Baaghi TV

Tag: پنجاب

  • دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری،نقصانات کی رپورٹ جاری

    دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری،نقصانات کی رپورٹ جاری

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق 5 ستمبر تک دریائے راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہےگنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہے گی، 3 ستمبر تک دریاؤں کے بالائی حصوں میں شدید بارشوں کا امکان ہےدریائے چناب ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پی ڈی ایم اے نے آئندہ 72 گھنٹوں میں لاہور،گوجرانوالہ اور گجرات میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے تمام متعلقہ کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کو "باغوں کا صوبہ” بنانے کافیصلہ

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے آج کشمیر ، شمالی مشرقی پنجاب میں بیشتر مقا مات پر جبکہ اسلام آباد، بالائی خیبر پختونخومیں کہیں کہیں پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا ہےکشمیر ، شمال مشرقی پنجاب اوربالائی خیبر پختونحوامیں چند مقامات پر تیز اور موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے، ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے کل کشمیر ، شمالی مشرقی پنجاب میں بیشتر مقا مات پر جبکہ اسلام آباد، بالائی خیبر پختونخوا میں کہیں کہیں پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے جبکہ کشمیر ، شمال مشرقی پنجاب اوربالائی خیبر پختونحوامیں کہیں کہیں موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

    دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔

    ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث 2200 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے۔ دریاؤں میں سلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 23 لاکھ 83 ہزار لوگ متاثر ہوئےسیلاب میں پھنس جانے والے 9 لاکھ 18 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 392 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور متاثر ہونے والے اضلاع میں 386 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔

    ملک میں پولیو کا نیا کیس رپورٹ، مجموعی تعداد 24 ہوگئی

    مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 333 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں ریسکیو وہ ریلیف سرگرمیوں میں 6 لاکھ 9 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیاریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔ حالیہ سیلاب میں ڈوبنے سے 35 شہری جاں بحق ہوئے۔

  • مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کو "باغوں کا صوبہ” بنانے کافیصلہ

    مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کو "باغوں کا صوبہ” بنانے کافیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کو "باغوں کا صوبہ” بنایا جائے گا،پہلے مرحلے میں 12 اضلاع میں ہارٹیکلچر ایجنسیاں قائم کی جائیں گی –

    ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی ایکٹ 2025 کے تحت پہلے مرحلے میں 12 اضلاع میں ہارٹیکلچر ایجنسیاں قائم کی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید اضلاع میں ہارٹیکلچر ایجنسیاں قائم کی جائیں گی، قوانین کے تحت تمام موجودہ ضلعی اتھارٹیاں ایجنسیوں میں تبدیل کردی گئی ہیں،منتخب 12 اضلاع میں ڈسٹرکٹ ٹرانزیشن ٹیمیں قائم کردی گئیں، 15 اکتوبر سے قبل میونسپل کارپوریشن کا متعلقہ عملہ اوروسائل پی ایچ اے کو منتقل کیے جائیں گے۔

    ملک میں پولیو کا نیا کیس رپورٹ، مجموعی تعداد 24 ہوگئی

    ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ نئی تشکیل کردہ ہارٹیکلچر ایجنسیوں کے لیے افسران کا انتخاب سرچ کمیٹی کرے گی، ایم ڈی، ڈپٹی ایم ڈی، اور دیگر افسران بھی تعینات کیے جائیں گے،پی ایچ اے کا دائرہ کار صوبائی سطح پر بڑھانے سے شہروں میں سبزا اور ہریالی بڑھے گی، نئے باغات کے قیام کے لیے جگہ مختص، موجودہ باغات کی حالت بہتر کی جائے گی۔ صوبوں میں گرین ایریاز بڑھانے سے ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی، منتخب کردہ اضلاع میں شیخوپورہ، اوکاڑہ، گجرات، جہلم، خانیوال، ننکانہ،رحیم یار خان، مری، جھنگ، پاکپتن، خوشاب اور مظفر گڑھ شامل ہیں۔

    پنجاب حکومت کا جاں بحق اسسٹنٹ کمشنر پتوکی کو اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ

  • پنجاب، خیبرپختونخوا کے کئی شہروں اور آزاد کشمیر میں بھی زلزلہ

    پنجاب، خیبرپختونخوا کے کئی شہروں اور آزاد کشمیر میں بھی زلزلہ

    پنجاب، خیبرپختونخوا کے کئی شہروں، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں بھی رات گئے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    زلزلے کے نتیجے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے اور رات خوف کے عالم میں گزاری،زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، منڈی بہاالدین، گجرات، شیخوپوہ، سرگودھا اور گردونواح میں محسوس کیے گئےپشاور، ہری پور، ایبٹ آباد، پاراچنار، چارسدہ، مردان، مانسہرہ، ہزارہ ڈویژن، تورغر، آزاد کشمیر اور راولاکوٹ سمیت دیگر کئی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز پاک-افغان سرحد کے قریب ہندوکش ریجن میں 8 کلو میٹر زیرزمین تھا، زلزلے کے بعد آفٹر شاک بھی محسوس کیے گئے۔

    کے پی ہیلی کاپٹر حادثہ: روسی کمپنی تحقیقات کرے گی

    امریکی ٹیرف: کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے ، نئی عالمی مارکیٹوں پر توجہ دیں گے،بھارتی وزیرِ

    بنگلہ دیش : سابق وزیر سمیت 16 افراد سازش کے الزام میں گرفتار

  • پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    ڈی پی ڈی ای ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کا مقام پیک پکڑ رہا ہے اور اگلے 24 گھنٹے میں مزید خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ یکم کو سات لاکھ کیوسک پانی،ہیڈ تریموں پر پہنچے گا، راوی اور چناب کا پانی ہیڈ شیر شاہ اور ہیڈ سلیمانی میں داخل ہوگا، 4 ستمبر کو یہ سارا پانی ہیڈ پنجند میں داخل ہوگا پنجاب میں اس وقت تاریخی سیلاب گزر رہا ہے اور اب تک صوبے میں 2200 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ 33 لوگوں کی سیلاب کی وجہ سے اموات ہوئیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ پنجاب میں مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی، سیلاب کے ساتھ اربن فلڈنگ سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، ہماری رپورٹ کے مطابق اب تک 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ہم ان تمام افراد کے لیے سہولیات فراہم کر رہے ہیں، ریسکیو کے ساتھ پاک فوج نے بھی سیلابی صورتحال میں ہمارا ساتھ دیا، ہم نے لوگوں کے جانوروں کو بھی محفوظ بنایا ہے۔

    یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم نے انسانی جانوں کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ ہر وقت دریاؤں پر موجود ہے اور صورتحال کا جائزہ لی رہی ہےستلج کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہو گیا ہے اور 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک پانی ہیڈ سلیمانی کے مقام پر پانی موجود ہے جبکہ 1 لاکھ کیوسک پانی بہاولپور کے قریب دریاؤں میں موجود ہے6 سے 7 دونوں میں اگر پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو ہم پھر مزید ان علاقوں پر کام کر سکتے ہیں، ہماری زیادہ توجہ زیر آب علاقوں میں ہیں تاکہ ان کو جلد از جلد کلیئر کیا جائے۔

    سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

  • ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، مریم اورنگزیب

    ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینیئر وزیرمریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، ہمارا مقصد صرف عوام کی جانیں بچانا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب،نے کہا کہ دریا کنارے غیر قانونی آبادیوں کی ذمہ داری ماضی کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جبکہ موجودہ حکومت نے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہےدریاؤں کے کنارے ریور بیڈز کی میپنگ کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے پنجاب میں ڈیمز بنانے کے لیے اے ڈی بی میں ایلوکیشن کر دی گئی ہے اور سیلاب سے بچاؤ کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے،مریم نواز نے ہمیشہ سیاسی دباؤ برداشت کیا ہے، اور انکروچمنٹ، پوسٹنگ ٹرانسفر جیسے معاملات میں کسی کو رعایت نہیں دی گئی ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، ہمارا مقصد صرف عوام کی جانیں بچانا ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث صوبے میں ایمرجنسی صورتحال ہے۔ راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہےراوی میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے، جبکہ خانکی، قادرآباد، ریواز برج، تریموں اور بلوکی سمیت مختلف مقامات سے لاکھوں کیوسک کے ریلے گزر رہے ہیں، ریواز برج اور تریموں پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری

    سینیئر وزیر کے مطابق، 20 لاکھ سے زائد افراد اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے ساڑھے 7 لاکھ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا۔ ایک لاکھ 15 ہزار افراد کو کشتیوں کی مدد سے ریسکیو کیا گیا جبکہ پانچ لاکھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،صوبے بھر میں 400 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور تمام اسکولوں کو عارضی ریلیف کیمپس میں تبدیل کر دیا گیا ہے اس وقت پنجاب کے جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور وہاڑی سمیت متعدد اضلاع ہائی الرٹ پر ہیں، جہاں حکومت کے تمام ریسکیو انتظامات مکمل ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود اس تاریخی ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں سیلاب سے متاثرہ 2207 موضع جات کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے، اور ایک ہزار مواضع مزید متاثر ہو سکتے ہیں، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عوام کی جان و مال کو بچایا جا سکے اور نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع دیے اسپیل ویز کھولے گئے، جس پر فارن آفس اور این ڈی ایم اے ڈیٹا جمع کر رہے ہیں، انہوں نے روڈا اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے کردار پر انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    مریم اورنگزیب نے بتایا کہ تمام علاقوں کی ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ ’’کلینک آن وہیلز‘‘ اور میڈیکل کیمپس متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ عوام کو پانی سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کھانے، پینے کے پانی، خشک خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ چوری کی اطلاعات پر پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہےسیلاب کے باعث اب تک 38 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے اموات چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سمیت مختلف وجوہات کی بنیاد پر ہوئیں۔

  • یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری

    یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمارا فوکس اس وقت ریلیف پر ہےکچھ لوگ جھوٹی خبروں سے سوسائٹی میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ایک مخصوص ٹولہ مشکل کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہمدردی کی بجائے گندی سیاست کررہا ہے، قوم کا جب بھی متحد ہونے کا موقعہ ہوتا یہ ٹولہ اپنی گندی سیاست شروع کردیتا ہے، تاہم یہ وقت سیاست کا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 7 لاکھ ساٹھ ہزار سیلاب متاثرین کو بروقت ریسکیو کرنا کوئی معمولی بات نہیں، پنجاب حکومت اپنے وسائل سے شہریوں کو تمام امدادی سرگرمیاں مہیا کررہی ہےمتاثرہ شہریوں کے ساتھ ان کے مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے جب کہ کلینک آن ویلز نے بروقت متاثرہ شہریوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ہے- پنجاب کو تاریخ کے بڑے سیلاب کا سامنا ہے اور ویسے ہی بڑے ریسکیو آپریشن پر کام جاری ہے لیکن کچھ لوگ جھوٹی خبروں سے سوسائٹی میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    چین کی جدید ٹیکنالوجی اور طریقے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے سود مند ہونگے ، وزیراعظم

  • سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے ،مریم اورنگزیب

    سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے ،مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ صوبے میں اس وقت سیلاب کی تاریخ کی سب سے غیر معمولی صورتحال درپیش ہے-

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ صوبے میں اس وقت سیلاب کی تاریخ کی سب سے غیر معمولی صورتحال درپیش ہے، جس نے 20 لاکھ سے زائد آبادی کو متاثر کیا ہے،دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں اس طرح کی سیلابی کیفیت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی،وزیراعلیٰ پنجاب اور تمام ادارے ایک مٹھی کی طرح عوام کی جانیں بچانے کے لیے متحرک ہیں اور غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں،سینیئر وزیر نے بتایا کہ سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے جن میں سے 7 لاکھ 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے،5 لاکھ سے زائد مویشیوں کو بھی بچا لیا گیا ہے اور 400 سے زیادہ ویٹنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    بھارت سے 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ،2200 دیہات زیر آب ، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    پنجاب سیلاب متاثرین کے لیے مفت کالنگ سہولت میں توسیع

  • دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں  391 موضع جات متاثر

    دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں 391 موضع جات متاثر

    لاہور:پنجاب میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی،جبکہ،سیلاب سے 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں-

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق سیلاب سے 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، تین دریاؤں کے سیلابی پانی سے دو ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔

    سینئیر صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ 511 ریلیف اور 351 میڈیکل کیمپس متاثرین کی چوبیس گھنٹے مدد اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، 6 ہزار 373 متاثرین ریلیف کیمپس میں ہیں، 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مویشیوں کے علاج کے لئے 321 ویٹرنری کیمپ بھی کام کر رہے ہیں، 808 کشتیاں ریکسیو مشن میں شریک ہیں، چھتیس گھنٹوں میں 68 ہزار 477 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت اور مدد کا تاریخی ریلیف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے جاری ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پیشگی حفاظتی انتظامات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی وجہ سے تاریخ کے اتنے بڑے سیلاب میں بڑے جانی نقصان سے پنجاب بچ گیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی ہے، پیشگی خبردار کرنے والے جدید ترین نظام پنجاب میں لائیں گے، سیلاب سے بحالی کے بعد تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن ہوگا، حالیہ سیلاب میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں جامع حکمت عملی تیار کریں گے،ریسکیو اور ریلیف میں دن رات کام کرنے والے ہمارے ہیروز ہیں، متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ اولین ترجیح ہے۔

  • کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل  کی پیشگوئی

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے کل سے صوبے بھر میں مون سون کا 9 واں اسپیل شروع ہونے کی پیش گوئی کی ہے-

    پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کردی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کا 9 واں اسپیل کل سے شروع ہوگا، 29 اگست سے 2 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہےراولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی،نبیل جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مون سون بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں تمام ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران فیلڈ میں موجود رہیں محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور لایئو اسٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہےشہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل

  • وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعرات کو پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا فضائی اور زمینی دورہ کیا۔

    اس موقع پر انہیں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،روانگی سے قبل چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیراعظم کو ملک بھر کی سیلابی صورتحال اور جاری ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

    فضائی معائنے کے دوران وزیراعظم کو خاص طور پر نارووال اور گوجرانوالہ ڈویژن میں شدید متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مزید جانی و مالی نقصان روکنے اور ریلیف آپریشن تیز کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔

    https://x.com/GovtofPunjabPK/status/1960961380531781790

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گوجرانوالہ ڈویژن میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سیالکوٹ کے 5، گجرات کے 4، نارووال کے 3، حافظ آباد کے 2 اور گوجرانوالہ کے 1 شہری شامل ہیں۔ مزید 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    حکام کے مطابق: پنجاب بھر میں 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد اور 35 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جب کہ769 دیہات زیرِ آب آ گئے جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو چکی ہے،نارووال میں سیلابی ریلوں نے تاریخی گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے احاطے کو بھی ڈبو دیا-

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے کہا کہ 39 ہزار 638 افراد کو مختلف اضلاع سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جن میں سیالکوٹ، سرگودھا، چنیوٹ، گوجرانوالہ، ننکانہ، حافظ آباد، منڈی بہاالدین، گجرات، لاہور، نارووال، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی، بہاولپور اور لودھراں شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (UNOCHA) کے مطابق اس سال مون سون سے ہونے والی اموات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہیں۔