Baaghi TV

Tag: پولیو

  • ملک میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا,کیسز کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

    ملک میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا,کیسز کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

    خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی: انسداد پولیو پروگرام کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی خان کی رہائشی بچی کے نمونے 31 دسمبر کو لے گئے جن کے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے پر اُسے پولیو کی تصدیق ہوئی جس کے بعد سال 2024 میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد 72 تک پہنچ گئی۔

    اعلامیے کے مطابق پولیو وائرس ٹائپ ون ڈی آئی خان کی رہائشی بچی میں پایا گیا اس کے بعد ڈی آئی خان میں گزشتہ سال کے دورا ن پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی،پاکستان میں اب تک رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز میں سے 27 بلوچستان، 22 خیبر پختونخوا، 21 سندھ، اور ایک ایک پنجاب اور اسلام آباد سے سامنے آئے ہیں۔

    اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    دوسری جانب رواں برس کی پہلی انسداد پولیو مہم ملک بھر میں 3 فروری سے شروع ہوگی اور 9 فروری 2025 تک جاری رہے گی، والدین کے لیے یقینی بنانا بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ویکسین لگوائیں۔

    واضح رہے کہ پولیو مفلوج کرنے والی بیماری ہے، جس کا کوئی علاج نہیں، پولیو کے قطروں کی متعدد خوراکیں اور 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے لیے معمول کے قطرے پلانے کے شیڈول کی تکمیل بچوں کو اس خوفناک بیماری کے خلاف اعلیٰ قوت مدافعت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    انگلش کرکٹرنے پی ایس ایل کی خاطر ریٹائرمنٹ لے لی

  • پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ،مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ،مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے انسداد پولیو ٹیم کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق ، وفاقی سیکرٹری قومی صحت ندیم محبوب ،نیشنل کوآرڈینیٹر , نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر انوار الحق ، عالمی ادارہء صحت کے ڈپٹی نیشنل ٹیم لییڈ ڈاکٹر صوغائر اور سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر محمد صفدر شامل تھے،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کو-چیئر بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن محترم بل گیٹس نے مجھے خط لکھا ھے، جس میں انہوں نے پاکستان میں جاری انسداد پولیو مہم اور اس مہم کے لئے کام کرنے والے تمام انسداد پولیو ورکرز کی شبانہ روز محنت تعریف کی ہے ،بل گیٹس فاؤنڈیشن اور تمام ملکی و بین الاقوامی شراکت دارو کے مشکور ہیں جنکی حمایت اور تعاون کی بدولت پاکستان میں صحت کے شعبے میں اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے مشترکہ کوششیں کی جارہی ہیں،صحت کے تمام شعبوں، بشمول انسداد پولیو، میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ صحت عامہ اور دیکھ بھال کی نگرانی کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ انسداد پولیو مہم کے دوران متعلقہ افراد کے پولیو سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے دوروں کا منظم روسٹر ترتیب دیا جائے، تاکہ ان مہمات کو اور زیادہ نتیجہ خیز بنایا جا سکے،بدقسمتی سے پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس کے لئے اور زیادہ مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کو کسی طور پر انداز نہیں کیا جاسکتا، اور اس سلسلے میں تمام تر ممکنہ اقدامات لئے جائیں

    وزیر اعظم کو انسداد پولیو کی حالیہ مہم اور اسکے نتائج پر بریفنگ دی گئی،وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مقامی افراد کی مدد سے انسداد پولیو تحریک کو کامیاب بنایا جا رہا ہے۔

    جنگی حالات میں یوکرین میں ثقافتی زندگی کیسے پروان چڑھ رہی

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ فعال ہونے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی، وزیراعظم

  • پولیو ورکرز پر حملہ  کیس میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور

    پولیو ورکرز پر حملہ کیس میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور

    جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کی عدالت نے پولیو ورکرز کی ٹیم پر حملے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے تمام ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو 10، 10 ہزار روپے کے عوض ضمانت فراہم کی، جبکہ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کر دیا۔

    عدالت میں سماعت کے دوران پولیس نے 4 خواتین سمیت 6 ملزمان کو پیش کیا۔ ملزمان کے خلاف انسدادِ پولیو ٹیم پر حملے کی پاداش میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزمان کے خلاف درج مقدمے کی دفعات قابلِ ضمانت ہیں، اس لیے ضمانت دی جاتی ہے۔پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے پولیو ٹیم کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے منع کیا تھا، جس پر خواتین نے غصے میں آ کر پولیو ورکرز پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق، حملے کے دوران ملزمان نے پولیس اہلکاروں کی وردیاں بھی پھاڑ دیں۔

    پولیس حکام نے مزید بتایا کہ واقعہ 19 دسمبر 2024 کو کراچی کے علاقے کورنگی میں پیش آیا، جب انسدادِ پولیو کی ٹیم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے پہنچی۔ وہاں موجود فیملی نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا اور پولیو ٹیم پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے بیلچوں سے پولیو ٹیم کو مارا، جس کے نتیجے میں انسدادِ پولیو ٹیم کے 2 ورکرز اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس نے اس واقعے میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کیا، جن میں 4 خواتین شامل ہیں، جن کے نام ثمینہ، ماہ جبین، آمنہ، اقراء، عمران اور سفیان ہیں۔ پولیس نے اس حوالے سے کورنگی تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔

    عدالت نے تفتیشی افسر سے 14 دنوں کے اندر کیس کا چالان پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزمان کی ضمانت منظور ہونے کے باوجود کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کا عمل جاری رہے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل، پولیو ورکرز اور ٹیموں پر مختلف علاقوں میں حملے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے انسدادِ پولیو مہم میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اس اہم مہم کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان:پولیو فری پاکستان کے لیے حکومت، عوام اور میڈیا متحد ہیں: عظمیٰ کاردار

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

  • کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    کراچی:شہر قائد کراچی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، کراچی کے علاقے کورنگی میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم پر حملہ کیا گیا ہے جس میں پولیو ورکرز اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق، آج کورنگی میں انسداد پولیو مہم جاری تھی۔ اس دوران پولیو ورکرز ایک فیملی کے پاس بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے پہنچے۔ تاہم، فیملی نے بچوں کو پولیو کے قطرے دینے سے انکار کیا اور اس کے بعد پولیو ٹیم پر حملہ کردیا۔ حملہ آور افراد نے پولیو ٹیم کو بیلچوں سے مارا اور ان سے موبائل فونز چھین لیے۔پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھا ڑ دیئے گئے،پولیس نے مزید بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر نفری بھیج دی گئی اور حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق، حملہ کرنے والے چھ افراد میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ گرفتار افراد کی شناخت سمینہ، ماہ جبین، آمنہ، اقرا، عمران اور سفیان کے ناموں سے کی گئی ہے۔پولیس نے کہا کہ حملے میں زخمی ہونے والے پولیو ورکرز اور پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

    واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں حفاظتی اقدامات بڑھا دیے ہیں اور پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو مہم جاری ہے، لیکن بعض مقامات پر اس مہم کے خلاف مزاحمت اور تشویشناک واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔دوروز قبل بھی کراچی میں خاتون پولیو ورکر کو یرغمال بنا لیا گیا تھا، پولیو ٹیم سے بدسلوکی پر 2 افراد گرفتار کر لئے گئے تھے،ناظم آباد نمبر 3 میں خواتین نے پولیو ٹیم سے عدم تعاون پر زیرحراست شخص کی رہائی کیلئے خاتون پولیو ورکر کو یرغمال بنالیا۔پولیس کی بھاری نفری نے گھر میں گھس کر لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بازیاب کروالیا، سربراہ گرفتارکر لیا گیا،

    شہرِ کراچی کے دیگر اضلاع کی طرح ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بھی پولیو مہم کا آغاز کردیا گیا ہے،ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کی جانب سے پولیو ٹیمز کی سیکیورٹی کے فل پروف انتظامات کیئے گئے ہیں۔ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس سمیت ایڈشنل یونٹس کے 1000 سے زائد افسران، جوان اور لیڈیز اسٹاف کو تعینات کیا گیا ہے۔ تمام تر سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی خود کررہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس پولیو جیسی مہلک بیماری کے خاتمے کے لئے متعلقہ اداروں کے ہمراہ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا پولیو ٹیموں کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم

    ڈور ٹو ڈور پولیو مہم، وزیراعلیٰ سندھ نے دروازے کھٹکھٹا دیئے

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

  • ڈور ٹو ڈور پولیو مہم، وزیراعلیٰ سندھ نے دروازے کھٹکھٹا دیئے

    ڈور ٹو ڈور پولیو مہم، وزیراعلیٰ سندھ نے دروازے کھٹکھٹا دیئے

    سکھر: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے سکھر کے دورے کا آغاز پولیو کے خاتمے کی ڈور-ٹو-ڈور مہم سے کیا۔ اس مہم کے دوران وزیر اعلیٰ نے یونین کائونسل نیو سکھر میں گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے اور والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے والدین سے بات کرتے ہوئے کہا، "پولیو کے قطرے آپ کے بچوں کو اپاہج ہونے سے بچا کر صحتمند مستقبل کو یقینی بناتے ہیں۔” انہوں نے والدین کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے انہیں مزید سمجھایا اور کہا، "والدین کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے میں نے آپ کے دروازے پر دستک دی ہے، تاکہ آپ کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔”انہوں نے والدین کو ہدایت دیتے ہوئے کہا، "آپ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، یہ نہ صرف آپ کے بچوں کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ضروری ہیں۔” وزیر اعلیٰ نے اپنی باتوں کا اختتام کرتے ہوئے کہا، "ہم ایک عظیم قوم ہیں اور ہم نے پولیو کا خاتمہ کر کے دنیا کے شانہ بشانہ چلنے کا عہد کیا ہے۔”وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر اپنی ٹیم کے ساتھ فیلڈ میں شامل ہو کر ڈور ٹو ڈور مہم میں حصہ لیا اور اپنی ٹیم کی محنت کو سراہا۔ انہوں نے کہا، "آج میں اپنی پولیو ٹیمز کے ساتھ فیلڈ میں ڈور ٹو ڈور مہم میں شامل ہوکر اپنی ٹیم کی محنت کو سلام پیش کرتا ہوں۔”

    اس موقع پر صوبائی وزرا سید ناصر شاہ، مکیش چاولہ، ایم پی اے فرخ شاہ، سید جاوید شاہ اور دیگر حکام بھی وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ موجود تھے۔ اس مہم کا مقصد سکھر اور اس کے گرد و نواح میں پولیو کے خاتمے کے لیے عوامی آگاہی کو فروغ دینا اور والدین کو اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی ترغیب دینا ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت میں اس مہم کا آغاز ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف سکھر بلکہ سندھ کے دیگر حصوں میں بھی پولیو کے خاتمے کی کوششیں تیز ہوں گی۔

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

  • آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    نواب شاہ: رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے ضلع شہید بینظیر آباد میں پولیو کے خلاف مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس مہم کے تحت ضلع میں پانچ سال سے کم عمر کے 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

    آج نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کے آغاز کے موقع پر ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی سربراہی بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور نے کی۔ اس موقع پر انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو ان کی متاثرکن کارکردگی پر اعترافی اسناد بھی دی گئیں۔رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی اور یہ سال کی آخری پولیو مہم ہے۔ اس سال پاکستان میں پولیو کے 64 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس وبا کے خاتمے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔”انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں۔ "صرف والدین کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ ہمیں اپنے دوستوں، خاندان، اور پڑوسیوں میں بھی پولیو سے متعلق آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ 5 سال سے کم عمر کا ہر بچہ پولیو کے قطرے ضرور پائے۔”

    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ "یہ مہم صرف ایک صحت کی مہم نہیں، بلکہ قوم کی ذمہ داری ہے۔ پولیو سے بچاؤ کے قطرے ہر بچے کے حق میں ہیں اور ہمیں اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔”

    اس مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا اور پولیو کے کیسز کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اس دوران، علاقے بھر میں بچوں کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پھیلائیں گی اور والدین کو پولیو کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گی۔پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو کی روک تھام کی کوششیں جاری ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس خطرناک بیماری سے بچایا جا سکے اور ملک کو پولیو فری بنایا جا سکے۔

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

  • خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    بنوں کے علاقے کالا خیل مستی خان میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے انسداد پولیو مہم پر مامور ایک پولیو ورکر کو قتل کر دیا۔کرک میں پولیو ٹیم پر حملے میں پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیو ورکر اپنی معمول کی ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے پولیو ورکر کو اس کے راستے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا اور اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔پولیس کے مطابق مقتول پولیو ورکر کا نام گلزار خان تھا اور وہ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری پر مامور تھا۔ گلزار خان اپنی ڈیوٹی کے لیے جا رہا تھا جب اسے ملزمان نے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق، فائرنگ کے بعد ملزمان فوراً فرار ہو گئے اور وہ جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ واقعے کی حقیقی وجہ سامنے آ سکے۔پولیس نے بتایا کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں اور یہ حملہ اسی قسم کی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب بنوں تھانہ صدر کی حدود میں پولیو ورکر پر فائرنگ ہوئی ہے، فائرنگ سے پولیو ورکر حیات اللہ خان زخمی ہوگیا ، زخمی ورکر کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ، واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ہے ، جس میں ایک کانسٹیبل شہید ہوگیا،کرک میں ٹیری کے علاقے شیخان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کانسٹیبل شہید ہوگیا، جبکہ پولیو ورکر زخمی ہوا۔

    یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک بھر میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت، تمام صوبوں میں پولیو ورکرز گھروں، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے دیں گے۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران پولیو ورکرز کو مختلف علاقوں میں دہشت گردوں، مسلح گروپوں اور مخالفین کی طرف سے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اس نوعیت کے حملے پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔پولیو ورکرز اور مہم میں شریک دیگر افراد کی حفاظت ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، اور اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے دوران ورکرز کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ وہ پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بنوں کے شہریوں اور پولیو ورکرز کے نمائندوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقامی رہنماؤں نے اس واقعے کو علاقے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا ہے اور حکومت سے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف بنوں بلکہ پورے ملک میں پولیو مہم پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس قسم کے حملے ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششیں ہیں۔ اس وقت حکومت اور مقامی اداروں کے لیے سب سے بڑی چیلنج پولیو ورکرز کی حفاظت اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔

    خیبر پختونخوا میں پولیو ورکرز پر حملے، صدر مملکت،وزیراعظم کی مذمت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک میں پولیو ورکرز پر حملے کی مذمت کی ہے،صدر مملکت نے حملے میں سکیورٹی اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ دہشت گرد ملک و قوم کے مستقبل کے دشمن ہیں ، دہشت گرد پاکستان کے عوام کو صحت مند اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے ، پاکستان کی عوام بڑھ چڑھ کر پولیو مہم میں حصہ لے، عوام سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، صدر مملکت نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا.

    پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے، اور اس میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے ہماری سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. قوم کو پولیو کے مرض سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہےاس قسم کی کاروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے اور پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی.

    گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں پولیو ٹیم پر حملے کی رپورٹ طلب کر لی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے،حملے میں پولیس اہلکار کی شہادت پر دلی افسوس ہوا، زخمی پولیو ورکر کو ہر ممکن علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،پولیو ورکرز پر حملہ پاکستان اور انسانیت دشمن قوتوں کی سازش ہے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت کیلیےڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہوں ،پولیو ٹیم پر حملے میں شہید پولیس اہلکار کی شہادت افسوسناک ہے ، پولیو ٹیمیں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں ،اس نیک مقصد کے دوران ان پولیو ٹیموں پر حملہ انہتائی شرمناک ہے ،کے پی حکومت حملے میں زخمی ہو نے والے پولیو ورکرز کو علاج کیلئے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے، حملے میں شہید کانسٹیبل کے لیے بلندی درجات اور اہلخانہ کے لیے صبرو جمیل کی دعا کرتی ہوں،

  • ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو کے خلاف 2024 کی آخری مہم کے آغاز کے موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ ملک کو اس موذی بیماری سے مکمل طور پر نجات مل سکے۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا: "ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہمارا کوئی بھی بچہ پولیو سے محفوظ نہ رہے۔ 64 پولیو کے کیسز صرف اس سال رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پولیو کے خلاف جاری اس مہم میں ہر شہری کا کردار انتہائی اہم ہے۔”آصفہ بھٹو نے مزید کہا کہ "یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر بچہ پانچ سال سے کم عمر کو ویکسین ملے۔ آپ کے ایک چھوٹے سے اقدام سے ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔”

    پولیو مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی، جس میں تمام پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا مقصد ہے۔ آصفہ بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسین کے بارے میں اپنے دوستوں، خاندان اور ہمسایوں میں آگاہی پیدا کریں اور اس قومی مہم میں حصہ لیں۔”ہم سب کی کوششوں سے ہی ہم پولیو کو شکست دے سکتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "یہ مہم صرف حکومت کا کام نہیں ہے، بلکہ ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ پولیو کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو اور ہر بچے کو ویکسین کے قطرے پلوانے میں مدد کرے۔ اگر ہم نے اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، تو ہمیں اجتماعی طور پر کوشش کرنی ہوگی۔”

    پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور دیگر ادارے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عوامی تعاون ضروری ہے۔ آصفہ بھٹو نے اس مہم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ محفوظ ہو گا، تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو گا۔انہوں نے مزید کہا: "ہم سب مل کر اپنے بچوں کو پولیو سے بچا سکتے ہیں، اور پاکستان کو اس بیماری سے آزاد کر سکتے ہیں۔”پولیو کے قطرے نہ صرف بچوں کی زندگیوں کو بچاتے ہیں بلکہ ایک بہتر، صحت مند پاکستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ بھر میں سال کی آخری انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہو گئی ہے،محکمۂ صحت سندھ کے مطابق 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 22 دسمبر تک جاری رہے گی،مہم کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، 80 ہزار فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے،انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے لیے 15 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے،پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے 63 کیسز میں سے 17 کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں،محکمۂ صحت سندھ نے والدین سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے بچوں میں قوت مدافعت مضبوط ہو گی،محکمۂ صحت سندھ نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے رہ جانے والے بچوں کے والدین کو ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،پاکستان اور افغانستان میں پولیو ابھی بھی موجود ہے اس لیے میڈیا، کمیونٹی رہنماؤں اور علماء سے انسدادِ پولیو مہم کی حمایت کی درخواست ہے۔

  • پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 نئے کیسز

    پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 نئے کیسز

    ملک میں پولیو وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے،پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 نئے کیسز سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے ملک میں پولیو سے مزید 3 بچے متاثر ہوگئے جس کے بعد متاثرہ بچوں کی تعداد 55 ہوگئی ہے پولیو سے متاثر ہونے والے 2 بچوں کا تعلق بلوچستان اور ایک کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، بلوچستان میں پولیو وائرس کے شکار بچوں کی تعداد 26 اور خیبرپختونخوا میں متاثرہ بچوں کی تعداد 14ہوگئی ہے سندھ میں اب تک پولیو سے 13 بچےمتاثر ہیں جبکہ اسلام آباد اورپنجاب میں ایک ایک بچہ پولیو سے متاثرہوا۔

    دوسری جانب اسی حوالے سے محکمہ صحت بلوچستان نے بتایا کہ پولیو کے نئے کیسز ضلع ژوب اور جعفر آباد سے رپورٹ ہوئے، رواں سال ژوب سے رپورٹ ہونے والا پولیو کا یہ تیسرا اور جعفرآباد سے دوسرا کیس ہےاس سے قبل قلعہ عبداللہ سے پولیو کے 6،کوئٹہ سے 3، قلعہ سیف اللہ، پشین اورچمن سے پولیو کے 2 ،2 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ڈیرہ بگٹی، چاغی، جھل مگسی، خاران، نوشکی اور لورالائی سے پولیوکا ایک، ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔

  • انسداد پولیو مہم،مشکلات کا سامنا، فائرنگ،سیکورٹی اہلکاروں سےاسلحہ چھین لیا گیا

    انسداد پولیو مہم،مشکلات کا سامنا، فائرنگ،سیکورٹی اہلکاروں سےاسلحہ چھین لیا گیا

    پاکستان میں انسداد پولیو مہم شروع ہو چکی ہے تا ہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.

    شمالی وزیرستان کے علاقے شیواہ میں 15 مسلح افراد نے پولیو ٹیم کی سیکورٹی پر تعینات تین پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا جس کے بعد شیواہ میں انسداد پولیو مہم روک دی گئی ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے کاروائی جاری ہے، انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنائیں گے،

    دوسری جانب اپر اورکزئی میں ڈبوری بادان کلے میں انسدادِ پولیو ٹیم پر مسلح افراد نے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی سیکورٹی پر تعینات ایک پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا،ڈی ایس پی کے مطابق پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، بعد ازاں کاروائی کے دوران اورکزئی میں پولیو ٹیم پر حملہ کرنے والے تین دہشتگردوں کو پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مشترکہ سرچ آپریشن میں مار دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر فہمیدہ یوسفی کہتی ہیں کہ پولیو کے خلاف مہم پر حالیہ حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ کچھ ملک دشمن عناصر اس اہم انسانی صحت کے پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ اپر اورکزئی میں انسدادِ پولیو ٹیم پر فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار کی شہادت اور دوسرے کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔بلوچستان میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران 21 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ ملک بھر میں متاثرہ بچوں کی تعداد 41 ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہیں؟ہمیں ایسے حملوں کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے اور حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس مہلک بیماری کے خلاف لڑیں اور اپنے بچوں کی صحت کی حفاظت کریں۔

    پولیو ورکرز کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے اقدامات کیے جائیں ،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کہتی ہیں کہ اپر اورکزئی میں ڈبوری بادام کلے میں انسدادِ پولیو ٹیم پر فائرنگ کی مذمت کرتی ہوں فائرنگ سے انسدادِ پولیو ٹیم کی حفاظتی ڈیوٹر پر مامور ایک پولیس اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہوا ہے شہید اور زخمی ہونے والے ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کیساتھ دلی ہمدردی ہے پولیو ورکرز پر حملہ، قوم کے مستقبل پر حملہ ہے معصوم بچوں کو پولیو سے بچانے والوں پر حملہ ناقابل قبول ہے پولیو ورکرز کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے اقدامات کیے جائیں تاکہ پولیو مہم بغیر کسی رکاوٹ کے فعال رہے ملک بھر میں رواں سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 40 ہو گئی ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہےپاکستان نے پولیو کے خلاف جنگ میں ایک طویل سفر طے کیا ہے حملہ آوروں کو فوری گرفتار کیا جائے اور کٹہرے میں لاکر سخت سے سخت ترین سزا دی جائے پولیو مہم کے دوران ورکرز پر حملے کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا ہے

    پولیو مہم کا آغاز، سندھ کے ایک کروڑ بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائیں گے

    پاکستان میں پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ؛ رواں سال متاثرہ بچوں کی تعداد 41 ہوگئی

    پولیو ورکرز قوم کے مجاہد ہیروز ہیں،وزیراعظم

    پاکستان میں سب سے پہلے آصفہ بھٹو کو پولیو ویکسین پلائی گئی،بلاول بھٹو

    پولیو پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پاکستان،افغانستان کو مل کر کام کرنا ہے،وزیراعظم