Baaghi TV

Tag: پولیس

  • اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ڈیوٹی دینے سے معذرت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی پولیس کے اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ نے 3 دسمبر کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ ڈیوٹی سے غیر حاضری پر سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔

    سرکلر میں کہا گیا ہے کہ 23 سے 26 نومبر تک غیر حاضر رہنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔ اس حوالے سے فہرستیں فوری طور پر طلب کر لی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ سرکلر کی نقول اسلام آباد کے تمام اہم پولیس افسران جیسے ڈی آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی سکیورٹی، ڈی آئی جی لاء اینڈ آرڈر، ڈی آئی جی سیفٹی، اے آئی جی لاجسٹکس اور اے آئی جی سپیشل برانچ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

    اس وقت تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران پولیس کی ڈیوٹی پر غیر حاضری ایک اہم مسئلہ بن گئی تھی، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری کا الزام تھا کہ کچھ اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے یا حکومت کے خلاف کسی قسم کی ہمدردی کی وجہ سے جان بوجھ کر اپنے فرائض سے گریز کیا،سرکلر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرفی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اس سے پولیس فورس میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے ایسا رویہ اپنانے سے بچا جا سکے جو ادارے کی ساکھ اور کارکردگی پر منفی اثر ڈالے۔

    اس کارروائی کو حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی سیاسی دباؤ یا ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے فرائض کو انجام دیں گے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پولیس فورس میں انضباطی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

    نتیجہ:

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے یہ کارروائی پولیس اہلکاروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ کسی بھی صورت میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت نہیں برتی جائے گی، اور کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو اپنے فرائض سے غفلت یا لاپرواہی برتے گا۔ اس کا مقصد عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

  • اداکارہ نرگس فخری کی بہن نے سابق بوائے فرینڈ اور اس کی دوست کو زندہ جلا دیا

    اداکارہ نرگس فخری کی بہن نے سابق بوائے فرینڈ اور اس کی دوست کو زندہ جلا دیا

    نیویارک: اداکارہ نرگس فخری کی بہن نے سبق بوائے فرینڈ اور اس کی دوست کے گھر کو آگ لگا دی-

    باغی ٹی وی :عالیہ فخری کو نیویارک کے شہر کوئنز میں اپنے سابقہ بوائے فرینڈ اور اس کے دوست کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے،43 سالہ عالیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک دو منزلہ مکان کو آگ لگائی جس کے نتیجے میں 35 سالہ ایڈورڈز جیکبز اور 33 سالہ ایناستاسیا ایڈین دھوئیں سے دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہو گئے۔

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ اٹارنی نے بیان دیا کہ ایک عینی شاہد کے مطابق یہ واقعہ 2 دسمبر کی صبح نیویارک پیش آیا جب 43 سالہ عالیہ فخری 2 منزلہ گیراج کے باہر پہنچیں اور زور زور سے چیخی چلائیں کہ ‘آج تم سب کا آخری دن ہے، تم سب مرو گے، اس دوران پڑوسی شور شرابا سن کر گھروں سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ گھر بری طرح آگ کی لپیٹ میں تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق عالیہ کا سابق بوائے فرینڈ 35 سالہایڈورڈز جیکبز اور اس کی 33 سالہ خاتون دوست ایناستاسیا ایڈین اوپر والی منزل میں سورہے تھے، آگ بجھانے کے بعد دونوں کی لاشوں کو باہر نکال لیا گیا، دونوں کی موت گھر میں دھواں بھر جانے اور جھلسنے سے ہوئی،اداکارہ کی بہن عالیہ فخری کو پولیس نے دوہرے قتل کے جُرم میں گرفتار کرلیا اور ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی-

    تحقیقات کے مطابق حسد کو اس واقعے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے اور اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو عالیہ فخری کو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے کوئنز کرمنل کورٹ میں عالیہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے جبکہ اس کیس کی اگلی سماعت 9 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

    ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مرنے والے جیکبز کی ماں نے اپنے بیان میں بتایا کہ عالیہ جیکبز سے دوبارہ اپنے تعلقات بحال کرنا چاہتی تھی لیکن جیکبز اس کے لیے رضامند نہیں تھا ان کا بیٹا اب ایڈین کے ساتھ تھا اور وہ دونوں خوش تھے، عالیہ نے یہ انتہائی قدم جلن اور حسد میں اٹھایا۔

    نرگس فخری کی والدہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالیہ کسی کو نقصان پہنچانے کی سوچ بھی نہیں سکتی وہ ایک مددگار اور دوسروں کا خیال رکھنے والی شخصیت تھیں،مذکورہ معاملے پر نرگس فخری کا کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا ہے نہ ہی اداکارہ اس موقع پر اپنے خاندان کے پاس موجود ہیں۔

  • پی ٹی آئی احتجاج:مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے

    پی ٹی آئی احتجاج:مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے

    راولپنڈی: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اٹک ڈاکٹر غیاث گل نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے،برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیلز پولیس کے پاس موجود شیلز سے 3 سے 4 گنا زیادہ تیز ہیں-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی پولیس لائنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پاکستان میں موجود ہی نہیں، وہ انہوں نے درآمد کئے،اٹک میں مظاہرین کا ایک شخص بھی زخمی نہیں ہوا، 26 نومبر کی رات کو پولیس پر فائرنگ کی گئی لیکن ہم نے جانفشانی سے معاملے کو سنبھالا۔

    ڈی پی او نے کہاکہ برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیلز پولیس کے پاس موجود شیلز سے 3 سے 4 گنا زیادہ تیز ہیں، مظاہرین کے ہینڈلرز پولیس کی وائرلیس فریکوئینسی متاثر کرتے رہے پتلون کے ساتھ تصویر بنا کر شہد ااور غازیوں کی تذلیل کی جارہی ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ آج ہم کس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں۔

    ڈی چوک احتجاج، عمران ، بشری کے وارنٹ جاری

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے کہاکہ گرفتار مظاہرین عسکری ونگ کے کارندے ہیں، ان لوگوں نے پولیس پر فائرنگ کی، گرفتار افراد میں سے 89 لوگ ایسے ہیں جن کا پاکستان میں کوئی ریکارڈ ہی نہیں، مظاہرین کی گاڑیوں میں موجود کین میں کیمیکل موجود تھا، اندازاً 8 فیصد لوگ مظاہرین میں ایسے تھے جو مظاہرین پر حملوں میں ملوث تھے۔

    انہوں نے مزید کہاکہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین میں شامل عسکری سکواڈ کے نمائندے 500،500 کی ٹولیوں میں چل رہے تھے یہ لوگ 3 سے 4 منٹ میں پہاڑوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھےغازی بروتھا کے مقام پر جیٹ انجن کے ذریعے پولیس پر آنسو گیس چلائی گئی، پولیس مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال نہیں کرسکتی پی ٹی آئی 3 بار احتجاج کرتے ہوئے اٹک میں آئی ہے اور 250 پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا، ان اہلکاروں کی فیملیز ہیں، ہم کس کس کو جواب دیں گے۔

    جو سیکڑوں شہادتیں کہہ رہے ہیں ہم ان سے اعلان لاتعلقی کرتے ہیں،بیرسٹر گوہر

  • خواتین سے نازیبا حرکات ،سکول پرنسپل کی ویڈیو وائرل

    خواتین سے نازیبا حرکات ،سکول پرنسپل کی ویڈیو وائرل

    شیخوپورہ کے ایک اسکول کے پرنسپل کو خواتین  سے نازیبا حرکات کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم پرنسپل ارسلان ولد ریاست خواتین  کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کرتا اور ان کی ویڈیوز بناتا تھا۔ یہ ویڈیوز بعد ازاں ملزم ان اساتذہ کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پرنسپل کے خلاف اس وقت کارروائی کی گئی جب خواتین  کی چار ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔پولیس حکام کے مطابق ملزم کی جانب سے خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، سکول میں لگے سی سی ٹی وی کی ویڈیو سامنے آئی ہیں، ملزم نے خواتین کے ساتھ زیادتی کی اور نازیبا حرکات کیں، اس واقعے نے اسکول کے تعلیمی ماحول اور مقامی کمیونٹی میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزم سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ملزم نے اس نوعیت کی مزید ویڈیوز اور بلیک میلنگ کی سرگرمیاں تو نہیں کیں۔

    اس اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد مقامی اسکول کے اساتذہ اور والدین میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزم پر سنجیدہ الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

  • کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم کا علاقہ شیعہ اور سنی کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔ سب سے خونریز سال 2007 سے 2011 کے دوران تھے، جب 2,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    یہ پہاڑی علاقہ جو افغانستان کے خوست، پکتیا اور ننگرہار صوبوں کے ساتھ متصل ہے، اب شدت پسند گروپوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسی تنظیمیں یہاں حملے کرتی رہتی ہیں، جس سے علاقے میں مزید عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    حالیہ تشدد ایک اراضی کے تنازعے سے شروع ہو کر قبائلی اور فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ محسود، ایک قبائلی سردار، نے کہا، "یقیناً علاقے میں لوگوں میں بہت غصہ اور نفرت ہے تاہم، ہمیں کرم کے علاوہ دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔”

    اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تناؤ کو کم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک قبائلی جرگہ کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے تاکہ امن کی کوشش کی جا سکے۔ ایک نیا صوبائی ہائی وے پولیس فورس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اہم نقل و حمل کے راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ان اقدامات کے باوجود، ایک اعلی سطحی وفد جس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری بھی شامل تھے، عارضی فائر بندی پر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔

    یہ تنازعہ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی پیچیدگیوں میں گہرا جڑا ہوا ہے جس کا حل ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم، جیسا کہ بانی پاکستان کے ویژن تھا ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون اور انصاف کی بحالی ،لیکن یہاں کیا ریاست کرم میں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟اس بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دارالحکومت میں سیاسی لڑائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جس کی وجہ سے کرم کے عوام حکومت کی غفلت کا سنگین نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

  • ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    پشاور: خیبرپختونخوا کے علاقے ڈی آئی خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے قریبی رشتہ دار ثقلین خان گنڈاپور جاں بحق ہوگئے۔

    واقعہ ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی میں پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ثقلین گنڈاپور کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔خاندانی ذرائع کے مطابق مقتول ثقلین گنڈاپور کے والد اسماعیل خان، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے رشتہ میں چچا ہیں۔ یہ واقعہ وزیراعلیٰ کے خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، اور پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔پولیس نے واقعے کے فوراً بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملہ ذاتی رنجش یا زمین کے تنازعے کے باعث ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات کے بعد ہی اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے قریبی رشتہ دار کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ واقعہ افسوسناک ہے اور ہم ہر ممکن اقدام اٹھا کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔”اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور مقامی لوگ اس قتل کو ایک بڑے جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔پولیس کی ٹیموں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ قاتلوں تک پہنچا جا سکے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • قصور شہر کے وسط میں آغاز صبح کیساتھ ہی واردات،ڈی پی او سے نوٹس کی اپیل

    قصور شہر کے وسط میں آغاز صبح کیساتھ ہی واردات،ڈی پی او سے نوٹس کی اپیل

    قصور
    تھانہ سٹی اے ڈویژن میں آغاز صبح کیساتھ ہی شہری سے واردات ،ڈاکو اسلحہ کے زور پر ،موٹر سائیکل،قیمتی موبائل فون اور نقدی لے گئے،جاتے ہوئے شہری پر سیدھی فائرنگ بھی کی،شہری معجزاتی طور پر محفوظ رہا،ڈی پی او قصور سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور شہر کے مرکز میں چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس کے باعث لوگوں کا اب رات کیساتھ دن کو بھی گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا
    شہر میں ڈاکو راج قائم ہو چکا ہے
    شہر قصور کے مرکز گورنمنٹ ڈگری کالج قصور کے بلکل ساتھ واقع سیٹھی کالونی حدود تھانہ سٹی اے ڈویژن کا رہائشی اسد جاوید بھٹی ولد جاوید بھٹی آج صبح بوقت 6:30 اپنی موٹر سائیکل نمبری KSK 2652 پر اپنے گھر سے چارا لینے نکلا اور گھر کے قریب ہی دھوبی گراؤنڈ پر تین نقاب پوش اسلحہ بردار ڈاکوؤں نے روک کر موٹر سائیکل،قیمتی موبائل فون اور نقدی چھین لی جس پر اسد نے ڈاکوؤں ساتھ مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو ڈاکوؤں نے سیدھی فائرنگ کی تاہم اسد معجزاتی طور پر محفوظ رہا
    قصور شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شہریوں میں سخت خوف و ہراس پایا جا رہا ہے جس پر شہریوں نے ڈی پی او قصور سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت: خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں تھانے پر رات گئے دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشت گر فرار ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق لکی مروت کے علاقے تھانہ درہ پیزو پر رات کی تاریکی میں دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دو اطراف سے حملہ کیا اور اسنائپر گن سے پولیس کانسٹیبل کرامت اللہ کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا،دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان مقابلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا، پولیس کی بھرپور جوابی فائرنگ کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے، واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا،شہید اہلکار کی لاش ریسکیو حکام کی مدد سے اسپتال منتقل کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لکی مروت پہاڑ خیل پکہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے شہید پولیس اہلکار چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا جو اس دہشت گردی کا شکار بن گیا، وزیراعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

  • صحافی شاکر اعوان بازیابی کیس، آئی جی پنجاب ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    صحافی شاکر اعوان بازیابی کیس، آئی جی پنجاب ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں صحافی شاکر اعوان کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ لیکر آدھ گھنٹے تک عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ تمام فریقین سے معلومات لیکر سرکاری وکیل پیش ہوں ،وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ شاکر اعوان سینئر کورٹ رپورٹر ہیں،رات کے اندھیرے میں 20 کے قریب لوگ آئے ،شاکر اعوان پر ایک مقدمہ درج ہے اس میں عبوری ضمانت پر ہے ،تاحال علم نہیں شاکر اعوان کہاں پہ ہے، عدالت معلومات لیکر بتائیں کہ اس وقت مغوی کس کے پاس ہے،ہم نے سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو پارٹی بنا دیا ہے

    صدر کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن محمد اشفاق نے دلائل دیے اور کہا کہ تمام فریقین کو نوٹسز کرکے معلوم کیا جائے اس وقت مغوی کس کے پاس ہے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہناز بیگم کی درخواست پر سماعت کی،کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد اشفاق ،نائب صدر رانا یاصف ،نعمان نور ،محمد وقاص ،ارشد علی ،افضال سیال سمیت دیگر پیش ہوئے

    عدالت نے آئی جی پنجاب کو دوپہر تین بجے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کے حکم کی تعمیل کے لیے تمام کوششیں کر رہے ہیں، مزید وقت مل جائے تو عدالتی حکم کی تعلیم ہوگی،ایس پی پولیس نے کہا کہ مغوی ہمارے پاس نہیں ہیں، اگر آپ کہتے ہیں تو تحریری طور پر دے دیتے ہیں، ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے ایس پی پولیس کو ریڈ کی ویڈیو دکھا دی، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایس پی کو ہدایت کی کہ آپ منہ کیوں پیچھے کر رہے ہیں، ویڈیو دیکھیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ مغوی کو ڈھونڈنا ہماری زمہ داری ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ وہ تو آپ کی زمہ داری ہے، آپ کو پورا کرنا ہوگی، صحافی محمد اشفاق نے کہا کہ شاکر محمود کو جب گرفتار کیا گیا تو انہیں تھپڑ مارے گئے، پولیس کچھ تو کرے، مطیع اللہ جان کی طرح ان پر بھی کچھ منشیات ڈال دے، آئی جی پنجاب کو طلب کرکے پوچھا جائے شاکر اعوان پر کونسا مقدمہ ہے ،

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت میں پولیس نے شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ پیش کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:مغل پورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے 5 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں ہوئی، انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سماعت کی ،جس میں پولیس نے تمام مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔

    دوران سماعت شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر عمر دلائل کے لیے پیش نہیں ہوئے اس موقع پر معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ راستے بند ہیں ، سینئر وکیل آج دلائل کے لیے پیش نہیں ہو سکتے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ راستے تو کھل گئے ہیں، آپ تاریخ لینا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔

    بعد ازاں انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے شاہ محمود قریشی کی 5 مقدمات میں ضمانتوں پر سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کردی۔