابا ت صو بائی وزیر علی عباس رضانے دیے۔

    گزشتہ اجلاس میں پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف وومن بل 2022 لاہور، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 او ر راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 گورنر پنجاب کو منظوری کے لیے بھجوائے گئے تھے۔تاہم گورنر پنجاب نے بل منظور کیے بغیر واپس بھیج دیے تھے۔

    آج کے اجلاس میں مذکورہ تمام بلز دوبارہ پیش کیے گئے جسے ایوان نے کثرت رائے سے دوبارہ منظور کر لیے۔بعد ازاں ملک احمد خان نے سپیکر کی اجازت سے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف ایوان میں قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان حلیم عادل شیخ پر امپورٹڈ حکومت کے ایما پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ وفاقی حکومت حلیم عادل شیخ پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ یہ ظلم کی رات ختم ہونے کے قریب ہے۔ایوان حلیم عادل شیخ پر جھوٹے مقدمات واپس لے کررہا کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ قرارداد کو ایوان نے منظور کر لیا۔

    بعدازاں رکن اسمبلی عمر فاروق نے ایوان میں بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کے خلا ف قراردادپیش کی۔ قراردادمیں کہا گیا کہ ”پنجاب اسمبلی کایہ ایوان پیمراکی جانب سے بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہے۔ ایوان سمجھتاہے کہ بول نیوزکی بندش کے پیچھے ہزاروں صحافیوں کامعاشی قتل عام کرنے کامنصوبہ ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔

    وفاقی حکومت نے بول نیوزکوبندکرکے آزادی صحافت پرگھناؤناوارکیاہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ ایوان وفاقی حکومت اورپیمراسے فوری طورپر بول نیوزکی بندش کاحکم نامہ فوری واپس لینے کامطالبہ کرتاہے۔” ایوان نے قراردادکثرت رائے سے منظور کرلی۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکرمحمد سبطین خان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 12 ستمبر بروز سوموار سہ پہر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

  • پنجاب رینجرز کی جانب سے سیلاب ذدگان کے لئے فری میڈیکل کیمپس قائم

    پنجاب رینجرز کی جانب سے سیلاب ذدگان کے لئے فری میڈیکل کیمپس قائم

    ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز (پنجاب) میجر جنرل سید آصف حسین کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب رینجرز نے سیلاب ذدگان کے لئے فری میڈیکل کیمپس قائم کیے ہیں۔ جہاں نہ صرف مریضوں کا چیک اپ مفت کیا جا رہا ہے بلکہ ادویات بھی بلا قیمت فراہم کی جا رہی ہیں۔

    فری میڈیکل کیمپس کا قیام صوبہ پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں عمل میں لایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈائریکٹر جنرل کی ہدایات پر پاکستان رینجرز (پنجاب) نے پنجاب بھر کے مختلف اضلاع میں فلڈ ریلیف کیمپ بھی قائم کیے ہیں تاکہ سیلاب زدگان کی غذائی ضروریات کی تکمیل کے لیے اشیائے خوردونوش، ادویات اور روز مرہ استعمال کی دیگر اشیا جمع کر کے انہیں اپنے مصیبت ذدہ بھائیوں تک پہنچایا جا سکے۔

    اس حوالے سے ڈی جی رینجرز کا کہنا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور پنجاب رینجرز سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔

  • عطا تارڑ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    عطا تارڑ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    عطا تارڑ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    سیشن کورٹ لاہور میں ن لیگی رہنما عطا تارڑ کی عبوری ضمانت 14 ستمبر تک منظورکر لی گئی

    عدالت نے قلعہ گجر سنگھ پولیس کو عطا تارڑ کو گرفتار کرنے سے روک دیا سیشن کورٹ لاہور نے عطا تارڑ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا عدالت نے عطا تارڑ کی 50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے سیشن کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی تھی،جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عدالت عبوری ضمانت منظور کر کے پولیس کو گر فتاری سے روکے پولیس نے پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں نامزد کیا، ریکارڈ یافتہ نہیں ہوں، پولیس نے بدنیتی کی بنیاد پر نامز د کیا،

    عدالت پیشی کے موقع پرعطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام اور جلسے جلوسوں کے علاوہ قوم کی خدمت بھی اہم ہے، پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ ہم نے نہیں کیا نہ کروایا،سیلاب متاثرین کے دکھ کا انداز ہے ،سیلاب متاثرین کی امداد کی جائے ،یہ جلسوں اور دورے کرنے کا وقت نہیں ،سیلاب متاثرین کے علاقوں کے دورے کرنے چاہیے، پنجاب کو بڑے بھائی ہونے کے ناطے آگے بڑھنا چاہیے تھا ،

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

     سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس، یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس، یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت نے یونیورسٹی آف کمالیہ بل2022 پیش کیا.

    محکمہ سوشل ویلفیئر سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران لیگی رکن ملک ارشد نے صوبائی وزیر غضنفر عباس چھینہ کو دلچسپ مبارکباد دی،ملک ارشد کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے غضنفر عباس چھینہ نے وزیر بننے کے لیے بہت تگ و دو کی ہے، خیر جیسے بھی وزیر بنے میں مبارک باد دیتا ہوں۔

    ایوان میں جہیز فنڈ کے استعمال سے متعلق غلط جواب پر ملک ارشد اور صوبائی وزیر بیت المال کے درمیان تکرارہو گئی،ملک ارشد نے کہا کہ میرے سوال کا جواب محکمے کی جانب سے غلط جواب دیا گیا ہے۔جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بیٹھ جائیں میں آپکے خدشات دور کر دیتا ہوں۔ملک ارشد نے کہا کہ میں یہاں نہیں بیٹھوں گا آپ میرے ساتھ ساہیوال چلیں وہاں بیٹھیں گے۔جس پرسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے صوبائی وزیر بیت المال کو ملک ارشد کے ساتھ ساہیوال میں جاکر مسئلہ حل کرنے کی رولنگ دے دی.

    صوبائی وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے ایوان میں خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ملک میں ایسی صورتحال قائم کر دی جسے لوگ سویلین مارشل لاء کہتے ہیں، سویلین مارشل لاء وفاقی وزیر داخلہ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں، راجہ بشارت اور خود بیٹھ کرنجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو کھلوانے کےآرڈر کو دیکھیں گے،عارف حمید بھٹی کو آف ائیر کر دیا سمجھ نہیں آتی کرتے کیا ہیں؟ ، سوشل میڈیا کی خبریں ملکی مفاد میں نہیں ہوتیں، جو حکومت کام کررہی ہے تو انہیں بھیانک خواب آیا کریں گے، شور کوٹ میں بدقسمتی سے یونس نومی قاتلانہ حملے میں شہید ہوئے ہیں ڈی پی او سے رپورٹ لوں گا.

    حسنین بہادر دریشک کا ایوان میں کہنا تھا کہ نہر تین سو کیوسک ہے راوی میں پچاس ہزار کیوسک پانی آ جائے تو کہتے سیلاب آگیا ہے، دو ہزار دس میں سیلاب آیا تھا دریائے سندھ میں دس لاکھ کیوسک تک پانی آیا تو پھر شہروں کے درمیان پانی ہی پانی تھا،یقین دہانی کرواتا ہوں ڈی جی خان اور راجن پور میں ایسا اقدام اٹھائیں گے کہ مسائل حل کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے رہنما سید حسن مرتضیکا ایوان میں کہنا تھا کہ ہمارے مسائل کو سنجیدہ ہی نہیں لیاجاتا، کہتے رہے دس سال سے چناب چنیوٹ پر اپنا رخ تبدیل کررہا ہے زرعی زمین دریا برد ہو رہی ہیں،چنیوٹ والے لوگ بہت خوشحال تھے لیکن سیلاب سے وہ بے زمین ہوگئے اب غیر کاشتکار بے گھر اور فصلیں تباہ ہو گئیں وہ سڑک پر آ گئے،چھوٹے چھوٹے بچے بزرگوں کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ہے انہیں لوگ سالن روٹی دے رہے ہیں، اے سی چنیوٹ اتنے نواب ہیں کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں آنا پسند نہیں کرتے،ہم افسر شاہی کی نذر ہوئے ہیں لوگوں کا کیا قصور ہے ان کا نمائندہ لوٹا نہیں ہوتا، رولنگ دیں کہ چنیوٹ میں سرکاری زمین پر بے گھر لوگوں کو پانچ سے دس مرلہ جگہ دیں.

    سپیکر سبطین خان نے کہا کہ ڈی سی چنیوٹ سے پوچھیں کہ لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے،راجہ بشارت نے ایوان میں یقین دہانی کرائی کہ اے سی بھوانہ سے بھی رپورٹ منگوا لی ہے.

    پنجاب اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کی گونج بھی سنائی دی، چودھری ظہیر الدین نے ایوان میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنایا جائے تاکہ سیلابوں سے بچا جائے، جس طرح سیلاب آ رہے ہیں ہمیں کالا باغ ڈیم بنانا ہوگا، کالا باغ ڈیم میں دس میلن ایکٹر پانی اکٹھا ہوگا پچیس ملین ایکٹر پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کےلئے مزید ڈیموں کی ضرورت ہوگی، ڈیموں کو بنانے کےلئے ایک سکیم ہونا چاہئیے کہ نہروں تک انہیں بلترتیب پہنچایا جائے، پاکستانیوں پر سیلاب کی شکل میں ایک عذاب آیا ہے.

    چودھری ظہیر الدین کا مذید کہنا تھا کہ جو سیلاب سے متاثر ہوئے انہیں سرکاری زمین دی جائے،جو ہوٹل سیلاب میں گرے ہیں اس کے بعد ایس او پیز طے کی گئی ہیں کہ دو سو گز سے دور ہوٹل بنائیں گے،لوگ پانی اورآگ کے عذاب کے بعد خوف کے عذاب میں بھی مبتلا ہیں،دریائوں کی گزر گاہوں پر تعمیرات کرکے کر کاشتکاری کی جائے، پینتس ملین ایکٹر پانی سمندر برد کیاجاتا ہے جبکہ دس ملین ایکٹر فصلوں کو درکار ہوتاہے.

    راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں کہا کہ سیلاب پر دنیا ہمدردی اور مدد کرنے کےلئے پہنچ گئی ہے، وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سیلاب زدگان کی مدد کےلئے کوشاں ہے، ویر اعظم ریلیف فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف فراہم کریں، کھڑی فصلیں تباہ ہو چکیں ادویات اور کھانا نہیں ہے گھر مٹی کے ڈھیر بن چکے ہیں، سیلاب سے پاکستانیوں کے مویشی پانی میں بہہ گئے نہ ان کے گھر اور نہ ہی زمین رہی، سیلاب پر لوگوں کو نہیں بتایا جا رہا ہے کہ حکومت متاثرین کو ادویات خواتین و بچوں کو کیسے ریسکیو کررہی ہے، سیلاب کی صورتحال پر اجلاس تو چل رہا ہے ممبران کی عدم دلچسپی ہے اسے ختم کردیں تاکہ ممبران حلقوں میں جاکر متاثرین کی مدد کر سکیں، کیا وزیر اعلی کو ایوان میں موجود نہیں ہونا چاہئیے، پرویز الہی اپنے بیٹے سمیت بنی گالہ میں حاضریاں لگوا رہے ہیں متاثرین پر کسی کی توجہ نہیں ہے، عدالتی وزیر اعلی کو جنوبی پنجاب کے عوام ڈھونڈ رہے ہیں کدھر ہیں جس نے فنڈز ریلیز کروانے تھے،ان کی زمینیں ہی نہیں تو بیانہ کیا لیں گے، قیامت میں آپکوجوابدہ ہونا چاہیے تھا ہم تو حکومت میں نہیں ہیں.

    اس سے قبل سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی،قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی
    قرارداد کےمتن میں کہا گیا کہ یہ ایوان سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، ٹماٹر 400روپے اور پیاز 300روپے سے زائد کے کلو فروخت ہورہے ہیں، جبکہ باقی سبزیوں کی ریٹ بھی آسمان سے باتیں کررہے ہیں ، سبزی منڈی ،عام مارکیٹ یا دکان ہر جگہ من پسند ریٹ وصول کیے جارہے ہیں، صوبے بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا نام و نشان نہیں ہے، جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں عام مارکیٹ سے غائب ہیں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ  سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے، صوبے میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو متحرک کیا جائے.