Baaghi TV

Tag: پولیس

  • اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لیے صوبوں سے 23 ہزار سے زائد پولیس نفری طلب

    اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لیے صوبوں سے 23 ہزار سے زائد پولیس نفری طلب

    ستمبر کے آخری عشرے میں اسلام آباد میں سیاسی و عوامی سرگرمیوں کے متوقع انعقاد کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اس ضمن میں وفاقی حکومت نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے مجموعی طور پر 23 ہزار 500 پولیس اہلکار طلب کر لیے ہیں۔

    وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات کے لیے صوبائی حکومتوں سے پولیس نفری طلب کی ہے، اس سلسلے میں کابینہ سیکرٹری نے پنجا ب، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو خط لکھا ہے، جبکہ کابینہ ڈویژن کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی دستیابی اور تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب سے 15 ہزار، سندھ سے 8 ہزار جبکہ بلوچستان سے 500 پولیس اہلکار اسلام آباد بھجوائے جائیں گے، تینوں صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مطلوبہ پولیس نفری 20 ستمبر تک اسلام آباد میں تعینات کردی جائے۔

    وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کا انتظام کیا جا رہا ہے، جبکہ 100 سے زائد کنٹینرز اہم مقامات پر پہلے ہی پہنچائے جا چکے ہیں،انسدادِ ہنگامہ آرائی یونٹس، خصوصی آلات اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری سامان بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔

    حکام کو خدشہ ہے کہ چند ہی روز کے دوران عوامی و سیاسی سرگرمیوں کے باعث اسلام آباد میں سیکیورٹی اور ٹریفک کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اس صور تحال کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں، اہم سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید بڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • کرک میں  نامعلوم مسلح افراد کی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ،ایک اہلکار شہید ایک زخمی

    کرک میں نامعلوم مسلح افراد کی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ،ایک اہلکار شہید ایک زخمی

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں رات گئے شنکی ڈیم کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ظفران شہید جبکہ محمد امتیاز زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ رات گئے شنکی ڈیم کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا،فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار ظفران موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ محمد امتیاز زخمی ہوئے،لاش اور زخمی پولیس اہلکار کو کے ڈی اے اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں زخمی اہلکار کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    پولیس نے علاقے میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کردیا ہے، جبکہ فائرنگ میں ملوث ملزمان کی تلاش جاری ہے،ڈی ایس پی یوسف خٹک کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور نامعلوم حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

  • کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی قتل

    کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی قتل

    کراچی کے علاقے منگھو پیر مہران سٹی میں ڈکیتی مزاحمت پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 15 سالہ نوجوان روشم جاں بحق ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق منگھو پیر کے علاقے اجتماع گاہ کے قریب مہران سٹی بلاک 6 گھر میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک نوجوان لڑکا جاں بحق ہوگیا، مقتول کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 17 سالہ روشم ولد ڈاکٹر روئداد خان کے نام سے کی گئی، مقتول کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول 8 بہنوں میں سب سے بڑا تھا ،روشم نے حال ہی میں میٹرک کیا اور پوزیشن ہولڈر تھا۔

    مقتول کے والد کے مطابق 6 مسلح ڈاکو گھر میں داخل ہوئے جن میں سے 2 نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی،نقاب پوش ڈاکوؤں کو دیکھ کر انہوں نے اپنا لائسنس یافتہ پستول نکالا اور باہر کی جانب آرہے تھے کہ اسی دوران دوسرے کمرے سے ان کا بیٹا باہر آگیا، بیٹے کو اور ان کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر پو لیس وردی میں ملبوس ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک گولی روشم کے سینے پر لگی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا، ڈاکو فائر نگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے-

    ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈاکوؤں پر اس لیے فائرنگ نہیں کی کہ وہ پولیس والے نہ ہوں کیونکہ ڈر تھا کہ اگر وہ پولیس والے ہوئے اور ان پر فائرنگ کی گئی تو وہ پولیس والے ان کے پورے خاندان کو ختم کر دیتے ان کے گھر آنے سے پہلے ڈاکو 4 گھروں کا پہلے بھی صفایا کر چکے تھے، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی ماہ سے علاقے میں وارداتیں ہو رہی تھیں اور وارداتیں کرنے والے پولیس کی وردی میں ہوتے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ علاقہ مکینوں کی جانب سے دو ماہ قبل منگھو پیر تھانے میں وارداتوں کے حوالے سے تین درخواستیں دی جا چکی ہیں تاہم پولیس نے نہ تو کوئی کارروائی کی اور نہ ہی گشت میں اضافہ کیا، رات کے وقت منھگو پیر پولیس تھانے سے ہی باہر نہیں جاتی ہے۔

    مقتول کے والد نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو اس وقت تک سپرد خاک نہیں کریں گے جب تک واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا، پولیس اگر چاہے تو چند گھنٹوں میں ہی ڈاکوؤں کو گرفتار کر سکتی ہے وہ بیٹے کی لاش کے ہمراہ سائٹ حبیب بینک چورنگی، کراچی پریس کلب اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے گھر کے باہر پرامن احتجاجی دھرنا دینگے چاہے جتنے دن بھی لگ جائیں وہ اجتجاج کرتے رہیں گے، پولیس نے ضا بطے کی کارروائی کے بعد لاش مقتول کے والد کے سپرد کر دی۔

  • نئی دہلی: ہاسٹل کی چھت گرنے سے 7 طلبہ ہلاک،50 سے زائد ملبے تلے دب گئے

    نئی دہلی: ہاسٹل کی چھت گرنے سے 7 طلبہ ہلاک،50 سے زائد ملبے تلے دب گئے

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں نجی ہاسٹل کی 5 منزلہ عمارت گرنے سے 7 طلبہ ہلاک ہوگئے۔

    بھارتی حکام کے مطابق جنوبی دلی میں نجی ہاسٹل کی عمارت گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن کے دوران مزید 2لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد7 ہوگئی،ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 11 افراد کو بچا لیا گیا ہے جب کہ تقریباً 30 سے 50 طلبہ کے ملبے کے نیچے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے جن کی تلاش جاری ہے ۔

     

    بھارتی میڈیا کے مطابق عمارت میں زیادہ تر طلبہ رہائش پذیر تھے، جبکہ ملبے تلے 25 سے 30 بچوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، منہدم ہونے والی خستہ حال عمارت تقریباً 50 سال پرانی تھی متاثرین کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ عمارت حکام کی نااہلی اور عدم توجہی کے باعث منہدم ہوئی حادثے کے بعد ملحقہ عمارت کو بھی منہدم ہونے کے خدشے کے پیش نظر خالی کرا لیا گیا ہے۔

    بھارتی حکام کے مطابق عمارت کے تہہ خانے میں پانی جمع ہونے اور وہاں مرمتی کام حادثے کی وجہ بنا،دوسری جانب سوشل میڈیا پر ہاسٹل کی عمارت گرنے کی سی سی ٹی وی بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک دکاندار کو عمارت کے گرنے کے بعد فرار ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔

  • کراچی: ڈاکووں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل دم توڑ گیا

    کراچی: ڈاکووں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل دم توڑ گیا

    کورنگی کراسنگ پل پرپولیس اور ڈاکووں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں شدید زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے نجی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ہفتے کوکورنگی صنعتی ایریا تھانے کے علاقے کورنگی کراسنگ پل پرپولیس اور ڈاکووں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں شدید زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل28سالہ اویس تنولی ولد محمد یوسف دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے نجی اسپتال میں جامِ شہادت نوش کرگئے۔

    پولیس کانسٹیبل کی شہادت پر ایڈیشنل آئی جی کراچی اور آئی جی سندھ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا،پولیس چیف نے متعلقہ افسران کو پولیس مقابلے میں ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔

    ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ شہید اویس نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے بہادری اور فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔پولیس چیف نے متعلقہ افسران کو پولیس مقابلے میں ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔

    انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے بھی کورنگی میں فرض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہونے کے بعد شہادت پانے والے پولیس اہلکار کانسٹیبل اویس کو زبردست خراج عقیدت،اہل خانہ سے تعزیت کی۔

    آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل اویس نے جرائم پیشہ عناصر کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے فرض کی راہ میں اپنی جان قربان کی، جو سندھ پولیس کے بہادر جوانوں کی غیر معمولی جرأت اور عزم کی عکاسی ہےآئی جی سندھ کا شہید کے اہل خانہ سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا، شہید کے خاندان کی ہر ممکن سرپرستی اور معاونت سندھ پولیس کی ذمہ داری ہےاللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، ان کی قربانی کو قبول فرمائے اور لواحقین کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔

  • پی ٹی آئی  رہنما حماد اظہر  گرفتار

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر گرفتار

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر کو گرفتار کرلیا گیا-

    پولیس ذرائع نے کہا کہ حماد اظہر کو ملتان سے گرفتار کر کے لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا، حماد اظہر 9 مئی کے واقعات میں مختلف مقدمات میں ملوث ہیں، حماد اطہر 9 مئی 2023 سے اشتہاری تھے،حماد اظہر کو آر اے بازار کے قریب سے حراست میں لیاگیا، حماد اظہر کو ان کے قریبی دوست کے گھر سے حرا ست میں لیاگیا رہنماء پی ٹی آئی حماد اظہر 9 مئی جی او آر گیٹ حملہ کیس میں مطلوب تھے۔

    انسداد دہشتگری کی عدالت نےعدم پیشی پر حماد اظہر کو اشتہاری قرار دے رکھا تھا، عدالت نے حماد اظہر کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے تھے،حماد اظہر کو انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا گیا ہے، حماد اظہر 9 مئی کے 50 سے زائد مقدمات میں بھی نامزد ملزم ہیں، حماد اظہر نے لاہور اور پشاور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کےلئے رجوع کررکھا ہے،مقدمات کے اندراج کے بعد حماد اظہر نے پارٹی عہدے سے استعفی دے دیاتھا، پی ٹی آئی نے حماد اظہر کو پنجاب کے صدر کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی۔

  • کراچی: ڈیفنس میں پڑوسی خاتون پر تشدد کرنے والی ملزمہ  کے خلاف مقدمہ درج،پولیس اہلکار بھی نامزد

    کراچی: ڈیفنس میں پڑوسی خاتون پر تشدد کرنے والی ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج،پولیس اہلکار بھی نامزد

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پڑوسی خاتون پر تشدد کرنے والی ملزمہ مریم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    ڈیفنس فیز 6 کے خیابانِ بخاری میں ایک بااثر خاتون اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے بہن بھائی پر مبینہ تشدد کی وڈیو سامنے آئی تھی، جس کے بعد پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے وڈیو میں ایک خاتون کو دو با وردی پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں دوسری خاتون پر ڈمبل سے حملہ کر تے، جب کہ بعد ازاں ایک سادہ لباس شخص کو سرکاری کلاشنکوف سے سی سی ٹی وی کیمرہ توڑتے دیکھا گیا تھا۔

    بعد میں سامنے آنے والی فوٹیج میں متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو پولیس اہلکار گھسیٹ کر تھانے لے جاتے دکھائی دیے تھے، جس کے بعد متاثرہ خاندان کے خلاف مقدمے کے اندراج میں مبینہ جانبداری کے الزامات سامنے آئے تھے، ملزمہ مریم نے تشدد کے بعد متاثرہ خاتون کے خلاف ہی مقدمہ درج کرا دیا تھا، سوشل میڈیا پر وڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام کی تنقید اور سخت ردعمل کے بعدڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن ساؤتھ کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی-

    تاہم تحقیقات کے بعد ملزمہ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے تحقیقاتی رپورٹ میں واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی مکمل رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ارسال کی تھی،رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری سمیت چار پولیس افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی کورنگی کی جانب سے انتظامی غفلت برتی گئی، جس پر کارکردگی اور نظم و ضبط کے قواعد 2020 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی،ضلع کورنگی کے جن پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی، ان میں ایس ایچ او درخشاں راشد علی، تفتیشی افسر عمران درخشاں اور پولیس موبائل افسر آفتاب منگی بھی شامل ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی نے متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمے کو بی کلاس قرار دے کر خارج کرنے اور متاثرہ خاندان کی مدعیت میں تشدد کے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش بھی کی تھی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وڈیو میں متاثرہ خاندان کو تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کے قر یبی رشتے دار ہیں، تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات کے بعد اب ملزمہ مریم اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

  • پولیس چوکی پر اہلکار کی فائرنگ سے افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی

    پولیس چوکی پر اہلکار کی فائرنگ سے افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی

    بھارتی ریاست آسام میں ایک پولیس اہلکار نے ساتھی اہلکاروں پر اے کے 47 سے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں پولیس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں ایک پولیس اہلکار کی ساتھیوں پر فائرنگ سے پولیس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے واقعہ ریاست کے ضلع کامرو پ کے علاقے بوکو میں گیمرِمورا پولیس چوکی پر پیش آیا، جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت والی ریاست آسام میں واقع ہے۔

    فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت فضل الر علی اور گیمرِمورا پولیس چوکی کے انچارج انسپکٹر اندرجیت بورا کے نام سے ہوئی ہے پولیس اہلکار چرنجیب چودھری نے مبینہ طور پر اے کے 47 رائفل سے چوکی میں موجود ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔

    حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی اصل وجوہات اور ملزم اہلکار کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے واقعہ بوکو پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا زخمی اہلکاروں کی حالت اور فائرنگ کرنے والے اہلکار کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    یہ واقعہ بھارتی سیکیورٹی فورسز میں ساتھی اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے حالیہ واقعات کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے ایسے واقعات نے بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس میں اہلکاروں کے ذہنی دباؤ، نظم و ضبط، کمانڈ کے نظام، کام کے حالات اور نفسیاتی معاونت سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

  • لاہور: ٹریفک وارڈن کی مبینہ غفلت نے موٹر سائیکل سوار کی جان لےلی

    لاہور: ٹریفک وارڈن کی مبینہ غفلت نے موٹر سائیکل سوار کی جان لےلی

    لاہور میں ٹریفک وارڈن کی مبینہ غفلت نوجوان کی جان لے گئی، شادمان مارکیٹ یوٹرن کے قریب ڈیوٹی پر مامور ٹریفک وارڈن بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سوار کو روکنے کے لیے اچانک بیچ سڑک میں آ گیا، اور تیر رفتار بائیک وارڈن سے ٹکرا کر گری۔

    واقعہ 26 اگست کو پیش آیا تھا، جس میں ٹریفک اسسٹنٹ زخمی ہوا، جب کہ شہری اسپتال میں دم توڑ گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے،جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 30 سالہ زین اہلکار سے ٹکرانے کے بعد توازن برقرار نہ رکھ سکا تھا اور اس کا سر فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل سوار کو روکنے پر ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق اور موٹر سائیکل سوار حادثے کا شکار ہوئے، دونوں زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    اس واقعے کی فوٹیج خود سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے شیئر کی ہے، فوٹیج میں ٹریفک اہلکار کو نہایت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک کے درمیان آ کر موٹر سائیکل روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد موٹر سائیکل سوار کا توازن بگڑا اور وہ گر گیا۔

    ترجمان ٹریفک ہولیس کے مطابق ٹریفک اسسٹنٹ سلطان الحق کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے گھر روانہ کر دیا گیا تھا، تاہم زخمی موٹر سائیکل سوار زین پانچ روز سروسز اسپتال میں زیرِعلاج رہنے کے باوجود جاں بر نا ہو سکا نوجوان کا سر فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا تھا، جس سے وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا تھا۔

    پولیس لاش سروسز اسپتال سے جنرل اسپتال لے گئی ہے، اور تاحال فیملی کے حوالے نہیں کی گئی ہے،اہلکار کی شدید غفلت کے باوجود ٹریفک پولیس نے واقعے کے نتائج سے اپنی جان چھڑانے کے لیے متاثرہ نوجوان کے خلاف پولیس اہلکار کو زخمی کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا، جس پر متاثرہ نوجوان کی والدہ نے مقدمے کے اخراج کے لیے درخواست بھی دی لیکن بے سود رہی، والدہ نے کہا کہ حادثے کے ذمہ دار ٹریفک وارڈن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی دوسری طرف پولیس نے دکھایا کہ مرنے والا خود ہی قصور وار تھا-

    اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ محمد زین ایک نجی کمپنی میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرتا تھا اور واقعے سے صرف تین ہفتے قبل ہی اس کی منگنی ہوئی تھی۔ متوفی کی والدہ نے انصاف نہ ملنے اور لاش کی عدم فراہمی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ ہم تحریری طور پر یہ بیان دیں کہ حادثے میں غلطی زین کی تھی، جس کے بعد ہی لاش ہمارے حوالے کی جائے گی، جبکہ میت اس وقت جنرل اسپتال میں موجود ہے۔

    جاں بحق ہونے والے نوجوان زین کے بھائی ایاز نے تھانہ شادمان اور ڈی آئی جی آفس میں درخواست جمع کرائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹریفک اسسٹنٹ کی مبینہ حرکت کے باعث زین موٹر سائیکل سے گرا اور اسے سر کی مہلک چوٹ آئی۔

    درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار نے نوجوان کو دھکا دیا، جبکہ زین کے دفتری ساتھیوں اور راہگیروں نے بھی پوری صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔

    اس کے علاوہ اہلِ خانہ نے زین کا سامان، رقم، شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس واپس کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہےمتوفی کے ورثا نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور شفاف تحقیقات کے بعد ذمہ دار اہلکار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اہل خانہ نے ٹریفک اسسٹنٹ اور سینئر ٹریفک وارڈن کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک اسسٹنٹ سڑک کے درمیان آیا اور چلتی موٹر سائیکل کو دھکا دیا، جس کے نتیجے میں زین گر کر شدید زخمی ہو گیا،دوسری طرف سی ٹی او نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی صدر زون کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

  • مسجد پر حملے میں مبینہ معاونت کا الزام: 17 سالہ امریکی لڑکی پر قتل کی فردِ جرم عائد

    مسجد پر حملے میں مبینہ معاونت کا الزام: 17 سالہ امریکی لڑکی پر قتل کی فردِ جرم عائد

    امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایک گرینڈ جیوری نے 17 سالہ لڑکی سارہ لنڈسے سینتیاگو پر کیلیفورنیا کی ایک مسجد میں ہونے والے مہلک حملے میں مبینہ معاونت کے الزام میں قتل کی فردِ جرم عائد کردی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق فورسائتھ کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی جم او’نیل نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکام نے لڑکی کے خلاف شمالی کیرولائنا میں ریا ستی سطح پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ وہاں 17 سال کی عمر میں بھی کسی نوجوان پر بالغ فرد کی حیثیت سے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، جرم ثابت ہو نے کی صورت میں اسے پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    حکام کے مطابق سینتیاگو کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا، پیر کو جاری ہونے والی فردِ جرم میں اس پر قتل کی تین دفعات اور مجرمانہ سازش کی ایک دفعہ عائد کی گئی ہے،رائٹرز کو تاحال سینتیاگو کے کسی وکیل کی شناخت نہیں ہوسکی جو اس معاملے پر اس کی جانب سے موقف پیش کرسکے۔

    18 مئی کو سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر میں ہونے والے حملے میں3 افراد ہلاک ہوئے تھے، حکام کے مطابق اس وقت مسجد سے منسلک اسکول میں تقر یباً 140 بچے موجود تھے، حملہ آوروں نے مسجد میں موجود افراد پر فائرنگ کی تھی اور اس حملے میں مسجد کے سکیورٹی گارڈ 51 سالہ امین عبداللہ، 78 سالہ نگرا ن منصور کزیحہ اور 57 سالہ نادر عواد ہلاک ہوئے۔ نادر عواد اسلامک سینٹر سے وابستہ ایک ٹیچر کے شوہر تھے۔

    تینوں مقتولین کو اس بات پر ہیرو قرار دیا گیا کہ ان کی کارروائیوں نے حملہ آوروں کو مزید لوگوں کو نقصان پہنچانے سے روکنے میں مدد دی ان کے لیے منعقدہ تعزیتی تقریب میں بھی ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا حملے میں مبینہ طور پر ملوث 18 سالہ کالیب وازکیز اور 17 سالہ کین کلارک فائرنگ کے بعد فرار ہوتے ہوئے اپنی گاڑی میں ہلاک ہوگئے تھے، دونوں کے ارادوں میں ایک یہودی عبادت گاہ اور زیادہ تر افریقی نژاد امریکی طلبہ والے ایک ہائی اسکول کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔

    ڈسٹرکٹ اٹارنی او’نیل کے دفتر کے مطابق حملے سے پہلے سینتیاگو نے مبینہ طور پر اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ حملے کی لائیو ویڈیو نشر کرے گی، اسے عوام تک پہنچائے گی اور بعد میں حملہ آوروں کی جانب سے تیار کیا گیا منشور جاری کرے گی حکام کا کہنا ہے کہ اس منشور کا مقصد حملے کے لیے جواز پیش کرنا تھا، شمالی کیرولائنا کے قانون کے تحت کوئی شخص کسی جرم میں مدد یا معاونت کا مرتکب قرار پا سکتا ہے اگر اس کا مجرم کے ساتھ وہی مجرمانہ ارادہ ہو اور وہ جرم کے دوران مدد فراہم کرنے یا نقصان روکنے میں اپنا کردار ادا نہ کرے، چاہے وہ خود جائے وقوعہ پر موجود نہ ہو۔

    ڈسٹرکٹ اٹارنی نے حملہ آوروں اور ان سے منسلک افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہیں ایک ایسی خفیہ آن لائن ذیلی ثقافت کا حصہ قرار دیا جو لوگوں کو شدید نفرت اور تشدد کی طرف مائل کرتی ہے ان کے مطابق تفتیش کاروں کو حملہ آوروں کے منشور میں مختلف نسلی، سیاسی اور مذہبی گروہوں کے خلاف شدید نفرت کے شواہد ملے ہیں۔

    تحقیقات کے دوران حکام کو معلوم ہوا کہ حملے کی لائیو ویڈیو تین افراد نے دیکھی تھی ابتدائی طور پر تفتیش کار صرف اتنا جانتے تھے کہ ان میں سے ایک خاتون مشرقی امریکی ٹائم زون میں موجود تھی، تاہم بعد میں اس خاتون کی شناخت سینتیاگو کے طور پر کرلی گئی او’نیل نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ لائیو ویڈیو دیکھنے والے دیگر دو افراد کی شناخت بھی ہوئی ہے یا نہیں، اور آیا ان کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    شمالی کیرولائنا میں مقدمہ چلائے جانے کی صورت میں سینتیاگو کو وفاقی مقدمے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت سزا کا سامنا ہوسکتا ہے حکام کے مطابق وفاقی سطح پر عائد کیے جانے والے ممکنہ الزامات میں سزا تقریباً تین سے چار سال ہوسکتی تھی جبکہ ریاستی قانون کے تحت جرم ثابت ہونے پر پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا ممکن ہے۔ تاہم حتمی سزا کا انحصار مقدمے کی کارروائی، شواہد اور عدالت کے فیصلے پر ہوگا۔