Baaghi TV

Tag: پولیس

  • رحیم یار خان میں دن دہاڑے  14 سالہ لڑکی اغوا

    رحیم یار خان میں دن دہاڑے 14 سالہ لڑکی اغوا

    جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں دن دہاڑے 14 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز سونگھا کر اغوا کر لیا گیا اور واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچی کی فوری بازیابی اور واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے،جس کے بعد رحیم یار خان پولیس سے منسوب ایک اکاؤنٹ میں کہا گیا ڈی پی او عرفان علی سموں کا وقوعہ کا سخت نوٹس تھانہ سٹی سی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کا آغاز کر دیا ہے مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کیا جائے گا پولیس خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    ڈی پی او عرفان علی سموں کا وقوعہ کا سخت نوٹس تھانہ سٹی سی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کا آغاز کر دیا ہے مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کیا جائے گا پولیس خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے

  • لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی،  حالت تشویشناک

    لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی، حالت تشویشناک

    لندن میں چاقو بردار شخص نے 2 یہودی راہ گیروں پر حملہ کردیا –

    دی گارڈین کے مطابق شمال مغربی لندن کے گولڈرز گرین میں بدھ کی صبح 76 اور 34 سال کی عمر کے دو یہودی مردوں پر چاقو سے حملہ کیا گیا ، اور ان کا علاج یہودی رضاکار ایمبولینس سروس ہتزولا کر رہا ہے، میٹروپولیٹن پولیس نے ایک 45 سالہ شخص کو گرفتار کیا، اور فورس اسے دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے، افسران اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے نے جان بوجھ کر یہودی برادری کو نشانہ بنایا۔

    بدھ کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے باہر بات کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر نے تصدیق کی کہ چاقو مارنے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردی قرار دیا گیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے ایک بزرگ شخص کے گلے پر وار کیا اور بعد ازاں ایک اور شخص کو نشانہ بنایا۔

    40 سالہ ملزم نے گرفتاری سے قبل پولیس اہلکاروں پر بھی وار کرنے کی کوشش کی تاہم حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا تاہم شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی چاقو بردار شخص کے حملے میں ایک بزرگ کے گلے پر گہرے زخم آئے جب کہ ایک ادھیڑ عمر شخص کے پیٹ پر ضرب لگی زخمیوں میں سے ایک کی عمر 70 سال سے زائد جبکہ دوسرا 30 سال کے قریب ہے۔

    ایک زخمی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا ان دونوں زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد دینے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیاجہاں بزرگ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے تاحال پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی اس واقعے کے محرکات کا پتا چل سکا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے ماہر افسران اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ مل کر تمام حالات اور دہشت گردی سے ممکنہ تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں، کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر کا کہنا ہے، 
اگرچہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ہم تیزی سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا؟

    ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ لیوک ولیمز، جو اس علاقے میں پولیسنگ کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ اس ہولناک حملے کے متاثرین کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں، ہم ان افسران کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے مزید نقصان سے قبل فوری طور پر ٹیزر استعمال کر کے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہم جانتے ہیں کہ اس علاقے میں حالیہ متعدد واقعات کے باعث یہ واقعہ لوگوں میں شدید پریشانی اور تشویش پیدا کرے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہودی کمیونٹی پر حملہ دراصل پورے برطانیہ پر حملہ ہے،لندن کے میئر صادق خان نے بھی کہا کہ معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ یہود مخالف واقعات کے خلاف مؤثر اقدامات کرے،اسرائیلی صدر اسحاق ہرزویگ نے اس واقعے کو ناقابل قبول صورتحال قرار دیا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں ایک لاکھ کے قریب فلسطینی بچے، خواتین، بزرگ اور جوان شہید ہوچکے ہیں جس کے بعد سے دنیا بھر میں یہودی افراد اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  • ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ  اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے پر حملے کے ایک روز بعد امریکی حکام اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔

    31 سالہ کول ٹامس ایلن نے حملے سے قبل اپنے خاندان کو ایک تحریری پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس خط میں ایلن نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔

    کول ٹامس ایلن نے اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیاکول ایلن نے اپنے مبینہ ٹرمپ مخالف خط میں کسی اہلکار یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر لکھا کہ میں اب اس بات کی مزید اجازت نہیں دوں گا کہ ایک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث شخص، زانی اور غدار اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک ’انتہا پسندانہ‘ منشور قرار دیا، ملزم کے بیانات پڑھ کر سنانے پر انہوں نے صحافیوں کو ’خوفناک افراد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہاں، اس نے یہ لکھا ہے میں زانی نہیں ہوں میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔

    جب انٹرویو لینے والے نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں، معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔

    پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایلن نے حالیہ برسوں میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تھی اور وہ لاس اینجلس میں سرگرم تھااس کی بہن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ اکثر انتہا پسندانہ بیانات دیتا تھا اور اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کر باقاعدہ مشق بھی شروع کر دی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کول ٹامس ایلن لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تقریب ہونی تھی۔

    ملزم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک انتہائی ذہین اور ہمدرد نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے اس نے 2017 میں مشہور تعلیمی ادارے کالٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور طالب علمی کے دور میں وہ وہیل چیئر کے لیے ہنگامی بریک کا نمونہ تیار کرنے پر خبروں کی زینت بھی بنا تھا۔

    وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا جہاں اسے دسمبر 2024 میں بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک فری لانس گیم ڈویلپر بھی تھا اور اس کا تیار کردہ ایک گیم انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے ملزم نے اپنے پیغام میں یہ دلیل بھی دی کہ اس کا اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔

    ایلن کے بھائی نے جب یہ پیغام موصول کیا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو تشویش سے آگاہ کیا، لیکن تب تک ملزم اپنی کارروائی شروع کر چکا تھا۔
    تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اکتوبر 2023 اور اگست 2025 میں قانونی طور پر پستول اور شاٹ گن خریدی تھی جس کے لیے اس کا باقاعدہ بیک گراؤنڈ چیک بھی کیا گیا تھا۔

    اس وقت ایف بی آئی اور دیگر ادارے ملزم کے سوشل میڈیا اور خاندانی روابط کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل محرکات کو سمجھا جا سکے جسے صدر ٹرمپ نے مسیحی مخالف قرار دیا ہےملزم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد ایک ملنسار شخص ہیں اور انہوں نے کول کو چند روز قبل ہی علاقے میں دیکھا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموش رہنے والا نوجوان اتنے بڑے پرتشدد منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

  • 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    تھانہ چکلالہ کے علاقے میں 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کر لڑکے نے مبینہ زیادتی کر ڈالی جبکہ لڑکے کے دو ساتھی زیادتی کے دوران نازیبا ویڈیو بھی بناتے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق ویڈیو بنانے کے بعد تین ملزمان لڑکی کو دھمکیاں دیکر بلیک میل کرکے اغواء کرکے ساتھ بھی لے گئے،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی روک کر اتارا تو ایک شخص نے پریشان دیکھ کر انھیں کہا کہ لڑکی کو کیوں پریشان کر رہے ہو جس پر ملزمان فرار ہوگئے،پولیس نے لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

    مدعیہ مقدمہ کے مطابق ڈھوک چوہدریاں اسکیم تھری میں رہائش ہے، بیٹی کو گھر چھوڑ کر خاوند کے ساتھ کام پر چلی گئی تھی، بیٹی گھر میں اکیلی تھی جس کی وجہ سے گھر کو باہر سے تالا لگا کر گئی واپس آئے تو دروازہ کھلا تھا، سامان بکھرا پڑا تھا اور بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی، خاوند کے ساتھ تلاش شروع کی تو بیٹی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سفاری ون میں پریشان کھڑی ملی۔

    والدہ نے بیٹی سے پوچھا جس پر بتایا کہ گھر میں موجود تھی کہ رومان، ریحان ظہیر اور ریحان شوکت گھر میں گھس آئے شور کرنے پر رومان نے میرے منہ پر کپڑا باندھ کر زبردستی زیادتی کی جبکہ ریحان ظہیر اور ریحان شوکت نازیبا ویڈیو بناتے رہے متاثرہ بچی نے بتایا کہ زیادتی کے بعد رومان نے دھمکیاں دیں کہ ساتھ نہ گئی تو ویڈیو وائرل کر دیں گے، ڈر کر ان کے ساتھ گئی تو گلی میں سفید گاڑی میں ایک ڈرائیور اور دو افراد موجود تھے، مجھے گاڑی میں بٹھایا اور نجی ہاؤسنگ سو سائٹی لے گئے، وہاں گاڑی سے اتارا تو پریشان دیکھ کر ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ لڑکی کو کیوں تنگ کر رہے ہو تو وہ سب بھاگ گئے۔

    پولیس کے مطابق لڑکی کا میڈیکل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • واشنگٹن:  ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن: ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن ڈی سی میں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد امریکی صدر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    یہ واقعہ ہفتہ کی شام واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی سالانہ تقریب جاری تھی جس میں صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور کابینہ کے ارکان تقریب میں موجود تھے حکام کے مطابق فائرنگ ہوٹل کے باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب ہوئی۔

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے خفیہ ادار ے کے اہلکاروں نے قابو کر لیا،جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی،انہوں نے مبینہ حملہ آور کو بیمار ذہنیت کا حامل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش آئیں۔’

    امریکی خفیہ سروس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں،عینی شاہدین اور واقعے کے ویڈیوز کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی تقریب میں موجود افراد نے زمین پر لیٹ کر پناہ لی، جبکہ سیکرٹ سروسز ایجنٹ کے اہلکاروں نے صدر کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں 2024 میں پنسلوانیا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران ہونے والے ایک فائرنگ کے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے-

    وزیرِ اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس افسوسناک واقعے سے شدید صدمے میں ہیں،نہیں یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء محفوظ ہیں،شہباز شریف نے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اور وہ ان کی مسلسل سلامتی اور خیریت کے لیے دعاگو ہیں۔

    جبکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی ایک گھناؤنی شکل قرار دیا ہے،صدر زرداری نے ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت کر لی گئی ہےسی این این کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔

    سی این این کے مطابق ملزم لاس اینجلس کے نواحی علاقے ٹورنس کا رہائشی ہے اور اسے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم کی طرف فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے دوڑ رہا تھا، تاہم وہاں موجود سیکیورٹی افسران نے اسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے روک لیا۔

    us

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم اس وقت قریبی اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور پولیس کی سخت نگرانی میں ہے۔

    اس حوالے سے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہے اور اس پر بہت جلد فردِ جرم عائد کر دی جائے گی، ملزم کے خلاف فائرنگ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔

    میٹروپولیٹن پولیس کے عبوری سربراہ جیفری کیرول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص ہوٹل کا مہمان تھا پولیس نے ہوٹل میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا ہے اور وہاں موجود اشیا کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پولیس چیف نے بتایا کہ ملزم کئی ہتھیاروں کے ساتھ خفیہ سروس کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا اور رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

    دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر ملزم کی تصویر اور سیکیورٹی کیمروں کی وہ فوٹیج بھی جاری کر دی ہے جس میں فائرنگ کے آغاز کا منظر دیکھا جا سکتا ہے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلومات عوام کے سامنے اس لیے لا رہے ہیں تاکہ اس معاملے میں کوئی ابہام نہ رہے۔

    تحقیقاتی ادارے اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزم کے اس اقدام کے پیچھے کیا محرکات تھے اور کیا اس کا کسی تنظیم سے تعلق تھا یا یہ اس کی انفرادی کارروائی تھی فی الحال ملزم پولیس کی تحویل میں ہے اور اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی اسے جیل منتقل کر دیا جائے گا۔

    واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی اور ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں،ہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں جن میں پنسلوانیا، بٹلر میں جلسے کے دوران اور فلوریڈا پام بیچ میں گالف کھیلتے ہوئے پیش آنے والے واقعات شامل ہیں سالانہ ڈنر تقریب میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہےہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔

    صدر کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی انہوں نے زخمی اہلکار سے بات کی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے حملہ آور ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بڑھا، جسے سیکرٹ سروس کے بہادر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملزم کی تصویر اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے خطاب کے دوران ان کے ہمراہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی موجود تھے یہ تقریب آزادی اظہار کے فروغ اور اتحاد کے لیے منعقد کی گئی تھی، مگر اس واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔

  • بلوچستان: دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، صوبے کی پہلی خاتون اہلکار سمیت 3 شہید

    بلوچستان: دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، صوبے کی پہلی خاتون اہلکار سمیت 3 شہید

    خضدار پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ہیڈ کانسٹیبل اور صوبے کی پہلی خاتون کانسٹیبل شہید جبکہ ایڈیشنل ایس ایچ او اور ایک اہلکار زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق گزشتہ روز سولر پلیٹوں کی چوری کے حوالے سے پولیس نے علاقے باجوئی میں چھاپہ مارا تو وہاں موجود دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں کانسٹیبل ملک ناز بی بی اور ہیڈ کانسٹیبل سمیع اللہ موقع پر شہید ہوگئے ، ایڈیشنل ایس ایچ او محمد ابراہیم اور کانسٹیبل نجیب الرحمن زخمی ہوئے ، مزید کارروائی پولیس کررہی ہے۔

    ادھر دشت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے دہشت گردوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار شہید جبکہ سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر سمیت چھ جوان شدید زخمی ہو گئے،دہشت گردوں نے فورسز کو دیکھتے ہی شدید فائرنگ اور دستی بموں سے حملے کئے جس میں ہیڈ کانسٹیبل ایس پی سریاب کا ریڈر رحمت اللہ موقع پر ہی شہید جبکہ سی ٹی ڈی کا سب انسپکٹر جاوید گل، کانسٹیبل نیاز احمد ،سریاب پولیس کا اے ایس آئی وقار احمد ، ہیڈ کانسٹیبل نور اللہ، کانسٹیبل عبدالعلیم اور کانسٹیبل تاج محمد شدید زخمی ہو ہوئے۔

  • گھریلو تنازع:امریکا میں والد نے اپنے ہی 8 بچوں کو قتل کر دیا

    گھریلو تنازع:امریکا میں والد نے اپنے ہی 8 بچوں کو قتل کر دیا

    امریکا کی ریاست لوئزیانا میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک شخص نے مبینہ طور پر گھریلو تنازع کے بعد اپنے ہی 7 بچوں سمیت 8 کمسن افراد کو قتل کر دیا، جبکہ پولیس تعاقب کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ واقعے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا۔

    امریکی ریاست لوئزیانا کے شہر شریوپورٹ میں اتوار کی صبح پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے میں ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر کے اپنے ہی سات بچوں اور ایک مرد کو قتل کر دیا واقعے میں ہلاک ہونے والےبچوں کی عمریں ایک سے14 سال کے درمیان تھیں حکام کا کہنا ہے کہ سات بچوں کی لاشیں گھر کے اندر سے ملیں، جبکہ ایک بچہ جان بچانے کے لیے چھت پر چڑھنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو گیا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ ملزم نے پہلے ایک خاتون کو گولی ماری اور اس کے بعد قریبی گھر جا کر بچوں کو نشانہ بنایا، فائر نگ کے واقعے میں دو خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، ملزم اور زخمی خواتین میں سے ایک، ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین تھے۔

    واقعے کے بعد ملزم نے ایک گاڑی چھین لی اور فرار ہونے کی کوشش کی پولیس نے تعاقب کیا اور گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ملزم ہلاک ہو گیا اس واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں،شہر کے میئر نے اسے اپنی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا ہے-

    مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد گھریلو تشدد کے کیسز میں بروقت مداخلت اور وسائل کی فراہمی کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں اس سال اب تک 100 سے زائد اجتماعی فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

  • جہلم میں انجنئیر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

    جہلم میں انجنئیر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ، جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

    صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے تھانہ سٹی کی حدود میں انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی پر فائرنگ کرنے والا ملزم جوابی کارروائی میں مارا گیا۔

    انتظامیہ کے مطابق، حملہ آور نے گیٹ پر فائرنگ کی، جس کا پولیس نے بھرپور جواب دیا، پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور موقع پر مارا گیا، اکیڈیمی انتظامیہ کے مطابق، حملہ تقریباً 10:45 منٹ پر ہوا۔ حملہ آور کی فائرنگ سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    پولیس کے مطابق جی ٹی ایس چوک میں واقع قرآن ریسرچ اکیڈمی کے باہر فائرنگ کی گئی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہوگیا جب کہ پولیس ملازم زخمی ہوا واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ چکی ہے، مسلح حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ شروع کر دی جہلم پولیس نے کہا کہ نامعلوم حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا، ملزم کی تاحال شناخت نہیں ہوئی ہے۔

  • 66 سال قبل لاپتہ ہونے والے خاندان کا معمہ حل

    66 سال قبل لاپتہ ہونے والے خاندان کا معمہ حل

    امریکا میں 66 سال قبل پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کا معمہ آخر کار چھ دہائیوں کے بعد حل ہو گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست اوریگون کے دریائے کولمبیا کے قریب پیش آیا، جہاں دسمبر 1958 میں کینتھ مارٹن، ان کی اہلیہ باربرا اور تین بیٹیاں کرسمس کی سجاوٹ کے لیے ہریالی جمع کرنے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ آئے اس واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا کئی دہائیوں تک اسے ریاست کے سب سے بڑے حل طلب کیسز میں سے ایک سمجھا جاتا رہا۔

    گمشدگی کے چند ماہ بعد ہی طویل تلاش کے بعد دو بیٹیوں، ورجینیا اور سوزن کی لاشیں دریا سے مل گئی تھیں، لیکن والدین اور بڑی بیٹی کا کچھ پتا نہ چل سکا، جس کی وجہ سے یہ کیس کئی دہائیوں تک ایک راز بنا رہااس کیس میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب 2024 میں ایک غوطہ خور آرچر میو نے دریائے کولمبیا کی تہہ میں ایک پرانی گاڑی دریافت کی یہ 1954 کا ’فورڈ اسٹیشن ویگن‘ ماڈل تھا جو ریت اور مٹی میں دھنسا ہوا تھا تحقیقات کے بعد تصدیق ہوئی کہ یہ گاڑ ی مارٹن خاندان ہی کی تھی۔

    غوطہ خور آرچر میو کے مطابق میر ے خیال میں گاڑی موڑتے وقت کسی رکاوٹ میں پھنس گئی ہوگی اور ریورس کرتے وقت اچانک بے قابو ہو کر دریا میں جا گری،بعد ازاں 2025 میں گاڑی کے ملبے کے قریب سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئیں جنہیں فرانزک لیب بھیجا گیا، جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ باقیات کینتھ، باربرا اور ان کی بڑی بیٹی باربی کی ہیں، یوں خاندان کے تمام افراد کا سراغ مل گیا۔

    جینیٹکس لیب کی چیف ڈویلپمنٹ آفیسر کرسٹن مٹل مین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کو وہ سکون اور جواب مل گیا ہے جس کا وہ دہائیوں سے انتظار کر رہے تھےہڈ ریور کاؤنٹی شیرف آفس نے تمام شواہد کی بنیاد پر اس کیس کو باقاعدہ بند کر دیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک افسوسناک حادثہ تھا، جس میں گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی تھی۔

  • اسمگلرز نے نے پولیس اہلکار کو گاڑی تلے کچل دیا

    اسمگلرز نے نے پولیس اہلکار کو گاڑی تلے کچل دیا

    کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں تلاشی کے دوران ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں چھالیہ اسمگل کرنے والے ملزمان نے پولیس اہلکار کو گاڑی کے نیچے کچل دیا ، 36 سالہ پولیس کانسٹیبل عبدالمنان جاں بحق ہوگیا-

    پولیس کے مطابق معمار موڑ پر معمول کی چیکنگ کے دوران جب ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، تو اسمگلروں نے رکنے کے بجائے گاڑی کی رفتار بڑھا دی اور ڈیوٹی پر موجود اہلکار کو زوردار ٹکر مار دی کانسٹیبل عبدالمنان کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

    پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے دونوں اسمگلروں، آغا جان اور نسیم کو گرفتار کر لیا ہے تلاشی لینے پر معلوم ہوا کہ گاڑی میں بھاری مقدار میں چھالیہ لدی ہوئی تھی اور ملزمان اس پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کر اسمنگلنگ کررہے تھے پولیس نے گاڑی قبضے میں لے کر ملزمان کے خلاف قتل اور اسمنگلنگ کی دفعات کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے، شہادت کا رتبہ پانے والے اہلکار کی نمازِ جنازہ ڈی آئی جی ایسٹ زون کے ہیڈ کوارٹرز میں ادا کی گئی۔