Baaghi TV

Tag: پولیو وائرس

  • کراچی کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق

    اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے کہا ہے کہ کراچی کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان وزارت صحت کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ سندھ کے ضلع کراچی میں ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس پایا گیا ہےجس کا جینیاتی تعلق افغانستان میں پولیو وائرس کلسٹر سے ہے پولیو کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا ر ہے ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت نے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں اور اپنے بچوں کو مستقل معذوری سے بچائیں۔

    جی ڈی اے رہنما پیپلز پارٹی میں شامل

    پولیو وائرس کیا ہے؟

    پولیو شخص در شخص منتقل ہو سکتی ہے یہ دراصل اعصاب کو کمزور کرنے والی بیماری ہے۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ پولیو ایک سنگین اور ممکنہ طور پر مہلک متعدی بیماری ہے۔ پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے اور دوسرے شخص کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں فالج (جسم کے حصوں کو حرکت نہیں دے سکتے ) ہو سکتا ہے۔ پولیو 1998 میں تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں موجود تھا اور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس وائرس سے شدید متاثر تھے۔ سن 2011 تک پولیو صرف بھارت، پاکستان، افغانستان اور ناجیریا میں رہ گیا تھا۔ جبکہ بھارت کو 2011 میں پولیو فری ملک کراکر دیے جانے کے بعد 2014 میں ناجیریا میں بھی پولیو ختم ہوچکا ہے۔ اور اب پولیو صرف پاکستان اور افغانستان میں رہ گیا ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کی بقا کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے،ایلون مسک

    پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگوں میں عام طور پر یہ علامات نظر آئیں گی، گلے کی سوزش، بخار، تھکاوٹ، قے یا متلی
    سردرد، پیٹ میں درد یہ علامات عام طور پر 2 سے 5 دن کے بعد اپنے طور پر دور ہو جاتی ہیں۔ پولیو وائرس انفیکشن کے ساتھ لوگوں کے ایک چھوٹے تناسب کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے دوسرے وائرس زیادہ سنگین علامات کے ساتھ نظر آتا ہے Paresthesia (پیروں میں پنوں اور سوئیاں کا احساس)،میننجائٹس (ریڑھ کی ہڈی اور / یا دماغ کے ڈھانپنے کی انفیکشن)

    صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات 8 فروری کو کرانے پر …

    پولیو وائرس انفیکشن ہر 25 افراد میں سے تقریبا 1 میں پایا جاتا ہے۔ فالج پولیو وائرس انفیکشن کے ساتھ ہر 200 لوگوں میں سے ہر1 میں پایا جاتا ہے۔ دونوں بازو، ٹانگوں میں کمزوری یا فالج یہ مستقل معذوری اور موت کی بھی واقع ہوستی ہے کیونکہ پولیو کے ساتھ منسلک سب سے زیادہ شدید علامت یہی ہوتی ہے۔ 2 دن کے اندر وائرس انہیں سانس لینے میں مشکل پیدا کردیتا ہے اور پٹھوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

  • بنوں میں ایک اور بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق

    بنوں میں ایک اور بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق

    خبیر پختونخوا کے ضلع بنوں کے ایک بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان وزارتِ صحت کے مطابق اس کیس کے بعد ملک میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد تین ہوگئی ہے بچی کا تعلق بنوں کی یونین کونسل گھوڑا بکا خیل سے ہے حکام کے مطابق ڈیڑھ سال کی بچی پولیووائرس کے نتیجے میں معذور ہوگئی،ضلع بنوں کے ماحولیاتی نمونے میں ایک بارپھرپولیووائرس کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

    وفاقی حکام کے مطابق پاکستان میں اب تک 34 ماحولیاتی نمونوں میں پولیووائرس کی تصدیق ہوچکی ہے اس سے قبل رواں سال کا دوسرا پولیو کیس بھی یکم اگست کو بنوں میں ہی رپورٹ ہوا تھا جہاں 3 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی سال 2023 کا پہلا پولیو کیس بھی ضلع بنوں سے ہی مارچ میں رپورٹ ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ عالمی طور پر 2023 کو پولیو کےخاتمے کا ہدف قرار دیا گیا ہے۔

    کراچی: انصاف ہاؤس کے باہر سیکیورٹی پرتعینات اہلکاروں پر نامعلوم افراد کا حملہ

    ناروے میں اردو زبان و ادب کے سب سے بڑے خادم اور عالمی اردو مشاعروں …

    جناح ہاؤس کیس: پولیس نے اسدعمر اور چئیرمین پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری …

  • کراچی اور پشاورمیں سیوریج کے پانی میں پولیو کے وائرس کی تصدیق

    کراچی اور پشاورمیں سیوریج کے پانی میں پولیو کے وائرس کی تصدیق

    اسلام آباد: کراچی اور پشاور سمیت چار مختلف مقامات سے جمع کیے گئے سیوریج کے پانی میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے سیوریج کے پانی میں ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی ون) کی موجودگی کی تصدیق کی ہے کراچی کے علاقے کیماڑی میں 17 اگست کو محمد خان کالونی میں سیوریج کے نمونے میں وائلڈ پولیو وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، اگر پولیو وائرس سیوریج کے پانی میں پایا جاتا ہے تو اس کے نمونے کو مثبت کہا جاتا ہے۔

    امسال کراچی میں یہ دوسرا مثبت نمونہ ہے کراچی میں 2023 میں پہلی بار پولیو وائرس کی تصدیق جون میں سہراب گوٹھ کے ماحولیاتی نمونے میں ہوئی تھی، اس سے قبل کراچی میں پولیو کے مثبت نمونے اگست 2022 میں لانڈھی اور ملیر سے ملے تھے۔

    باجوڑ میں دھماکا،ایک شخص جاں بحق ایک زخمی

    ڈبلیو پی وی ون وائرس کو YB3A کلسٹر کے حصے کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور یکم مارچ 2023 کو افغانستان کے ننگرہار بٹی کوٹ میں ماحولیاتی نمونے میں پائے جانے والے وائرس سے جینیاتی طور پر 99 فیصد منسلک ہے یہ ضلع میں 7 اگست سے 13 اگست تک پولیو کے قطرے پلانے کی حالیہ مہم کے بعد سامنے آیا ہے اس اعتبار سے پاکستان میں 2023 کے لیے مثبت ماحولیاتی (سیوریج) نمونوں کی کل تعداد اب 21 ہے۔

    دیگر تین نمونے پشاور کے شاہین مسلم ٹاؤن، یوسف آباد اور تاج آباد اور حیات آباد ایک اور 2 کے تھے یہ اس سال ضلع میں ریکارڈ کیے گئےدس مثبت نمونے ہیں تمام وائرسز کو YB3A کلسٹر کے حصے کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے اور 16 مئی 2023 کو افغانستان کے بہسود میں پولیو کیس میں پائے جانے والے وائرس سے جینیاتی طور پر منسلک ہیں۔

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن،چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد

    واضح رہے کہ پولیو ایک انتہائی متعدی اور لاعلاج بیماری ہے، یہ پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے اور بنیادی طور پر 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے، یہ وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں فالج یا موت کا باعث بھی بن سکتا ہے پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے، بار بار ویکسی نیشن بچوں کی حفاظت کا سب سے مؤثر طریقہ ہے، پولیو ویکسین نے لاکھوں بچوں کی پولیو سے حفاظت ممکن بنائی ہے، جس سے دنیا کے تقریباً تمام ممالک پولیو سے پاک ہوچکے ہیں، دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان 2 ایسے ملک ہیں جہاں پولیو تاحال موجود ہے۔

  • خیبر پختونخوا  کے دوشہروں میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

    خیبر پختونخوا کے دوشہروں میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

    خیبر پختونخوا : پشاور اور ہنگو میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : یہ وائرس 10 اپریل کو پشاور کے نارے کھوار سائٹ اور ہنگو کے سول ہسپتال جانی چوک سے جمع کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ون موجود ہے رواں سال ن نارے کھوار پشاور اور ہنگو کے سیوریج میں پہلی بار پولیو وائرس پایا گیا ہے، دونوں شہروں سے پولیو ٹیسٹ کیلئے سیمپلز 10 اپریل کو لئے گئے تھے-

    شاہد آفریدی کا کراچی میں لیجنڈز ارینا کے قیام کا اعلان

    یاد رہے کہ رواں سال اب تک پاکستان میں ایک شخص میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دیگر 5 ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس کے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت کی پاکستان پولیو لیبارٹری کے مطابق جو دو نئے وائرس سامنے آئے ہیں وہ جنیاتی طور پرجنوری 2023ء میں افغانستان کے صوبہِ ننگرہار کے ماحول میں پائے جانے والے پولیو وائرس سے منسلک ہےپاکستان اور افغانستان بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے مئی کے دوران ویکسینیشن مہم کا آغاز کریں گے۔

    صدر زیلنسکی نے روسی صدر پر حملے کی تردید کر دی

    واضح رہے کہ پشاور کے سیوریج میں آخری بار پولیو نومبر 2022 میں پایا گیا تھا ہنگو میں آخری بار پولیو کیس جولائی 2019 میں پایا گیا تھا،اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں پاکستان کے 7 شہروں کے سیوریج سیمپلز میں پولیو وائرس پایا گیا تھا، خیبرپختونخوا کے چار شہروں کے سیمپلز میں پولیو وائرس پایا گیا۔

    صوبےسرد علاقوں سے 6 لاکھ سے زائد مہمان پرندے ہجرت کر کے آئے،وائلڈ لائف سندھ

  • لاہور سمیت ملک کے 39 اضلاع میں انسداد پولیومہم کا انعقاد

    لاہور سمیت ملک کے 39 اضلاع میں انسداد پولیومہم کا انعقاد

    وزارت صحت نے لاہورمیں وائرس کی تصدیق کے بعد ملک کے 39اضلاع میں انسداد پولیومہم کا انعقاد کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیرصحت نے اس حوالے سے بتایا کہ 60لاکھ سے زائدبچوں کو پولیوسے بچاوکے قطرے پلانے کی مہم کاآغازہورہا ہے،خصوصی پولیو مہم 13 فروری سے 9 ا ضلاع میں مکمل طورپر چلائی جائے گی-

    افغانستان کا پولیو وائرس ویرینٹ لاہورپائے جانے کا انکشاف

    وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کے مطابق 30اضلاع میں جزوی طور پر انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی،پنجاب کے 2 اضلاع لاہور اور فیصل آباد میں مجموعی طورپر مہم شروع ہوگی جبکہ جنوبی خیبرپختونخوا کے 7 اضلاع میں مہم کاآغازہورہا ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 24 جنوری کو وفاقی وزیرِ صحت عبدالقادر پٹیل نے لاہور کے ماحولیاتی نمونہ میں پولیو وائرس کی تصدیق کی تھی عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ 2023ء میں پہلی بار لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    وزیر صحت نے بتایا تھا کہ گلشنِ راوی میں پائےجانے والے وائرس کا تعلق ننگرہار، افغانستان میں پائے جانے والے پولیو وائرس سے ہے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں گذشتہ نومبر میں پایا گیا تھا-

    لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان پولیو کے خلاف جنگ میں متحد ہیں،اگرچہ وائرس کی تصدیق ہونا تشویش کا باعث ہےتاہم وائرس کی فوری تصدیق ہونا بہتری کی علامت ہے۔ ماحول میں وائرس کی بروقت تصدیق بچوں کو پولیو وائرس سے معذور ہونے سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    اُنہوں نے بتایا تھا کہ لاہور سے پولیو کا آخری کیس جولائی 2020ء میں سامنے آیا تھا،تاہم ماحولیاتی نمونوں میں وقتاً فوقتاً اس وائرس کی تصدیق ہوتی رہی ہے اور گذشتہ برس ضلع لاہور کے چار ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ جسمانی معذوری کا سبب بننے والا پولیو پانچ سال سے کم عمر کے بچوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے ہی اس وائرس سے نجات ممکن ہے۔

    پولیو پاکستانیوں کے لیے درد سر بن گیا ، مزید بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

  • افغانستان کا پولیو وائرس ویرینٹ لاہورپائے جانے کا انکشاف

    افغانستان کا پولیو وائرس ویرینٹ لاہورپائے جانے کا انکشاف

    پنجاب پولیو پروگرام نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کا پولیو وائرس لاہور میں پایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پنجاب پولیو پروگرام کا کہنا ہےکہ پولیو کا افغانستان ویرینٹ لاہورکےسیوریج میں پایا گیاآؤٹ فال روڈ سے لیے گئے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی، لاہور میں ماحولیاتی نمونے مثبت آنے پر دوبارہ پولیو مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    پنجاب پولیو پروگرام کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی نمونے مثبت آنے پر آبادیوں کی میپنگ کا فیصلہ کیا ہے، افغان پولیو وائرس رپورٹ ہونے پر مزید تحقیقات جاری ہیں، لاہور کی 28 یوسیز میں آئندہ ماہ پولیو مہم چلائی جائے گی۔

    قبل ازیں وزارت صحت نے لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی تھی،وزارت صحت کے ترجمان اور وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل نے لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئےکہا تھا کہ رواں برس لاہور کے ماحولیاتی نمونہ میں پہلا وائرس پایا گیا ہے۔

    پروٹوکول واپس:پرویزالہی، عثمان بزدارسمیت متعدد شخصیات سےاضافی سیکیورٹی واپس

    وزیر صحت عبد القادر پٹیل نے کہاتھا کہ حکومت پولیو مہم کی کامیابی کے لئے پر عزم ہے، سال کی پہلی قومی پولیو مہم کامیابی سے جاری ہے، والدین کے تعاون سے مطلوبہ ہدف حاصل کر لیں گے۔

    پولیو ایک انتہائی متعدی اور وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو عام طور پر پانچ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتی ہے، جو شخص در شخص منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل اعصاب کو کمزور کرنے والی بیماری ہے۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔

    پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے اور دوسرے شخص کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں فالج (جسم کے حصوں کو حرکت نہیں دے سکتے ) ہو سکتا ہے۔ پولیو 1998 میں تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں موجود تھا اور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس وائرس سے شدید متاثر تھے۔

    چونیاں :چھوٹے بھائی کوقتل کرنے والے بڑے بھائی نے بھی خود کشی کرلی

    سن 2011 تک پولیو صرف بھارت، پاکستان، افغانستان اور ناجیریا میں رہ گیا تھا۔ جبکہ بھارت کو 2011 میں پولیو فری ملک کرا دیے جانے کے بعد 2014 میں نائجیریا میں بھی پولیو ختم ہوچکا ہے۔

  • لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    اسلام آباد: وزارت صحت نے لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

    باغی ٹی وی: وزارت صحت کے ترجمان اور وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل نے لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں برس لاہور کے ماحولیاتی نمونہ میں پہلا وائرس پایا گیا ہے۔

    پیپلزپارٹی سےعملی اقدامات کےبعدہی مزیدبات چیت ہوسکتی ہے،حافظ نعیم

    وزیر صحت عبد القادر پٹیل نے کہا کہ حکومت پولیو مہم کی کامیابی کے لئے پر عزم ہے، سال کی پہلی قومی پولیو مہم کامیابی سے جاری ہے، والدین کے تعاون سے مطلوبہ ہدف حاصل کر لیں گے۔

    پولیو ایک انتہائی متعدی اور وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو عام طور پر پانچ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتی ہے، جو شخص در شخص منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل اعصاب کو کمزور کرنے والی بیماری ہے۔ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن اس کے شکار بالغ افراد بھی ہوسکتے ہیں۔

    سعودی عرب کا بغیر شرط کےمالی امداد نہ دینے کا عندیہ

    پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے اور دوسرے شخص کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں فالج (جسم کے حصوں کو حرکت نہیں دے سکتے ) ہو سکتا ہے۔ پولیو 1998 میں تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں موجود تھا اور براعظم افریقہ کے تمام ہی ممالک اس وائرس سے شدید متاثر تھے۔

    سن 2011 تک پولیو صرف بھارت، پاکستان، افغانستان اور ناجیریا میں رہ گیا تھا۔ جبکہ بھارت کو 2011 میں پولیو فری ملک کرا دیے جانے کے بعد 2014 میں نائجیریا میں بھی پولیو ختم ہوچکا ہے۔

    عمران خان 35 سے لڑیں یا 70 حلقوں سے…رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کر دیا

  • نیویارک کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف

    نیویارک کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف

    امریکا: نیویارک کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گزشتہ ماہ امریکا میں تقریباً ایک دہائی بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا تھا نیویارک کے محکمہ صحت نے جاری بیان میں کہا تھا کہ پولیو کا یہ کیس انتہائی متعدی ہے جو امریکہ سے باہر کہیں اور پیدا ہوا تھا ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر پیٹریسیا روپرٹ کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کو درپیش کسی بھی خطرے کے پیش نظر مذکورہ شخص کے اہل خانہ اور ان تمام افراد کا سروے کیا جا رہا ہے جن کے ساتھ قریبی رابطے تھے مریض اب پولیو کے جراثیم پھیلانے کے قابل نہیں رہا نوجوان شخص کو پولیو کی ویکسین نہیں لگی ہوئی تھی اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ راک لینڈ کا یہ رہائشی اس وائرس سے کب اور کہاں متاثر ہوا۔

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    تاہم اب امریکی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جولائی میں پولیو کا کیس سامنے آنے سے ایک ماہ قبل نیو یارک کے مضافاتی علاقے کے گندے پانی میں پولیو وائرس موجود تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ 2013 کے بعد امریکا میں پہلے پولیو کیس سامنے آنے کے بعد کسی نئے کیس کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ وائرس پھیل رہا ہے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ میں نکاسی آب کی معمول کی نگرانی کے دوران مشرقی اور شمالی لندن میں ویکسین میں پائے جانے والے کمزور مگر زندہ پولیو وائرس کو دریافت کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے جمع کئے جانے والے نمونوں میں یہ وائرس موجود پایا گیا۔

    پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق،کئی شہروں کے رزلٹ…

    دوسری جانب پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جولائی میں خیبرپختونخواکے 4 شہروں میں پولیس وائرس پایا گیا جن میں پشاور، بنوں، نوشہرہ اور سوات کے سیوریج سیمپلز میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور کے سیوریج سیمپلز میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ ابھی کئی شہروں کے سیوریج سیمپلز کے رزلٹ آنا باقی ہیں اب تک شمالی وزیرستان سے پولیو کے 13 اور لکی مروت سے ایک کیس رپورٹ ہوچکا۔

    یاد رہے کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن اسے ویکسین کے ذریعے روکا جا سکتا ہے یہ زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے جو پٹھوں کی کمزوری اور فالج جبکہ انتہائی سنگین صورتوں میں مستقل معذوری اور موت کا سبب بنتا ہے۔

    کورونا سے اموات میں اضافہ، مزید 9 مریض انتقال کرگئے

  • پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق،کئی شہروں  کے رزلٹ آنا باقی

    پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق،کئی شہروں کے رزلٹ آنا باقی

    پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : حکام کےمطابق جولائی میں خیبرپختونخواکے 4 شہروں میں پولیس وائرس پایا گیا جن میں پشاور، بنوں، نوشہرہ اور سوات کے سیوریج سیمپلز میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور کے سیوریج سیمپلز میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ ابھی کئی شہروں کے سیوریج سیمپلز کے رزلٹ آنا باقی ہیں۔

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    حکام نے بتایا کہ اب تک شمالی وزیرستان سے پولیو کے 13 اور لکی مروت سے ایک کیس رپورٹ ہوچکا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس بچوں کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں بھی پولیو کے کیسز کی تشخیص کی گئی ہے۔

    شمالی وزیرستان میں اب بھی ویکسین فراہم کرنے والے عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی مذہبی رہنما اور کچھ والدین کی جانب سے پولیو ورکرز کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہےگزشتہ ماہ دوپولیس اہلکاروں سمیت ایک پولیو ورکرکو خیبر پختونخوا میں پولیو مہم کے دوران مار دیا گیا تھاپاکستان میں کئی پولیو وزرکرز کام کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ پاکستانی طالبان پولیو مہم کو غیر اسلامی ٹھہراتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے دوران پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی نے پولیو ورکر کا روپ دھارا تھا۔

    کورونا وبا ختم نہیں ہوئی ہجوم والی جگہوں پر شہری احتیاط کریں ،قومی ادارہ صحت

    ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جانب سے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی سی کو فراہم کی جانے والی معلومات اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا پتا لگانے میں کلیدی ثابت ہوئی تھیں اس واقع نے بھی پاکستان میں پولیو مہم کو زبردست دھچکا پہنچایا تھا۔ کچھ مذہبی رہنماؤں کے مطابق پولیو کے قطرے مغربی ایجینڈے کا حصہ ہیں۔ ان کے سازشی نظریات کے مطابق پاکستانی بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں رہیں گےحکومت اور بین الاقوامی ایجنسیوں کی جانب سے ایسے جھوٹے مفروضات کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    یاد رہے کہ انتہائی حیرت ناک پیشرفت میں دس سال بعد امریکی شہر نیو یارک میں بھی ایک شخص میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اگرچہ بر اعظم افریقا کو پولیو فری قرار دیا جا چکا ہے لیکن وہاں بھی پولیو کیسز سامنے آئے ہیں۔ سرکاری سطح پر پاکستان اور افغانستان کے علاوہ باقی ممالک کو پولیو فری قرار دیا جا چکا ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • پولیو پاکستانیوں کے لیے درد سر بن گیا ، مزید بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    پولیو پاکستانیوں کے لیے درد سر بن گیا ، مزید بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    لاہور : پولیو پاکستانیوں کے لیے درد سر بنتا جارہاہے. دوسری طرف کچھ شرپسند عناصر پولیوویکسین کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کرکے صورت حال خراب کررہے ہیں اور پاکستان کا عالمی دنیا میں تاثر خراب کررہے ہیں، اطلاعات کے مابق لاہورمیں اب تک چار بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے

    محکمہ صحت حکومت پنجاب کے ذرائع کے مطابق صوبے بھر میں پولیوکے خلاف ویکسین پلائی جارہی ہے. حکومت کی پہلی ترجیح ہے کہ وہ شہریوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھے ، انسداد پولیو پروگرام کے مطابق لاہورسمیت پنجاب کے چارشہروں میں پولیو کا آج آخری روز ہے ، اس کے علاوہ بھی حکومت ہر وقت اس وائرس سے بچنے کے لیے کوششیں‌جاری رکھے گی