Baaghi TV

Tag: پولیس

  • بلوچستان دہرا قتل کیس:مقتولہ کی ماں گرفتار

    بلوچستان دہرا قتل کیس:مقتولہ کی ماں گرفتار

    بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر مرد و خاتون کے قتل کے کیس میں مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو ایک ویڈیو بیان جاری کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گل جان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گل جان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں قتل کی حمایت کی اور گرفتار افراد کو بے گناہ قرار دیا پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بیان دہرے قتل کی حمایت اور انصاف کے عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے مترادف ہے۔

    ویڈیو بیان میں گل جان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیٹی بانو بی بی کو ایک لڑکے کے ساتھ تعلقات کی بنا پر بلوچ جرگے کے فیصلے کے تحت قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکا ٹک ٹاک ویڈیوز بناتا تھا جس سے ان کے بیٹے مشتعل ہوتے تھے گل جان نے کہا کہ بانو پانچ بچوں کی ماں تھی ہمارے لوگوں نے کوئی ناجائز فیصلہ نہیں کیا، یہ فیصلہ بلوچی رسم و رواج کے تحت کیا گیا تھا انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس فیصلے میں سردار شیر باز ساتکزئی کا کوئی کردار نہیں تھا اور جرگہ ان کے بغیر ہوا تھا۔

    گل جان نے ویڈیو میں اپیل کی کہ سردار شیر باز ساتکزئی سمیت گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

    دوسری جانب سردار شیر باز ساتکزئی نے گرفتاری سے قبل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس الزام کی تردید کی تھی ان کا کہنا تھا کہ ان کی سربراہی میں کوئی جرگہ منعقد نہیں ہوا اور یہ فیصلہ گاؤں کے مقامی افراد نے خود کیا تھا دہرے قتل میں ملوث مرکزی ملزم جلال تاحال مفرور ہے اور اس کی تلاش جاری ہے، پولیس نے مقدمے کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل اضافہ،مودی حکومت خاموش تماشائی

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل اضافہ،مودی حکومت خاموش تماشائی

    مودی راج میں خواتین کے خلاف جرائم عروج پر ہیں، بھارت عورتوں کے لیے جہنم بن چکا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست اڈیشہ کے جگت سنگھ پور میں 18 سالہ لڑکی کو اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، متاثرہ لڑکی اپنی سہیلی کے ساتھ سالگرہ کی تقریب سے واپس آ رہی تھی کہ راستے میں 2 افراد نے اسے اغوا کر لیا متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ ملزمان نے لڑکی کو کھیت میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جب کہ اس کی سہیلی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی، لڑکی کی حالت تشویشناک ہے اور وہ ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال میں داخل ہے،پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے-

    بابوسر ٹاپ :سیلابی ریلے میں بہنے والے 3 سالہ عبد الہادی کی لاش مل گئی

    ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس کے خلاف اپوزیشن سراپا احتجاج ہے اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت گزشتہ ایک سال میں قانون و انصاف کی بحالی میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے بی جے ڈی کے رہنما پریابرات موہاپاترا نے کہا کہ ہم تمام مجرموں کی گرفتاری تک ایس پی آفس کا گھیراؤ جاری رکھیں گے۔

    مودی کے دور میں بھارت خواتین کے لیے ایک خونیں قید خانہ بن چکا ہے اور انصاف صرف ایک خواب بن کررہ گیا ہے، بی جے پی کی کٹھ پتلی حکومت کے دور میں ریپ کلچر بھارت کی نئی پہچان بن چکا ہے اور مودی سرکار صرف جھوٹے نعروں تک محدود ہو گئی ہے "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ” صرف ایک فر یب بن کر رہ گیا ہے ۔

    حماس نے جنگ بندی کی تجاویز منظور کر کے معاہدہ ثالثی فریقوں کو دے دیا

  • سوات مدرسہ طالبعلم قتل:مقتول طالبعلم فرحان کے نانا  کے  دل سوز انکشافات

    سوات مدرسہ طالبعلم قتل:مقتول طالبعلم فرحان کے نانا کے دل سوز انکشافات

    خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں واقع چالیار مدرسے میں گزشتہ روز بہیمانہ تشدد کا شکار ہونے والا طالبعلم فرحان زندگی کی بازی ہار گیا،تاہم اب مقتول طالبعلم فرحان کے نانا بخت مند نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دل سوز انکشافات کیے ہیں-

    مقتول طالبعلم فرحان کے نانا بخت مند نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دل سوز انکشافات کیے انہوں نے کہا کہ فرحان نے چند روز قبل گھر آ کر بتایا تھا کہ مدر سے کے اساتذہ اس سے جنسی مطالبات کر رہے ہیں اور وہ وہاں مزید تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تاہم گھر والوں نے اسے معمولی بہانہ سمجھ کر دوبارہ مدرسے بھیج دیا فرحان کے چچا نے مدرسے جا کر منت کی کہ بچے کو تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے اور فیس بھی دوگنا دینے کی پیشکش کی مگر چچا کے مدرسے سے نکلتے ہی اسا تذ ہ نے فرحان پر تشدد شروع کر دیا جو بعد میں اس کی جان لے گیا۔

    ڈی پی او سوات محمد عمر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے کے تحت سامنے آیا، ایف آئی آر میں چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں سے دو گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ مدرسے کے نو دیگر افراد کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے،تاہم مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے-

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار

    ڈی پی او کے مطابق مدرسہ غیر قانونی طور پر چل رہا تھا جسے اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ کی کارروائی کے بعد سیل کر دیا گیا ہے پولیس نے مدرسے میں زیر تعلیم تین سو طلبہ کو اپنی تحویل میں لے کر ان کے والدین کے حوالے کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے اور ہم کسی قسم کے سیاسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

    فرحان کے ہم جماعت ایک عینی شاہد نے بتایا کہ واپسی پر اساتذہ نے فرحان کو شدید مارا اور ایک الگ کمرے میں بھی تشدد جاری رکھا۔ جب اُسے پانی دیا گیا تو اُس نے تھوڑا سا پانی پیا، اپنا سر ساتھی کی گود میں رکھا اور خاموش ہو گیا۔

    واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے مدرسہ انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور کالام و مٹہ جانے والی شاہراہ بند کر دی۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مرکزی ملزم محمد عمر سمیت تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔

    جماعتِ اسلامی کا خیبر پختونخوا حکومت کی اے پی سی میں شرکت کا اعلان

  • بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آ گیا،ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

    بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آ گیا،ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

    بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آگیا جس نے کیس کا رخ ہی موڑ دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ میرا نام گل جان ہے اور میں بانو کی ماں ہوں، جھوٹ نہیں بول رہی ہوں، حقیقت یہ ہے کہ بانو پانچ بچوں کی ماں تھی، وہ کوئی بچی نہیں تھی اس کا بڑا بیٹا نور احمد ہے، جس کی عمر 18 سال ہے، دوسرا بیٹا واسط ہے، جو 16 سال کا ہےاس کے بعد اس کی بیٹی فاطمہ ہے، جو 12 سال کی ہے، پھر اس کی بیٹی صادقہ ہے، جو 9 سال کی ہے، اور سب سے چھوٹا بیٹا زاکر ہے جس کی عمر 6 سال ہے۔

    والدہ نے کہا کہ یہ کوئی بے غیرتی نہیں تھی بلکہ بلوچ رسم و رواج کے مطابق کیا گیا، بانو 25 دن احسان کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور وہ اس کے ساتھ رہ رہی تھی 25 دن بعد وہ واپس آ گئی تب بانو کے شوہر نے بچوں کی خاطر اسے معاف کر دیا اور اسے ساتھ رکھنے پر راضی ہو گیا، احسان اللہ آئے روز میرے بیٹوں کو دھمکیاں دیتا تھا، آئے روز ٹک ٹاک ویڈیوز بنا کر میرے بیٹوں کو طیش دلاتا تھا۔

    معاشی سطح پر حکومت پاکستان کی مکمل معاونت کریں گے،عالمی بینک

    والدہ نے مزید کہا کہبیٹی بانو کو بلوچی رسم و رواج کے مطابق سزا دی گئی، بلوچی معاشرتی جرگے کے ذریعے بانو کو سزا دی گئی، ہمارے لوگوں نے کوئی ناجائز فیصلہ نہیں کیا، ہم نے لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ سردار شیر باز ساتکزئی کے ساتھ نہیں، بلکہ بلوچی جرگے میں کیا،میں اپیل کرتی ہوں کہ سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

    بلوچستان میں جوڑے کا قتل :ملزم سردار شیرباز ستکزئی کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    واضح رہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں عیدالاضحیٰ سے 3 روز قبل بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو بے دردری سے سرعام قتل کیا گیا تھا، واقعے کی ویڈیو 2 روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے پرپولیس حرکت میں آئی تھی۔

    واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایچ ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے مرکزی ملزم بشیر احمد اور ستکزئی قبیلے کے سربراہ سردار شیر باز ستکزئی، ان کے 4 بھائی اور 2 محافظوں سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا، واقعے میں مبینہ طور پر شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر، عجب خان، جان محمد، بشیر احمد اور دیگر 15 نامعلوم افراد شامل تھے، ان افراد نے خاتون اور مرد کو سردار شیر باز خان کے سامنے پیش کیا جہاں سردار نے کارو کاری کا فیصلہ سنایا اور دونوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، بعدازاں انہیں گاڑیوں میں لے جا کر کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ڈیگاری میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈیگاری میں قتل کیے گئے خاتون اور مرد کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا، دونوں شادی شدہ تھے اور دونوں کو 5،5 بچے تھے۔

  • کراچی: شوہر کے مبینہ بدترین جنسی تشدد سےکوما میں جانیوالی نوبیاہتا لڑکی انتقال کر گئی

    کراچی میں شوہر کے مبینہ بدترین جنسی تشدد کے بعد کوما میں جانے والی نوبیاہتا لڑکی انتقال کر گئی۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق شوہر کے بہیمانہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی 19 سالہ شانتی 23 جولائی کی صبح 10 بج کر 45 منٹ پر سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں دم توڑ گئی،متاثرہ لڑکی کو ایک اور ہسپتال میں آپریشن کے بعد تشویشناک حالت میں سول ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، ابتدائی میڈیکل معائنے میں جنسی تشدد کے شواہد ملے تھے۔

    بغدادی تھانے کے ایس ایچ او مجید علی نے بھی لڑکی کی موت کی تصدیق کی، ان کے مطابق شانتی کی شادی 15 جون کو اشوک نامی شخص سے ہوئی تھی اور دو دن بعد شوہر نے ان پر غیر فطری انداز میں جنسی تشدد کیا، جس سے ان کی طبیعت بگڑ گئی لڑکی کے بھائی کی شکایت پر 5 جولائی کو مقدمہ درج کیا گیا تھا اور ملزم کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

    امریکی صدر نے پانچ طیارے گرانے کا بیان ایک بار پھر دہرا دیا

    واضح رہے کہ مذکورہ متاثرہ لڑکی کو رواں ماہ 7 جولائی کو کوما کی حالت میں ٹراما سینٹر لایا گیا تھا، جنہاں وہ تقریبا دو ہفتوں تک زیر علاج رہیں لیکن بد قسمتی سے 23 جولا ئی کو انتقال کر گئیں بغدادی تھانے میں 5 جولائی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 376-B اور 324 کے تحت درج ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ سیّو ں چانگو نے کہا کہ وہ لیاری کے علاقے شاہ بیگ لین کا رہائشی ہے، اس کی چھوٹی بہن (شانتی)، جس کی عمر 19 سال ہے، کی شادی 15 جون 2025 کو اشوک مو ہن سے ہوئی تھی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 30 جون کو بہن کی طبیعت بگڑنے پر وہ اسے واپس گھر لے آئے جہاں اس نے والدین کو بتایا کہ 17 جولائی کو اس کے شوہر نے اس کے ساتھ ’غیر فطری جنسی عمل‘ کیا، ملزم شوہر نے مبینہ طور پر اس کے نازک اعضا میں ’آہنی پائپ‘ ڈال دیا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔

  • حمیرا اصغر کیس: پولیس نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی

    حمیرا اصغر کیس: پولیس نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی

    کراچی: پولیس نے حمیرا اصغر کیس میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔

    پولیس نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کی عدالت میں حمیرا اصغر کیس کی رپورٹ جمع کرائی،پولیس رپورٹ کے مطابق حمیرہ کے گھر والوں سے رابطہ ہوا ہے، لاش کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے، حتمی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے،عدالت کا کہنا ہے کہ گھر والوں سے پوچھیں وہ مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں یا نہیں، بعد ازاں عدالت نے 16 اگست کو کیس کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    درخواست معروف وکیل شاہ زیب سہیل ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ حمیرہ اصغر کو قتل کیا گیا ہے، لہٰذا مقدمہ درج کر کے مکمل تحقیقات کی جائیں۔

    درخواست گزار کے وکیل بدالا احد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ حمیرااصغر کی موت 7 اکتوبر کو ہوئی، لیکن ان کا موبائل فون فروری 2025 تک استعمال ہوتا رہا۔ وکیل کے مطابق فون کھلا ہوا تھا لیکن میک اپ آرٹسٹ کی فون کالز اٹینڈ نہیں کی گئیں، بعد ازاں حمیرا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے ڈی پی بھی ڈیلیٹ کر دی گئی۔

    وکیل نے مزید استدعا کی کہ میک اپ آرٹسٹ کو طلب کیا جائے، حمیرا کے بھائی اور دیگر اہلخانہ کو بھی شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا جائے، اور پولیس رپورٹ میں ذکر کیے گئے خون کے نمونوں کی بنیاد پر کیس کی نوعیت کو قتل قرار دیا جائے۔

    پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگر ٹھوس شواہد سامنے آئے تو پولیس خود مقدمہ درج کرے گی۔

    درخواست میں ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او گزری کو فریق بنایا گیا ہے عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

    اس سے قبل پولیس کو حمیرا کے فلیٹ میں 3 سے 4 جگہ پر مٹی کے برتن میں رکھا سفید پاؤڈر ملا جس کے بعد پولیس نے اس پاؤڈر کو کیمیکل تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجنے کا فیصلہ کیا تھاپولیس ذرائع کے مطابق بظاہر اتنی جگہوں پر سفید پاؤڈر رکھنے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی۔

    واضح رہے کہ حمیرا اصغر کے اسٹائلسٹ دانش مقصود نے اداکارہ کی گمشدگی اور موت سے متعلق نئے تہلکہ خیز انکشافات کردیئے جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

    حمیرا اصغر کے اسٹائلسٹ دانش مقصود نے دعویٰ کیا ہے کہ اداکارہ کے فون پر 5 فروری 2025 کے بعد سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ دانش مقصود کے مطابق حمیرا سے ان کی آخری گفتگو 2 اکتوبر 2024 کو ہوئی تھی، جبکہ ان کا واٹس ایپ لاسٹ سین 7 اکتوبر کو دیکھا گیا تھا۔

    دانش کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے بعد انہوں نے متعدد بار اداکارہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر نہ کالز کا جواب ملا اور نہ ہی بھیجے گئے پیغامات پڑھے گئے۔ جب طویل عرصے تک اداکارہ کی کوئی اطلاع موصول نہ ہوئی، تو انہوں نے 5 فروری 2025 کو سوشل میڈیا پر حمیرا کی گمشدگی سے متعلق پوسٹ کی 6 فروری کو جب دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو واٹس ایپ پر اداکارہ کی ڈی پی غائب تھی اور لاسٹ سین بھی بند ہو چکا تھا جو کہ مشکوک ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے دانش مقصود سے رابطہ کر کے اسکرین شاٹس حاصل کر لیے ہیں اور تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 8 جولائی کو اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں ایک فلیٹ سے ملی تھی اور وہ گزشتہ 7 سال سے اس فلیٹ میں مقیم تھیں۔

  • مظفرگڑھ: 10 سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی میں ملوث ملزم گرفتار

    مظفرگڑھ: 10 سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی میں ملوث ملزم گرفتار

    مظفرگڑھ : تھانہ سٹی کوٹ ادو پولیس نے کم عمر بچی سے زیادتی کے مرتکب ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان مظفرگڑھ پولیس نے بتایا کہ 10 سالہ بچی کے اغوا و زیادتی کے نامعلوم ملزم کو ٹریس کر لیا گیا ہے، درندہ صفت ملزم نے معصوم بچی کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا تھا پولیس نے پیشہ وارانہ مہارت و جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کو ٹریس کیا پولیس نے زیادتی و اغوا کرنے والے ملزم سے تفتیش کی تو اس نے انکشاف کیا کہ معصوم بچی کو آم کھلانے کے لیے باغ میں بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا،متاثرہ بچی کے والد نے 9 جولائی کو مقدمہ درج کروایا تھا، بچی کے والد سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت کرتے ہیں۔

    بنوں:پولیس چوکی پر خوارج کے حملے َ،تھرمل ٹیکنالوجی کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام

    بچی کے والد نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ سودا سلف لینے نکلی تھی، سر راہ اسے ایک نا معلوم شخص نے ورغلاتے ہوئے کہا تھا کہ میں تمہارے والد کا دوست ہوں، اور آم کی پیٹی انہیں بھیجنی ہے، یہ سن کر بچی اس شخص کے ساتھ چلی گئی، تاہم میرے گھر پہنچنے پر بچی واپس نہ آئی تو چند لوگوں کے ساتھ اسے ڈھونڈنے نکلا، جو ہمیں فرمان والا کے قریب سڑک سے ملی بچی نے ساری بات اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بتایا، جس کے بعد میں تھانے میں رپورٹ درج کروا نے آیا ہوں، کارروائی کی جائے۔

    جموں : دہائیوں پرانے کیس میں دو کشمیریوں کو عمرقید کی سزا

  • بنوں:پولیس چوکی پر  خوارج کے حملے َ،تھرمل ٹیکنالوجی کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام

    بنوں:پولیس چوکی پر خوارج کے حملے َ،تھرمل ٹیکنالوجی کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام

    خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کی چوکی مزانگہ اور چوکی شیخ لنڈک پر خوارج کےحملے پولیس نے بھرپور جوابی کاروائی سے ناکام بنا دیے، پولیس کی بروقت اور بھرپور جوابی کارروائی کے باعث دہشت گرد پسپا ہو کر فرار ہوگئے۔

    گزشتہ شب تھانہ ہوید بنوں کی حدود میں دو پولیس چیک پوسٹوں شیخ لنڈک پر ڈرون اور مزانگہ پر خوارج نے چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں سے حملے کیے، حملے میں پولیس کی تھرمل کیمرہ ٹیکنالوجی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم پولیس اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت، دلیری اور ہوشیاری سے بروقت اور مؤثر جوابی کاروائی کرتے ہوئے دونوں حملوں کو پسپا کر دیا۔

    بھرپور جوابی کاروائی کے نتیجے میں دہشت گرد فرار ہونے پر مجبور ہو گئے، جب کہ حملے میں چوکی کی عمارت ُ پولیس تنصیبات اور نفری محفوظ رہی،پولیس کی جانب سے علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ فرار ہونے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے،سی پی او پشاور نے بتایا کہ دونوں مقامات پر پولیس فورسز چوکس تھیں، جس کے باعث تھرمل ٹیکنالوجی کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔

    امریکا میں بھارتی تارکین وطن کیساتھ غیر انسانی سلوک پرمودی سرکار خاموش تماشائی

    آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بنوں سجاد خان نے بنوں پولیس کی جرات مندانہ کاروائی کو سراہتے ہوئے تمام جوانوں کو شاباش دی اور انعامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ کاروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں خیبرپختونخوا پولیس ہر محاذ پر چوکنا، مستعد اور مکمل طور پر تیار ہے آئندہ بھی ایسے تمام حملوں کا بھرپور اور جرأت مندانہ انداز میں جواب دیا جائے گا پولیس فورس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔

    آئی ٰ ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نےعہدے سے استعفیٰ دیدیا

  • کوئٹہ میں مقتول مرد اور خاتون کی قبرکشائی، باقیات کے نمونے لے لیے گئے

    کوئٹہ میں مقتول مرد اور خاتون کی قبرکشائی، باقیات کے نمونے لے لیے گئے

    کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں قتل ہونے والے مرد اور خاتون کی قبرکشائی ہوگئی، دونوں افراد کے باقیات کے نمونے لے لیے گئے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ نے کے حکم بعد کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں قتل ہونے والے مرد اور خاتون کی قبرکشائی کی گئی، دونوں افراد کے باقیات کے نمونے لے لیے گئے نمونے ڈی این اے اور نادرا سے تصدیق کروائے جائیں گے، قبرکشائی میں علاقہ مجسٹریٹ، ایس ایچ او، پولیس سرجن اور دیگر عملہ موجود تھا۔

    علاوہ ازیں کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور واقعے کا مقدمہ بھی ہنہ اوڑک تھانے میں درج کیا جا چکا ہے،کوئٹہ پولیس نے ملزمان کیخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ زیر دفعہ 302 ت پ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہےایس ایچ او نوید اختر تھانہ ہنہ اوڑک کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، مدعی نے تھانہ میں تحریری درخواست دی کہ ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خاتون اور مرد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا،پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہو گا کہ خاتون اور مرد کو کتنی کتنی گولیاں ماری گئیں، معلوم ہو گا کہ واقعہ کتنے دن پرانا ہے۔

    وزیراعظم نےڈیجیٹل ڈریپ سسٹم کا افتتاح کر دیا

    جبکہ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور آئی جی بلوچستان کو کل طلب کرلیا ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، ویڈیو میں مسلح افراد نامعلوم مقام پر ایک خاتون اور مرد پر اندھا دھند فائرنگ کرتے دکھائی دے رہے تھےترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو وائرل ہونے کا نوٹس لیا تھاغیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ عیدالاضحیٰ کے قریب کا واقعہ ہے، اب تک لاشیں برآمد نہیں ہوئیں، علاقے میں اس وقت سی ٹی ڈی اور پولیس موجود ہے۔

    حکومت نے گزشتہ کئی سالوں سے محکمہ ریلوے میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی،ریلوے حکام

  • کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مارگٹ میں خاتون اور مرد کے لرزہ خیز قتل پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں، ریاست ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اس کیس میں بھی ریاست مظلومین کے ساتھ ہے-

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے قبل ہی انہوں نے نوٹس لے کر آئی جی کو ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا اب تک اس کیس میں 11 افراد کی گرفتاری ڈالی جاچکی ہےجبکہ مزید کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں،کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں، ریاست ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اس کیس میں بھی ریاست مظلومین کے ساتھ ہے۔

    انہوں نے متعلقہ ڈی ایس پی کو معطل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی سردار سردار شیرباز خان کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے،حکومت واقعے کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کرا رہی ہے سوشل میڈیا پر اس قتل کو نوبیاہتا جوڑے کا قتل قرار دیا جارہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کا آپس میں کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا مقتولہ بانو بی بی پہلے سے شادی شدہ اور پانچ بچوں کی ماں تھی، اور مقتول احسان اللہ بھی شادی شدہ تھا۔

    شاہد آفریدی سے ملاقات کی تصویر وائرل ہونے پر اجے دیوگن کو تنقید کا سامنا

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ وکٹم بلیمنگ کی روش پر نہیں چلیں گے کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ذاتی فیصلے کرتے ہوئے کسی کو قتل کردے سرفراز بگٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جرگوں کی آڑ میں قتل جیسے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، اور حکومت ایسے غیرقانونی جرگوں کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ مقتولین کے لواحقین اب تک ایف آئی آر درج کرانے کو تیار نہیں، لیکن اس کے باوجود ریاستی سطح پر مقدمہ درج کیا گیا ہے پولیس جب تفتیش کے لیے جاتی ہے تو مرد علاقے سے غائب ہو چکے ہوتے ہیں، جبکہ خواتین گھروں سے باہر نکل کر پولیس پر پتھراؤ کرتی ہیں آئندہ بھی ایسے جرگوں کی حمایت نہیں کی جائے گی، بلکہ آئینی و قانونی طریقہ کار ہی اپنایا جائے گاانہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کیس میں تمام ملوث افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا، اور انصاف ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔

    امریکا ’’سکھ فار جسٹس‘‘ کا بھارتی یومِ آزادی سے متعلق بڑا اعلان

    سرفراز بگٹی کے مطابق یہ ویڈیو کسی نے باہر سے حاصل نہیں کی، بلکہ یہ قاتلوں کی ”مہربانی“ ہے کہ انہوں نے خود اسے پوسٹ کیا۔ حکومت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ہی قاتلوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا آج کا دور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں تحقیق کے بغیر خبریں پھیل جاتی ہیں ان کے خیال میں کسی بھی خبر کو جاننے کے بعد اس کی تحقیق ضرور کرنی چاہیےاس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں آج بھی جرگہ سسٹم قائم ہے اور کہیں نہ کہیں ہم سب اس نظام کے اثر میں آ رہے ہیں، مگر حکومت آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان جرگوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔