Baaghi TV

Tag: پنشن

  • پنجاب کابینہ  نےملازمین کی بیوہ کو تاحیات پنشن دینے کی منظوری  دیدی

    پنجاب کابینہ نےملازمین کی بیوہ کو تاحیات پنشن دینے کی منظوری دیدی

    پنجاب کابینہ نے صوبے میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانات سرکاری طور پر لینے کی منظوری دے دی-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 28 واں اجلاس ہوا جس میں130 نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی،پنجاب کابینہ نے صوبے میں صنعتی ورکرز کے لئے1220فلیٹس دینے کی منظوری دی، لیبر کمپلیکس سندر، قصور، لیبر کالونی ٹیکسلا میں ورکرز کوقرعہ اندازی کے ذریعے فلیٹس ملیں گےوزیراعلیٰ پنجاب نے ورکرز سے فلیٹس کی قیمت وصول کرنے کی تجویز مسترد کر دی اور صنعتی ورکرزکے لئے مزید 3 ہزار فلیٹس بنانے کے لئے فوری اقدامات کا حکم دیا۔

    صوبائی کابینہ نے ہنر مند، نیم ہنرمند اور دیگر 102 کیٹگری میں ورکرز کی تنخواہ یکساں طور پر 40 ہزار کرنے کی منظوری دی،مریم نواز نے فلڈ ڈیوٹی سرانجام دینے والے ریسکیو اہلکاروں کے لئے 50، 50 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا، کابینہ نے طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب کے دوران ریلیف کارروائیوں پر ریسکیو 1122کو سراہا،صوبائی کابینہ نے پنجاب میں پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات سرکاری طور پر لینے کی منظوری دی، پانچویں کلاس کے طلبہ کا جائزہ اور آٹھویں کلاس کے طلبہ کا باقاعدہ امتحان ہوگا، ملازمین کی بیوہ کو تاحیات پنشن دینے کی منظوری بھی دی۔

    کسی بھی صورت میں دہشتگردوں کو پناہ یا سہولت فراہم نہ کریں،جرگے میں فیصلہ

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جیلوں میں قیدیوں کے لئے باقاعدہ انڈسٹری قائم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ مزدوری کرنے والے قیدیوں کو اجرت بھی ملے گی،وزیراعلیٰ مریم نواز نے جیلوں میں مانیٹرنگ کا تھرڈ پارٹی سسٹم وضح کرنے کی ہدایت کی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پرسرمایہ کاری کے فروغ کے لئے تاریخی اقدام کیا گیا۔

    پٹرول پمپس کے قیام کے لئے آن لائن ایپلی کیشن کی منظوری دی گئی، سرمایہ کاروں کو 16 کی بجائے صرف 6 دستاویزات پیش کرنے ہوں گی، آن لائن اپلائی کرکے سرمایہ کار آن لائن این او سی حاصل کر سکیں گے،پنجاب میں پہلی مرتبہ ورکرز کی سیفٹی کے لئے جامع رولز کی منظوری دی، پنجاب ایکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز2024 کی منظوری دے گئی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سیوریج اور تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں کی سیفٹی یقینی بنانے کا حکم دیا، ورکرز نے سیفٹی یقینی بنانے کے لئے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو انفورسمنٹ فورس بنانے کی ہدایت دی،مریم نواز نے کہا کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ہر سطح پر عملدرآمد ضروری ہے، غریب ورکرز اور مزدوروں کی جان بھی قیمتی ہے، ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنائیں گے۔

    خیبر پختونخوا میں سیاسی قیادت کمپرومائزڈ ہے، طلال چوہدری

    کابینہ نے چائلڈ لیبر روکنے کے لئے پنجاب ریسکٹریکشن آن ایمپلائیمنٹ آف چلڈرن رولز 2024ء کے مسودے کی منظوری دی،اس کے علاوہ گورنمنٹ اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں خزانچی رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی تعیناتی کا یکساں طریقہ کار نافذ کرنے کی بھی منظوری دی گئی،وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں آڈٹ رپورٹس پر ضروری اقدامات اور مانیٹرنگ کی ہدایت کی،کابینہ اجلاس میں وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے مارکیٹ سے ہایئرنگ کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔

    کابینہ نے وائس چانسلر کے لئے کم از کم 80 فیصد مارکس حاصل کرنے کی منظوری بھی دی،پنجاب کی سڑکوں پر اے آئی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم 90دن کے اندر نافذ ہوجائے گا، کابینہ نے سڑکوں پر ایکسل روڈ مینجمنٹ سسٹم کا فوری نفاذ یقینی بنانے کا حکم دیا،پنجاب کے 5 ڈویژن میں واسا کے قیام کی منظوری دی گئی، مزید 13شہروں میں واسا قائم کیے جائیں گے۔

    نرسز کے لیے سرکاری اسپتالوں میں پیڈ انٹرن شپ کی منظوری دی گئی، پنجاب میں کسان کارڈ کی شاندار کامیابی ہوئی جب کہ فیز 1 میں 99فیصد ریکوری ہوئی، 6 لاکھ 90ہزار کسانوں کو 93ارب روپے جاری کیے گئے، کاشتکاروں نے زرعی مداخل کے لئے 47 ارب روپے استعمال کر لیے،وزیراعلیٰ کے ہائی ٹیک میکانزیشن کے تحت ٹریکٹر سازی کے نئے کارخانے قائم کیے گئے، حکومت پنجاب اور ڈیئر فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، ہوبارہ انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے درمیان ایم او یو کی منظوری دی گئی۔

    فٹنس مسائل:ارشد ندیم ڈائمنڈ لیگ سے باہرہو گئے

    اجلاس میں مقامی پرندوں کے تحفظ کے لئے ریگولیٹری فریم ورک کی منظوری بھی دی گئی، اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے کو 2.6ارب روپے کے فنڈز سیلاب متاثرین کے لئے خرچ کرنے کی منظوری دی گئی،صوبائی کابینہ نے ری اوٹ مینجمنٹ پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی، وال سٹی اتھارٹی میں تین نئی اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دی گئی، پنجاب چیئریٹیز کمیشن میں بھرتیوں کے لئے پابندی میں نرمی کی منظوری دی گئی۔

    وزیراعلیٰ نے فیک خیراتی اداروں کی اسکروٹنی اور ہر چار ماہ کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی، کابینہ نے پھاٹا کے بجٹ کی منظوری کااختیار، گورننگ باڈی کو دینے کی منظوری دی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پھاٹا کی مانیٹرنگ کا طریقہ کار وضح کرنے کی ہدایت کی، پنجاب انرجی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے نئے ممبر کی نامزدگی، ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ایم آئی ایس سسٹم کے اسٹاف کی مدت ملازمت میں تین ماہ توسیع کی منظوری دی گئی۔

    کیل مہاسوں کے علاج کے طور پر اداکارہ تمنا بھاٹیا کی حیران کن بیوٹی ٹپ

    اجلاس میں لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ کو اسکول ونگ کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا،کابینہ نے مختلف اداروں میں ملازمین کی بھرتی، سیمنٹ پلانٹس کے این او سی کی تاریخ تنسیخ میں توسیع، اسپورٹس بورڈ پنجاب کی تشکیل نو کے لئے ترمیم کی منظوری دی گئی،اجلاس میں اہم مہمان شخصیات کی سیکیورٹی کویقینی بنانے کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے، پنجاب ڈرگ رولز میں ترمیم، پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایکٹ2025 ء کے تحت PEECA کے قیام، ٹیلی کام سیکٹر کو سرکاری اراضی لیز پر دینے کے لئے اقدامات،گنے پر ریسرچ کے لئے قیام شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ ایکٹ 2025، کلینکل اور نان کلینکل اسامیوں پر بھرتی کے لئے پنجاب لوکم ریکروٹمنٹ ایکٹ 2025ء کی منظوری بھی دی گئی۔

  • پنجاب میں سرکاری ملازمین کیلئے پنشن میں اضافہ ختم

    پنجاب میں سرکاری ملازمین کیلئے پنشن میں اضافہ ختم

    پنجاب کے سرکاری ملازمین کیلئے پنشن میں سالانہ اضافہ ختم کر دیا گیا، محکمہ خزانہ پنجاب نے پنشن میں سالانہ اضافہ ختم کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق فنانس ڈیپارٹمنٹ کے2022 ء میں جاری لیٹر کے پیرا گراف ون کے تحت جاری پنشن میں اضافہ ختم کردیا گیا ہے۔
    پنشن میں اضافے پر بندش کا آغاز آج سے ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین پر ہو گا، سیکرٹری خزانہ مجاہد شیر دل نے تمام انتظامی سیکرٹریزاور سربراہوں کو مراسلہ بھیج دیا۔سیکرٹری خزانہ نے مراسلے میں ہدایت کی ہے کہ تمام محکمے اور ادارے 2 دسمبر2024 ء کے نئے مراسلے کے تحت پنشن میں اضافہ روکنے کیلئے دستاویزی اقدامات کریں۔ محکمہ خزانہ کے 2015 میں جاری مراسلہ کے پیراگراف ون کے تحت جاری پنشن میں اضافہ جبکہ 2011 میں جاری کردہ مراسلہ کے پیراگراف ٹو کے تحت جاری اضافہ بھی ختم کردیا گیا۔دریں اثناء محکمہ خزانہ نے پنشن رولز میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ پنشنرز کے فوت ہونے پر صرف پنشن بیوی یا خاوند کو ملے گی۔ محکمہ خزانہ نے باقی بچوں ، بہن بھائی کی پنشن کا حق ختم کر دیا جبکہ ریٹائرمنٹ پر پنشن سے 35 فیصد کی بجائے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روزحکومت نے ریٹائرمنٹ کی اوسط عمر 5سال سے کم کر55 سال کرنے پر غورشروع کر دیا تھا۔ریٹائرمنٹ کی عمر میں 5 سال کمی کی صورت میں پنشن کی ادائیگی میں کمی لائی جا سکے گی۔ وفاقی پنشن بل ایک کھرب روپے سے تجاوز کر چکا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ا س فیصلے کا نفاذ اگر تمام اداروں میں یکساں طور پر نافذ کیا گیا تو پنشن اخراجات سالانہ 50 ارب روپے تک کمی لائی جا سکے گی۔ریٹائرمنٹ کی عمر میں کمی عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف )کی جانب سے دی گئی تھی تجاویز میں سے ایک تھی جس کے نفاذ کیلئے وفاقی حکومت طویل مدتی پنشن بل کو روکنے کیلئے ریٹائرمنٹ کی اوسط عمر کو 5 سال کم کرکے 55 سال کرنے پر بھی غور کر رہی تھی۔یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس صورت میں وفاقی حکومت ریٹائرمنٹ کے فوائد یا سبکدوشی پیکجز کی ادائیگی کی ذمے دار نہیں ہوگی اور ان اداروں کو معاشی ضروریات اپنے ذرائع یا بیرونی اختراعی اختیارات سے پوری کرنی ہوگی۔ حکومت تجویز پر عملدرآمد کی صورت میں پڑنے والے ابتدائی بوجھ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے مرحلہ وار نفاذ پر غور کرے گی جس سے سرکاری شعبے کے تجربہ کار اور ہنر مند ملازمین کی نجی شعبے میں منتقلی میں بھی سہولت مل سکتی ہے۔حکومت وفاقی ملازمین کیلئے اس طرح کی سکیم متعارف کرانے اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اسے اپنانے کے قانونی اور مالی فوائد اور نقصانات کا جائزہ لے رہی تھی تو حکومتی اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز، پروفیشنل کونسلز سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کم کردیں۔ سالانہ پنشن بل کے بڑھتے ہوئے بہاو کو روکنے کیلئے حکومت نے حال ہی میں مستقبل کے تمام سرکاری ملازمتوں کیلئے شراکت داری پر مبنی پنشن سکیم متعارف کرائی تھی۔

    حکومت کر لی، اب آرام سے جیل کاٹو، مریم نواز کا عمران خان کو مشورہ

    پاکستان کا سکیورٹی کونسل میں مسلم ممالک کی مستقل نشست کا مطالبہ

    پی ٹی آئی کو کہیں نہ کہیں دشمن ملک سے سپورٹ مل رہی ہے، سعید غنی

  • وفاقی حکومت نے پنشن رولز میں ترامیم کر دیں

    وفاقی حکومت نے پنشن رولز میں ترامیم کر دیں

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشن رولز میں ترامیم کر دیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق نئے اور ترمیم شدہ پنشن قانون کا اطلاق وفاقی اور آرمڈ فورسز پر فوری ہو گا، اس حوالے سے وزارت خزانہ کی جانب سے گزشتہ روز تین آفس میمورنڈم جاری کئے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ پنشن اسکیم میں اہم ترامیم کردی ہیں، یہ ترامیم پے اینڈ پنشن کمیشن 2020کی سفارشات پر کی گئی ہیں۔

    وزارت خزانہ کی طرف سے اسپیشل فیملی پنشن سے متعلق جاری پہلے آفس میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ پے اینڈ پنشن کمیشن نے 2020 میں اپنی سفارشات دیں جن کی روشنی میں حکومت نے پنشن اصلاحات پر عملدرآمد کرتے ہوئے آفس میمورنڈم جاری کئے ہیں۔

    وزارت خزانہ کی طرف سے اسپیشل فیملی پینشن سے متعلق جاری پہلے میمورنڈم کے مطابق شہداء کی فیملی پنشن کی میعاد 25 سال کی گئی ہے تاہم وفات پانے والے پنشنر کی فیملی پنشن کا حقدار بچہ معذور یا اسپیشل چائلڈ ہونے کی صورت میں تاحیات فیملی پنشن حاصل کرے گا۔

    آئندہ 24 گھنٹوں میں موسم کیسا رہے گا؟

    آفس میمورنڈم کے مطابق آرمڈ فورسز کے شہید ہونے والے ملازم کی بیوہ اور بچوں کو خصوصی پنشن دی جائے گی اور آرمڈ فورسز کے ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ پنشن دی جائے گی۔

    دوسرے آفس میمورنڈم کے مطابق معمول کی فیملی پینشن کیلئے 10 سال کی میعاد مقرر کی گئی ہے تاہم معمول کی فیملی پنشن کے تحت بھی وفات پانے والے پنشنر کی فیملی پینشن کا حقدار بچہ معذور یا اسپیشل چائلڈ ہونے کی صورت میں تاحیات فیملی پینشن وصول کرے گا، البتہ اگر پنشن کا اہل و حقدار بچہ چھوٹا ہوگا تو اس صورت میں 10 سال کیلئے یا بچے کے 21 سال کی عمر تک پہنچنے میں سے جو بھی بعد میں مدت پوری ہورہی ہوگی اس وقت تک پنشن ملے گی-

    امریکا: دہشتگردی کی بڑی کارروائی، نائن الیون حملوں کو 23 برس بیت گئے

    وزارت خزانہ کے تیسرے آفس میمورنڈم کے مطابق وفاقی ملازمین 25 سال ملازمت پر ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں تاہم 60 سال عمر تک بقایا رہ جانے والے ہر سال پر پنشن پر 3 فیصد کٹوتی کی جائے گی،مذکورہ کٹوتی پنشن کے 20 فیصد سے زیادہ نہیں کی جائے گی، آرمڈ فورسز کے ملازمین پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر پنشن کٹوتی کا اطلاق اس صورت میں ہو گا اگر رینک کے لئے مقرر کردہ ملازمت پوری نہیں ہو گی، وزارت خزانہ نے ترمیم شدہ پنشن قانون کو فوری طور پر نافذ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    پنشن ایک بم کی شکل اختیار کر چکی ہے اسے ہر صورت روکنا ہو گا،وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

    دوسری جانب سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر خزانہ محمد اوررنگزیب نے کہاہے کہ پنشن اصلاحات پر جلد قانون سازی لائیں گے، زراعت کے شعبے کا معیشت میں بہت اہم کردار ہے، زراعت فنانس کو بڑھانا ہے، لائیو اسٹاک اور ڈیری میں بھی فوکس کریں گے، لائیو اسٹاک اور ڈیری کی بھی فنانسنگ کی ضرورت ہے۔

    سینیگال میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 26 افراد ہلاک،متعدد لاپتا

    محمد اورنگزیب کا کہنا تھا ہماری گزشتہ سال بچت زراعت کے شعبے سے ہوئی جس کی گروتھ 6 فیصد تھی، ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں میں برآمدات بڑھانا پڑیں گی، ایکسپورٹس بڑھانے کی پالیسی دی ہے اس پر کام بھی کررہے ہیں،جو ادارے نقصان میں چل رہے ہیں، وہاں سے اربوں روپے بچا سکتے ہیں۔

  • آئی ایم ایف شرائط  ،سرکاری ملازمین کیلئے نئی پنشن اسکیم   کی تجویز

    آئی ایم ایف شرائط ،سرکاری ملازمین کیلئے نئی پنشن اسکیم کی تجویز

    حکومت کو سرکاری ملازمین کو بھارت کی طرز پر رضاکارانہ پنشن دینے کی تجویز دی گئی ہے

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے نئی رضاکارانہ پنشن اسکیم لانے کی تیاری کی جارہی ہے اور نئی اسکیم سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے تیار کی ہے، تمام نئی سرکاری بھرتیاں رضاکارانہ پنشن اسکیم کے تحت کیے جانے کا امکان ہے تاہم پہلے سے بھرتی سرکاری ملازمین کو پنشن بجٹ سے ہی دی جائے گی البتہ وفاقی حکومت موجودہ سرکاری ملازمین کی رضامندی سے ان کو نئی اسکیم میں منتقل کرسکتی ہے

    ایس ای سی پی نے سرکاری اور نجی شعبے میں نئی اسکیم کا اطلاق کرنے کی تجویز دی ہے، نجی شعبہ اس وقت ملازمین کو پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی کی سہولت فراہم کررہا ہے، ایس ای سی پی کی تجویز ہےکہ نجی شعبہ ملازمین کو صرف رضاکارانہ پنشن اسکیم دے کیونکہ پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی سےملازمین کو ریٹائرمنٹ پرمستقل آمدن کی سہولت نہیں ملتی، اس اسکیم کے تحت ملازمت کی تبدیلی کی صورت میں بھی پنشن سہولت جاری رہے گی۔

    اس وقت ملک میں 43 پنشن فنڈ کام کررہے ہیں جن میں 61 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، خیبر پختوخوا حکومت نے سب سے پہلے 2 سال قبل پنشن فنڈ میں سرمایہ کاری کی جہاں حکومتی ملازمین کے لیے 21 پنشن فنڈ کام کررہے ہیں،پنجاب حکومت بھی ملازمین کے لیے رضاکارانہ پنشن اسکیم شروع کرنے والی ہے

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

  • پنجاب کے سرکاری ملازمین  کا پانچویں دن بھی احتجاج جاری

    پنجاب کے سرکاری ملازمین کا پانچویں دن بھی احتجاج جاری

    لاہور۔ پنجاب کے سرکاری ملازمین اساتذہ سمیت سڑکوں پر آگئے

    سول سیکرٹریٹ کے باہر آج پانچویں دن بھی احتجاج جاری ہے، پنجاب کے تمام اضلاع سے سرکاری ملازمین سول سیکرٹریٹ لاہور کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، احتجاج میں خواتین بھی شریک ہیں، شرکاء نے رات سڑک پر گزاری، پانچ دن سے سول سیکرٹریٹ کے اطراف کی سڑکیں بند ہیں، مظاہرین سڑکوں پر ہی بیٹھے ہیں،

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس عالم میں موجودہ تنخواہ پر گزارہ نہیں، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، اور مختلف محکموں کے ملازمین 5 روز سے سول سیکرٹریٹ کے سامنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ،انکا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت وفاقی کی طرز پر رننگ تنخواہوں میں اضافہ کرے، پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جبکہ وفاق نے ساڑھے سترہ فی صد کیا لیو انکیشمنٹ کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے،

    سول سیکرٹریٹ کے ملازمین بھی آج سے احتجاج کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو گئے سوموار سے پنجاب کے تمام سرکاری دفاتر میں کام بند کرنے کی دھمکی دے دی سوموار سے پنجاب کے سرکاری دفاتر میں علامتی ہڑتال کی جائے گی،

    چیئرمین ایپکا راشد اقبال قریشی کی زیرصدارت محکمہ کوآپریٹوز ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ملازمین کے دھرنے کو جوائن کیا اور طالبات کی منظوری کیلئے نعرے بازی کی راشد اقبال کا کہنا تھا کہ دوسرے صوبوں کی طرح تنخواہوں میں اضافہ صوبہ پنجاب کے ملازمین کا حق ہے جسے ہر صورت وزیراعلیٰ پنجاب کو منظور کرنا چاہئے

    خرم نواز گنڈاپور نے سول سیکرٹریٹ کے سامنے پنجاب کے سرکاری ملازمین کے احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے سرکاری ملازمین کے تمام جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں سرکاری ملازمین کے تمام جائز مطالبات ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ پاکستان عوامی تحریک نے ہمیشہ محکوم اور مجبور طبقات کیلئے آواز بلند کی ہے

    جماعت اسلامی نے سرکاری ملازمین کے مطالبات کی حمایت کر دی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

  • سندھ کا 2 کھرب اور 244 ارب روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش

    سندھ کا 2 کھرب اور 244 ارب روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش

    وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریرکرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں59واں بجٹ پیش کررہا ہوں، سیلاب کے باوجود سندھ کا اچھا بجٹ پیش کر رہے ہیں

    وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 1 سے 16 گریڈ ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے اور 17 سے 22 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کی تجویز کردی ،امن و امان کیلئے گزشتہ سال 124.87 ارب روپے بجٹ میں مزید15 فیصد اضافہ کیا ہے،آئندہ مالی سال میں امن و امان کیلئے 143.568 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،امن و امان کی اسٹریٹیجکلی بہتری کیلئے 15.5 ملین روپے پرائزن پالیسی اینڈ مینجمنٹ بورڈ کیلئے رکھے ہیں،محکمہ جیل خانہ جات کے عملے میں اضافے کیلئے ہم نے 463.414 ملین روپے مختص کئے ہیں، سندھ پولیس کی بہتری کیلئے 2.796 ارب روپے ملٹری گریڈ ہتھیاروں کی خریداری کیلئے رکھے ہیں، سندھ پولیس کی گاڑیوں کی خریداری کی مد میں 3.569 ارب روپے رکھے گئے ہیں،محکمہ پولیس کیلئے 846.608 ملین روپے اسپشل برانچ کیلئے مختص کئے گئے ہیں،

    وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی معیشت بھی سست روی کا شکار تھی حکومت کی کوشش ہے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا شدہ صورتحال پرقابو پایا جائے، گزشتہ 5سال بہت سے کرائسزکا سامنا کیا، کورونا، سیلاب سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا رہا 4.4 ملین ایکڑزمین سیلاب کے باعث ڈوب گئی تھی، سیلاب کے باعث5.5 ملین گھروں کو نقصان پہنچا صحت کیلئے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں، سندھ کا 2 کھرب اور 244 ارب روپے کا بجٹ ہے

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    قبل ازیں سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں سندھ کا نئے مالی سال کا فنانس بل پیش کیا گیا جس کی سندھ کابینہ نے باضابطہ طور پر منظوری دے دی کابینہ نے گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک، 17 گریڈ سے 22 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد تک اور پنشن کی مد میں 17 فیصد اضافے کی منظوری دے دی کابینہ اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گیارہوں بار سندھ کا بجٹ پیش کیا، وزارت مالیات کا قلم دان انہوں ںے اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ اجلاس میں پی ٹی آٗئی سندھ کے ارکان اسمبلی غیرحاضر رہے جب کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی موجود ہیں

  • وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس جاری ہے
    ‏وفاقی کابینہ نے 1150 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) کی منظوری دے دی‏ پنجاب کے 36 اضلاع میں 60 منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیے جائیں گے ،خیبرپختونخواکے 34 اضلاع میں 50 منی اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا پلان ہے،سندھ کے 29 اضلاع میں 40 منی اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا پلان ہے پاکستان اٹامک انرجی کیلئے 26 ارب 10 کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کیے جائیں گے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 15 کروڑ، پیٹرولیم ڈویژن کیلئے ایک ارب 50 کروڑ مختص کئے جائیں گے،پلاننگ ڈویژن کیلئے 24 ارب 89 کروڑ، تخفیف غربت و سماجی تحفظ کیلئے 50 کروڑ رکھنے کا فیصلہ‏ کیا گیا ہے، حکومت نے آئندہ مالی سال میں کھیلوں کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے،

    وفاقی کابینہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا بھی حتمی فیصلہ کیا جائے گا وزارت خزانہ کے حکام کابینہ کو بجٹ لے آؤٹ پر بریفنگ دیں گے بجٹ کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا کابینہ اجلاس میں 24 مئی اور 7 جون کے اقتصادی رابطہ کمیٹی کےفیصلوں کی توثیق ہوگی

    وفاقی بجٹ ، اراکین اسمبلی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، حکومتی اراکین اسمبلی میں سے مصدق ملک ، خواجہ آصف پارلیمنٹ پہنچ گئے ،بجٹ دستاویزات پارلیمنٹ میں پہنچا دی گئیں ،اے این پی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی بھی پارلیمنٹ پہنچ گئے مسلم لیگ ن کے رہنما انجینئر امیر مقام پارلیمنٹ پہنچ گئے ایم کیو ایم پاکستان کی رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ پارلیمنٹ پہنچ گئی

    وزیر اطلاعت مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ آمد کے موقع پر کہا ہے کہ ‏تعلیم، صحت کے فروغ اور آبادی پر کنٹرول سے پاکستان کی ترقی کی راہ ہموار ہو گی ،سستی اور بلا تعطل توانائی کی فراہمی سے معیشت و کاروبار میں نئی تیزی آئے گی، رواں سال 6210 ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع ہوئے، رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں لاکھ12 ہزار نئے ٹیکس دہندگان کو رجسٹرڈ کیا ،وفاقی ترقیاتی بجٹ سے معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی اورروزگار بڑھے گا،تجارتی خسارے میں 40.4 فیصد کمی معاشی اقدامات کی درستگی ظاہر کرتی ہے ،تجارتی خسارہ 25.8 ارب ڈالر ہوگیا جو 43.4 ارب ڈالر تھا ، یہ بہتری کی جانب آغاز ہے ،درآمدات میں 29.2 فیصد کمی ہوئی جس کے معاشی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئ5ای فریم ورک پاکستان میں معاشی ترقی کا گیم چینجر ثابت ہو گا،ایکسپورٹس،ای پاکستان،واٹر اینڈ فوڈ سیکیورٹی ٹرن آ راؤنڈ پاکستان کے ستون ہیں، فریم ورک سےبرآمدات میں اضافے کے لیے نئے کاروبار، روزگار کی حوصلہ افزائی ہوگی،

    بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا . وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 2023-24 کا بجٹ پیش کریں گے ، بجٹ کا حجم 13 ہزار 800 ارب روپے سے زائد ہوگا بجٹ کا خسارہ 6 ہزار ارب سے زائد ہوگا جب کہ 7300 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے ،مذکورہ بجٹ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کا دوسرا بجٹ ہوگا۔

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

  • پنشن کی مد میں 3 ارب 45 کروڑ کے لازمی اخراجات منظور

    پنشن کی مد میں 3 ارب 45 کروڑ کے لازمی اخراجات منظور

    قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے 278کھرب روپےکے لازمی اخرااجات کی منظوری دے دی ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی پرویزاشرف کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لازمی اخراجات کی تفصیل کو منظور کیا گیا ہےجس میں مقامی قرضوں کی ادائیگی اور سروسنگ کے لیے 230 کھرب 93 ارب 45 کروڑ روپے رکھے گئے ۔

    نجی چینل کے مطابق: "پنشن کی مد میں 3 ارب 45 کروڑ کے لازمی اخراجات رکھے گئے ہیں ۔ گرانٹس اور سبسڈی کی مد میں 22 ارب روپے، سپریم کورٹ کے لیے 3 ارب 9 کروڑ روپے اور الیکشنز کے لیے 6 ارب 28 کروڑ روپے رکھےگئے ۔
    جبکہ قومی اسمبلی کے لیے 2 ارب 70 کروڑ 77 لاکھ 24 ہزار روپے، سینیٹ کے لیے 2 ارب 34 کروڑ 86 لاکھ 16 ہزار روپے، صدر مملکت کے عملے اور خانہ داری اور الاؤنسز پرسنل کی مد میں 64 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
    اسی طرح سال 2023 میں الیکشن کی مد میں 6 ارب 28 کروڑ 90 لاکھ 52 ہزار روپے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 30 جون 2023 تک 1 ارب 12 کروڑ 20 لاکھ روپے،کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کی مد میں 10 کروڑ روپےکی منظوری بھی دی گئی۔
    بیرونی ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز کی مد میں 296 ارب 87 کروڑ روپے اور غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 44کھرب 46 ارب روپےکے لازمی اخراجات کی منظوری دی گئی۔
    قومی اسمبلی نے 30 وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کے لیے 4 ہزار577 ارب روپے سے زائد کے 83 مطالبات زر بھی منظور کرلیے۔”

  • پارلیمنٹ ملازمین کو کوئی ریلیف دینا چاہیے تو دے سکتی ہے ،سپریم کورٹ

    پارلیمنٹ ملازمین کو کوئی ریلیف دینا چاہیے تو دے سکتی ہے ،سپریم کورٹ

    پارلیمنٹ 10 سال سروس پر ملازمین کو کوئی ریلیف دینا چاہیے تو دے سکتی ہے ،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ میں سیکڈ ایمپلائز ایکٹ کالعدم قرار دینےسے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے 1993 میں تقرری کے عمل کو دیکھا ہی نہیں،سپریم کورٹ نے بھی نہ ملازمین کو سنا نہ ہی تقرری کے عمل کا جائزہ لیا جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مستقبل کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے،عدالتی فیصلہ پورے ملک کے ملازمین پر اثر انداز ہوگا،سپریم کورٹ قانون کے مطابق اور شفافیت کے ساتھ نظرثانی اپیلوں پر فیصلہ دے گی کیس میں پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیں پھر وکلا کو بھی سنیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے تحریری معروضات جمع کروا دی ہیں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مل کر کام کر رہے ہیں امید ہے اچھے نتیجے پر پہنچیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 7 نومبر 1996 کے خط کے تحت ان ملازمین کو نکالا گیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کتنے اداروں کے ملازمین سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثرہ ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 16اداروں کے 16 ہزار ملازمین بتائے جا رہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا ہے 5 ہزار متاثرہ ملازمین ہیں، 1993ے 1996 تک ان ملازمین کو بھرتی کیا گیا، 1999میں ان ملازمین کو مختلف اوقات میں نکالا جاتا رہا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا قانون کے مطابق ان ملازمین کو پنشن کا حق بنتا ہے؟ قانون کے مطابق ان ملازمین کے پنشن کا حق ابھی نہیں بنے گا، عدالت نے کہا کہ آرڈیننس اور ایکٹ کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین مستقل تھے یا ڈیلی ویجر؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملے جلے ملازمین ہیں لیکن زیادہ لوگ مستقل تھے، سپریم کورٹ نےاٹارنی جنرل کو نوٹس تو دیا لیکن 27 اے کا نوٹس نہیں تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے آرڈیننس یا ایکٹ پر تو کوئی فیصلہ نہیں دیا؟ نوٹس دینا تو ایک رسمی کارروائی ہے عدالت نے اٹارنی جنرل آفس کو سن کر فیصلہ دیا ، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئین سپریم کورٹ کو مکمل انصاف کا اختیار دیتا ہے، کسی مناسب طریقہ کار کے تحت ان ملازمین کو بھرتی نہیں کیا گیا،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بھی بھرتی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا،سرکاری عہدوں پر بھرتی کیلئے معیار تو ہونا چاہیے،ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حکومت بھرتیاں نہیں کر سکتی،حکومت صرف قانون کے مطابق ہی بھرتیاں کر سکتی ہے،آپ کہتے ہی ملازمین کو برطرف کرتے وقت قانونی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا تھا،ملازمین کو بھرتی کرنے کیلئے بھی تو قانونی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا تھا،سرکاری ملازمت کیلئے کوئی تو میرٹ اور طریقہ کار ہونا چاہیے،عدالت نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے،عدالتی فیصلے مستقل کیلئے بطور نظیر پیش ہوتے ہیں،کسی نے تو مستقبل کیلئے اسٹینڈ لینا ہی ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام ملازمین کو ایک لیٹر یا سرکاری حکم کے تحت نہیں نکالا گیا،یہ درست ہے کہ غیرآئینی قانون سازی میں ملازمین کا کوئی کردار نہیں تھا، بحالی کا قانون دوبارہ نہیں بن سکتا کیونکہ عدالتی فیصلہ آچکا ہے،پارلیمنٹ 10 سال سروس پر ملازمین کو کوئی ریلیف دینا چاہیے تو دے سکتی ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان حکومت اور میرے ذریعے ایکٹ کا دفاع کر رہی ہے، جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آئین سے بڑھ کر کوئی گورننس سسٹم ہو سکتا ہے؟

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    موٹرسائیکل پر گھر چھوڑنے کے بہانے ملزم کی خاتون سے زیادتی

    88 قبحہ خانوں پر چھاپوں کے دوران 417 ملزمان گرفتار

    لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ

    13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 پر صدر مملکت نے کیے دستخط

  • سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب

    سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب کرلیا

    عدالت نے سیکرٹری اطلاعات، ایم ڈی اے پی پی کو نوٹس جاری کردیا ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 جنوری تک اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ پیش کیا جائے، حسنین حیدر تھہیم ایڈوکیٹ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرا موکل بھرتی کے معیار پر پورا اترتا،غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کیا جارہا ہے،اے پی پی میں خلاف ضابطہ بھرتی کرکے تھرڈ پارٹی حق بنایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کام غیر قانونی ہوتا ہے چاہے جو بھی کرلیا جائے، وکیل درخواست گزار حسنین حیدر ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ کچھ امیدواروں کے پاس متعلقہ ڈگری ہے نہ ہی تجربہ،اے پی پی کو ٹیسٹ ریکارڈ اور انٹرویو کی وڈیو ریکارڈنگ پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، اے پی پی کو سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کے احکامات جاری کیے جائیں

    دوسری جانب ‏سپریم کورٹ میں سیکڈ ایمپلائز ایکٹ 2010 کالعدم قرار دینے سے متعلق کیس‏ کی سماعت ہوئی،16ہزار سے زائد برطرف ملازمین اور وفاقی حکومت کی نظرثانی اپیلوں پر سماعت‏ ہوئی .جسٹس منصور علی شاہ‏ نے کہا کہ 11سال بعد ایکٹ بنا کے ہزاروں لوگوں کو بحال کیا گیا،وکیل ایس این جی پی ایل‏ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن میں ملازمین کو بحال کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کچھ ملازمیں کو بحال کر کے دوسروں کا استحصال کیا گیا،وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ کسی کا استحصال نہیں ہوا حکومت تبدیل ہوئی تو نئی نے بحال کیا،جسٹس منصور علی شاہ‏ نے کہا کہ آپ کیس کو دوسری طرف لے جارہے ہیں،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیا سوئی گیس ملازمین ٹیسٹ اور انٹرویو دےکر بھرتی ہوئے تھے؟ وکیل نے کہا کہ واک-ان انٹرویوز کے ذریعے بھرتیاں ہوئی تھیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ختم شدہ کنٹریکٹ گیارہ سال بعد کیسے بحال ہوگئے؟ جن کے کنٹریکٹ بحال ہوئے انہوں نے کیا کارنامہ انجام دیا تھا؟ کیا تمام ملازمین دہشتگردی کی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے؟ وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے تحت ملازمین کو بحال کیا گیا،پارلیمان اس نتیجہ پر پہنچی تھی کہ ملازمین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے شواہد کہاں ہیں؟ صرف انہی لوگوں کو کیوں بحال کیا گیا یہ سمجھائیں، ملازمت کے اہل تو بہت سے اور بھی ہوں گے جن کی جگہ یہ بحال ہوئے، وکیل نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث منگوا کر جائزہ لے لے، اس عمر میں ملازمین کہاں جائیں گے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوئی گیس میں پنشن کتنا عرصہ ملازمت کے بعد ملتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ حکومت نے غلطی کی ہے تو سزا ملازمین کو نہ دی جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا تعیناتی کالعدم ہونے کے دس سال بعد پنشن مل سکتی ہے؟

    ایڈووکیٹ وسیم سجاد کے دلائل مکمل ہوئے تو کے پی محکمہ تعلیم کے وکیل افتخار گیلانی کے دلائل شروع ہوئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی کو برطرف کر دے تو پارلیمنٹ کی قانون سازی سے کسی مخصوص فرد کو بحال نہیں کیا جا سکتا ،وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایکٹ کو صحیح سے پرکھا نہیں گیا، ایک عبوری حکومت نے آکر متعدد ملازمین کو فارغ کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ نہیں کہہ رہا کہ ایک جماعت کے بھرتی کیے گئے ملازمین برطرف کیے جائیں،پارلیمنٹ نے لوگوں کے ایک مخصوص گروہ کو قانون سازی کر کے فائدہ کیوں پہنچایا؟ وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ خود کہہ چکی کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے،قانون سازوں کی بصیرت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ اپنے فیصلےپر نظر ثانی کرے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ملازمین کی بحالی کا قانون کس طرح آئین کے مطابق ہے؟ قانون آئین کے مطابق ہونے پر آپ نے ایک دلیل بھی نہیں دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ آئی بی افسران سول سرونٹ ہیں ان پر عدالتی فیصلہ لاگو نہیں ہوتا،سال 1996 میں نگران حکومت نے آئی بی ملازمین کو برطرف کیا تھا نگران حکومت کو ملازمین کی برطرفی کا اختیار نہیں ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نگران حکومت والے معاملے پر سپریم کورٹ 2000 میں فیصلہ دے چکی ہے، فیصلے کے 21 سال بعد کسی اور نظرثانی کیس میں مقدمہ دوبارہ نہیں کھول سکتے، وکیل آئی بی اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ملازمین بحالی کے قانون کی غلط تشریح کی،کیس کی مزید سماعت کل 11:30 تک ملتوی کر دی گئی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار