Baaghi TV

Tag: پھانسی

  • چین  میں گھناؤنے جرائم کے الزام میں 2 افراد کو پھانسی

    چین میں گھناؤنے جرائم کے الزام میں 2 افراد کو پھانسی

    بیجنگ: چین نے گھناؤنے جرائم کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی،چین دنیا میں سب سے زیادہ پھانسی دینے والا ملک بن گیا

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں آج اس شخص کو پھانسی دی گئی جس نے نومبر میں کھیل کے میدان میں اپنی کار شہریوں پر چڑھا دی تھی اس واقعے میں 35 افراد کو ہلاک ہوگئے تھے جسے گزشتہ 10 برسوں میں چین میں کسی واقعے میں اتنی ہلاکتوں کا سب سے مہلک واقعہ قرار دیا گیا تھا قاتل ایک 62 سالہ شخص فان ویکیو تھا جس نے اپنی طلاق پر شرا ب کے نشے میں کار چلائی اور درجنوں افراد کو موت کی نیند سلادی تھی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب اور یو اے ای صدر کیخلاف سوشل میڈیا مہم کیس، مزید 4 افراد گرفتار

    اسی طرح ایک اور ملزم کو بھی پھانسی دیدی گئی جس نے نومبر میں ہی کالج کیمپس میں چاقو کے وار کے 8 افراد کی جان لی تھی 21 سالہ سو جیاجین اسی کالج میں گریجویشن کا طالب علم تھا اور فیل ہونے، سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرپانے اور انٹرن شپ معاوضے سے خوش نہ ہونے پر حملہ کیا تھا۔

    علی امین پختونوں کی غیرت پر سیاہ دھبہ ہے،عظمی بخاری

  • سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب میں 2024 کے دوران 330 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اضافہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی 2022 میں کی گئی اس یقین دہانی کے باوجود ہوا ہے کہ ان کے وژن کے مطابق مملکت میں موت کی سزا کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، سوائے قتل کے معاملات کے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے "ویژن 2030” کے تحت سعودی عرب کو ایک جدید اور کھلا ملک بنانے کی کوششیں تیز کیں، جہاں سیاحت اور تفریحی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب نے اپنے قدیم مذہبی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم، حالیہ برسوں میں سزائے موت میں اضافے نے ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔اس سال کی 330 سزائیں حقوقِ انسانی کی تنظیم "ریپریو” نے ریکارڈ کی ہیں، جسے رائٹرز نے تصدیق کیا۔ یہ تعداد گزشتہ برس کی 172 سزاؤں اور 2022 کی 196 سزاؤں سے بہت زیادہ ہے۔ "ریپریو” کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔

    حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اور دیگر عالمی ادارے سعودی عرب کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال 150 سے زائد افراد کو غیر مہلک جرائم میں سزائے موت دی گئی، جن میں زیادہ تر افراد کو منشیات کے اسمگلنگ کے الزامات میں سزائیں دی گئیں۔ ان الزامات کا تعلق شام سے نکلنے والی کپٹگون سے ہے، جو سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر اسمگل ہو رہی ہے۔سعودی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔ سعودی حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنے قانون کے مطابق، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    اس سال کی سزاؤں میں 100 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو بھی شامل کیا گیا، جن میں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان سزاؤں کے خلاف عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ ان میں اکثر افراد کو بغیر کسی وکیل یا مناسب دفاع کے موت کی سزا دی گئی ہے۔رائٹرز نے سعودی حکومت سے ان سزاؤں کی تفصیلات کے حوالے سے سوالات کیے، لیکن سعودی حکومت کی طرف سے کسی وضاحت یا جواب کا کوئی جواب نہیں آیا۔

    محمد بن سلمان نے 2017 میں اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد، سعودی عرب نے سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کیا۔ خاشقجی کو 2018 میں سعودی قونصلیٹ استنبول میں قتل کر دیا گیا تھا، جس پر سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    محمد بن سلمان نے 2022 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے سزائے موت کا خاتمہ کر دیا ہے، سوائے قتل کے مقدمات کے۔ تاہم، اس بیان کے باوجود سزائے موت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ ان کے اصلاحاتی دعوے اب زیر سوال ہیں۔سعودی عرب میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف سعودی ولی عہد ملک کو ایک کھلا اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں سزائے موت میں اضافے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹیں ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب بارے بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    ویڈیو:امریکی اداکارہ جینیفر لوپیز کی سعودی عرب میں بولڈ پرفارمنس،جلوے

  • برادر اسلامی ملک سعودی عرب میں 5 پاکستانیوں کو پھانسی دے دی گئی

    برادر اسلامی ملک سعودی عرب میں 5 پاکستانیوں کو پھانسی دے دی گئی

    پاکستانی بیرون ممالک میں بھی جرائم سے باز نہ آئے، ڈکیتی و قتل کی وارداتوں کی وجہ سے پانچ پاکستانی موت کے پھندے تک پہنچ گئے، سعودی عرب میں پانچ پاکستانی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی

    برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے وزارتِ داخلہ حکام نے بتایا کہ جن پاکستانیوں کو پھانسی دی گئی ان 5 پاکستانیوں نے نجی کمپنی میں ڈکیتی کی تھی اور بنگلہ دیشی چوکیدار انیس میاں کو جان سے مار دیا تھا واقعہ کے بعد سیکورٹی اداروں نے تحقیقات کیں اور پانچوں ملزمان کو گرفتار کیا،عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر 5 پاکستانیوں ارشد علی ، عبدالمجید اور عبدالغفار ،خالد حسین اور عبدالغفار میر بحر لطف اللّٰہ کو موت کی سزا سنائی تھی

    سعودی اپیل کورٹ نے فیصلے کو برقرار رکھا تھا جبکہ سعودی شاہی ایوان نے پانچوں مجرمان کی موت کی سزا کے حتمی فیصلے پر عمل درآمد کی منظوری دی تھی جس پر گزشتہ روز عمل درآمد کرتے ہوئے پانچوں مجرمان کو سزا دے دی گئی ہے،

    قبل ازیں سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر ایک پاکستانی کو سزائے موت دی گئی۔ پاکستانی شہری گلزار خان ولد منت خان کو ہیروئن کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھاعدالت میں سماعت کے دوران گلزار خان پراسمگلنگ کا الزام ثابت ہوا تھا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی تھی.اس کے علاوہ عبدالرحیم حمیدی الجوہر نامی شامی شہری کا بھی ممنوعہ نشہ آور گولیاں درآمد اور وصول کرنے پر سر قلم کیا گیا ہے۔

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

  • ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد کر دیا گئا

    14 ارکان نے سرعام پھانسی کے سزا کے حق میں، 24 نے مخالفت میں ووٹ دیا،جماعت اسلامی نے جنسی زیادتی پر سرعام پھانسی کا بل سینیٹ میں پیش کیا تھا،پی پی، ن لیگ اور نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے سرعام پھانسی کی مخالفت کی،جماعت اسلامی، ق لیگ، جے یو آئی، پی ٹی آئی کے بیشتر سینیٹرز نے بل کی حمایت کی،مشتاق احمد سمیت مہرتاج روغانی، کامران مرتضیٰ، مولانا فیض محمد، حافظ عبدالکریم، کامل علی آغا اور عبدالقادر نے بل کے حق میں ووٹ دیا،

    سر عام پھانسی سے کسی ملک میں ریپ کا جرم ختم نہیں ہوا ،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سرعام پھانسی ملک میں بربریت پھیلاتی ہے، سر عام پھانسی اکیسویں صدی کے معاشرے کو زیب نہیں دیتا،اس بل کی میں نے کمیٹی میں بھی مخالفت کی تھی، ریپ ایک سنگین اور سنجیدہ جرم ہے لیکن سر عام پھانسی سے کسی ملک میں ریپ کا جرم ختم نہیں ہوا ہے،پہلے بھی اس پر بات ہو چکی ہے، سرعام پھانسی مسئلے کا حل نہیں وہ معاشرے میں بربریت پھیلاتی ہے،ہم سب کی ایک ہی سوچ ہے کہ ریپ سے بدتر کوئی جرم نہیں، ہم پولیسنگ، بہتر کریں، سرعام پھانسی سے ریپ کیسز نہیں رک سکتے.

    سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے یہ اہم نہیں اسلام کیا کہتا ہے یہ اہم ہے،پی ٹی آئی نے بھی ریپ ملزمان کو سرعام پھانسی کی مخالفت کر دی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سزائے موت کی حمایت، سرعام پھانسی کی مخالفت کرتے ہیں،

    ایوان بالا میں ملک میں آبی وسائل ،سیلابوں،اور پانی کی بد انتظامی کے حوالے سے تحریک پر بحث کی گئی،سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ 35 سے 50 فیصد پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، ہمارے پاس دریائے سندھ قدرتی وسائل ہیں لیکن ہم نے انہیں استعمال نہیں کیا ،دریاؤں میں پانی کی کمی کیوں آئی ہے ،کہیں بھارت تو ہمارے وسائل کو استعمال نہیں کر رہا؟ ، دیگر ممالک میں ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے پلاننگ کی جاتی ہے ،2010 میں جو سیلاب ایا تھا اس میں 43 بلین نقصان ہوا تھا ،کیا یہ کہنا مناسب ہو گا کہ بھارت نے پانی چھوڑ دیا ہے ،ہمارے پاس بہت بڑا ایریا ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں ، نیپرا کہتے ہے 1.2، 1.3 ہیڈرو بجلی استعمال کر رہے ہیں ،سندھ کو پنجاب سے شکایت ہےکہ جب ہم پانی مانگتے ہیں تو گڈو سے پانی پہنچنے تک سات روز لگتے ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک آبادی کا بم ہے اور ایک پانی کا بم ہے،پانی کے حوالہ سے رپورٹس منگوا لیں،پانی کے بحران کو کس طرح حل کرنا ہے، سرتاج عزیز نے ایک رپورٹ بنائی تھی، وہ منگوائیں بڑی اہم باتیں ہیں اس پر عملدرآمد شروع کریں تو پانی کے مسئلے حل ہو سکتے ہیں،جو بھی حکومت آئے پانی کے مسائل پر سنجیدگی سے کام کرے،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا رپورٹس منگوا کر سب ممبران کو دے دیں،

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کسی بھی جماعت کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا گیا،
    نگران حکومت کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی پر چیئرمین سینیٹ اور اراکین سینیٹ کے مشکور ہیں، نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانا تھی،اس مقصد کے لئے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کا تعاون درکار تھا،نگران حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں تعلقات رکھنے کی کوشش کی،

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ اجلاسوں کو ہموار طریقے سے چلانے میں اہم کردار ادا کیا، وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے اراکین سینیٹ کے سوالات کو غور سے سنا اور ان کے تفصیلی جوابات دیئے جس پر ان کے مشکور ہیں،

    تحریک انصاف کے ارکان نےسینیٹ میں چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کیا اور دھاندلی زدہ الیکشن نا منظور کے نعرے لگائے،

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی،سرعام پھانسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، سینیٹر فیصل جاوید

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    وزیراعظم نے زیادتی کے مجرم کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی،

    بچوں کے ساتھ جنسی اورجسمانی تشدد کا حل سرعام پھانسی دینا نہیں بلکہ..عدالت نے کیا حل بتایا؟

  • لاپتہ افراد کیس،نگران وزیراعظم کی طلبی ہو گئی

    لاپتہ افراد کیس،نگران وزیراعظم کی طلبی ہو گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیر اعظم کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بھی اس کام میں ملوث ہیں انکو پھانسی ہونی چاہیے، عام طور پر ایک بار پھانسی ہوتی ہے ان کیسسز میں ملوث افراد کو دو دفعہ پھانسی ہونی چاہیے،ابھی نگران وزیراعظم کو طلب کرتا ہوں اور پھر منتخب وزیراعظم کو بھی طلب کرونگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں اس کیس میں مزید وقت درکار ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ تو میری مہربانی ہے کہ میں دونوں ڈی جیز کو نہیں بلا رہا،عدالت نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو پیر کے روز صبح طلب کرلیا

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • پی ٹی آئی جن مشکلات سے دوچاراسکے ذمہ دارعمران خان ہیں ،صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر

    پی ٹی آئی جن مشکلات سے دوچاراسکے ذمہ دارعمران خان ہیں ،صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر

    جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے اکبری تکونیہ مسجد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ان کے دور حکومت میں ہم نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے باربار کہا لیکن انہوں نے ان کو سزائیں دلوانے کے بجائے رانا ثناء اللہ پر حقیقی مقدموں کو چھوڑ کر منشیات کے جھوٹے مقدمے قائم کئے اور ذمہ دار پولیس افسران کو ان کے عہدوں پر بحال کیا ان کوترقیاں دیں آج اگر وہ ہی لوگ ان کی پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں پربقول ان کے ظلم کررہے ہیں تو اس کے ذمہ داروہ خود ہیں

    ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا کہنا تھا کہ اگر ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو وہ کیفر کردار تک پہنچا دیتے تو آج ان کو یہ شکایت نہ کرنی پڑتی پی ڈی ایم عمران خان کے حالات سے سبق حاصل کرے اور نو مئی کے واقعات کے ذمہ داروں کو ضرورکیفر کردار تک پہنچائے لیکن عمران خان کی طرح بے گناہ لوگوں کو نو مئی کے واقعات میں ملوث کر کے ان پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے اپنے حریف کی سیاست ختم کر کے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش نہ کرے ان کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ وقت کے حکمرانوں نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پارٹی اور ان کی سیاست ختم کرنے کیلئے ان کو پھانسی پرچڑھا دیا اور ایم آر ڈی کی تحریک میں ان کے کارکنوں پر کوڑے برسائے لیکن بھٹو زندہ کے نعرے آج بھی لگ رہے ہیں اور بھٹو کی پارٹی آج بھی قائم ہے اور حکومت کررہی ہے ملک اس وقت جن بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اس کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں جس پر دونوں فریقوں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرکے مذاکرات کے عمل کا فوری آغاز کرنا چاہئے

    رینجرز ہیڈکواٹرمیں ترجمان رینجرز نے صحافیوں کو سالانہ رپورٹ پربریفنگ دی ہے،

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

  • کویت میں 2017 کے بعد پہلی مرتبہ ایک پاکستانی اور 2 خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی

    کویت میں 2017 کے بعد پہلی مرتبہ ایک پاکستانی اور 2 خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی

    دوحہ: کویت میں 2017 کے بعد پہلی بار 7 افراد کو عدالت کے حکم پر پھانسی دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پبلک پراسیکیوشن سروس نے کہا کہ کویت نے بدھ کے روز سات افراد کو قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی-

    دھوکے سے گردے نکالنے پر خاتون نے ڈاکٹر کے دونوں گردے مانگ لیے

    پبلک پراسیکیوشن سروس کے مطابق ایک قتل کیس میں جرم ثابت ہونے پر عدالت نے 2 خواتین اور 5 مردوں کو سزائے موت سنائی تھی جس پر آج عمل درآمد کرتے ہوئے مجرمان کو ایک ساتھ پھانسی دیدی گئی۔

    جن افراد کو پھانسی دی گئی ان میں ایتھوپیا اور کویت سے تعلق رکھنے والی خواتین کے علاوہ ایک پاکستانی، ایک شامی اور 3 کویتی مرد شامل ہیں۔ ان کے نام اور دیگر تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

    کویت کے معاون مشیرِ خارجہ برائے قانونی امور غنیم الغنیم نے بتایا کہ مجرمان قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ جنھیں کویت کے 1960 کے قانون 16 کے تحت ٹھوس شواہد اور اعتراف کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔

    تاہم انھوں نے مجرمان پر عائد مقدمات، دفعات اور سماعت سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی واردات کی تاریخ، محرک اور مقتول کے بارے میں کچھ بتایا گیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو مکمل قانون حقوق فراہم کیے گئے تھے۔

    عالمی اداروں کی کڑی تنقید، اعتراض اور مطالبے کے باوجود کویت میں سزائے موت کا قانون برقرار ہے اور اس پر عمل درآمد بھی کرایا جاتا ہے۔ اس سے قبل 25 جنوری 2017 میں بھی ایک شہزادے سمیت 7 افراد کو پھانسی دی گئی تھی اسی طرح 2013 میں بھی پانچ افراد کو دو ماہ کے وقفے میں قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی تھی۔

    کویت نے 1960 کی دہائی کے وسط میں سزائے موت کے نفاذ کے بعد درجنوں افراد کو پھانسی دی ہے۔ جن کی مذمت کی گئی ان میں زیادہ تر قاتل یا منشیات کے اسمگلر تھے۔

    "بے وفائی نہیں کرنے کا” سفاک ملزم نے 21 سالہ محبوبہ کے ساتھ کیا گھناؤنا…

    واضح رہے کہ 17 مئی 1964 کو پہلی پھانسی کے بعد سے کویت میں اب تک 84 افراد کو سزائے موت دی گئی جن میں 15 پاکستانی بھی شامل ہیں۔

    یہ سعودی عرب کی جانب سے دو پاکستانی شہریوں کو ہیروئن کی اسمگلنگ کے جرم میں پھانسی کی سزا کے چند دن بعد سامنے آیا ہے-

    ایک بیان میں، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پھانسیوں کو روکنے پر زور دیا، اور انہیں "انتہائی ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سزا” قرار دیا۔

    ایمنسٹی کی ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر آمنہ گیلالی نے ایک بیان میں کہا کہ کویتی "حکام کو فوری طور پر پھانسیوں پر ایک باضابطہ موقوف قائم کرنا چاہیے۔

    سعودی عرب:جج 5 لاکھ ریال کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار

  • میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز،دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی

    میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز،دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی

    میانمار میں پھانسی کی سزا کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہےمیانمار کی سابق حکمران آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو سابق قانون سازوں سمیت چار افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس اقدام سے تقریباً 50 سال سے غیر فعال موت کی سزا دوبارہ فعال ہوئی ہے میانمار کی فوجی حکومت نے سوموار کو جن چار افراد کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کیا ان پر مقامی اخبار گلوبل نیو لائٹ کے مطابق ’پُر تشدد اور غیر انسانی دہشت کی کارروائیاں‘ سرانجام دینے کا الزام تھا۔

    پھانسی پانے والے افراد میں سے ایک 41 سالہ فیو زیا تھا ہیں، جن کا تعلق سوچی کی سیاسی جماعت سے تھا۔ انہیں گذشتہ سال نومبر میں فوجی حکومت نے گرفتار کیا تھا اور ایک ٹریبونل نے انہیں رواں سال جنوری میں سزائے موت سنائی تھی فیو زیا تھا 1988 میں اس وقت کی فوجی حکومت کے خلاف طلبہ کی بغاوت میں پہلی مرتبہ سیاسی منظر نامے پر ابھرے تھے۔

    پھانسی پانے والے دوسرے شخص 53 سالہ کیا من یو ہیں، جو ’جمی‘ کے نام سے زیادہ مشہور تھے جمی ایک جمہوری کارکن تھے اور انہیں بھی فوجی ٹریبونل نے سزائے موت دی تھی۔ ان پر فوجی حکومت کے خلاف کئی حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔ ان مبینہ حملوں میں سے ایک رنگون کی مسافر ٹرین میں کیا گیا جس میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔

    جمی 2008 میں اس وقت کی فوجی حکومت کے دوران بھی جیل جا چکے ہیں۔ اس وقت ان کے گانوں کے بول نے فوجی حکومت کو پریشان کیا تھا اور انہیں کالعدم تنظیم کی رکنیت اور غیر ملکی کرنسی رکھنے کے الزام میں قید کی سزا ہوئی تھی۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اسسٹنس ایسوسی ایشن فار پولیٹیکل پرزنرز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ سال فوجی بغاوت کے بعد سے دو ہزار 114 عام شہری سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں قتل اور گرفتاریوں پر نظر رکنے والی اس غیر سرکاری تنظیم کے مطابق اب تک 115 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

    پیر کو دی جانے والی پھانسیوں پر قومی اور عالمی سطح پر مذمتی بیانات کا سلسلہ جاری ہےہیومن رائٹس واچ کے قائم مقام ایشیا ڈائریکٹر ایلائینے پیئرسن نے کہا ہے کہ ’میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے چار افراد کو پھانسی دینا سراسر ظلم ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سزائیں انصاف کے برعکس اور سیاسی عزائم کے پیش نظر رکھنے والی عدالتی کارروائی کے بعد دی گئی ہیں۔ فوجی حکومت کا ظلم اور انسانی زندگی کی بے وقعتی فوجی بغاوت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹریس نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’جینے کے حق، آزادی اور شخصی حفاظت کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔

  • پولیس اہلکاروں کی عمر قید کی سزا پھانسی میں تبدیل

    پولیس اہلکاروں کی عمر قید کی سزا پھانسی میں تبدیل

    پولیس اہلکاروں کی عمر قید کی سزا پھانسی میں تبدیل

    سندھ ہائیکورٹ ، چمن کے چار تاجروں کے کراچی میں قتل کے مقدمے کی دوباره اپیل کا فیصلہ سنا دیا گیا

    عدالت نے جعلی مقابلے میں ملوث دو پولیس اہلکاروں کی عمر قید کو دوبارہ پھانسی میں تبدیل کردیا .جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں بینچ نے چمن کے چار تاجروں کے کراچی میں قتل کے مقدمے میں سزا کے خلاف دوبارہ اپیل پر فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے جعلی مقابلے میں ملوث دو پولیس اہلکاروں کی عمر قید کو دوبارہ پھانسی میں تبدیل کردیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق گاڑیوں کے تاجروں کو اے سی ایل سی اہلکاروں نے 2008ء میں جعلی مقابلے میں ہلاک کیا تھا۔

    ماتحت عدالت نے 5 پولیس اہلکاروں کو پہلی سماعت میں سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے واپس انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کو بھیج دیا تھا۔ ماتحت عدالت نے دوبارہ فیصلے میں پولیس اہلکار ظفر احمد اور نور محمد کو بری کردیا تھا۔ عدالت نے پولیس اہلکاروں ظہور اور ظہیر کی پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔اے سی ایل سی اہل کاروں نے جعلی پولیس مقابلے میں جن 4 تاجروں کو قتل کیا تھا ان میں زین الدین، طاہر واحد اور ابراہیم شامل ہیں۔ اے ٹی سی نے جرم ثابت ہونے پر نورمحمد، ظہیر مرزا، ظہور خان، ظفر علی اور ارشاد ملک کو سزا موت سنائی تھی۔ ایک ملزم انسپکٹر ارشاد مقدمے کی سماعت کے دوران ہی انتقال کرچکا

    ملزمان کے وکیل نے موقف دیا تھا کہ خفیہ اطلاع ملنے پر اسمگلروں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اسمگلروں نے پولیس کے اشارے پر گاڑی روکنے کے بجاٸے فاٸرنگ شروع کردی۔اے سی ایل حکام میں اپنے موقف میں کہا تھا کہ پولیس کی جوابی فاٸرنگ سے چاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بلوچستان میں احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔ مرحومین کے ورثا نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے جعلی مقابلہ ظاہر کرکے ان کے رشتہ داروں کو قتل کیا

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سابق پولیس ملازم گرفتار

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سگی بیٹی کو فحش ویڈیو دکھا کر سفاک باپ سمیت 28 افراد نے کیا ریپ

    موبائل میں فحش مواد ڈال کر دینے والا دکاندار گرفتار

    فحش ویڈیوز کا دھندہ کرنیوالے 20 ملزمان گرفتار

    فیکٹر ی ایریا سے لاپتہ ہونے والی چاروں بہنیں بحفاظت بازیاب

  • چین میں کرپٹ لوگوں کو کیسے سزا دی جاتی رہیِ؟ پرانی ویڈیو وائرل

    چین میں کرپٹ لوگوں کو کیسے سزا دی جاتی رہیِ؟ پرانی ویڈیو وائرل

    چین میں کرپٹ لوگوں کو کیسے سزا دی جاتی رہیِ؟ پرانی ویڈیو وائرل

    اطلاعات کے مطابق اس وقت جہاں پاکستان میں حکومت کے خلاف اپوزیشن جوڑ توڑ اور سازشوں میں مصروف ہے ، دوسری طرف ملک میں کرپشن کنٹرول کرنے کے حوالے سے چین کا کرپش فری ماڈل پاکستان میں اپنانے اور لانے کے لیے چینی سوشل میڈیا ٹیموں نے پاکستانی مقتدر اداروں اور دیگر اہم سوشل میڈیا پیجز پر ایک ایسی ویڈیو وائرل کردی ہے کہ جس کو دیکھنے کےبعد بہت سے خیالات اور احساسات نے جنم لے لیا ہے

    اہم ذمہ داران کو شیئر کی جانی والی یہ ویڈیو 11 سال پرانی ہے لیکن اس میں دیکھنے والوں کےلیے بہت کچھ ہے ، اس ویڈیو کو شیئر کرنے والوں نے پاکستان میں چین کا کرپشن فری ماڈل نافذ کرنےکے لیے یہ ویڈیو وائرل کی ہے

    گیارہ سال پہلے کرپشن پر سزائے موت پانے والے ان چینی وائس میئرز کی کہانی کچھ اس طرح تھی کہ چین میں دوسابق نائب میئرز کو پھانسی دے دی گئی جولائی 2011 میں ان دونوں پراختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزامات ثابت ہو نے کے بعد ان کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی تھی

    تاریخ کے اوراق کو پلٹیں‌تو معلوم ہوتا ہے کہ چینی عدالت عظٰمی اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں میئر حضرات نے مشرقی چین میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دو شہروں میں تعمیراتی اور مختلف قسم کے دیگر منصوبوں میں دخل اندازی کی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ ٹھیکے اپنے من پسند افراد کو دلانے کے لیے انہوں نے لاکھوں ڈالر رشوت لی تھی ۔

    عدالت عظٰمی کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق شنگ ژو شہرکے سابق نائب میئر Xu Maiyong اور سوجو شہرکے نائب میئرJiang Renjie کو منگل کی صبح پھانسی دی گئی۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے 19 جولائی کو ہی بتادیا تھا کہ Xu Maiyong نے سرکاری منصوبوں میں مداخلت کی اور مختلف افراد اورکمپنیوں کو فائدے پہنچائے، جس کے عوض انہیں تقریباً 22 ملین ڈالر رشوت کے طور دیے گئےتھے ۔ اسی طرح دوسرے نائب میئر Jiang نے جائیداد کا کام کرنے والوں سے 108 ملین یوآن رشوت لی تھی ۔

    چین کی کمیونسٹ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک سے جرائم اور بدعنوانی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ سخت سے سخت اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔

     

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے چین میں2007ء میں بیجنگ حکام نے شنگھائی میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کو برطرف کر دیا تھا۔ ان کا شمار پارٹی کے طاقت ور ترین افراد میں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ رواں سال بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے ریلوے کے وزیر کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    دوسری طرف پاکستان میں 11 سال بعد وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ اس ویڈیو کے وائرل کرنے میں عمران خان کےلیے ایک پیغام ہے کہ ان کے دورہ چین کے دوران چینی صدر سے ہونے والی گفتگو میں جہاں چینی صدر نے پاکستان کو کرپشن فری کرنے لیے کرپٹ لوگوں کو سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی تھی حالیہ ویڈیواس حوالے سے ایک ریمانڈر ہے

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے لیے چینی صدر نے عمران خان کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اگر وہ پاکستان میں چینی ماڈل اپنانا چاہتے ہیں تو ان کو اس قسم کے سخت فیصلے بھی کرنے ہوں گے ، حالیہ ویڈیو ان تجاویز کی ایک کڑی ہے اور یہ ان طاقتورکرپٹ شخصیات کے خلاف سخت فیصلہ لینے کے لیے ایک پیغام قراردیا جارہا ہے