Baaghi TV

Tag: پولیس

  • بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کا قتل معمول:آخرکیوں؟ماہرین پریشان ہوگئے

    بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کا قتل معمول:آخرکیوں؟ماہرین پریشان ہوگئے

    کراچی :بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کا قتل معمول:آخرکیوں؟ماہرین پریشان ہوگئے،اطلاعات کے مطابق ملک بھر سے بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کے قتل کے واقعات جس طرح تیزی سے ہورہےہیں اس پرماہرین نفسیات وصحت بڑے پریشان دکھائی دیتے ہیں‌، شاید اس کی وجہ یہ ہےکہ معاشرے میں عدم برداشت کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر جرائم میں روزبروز اضافہ ہوتا ہے، جس کو زیادہ تر اختتام جانی اور مالی نقصان کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

    ویسے تو ملک بھرسے درجنوں واقعات پچھلے ہفتے رپورٹ ہوئے ہیں مگرکراچی کے کچھ واقعات نے تو سب کو ہلا کررکھ دیا ہے، کراچی کے مختلف علاقوں میں خواتین کے ہاتھوں شوہروں کے ہونے والے قتل کے واقعات نے سماجی حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ گذشتہ 15 دنوں کے دوران شہر قائد میں تین اشخاص کے ایسے قتل ہوئے ہیں جن میں خواتین بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ملوث ہیں۔

    تازہ ترین واقعہ کراچی کے علاقے نیو کراچی میں پیش آیا جہاں خاتون نے ماہانہ خرچ نہ دینے پر تیز دھار آلے سے شوہر کا گلا کاٹ دیا۔ تفصیلات کے مطابق خمیسو گوٹھ ، نیو کراچی انڈسٹریل ایریا سیکٹر 5 کی رہائشی خاتون نے ماہانہ خرچ نہ دینے پر اپنے شوہر کو قتل کرنے کی کوشش کی مگر متاثرہ شخص بروقت طبی امداد ملنے پر بچ گیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ شخص خالد ولد محمد صالح کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب زخمی حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی گئی۔ نیو کراچی صنعتی ایریا تھانہ کے ایس ایچ او غلام یاسین نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ ماہانہ خرچ نہ دینے پر پیش آیا ہے۔

    دوسرا واقعہ کراچی کے علاقے صدر میں پیش آیا جہاں 9 اور 10 دسمبر کی درمیانی شب ملزمہ رباب عرف عاصمہ نے شیخ سہیل نامی شخص کو بہیمانہ انداز میں قتل کرنے کے بعد لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ شیخ سہیل اور گرفتار خاتون رباب عرف عاصمہ نے 2013 میں شادی کی تھی، خاتون اور اس کا شوہر 7 سال سے آئس کا نشہ کر رہے تھے۔ وقوعہ والی رات دونوں نے حد شے زیادہ نشہ کیا اور اسی دوران خاتون نے شوہر کو تھپڑ مارا اور دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔

    تفتیشی حکام کا بتانا ہے کہ خاتون نے شوہر کے سر پر لوہے کی راڈ ماری اور پھر مارتی چلی گئی۔ جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

    تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ واردات کے دوران خاتون نے شوہر کی لاش سے پہلے گردن علیحدہ کی اور پھر ہاتھ کاٹنے کے بعد گلی میں پھینک دیے۔ لیکن گلی چوکیدار نے ملزمہ کو مقتول کے ہاتھ کھڑکی سے باہر پھینکتے ہوئے دیکھ لیا تھا جس پر خاتون نیچے آئی اور دونوں کٹے ہوئے ہاتھ اٹھا کر واپس لے گئی۔

    تیسرا واقعہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پیش آیا جہاں 2 دسمبر کو سندھ بار کونسل کے سیکریٹری عرفان ملاح کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

    تفتیش میں یہ افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے کہ اس قتل میں مقتول کی اہلیہ ملوث ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق گرفتار ملزمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس قتل کی اصل ماسٹر مائنڈ مقتول کی بیوی اور سالی ہیں۔

    شارع فیصل پولیس نے قتل کے اگلے روز مقتول کے بھائی رضوان مہر کی مدعیت میں دو نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ایف آئی آر 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 اور 3 کے تحت درج کی گئی تھی۔

    محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے مقدمے کی تازہ ترین پیشرفت کے مطابق دو گرفتار ملزمان میں سے ایک مرحوم عرفان مہر کا سالا ہے جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اسے قتل کرنے کی ہدایات اور رقم اپنی دونوں بہنوں سے ملی تھیں۔ ملزم کے مطابق عرفان مہر کا اپنی اہلیہ کے ساتھ رویہ اچھا نہیں تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزم کی بہن نے قتل کرنے کے لیے دو لاکھ 20 ہزار روپے دیے جس سے اسے نے ایک موٹر سائیکل اور پستول کا بندوبست کیا۔

    رواں سال 7 جون کو کراچی کے علاقے صفورہ میں کال سینٹر کے کروڑ پتی مالک شہباز نتھوانی کو اس کی اہلیہ نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر قتل کیا تھا۔

    محکمہ انسداد دہشتگردی سندھ ( سی ٹی ڈی) نے ایک ہفتے کی ماہرانہ تفتیش کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے شواہد حاصل کیے تھے۔

    راجہ عمر خطاب کے مطابق اہلیہ نے شوہر کے قتل کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا رنگ دیا جبکہ تفتیش کے دوران حقائق اس کے بیان کے برعکس نکلے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور جیو فینسنگ سے ملزم جمشید خالد کی واردات سے کئی گھنٹے پہلے سے علاقے میں موجودگی کا انکشاف سامنے آیا۔

  • اسلام آباد محفوظ ترین یا جرائم کا گڑھ، ایک دن میں پانچ سو سے زائد مقدمے درج

    اسلام آباد محفوظ ترین یا جرائم کا گڑھ، ایک دن میں پانچ سو سے زائد مقدمے درج

    اسلام آباد محفوظ ترین یا جرائم کا گڑھ، ایک دن میں پانچ سو سے زائد مقدمے درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کا آئی جی تو بدل گیا لیکن جرائم میں کمی نہ آ سکی، نئے آئی جی کے چارج لینے کے چند دن بعد ہی ایک دن میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چوری و ڈکیتی کے 554 مقدمے درج کیے گئے ہیں

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن وامان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، گزشتہ دنوں آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے دن دہاڑے ڈکیتی کی واردات ہوئی تو چند دن بعد آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کر دیا گیا ، انکی جگہ لاہور سے احسن یونس کو آئی جی اسلام آباد لگا دیا گیا، نئے آئی جی کے چارج لینے کے بعد بھی اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں ذرہ بھر کمی نہ آئی، چور، ڈاکو دن دہاڑے واردادتیں کر رہے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی نظر آتی ہے،

    اسلام آباد میں گزشتہ ایک روز میں 554 چوری اور ڈکیتی کے مقدمات درج کئے گئے ہیں، سب سے زیادہ مقدمے تھانہ بہارہ کہو میں درج کئے گئے، تھانہ آبپارہ 40 مقدمات، تھانہ سکیرٹریٹ 53، تھانہ کوہسار 40، تھانہ بھارہ کہو 62، تھانہ مرگلہ 11، تھانہ کراچی کمپنی16، تھانہ گولڑہ 20، تھانہ ترنول 17، تھانہ رمنا 3، تھانہ شالیمار 42، تھانہ آئی نائن 18، تھانہ سبزی منڈی 9، تھانہ شمس کالونی 11، تھانہ نون 6، تھانہ شہزاد ٹاؤن 15، تھانہ کھنہ 30، تھانہ کورال 44، تھانہ نیلور 19، تھانہ سہالہ 42، تھانہ لوہی بھیر میں 60 مقدمات درج کئے گئے ہیں

    دوسری جانب تھانہ سہالہ نے 15 نومبر سے قبضہ مافیا کے خلاف دی گٸی درخواست پر ایف آئی آر نہ کاٹی۔ مدعی در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہو گیا۔ آئی جی احسن یونس سے انصاف کی اپیل کر دی گئی ،تھانہ سہالہ کے علاقے موضع ہمک جی ٹی روڈ پر واقع مدعی کے 2 کنال کے پلاٹ پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر لیا مدعی کو بہت سالوں سے عدالتوں کے چکر لگواتے رہے ۔ عدالتوں سے جب ان کو منہ کی کھانی پڑی تو پلاٹ کی دیواریں گرا دیں قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ مدعی کی دادی نے یہ پلاٹ 1976 میں خریدا۔ 1985 میں مدعی کی دادی کا انتقال ہو گیا۔ مدعی کی دادی کے انتقال کے بعد اصغر علی نے 1995 میں مدعی کی دادی کے نام سے ایک جعلی اٹارنی بنوائی اور یہ پلاٹ علی اصغر کے نام بیچ دیا۔ مدعی نے اس جعلی اٹارنی کوچیلنج کیا جس پر 2001 میں سول کورٹ نے اٹارنی کو جعلی قرار دیتے ہوئے زمین کی رجسٹری اور انتقال کینسل کردیا 2006 میں ملزمان نے دوبارہ عدالت میں اپیل کردی۔ یہ سارا کچھ کرنے کے دوران سائیں انعام نامی شخص نے یہ پلاٹ اصغر علی اور علی اصغر سے 2013 میں اسٹام پر خرید لیا۔ اب جب مدعی نے پلاٹ پر چار دیواری لگائی تو سائیں انعام نے آ کر ساری دیواریں توڑ دی۔

    مدعی نے مزمان کے خلاف ایک مہینہ پہلے مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی مگر ملزمان اتنے بااثر ہے کہ پولیس مقدمہ درج کرنے سے قاصر ہے۔ مدعی نے آئی جی اسلام آباد احسن یونس سے مقدمہ درج کرنے اور انصاف دلانے کی اپیل کی ہے

    وزیراعظم نے جہانگیر ترین بارے کیا رپورٹ مانگی تھی؟ بیرسٹر علی ظفر کا انکشاف

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین بارے درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    بریکنگ..شہزاد اکبر کھل کر جہانگیر ترین گروپ کیخلاف آ گئے، مقدمہ درج کروا دیا

    جہانگیر ترین کیخلاف کاروائی سے پہلے عدالت کو بتانا ہو گا،عدالت کا حکم، درخواست ضمانت واپس

    جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے‌ حوالہ سے درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تحریری فیصلہ جاری

    جہانگیر ترین فیصلہ کر لیں پارٹی میں رہنا ہے یا نہیں، میرے ساتھ بھی زیادتی ہوتی رہی،پی ٹی آئی رہنما برس پڑے

    جہانگیر ترین گروپ کی آج کس شخصیت سے ملاقات طے؟ پنجاب میں تہلکہ مچ گیا

    جہانگیر ترین گروپ کا آج ہونے والا اجلاس ایک بار پھر موخر

    جہانگیر ترین بارے رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

    آرڈر پر عمل نہ ہوا تو سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد پیش ہوں،عدالت

    میرا کچرا،میری ذمہ داری،برطانوی ہائی کمشنر ایک بار پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہنچ گئے

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے ڈکیتی…آئی جی کے لئے مہنگی ثابت

  • کہیں بارش اور کہیں برفباری،بالائی علاقو ں میں پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی

    کہیں بارش اور کہیں برفباری،بالائی علاقو ں میں پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی

    ملک کے بالائی علاقوں میں کہیں بارش اور کہیں برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بالاکوٹ کی پوری تحصیل اور گردو نواح میں بارش اور پہاڑی مقامات پر برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے شدید سردی کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہو گئے ہیں بارش ہوتے ہی ایندھن اور گرم ملبوسات کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔

    گلگت بلتستان میں برف باری کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند

    وادی کاغان، ناران ، شوگراں، سری پایہ اور بابو سر ٹاپ پر برفباری نے ہر چیز کو ڈھک لیا ہے کوہ مکڑا ، موسیٰ کا مصلی، بٹہ کنڈی ، بوڑا وئی میں برفباری سے موسم شدید سردہو گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں رات کے وقت بوندا باندی کا امکان ہے۔ کل بھی موسم ابر آلود رہے گا اور سرد ہواوں کی شدت میں اضافہ ہوگا۔

    محکمہ موسمیات نے کل بھی بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں ہلکی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔

    دیوسائی ،غذر ، کشمیر، گلگت بلتستان میں موسم سرما کی پہلی برف باری

    گلگت بلتستان کی جنگ آزادی اپنی نوع میں ایک منفرد جدوجہد تھی بلاول بھٹو زرداری

    قوم کی بیٹی نے منفرد انداز میں کے ٹو سر کر کے ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

  • پولیس پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے  کی قبول

    پولیس پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے کی قبول

    راولپنڈی اور بنوں میں پولیس پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کرلی ۔

    راولپنڈی کے تھانہ پیرودہائی میں کل رات کو نا معلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں نے ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران پر اندھادھند فائرنگ کیا تھا، فائرنگ کے نتیجے میں کانسٹیبل خرم ہلاک جبکہ سب انسپکٹر منظور شہزاد اور کانسٹیبل عمر شدید زخمی ہوئے تھے ۔ آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ ملزمان کی جلد گرفتاری کی ہدایت بھی جاری کردی ہیں۔حادثے کے بعد پولیس نے علاقے کو میں گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کیا ہے جس میں تا حال کوئی گرفتاری سامنے نہیں آئی ـ

    تازہ اپڈیٹس کے مطابق مذکورہ حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے قبول کی ہے ـ دوسری جانب آج ہی بنوں میں نامعلوم افراد نے چھٹی پر گھر گئے سی ٹی ڈی اہلکار کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس میں شدید زخمی ہوئے اس حملے کی ذمہ داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کرلی ہے ـ واضح رہے کہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ٹی ٹی پی کی جانب سے پنجاب میں ہونے والا یہ پہلا حملہ ہے ـ

    قبل ازیں سی پی اوراولپنڈی ساجد کیانی اورسابقہ سی پی اواطہر اسماعیل کی ہولی فیملی ہسپتال آمد ہوئی ہے، گزشتہ رات نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے سب انسپکٹر منظور شہزاد اورکانسٹیبل محمد عمر ہارون کی عیادت کی،اس موقعہ پر ایس ایس پی آپریشنز رائے مظہراقبال، ایس ایس پی انوسٹی گیشن اوردیگر سینئر افسران بھی موجود تھے،سی پی اونے زخمی پولیس افسران کی جلد صحتیابی کے لیے دعاکی،نیک خواہشات کا اظہار کیا اورعلاج معالجہ کی رقم فراہم کی،سی پی اوراولپنڈی ساجد کیانی نے زخمی پولیس افسران کے لواحقین سے ملاقات کی اورمکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی،سی پی اوساجد کیانی نے پولیس افسران کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت جاری کیں،سی پی اوراولپنڈی ساجد کیانی کا کہنا تھا لپ راولپنڈی پولیس شہریوں کی جان ومال کی حفاظت اورفرض کی ادائیگی کے دوران کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی،

    آر پی او راولپنڈی اشفاق احمد نے پولیس لائن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے جو ائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تحقیقات کریگی پنجاب فرانزک سائنس نے موقع واردات سے شواہد حاصل کر لیئے ہیں تفتیش کراٰئم سین سے لیکر کرمنل تک پہنچتی ہے ۔۔ تفتیش سے آپکو آگا ہ کیا جائے گا کانسٹبل خرم شہزاد نوجوان اور اچھی شہرت کا مالک تھا اسکے والد کو ملکر انتہائی دکھ ہوا دلخراش واقعہ تھا ۔جے آئی ٹی جب بھی تشکیل دی جاتی ہے تو انٹیلی جنس ایجنسیز اسمیں شامل ہوتی ہیں آر پی او اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملزمان کہاں سے داخل اور کہاں سے فرار ہوئے ۔اسلام آباد پولیس سے بھی رابطہ ہے ملکر تحقیقات کریں گے ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ شب پنڈی تھانہ پیرودہائی کے علاقہ سی ڈی اے چوک میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے پولیس موبائل گشت اور محافظ ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران پر فائرنگ کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس کنسٹیبل شہید جبکہ ایک سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل زخمی ہو گیا تھا

  • بدبخت بیٹے نے دوست اور کزن کے ساتھ ملکر کو باپ کو قتل کر دیا

    بدبخت بیٹے نے دوست اور کزن کے ساتھ ملکر کو باپ کو قتل کر دیا

    لاہور:بدبخت بیٹے نے کزن کے ساتھ مل کر والد کو قتل کر دیا

    باغی ٹی وی : جائیداد کی لالچ میں کزن اور دوست کیساتھ مل کر سگے باپ کو قتل کرنے والا بدبخت بیٹا گرفتار کرلیا گیا پولیس کو جوہر ٹاؤن کے علاقے رحمان پارک میں شہزم نامی کالر کی کال موصول ہوئی کہ اسکے والد عابد لطیف کو کسی نامعلوم شخص نے قتل کر دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز مستنصر فیروز اور ایس پی صدر حفیظ الرحمن بگٹی موقع پر پہنچے اور جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا ، تو حالات مشکوک جانتے ہوئے کالر سے تفتیش کی گئی

    بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنیوالا سفاک درندہ گرفتار

    ایس پی صدر کے مطابق کالر شہزم نے چند منٹوں میں ہی اپنے والد عابد لطیف کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا اس نے اپنے کزن عمیر اور دوست عبدالرحمن کیساتھ مل کر اپنے والد کو چھری اور ہتھوڑے سے قتل کیا۔

    فوٹو بشکریہ :ایکسپریس نیوز
    پولیس نے موقع سے آلہ قتل ،چھری اور ہتھوڑا بھی برآمد کر لیا بدبخت بیٹے کا کہنا ہے کہ اس کا والد کنجوس اور سخت گیر تھا، جس پر بیٹے نے جائیداد ہتھیانے کے لیے اپنے کزن اور دوست کیساتھ ملکر اپنے والد کو قتل کیا۔

    گھر سے خاتون کی نعش برآمد،بھائی نے بہن کو گولی مار دی،پولیس

    پولیس نے تینوں ملزمان شہزم ،عمیر اور عبد الرحمن کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا پولیس اور فرانزک سائنس کی ٹیموں نے موقع سے شواہد اکھٹے کر لیے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

  • 21 روز قبل لاپتہ ہونے والا نوجوان تاحال لاپتہ

    21 روز قبل لاپتہ ہونے والا نوجوان تاحال لاپتہ

    قصور
    21 روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والا 35 سالہ نوجوان ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود تاحال نا مل سکا

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی علاقہ کوٹ اسلام پورہ کا رہائشی فیاض احمد ولد محمد یاسین قوم انصاری 23/11/21 سے اپنے کام دین گڑھ الخیر ٹینری سے واپسی آتے ہوئے شام 6 بجے کے قریب لاپتہ ہوا جسے ہر جگہ ڈھوندا گیا مگر کوئی سراغ نا ملا
    اس کے والد غلام یاسین کا کہنا ہے کہ ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کیا لیکن کہیں سے کوئی سراغ نا ملا ہے جس پر میں نے اس کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ بی ڈویژن قصور میں درج کروا دی ہے اور آج اسے لاپتہ ہوئے 21 دن سے ہو گئے ہیں میری ڈی پی او قصور سے استدعا ہے کہ جلد سے جلد میری بیٹے کو تلاش کیا جائے
    جبکہ دوسری جانب پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور پولیس نے بذریعہ سوشل میڈیا بھی لاپتہ نوجوان کے پوسٹر لگا دیئے ہیں اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اس بابت کسی کو کچھ معلوم ہو تو فوری پولیس کو دیئے گئے نمبران پر مطلع کیا جائے نیز پولیس کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنیکل طریقوں سے بھی لاپتہ نوجوان کا سراغ لگایا جا رہا ہے

  • اسلام آباد:  ایف الیون تھری گھر میں ڈکیتی،ملزمان پولیس کی گاڑی کو ٹکر مار کر فرار

    اسلام آباد: ایف الیون تھری گھر میں ڈکیتی،ملزمان پولیس کی گاڑی کو ٹکر مار کر فرار

    اسلام آباد کے ایف الیون تھری میں گھر میں ڈکیتی کی واردات کے بعد ملزمان پولیس کی گاڑی کو ٹکر مار کر فرار ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق ایف الیون تھری میں ڈکیتی کی اطلاع پر نفری پہنچی تو ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی، فرار ہوتے ملزمان نے پولیس کی گاڑی کو بھی ٹکر ماری اور ڈاکو سرکاری گاڑی چھین کر فرار ہوئے۔

    آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے ڈکیتی…آئی جی کے لئے مہنگی ثابت

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان میرا آبادی میں روپوش ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے، آئی جی اسلام آباد محمد احسن یونس پولیس ٹیم کی قیادت کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے دن دہاڑے ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں ، پولیس خاموش تماشائی دکھائی دیتی ہے-

    لاہور: فرسٹ ائیر کی طالبہ کے ساتھ گن پوائنٹ پر اجتماعی زیادتی

    اس سے قبل آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے والے گھر میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے ،مسلح ڈاکو دن دہاڑے گھر میں گھسے اور اہلخانہ کو باندھ کر لوٹ مار کی اور فرار ہو گئے،ڈاکوؤن نے گھر کا صفایا کر دیا وار 35 لاکھ روپے نقد اور زیورات لوٹ کر فرار ہوئے، ڈاکو گاڑی میں سوار ہو کر آئے تھے اور گاڑی میں ہی فرار ہوئے، ڈاکو آئی جی ھاوس کے باہر تعینات سیکورٹی اہلکاروں کے سامنے داخل ہوئے۔ واردات پوش سیکٹر ایف سیون تھری کی گلی نمبر 63میں ہوئی-

    سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل

    اسلام آباد میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان کو عہدےسے ہٹا دیا گیا تھا ،قاضی جمیل الرحمان کو اسٹبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ پولیس سروس گریڈ 20 کے احسن یونس کو نیا آئی جی اسلام آباد تعینات کردیا گیااحسن یونس کی خدمات پنجاب سے وفاق کی سپرد کردی گئیں-

    بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنیوالا سفاک درندہ گرفتار

  • سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل

    سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل

    سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے فیروزوالہ یوسف پارک میں سب انسپکٹر دانش بھٹی کے بھائی کی شادی میں قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں ۔

    قانون کے رکھوالوں نے قانون کا ہی تماشا بنا دیا، دانش بھٹی کے بھائی دانیال بھٹی کی شادی میں وارڈن پولیس اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی، گلفام کانسٹیبل اور سب انسپکٹر عالمگیر خان کی ہوائی فائرنگ کرتے کی موبائل ویڈیو باغی نیوز نے حاصل کر لی گانوں پر لڑکیوں کے ٹھمکے سب انسپکٹر وارڈن عالمگیر خان نوٹوں کی برسات کرتے رہے ، اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا قانون کی ایسی کی تیسی کر دی ہوائی فائرنگ گولیوں کی تھرتھراہت سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا تھانہ شاہدرہ پولیس غفلت کی نیند سوتی رہی جبکہ شہری خوف کے مارے جاگتے رہے، شہریوں‌ نے اعلیٰ حکام سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی عام شہری ایسا کرتا تو پولیس کب کی اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال چکی ہوتی

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فیروز والہ کے علاقے یوسف پارک میں شادی کی تقریب میں فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لے لیا، اور انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی، وزیراعلیٰ نے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ قانون کے محافظوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا واقعہ ناقابل برداشت ہے۔ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    قبل ازیں ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیز کے حکم پرآپریشن ونگ تھانہ ماڈل ٹاؤن نے شیشہ پارٹی پر چھاپہ مارا اور شیشہ پینے میں مصروف 12 نوجوان گرفتارکر لئے،گرفتار ملزمان میں محمد علی، عدنان،شجاعت، اعظم،فرحان و دیگر شامل ہیں،ملزمان کے قبضہ سے مختلف اقسام کے مضر صحت شیشہ فلیورز اور سامان برآمد کر لیا گیا ہے، ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن رانا نعیم اللہ خان کا کہنا ہے کہ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیز کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کی بربادی کا سبب بننے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے،

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    کالج میں مجرا، لڑکی ہوش برقرار نہ رکھ سکی پرنسپل سے لپٹ گئی ،ویڈیو وائرل،کالج سیل

    ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

  • عرفان مہرکوسگی بیوی،بیٹی ،سالے اوردیگرسسرالیوں نے مل کر قتل کیا:گرفتار ملزم کے سنسنی خیز انکشافات

    عرفان مہرکوسگی بیوی،بیٹی ،سالے اوردیگرسسرالیوں نے مل کر قتل کیا:گرفتار ملزم کے سنسنی خیز انکشافات

    کراچی :عرفان مہرکوسگی بیوی،سالے اوردیگرسسرالیوں نے قتل کیا:گرفتار ملزم کے سنسنی خیز انکشافات،اطلاعات کے مطابق گلستان جوہر میں سندھ بار کونسل کے سیکرٹری عرفان مہر قتل کے وقت فائرنگ کرنے والے ملزم کا حقیقی بیٹا بھی اسی کار میں مقتول کے ساتھ بیٹھا تھا۔

    عرفان مہر قتل کیس میں گرفتار مقتول کے بھائی نسبتی غلام اکبر نے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ پولیس کے سامنے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

    اس ہائی پروفائل قتل کیس کا سراغ لگانے والی سی ٹی ڈی کی خصوصی ٹیم کے انچارج راجہ عمر خطاب کے مطابق عرفان مہر کو قتل کرنے کا ٹاسک اس کی بیوی صاحبزادی اور سالی شبانہ عرف کراڑی عرف چھوٹی نے اپنے حقیقی بھائی ملزم غلام اکبر کو دیا۔

    گرفتار ملزم غلام اکبر کے بیان کے مطابق مبینہ طور پر مقتول عرفان مہر اپنی بیوی یعنی اس کی بہن کے ساتھ سخت رویہ رکھتا تھا جس سے وہ تنگ تھی اور تینوں بہن بھائیوں نے مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی۔

    ملزم کے مطابق اس واردات کے لیے اس کی دلچسپی اس لیے بھی تھی کہ وہ 30،40 لاکھ روپے کا مقروض تھا جبکہ عرفان مہر کے قتل کی صورت میں انہیں مقتول کے پاس کیش کی شکل میں موجود لگ بھگ 70،80 لاکھ روپے ملنے کی اُمید تھی۔

    ملزم کے مطابق اس کی بہن صاحبزادی نے اس کام کے لیے ابتدائی طور پر اسے ایک لاکھ 60 ہزار روپے اور پھر چند دن بعد مزید 60 ہزار روپے دیے۔

    ملزم نے مزید بتایا کہ ان پیسوں سے اس نے ایک لاکھ 50 ہزار روپے میں نئی 125 موٹر سائیکل خریدی اور پستول کا بندوبست کیا۔

    ملزم کے مطابق اس سے قبل اس نے اس کام میں معاونت کیلئے اپنی چھوٹی بہن شبانہ کے شوہر رحیم بخش مہر کو آمادہ کیا تاہم بعد میں اپنے ایک دوست واجد جاکھرو کو شریک جرم بنایا۔

    ملزم نے بیان میں کہا کہ اس کیلئے اس نے واجد کو 40 ہزار روپے دیے اور مزید 60 ہزار روپے کام کے بعد دینے کا وعدہ کیا۔

    ملزم کے مطابق واردات سے قبل اس نے مقتول عرفان مہر کی خود ریکی کی اور واردات سے ایک روز قبل صدر سے ٹراؤزر اور جیکٹ خریدیں بعد ازاں کالے رنگ کے دو ہیلمٹ خریدے اور اس نے کینٹ اسٹیشن پر واقع ایک ہوٹل میں قیام کیا۔

    ملزم غلام اکبر کے مطابق واردات والے دن وہ اور واجد 125 موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گلستان جوہر بلاک 13 پہنچے اور چیپل لگژری اپارٹمنٹ کے سامنے پارک کے ساتھ کھڑے ہوکر عرفان مہر کے نکلنے کا انتظار کرنے لگے۔

    ملزم کے مطابق عرفان مہر اپنے بچے کو لے کر اسکول چھوڑنے کیلئے گھر سے نکلا تو اس کی بہن صاحبزادی نے موبائل فون سے اسے اطلاع دی ، عرفان مہر بچے کو اسکول چھوڑ کر واپس آیا تو انہوں نے اسے نشانہ بنایا۔

    ملزم کا کہنا ہےکہ واردات کے وقت اس نے دیکھا کہ اس کا اپنا بیٹا خوشحال گاڑی کی پچھلی سیٹ پر عرفان بھائی کے ساتھ بیٹھا تھا تاہم اپنے بچے کو بچاتے ہوئے اس نے پے در پے فائرنگ کی۔

    ملزم کے مطابق واردات کے بعد وہ وہاں سے سہراب گوٹھ پہنچے اور پھر ایک گوٹھ میں پہنچ کر کچھ دیر قیام کیا، کپڑے تبدیل کیے۔ اور پھر وہاں سے کینٹ اسٹیشن پہنچے جہاں ہوٹل سے سامان لے کر چیک آؤٹ کیا اور کرائے کی کار میں شکارپور چلے گئے۔

    سی ٹی ڈی کے افسر راجہ عمر خطاب کے مطابق انہوں نے ٹیکنیکل بنیادوں پر اس واردات کا سراغ لگایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں مقتول کی بیوی صاحبزادی اور سالی شبانہ مرکزی ملزمان ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ عرفان علی مہر کو یکم دسمبر کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی بچی کو اسکول چھوڑ کر واپس آرہے تھے۔

  • ’والد کی گردن دھڑ سےالگ تھی،لاش کمرے میں پڑی تھی‘:بیٹے کی درخواست پرپولیس کا ایکشن:خاتون گرفتار

    ’والد کی گردن دھڑ سےالگ تھی،لاش کمرے میں پڑی تھی‘:بیٹے کی درخواست پرپولیس کا ایکشن:خاتون گرفتار

    کراچی :’والد کی گردن دھڑ سےالگ تھی،لاش کمرے میں پڑی تھی‘:بیٹے کی درخواست پرپولیس کا ایکشن:خاتون گرفتار،اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے صدر میں خاتون کے ہاتھوں مرد کے لرزہ خیز قتل کی واردات کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے صدر میں خاتون کے ہاتھوں مرد کے قتل کی واردات کا مقدمہ مقتول کے بیٹے شاہد کی مدعیت میں پریڈی تھانے میں درج کیا گیا، مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت درج کیا گیا۔

    مقتول کے بیٹے نے پولیس کو دئیے گئے بیان میں بتایا کہ خاتون میرے والد کے ساتھ رہتی تھی، مجھے اطلاع ملی کے والد کو کسی نے قتل کردیا ہے، جب پہنچا تو میرے والد کی لاش اسٹور نما کمرے میں پڑی تھی۔

    بیٹے نے پولیس کو بتایا کہ والد کی گردن دھڑ سے الگ تھی اور دونوں ہاتھ کلائی سے کٹے ہوئے تھے، برابر کمرے میں خاتون موجود تھی جس نے اپنا نام رباب، سونیا اور پھر عاصمہ بتایا۔

    مقتول شیخ محمد سہیل کے بیٹے کا کہنا ہے کہ خاتون نے تیز دھار آلے سے میرے والد کو قتل کیا، ملزمہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    واضح رہے کہ کراچی کے علاقے صدر عبداللہ ہارون روڈ پر عمارت میں خاتون نے ایک شخص کو قتل کرکے لاش کے ٹکڑے کردئیے تھے۔

    پولیس حکام کا کہنا تھا کہ خاتون کا بیوی ہونے کا دعویٰ مشکوک ہوگیا کیونکہ مقتول کے اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ خاتون مقتول کی اہلیہ نہیں ہے، ڈیڑھ سال پہلے بھی یہ خاتون ان کے پاس آئی تھی اور کہا مجھے شوہر نان نفقہ نہیں دے رہا۔

    پولیس کے مطابق خاتون کے ہاتھ اور کپڑے پر خون کے دھبے موجود تھے اور سارے شواہد اس کے خلاف تھے، پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کرکے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے، واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    سفاک بیوی نے شوپر کو قتل کرکے اس کے ٹکڑے کردیئے، ملزمہ واردات کے بعد آرام سے سو گئی، پولیس نے گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔

    اس حوالے سے پولیس نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی کے علاقے صدر میں خاتون کے ہاتھوں شوہر کا قتل ہوا ہے جس کے بعد ملزمہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی زبیر نذیر شیخ کے مطابق رباب نامی خاتون نے اپنے شوہر شیخ محمد سہیل کی لاش کے ٹکڑے کرکے مختلف کمروں میں پھینک دیئے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ شوہر کو قتل کرنے کے بعد ملزمہ رباب آرام سے سوگئی، اطلاع ملنے پر پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ گھر کی تلاشی کے دوران پولیس کو مختلف حصوں سے مقتول شیخ محمد سہیل کے جسمانی اعضاء ملے ہیں۔

    اس کے علاوہ خاتون کے قبضے سے مختلف اوزار بھی ملے ہیں، پولیس کے مطابق سفاک بیوی نے واردات کے بعد شوہر کی لاش کے ٹکڑے مختلف کمروں میں پھینک دیے تھے۔

    پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کی باقیات اور شواہد کوجمع کیا، کرائم سین یونٹ کی ٹیم کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ ملزمہ رباب کیخلاف مقدمہ درج کرکے واقعے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    ملزمہ دوران گرفتاری اور دوران تفتیش نشے میں مدہوش تھی، اس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ مجھے انصاف نہیں ملا اس لیے میں نے یہ کام کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کے بیٹے کے مطابق مذکورہ خاتون 7سال سے والد کے ساتھ رہ ر ہی تھی اور بظاہر یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ملزمہ اس کی دوسری بیوی تھی۔

    پولیس کے مطابق مقتول اور ملزمہ کی شادی کے فی الحال شواہد نہیں ملے، حالیہ شواہد اور بیان کے مطابق مطابق ملزمہ رباب نے اکیلے ہی قتل کی یہ سفاکانہ واردات انجام دی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واردات کے بعد ملزمہ نے آرام سے کپڑے تبدیل کئے اور سکون سے سوگئی، جائے وقوعہ سے اوزار برآمد کرلئے گئے ہیں۔خاتون نشے میں ہے اور اس کا میڈیکل بھی کرالیا گیا ہے، رپورٹ آنا باقی ہے۔