Baaghi TV

Tag: پیرس

  • پیرس: چیکنگ کیلئے روکنے پر قطر کے سفارت خانے پرتعینات سیکیورٹی گارڈ قتل

    پیرس: چیکنگ کیلئے روکنے پر قطر کے سفارت خانے پرتعینات سیکیورٹی گارڈ قتل

    پیرس: فرانس کے دارالحکومت میں قطر کے سفارت خانے کے مرکزی درازے پر تعینات سیکیورٹی گارڈ کو قتل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : "روئٹرز” کے مطابق پیر کو پیرس کے پراسیکیوٹر کے دفترسے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پیرس میں قطر کے سفارت خانے میں پیر کو علی الصباح مارا جانے والا شخص ایک سیکورٹی گارڈ تھا جبکہ تحقیقات کرنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر اس واقعہ کا دہشت گردی سے تعلق نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ صبح 6:30 بجے کے قریب پیش آیا جب ملزم سفارتخانے میں داخل ہوا اور اس نے سیکیورٹی گارڈ سےجھگڑے کے بعد گھونسوں سے وار کیا مکا لگنے سے سیکیورٹی گارڈ زمین پر گر گیا اور سر روڈ سے ٹکرانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سیکیورٹی گارڈ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ قتل کی گنتی پر آج تفتیش شروع کر دی گئی ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا کوئی ہتھیار استعمال کیا گیا تھا "گارڈ کی موت کے حالات کا ابھی تک قطعی طور پر تعین ہونا باقی ہے۔

    پاسداران انقلاب کے ایک سینئر کرنل کے قتل کا بدلہ لیں گے،ایرانی صدر کا اعلان

    پیرس کے دفتر استغاثہ نے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جائے واردات سے ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ایک افسر کے مطابق پولیس اس واقعہ کی قتل کے رخ سے تحقیقات کر رہی ہے-


    سفارت خانے کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک گھناؤنے اور بلا جواز جرم میں پیر کی صبح پیرس میں قطری سفارت خانے کے ایک سکیورٹی اہلکار کو قتل کر دیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی۔


    سفارت خانے نے ٹویٹر پر کہا کہ ہم تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں اور مقتول کے خاندان کی رازداری کے احترام کی اپیل کرتے ہیں۔ سفارت خانہ اس جرم کے بعد اپنے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور مقتول کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے-

    اخبار لی پیرسین نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیر کو سفارت خانے کے اندر ایک شخص کو ہلاک کیا گیا تھا۔

    بھارت:انتہاپسند ہندووں نے مسلمان ہونے کے شبے پر بزرگ کو تشدد سے ہلاک کردیا

  • ایفل ٹاور کی اونچائی میں مزید اضافہ کیوں کیا گیا؟

    ایفل ٹاور کی اونچائی میں مزید اضافہ کیوں کیا گیا؟

    فرانس: پیرس کی یادگار کے اوپر ایک نیا ڈیجیٹل ریڈیو اینٹینا لگانے کے بعد ایفل ٹاور کی اونچائی میں 6 میٹر مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ریڈیو اینٹینا ہیلی کاپٹر کی مدد سے لگایا گیا جس کے بعد ایفل ٹاورکی لمبائی میں چھ میٹر اضافہ ہوا اس سے قبل ایفل ٹاور کی 324 میٹر تھی جو اب بڑھ کر 330 تک جاپہنچی۔

    ایفل ٹاور کو سال 1899 میں فرانسیسی انقلاب کے ایک سو سال مکمل ہونے کی خوشی میں گستاف ایفل نے تعمیر کیا گیا تھا ایفل ٹاور انقلاب فرانس کی 100 سالہ تقریب کے موقع پر ہونے والی نمائش کے دروازے کے طور پر بنایا گیا تھا۔

    امریکی افواج کو کئی جنگوں میں فتح دلوانے والا بحری بیڑہ ایک ڈالر میں فروخت

    اس تعمیر کے بعد ایفل ٹاور واشنگٹن مونومنٹ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے اونچا انسان ساختہ ڈھانچہ بن گیا ہے ایفل ٹاور دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

    گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق ایفل ٹاور لوہے سے بنے ایک مینار کا نام ہے، جو فرانس کے شہر پیرس میں دریائے سین کے کنارے واقع ہے،اس کی تعمیر میں لوہے اور اسٹیل کے 18,000ٹکڑوں کا استعمال کیا گیا ہے، جو مجموعی طور پر 25لاکھ کیلوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔بنیادوں میں 40 فٹ تک پتھر اور لوہا بھرا گیا اور 12ہزار لوہے کے شہتیر کام میں لائے گئے۔

    سعودی عرب کا مبینہ طور پر تیل کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور

    یہ مینار چار شہتیروں پر کھڑا ہے، جن میں سے ہر ایک 279مربع فٹ رقبہ گھیرے ہوئے ہے اس میں استعمال ہونے والے لوہے اور اسٹیل کا مجموعی وزن 7,300ٹن ہے۔

    اس کے چاروں طرف ستونوں کے درمیان ایک محراب بنی ہوئی ہے، جس کے تین پلیٹ فارم یا منزلیں ہیں۔ پہلا پلیٹ فارم 189فٹ، دوسرا 380 اور تیسرا سطح زمین سے 906فٹ بلند ہے اس کی چوٹی پر موسمیاتی رسدگاہ اور ریڈیو ٹیلی ویژن کے انٹینے نصب ہیں۔

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

  • فیٹف اجلاس شروع،پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا

    فیٹف اجلاس شروع،پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا

    پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس پیرکو شروع ہوا جو 4 مارچ تک جاری رہے گا۔

    باغی ٹی وی :جرمن نشریاتی ادارے کے ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کی نگرانی کرنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو ابھی مزید 4 ماہ تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا، پاکستان کے اسٹیٹس میں تبدیلی کا فیصلہ اب آئندہ سیشن میں ہو گا، جو جون 2022 میں ہو گا۔

    پیر سے شروع اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت اور اس کی روک تھام جیسے معاملات میں پاکستان میں ہونے والی اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کی بنیاد پر رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ ہو گا۔

    ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں گرے لسٹ سے نکل جائیں گے،وزیر خزانہ

    رپورٹ کے مطابق ایشیا پیسیفک گروپ نے بھی پاکستان کے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے لہٰذا پاکستان فی الحال مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا،ایف اے ٹی ایف نامی فورس چاہتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات کی تحقیقات اور سزاؤں میں شفافیت لائے اور حکومت اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔

    ایکشن پلان:
    ایف اے ٹی ایف کے ابتدائی ایکشن پلان میں 27 نکات شامل تھے، جن میں سے پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر تک 26 نکات پر عمل کیا تھا۔ تاہم جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک اضافی ایکشن پلان دیا تھا، جس میں منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لیے مزید سات نکات شامل تھے پاکستان کو دیئے گئے دونوں ایکشن پلانز کے مجموعی طور پر 34 نکات ہیں، جن میں سے 30 نکات پر اکتوبر تک عمل کیا جا چکا تھا۔

    ایف اے ٹی ایف کے دیے گئے اہداف ، حکومت کیوں مطمئن

    پاکستان کن وجوہات کی بنا پر آئندہ بھی گرے لسٹ میں ہے؟

    ایف اے ٹی ایف چاہتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات کی تحقیقات اور سزاؤں میں شفافیت لائے اور حکومت اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان نے منی لاندڑنگ کے خلاف قوانین تو بنائے ہیں لیکن ان قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے FATF بظاہر مطمئن نہیں۔

    ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ تمام شدت پسند گروہوں کے سربراہوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے اور خاص طور پر سزائیں سنانے کی شرح کو بہتر بنائے پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینیئر کمانڈروں کو سزائیں دینے کا ہدف بھی پورا کرے۔ ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان کے مطابق پاکستان کو تحقیقات کے طریقہ کار میں بہتری جبکہ دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی۔

    ایف اے ٹی ایف نے ریئل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے بتایا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف حکومت پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے جب مطمئن ہو گی تو ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا جو زمینی حقائق اور قانون سازی کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد ہی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    فیٹف اجلاس 4 مارچ کو پیرس میں طلب،پاکستان زیر بحث آئے گا

    ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا ہم نے ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں تمام تکنیکی تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ نتیجہ مثبت سمت میں نکلے گا۔

    ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکالے جانے کے لیے رکھی گئی شرائط پر مکمل عمل درآمد کیا ہے اور غیر قانونی مالی معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے کے ارکان کی جانب سے سیاسی سوچ بچار ہی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھ سکتی ہے۔

    پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف نہ صرف قوانین بنائے بلکہ ان پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ افراد کی سرگرمیاں روکنے کے لیے بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں پاکستانی پارلیمان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق متعدد قوانین میں ضروری ترامیم کی منظوری بھی دی چکی ہے۔

    حکومت فیٹف کے غیر منصفانہ فیصلے کیخلاف عالمی عدالت میں جائے, رحمان ملک

    پاکستانی حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے 12 رکنی قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے کمیٹی کے ممبران میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق تمام اداروں کے سربراہان اور ریگولیٹرز کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی سیکرٹریز برائے خزانہ، امور خارجہ اور داخلہ بھی شامل ہیں۔

    ان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر کسٹمز، اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے ڈی جی بھی شامل ہیں۔ ساتھ ہی اسٹیک ہولڈرز کے مابین کوآرڈینیشن کے لیے ایف اے ٹی ایف سیکرٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔

    پاکستانی پارلیمنٹ نہ صرف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام سے متعلق متعدد قوانین میں ضروری ترامیم کی خود بھی منظوری دے چکی ہے بلکہ اسی ضمن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے وفاقی سطح پر 11 جبکہ صوبائی اسمبلیوں سے تین بل بھی منظور کرائے گئے ہیں۔

    کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ افراد کی سرگرمیاں روکنے کے لیے بھی اقدامات کے دعوے کیے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان ایف اے ٹی ایف کے اس اجلاس سے پاکستان کے لیے اچھی خبر کی امید کر رہی ہے۔ حکومتی بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تقریباﹰ تمام ایکشن پلانز پر بڑی حد تک عمل کیا ہے۔

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنمارحمان ملک 70 برس کی عمر میں انتقال کرگئے