Baaghi TV

Tag: پیمرا

  • عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کیخلاف پیمرا کو نوٹس جاری،جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ ،پیمرا کی جانب سے عدالتی کارروائی کی کوریج پر پابندی کے اقدام کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے دونوں درخواستوں پر پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب 29مئی کو طلب کرلیا ،عدالت نے وکلا کی جانب سے پیمرا نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کرتے کی استدعا سے اتفاق نہ کیا ،عدالت نے وکلا کو درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کے لیے طلب کر لیا ، جسٹس عابد عزیز نے کہا کہ عدالت کیس کے دائرہ اختیار کا بھی تعین کرے گی،درخواستوں میں اہم قانونی نکات اٹھائے گیے ہیں،پیمرا کے وکیل عارف رانجھا نے درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ درخواستیں قابل سماعت نہ ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے

    ہادی النظر میں پیمرا نوٹیفکیشن میں ابہام ہے،جسٹس عابد عزیز
    جسٹس عابد عزیز نے کہا کہ قانون کے تحت پیمرا غلط رپورٹنگ پر لائسنس معطل یا کینسل کر سکتا ہے ،ہادی النظر میں پیمرا نوٹیفکیشن میں ابہام ہے،آپ کہنا چاہ رہے ہیں اگر پیمرا کے پاس کوئی پروسیڈنگ زیر سماعت ہو تو اس پر براہ راست عدالت نہیں آیا جاسکتا ۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پیمرا قانون کے تحت چینلز کے لیے کوڈ آف کنڈیک موجود ہے ،اگر پیمرا قانون کے تحت خلاف کوڈ اف کنڈیک کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو معاملہ عدالت لے جایا جا سکتا ہے ،کرنٹ افیر پروگراموں میں چینل پیمرا کو یقین دہائی کراتا ہے ،زیر سماعت کیسوں کو چینلز زیر بحث نہیں لاتے،پیمرا نے نوٹیفکیشن کے ذریعے عدالتی کارروائی ،ٹکرز، ہیڈ لائن چلانے پر پابندی لگا دی ہے ،کورٹ رپورٹر ٹریننگ کے بعد رپورٹنگ کرتے ہیں،پیمرا کوڈ اف کنڈیک کے تحت کورٹ رپورٹنگ کی اجازت ہےپیمرا کوڈ اف کنڈیکٹ کے تحت عدالتی کارروائی ۔ہیڈ لائن اور ٹکرز کی اجازت ہے،ٹکرز اور ہیڈ لائن عدالتی کارروائی پر اثر انداز نہیں ہوتے ،اگر کسی عدالتی کارروائی کی حکم عدولی ہو بھی جائے تو پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹ میں معاملہ جائے گا،یا عدالت خود معاملہ کا نوٹس لے گی اور توہین عدالت کی کارروائی شروع کر سکتی ہے ،آریٹکل 19.19اے کے تحت آزادی صحافت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی،پیمرا مناسب قدغن یا پابندیاں لگا سکتا ہے،کورٹ رپورٹرز فیر رپورٹنگ کرتے ہیں،پاکستان کے شہری عدالتی کارروائی جاننا چاہتے ہیں ،ہر شہری عدالت نہیں آسکتا ، جسٹس عابد عزیز نے کہا کہ دیکھنا ہے پیمرا کا کوڈ اف کنڈیکٹ قانون کے زمرے میں آئے گا؟ دیکھنا ہے کیا کوڈ اف کنڈیکٹ کے تحت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں
    دیکھنا ہے یہ نوٹیفکیشن قانون کے تحت ہوا ،کیا یہ قانون بنوا دیں کہ صرف خلاف ورزی پر کاروائی ہوگی

    عدالتی کارروائی کی نشریات کیخلاف پیمرا کے نوٹیفکیشن پر لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی گئی ہے،لاہور ہائیکورٹ میں درخواست شہری مشکور حسین نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کی وساطت سے دائر کی، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں پیمرا، وزارت اطلاعات و نشریات اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آزاد صحافت جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، آزاد صحافت کے بغیر جمہوریت ختم ہو جائے گی، موجودہ حکومت ایسی حکومت کی بہترین مثال ہے جو کالے قوانین کے ذریعے مخالف آوازوں کو دباتی ہے، 21 مئی کو پیمرا نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹی وی چینلز کو ہدایت جاری کی کہ وہ عدالتی کارروائی کو نشر نہیں کریں گے، پیمرا نے اپنے نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹی وی چینلز کو عدالتی کارروائی کی نشریات سے روک دیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق ٹی وی چینلز محض عدالت کے تحریری فیصلے نشر کر سکتے ہیں،سپریم کورٹ کے جس فیصلے کی بنا پر پیمرا نے نشریات پر پابندی عائد کی ہے وہ فیصلہ نشریات کی اجازت دیتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ کہیں بھی موجود نہیں کہ عدالتی کارروائی کی نشریات نہیں کی جا سکتی، پیمرا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز پیمرا کی جانب سے عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ثمرہ ملک ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں پیمرا کا 21 مئی نوٹیفکیشن چیلنج کیا جبکہ درخواست میں پیمرا، وفاقی حکومت اور سیکرٹری انفارمیشن کو فریق بنایا گیا۔درخواست گزار نے کہا کہ پیمرا کا 21 مئی کو جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلہ تک نوٹیفکیشن معطل کرے۔

    وفاقی حکومت نے ٹی وی چینلز کو عدلیہ سے متعلق توہین آمیز مواد اور بیان نشر کرنے سے روک دیا
    دوسری جانب وفاقی حکومت نے ٹی وی چینلز کو عدلیہ سے متعلق توہین آمیز مواد اور بیان نشر کرنے سے روک دیا، اس حوالے سے حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ،پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے جاری نوٹیفکیشن میں سپریم کورٹ کےحکم کا حوالہ دیا گیا، جس میں کہا گیا کہ کوئی بھی ایسا مواد یا بیان جس سے یا جس میں عدلیہ کی توہین کی گئی ہو اس توہین آمیز مواد کو نشر یا شائع کرنے والے بھی توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ عدلیہ سے متعلق توہین آمیز مواد نشر، شائع کرنے کیخلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی.

    شہباز شریف خود ہی اسمبلی میں مان گئے کہ انہیں اپوزیش لیڈر چن لیا گیا،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    صدارتی انتخابات،آصف زرداری کے کاغذات منظور،محمود اچکزئی پر اعتراض عائد

    پیپلز پارٹی وزیراعظم کے میثاق برائے قومی مفاہمت کے تصور کی حمایت کرتی ہے،بلاول

    سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت

    عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج 

    صدارتی امیدوار محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ،ترجمان، خالی پلاٹ پر قبضہ واگزار کروایا،انتظامیہ

  • آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    آڈیو لیکس کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا، پی ٹی اے کی بینچ پر اعتراض کی متفرق درخواستیں پانچ لاکھ روپے جرمانہ لگا کر خارج کردیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں آڈیو لیکس کیس کی سماعت ہوئی،بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے نجم الثاقب کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سماعت کی،عدالت نے پیمرا، پی ٹی اے، آئی بی اور ایف آئی اے کی متفرق درخواستوں پر بھی سماعت کی،عدالت نے درخواست دائر کرنے پر ایف آئی اے پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی شروع ہو سکتی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے انٹیلیجنس بیورو کے جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ انٹیلیجنس بیورو کی متفرق درخواست کس کی منظوری سے دائر ہوئی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو نے منظوری دی ہے،جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ ان کا کوئی نام ہو گا، والدین نے کوئی نام رکھا ہو گا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ طارق محمود نام ہے۔جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آئندہ سماعت پر وہ خود پیش ہوں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جو درخواستیں آئی ہیں ان کو سن کر فیصلہ کروں گا، آئی بی، ایف آئی اے، پی ٹی اے سیریس ادارےہیں ان کی درخواستیں سن کر فیصلہ کیا جائے گا، انہوں نے درخواستیں دائر کیں اب میں انہیں سنوں گا، کس نے ان کو درخواستیں دائر کرنے کی اتھارٹی دی ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اتھارٹی دی، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کا متعلقہ حصہ پڑھیں جہاں مجھ پر اعتراض کیا گیا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی ہے، اعتراض ہے ہائی کورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا ہے، جسٹس بابر ستار سمیت 6 ججز نے انٹیلیجنس ایجنسیز کی عدلیہ میں مداخلت کا خط لکھا،خط پر ازخود نوٹس کیس زیر سماعت ہے۔ اس لیے آڈیو لیکس کیس نہ سنیں،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے غیر قانونی آڈیو ٹی وی پر چلنے دیں یہ تو توہین عدالت ہے کیوں نہ پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، ججز خط کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے تو کیا فیصلہ آنے تک ہم آئی بی، ایف آئی اے و دیگر کے کیسسز نہ سنے اور بیٹھے رہے؟ جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت چیئرمین پی ٹی اے اور ممبران کو شوکاز نوٹس جاری کرنے سے متعلق بھی دیکھے گی،عدالتی معاون بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ آج کی عدالتی فیصلے نے میرا قد بیس فٹ سے اونچا کردیا،

    آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ کے ججز کو بلیک میل کرنے سے ایف آئی اے کا کوئی تعلق ہے ؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایسا تو نہیں ہے لیکن خط میں لفظ اینٹلی جنس ایجنسیز استعمال کیا گیا ہے۔

    ایگزیکٹو ججز کو دھمکائے اور ججز توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کریں تو وہ مفاد کا ٹکراؤ کیسے؟ جسٹس بابر ستار
    مسلم لیگ نون کے سابق ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں لیکن کچھ کہنا چاہتا ہوں ، فضول غیر سنجیدہ درخواستیں دائر کرنے پر ان سب کی جیبوں سے جرمانہ لیا جائے ،قومی خزانے سے یہ رقم ادا نہیں دی جانی چاہیے ،یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے ،جسٹس بابر ستار نےایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل سے اہم مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی متفرق درخواستیں دائر کرنے کا مقصد عدالتی کارروائی کو شرمندہ کرنا ہے،ہم اور آپ ایک ہی دنیا میں رہتے ہیں بالکل سمجھ رہے ہیں، اگر ایگزیکٹو ججز کو دھمکائے اور ججز توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کریں تو وہ مفاد کا ٹکراؤ کیسے ہے ؟کیا جج ذاتی مفاد کیلئے توہینِ عدالت کی کارروائی کرے گا؟کیا عدالت آئی بی اور ایف آئی اے کے سارے کیسز سننا چھوڑ دے؟ آپکی دلیل مان لی جائے تو پھر تو حکومت کے خلاف کوئی کیس ہی نہیں سننا چاہیے،

    واضح رہے کہ پیمرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، پیمرا کی درخواست میں جسٹس بابر ستار کی آڈیو لیکس کیس سے علیحدگی کی استدعا کی گئی تھی،،پیمرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی، جس میں کہا گیا کہ اسی نوعیت کے دوسرے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک اور بنچ فیصلہ کر چکا ہے، چیئرمین پیمرا متعدد بار عدالت میں اس مقدمے میں پیش ہو چکے مگر کیس اب بھی زیر التواء ہے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جسٹس بابر ستار سماعت سے معذرت کر لیں،اس نوعیت کی درخواست پر فیصلہ دینے والا بنچ اس کیس کی باقی کارروائی بھی آگے بڑھائے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی اے کو دوبارہ طلب کیا تھا، چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں گزشتہ سماعت پر پیش بھی ہوئے تھے،

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • الیکشن کمیشن   نے الیکٹرانک میڈیا پر سیاسی اشتہارات، بیانات مسلسل چلائے جانے کا نوٹس لے لیا

    الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک میڈیا پر سیاسی اشتہارات، بیانات مسلسل چلائے جانے کا نوٹس لے لیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت کی ہے کہ تمام چینلز الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 اور کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ برائے قومی میڈیا کی پابندی کو یقینی بنائے۔

    باغی ٹی وی: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکٹرانک میڈیا پر سیاسی اشتہارات، بیانات و متن کے مسلسل چلائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو سختی سے ہدایت کی ہے وہ ایسے تمام چینلز کا محسابہ کرے اور الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 اور کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ برائے قومی میڈیا کی پابندی کو یقینی بنائے۔

    کمیشن نے پیمرا کو یاد دہانی کرائی ہے کہ الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 اور کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ برائے قومی میڈیا کے تحت 6 فروری کی شب 12 بجے کے بعد الیکشن مہم ، اشتہارات ودیگر تحریری مواد کی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تشہر پر پابندی ہے اور اس پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکب الیکٹرانک میڈیا چینلز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

    اڈیالہ جیل، دیگر قیدیوں کے ہمراہ عمران خان نے بھی ووٹ کاسٹ کر دیا

    کراچی میں دھماکا،ایک شخص جاں بحق،بچی سمیت دو افراد زخمی

    فارم 45کی تیاری کیلئے پریزائیڈنگ افسران کو تحریری ہدایات جاری

  • پولنگ کے دوران یقینی بنایا جائے کہ میڈیا انتخابی عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے،الیکشن کمیشن

    پولنگ کے دوران یقینی بنایا جائے کہ میڈیا انتخابی عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے،الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے قومی میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق پر پابندی سے متعلق چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مراسلے میں کہا گیا کہ پیمرا الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنائے قومی یکجہتی کے خلاف کوئی الزام یا بیان الیکٹرانک، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر نشر نہ کیا جائےالیکشن کے دن پرنٹ، الیکٹرانک یا ڈیجیٹل میڈیا پر پولنگ اسٹیشنز پر کسی قسم کا سروے نہ کیا جائے، الیکشن ڈے پر پیمرا یقینی بنائے کسی قسم کی فیک نیوز نشر نہ کی جائیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کے اختتام کے ایک گھنٹے بعد غیرحتمی غیرسرکاری نتائج نشر کیے جاسکتے ہیں، پولنگ کے دوران یقینی بنایا جائے کہ میڈیا انتخابی عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے پاکستان کے نظریہ، خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کوئی مواد نشر نہ کیا جائے، عدلیہ کی آزادی اور قومی اداروں کے خلاف کسی قسم کا مواد نشر نہ کیا جائے، کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جس سے پولنگ کے دوران یا بعد میں امن و امان کے حالات خراب ہوں۔

    محنت کرنی چاہئے، صلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے،بلاول بھٹو

    پاکستان میں غیر آئینی اور غیر قانونی انتخابات ہونے جا رہے ہیں،پی ٹی …

    الیکشن میں ڈیوٹی سے انکار پر سرکاری افسر کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • انتخابات میں تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینے کی ہدایت

    انتخابات میں تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ نے عام انتخابات میں عمران خان سمیت تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینےکی ہدایت کردی

    لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر 10صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل17ہر شہری کو آزادی اظہار رائے سمیت دیگر حقوق فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے، عام انتخابات کے لیے الیکشن مہم اور اپنا منشوربتانےکی تشہیربنیادی حق ہے،صاف شفاف انتخابات کے لیے آزاد میڈیا کے ذریعے آزادی اظہار رائے ہونی چاہیے کیونکہ آزادی اظہار کے بغیر انتخابات کو صاف اور شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا،عدالت نے تحریری فیصلے میں نوازشریف اوربینظیربھٹو کے فیصلوں کاحوالہ بھی دیا ہے۔

    واضح رہےکہ بانی پی ٹی آئی نے ٹی وی چینلزپر کوریج نہ ملنے کے معاملے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، عدالت نے تمام امیدواروں کو یکساں کوریج کی ہدایت کر دی

    قبل ازیں سندھ ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا پیمرا نوٹیفیکیشن معطل کردیا،بار بار آواز لگانے پر بھی وفاقی حکومت کے وکیل کی عدم پیشی پر عدالت برہم ہو گئی،سرکاری وکیل نے عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد تاخیر سے پیش ہو کر معذرت کرلی ،درخواست پی ٹی آئی کارکن طہماس علی خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے ،بیرسٹر علی طاہر نے کہا کہ سیاسی رہنما کی تقاریر پر پابندی بنیادی حقوق اور آزادی اظہار راۓ کی خلاف ورزی ہے ، یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 19 اور آرٹیکل 19-A کی بھی خلاف ورزی ہے ، چیئرمین پیمرا نے فورم کو نظر انداز کرتے ہوۓ نوٹیفیکیشن جاری کیا، پابندی سے قبل کونسل آف کمپلینٹس سے بھی منظوری نہیں لی گئی ،

    پیمرا نے 31 مئی 2023 کو چیئرمین پی ٹی آئی کی اشتعال انگیز تقاریر اور بیان نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی, نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • انتخابی حلقوں میں سروے پر پابندی،الیکشن کمیشن کا وکیل طلب

    انتخابی حلقوں میں سروے پر پابندی،الیکشن کمیشن کا وکیل طلب

    لاہور ہائیکورٹ، میڈیا پر انتخابی حلقوں میں سروے اور پروگرامز پر پابندی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو فوری طلب کر لیا،جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ بادی النظر میں الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن صرف الیکشن ڈے کیلئے ہے، ایسی پابندی لگانے کی وجہ سمجھ نہیں آتی، پوری دنیا میں الیکشن کے دوران حلقوں کے مسائل پر بات ہوتی ہے، سروے ہوتے ہیں،جسٹس علی باقر نجفی نے منیر باجوہ کی مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کی ،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں ٹی وی چینلز پر الیکشن سروے پر پابندی کا اقدام چیلنچ کردیا گیا تھا،صحافی منیر احمد نے ایڈوکیٹ میاں داود کی وساطت سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی، دائر درخواست میں پیمرا، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے خلاف قانون الیکٹرانک،پرنٹ، ڈیجٹل میڈیا پر پابندی لگائی ہے، الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کی کلاز 12 آئین پاکستان کے متصادم ہے، الیکشن کمشن نے آئین کے آرٹیکل 4 ،19 اور 19 اے کیخلاف ورزی ہے،الیکشن کمیشن کا اقدام بنیادی انسانی حقوق اور معلومات تک رسائی کے اقدام کیخلاف ہے،عدالت الیکشن کمیشن کیجانب سے لگائی گئی پابندی کا اقدام کالعدم قرار دے،

    واضح رہے کہ انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم، الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت دے دی،الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا کے خلاف ایکشن لیا جائے,بعض چینلز پول سروے نشر کر رہے ہیں، ضابطہ اخلاق کے مطابق اسکی ممانعت ہے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ اسٹیشن اور حلقوں سے سروے اور پول کرانے سے روکا گیا ہے ،یہ سرگرمیاں ووٹر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور الیکشن عمل میں خلل ڈالتی ہیں، پیمرا ایسے چینلز کے خلاف فوری ایکشن لے کر رپورٹ جمع کرائے

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

  • ٹی وی چینلز پر الیکشن سروے پر پابندی کا اقدام  لاہور ہائیکورٹ میں چیلنچ

    ٹی وی چینلز پر الیکشن سروے پر پابندی کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنچ

    لاہور ہائیکورٹ میں ٹی وی چینلز پر الیکشن سروے پر پابندی کا اقدام چیلنچ کردیا گیا

    صحافی منیر احمد نے ایڈوکیٹ میاں داود کی وساطت سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی، دائر درخواست میں پیمرا، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے خلاف قانون الیکٹرانک،پرنٹ، ڈیجٹل میڈیا پر پابندی لگائی ہے، الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کی کلاز 12 آئین پاکستان کے متصادم ہے، الیکشن کمشن نے آئین کے آرٹیکل 4 ،19 اور 19 اے کیخلاف ورزی ہے،الیکشن کمیشن کا اقدام بنیادی انسانی حقوق اور معلومات تک رسائی کے اقدام کیخلاف ہے،عدالت الیکشن کمیشن کیجانب سے لگائی گئی پابندی کا اقدام کالعدم قرار دے،

    واضح رہے کہ انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم، الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت دے دی،الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا کے خلاف ایکشن لیا جائے,بعض چینلز پول سروے نشر کر رہے ہیں، ضابطہ اخلاق کے مطابق اسکی ممانعت ہے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ اسٹیشن اور حلقوں سے سروے اور پول کرانے سے روکا گیا ہے ،یہ سرگرمیاں ووٹر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور الیکشن عمل میں خلل ڈالتی ہیں، پیمرا ایسے چینلز کے خلاف فوری ایکشن لے کر رپورٹ جمع کرائے

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

  • انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم، الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت دے دی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا کے خلاف ایکشن لیا جائے,بعض چینلز پول سروے نشر کر رہے ہیں، ضابطہ اخلاق کے مطابق اسکی ممانعت ہے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ اسٹیشن اور حلقوں سے سروے اور پول کرانے سے روکا گیا ہے ،یہ سرگرمیاں ووٹر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور الیکشن عمل میں خلل ڈالتی ہیں، پیمرا ایسے چینلز کے خلاف فوری ایکشن لے کر رپورٹ جمع کرائے

    letter

    الیکشن کمیشن نے قومی میڈیا کے لیے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا
    قومی میڈیا میں پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلونسرز شامل ہیں،جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق الیکشن مہم کے دوران قومی میڈیا پاکستان کے نظریات، خودمختاری اور سیکورٹی کے خلاف تعصب پر مبنی رائے کی عکاسی نہیں کرے گا،ایسے بیانات یا الزامات جن سے قومی اتحاد، امن و امان کی صورت حال کا خطرہ ہو کو نشر نہیں کیا جائے گا،کوئی ایسا مواد شامل نہیں ہو گا جو کسی امیداوار، سیاسی جماعت پر صنف، مذہب، برادری کی بنیاد پر زاتی حملہ ہو، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی ہو گی،ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار پر الزام پر دونوں اطراف سے بیان اور تصدیق کی جائے گی،پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائبر ڈیجیٹل ونگ سیاسی جماعتوں اور امیداروں کو دی گئی کوریج مانیٹر کرے گا، امیداور اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ادائیگی کی تفصیلات پولنگ ڈے کے 10 دن کے اندر دے گا، پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائیبر ڈیجیٹل ونگ ضابطہ اخلاق پر عملدرامد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گا،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میڈیا نمائندوں اور ہاوسز کو تحفظ فراہم کریں گے،قومی خزانہ سے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی مہم نہیں چلائی جائے گی،ووٹرز کی اگہی کے پروگرام چلائے جائیں گے ، الیکشن کے دن سے 48 گھنٹے قبل الیکشن میڈیا مہم ختم کر دی جائے گی،الیکشن عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،انٹرنس ایگزٹ پولز، پولنگ اسٹیشن یا حلقے میں سروے سے اجتناب کیا جائے گا جس سے ووٹر متاثر ہو،صرف تسلیم شدہ میڈیا نمائندگان ایک دفعہ کیمرے کے ساتھ پولنگ عمل کی ویڈیو بنانے پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوں گے، خفئہ بیلٹ کی ویڈیو نہیں بنائی جائیں گی،میڈیا نمائندگان گنتی کا بغیر کیمرا کے مشاہدہ کریں گے،میڈیا نمائندگان الیکشن سے قبل، دوران یا بعد میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے،پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک نتیجہ نشر نہیں کیا جائے گا،نتائج نشر کرتے وقت بتایا جائے گا کہ یہ غیر سرکاری، نامکمل نتائج ہیں جنھیں آر او کی جانب سے اعلان تک حتمی نہ سمجھا جائے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صحافی یا میڈیا ادارے کی ایکریڈیشن ختم کی جا سکتی ہے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

  • جوئے  کمپنیوں کے اشتہارات نشر  کرنے  پر قانونی کارروائی ہو گی،پیمرا

    جوئے کمپنیوں کے اشتہارات نشر کرنے پر قانونی کارروائی ہو گی،پیمرا

    اسلام آباد: پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جوئے کی کمپنیوں کے اشتہارات کی تشہیر پر نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستان اور آسٹریلیاکے پرتھ ٹیسٹ میں سرکاری اسپورٹس چینل پی ٹی وی پر جوئے کی کمپنی کے اشتہار نشر کیے گئے تھےتاہم پابندی کےسبب سرکاری اسپورٹس چینل پر آج میلبرن ٹیسٹ کے پہلے دن کا کھیل نشر نہ ہوسکا،بعد ازاں پیمرا نے جوئے کی کمپنیوں کے اشتہارات کی تشہیر پر نوٹس جاری کردیا پیمرا نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جوئے کی کمپنیوں کے اشتہارات نشر کرنے پر قانونی کارروائی ہو گی، پیمرا بھی وزرات اطلاعات و نشریات کی زیرو ٹالرینس پالیسی کو تسلیم کرتا ہے۔

    پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے کی ن لیگ میں شمولیت

    قبل ازیں پی ٹی وی نے جوئے کے اشتہارات کے حوالے سے مؤقف جاری کیا تھا،پی ٹی وی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ جوئےکے اشتہارات نشر ہونےپرحکومت کی زیروٹالرینس پالیسی تسلیم کرتے ہیں اور جوئےکے اشتہارات کےسبب پاک آسٹر یلیا دوسرا ٹیسٹ نشر نہ کرسکے ہماری براڈ کاسٹرز سے اس معاملے پر بات چیت جاری ہے، جوئے کے اشتہارات کو روکنے کے لیے تمام اسٹیٹ ہولڈرز سے بات کررہے ہیں، پُر امید ہیں کہ معاملہ حل ہونے پر ناظرین پاک آسٹریلیا سیریز دیکھ سکیں گے-

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

  • سائفر کیس، الیکٹرانک، پرنٹ، سوشل میڈیا پر خبر دینے پر پابندی

    سائفر کیس، الیکٹرانک، پرنٹ، سوشل میڈیا پر خبر دینے پر پابندی

    اسلام آباد: ‏عمران خان کے خلاف جاری سائفر کیس کی کارروائی پر الیکرانک اور سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی گئی-

    باغی ٹی وی :آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا ، عدالتی کارروائی نشر کرنے پر آفیشل سیکرٹ کا قانون لاگو ہوگا، پیمرا اور پی ٹی اے کو ہدایات جاری کردی گئیں، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی فیملی کو کاروائی دیکھنے کی مشروط اجازت ہو گی کہ وہ عدالتی کاروائی کی کسی جگہ بیان نہیں کریں گے-

    فیصلے میں کہا گیا کہ پرنٹ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر کوئی کارروائی نشر نہیں ہو گی ، پیمرا اور پی ٹی اے کو اس حوالے سے ہدایات پر پابندی کی ہدایت کی جاتی ہے ، اگر کوئی بھی خلاف ورزی ہوئی تو اس پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی ، پیمرا اور پی ٹی اے کو عدالتی حکم کی کاپی فراہم کی جائے تاکہ آئندہ خلاف ورزی نہ ہو –

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر …

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سائفر کیس کا ٹرائل ان کیمرہ کرنے کی پراسیکیوشن کی درخواست منظور کی جاتی ہے ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی فیملی مشروط موجود ہو گی ، شرط ہو گی کہ عدالتی کاروائی کو فیملی ممبران کسی جگہ بیان نہیں کریں گے ،ٹرائل کی کاروائی کے دوران پبلک موجود نہیں ہو گی-

    سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید