Baaghi TV

Tag: پنجاب

  • پی ٹی آئی  کی سیاست ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے،خواجہ سلمان رفیق

    پی ٹی آئی کی سیاست ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے،خواجہ سلمان رفیق

    لاہور احتساب عدالت, میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس کا معاملہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر حاضری مکمل کرائی

    احتساب عدالت نمبر دو کے جج نسیم احمد ورک نے کیس پر سماعت کی،نیب کے گواہ سہیل انور اور ذیشان نے عدالت میں بیان قلمبند کروایا، نیب پراسکیوٹر فیصل شہزاد گوندل نے گواہان کو پیش کیا

    وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں ہنگامہ آرائی قابل افسوس تھی پی ٹی آئی کی سیاست ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے وفاقی حکومت میں اکثریت کھونے پر بھی عمران خان نے حوصلہ نہیں دکھایا عمران خان نے آئین اور قانون سے کھلواڑ کیا،پیٹرول سے ہونے والی مہنگاہی کے اثرات نیچے عوام تک جائیں گے گزشتہ روز پنجاب ا سمبلی اجلاس کے دوران6 گھنٹے مذاکرات ہوئے جو ناکام ہوئے آج بھی پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان سے مذاکرات ہونگے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    ضمنی انتخابات،وزیراعظم شہباز شریف نے مریم نواز کواہم ہدایت دے دی

    واضح رہے کہ گزشتہ روزپنجاب اسمبلی اجلاس میں بجٹ پیش ہونا تھا لیکن نہیں ہو سکا، سپیکر پرویز الہیٰ نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دن ایک بجے تک ملتوی کر دیا تھا، آج دوبارہ اجلاس ہو گا جس میں پنجاب کا بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے

    پنجاب کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے ترقیاتی بجٹ سے متعلق پہلا مسودہ تیار کرلیا گیا 

    پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پرجواب طلب

    پنجاب کابینہ میں توسیع، کابینہ کا اجلاس بھی طلب

    پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا،مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا

  • پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار،حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

    پنجاب کا بجٹ تاخیر کا شکار،حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک

    ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں بجٹ اجلاس تاخیر کا شکار ہوگیا، اسمبلی کی کارروائی میں اراکین اسمبلی کی عدم دلچسپی نظر آئی ہے جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا.

    بجٹ اجلاس میں تاخیر کے باوجود متعدد اراکین اسمبلی غیر حاضر ہیں، جبکہ پنجاب اسمبلی میں ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس تا حال جاری ہے،پنجاب کے آئندہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے مشاورت کی جارہی ہے۔
    زرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحریری معاہدے تک تاخیر کا شکاررہے گا. تاہم حکومت کی جانب سے معاہدے کے ڈرافٹ کی تیاری جاری ہے جبکہ اپوزیشن نے اپنے مطالبات پر مبنی ڈرافٹ تیار کر لیا

    سپیکر پرویز الٰہی اور اپوزیشن لیڈر سبطین خان کی صدارت میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے ،ارکان اسمبلی کا استحقاق مجروح کرنے پر آئی جی پولیس کو معافی مانگنا ہوگی .

    اپوزیشن لیڈر سبطین خان کا کہنا تھا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری سپیشل کمیٹی کے سامنے پیش ہوں ۔ تحریری معاہدے کے بعد ہی اسمبلی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق اسپیکر پرویز الہٰی کی جانب سے اسمبلی ملازمین پر دائر مقدمات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، حکومتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ مقدمات واپس لینا ہمارے اختیار میں نہیں ہے.زرائع کے مطابق ایڈوائزی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا، اپوزیشن نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی معاملہ میں آئی پنجاب ملوث ہیں، اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ جن کے گھروں پر چھاپے مارے اور گرفتاریاں کیں ان سے معافی مانگیں،
    حکومتی رکن خلیل طاہر سندھو احتجاجا اجلاس چھوڑ کر باہر آ گئے۔ا جلاس میں خلیل طاہر سندھو نے موقف اختیار کیا کہ ہم تمام صورتحال میں اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، ذرائع کے مطابق ن لیگ نے اپوزیشن کے مطالبات ماننے کےلئے وقت مانگ لیا.

    پنجاب کابینہ نے مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دے دی، پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو ’روشن راہیں نیا سویرا‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

    کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری دے دی، 15 فیصد اسپیشل الاؤنس کی ادائیگی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ متعلقہ حکام نے دن رات محنت کرکے بہترین بجٹ دستاویز تیار کی، بجٹ میں عوام کوحقیقی معنوں میں ریلیف دینے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کی 4991 اسکیموں کے لیے 685 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    حکومت نے آئندہ مالی سال سے ڈیجیٹل پنجاب نیٹ ورک شروع کر نے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے بجٹ میں 50 کڑور روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ میں لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں، صحت کارڈ کے لیے 125 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جنوبی پنجاب کے لیے 31 اعشاریہ 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

  • پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    پنجاب بجٹ کے خدوخال اور تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    بجٹ تقریر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی .بجٹ تقریر کل 25 صفحات پر مشتمل ہیں مزدور کی تنخواہ بیس سے بڑھا کر پچیس ہزار کرنے کی تجویز ،بجٹ کا حجم 3236 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے ،کل آمدنی کا تخمینہ 2521 ارب سے زائد لگایا گیا ہے

    وفاق سے 2020 ارب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،صوبائی محصولات کی مد میں 24 فیصد اضافے کیساتھ پانچ سو ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،آئندہ مالی سال سیلز ٹیکس آف سروسز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا ،چھوٹے کاروبار کی سہولت کیلئے سیلز آن سروسز میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا ،اسٹیمپ ڈیوٹی کی شرع ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے .

    پرتعیش گھروں کے اوپر فنانس ایکٹ 2014 میں تبدیلی کرکے نئے ریٹس متعارف کروائے جارہے ہیں ،بجٹ کے مجموعی حجم میں سے 1712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں مختص کئی گئی ہیں ،وزیر اعظم عوامی سہولیت پیکج کیلئے دو سو ارب روپے رکھے جارہے ہیں ،سستا آٹا سکیم میں دس کلو آٹے کا تھیلہ چار سو نوے روپے میں دستیات ہوگا،پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فیصد اضافے کے ساتھ 190 ارب روپے رکھا گیا ، بورڈ آف ریونیو کا ہدف 44فیصداضافے کے ساتھ 95ارب روپے رکھا گیا

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505259″ /]

    محکمہ ایکسائز سے 2 فیصداضافے کے ساتھ 43ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیاہے۔آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں رکھے گئے ہیں ، 312 ارب روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کا 40 فیصد سوشل سیکٹر، 24 فیصد انفراسٹرکچر، 6 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے۔ترقیاتی بجٹ میں دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے 28 فیصد فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

    ترقیاتی بجٹ میں پہلے سے جاری اسکیموں کیلئے 365 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نئی اسکیموں کیلئے 234 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں ،41 ارب روپے دیگر ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص کئے جا رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مد میں 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مجموعی بجٹ میںشعبہ صحت پر 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجوےز دی جا رہی ہے،شعبہ صحت پر 10 فےصد زےادہ فنڈز رکھے جا رہے ہیں

    شعبہ تعلیم کے لئے مختص کردہ مجموعی بجٹ میں 428 ارب 56 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہاہے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1,712 ارب روپے جاری اخراجات کی مد میں تجویز کئے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 20 فیصد زیادہ ہیں۔ حکومت نے وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکج کے تحت 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے

    10 کلو آٹے کاتھیلہ جو پہلے 650 روپے میں بیچا جا رہاتھا اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اِس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے جس کے تحت عوام الناس کو اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں کمی، رعایتی نرخوں پر سفری سہولیات کی فراہمی، غریب کاشتکاروں کو کھاد کی رعایتی نرخوں پر دستیابی اور دیگر زرعی ضروریات کی فراہمی شامل ہیں۔

    صحت کارڈ کے لئے 125 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جو گزشتہ ساٹھ ارب روپے تھی ،نان ٹیکس ریونیوکی مد میں24 فیصد اضافے کے ساتھ 163 ارب 51 کروڑ روپے کا تخمنہ لگایا گیا ہے، 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں میں مد رکھے گئے ہیں،312 ارب روپے پنشن کی مد رکھے گئے ہیں،528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں ۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے اور نہ کسی سروس پر ٹیکس کی شرح میں کسی قسم کا کوئی اضافہ کیا جا رہا ہے،سیلز ٹیکس آن سروسز میں فراہم کردہ ٹیکس ریلیف کو آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برقی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مد میں 95% رعایت کو جاری رکھا جا رہا ہے۔

    موٹر گاڑیوں کے پر کشش نمبروں کی نیلامی کے لیے نظرثانی شدہ e-Auction پالیسی کا اجراءبھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پراپرٹی ٹیکس اور ٹوکن ٹیکس کی یکمشت ادائیگی پر بالترتیب 5 فیصد اور 10 فیصد رعایت جاری رکھی جا رہی ہے۔

    مزیدبرآںe-Pay کے ذریعے آن لائن ادائیگی پر صارف کو 5 فیصد مزید رعایت جاری رکھی جائے گی۔مالی سال 2022-23میں 25ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سےPunjab Urban Land System Enhancement کا قیام عمل میں لیا جائے گا.23 ارب90کروڑ روپے کی لاگت سے مواصلاتی نظام میں بہتری کیلئے فیصل آباد سرکلر روڈ(جڑانوالہ ستیانہ سیکشن)، قصور- دیپالپور روڈ ، لاہور- جڑانوالہ روڈ اور ساہیوال سے پاکپتن تک 336 کلومیٹر طویل سڑکوں کی بحالی شامل ہے۔

    پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں 9 ارب روپے سے پنجاب بھر میں سڑکوں کی بحالی کے پروگرام کا بھی آغاز کر رہی ہے۔ دیگر اہم اسکیموں میں 13 ارب50کروڑ کی لاگت سے رنگ روڈ پروجیکٹ مزید دو فیز (ملتان اور سیالکوٹ) اور 3 ارب کی لاگت سے سے سٹی اتھارٹی پروگرام (سیالکوٹ اور مریدکے)کا اجراءبھی شامل ہیں۔ پنجاب حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود اور جیلوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے 6 ارب روپے مختص کر رہی ہے

    مسلم لیگ (ن) کا انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال مےں 1ارب 50کڑوڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رحمتہ اللعالمین پروگرام کے تحت مستحق طلبہ و طالبات کے لےے تعلےمی وظائف کے لے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ ضلعی سطح کے مسائل کے حل کیلئے 90 ارب روپے کی خطیر رقم سے پنجاب بھر میں Sustainable Development Programme متعارف کروایا جا رہا ہے۔

    جنوبی پنجاب کے لئے 31 ارب50کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کئے گئے ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کیلئے 421 ارب 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،محکمہ ہائیر ایجوکیشن کیلئے 59 ارب 7 کروڑ روپے کی تجویز ہے، محکمہ سپیشل ایجوکیشن کیلئے 1 ارب 52 کروڑ اور لٹریسی و غیر رسمی تعلیم کیلئے 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے.”زیور تعلیم” پروگرام کے تحت 5 ارب 53 کروڑ روپے 6 لاکھ سے زائد طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کیلئے رکھے گئے ہیں۔ اسکولوں میں مفت کُتب کی فراہمی کیلئے 3 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    اسکول کونسلز کے ذریعے تعلیمی سہولیات کی بہتری کیلئے 14 ارب 93 کروڑ روپے اور دانش اسکولز کے جاری تعلیمی اخراجات کیلئے 3 ارب75کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں.آئندہ مالی سال میں نئے دانش اسکولز کی تعمیر کیلئے 1ارب50کروڑ روپے مختص. پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام کے تحت Punjab Education Foundation (PEF) کیلئے 21 ارب50کروڑ روپے مختص
    Punjab Education Initiatives Management Authority (PEIMA) کیلئے 4 ارب80کروڑ روپے مختص،اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی بحالی کیلئے 1 ارب50کروڑ روپے اور صوبہ بھر کے مختلف سکولوں میں اضافی کمروں کے قیام کیلئے 1ارب روپے مختص کئی گئی. ضلع ملتان میں کیڈٹ کالج کے قیام کیلئے 70 کروڑ روپے مختص، میانوالی اور حسن ابدال کیڈٹ کالجز میں سہولیات کی فراہمی کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئی گئے، بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 59 ارب 7 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے ،ہائیر ایجوکیشن میں 13 ارب50کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ شعبہ خصوصی تعلےم کےلئے 1 ارب 52 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے

    محکمہ لٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کیلئے آئندہ سال کے بجٹ میں 3 ارب 59 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آئندہ مالی سال میں صحت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 470 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں .صحٹ بجٹ پچھلے سال سے 27 فیصد زیادہ ہیں.صحت کے بجٹ میں 296 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات اور 174 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز کے لئے مختص کئے گئے

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ چولستان کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 84 کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ میں زراعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 53 ارب 19کروڑz روپے مختص کر ہی ہے.شعبہ زراعت میں 14 ارب 77 کروڑ روپے ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کےے جائےں گے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا،پیداوار میں اضافے کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے 45 ارب 7 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک جامع پروگرام بنایا گیا

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے پروگرام کے لئے 3 ارب 65 کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔زرعی شعبہ میں تحقیق کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 نئے منصوبوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے .لائیو اسٹاک کے شعبہ میں تحقیق اور تدریس کے 2 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے University of Veterinary and Animal Sciences (UVAS) کے Sub-Campus کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے

    آب پاشی کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 53 ارب 32 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،آبپاشی کے بجٹ میں 25 ارب 69 کروڑ روپے جاری اخراجات جبکہ 27ارب 63کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کئے گئے .سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کیلئے 80 ارب77کروڑ روپے مختص
    صنعت کے شعبہ کیلئے مجموعی طور پر 23 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، 3ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے جدید، ماحول دوست، آرام دہ بسیں چلانے کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے . Sports and Youth Affairs Department کیلئے مجموعی طور پر 8 ارب 83 کروڑ روپے مختص کئے
    گئے ہیں

    اقلیتوں کے تحفظ کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کر رہی ہے جس میں سے 1 ارب 35 کروڑ روپے Minority Development Fund کے لئے مختص کئے جا رہے ہیں۔ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ مےں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا .گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرات 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے

  • پنجاب کابینہ نے  بجٹ کی منظوری دیدی،عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات کئے،حمزہ

    پنجاب کابینہ نے بجٹ کی منظوری دیدی،عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات کئے،حمزہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا.پنجاب کابینہ اجلاس میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے آئندہ مالی سال 2022-2023 کے بجٹ کی منظوری دے دی۔

    صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ 15 فیصد سپیشل الاونس کی ادائیگی کی منظوری دے دی گئی.صوبائی کابینہ نے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے ایم او یو کی منظوری دی.اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبائی وزراء، چئیرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام نے دن رات محنت کر کے بہترین بجٹ دستاویز تیار کی ۔

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ بجٹ میں صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔میں ہمیشہ مشاورت پر یقین رکھتا ہوں۔یہ بجٹ سیاسی و انتظامی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انساف نے سبطین خان کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا، تحریک انصاف نے سبطین خان سے متعلق اسمبلی سیکریٹریٹ کو آگاہ کردیا جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کچھ دیر میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے.

    واضح رہے کہ پنجاب کیلئے 3 ہزار 226 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائےگا، صوبائی وزیر اویس لغاری بجٹ پیش کریں گے۔ پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 685 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 200 ارب روپے سستے گھی، چینی اور آٹے کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

    پنجاب اسمبلی میں آج بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کا امکان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ق لیگ نے بجٹ اجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

    پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا، اجلاس کی صدارت اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کریں گے۔ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔اجلاس میں مالی سال 22-2021 کا سپیلمنٹری بجٹ بھی پیش کیا جائے گا۔

    جاری کردہ ایجنڈے کے مطابق پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 میں ترامیم بھی ایوان میں پیش ہوں گی۔

    پنجاب کا بجٹ مسلم لیگ ن کے وزیر اویس لغاری پیش کریں گے، اس سلسلے میں محکمہ خزانہ پنجاب نے بجٹ تقریر کے پوائنٹس اویس لغاری کو بجھوا دیئے ہیں۔تاہم کے وزیر خزانہ کا نام اب تک سامنے نہیں آسکا۔

    پنجاب کیلئے 3 ہزار 226 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائےگا، پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 685 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 200 ارب روپے سستے گھی، چینی اور آٹے کی فراہمی پر خرچ کیے جائیں گے۔

    زرائع کے مطابق آج کے بجٹ اجلاس کیلئے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان کی جانب سے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ اور بجٹ تقریر کے دوران بھرپور احتجاج کا پروگرام بنایا ہے.

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سبطین خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بجٹ اجلاس میں رویہ ٹھیک رکھے گی تو اپوزیشن کا بھی ٹھیک ہو گا، حکومت نے اجلاس میں بلڈوز کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن مزاحمت کرے گی.

  • ضمنی انتخابات،وزیراعظم شہباز شریف نے مریم نواز کواہم ہدایت دے دی

    ضمنی انتخابات،وزیراعظم شہباز شریف نے مریم نواز کواہم ہدایت دے دی

    ضمنی انتخابات،وزیراعظم شہباز شریف نے مریم نواز کواہم ہدایت دے دی
    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کا اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز، وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق شریک تھے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز بھی اجلاس میں شریک ہوئے اجلاس میں ملکی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر گفتگو کی گئی اجلاس میں شرکا نے بجٹ کو بہترین قرار دیتے ہوئے وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم کو سراہا وزیراعلی ٰپنجاب حمزہ شہباز نے سوموار کو پیش ہونے والے صوبائی بجٹ کے حوالے سے بریفنگ دی

    اجلاس میں ضمنی انتخابات والے حلقوں میں مریم نواز کو ریلیاں اور جلسے کرنے کی ہدایت کی گئی ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی مشکلات کا احساس ہے لیکن نیک نیتی سے عوامی مسائل حل کرنے کیلئے کام کررہے ہیں، منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کی سیاست خودبخود دم توڑ رہی ہے،لوڈ شیڈنگ کو کنٹرول کرنے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، لوڈشیڈنگ کا مقابلہ کرنے کیلئے وفاقی بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے 25 ارکان پنجاب اسمبلی کا پارٹی پالیسی سے انحراف ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کو پارٹی پالیسی سے انحراف پر آرٹیکل 63 اے کے تحت نا اہل قرار دیدیا تھا ، ان بیس سیٹوں پر ضمنی الیکشن 17 جولائی کو ہو رہے ہیں،

  • پنجاب کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور دیہاڑی دار طبقہ کیلئے خوشخبری

    پنجاب کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور دیہاڑی دار طبقہ کیلئے خوشخبری

    پنجاب حکومت 13جون کو آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کرے گی۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23کا صوبائی بجٹ وفاقی طرز کا ہو گا، بجٹ میں مہنگائی پر کنٹرول کے لیے خصوصی امدادی پیکج متعارف کروایا جائے گا،عوام کی قوت خرید میں اضافے کے لیے اشیاء خورونوش کی قیمتیں کنٹرول کی جائیں گی
    ٭

    زرائع کے مطابق لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے توانائی کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا، کم وسیلہ افراد کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں خصوصی رعایت دی جائے گی،پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں کرلگایا جارہا،صوبائی محصولات میں دی گئی رعایت برقرار رکھی جائے گی.

    آٹے کی کم قیمت پر دستیابی کا وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا سہولت پیکج آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا،پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ بلحاط حجم پہلے سے بہتر ہو گا ، بجٹ کا بڑا حصہ ترقیاتی مقاصد کے حصول پر خرچ کیا جائے گا، پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت کی اولین ترجیح سماجی شعبہ کی ترقی اور معیشت کی بحالی ہو گی.

    بجٹ 2022-23 میں تعلیم، صحت، زراعت، مواصلات کے میدان میں کئی اہم اقدامات متعارف کروائے جارہے ہیں ، آئندہ بجٹ میں پائیدار ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لیے ضلعی سطح پر عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا ، پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ متوازن اور عوام دوست بجٹ ہو گا،پنجاب کا آئندہ بجٹ سرکاری ملازمین اور دیہاڑی دار طبقہ دونوں کے لیے خوشخبری لائے گا۔

    صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑنے کہا کہ پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا،مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا.

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے بجٹ منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کا اجلاس 13 جون کو طلب کرلیا ہے، اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کریں گے، اجلاس میں پنجاب کی کابینہ کے اراکین شریک ہوں گے، اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی جائے گی،جلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ اور سالانہ اخراجات کی منظوری لی جائے گی

    پنجاب کا بجٹ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان پیش کریں گے، میاں مجبتی شجاع الرحمان کو وزارت خزانہ کا چارج دیا جائے گا.

  • پنجاب کا بجٹ  تاریخ ساز ہوگا ،عطا ءاللہ تارڑ

    پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز ہوگا ،عطا ءاللہ تارڑ

    صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑنے کہا کہ پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا،مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا.

    صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑ کی ہوم اکنامکس کالج لاہور میں ویمن ایمپاورمنٹ اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی.

    اس موقع پر صوبائی وزیر عطا اللہ تارڑکا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ قابل تشویش ہے ۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آگاہی مہم وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ہمارے گزشتہ دور حکومت میں عورت کے خلاف تشدد بل اور عورت کے تحفظ کابل پاس ہوا ۔

    عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ نئی قانون سازی اشد ضروری ہے ۔ معاشرے کی سماجی ترقی اور فلاح کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہروں میں سموگ کی مقدار تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے ۔ شہروں میں سموگ کی روک تھام کے لیےاقدامات اٹھانا پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ آنے والی نسلوں کے لیے نقصان دہ ہے.

    عطاء اللہ تارڑکا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ حکومت
    مالی سال2023۔2022 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا. پنجاب کا بجٹ تاریخ ساز بجٹ ہوگا ۔

    عطا اللہ تارڑنے کہا کہ عام آدمی کو ریلیف مہیا کرنا ہمارا بنیادی ایجنڈا ہے. اس سال صحیح معنوں میں عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ دور میں ترقیاتی بجٹ کم کر دیا گیا ہم دوبارہ اسے بڑھائیں گے ۔ عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانا وزیراعلی پنجاب کا مشن ہے۔ پنجاب کا بجٹ متوازن ہو کا جس میں تمام سیکٹرز پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی صوبائی کابینہ کو جلد مکمل کر لیا جائے گا.

  • پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کوطلب،بجٹ پیش کون کرے گا؟معمہ بن گیا

    پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کوطلب،بجٹ پیش کون کرے گا؟معمہ بن گیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس 13 جون کو طلب کر لیا.پنجاب کا بجٹ 13 جون کی دوپہر دو بجے اسمبلی میں پیش کیا جاے گا تاہم
    یہ بجٹ کون پیش کرے گا؟ اس حوالے سے ابھی نوٹفکیشن ہونا باقی ہے.زرائع کے مطابق اسمبلی میں بجٹ وزیر خزانہ پیش کرتے ہیں مگر پنجاب کی نئی حکومت ابھی تک وزیر خزانہ کا تقرر نہیں کر سکی.اور نہ ہی ابھی تک کابنیہ کی تشکیل مکمل کی جا سکی ہے،زرائع کے مطابق پنجاب کابنیہ کیلئے میاں مجتبی شجاع الرحمان کا نام بطور وزیر خزانہ پنجاب زیر غور ہے.مگر ابھی تک ان سے وزارت کا حلف نہیں لیا گیا ،توقع ہے کہ آئیندہ 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب کابنیہ کی تشکیل مکمل کر لی جائے گی اور نئے وزراء حلف اٹھا لین گے.

    دوسری طرٍف پنجاب اسمبلی میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 25ہزار پر عملدرآامد کے مطالبے کی قرارداد جمع کرائی گئی ہے.قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی،قرارداد کے متن میں کہاگیا ہے کہ متعدد فیکٹریاں مزدور کو 18سے 20ہزار ماہانہ تنخواہ دے رہی ہیں ، مہنگائی کے دور میں مزدور کےلئے بیس ہزار میں گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے.

    قرارداد کے متن میں میں کہا گیا کہ مہنگائی کی وجہ سے سب سے زیادہ عام آدمی متاثر ہورہا ہے ، قرارداد میں وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ نجی فیکٹریوں میں مزدور کی کم از کم اجرت ماہانہ 25ہزار پر عملدرآمد کرایا جائے اورجو فیکٹری مالک مزدور کو 25ہزار سے کم تنخواہ دے اس کو بھاری جرمانہ کیا جائے.

    پنجاب اسمبلی میں آج ہی کے دن ایک اور قرارداد جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں کوفعال کیا جائےاور مجسٹریٹوں کی تعداد بڑھائی جائے،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پرئس کنٹرول کمیٹیاں اور مجسٹریٹ کی قلت کی باعث ناجائز منافع خور من مرضی کے ریٹ وصول کررہے ہیں ، دکاندارمارکٹیوں میں سبزیاں اور پھل اپنے ریٹس پر فروخت کررہے ہیں، سادہ لوح شہری ناجائز منافع خوروں کی رحم و کرم پر ہیں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فوری فعال کیا جائےاورلاہور سمیت صوبے بھر میں مجسٹریٹوں کی تعداد بڑھائی جائے.

  • ڈوپنگ سے متعلق آگاہی کیلئے دو روزہ سیمینار  منعقد کرنے کا فیصلہ ،

    ڈوپنگ سے متعلق آگاہی کیلئے دو روزہ سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ ،

    ڈوپنگ سے متعلق آگاہی کیلئے دو روزہ سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ ،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کامن ویلتھ گیمز، کھلاڑیوں، کوچز کو ڈوپنگ سے متعلق آگاہی کیلئے دو روزہ سیمینارمنعقد کررہے ہیں،ڈی جی سپورٹس پنجاب جاویدچوہان کا کہنا تھا ۔
    سپورٹس بورڈ پنجاب پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے تعاون سے ڈوپنگ سیمینار 11اور 12جون کو ای لائبریری میں منعقد ہوگا۔
    مزید یہ کہ جس میں سینئر ڈاکٹرز اور ماہرین لیکچر ز دیں گے، زوم کے ذریعے سیمینار براہ راست نشر ہوگا، ملک بھر کے کھلاڑی سیمینار سے استفادہ کرسکتے ہیں
    ڈوپنگ کے بارے میں کھلاڑیوں کو آگاہی بہت ضروری ہے،سپورٹس بورڈ پنجاب کے سالانہ سپورٹس کیلنڈر میں ڈوپنگ کو شامل کیا گیا ہے۔
    ڈوپنگ بین الاقوامی ایشوہے، ڈوپنگ آگاہی سیمینار کے انعقاد پر ڈی جی سپورٹس پنجاب جاوید چوہان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، سیکرٹری پاکستان اولمپک ایسوسی نے اس حوالے سے کہا ۔
    ڈاکٹر اسد عباس، لبنی سبطین، ڈاکٹر وقار،اداجعفری اور دیگر ماہرین کھلاڑیوں کو آگاہی دینگے،ڈی جی سپورٹس پنجاب جاوید چوہان اور، خالد محمود کی پریس کانفرنس میں شامل ہوۓ۔

    لاہور (پ ر)9جون2022ء۔ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب جاوید چوہان نے کہا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں، کوچز اور مینجرز کو ڈوپنگ سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں، اس حوالے سے سپورٹس بورڈ پنجاب اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن مل کر دو روزہ ڈوپنگ سیمینار 11اور 12جون کو منعقد کررہے ہیں، سیکرٹری پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن خالد محمود نے کہا ہے کہ کھلاڑی کو رول ماڈل ہونا چاہئے، کھلاڑیوں کے ڈوپنگ ٹیسٹ مثبت آنے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ڈوپنگ سیمینار کے انعقاد پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب جاوید چوہان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب جاوید چوہان نے مزید کہا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں، کوچز اور مینجرز کو ڈوپنگ سے متعلق آگاہی کیلئے دوروزہ سیمینار ای لائبریری میں ہوگا جس میں سینئر ڈاکٹرز اور ماہرین لیکچرز دیں گے، زوم کے ذریعے سیمینار براہ راست نشر ہوگا ملک بھر کے کھلاڑی سیمینار سے استفادہ کرسکتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ڈوپنگ کے بارے میں کھلاڑیوں کو آگاہی بہت ضروری ہے، سپورٹس بورڈ پنجاب کے سالانہ سپورٹس کیلنڈر میں ڈوپنگ کو شامل کیا گیا ہے۔ ڈوپنگ سے آگاہی سے کھلاڑی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔
    سیکرٹری پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن خالد محمود نے کہا ہے کہ ڈوپنگ اب بین الاقوامی ایشو بن چکا ہے، ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب جاوید چوہان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ڈوپنگ جیسے معاملے پر سیمینار کا انعقاد کیا ہے جو خوش آئند ہے، ڈاکٹر اسد عباس، لبنی سبطین، ڈاکٹر وقار اور دیگر ماہرین سیمینار میں کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لینے والے کوچز، مینجرز اور کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کے بارے میں آگاہی دیں گے، ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی کو رول ماڈل ہونا چاہیے، سپورٹس کے علاوہ کھلاڑی کو ہر معاملے میں صاف ہونا چاہئے، اس وقت دنیا کلین سپورٹس (clean sports)پر فوکس کررہی ہے جس کے لئے سپورٹس بورڈ پنجاب اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن مل کر کام کررہے ہیں۔ اس موقع پر چیف سپورٹس کنسلٹنٹ سپورٹس بورڈ پنجاب محمد حفیظ بھٹی، ڈائریکٹر یوتھ افیئرز سید عمیر حسن ودیگر افسران بھی موجود تھے۔

  • پنجاب میں فلورملزمالکان اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال،آٹا سپلائی بند،عوام کو پریشانی کا سامنا

    پنجاب میں فلورملزمالکان اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال،آٹا سپلائی بند،عوام کو پریشانی کا سامنا

    لاہور: پنجاب میں فلور ملز مالکان نے فلور ملوں میں چھاپوں، گرفتاریوں اور گندم پر قبضے کے خلاف ہڑتال کردی-

    باغ ٹی وی : ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آٹا کی ترسیل کا 30 سالہ ’’آٹا ڈیلرز سپلائی نظام‘‘ ختم کردیا گیا ہے، جس پر فلور ملز مالکان کی ہڑتال کے بعد فلور ڈیلرز ایسوسی ایشن بھی ہڑتال پر چلی گئی۔ اس تعطل کی وجہ سے صوبے میں سستے آٹے کی فراہمی بند ہو گئی۔

    ذرائع کے مطابق لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ڈی جی خان سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں آٹا سپلائی بند ہونے سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔فلور ملز مالکان نے راولپنڈی کے 100 سیل پوائنٹ پر سستے آٹے کی فراہمی بند کردی ہے جس کے بعد اب عوام کو 10 کلو آٹا 490 روپے کلو اور 20 کلو آٹے کا تھیلا 980 روپے میں دستیاب نہیں ہو رہا۔ بحران کی وجہ سے مارکیٹ میں 15 کلو کا آٹے کا تھیلا 1200 روپے جب کہ 20 کلو کا تھیلا 1550 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

    فلور ملز مالکان ایسوسی ایشن کے صدر رضا احمد شاہ نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ فلور ملز میں چھاپے اور ہونے والی گرفتاریاں و مقدمات کا سلسلہ بند کرے۔

    دوسری جانب فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر فلور مل کو چور کہنا اور سمجھنا بیورو کریسی اور حکومت کی غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر کی فلور ملز کا اجلاس کل لاہور میں طلب کر لیا گیا ہے، جس میں بڑے فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے بلاجواز چھاپوں کو روکا جائے۔

    علاوہ ازیں سستے آٹے کی فراہمی کے سلسلے میں پیدا ہونے والے بحران پر قابو پانے کے لیے فلور ملز ایسوسی ایشن کی قیادت اور محکمہ خوراک کے سینئر حکام کے درمیان آج ملاقات متوقع ہے-

    لاہور میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چئیرمین عاصم رضا کا کہنا ہے کہ فلور ملز میں اے سی یا ڈی سی کا داخلہ قابل قبول نہیں، محکمہ خوراک کا عمل دخل ختم ہونے تک فلور ملز گندم پسائی نہیں کریں گی،حکومت کی سبسڈائزڈ آٹے کی اسکیم بھی نہیں چلائیں گے-

    دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام سے سستے آٹے کی فراہمی کا وعدہ پورا کرلیا،خیبرپختونخوا میں شہباز اسپیڈ سے سستے آٹے کی عوام کو فراہمی شروع کر دی گئی ،خیبرپختونخوا میں 40 روپے فی کلو آٹے کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا،خیبرپختونخوا میں سستے آٹے کی فراہمی کے لیے 100 موبائل ا سٹورز نے کام شروع کر دیا ،عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کے لیے خیبر پختونخوا کو ایبٹ آباد اور پشاور زونز میں تقسیم کیا گیا-

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایبٹ آباد اور پشاور زون میں 50 ہزار سے زیادہ آٹے کے تھیلے فروخت کیے گئے ،ایبٹ آباد اور پشاور زونز میں الگ الگ موبائل ا سٹورز کے ذریعے سستا آٹا فراہم کیا جا رہا ہے،ایبٹ آباد میں دو روز کے دوران 22 ہزار 70 سستے آٹے کے تھیلے فروخت کیے گئے ،پشاور زون میں دو روز میں 23 ہزار 400 سے زائد سستے آٹے کے تھیلے عوام کو فروخت کیے گئے-

    9جون تک خیبرپختونخوا میں آٹے کی فروخت کے عارضی سیل پوائنٹس بھی کام شروع کر دیں گے ،17جون تک خیبر پختونخوا میں ان عارضی سیل پوائنٹس کی تعداد بڑھا کر 500 کر دی جائے گی ،خیبرپختونخوا میں سستے آٹے کی فروخت کے 993 مقامات کی تعداد 2000 سے زائد کی جائے گی خیبرپختونخوا کو 40 روپے کلو آٹے کی فراہمی کے لیے 13 جون تک موبائل اسٹورز کی تعداد 200 کر دی جائے گی –