Baaghi TV

Tag: پولیس

  • پولیس افسران کا مورال بلند رکھنے کے لئے اقدامات ،ائی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان

    پولیس افسران کا مورال بلند رکھنے کے لئے اقدامات ،ائی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان

    اسلام آباد پولیس کے افسر و جوان ہمارا فخر ہیں .محکمہ پولیس نے اپنے زخمی یا بیمار ملازمین کے مورال کو بلند رکھنے کے اقدامات شروع کیے ہیں
    دوران ڈیوٹی کوئی افسر و جوان زخمی یا بیمار ہوتا ہے اس کا اور اہل خانہ کا خیال رکھنا محکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے.اپنے زیر تعیناتی زخمی و بیمار ملازمین کی تیمارداری کریں ان کی ہر ضرورت اور سہولت کا خیال کریں.ائی جی اسلام آباد خود بھی جوانوں کی عیادت کے لیے تشریف لے کر جائیں گیے ایسے اقدامات سے فورس کا مورال بلند ہو گا.
    ان احکامات کے تحت ائی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے تمام سینئر افسران کو ہدایت کی ہے

  • چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس – شاہ بانو

    چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس – شاہ بانو

    چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس
    تحریر شاہ بانو

    "بچے” یہ ایسا خوبصورت لفظ ہے کہ یہ نام لیتے ہی آنکھوں میں تارے سے جلملانے لگتے ہیں پھولوں کا تصور آتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں اور شرارتوں کے سین سے لبوں پہ مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔دنیا کا سنجیدہ سے سنجیدہ اور جابر سے جابر بھی ان کی ننھی حرکتوں کو دیکھ کر کھل جاتا ہے ۔
    اور عورت تو شادی کے بعد جوں ہی ماں بنتی ہے اس کی ساری دنیا ان بچوں تک محدود ہو جاتی ہے ۔ اسے لگتا ہے وہ انھیں بچوں کو دیکھ کر جیتی ہے اور یہی بچے اس کے لیے خوشیاں کا باعث ہی تو دکھوں کا مداوا ۔ وہ کتنے بھی درد میں ڈوبی ہو اپنے بچوں پہ نظر پڑتے ہی اس کے شکوہ کرتے لب ٹھہر جاتے ہیں۔اور وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت عورتوں میں شمار کرتی ہے ۔

    یہ ایک فطری سی بات ہے ہر ماں باپ شادی کے بعد اولاد کی خواہش کرتا ہے اور اس خواہش میں بیٹے کی خواہش زیادہ حاوی ہوتی ہے ۔
    بیٹا ایک ایسی نعمت ہے جس کی خواہش انبیا نے بھی کی اور قرآن پاک میں انبیا کی بیٹے کے لیے کی گئی دعائیں ملتی ہیں۔ اور ہمارے ہاں پہلی بار بیٹا ہو جائے تو خوشی سنبھالے نہیں سنبھلتی ۔بعض ماں باپ بیٹی کی بھی بہت خوشی مناتے ہیں لیکن بیٹے کی خواہش پھر بھی رہتی ہے
    میرا ذاتی تجربہ بھی یہی ہے اللہ رب العزت سے پہلی بار بیٹا مانگا لیکن بیٹی ہوئی تو پھر بھی خوش تھی لیکن بیٹے کی تڑپ پھر بھی تھی۔پھر ساڑھے چار سال بعد اللہ نے جب دوسری بھی بیٹی دے دی تو اللہ رب العزت کی طرف یہ رحمت بھی بہت اچھی لگی لیکن زچ ہے کہ
    بیٹے کی خواہش مزید بڑھ گئی تھی ۔ پھر شادی کے سات سال بعد اللہ نے بیٹے کی نعمت دی تو خوشی سے اپنی تکلیف بھول چکی تھی ۔اور جی چاہتا تھا وارڈ سے باہر بھاگ جاؤں اور ساری دنیا کو خوش خبری سناؤں کہ اللہ رب العزت نے بیٹا دیا ہے ۔
    ۔اور اگر بیٹے کے انتظار میں چودہ سال گزر جائیں تو سوچیں پھر ماں باپ کی تڑپ کہاں پہنچ جائے گی؟
    جی ہاں قصور کے رہائشی عبدالرحمن کے ہاں پہلی اولاد ایک بیٹی کے چودہ سال بعد اللہ رب العزت نے بیٹے کی نعمت سے نوازا تو اس ماں کی خوشی کا اندازہ لگائیے؟
    اس ماں نے آنکھوں میں کتنے سپنے سجا لیے ہوں گے ؟
    کیا کیا سوچا ہو گا؟
    کس طرح یہ خوشی منانی؟
    کیسے کیسے کپڑے پہناوں گی ؟
    کیسے شوز ہوں گے ؟ اس نے تو خیالوں میں کتنی بار سکول بھی بھیجا ہو گا۔
    دل خوشی سے قابو میں ہی نہ آتا ہوگا ۔
    کہ اچانک اس کے سپنے توڑ دئیے گئے اس کی خوشی لوٹ لی گئی اور اسے غم کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ۔
    جی ہاں قارئین! 30 اگست 2019 کو ملنے والی یہ خوشی 31 اگست 2019 کو اس وقت غم میں تبدیل ہو گئی جب بچے کو اس کی خالہ نے اٹھایا ہوا تھا کہ ایک ظالم عورت اس کے پاس آئی اور اس سے پوچھا کیا بچے کو پولیو کے قطرے پلادئیے ؟
    بچے کی خالہ نے جواب دیا "نہیں ” ۔
    اس پہ اس عورت نے کہا چلو لگواتے ہیں اور ڈی ایچ کیو ہسپتال کی وارڈ نمبر 24 کے پاس لے گئی اور وہاں اسے ایک پرچہ تھمائی اور کہا کہ یہ دوائی لے کر آؤ میں اسے اتنے میں انجیکشن لگواتی ہوں۔
    بچے کی خالہ جب دوائی لے کر واپس آئی تو وہ عورت وہاں سے غائب تھی ۔
    بچے کی خالہ کے اوسان خطا ہوگئے اور اسے ڈھونڈنے لگی لیکن وہ عورت وہاں سے غائب ہو چکی تھی۔
    سوچیں اس ماں کی کیفیت کا اندازہ لگانا بھی محال ہے ۔
    اس کے اوپر جو غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے کیسے جیتی ہوگی ٹوٹے خوابوں، کرچی دل ،ہر سانس غم میں ڈوبی وہ ماں۔
    ماں بچوں کے لیے دنیا کا سب سے زیادہ چاہنے والا رشتہ جو بچے کی ذرا سی تکلیف پہ تڑپ جاتی ہے اگر اس کا بچہ اللہ لے جائے تب بھی اس کی تکلیف ساری دنیا کے دکھوں سے بڑھ کر ہوتی ہے اور اگر خدانخواستہ گم ہوجائے یا اغواء تو پھر ایک ایک لمحہ سولی پہ گزرتا ہے۔
    ایک ویڈیو میں اسے تڑپتا ہوا سنا بھی جا سکتا ہے جب وہ روتے ہوئے کہتی ہے "جانے کس حال میں ہوگا میرا بچہ”۔تو کبھی وہ حکومت سے اپنے بچے کی بازیابی کے لیے فریاد کرتی نظر آتی ہے ۔
    بچہ اغواء کرنے والی عورت سی سی ٹی وی کیمرہ کی مدد سے پکڑی بھی جا چکی ہے لیکن وہ اصل حقیقت نہیں بتا رہی ۔
    وہ کبھی کہتی ہے کہ بچے کو نالے میں پھینک دیا تھا تو کبھی کہتی ہے بیچ دیا تھا ۔
    لیکن نالے میں پھینکے جانے والا بیان اس لیے بھی غلط ہے کہ سنا ہے نالہ ان دنوں خشک تھا دوسرا اس عورت کو یہ لوگ جانتے ہی نہیں تو جب جانتے نہیں پھر دشمنی کا بھی کوئی امکان نہیں، جب دشمنی نہیں تو بچے کو نالے میں پھینکنے کا ایک اجنبی عورت کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔
    البتہ بچے کس بیچنے والی بات قابل یقین ہے ۔
    ایسا ہی لگتا ہے کہ کسی بے اولاد جوڑے نے یا عورت نے اس سے بچے کی ڈیمانڈ کی ہوگی ۔
    یا یو سکتا ہے اس عورت کا تعلق بچوں کو آگے سیل کرنے والے کسی گروہ سے ہو ۔
    بہرحال حقیقت جو بھی ہو پولیس جو بڑے بڑے بدمعاشوں اور مجرموں سے سب اگلوا سکتی ہے تو ایک عورت سے آخر سچ اگلوانے میں ناکام کیوں؟
    کیا اس عورت کے ہاتھ قانون کے ہاتھ سے لمبے ہیں؟
    یا پھر قصہ کچھ اور ہے ۔
    جو بھی ہے ایک غریب خاندان ہونا بھی شاید جرم ہے جو پاکستان کے تھانوں میں اس ماں باپ کے لہولہان دل کو کوئی سکون پہنچانے کی کوشش نہیں ،کسی مسیحائی کی کوئی امید نہیں۔
    ہمارا حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ ہے کہ اس غریب ماں باپ کے جگر کے ٹکڑے کو فورا بازیاب کروایا جائے اور تڑپتی مامتا کے دل کا قرار لوٹایا جائے ۔
    اگر پولیس مجرم ملنے کے باوجود چھ ماہ سے بچے کو بازیاب نہیں کروا سکی تو تھانہ ایس ایچ کو معطل کیا جائے۔
    اور حقائق سامنے لائے جائیں۔
    آخر میں ہماری دعا ہے اللہ رب العزت ان ماں باپ کی مدد فرمائے اور ان کا بچہ ان کا سکون انھیں واپس لوٹا دے ۔آمین یا رب العالمین

  • تھانیدار کی سرعام رشوت خوری اور سینہ زوری

    تھانیدار کی سرعام رشوت خوری اور سینہ زوری

    قصور ، تھانہ صدر کا ارشاد اے ایس آئی جو کہ اب تھانہ مصطفی آباد میں ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے دیدہ دلیری سے رشوت خوری کرنے لگا، اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے شہریوں سے سرعام رشوت لینے کی دھمکیاں رشوت نہ دینے پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکیاں، اہل علاقہ کاآئی جی پنجاب، ڈی پی او قصور عمران کشور سے سے نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت آئے روز پولیس اصلاحات کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کرکے پولیس آفسران واہلکاران کا عوام کے رویہ مثبت بنانے اور رشوت خوری ختم کرنے پر کام کررہی ہے تاکہ اس محکمے سے رشوت خوری کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن بنایاجاسکے اور پولیس کا عوام کا ساتھ رویہ بہتربنانے عوام کا اعتماد بحال کیاجاسکے لیکن حکومت کی لاکھ کوششوں کے باوجود محکمہ پنجاب پولیس میں موجود کالی بھیڑیں حکومتی اقدامات کے راہ میں رکاوٹیں حائل کررہے ہیں،

    قصور میں واقع تھانہ صدر سے تبدیل ہوکے تھانہ مصطفی آباد للیانی میں تعینات ارشاد نامی اے ایس آئی نے اہل علاقہ کا جینا حرام کررکھا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ آئے روز مختلف وارداتوں میں ملوث ملزمان سے رشوت لے کر بغیر کسی ایف آئی آر کے ملزمان کو باعزت طریقہ سے اسپورٹ کی جاتی ہے اور اُن سے منہ مانگی رشوت طلب کرتاہے جب تک اے ایس آئی کی جیب گرم نہیں ہوتی اُس وقت تک شہری کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر وہ شہری رشوت کے پیسے دینے سے انکار کردے تو اُس کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے جبکہ ہم مزدور طبقہ لوگ ہیں اور بڑی مشکل سے محنت مزدوری کرکے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں، اوپر سے ارشاد اے ایس آئی جان بوجھ کر ہماری دن بھر کی کمائی ہڑپ کرلیتاہے،اگر منت سماجت کریں تو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں حوالات میں بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہے،

    اہل علاقہ کا آئی جی پنجاب، ڈی پی او قصور سے نوٹس لے کر ارشاد اے ایس آئی کے خلاف ناجائزاختیارات استعمال کرنے پر اور رشوت خوری لینے پر محکمہ کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا.

    امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا.

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی نے اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی بد امنی اور جرائم کی جانب کمیٹی کی توجہ مبز ول کراوئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہے جبکہ یہاں پولیس نے ایک نہتے طلب علم کو جان سے مار ڈالا اور اسکے والدین انصاف انتظار میں ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اسلام آباد کی امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا۔
    سینیٹر میاں عتیق شیخ نے بھی کہا کہ اسامہ ستی قتل کیس کے حقائق چھپانے کی کوشش نہ کی جائے اور اس کی غیر جانبدارنہ انکوائری کرائی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے بعض عوامی ارداشتوں کا بھی جائزہ لیا اور اُس پر بھی مناسب کاروائی کی ہدایات دیں۔
    اسلام آباد قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز جاوید عباسی، میاں عتیق شیخ کے علاوہ وزارت داخلہ، وزارت پیٹرولیم و ایف آئی اے اور دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
    کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قلت،  ذخیرہ اندوزی  اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام  ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ذخیرہ اندوزی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے بتایا کہ کرونا وباء کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ڈیمانڈ میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔
    اراکین کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ہر دور میں کسی نہ کسی مسئلے سے دو چار رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ جہاں پیٹرول کی کمی ہو وہاں اسے نہ صرف پورا کیا جائے بلکہ جو عناصر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہوں اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
    جبکہ ٹاپ کی 12کمپنیز جو اس میگا کرپشن میں شامل تھیں ان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا اور جن لوگوں نے باہر کے ممالک میں بیٹھ کر پیسہ لگاہا اور مصنوعی قلت پیدا کی تا کہ وہ اپنی جیبیں بھر سکیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔
    کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔

  • منشیات فروشوں کی شامت آئی

    منشیات فروشوں کی شامت آئی

    قصور
    پھول نگ میں، ایس ایچ او رانا سہیل احمد کا علاقہ بھر میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن متعدد ملزمان رنگے ہاتھوں گرفتار 90 لیٹر دیسی شراب بر آمد مقدمات درج
    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور کی ہدایت اور ڈی ایس پی سرکل پتوکی کے حکم پر تھانہ سٹی پھولنگر کے ایس ایچ او رانا سہیل احمد نے علاقہ بھر میں منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جس میں بدنام زمانہ منشیات فروشوں شرافت ولد لیاقت علی ، فریاد ولد رمضان قوم بھٹی ، اقبال مسیح ، نذیر احمد ولد رمضان قوم ماچھی اور شیراز ولد یونس کو مختلف علاقوں سے رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے انکے قبضہ سے 90 لیٹر شراب بر آمد کر لی تمام ملزمان کیخلاف الگ الگ مقدمات درج کر کے انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا اور مزید تفتیش شروع کر دی ، اہل علاقہ نے پولیس کی ان کاروائیوں کو خوب سراہا اور پولیس کو داد پیش کی

  • قصور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے

    قصور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے

    قصور
    ڈی پی او قصور عمران کشور کے حکم پر قصور پولیس میں تقرر و تبادلے کر دیئے گئے

    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور عمران کشور نے متعدد ایس ایچ اوز کے تقرروتبادلے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں جن میں سب انسپکٹر راحیل خاں انچارج چوکی جمبر سے ایس ایچ او تھانہ راجہ جنگ تعینات اور سب انسپکٹر محمد امجد ڈوگر پولیس لائن سے ایس ایچ او تھانہ کوٹرادھاکشن تعینات جبکہ
    سب انسپکٹر رائے سعدی ایس ایچ او منڈی تھانہ عثمانوالا انسپکٹر عمران سعید تھانہ کوٹرادھاکشن سے ایس ایچ او سٹی چونیاں اور انسپکٹر ذوالفقار حمید، سب انسپکٹر ذوالفقار احمد اور سب انسپکٹر محمد یاسر ڈسٹرکٹ پولیس لائن میں تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں

  • پولیس چور پکڑنے میں ناکام

    پولیس چور پکڑنے میں ناکام

    قصور
    ڈی پی او کے حکم کے باوجود 10 دن گزرنے کے باوجود تھانہ اے ڈویزن قصور ایف آئی آر پر ملزم گرفتار کرنے سے قاصر
    تفصیلات کے مطابق 10 دن قبل مقامی تاجر اور فلاحی،سماجی کارکن چوہدری خاور مسعود کا ڈگری کالج گراونڈ قصور میں نماز جنازہ پڑھتے ہوئے نامعلوم چور جیب سے موبائل لے اڑا جس پر تاجر اندراج مقدمہ کیلئے تھانہ اے ڈویژن گیا تو مقامی ایس ایچ او کو موجود نہ پاتے ہوئے محرر کے دفتر میں چلا گیا تو آگے منشی محرر دفتر ٹائم مین حقہ کے کش لگانے میں مصروف تھا اور ایس ایچ او کے بارئے لاعلمی کا اظہار کر رہا تھا جس پر تاجر نے قصور ڈی پی او کے دفتر پیش ہوکر آپنا موقف بیان کیا تو ڈی پی او نے ذاتی طور پر مقامی پولیس کو ایف آی آر اندراج کا حکم دیا جو جلد ہی درج تو ہوگئی مگر آج تک مقامی پولیس کی موبائل ریکوری اور ملزم کی گرفتاری میں بے بس نظر آرہی ہے جس پر مقامی سماجی، فلاحی افراد، ووکلا نے حکام بالا سے ملزم کی گرفتاری اور موبائل ریکوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • اوکاڑہ میں جرائم بے قابو، ڈکیتی کے دوران ایک نوجوان فائرنگ سے زخمی

    اوکاڑہ میں جرائم بے قابو، ڈکیتی کے دوران ایک نوجوان فائرنگ سے زخمی

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی قصبے گوگیرہ کے نواحی علاقے 34 جیڈی کے قریب نامعلوم افراد نے ڈکیتی کی نیت سے کلیم اللہ کو لوٹنا چاہا۔ مزاحمت کرنے پر فائرنگ کرکے اسے زخمی کردیا۔ پولیس مصروف کاروائی ہے۔ شہریوں نے باغی ٹی وی کو بتایا ہے کہ ایک دن میں دو دو تین تین ڈکیتیاں ہونے لگی ہیں اور پولیس جرائم پر قابو پانے میں فیل نظر آرہی ہے۔

  • اوکاڑہ: صدرگوگیرہ میں نوجوان کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مرکزی ملزم گرفتار

    اوکاڑہ: صدرگوگیرہ میں نوجوان کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مرکزی ملزم گرفتار

    اوکاڑہ(علی حسین) تھانہ گوگیرہ کی حدود میں چند بااثر افراد نے ایک نوجوان کو درخت سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نوجوان کو برہنہ کرکے کئی دیر تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ گوگیرہ پولیس نے وقوعہ کے مرکزی ملزم لیاقت کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ڈی پی او اوکاڑہ عمرسعیدملک نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو سخت سزا دلوائی جائیگی۔