Baaghi TV

Tag: پولیس

  • کراچی: قتل کے بعد بھی جنسی زیادتی کی، 6سالہ بچے کے  مقتول  کے تہلکہ خیزانکشافات

    کراچی: قتل کے بعد بھی جنسی زیادتی کی، 6سالہ بچے کے مقتول کے تہلکہ خیزانکشافات

    کراچی میں لی مارکیٹ میں 6 سالہ عبدالولی کے قتل کا کی تحقیقات جاری ہیں جب کہ گرفتار ملزم حمزہ کے دورانِ تفتیش تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

    دوران تفتیش ملزم حمزہ نے اعتراف کیا کہ مقتول بچہ ولی اسے چچا کی طرح مانتا تھا اورمیں اکثر اسے چیزیں دلواتا تھا، گلی میں انتقال ہوا تھا سب وہاں گے ہوئے تھے، جنازے کے دوران موقع پا کر بچے کو فلیٹ میں لے گیا، میں نے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعد میں قتل کردیا ولی کو قتل کرنے کے بعد میں نے پھر زیادتی کی تھی، بچہ میری شناخت جانتا تھا اسی وجہ سے قتل کیا، قتل کے بعد لاش بوری میں بند کر کے کمبل میں لپیٹ کر الماری میں چھپا د ی۔

    ملزم نے بتایا کہ پولیس نے فلیٹ کی تین مرتبہ تلاشی لی مگر لاش برآمد نہ ہو سکی، علاقے والوں کا مجھ پر شک بڑھنے پر خوفزدہ ہو گیا تھا، اہل علاقہ کا شک دور کرنے کے لیے اہل خانہ کے ساتھ بچے کو ان کے ساتھ بھی ڈھونڈا تھا،سی سی ٹی وی سے معلوم ہوا کہ بچہ علاقے سے باہر نہیں گیا تھا، ملزم نے اعتراف کیا کہ خوف کے باعث لاش فلیٹ کی کھڑکی سے نیچے پھینکی، پولیس جب فلیٹ پہنچی تو میں کمرے میں اکیلا موجود تھا۔

    پولیس نے کہا کہ مشتعل علاقہ مکین نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بنایا، گرفتار ملزم حمزہ نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا کہ واردات میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں، ملز م حمزہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ساتھیوں کی شمولیت کا جھوٹا دعویٰ کر رہا تھا، ملزم حمزہ کے والد کو بھی تحویل میں لے رکھا ہےملزم سے مزید اہم انکشا فات متوقع ہیں، پولیس ملزم حمزہ کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہےاور ماضی میں کسی دوسرے بچے کیساتھ زیادتی یا بدفعلی کے پہلوؤں کی بھی تحقیقات کر رہی ہے-

  • باپ کی جگہ سرکاری نوکری حاصل کرنے کیلئے بیٹی نے ماں کو قتل کر دیا

    باپ کی جگہ سرکاری نوکری حاصل کرنے کیلئے بیٹی نے ماں کو قتل کر دیا

    باپ کی جگہ نوکری حاصل کرنے کیلئے بیٹی نے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر ماں کو قتل کر دیا-

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر ایک 23 سالہ بیٹی نے سرکاری نوکر ی اور جائیداد حاصل کرنے کی خواہش میں اپنی ماں کو قتل کر دیا ملزمہ ایوشی نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی اور واردات کے بعد اسے سڑک حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی، تاہم تحقیقات کے دوران یہ منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔

    ابتدائی تفتیش میں پولیس نے انکشاف کیا کہ قتل کی اس واردات میں ایوشی سمیت خاندان کے 7 افراد ملوث تھے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے واقعے کے بعد ابتدا میں یہ تاثر دیا گیا کہ خاتون کی موت ایک تیز رفتار موٹرسائیکل کی ٹکر سے ہوئی، تاہم شواہد اور تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ یہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل تھا۔

    پولیس ڈپٹی کمشنر کے مطابق پرتاپ نگر کے علاقے رویندرہ نگر کے رہائشی 45 سالہ نیرج شرما نے ابتدائی طور پر بیان دیا تھا کہ خاتون کی موت 3 جولائی کو موٹرسائیکل حادثے کے نتیجے میں ہوئی تاہم مقتولہ کے بھائی راکیش نے اپنی بھانجی ایوشی اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا۔

    تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مقتولہ کے شوہر گزشتہ سال انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد ہمدردی کی بنیاد پر مقتولہ کو شوہر کی جگہ سرکاری ملازمت دی گئی تھی، ایوشی چاہتی تھی کہ والد کی وفات کے بعد ملنے والی نوکری اسے دی جائے، جبکہ وہ خاندان کی جائیداد پر بھی اپنا حق حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے مبینہ طور پر ماں پر دباؤ ڈالا، لیکن جب مقتولہ نے ملازمت چھوڑنے سے انکار کیا تو ایوشی نے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد ملزمان نے واقعے کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی، لیکن شواہد کی بنیاد پر اصل حقیقت سامنے آ گئی واقعے میں ملوث تمام 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • اسلام آبادمہنگی ایل پی جی فروخت کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن، 25 دکانیں اور ایک پلانٹ سیل

    اسلام آبادمہنگی ایل پی جی فروخت کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن، 25 دکانیں اور ایک پلانٹ سیل

    اسلام آباد میں مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر ایل پی جی فروخت کرنے والوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 25 دکانیں سیل کر دیں، جبکہ ہمک کے علاقے میں ایک ایل پی جی پلانٹ بھی بند کر کے منیجر کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق کارروائیاں شہر کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جہاں مقررہ نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے والی ایل پی جی شاپس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ایچ 13 کے علاقے میں 3، جبکہ پی ڈبلیو ڈی اور جناح گارڈن میں 8 ایل پی جی دکانیں سیل کی گئیں،اسی طرح شاہ اللہ دتہ میں زائد قیمت وصول کرنے والی 4 دکانوں کو بند کر دیا گیا، جبکہ روات کے علاقے میں مجموعی طور پر 10 ایل پی جی شاپس سیل کی گئیں جنگی سیداں میں بھی کارروائی کرتے ہوئے 3 دکانیں بند کر دیں ، ہمک کی حدود میں ایک ایل پی جی پلانٹ سیل کیا گیا، جبکہ پلانٹ کے منیجر کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ عوام سے مقررہ قیمت سے زائد وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  • گوجرانوالہ:9 سالہ بچے کے اندھے قتل کا معمہ 8 گھنٹوں میں حل،دادا  گرفتار

    گوجرانوالہ:9 سالہ بچے کے اندھے قتل کا معمہ 8 گھنٹوں میں حل،دادا گرفتار

    گوجرانوالہ کے تھانہ واہنڈو کی حدود میں 9 سالہ بچے کے اندھے قتل کا معمہ پولیس نے محض 8 گھنٹوں میں حل کرتے ہوئے مقتول کے دادا کو گرفتار کر لیا۔

    نامعلوم ملزموں نے دس سالہ شعب کے پیٹ کو چاک کر دیاتھا ، آنتڑیاں باہر آگئیں تھیں، بچے کی لاش سیج کالر گورنمنٹ سکول کے قریب سے برآمد ہوئی۔ واقعہ کی اطلاع پر پولیس کے اعلیٰ حکام بھاری نفری سمیت موقع پر پہنچ گئے، امدادی ٹیمیوں کو بھی طلب کر لیا گیا پولیس کے مطابق سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کے نوٹس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں-

    ان کا کہنا تھا کہ بچے کو بے دردی سے قتل کرنے والوں سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی انہیں کیفرکردار تک پہنچا کر دم لیں گے، انہو ں نے جدید تفتیش اور شواہد کی مدد سے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزم عبدالرحمان، جو مقتول کا دادا ہے، نے قتل کی منصوبہ بندی اپنے مخالفین کو جھوٹا پھنسانے کے لیے کی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات کو گمراہ کن رخ دینے کے لیے بچے کے پیٹ پر بھی وار کیے تاکہ واقعے کو کسی اور انداز میں پیش کیا جا سکے۔

    ایس پی صدر کی نگرانی میں خصوصی تفتیشی ٹیمیں واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں، جبکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے کہا ہے کہ مضبوط تفتیش، ٹھوس شواہد اور مؤثر پیروی کے ذریعے ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی-

  • زیارت میں  دہشت گردوں کا پولیس پر  حملہ،9 اہلکار شہید

    زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس پر حملہ،9 اہلکار شہید

    بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں دہشت گردوں نے پولیس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر زیارت نے اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تمام شہید اہلکاروں کی لاشوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کر دیا گیا ہے کل رات سے ہی دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور ہمارے بہادر اہلکار رات بھر ان دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔

    گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے اس سے پہلے پہلا حملہ کوئٹہ کے قریبی علاقے ہنہ اوڑک میں کیا گیا تھا جہاں مقامی قبائل نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، لیکن اس حملے میں 4 مقامی لوگ جان سے گئے اور 7 افراد کو اغوا کر لیا گیا جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    اس واقعے کے خلاف علاقے کے لوگ اب بھی ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں مظاہرین اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ تمام افراد مانگی ڈیم کی ایک زیر تعمیر ٹینکی پر ڈیوٹی کے لیے تعینات تھے، جہاں نامعلوم مسلح افراد آئے اور انہیں اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے خوش قسمتی سے 5 مغوی افراد اغوا کاروں کے چنگل سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جبکہ باقی لوگوں کو بچانے کے لیے پولیس نے علاقے میں بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔

  • دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور زیادتی ، کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور

    دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور زیادتی ، کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے انکشاف کیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا پس منظر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا پس منظر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا سنگاپور میں ملنے کے بعد ملزم رضا ڈار نے خواتین سے رقم کا مطالبہ کیا اور ڈیفنس میں انہیں حبس بے جا میں رکھا پولیس نے کارروائی کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے-

    خواتین اور مرکزی ملزم رضا ڈار (مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کے قریبی رشتے دار کے درمیان سنگاپور میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کے حوالے سے لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا معاملہ تھا۔جب خواتین لاہور واپس آئیں تو ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہیں ڈیفنس کے علاقے میں کرائے کے مکان میں یرغمال بنایا اور مبینہ طور پر تشدد و زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون کے والد نے بیرون ملک سے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لے کر گاڑی کو ٹریس کیا اور دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا، پولیس نے مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر کے کینٹ کچہری کی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، میڈیکل رپورٹ میں بھی ایک خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔

    دوران پریس کانفرنس ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہاکہ پہلی کال سیف سٹی پر آئی ، سیف سٹی کال کے ایکشن کے بعد یہ ہوا، اس کے بعدوہ لوگ گھر سےتتربترہوئے،اس کی وجہ سے وہ گاڑی وہاں سے نکلی،اس کال کا ٹائم چیک کرلیں،7بج کر 18منٹ کی کال سے پہلے اے ایس پی کی وہاں موجودگی ہے، اے ایس پی کا لڑکی سے رابطہ ہے،یہ چیپٹرتوکلوز ہو جاتا ہے،ہم لائیو لوکیشن اور ٹھوس ثبوت آپ کے سامنے رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ قیاس آرائی تھی جس کو پوری سٹوری نہیں پتہ تھی اس نے وہاں سے سٹوری شروع کی۔

    فیصل کامران نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کی معاونت کے لیے پولیس نے متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کیا انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے اسپین کے سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا جب کہ متاثرہ خواتین میں شامل ایک خاتون وینزویلا کی شہری ہے، جس کا سفارت خانہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق متاثرہ خواتین کی سہولت اور اعتماد کے لیے خواتین پولیس افسران کو ان کے ساتھ تعینات کیا گیا اور انہیں طبی معائنے کے لیے آمادہ کیا گیاہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کے مرحلے پر کچھ دشواری پیش آئی، تاہم سفارت خانے کے حکام سے ہونے والی تمام گفتگو پولیس کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ایک روز مزید لاہور میں قیام پر آمادہ کیا گیا، جس کے بعد اگلے روز انہیں عدالت میں پیش کر کے دفعہ 164 کے تحت ان کے بیانات ریکارڈ کرائے گئے۔ بعد ازاں ملزمان کا ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی۔

    واضح رہے کہ خواتین نے اپنے بیانات میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم رضا ڈار نے انہیں دھمکانے کے لیے باس نامی شخص کو موقع پر بلایا تھا جو اپنے گن مینوں کے ساتھ موقع پر پہنچا تھا اور اسی نے قتل سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے بیانات میں جس شخص کو ’باس‘ کہا گیا تھا، اس کا اصل نام وحید ہے اب تک اس مقدمے میں 8ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ ’باس‘ کے نام سے سامنے آنے والے کردار وحید کے خلاف پہلے سے8 مقدمات درج ہیں۔

    فیصل کامران کا کہنا تھا کہ جب کسی بااثر شخصیت کا رشتہ دار کسی مقدمے میں ملوث ہو تو متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہےتفتیش کے دوران جب یہ معلوم ہوا کہ ایک ملزم ملک کے ڈپٹی وزیراعظم کا رشتہ دار ہے تو اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے پر انہیں ہدایت دی گئی کہ قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائی کی جائے، جس کے بعد تحقیقات جاری ہیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ اس مقدمے کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی رابطہ کیا اور ہدایت کی کہ کیس کی تفتیش اور کارروائی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس کسی جج کے گھر پر چھاپہ مارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ان کے مطابق جج کے گھر جانے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔

  • کراچی:بس اور واٹر ٹینکر  کی ٹکر سے کمسن بچی سمیت 3 جاں بحق

    کراچی:بس اور واٹر ٹینکر کی ٹکر سے کمسن بچی سمیت 3 جاں بحق

    کراچی کے علاقے قائد آباد گل احمد چورنگی کے قریب مسافر کوچ ڈرائیور سے بے قابو ہو کر الٹ گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ خاتون مسافر زخمی ہوگئی –

    تفصیلات کے مطابق قائد آباد کے علاقے لانڈھی گل احمد چورنگی کے قریب مسافر کوچ الٹ گئی ، حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو رضا کار موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا تاہم دو افراد راستے میں دم توڑ گئے۔

    ہیڈ محرر تھانہ قائد آباد علی نواز نے بتایا کہ الیاس کوچ ڈرائیور سے بے قابو ہو کر فٹ پاتھ سے ٹکرا کر الٹ گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص اس کے نیچے دب کر جاں بحق ہوا جس کی شناخت نذیر کے نام سے کی گئی جبکہ جاں بحق ہونے والا دوسرا شخص کوچ کا مسافر تھا حادثے میں امیرین نامی خاتون زخمی ہوئی انہوں نے بتایا کہ کوچ کا ڈرائیور موقع سے غائب ہیں جسے تلاش کیا جا رہا ہے۔

    چھیپا حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے دوسرے شخص کو 45 سالہ سلیم کے نام سے شناخت کیا گیا ہے جبکہ زخمی خاتون کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دریں اثنا جیکسن کے علاقے کیماڑی مسان چوک گلی نمبر 4 بلاک 5 میں ٹریفک حادثے میں کمسن بچی جاں بحق ہوگئی جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال لیجائی گئی ۔

    ایس ایچ او جیکسن عنایت اللہ مروت نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت ڈھائی سالہ نبیحہ دختر جہانزیب کے نام سے کی گئی جبکہ حادثہ گلی میں چھوٹا واٹر ٹینکر ریورس ہوتے ہوئے اس کی ٹکر سے پیش آیا جس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس نے واٹر ٹینکر قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا ہے پولیس کو ڈرائیور کے حوالے سے معلومات حاصل ہوئی ہیں جس کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

  • سانحہ کاہنہ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھجوا دی گئی

    سانحہ کاہنہ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھجوا دی گئی

    لاہور:کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کے جاں بحق ہونے والے سانحہ کاہنہ کی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو بھجوا دی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق چھت گرنے کی بنیادی وجہ اس پر ضرورت سے زیادہ ملبہ ڈالنا تھا، جس کے باعث ٹی آئرن اور گارڈر پر مشتمل ڈھانچہ اضافی بوجھ برداشت نہ کر سکا اور منہدم ہو گیا تحقیقاتی ٹیم نے قرار دیا ہے کہ چھت پر بچوں کی موجودگی کے دوران مٹی ڈلوانا واضح غفلت تھی،رپورٹ میں ماہرین کی فنی رائے بھی شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق کمزور ڈھانچے پر اضافی وزن ڈالنے سے حادثہ پیش آیا –

    رپورٹ کے مطابق چھت گرنے کے وقت ایک خاتون ٹیچر اور 20 بچے اس کے نیچے موجود تھے،خاتون ٹیچر 34 بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے لیکن چھت گرنے کے وقت 20 بچے حاضر تھے جن میں سے 14 بچے جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے، جبکہ بچوں کی اموات سر پر شدید چوٹیں لگنے کے باعث ہوئیں، تاحال کسی متعلقہ سرکاری ادارے کے کسی اہلکار کی کوئی غفلت نظر نہیں آئی، مقدمہ درج کر کے گھر کے مالک اور اس کے بھائی سمیت 5 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجا ب مریم نواز شریف کو بھجوائی گئی رپورٹ پر باریک بینی سے غور شروع ہوگیا، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کا عمل بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ شہر بھر کے ٹیوشن سینٹرز کو بھی ایس او پیز مکمل کرنا ہوں گے۔

  • افریقی ملک  میں ہم جنس پرستی پر  درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

    افریقی ملک میں ہم جنس پرستی پر درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

    مغربی افریقہ کے ملک نائجر میں ہم جنس پرستی کے خلاف ایک نیا اور سخت قانون نافذ کیے جانے کے بعد کم از کم 16 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، ایک عدالتی عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں کسٹمز اور پولیس فورس کے بڑے افسران کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں نائجر میں پہلے ہم جنس شادیوں پر تو پابندی تھی لیکن اس طرح کے تعلقات پر سزائیں مقرر نہیں تھیں، مگر اب نئے قانون کے تحت حکومت نے جیل لمبی قید کی سزائیں اور بھاری جرمانے نافذ کر دیے ہیں ہم جنس پرستوں کے خلاف یہ آپریشن ابھی جاری ہے اور اب ان جگہوں کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں ایک ہی جنس کے لوگ ساتھ رہتے ہیں، جیسے کہ فوج کی بیرکس اور کالجوں کے ہاسٹل۔

    نئے قانون کے سرکاری دستاویزات کے مطابق اگر کوئی شخص ہم جنس پرستی یا اپنی ہی جنس کے کسی فرد کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا قصوروار پایا گیا تو اسے 5 سے 10 سال تک جیل کی سزا کاٹنی پڑے گی اور ساتھ ہی 1 کروڑ سے 10کروڑ فرانک یعنی پاکستانی روپے کے حساب سے لاکھوں روپے کا بھاری جرمانہ بھی دینا ہوگا اگر کوئی لوگ آپس میں ہم جنس شادی کرتے ہوئے پکڑے گئے تو ان کو 10 سے 20 سال تک قید کی سخت سزا دی جا سکتی ہے اس کے علاوہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں چلانے والوں پر 5کروڑ سے50 کروڑ فرانک تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    رائٹرز نے اس پورے معاملے پر جب نائجر کی حکومت کے ترجمان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،واضح رہے کہ نائجر سے پہلے اس کے پڑوسی افریقی ممالک سینیگال اور برکینا فاسو بھی پچھلے کچھ مہینوں میں ہم جنس پرستی کے خلاف اسی طرح کے سخت قوانین پاس کر چکے ہیں۔

  • کراچی میں قتل کی جانیوالی 3 سالہ بچی سے زیادتی کی تصدیق، مقدمہ درج،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    کراچی میں قتل کی جانیوالی 3 سالہ بچی سے زیادتی کی تصدیق، مقدمہ درج،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    کراچی کے علاقے ملیر قائد آباد میں 3 سال کی بچی سے مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔

    مقدمہ اغوا، قتل، زیادتی، تشدد اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، معصوم بچی کی تشدد زدہ لاش بوری میں بند ملی تھی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ یہ کیس بدترین اور سفاکانہ زیادتی کی مثال ہے، مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی ہے، وجہ موت کے تعین کیلئے پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کرلی گئی ہے جبکہ کیمیکل ایگزا من رپورٹ آنے پر موت کی وجہ کا تعین ہوگا۔

    ایف آئی آر میں والد نے بتایا ہے کہ بیٹی 12 بجے گھر سے باہر کھیلنے گئی تھی واپس نہیں آئی، جس پر اہلیہ نے کال کرکے اطلاع دی، میں فوری گھر آیا، بیٹی کو کافی تلاش کیا مگر وہ نہیں ملی، پونے 8 بجے جب گھر واپس آئے تو گلی میں ہجوم تھا، محلے والوں نے بتایاکہ نامعلوم افراد بیٹی کی لاش بوری میں پھینک کرگئے ہیں، بچی کے دادا نے میری بیٹی کلثوم کی لاش کی تصدیق کی تھی۔

    آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے، کمیٹی میں ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی اور ایس ایس پی اسپیشل برانچ سمیت دیگر ادارے بھی شامل ہیں، کمیٹی تمام پہلوؤں کاجائزہ لےکر جلد رپورٹ پیش کرے گی جبکہ کمیٹی روزانہ کیس میں ہونیوالی پیش رفت سے آئی جی سندھ کو آگاہ کرے گی۔

    اس حوالے سے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ قتل میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ملزمان کو سخت سزا دلانے کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے، متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔