Baaghi TV

Tag: پولینڈ

  • مس یونیورس 2021 کا تاج مس پولینڈ کے سر پر سج گیا

    مس یونیورس 2021 کا تاج مس پولینڈ کے سر پر سج گیا

    پولینڈ سے تعلق رکھنے والی کیرولینا بیلاوسکا نے پورٹو ریکو میں ہونے والے مس ورلڈ مقابلے کا 70 واں ایڈیشن جیت لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پولینڈ سے تعلق رکھنے والی کیرولینا بیلاوسکا کو مس ورلڈ 2021 کا تاج پہنایا گیا ایونٹ کا 70 واں ایڈیشن بدھ کی رات پورٹو ریکو کے سان جوآن کے کوکا کولا میوزک ہال میں منعقد ہوا۔


    مس ورلڈ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، Bielawska کا تاج جمیکا کی ان کے پیشرو ٹونی-این سنگھ نے پہنایا، جنہوں نے 2020 میں مس ورلڈ کا مقابلہ جیتا تھا مس ورلڈ 2021 مقابلے میں ریاستہائے متحدہ کی سینی فرسٹ رنر اپ بنیں جبکہ دوسری رنر اپ کوٹ ڈی آئیوری کی اولیویا یاس ہیں۔

    شاہ رخ خان کا اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم لانچ کرنے کا عندیہ

    مقابلے میں 96 دیگر ممالک کی حسیناؤں نے بھی حصہ لیا، جن میں مس انڈیا منسا وارانسی بھی شامل ہیں، جو بین الاقوامی مقابلہ حسن میں 11 ویں نمبر پر رہیں-


    مس انڈیا 2021 کیرولینا فی الحال مینجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رہی ہیں اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنا چاہتی ہیں کیرولینا ایک ماڈل کے طور پر بھی کام کرتی ہیں تیراکی اور سکوبا ڈائیونگ اور ٹینس اور بیڈمنٹن کھیلنے کی بھی شوقین ہیں مس ورلڈ آرگنائزیشن کے مطابق، وہ ایک موٹیویشنل اسپیکر بننے کی بھی خواہش رکھتی ہیں۔

    شاہ رخ خان نے سلمان خان کو پیچھے چھوڑدیا

    69ویں مس ورلڈ، ٹونی این سنگھ کے ہاتھوں تاج پہننے کے بعد، کیرولینا نے کہا، جب میں نے اپنا نام سنا تو میں چونک گئی، مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا۔ مجھے مس ورلڈ کا تاج پہننے کا اعزاز حاصل ہوا میں پورٹو ریکو میں اس حیرت انگیزلمحات کو زندگی بھر یاد رکھوں گی-

    مس ورلڈ کا فائنل عالمی سطح پر 100 سے زائد ممالک میں نشر کیا گیا۔ 40 سیمی فائنلسٹ نے پورٹو ریکو میں حصہ لیا تھا جب دسمبر میں فائنل کو کوویڈ 19 کے پھیلنے کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا تھا۔

    مسلمان سپرہیرولڑکی کےکردارپرمبنی ویب سیریز ’’مس مارول‘‘ کا ٹریلرجاری

  • پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    واشنگٹن :پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:اطلاعات کے مطابق امریکہ نے یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے فراہم کی پولینڈ کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پینٹاگون کا کہنا ہے کہ سوویت دور کے طیاروں کو جرمنی میں امریکی اڈے کے ذریعے کیف منتقل کرنے کی پولینڈ کی تجویز ناقابلِ عمل ہے۔اس تجویز نے پورے نیٹو اتحاد کے لیے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے۔

    اس تناظر میں پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ ہم اس مسئلے اور اس سے پیش آنے والے مشکل لاجسٹک چیلنجز کے بارے میں پولینڈ اور اپنے دیگر نیٹو اتحادیوں سے مشاورت جاری رکھیں گے، لیکن ہمیں یقین نہیں ہے کہ پولینڈ کی تجویز قابل عمل ہے۔ یہ صرف ہمارے لیے واضح نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی ٹھوس دلیل موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین کی فضائیہ کی حمایت کو ماسکو میں تنازعہ میں حصہ لینے اور سپلائی کرنے والوں کو ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    اس حوالے سے برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے کہا تھا کہ اس طرح ہم پولینڈ کی حفاظت کریں گے، ہم ان کی ہر اس چیز میں مدد کریں گے جس کی انہیں ضرورت ہے۔پولینڈ کے وزیر اعظم میٹیوز موراویکی نے کہا کہ جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ نیٹو کے ارکان کو متفقہ طور پر کرنا چاہیے۔

    یاد رہے، یوکرین کی فضائیہ کا بیڑا پرانے سوویت دور کے مگ 25 اور سکوئی 27 جیٹ طیاروں، اور اس سے زیادہ بھاری سکوئی 25 جیٹ طیاروں پر مشتمل ہے اور یہ وہ واحد طیارے ہیں جو یوکرین کے پائلٹ بغیر کسی اضافی تربیت کے فوری طور پر اڑ سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں، امریکی فوج نے اعلان کیا کہ وہ امریکی اور اتحادی افواج اور نیٹو کی سرزمین کے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دو پیٹریاٹ میزائل کی بیٹریاں پولینڈ میں نصب کرے گی۔

  • امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    واشنگٹن :امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملےکے تناظر میں نیٹو رکن ملک پولینڈ میں پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کردیا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکا نے میزائل اور جنگی طیاروں کے حملوں کے خلاف دفاع کرنے والے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی2 بیٹریوں کو پولینڈ میں نصب کیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے سینیئر اہلکار کے مطابق امریکا کا یہ اقدام نیٹو کے رکن ملک کے دفاع کے حوالے سےکیےگئے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے۔

    پینٹاگون کے سینیئر اہلکار کے مطابق پیٹریاٹ میزائل کی یہ دو بیٹریاں جرمنی میں نصب تھیں تاہم یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ کی درخواست پر انہیں وہاں تعینات کیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکومت نے یہ اقدام نیٹو رکن پولینڈ کے دفاع کے لیے اٹھایا ہے جو کہ اس بات کے خطرے کو ظاہرکرتا ہےکہ کہیں روس کا میزائل جان بوجھ کر یا غلطی سے یوکرین کی سرحد پار کرکے پولینڈ کو نشانہ نہ بناڈالے۔

    دوسری طرف یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی نے ایک بار پھر مغربی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگی طیاروں کی فراہمی سے متعلق جلد فیصلہ کرلیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق ولودومیر زیلینسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ویڈیو میں کہا کہ ’کب فیصلہ کریں گے؟ ہم حالت جنگ میں ہیں، ہم پھر آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذرا جلدی فیصلہ کرلیں، ہمیں جنگی طیارے بھیجیں۔‘

    خیال رہے کہ یوکرین کے پڑوسی اور نیٹو کے رکن ملک پولینڈ نے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا چاہے تو وہ جرمنی میں امریکی فضائی اڈے کے ذریعے اپنے روسی ساختہ مگ 29 لڑاکا طیارے یوکرین بھیج سکتا ہے۔

    تاہم گزشتہ روز امریکا نے پولینڈ کی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ اس معاملے پر زیلینسکی نے کہا کہ ’ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہواکہ امریکی و پولش حکام کے درمیان اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہےلیکن ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولینڈ کی پیشکش کی حمایت نہیں کی گئی۔‘زیلینسکی نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس وقت نہیں ہے، یہ پنگ پانگ کا کھیل نہیں ہو رہا ، انسانی جانیں داؤ پر لگی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ امریکی و نیٹو ائیربیس سے جنگی طیاروں کا اڑنا اور ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونا جو روس سے نبردآزما ہے یہ پورے نیٹو کیلئے سنگین خدشات پیدا کرسکتا ہے، ہمارے خیال میں پولینڈ کی تجویز قابل عمل نہیں۔

  • نیٹوکا70 لڑاکا طیارےفی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں

    نیٹوکا70 لڑاکا طیارےفی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں

    پولینڈ:نیٹوکا70 لڑاکا طیارے فی الفوریوکرائن کودینےکااعلان :عالمی جنگ یقینی ہوگئی:کیسے؟تفصیلات آگئیں،اطلاعات مصدقہ کے مطابق نیٹونے روس کیخلاف یوکرین کو 70 لڑاکا طیارے دینے کا اعلان کرکے تیسری عالمی جنگ کویقینی بنانے میں‌ بڑا کردار ادا کردیا ہے

    روس سے جنگ میں یوکرین کی مدد کیلئے مغربی دفاعی اتحاد (نیٹو) میں شامل تین یورپی ممالک یوکرین کی مدد کیلئے میدان میں آگئے۔

    یوکرینی نیوی کے پریس سروس کے آفیشل فیس بک پیج سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلغاریہ، پولینڈ اور سلوواکیہ نے یوکرین کو 70 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، یہ طیارے پولینڈ میں تعینات ہوں گے اور یوکرینی پائلٹس وہیں سے اڑان بھر کر روسی فوج پر فضائی حملے کریں گے۔

    یوکرینی بحریہ کی پریس سروس کا مزید کہنا ہے کہ بلغاریہ 16 مِگ 29 طیارے اور 14 ایس یو 25 طیارے فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ پولینڈ 28 مگ 29 طیارے جبکہ سلوواکیہ 12 مگ 29 طیارے فراہم کرے گا۔

    خیال رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر تین اطراف سے حملہ کیا اور دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر بمباری کی۔

    روس اور یوکرین کی جنگ کے چھٹے روز روسی وزیر دفاع نے کیف کے شہریوں کو خبردار کیا کہ روسی فوجی دارالحکومت میں مختلف اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
    کیف میں ایک ٹیلی ویژن ٹاور کے قریب دھماکا سنا گیا جس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی۔

    بکتر بند گاڑیوں میں روس فوج کا ایک بڑا قافلہ کیف میں پارلیمنٹ اور صدارتی محل کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے تاہم اسے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔

    آج روس کی جانب سے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں بھی سرکاری عمارتوں پر میزائل برسائے گئے جس کے نتیجے میں 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی صدر ولودومیز زیلینسکی کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں روسی میزائل گرے وہاں کوئی عسکری ہدف نہیں اور روس شہری آبادی کو نشانہ بناکر جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔

    یوکرینی صدر نے یورپی پارلیمنٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، اس موقع پر انہیں تمام ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہوکر روس کیخلاف مزاحمت پر داد دی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست کی جسے منظور کرتے ہوئے یوکرین کی شمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    یوکرین اب بھی روسی فوج کے انخلا اور سیز فائر کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق ساڑھے 6 لاکھ سے زائد افراد اب تک یوکرین سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔

    آج اپنے بیان میں نیٹو کے چیف جینز اسٹولٹن برگ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’یورپ میں امن کا شیرازہ بکھیرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی پولینڈ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی صدر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے بربریت پر مبنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پولینڈ نیٹو کا رکن ممالک ہے اور اگر روسی اہداف پر حملوں کے لیے پولینڈ کی سرزمین استعمال ہوئی تو ممکن ہے کہ روس پولینڈ پر بھی حملہ کردے اور اگر ایسا ہوا تو پھر نیٹو کے رکن ممالک معاہدے کے تحت پولینڈ کا دفاع کرنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پورا یورپ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

  • روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    کیف:روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیئے، دارالحکومت کیف میں بھی گھمسان کی لڑائی جاری ہے، اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس بلانے کےلیے سلامتی کونسل میں امریکی قراردار پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    یوکرین کےخلاف روس پوری قوت میدان میں لے آیا، یوکرینی اہداف پر حملوں میں تیزی کے بعد دارالحکومت کیف زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا۔ روس نے دارلحکومت کیف کی ایک ائیر فیلڈ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، روسی وزیرخارجہ کےمطابق کیف کے مغربی حصے کو بھی یوکرینی فوج سے کاٹ دیا گیا ہے۔

    یوکرین اور روس کی جانب سے ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، یوکرین حکام نے روسی پیش قدمی روکنے اور ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت اورزخمی ہونےکا دعویٰ کیا ہے، یوکرین میں تباہی کی فوٹجز بھی سامنے آئی ہیں، ایک خاتون جلتے گھر کے سامنے بیٹی کے ساتھ کھڑی طنز کررہی ہے کہ پوٹن کا شکریہ جس نے ہمارا گھر تباہ کردیا۔

    ادھر امریکا اورالبانیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے، میٹنگ میں جنرل اسمبلی کاخصوصی اجلاس بلانے پر ووٹنگ ہو گی، اجلاس بلانے کے خلاف مستقل 5 ارکان میں سے کسی کو ویٹو کا اختیار نہیں ہو گا۔

    ادھر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات روس کے خلاف جانے لگے ہیں اور یوکرین کے باسیوں نے روسی پیش قدمی روک دی ہے ، یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس       کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    اسلام آباد:پاکستان کی درخواست قبول، پولینڈ نے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنے کا پراپیگنڈہ دم توڑ گیا ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کی درخواست پر پولینڈ نے پاکستانیوں کے لیے بارڈر کرانسنگ پوائنٹس کھول دیے۔

    یوکرین میں محصور پاکستانی طلبہ کو نکالنے کی کوششیں تیز ہوگئیں۔ پاکستانی سفارت خانے کی مدد سے 35 طلبہ پولینڈ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ خرکیف میں سفارت خانے میں موجود طلبہ کو ٹرین کے ذریعے پولینڈ بھیجا گیا ہے۔ خرکیف میں موجود مزید 65 پاکستانیوں کو کل پولینڈ بھیجا جائے گا۔

    پولینڈ نے ابتدا میں ایک کراسنگ پوائنٹ سے پیدل داخلے کی اجازت دی تھی تاہم اب پاکستان کی درخواست پر 8 بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے گئے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ملک کا سفارت خانہ 25 فروری 2022 سے ترنوپیل میں مکمل طور پر فعال ہے اور یوکرین میں موجود طلبہ کے انخلا کے لیے فوکل پرسن بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

    ترنوپیل میں فوکل پرسن کی تفصیلات یہ ہیں: ڈاکٹر شہزاد نجم (موبائل فون نمبر+380632288874 +380979335992) ۔دارالحکومت کیف میں بھی سفارت خانے کے فوکل پرسن (موبائل فون نمبر +380681734727) پر پاکستانی طلبا کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرینیں کام کر رہی ہیں اور خارکیو سے لویو/ ترنوپیل تک ٹکٹ دستیاب ہیں۔ جن شہروں میں اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہے وہاں تمام طلبہ کو بتایا گیا ہے کہ سفارت خانے نے متعلقہ اعزازی تعلیمی مشیر کو طلبا کو ترنوپیل لانے کا کام سونپا گیا ہے۔

    دوسری جانب قومی ایئر لائن کے سی ای او ارشد ملک اور یوکرین میں پاکستانی سفیر کے درمیان رابطہ ہوا جس میں یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی محفوظ مقام پر منتقلی اور وطن واپسی سے متعلق گفتگو کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق تمام پاکستانی طالب علم یوکرین کے شہر ٹرنوہل میں یکجا ہوں گے، ٹرنوہول میں سفارتخانہ زمینی راستے سے پولینڈ تمام طلبا کو منتقل کرے گا۔اس کے بعد پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ پولینڈ سے طلبہ کو وطن واپس پہنچائے گا۔

    سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کا کہنا ہے کہ طلبہ کے پولینڈ پہنچتے ہی پرواز روانہ کردی جائے گی، ہم وطنوں کو واپس پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔علاوہ ازیں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ پولینڈ نے کورونا پاندیاں معطل کردی ہیں، پاکستانی شہری 15 روز میں پولینڈ میں داخل ہوسکتے ہیں۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کو نہ پہنچنے کےحوالے سے بعض ریاست مخالف میڈیا چینلز کی خبریں دم توڑ گئی ہیں ، حکومت پاکستان مسلسل رابطے میں ہے اور تمام پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہیں

  • امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

    امریکی اتحاد جیت گیا :روس کی ہوش ٹھکانے آگئی:فوجیوں کی یوکرین کی سرحد سے واپسی شروع

    ماسکو: روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یوکرین کی سرحد کے قریب فوجی مشقیں مکمل کرنے کے بعد بعض روسی فوجی واپس آ رہے ہیں جب کہ امریکی محکمہ خارجہ نے جنگ کے خدشے کے پیش نظر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا سفارت خانہ کیف سے منتقل کر رہے ہیں۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ روس کی جانب ایسے اقدام سے موجودہ کشیدگی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مغربی اور جنوبی ملٹری اضلاع کے بعض فوجی دستوں نے مشقیں مکمل کرنے کے بعد فوجی اڈوں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ لز ٹروس نے منگل کی صبح کہا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے ’قوی امکان‘ ہیں اور یہ بہت جلد ہو سکتا ہے۔ ساتھ میں انہو ں نے خبردار کیا کہ یورپ ممکنہ طور پر ’جنگ کے دہانے‘ پر ہے۔

    انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے ’پیچھے ہٹنے‘ کا کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ روس، یوکرین اور یورپ کی سکیورٹی کے لیے جنگ کے ’شدید نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب مشرقی یوکرین کے رہائشی یوری فیڈینسکئی روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر اپنے دو بچوں اور حاملہ بیوی کے ہمراہ بذریعہ ہوائی جہاز ملک سے باہر جا رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ وہ روسی صدر ولادی میر پوتن کو ’اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ‘ کرنے کا اختیار نہیں دیں گے۔

    ہوائی اڈے پر موجود یوری نے کہا: ’کسی بھی لمحے حملہ ہو سکتا ہے۔ کیا حملہ ہوگا؟ یہ تو پوتن ہی کو معلوم ہے، لیکن ہم پوتن کو اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرنے دیں گے۔ ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے۔‘یوری نے مزید بتایا: ’میں اپنے خاندان کو جہاز تک لے کر جا رہا ہوں۔ میرے پانچ اور چار سالہ بچے سمیت ایک بچہ جس کے آنے کی امید ہے اور میری بیوی ہوائی جہاز کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم مشرقی یوکرین میں رہتے ہیں۔‘

    یوکرین سے نکلنے کا بنیادی مقصد بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’ہم جا رہے ہیں تاکہ بچوں کو امریکی سکولوں میں انگریزی سکھا سکیں، تاکہ پوتن جو یوکرین میں کرنا چاہتے ہیں، اس کے مخالف دیکھ سکیں۔‘ دوسری جانب یوکرین نے روس اور درجنوں مزید یورپی ممالک کے ساتھ ہنگامی میٹنگ بلائی ہے، جس میں یوکرینی بارڈر پر روسی افواج کے جمع ہونے کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

    یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا کے مطابق روس نے یوکرین کی باضابطہ درخواست کو نظر انداز کر دیا ہے، جس میں اس سے یوکرینی سرحد پر ایک لاکھ فوجی اور جدید ہتھیار جمع کرنے کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔ 1990 کے ایک معاہدے کی رو سے تنظیم برائے سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای) کے 57 رکن ممالک ایک دوسرے کو اپنی بڑی فوجی نقل و حرکت سے متعلق آگاہی دینے کے پابند ہیں۔ ممکنہ روسی حملے کے تناظر میں یوکرین کے شہری اور غیر ملکی افراد دباؤ کا شکار ہیں۔

  • روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی،اطلاعات کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کرلی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے انہیں بتایا کہ یوکرین تنازع پر روس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، وہ جنگی تیاریوں کے لیے فروری کے وسط تک مزید بھاری ہتھیار اور سامان یوکرین کی سرحد تک منتقل کرسکتا ہے۔

    اس حوالے سے دو امریکی حکام نے عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہوگا۔
    امریکی حکام نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور کہا کہ یہ معلومات خفیہ اطلاعات کے سبب حاصل ہوئی ہیں، معاملہ حساس ہونے کے سبب وہ امریکی میڈیا کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کررکھے ہیں تاہم روس نے یوکرین پر حملے کے خدشے کو مسترد کردیا ہے۔

    ادھر امریکا نے بھی اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا ہے،یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک  کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

     

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ  مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    یوکرائن بحران پر نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی کے خلاف یورپی جنگ مخالف اتحاد کی جانب سے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    مظاہرین نے ممکنہ یوکرائن جنگ اور نیٹو کے خلاف جبکہ ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نعروں پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ یوکرائن کے مسئلے پر متوقع جنگ امریکی، یورپی اور روسی سامراج کی سازش ہے۔

    احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا کہ یہ جنگ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے عوام دشمن معاشی مفادات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ دراصل یہ اسلحے کی فروخت کے لیے کی جانے والی جنگ ہے۔

    مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ اربوں ڈالرز جنگ کی بجائے اسکولوں، ہسپتالوں اور ویکسینیشن کی تحقیق پر خرچ کرنے چاہئیں اور یوکرائن تنازع بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔

    روس کی تقریباً ایک لاکھ فوج بھاری فوجی ساز و سامان کے ساتھ یوکرائن کی مشرقی سرحد کے گرد جمع ہے۔ یوکرائن کے مشرقی سرحدی علاقوں میں روسی بولنے والوں کی اکثریت آباد ہے اور وہاں یوکرائن حکومت کے خلاف 2014ء سے شورش جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے اور اسٹونیا میں آرٹلری اور جدید جنگی طیارے پہنچا دیے ہیں تاکہ روس کے خلاف کسی ردعمل کے لیے تیار رہا جائے۔

    اِسی تناظر میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ یورپ میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    یورپی جنگ مخالف محاذ کے مظاہرے میں شامل دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ ایک شخص کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شرکت کا مقصد یورپی رہنماؤں کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لاتی۔

    مظاہرے میں بچوں سمیت شریک ایک خاندان کا کہنا تھا یورپ دو بڑی جنگوں کا خمیازہ بھگت چکا ہے اور اب مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔