Baaghi TV

Tag: پیمرا

  • عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا پیمرا نوٹیفیکیشن معطل

    عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا پیمرا نوٹیفیکیشن معطل

    سندھ ہائی کورٹ ،چیئرمین پی ٹی آئی کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی کا معاملہ ،سندھ ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا پیمرا نوٹیفیکیشن معطل کردیا

    بار بار آواز لگانے پر بھی وفاقی حکومت کے وکیل کی عدم پیشی پر عدالت برہم ہو گئی،سرکاری وکیل نے عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد تاخیر سے پیش ہو کر معذرت کرلی ،درخواست پی ٹی آئی کارکن طہماس علی خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے ،بیرسٹر علی طاہر نے کہا کہ سیاسی رہنما کی تقاریر پر پابندی بنیادی حقوق اور آزادی اظہار راۓ کی خلاف ورزی ہے ، یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 19 اور آرٹیکل 19-A کی بھی خلاف ورزی ہے ، چیئرمین پیمرا نے فورم کو نظر انداز کرتے ہوۓ نوٹیفیکیشن جاری کیا، پابندی سے قبل کونسل آف کمپلینٹس سے بھی منظوری نہیں لی گئی ،

    پیمرا نے 31 مئی 2023 کو چیئرمین پی ٹی آئی کی اشتعال انگیز تقاریر اور بیان نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی, نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • عام انتخابات 2024 : پیمرا نےمیڈیا کوریج بارے ہدایات جاری کردیں

    عام انتخابات 2024 : پیمرا نےمیڈیا کوریج بارے ہدایات جاری کردیں

    اسلام آباد: پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عام انتخابات 2024 کے حوالے سے میڈیا کوریج بارے ہدایات جاری کردیں۔

    باغی ٹی وی: پیمرا کے مطابق انتخابات سے متعلق خبروں، تجزیوں، تبصروں اور پروگرامز میں ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عام انتخابات 2024 کے حوالے سے میڈیا کوریج بارے ہدایات جاری کردیں، انتخابات سے متعلق خبروں، تجزیوں، تبصروں اور پروگرامز میں ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے،ایسا کوئی مواد نشر نہ کیا جائے جس سے انتخابات کا انعقاد خطرے میں پڑے، سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں میڈیا کے کردار اور ذمہ داریوں کا ذکر کیا ہے۔

    حماس کا اسرائیلی فوج پر حملہ، 6 ٹینکوں سمیت 9 فوجی گاڑیاں تباہ

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو 8 فروری 2024 کو ملک میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے ملک میں 90 روز میں انتخابات سے متعلق کیس میں صدر مملکت کی جانب سے 8 فروری 2024 کو عام انتخابات سے متعلق دستاویز پر دستخط کے بعد سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ صدر اور الیکشن کمیشن کی اعلان کردہ تاریخ پر بلاتعطل انتخابات ہوں، عام انتخابات کی تاریخ کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے، 8 فروری کو انتخابات کرانے پر کسی فریق کو اعتراض نہیں ہے لہذا وفاقی حکومت 8 فروری 2024 کو انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔

    انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کا چیلنج الیکشن کمیشن کو درپیش ہے،پی ٹی …

  • ڈرامہ سیریل ’حادثہ‘  کو نشر کرنے پر فوری پابندی عائد

    ڈرامہ سیریل ’حادثہ‘ کو نشر کرنے پر فوری پابندی عائد

    اسلام آباد: پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ڈرامہ سیریل ’حادثہ‘ کو نشر کرنے پر فوری پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : پیمرا کی جانب سے کی ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے ڈرامے کے مواد سے متعلق ناظرین کی جانب سے پیمرا کمپلینٹس سیل اور پیمرا سوشل میڈیا پر بہت شدید ردعمل آ رہا ہےاس ڈرامہ سیریل کی کہانی معاشرتی اقدارسے بالکل مسابقت نہیں رکھتی جس کےبعد ڈرامےپرپابندی لگائی گئی ہےغیرمعیاری مواد ،نامناسب کہانی اورعوامی ردعمل کو ڈرامے ’حادثہ‘ پر پیمرا ایکٹ کے سیکشن 27 کے تحت فوری پابندی عائد کرتے ہوئے مذکورہ معاملہ ادارے کی کمیٹی کونسل آف کمپلینٹس کو بھجوادیا گیا۔


    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کے قوائد و ضوابط کے تحت ڈرامے کے حوالے سے فیصلہ کرے گی تاہم تب تک ڈرامے کو نشر کرنے پر پابندی رہے گی۔’حادثہ‘ کی کہانی پاکستانی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے اس کے نشر ہونے پر فوری پابندی عائد کی گئی۔

    واضح رپے کہ ڈرامہ سیریل’حادثہ‘ پر الزام ہے کہ اس کی کہانی 2020 میں لاہور کے قریب موٹروے پر اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کے واقعے پر مبنی ہے جبکہ پروڈیوسر کی جانب سے اس بیان کو مسترد کیا ہے حادثہ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی حدیقہ کیانی کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔

  • پیمرا نے اشتہاری، مفرور 11 افراد کی میڈیا کوریج پر پابندی لگادی

    پیمرا نے اشتہاری، مفرور 11 افراد کی میڈیا کوریج پر پابندی لگادی

    اسلام آباد : پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) نے 11 مفرور اور اشتہاری افراد کو ٹی وی پر دکھانے پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سیاستدان اور صحافی شامل ہیں،جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں سید اکبر حسین، صابر شاکر، معید پیرزادہ، وجاہت سعید، عادل فاروق راجہ ،حیدر رضا مہدی ،شاہین صہبائی، پی ٹی آئی کے رہنما علی نواز اعوان، فرخ حبیب، مراد سعید اور حماد اظہر شامل ہیں۔


    پیمرا نے مذکورہ بالا 11افراد کو الیکٹرانک میڈیا پر دکھانے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق مفرور اور اشتہاری افراد کو ٹی وی پر دکھانے کی اجازت نہیں ہے،پیمرا نے ہدایت دی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر ایسے لوگوں کی کوریج کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے، ایسے افراد سے متعلق کسی بھی قسم کی خبر، بیانات نشر کرنے سے گریز کیا جائے کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

  • فخر کی بات ہے ورکنگ جرنلسٹس کو قانونی تحفظ مل چکا ہے،مریم اورنگزیب

    فخر کی بات ہے ورکنگ جرنلسٹس کو قانونی تحفظ مل چکا ہے،مریم اورنگزیب

    سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل میں ترمیم کی گنجائش نہیں تھی، پیمرا ترمیمی بل میں مزید بہتری کی گنجائش ہوئی تو لائی جا سکتی ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تمام صحافتی تنظیموں کی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے مجھے کہا کہ کسی میڈیا ورکر اور صحافی کو احتجاج کی نوبت نہ آئے، آپ اس بل کو دوبارہ پیش کریں،مریم نواز نے مجھے ٹیلیفون کر کے کہا کہ اس مسئلے کو حل کریں، میڈیا ورکرز نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، ان کی ساری زندگی کی جدوجہد ایک طرف، تین دن کی جدوجہد ایک طرف ہے، پی آر اے سمیت تمام صحافی سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہو کر کھڑے ہوئے،پی آر اے، آر آئی یو جے، سی پی این ای، میڈیا ورکرز، کیمرہ مین ایسوسی ایشنز سب ورکنگ جرنلسٹس ہیں، ان سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں انہوں میرا ساتھ دیا، اپنی انڈسٹری اور اپنے ورکرز کا ساتھ دیا، سب نے پیمرا بل کو اپنا بل سمجھ کر آواز بلند کی، آج پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءحقیقت بن چکا ہے، آج ہم سب کے لئے ایک فخر کی بات ہے کہ ورکنگ جرنلسٹس کو قانونی تحفظ مل چکا ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس قانون کے بننے کی جس طرح آپ نے حفاظت کی، اسی طرح اس پر عمل درآمد کیلئے بھی متحد رہنا ہے، ہر دباﺅ کو برداشت کرتے ہوئے آئی ٹی این ای کا چیئرمین لگایا، وزیراعظم نے ہمیشہ کہا کہ میڈیا ورکرز کے مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے،ہم نے پی آئی ڈی کے ڈائریکٹ چیک آئی ٹی این ای کو دیئے، وہاں سے ریکوریاں ہو کر ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی ہوئی،اللہ تعالیٰ درگذر کرنے کا حکم دیتا ہے، ورکرز اپنے حقوق کو محفوظ بنانے کے لئے اتحاد کا مظاہرہ کریں،

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

  • پیمرا ترمیمی بل دوبارہ سینیٹ میں پیش

    پیمرا ترمیمی بل دوبارہ سینیٹ میں پیش

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا ترمیمی بل دوبارہ سینیٹ میں پیش کر دیا،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سینیٹ کے اجلاس میں ایک بار پھر پیمرا ترمیمی بل جمع کرا دیا۔ وفاقی وزیر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل پرمختلف صحافتی تنظیموں سےمشاورت ہوئی، اس بل میں صحافیوں کیلئے کم سے کم تنخواہ کا بھی تعین کیا گیا ہے جو ادارہ 2 ماہ میں ادائیگیاں نہیں کرے گا حکومت اس کو اشتہار نہیں دے دی، بل پڑھے بغیر جان بوجھ کر متنازع بنایا گیا اگر کوئی ادارہ دوماہ میں ورکنگ جرنلسٹس کو واجبات کی ادائیگی نہیں کرتا تو حکومت اسکے اشتہارات روک دے گی اگر کوئی ادارہ اپنے ورکنگ جرنلسٹس کو کم از کم تنخواہ نہیں دے گا تو اس پر بھی حکومت اسکے اشتہارات روک دے گی ،بل پر تیاری اپریل 2022 سے شروع کی، بل کے لئے صحافی برادری اور میڈیا مالکان سے مشاورت کی گئی،یہ پرویز مشرف کا کالا قانون تھا بل میں مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تشریح کی گئی بل میں صحافیوں کو کونسل آف کیمپلینٹ کا حق دیا گیا ہے بل میں صحافیوں کو ان کا حق دینے کی کوشش کی گئی ،بل میں صحافیوں کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا گیا ،یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا ہے ،یہ بل سینیٹ میں آیا اور پھر یہ قائمہ کمیٹی میں گیا ،کمیٹی اجلاس میں رائے آئی کہ چیرمین پیمرا کی تعیناتی پارلیمنٹ کرے ،میں نے کمیٹی اجلاس میں کہا اگر کوئی ترمیم ہے تو ہمیں دی جائے .مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تشریح کے لئے مختلف بارہ ممالک سے مدد لی گئی ،کمیٹی اجلاس میں ترامیم تو نہ آئیں لیکن سوشل میڈیا پر میری ذات پر تنقید کی گئی ،یہ بل حکومت نے ضرور موو کیا لیکن یہ بل میڈیا انڈسٹری کا ہے

    سینیٹ اجلاس: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کی جانب سے پیمرا ترمیمی بل 2023 کی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئی،فوزیہ ارشد نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں بل واپس لیا تھا، بل میں کچھ پوائنٹس پر اتفاق نہ ہوسکا تھا،ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کی تشریح میں اتفاق نہ ہوسکا تھا،

    اجلاس سے قبل مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پیمرا ترمیمی بل 2023 پر 12 ماہ کام کیا گیا، پیمرا ترمیمی بل 2023 میں چیئرمین پیمرا کے اختیار کو کم کیا تھا، پیمرا بل میں تاریخی ترمیم کی گئیں،ورکنگ جرنلسٹ کیلئے ایک بہترین بل لائے تھے، کہا گیا کہ کالا قانون لایا جارہا ہے، پہلے چیئرمین پیمرا کوئی بھی چلتا پروگرام بند کردیتا تھا، صحافیوں کیساتھ شانہ بشانہ ہر جگہ کھڑی رہی کیا میں کالا قانون لاؤں گی؟ وزیراعظم نے صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء کیا جس کی باضابطہ شروعات کل ہوچکی ہیں۔جو صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے انکے لواحقین کیلیے وزیراعظم نے 40,40 لاکھ فنڈ کا اعلان کیا

    وفاقی حکومت نے پیمرا ترمیمی بل واپس پارلیمنٹ لانے اور منظور کروانے کا فیصلہ کیا،ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے حکومتی فیصلے پر اظہار تشکر کیا گیا،ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے آج احتجاج کی کال واپس لینے کا اعلان کر دیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے بل کی کی منظوری دلوانے کا اعلان خوش آئند ہے،وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا شکر گزار ہیں جنہوں نے ورکنگ جرنلسٹس کیلئے کام کیا ورکنگ جرنسلٹس نے گزشتہ دو روز قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ اور احتجاج کیا تھا ،آج بھی جرنسلٹس کی جانب سے قومی اسمبلی اور مشترکہ اجلاس میں احتجاج کا فیصلہ کیا گیا تھا ،حکومت کے بل واپسی اور منظوری کے اعلان پر احتجاج کی کال واپس لے لی گئی

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • پیمرا ترمیمی بل واپس،صحافیوں کاقومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ

    پیمرا ترمیمی بل واپس،صحافیوں کاقومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیمرا ترمیمی بل واپس لینے کیخلاف صحافیوں نے قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔

    باغی ٹی وی: صحافی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس کے لئے پریس گیلری پہنچے اور جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ورکنگ جنرلسٹ نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کردیا۔

    یاد رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات سے وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے پیمرا ترمیمی بل 2023 واپس لیا گیا تھا۔ بل قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی سے منظور ہوچکا تھاصحافیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ کے سامنے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023 واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیمرا کے پرانے سیاہ قانون کو ختم کرنا چاہتے تھے، پہلے دن سے یہی کہا تھا کہ متفقہ طورپرہی بل منظور کرائیں گےسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کا اجلاس کنوینیر کمیٹی فوزیہ ارشد کی زیر صدارت ہوا۔

    قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا دی گئی

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اجلاس میں بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے پیمرا (ترمیمی) بل 2023 واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پیمرا کے پرانے سیاہ قانون کو ختم کرنا چاہتے تھے، 4 سال اپوزیشن میں رہتے ہوئے میڈیا کے ساتھ کام کیا، مخلصانہ سوچ اور بڑی محنت سے یہ بل تیار کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض شقوں کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات کا احترام کرتے ہیں، آئینی و جمہوری سوچ پر کوئی سمجھوتہ نہ کبھی کیا ہے اور نہ ہی کبھی کر سکتے ہیں، میڈیا، اظہار رائے اور شہری آزادیوں کے آئینی حق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پہلے دن سے یہی کہا تھا کہ متفقہ طور پر ہی بل منظور کرائیں گے۔

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھہ گرفتار ہو گئے

    وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پیمرا آرڈیننس 2002 پرویز مشرف کا کالا قانون تھا، آرٹیکل 19 کو پیمرا بل میں ڈالنے کا مطلب آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانا ہے، بل پر تمام اراکین اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے کا احترام کرتے ہیں، بل میں ادھر چھوڑ کر جا رہی ہوں میں اپنا کردار ادا کرونگی بل کو آگے لے کر جانے کی اگلی حکومت جو بھی آئے،کمیٹی ارکان، اور صحافیوں نے وفاقی وزیر اطلاعات کو بل واپس لینے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی استدعا کی تھی-

  • صحافیوں کے احتجاج کے بعد  پیمرا ترمیمی بل واپس

    صحافیوں کے احتجاج کے بعد پیمرا ترمیمی بل واپس

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی شریک ہوئیں

    صحافیوں کے احتجاج کے بعد ن لیگی رہنما وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا ترمیمی بل 2023ء واپس لینے کا اعلان کر دیا، مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پیمرا کے پرانے سیاہ قانون کو ختم کرنا چاہتے تھے 4 سال اپوزیشن میں رہتے ہوئے میڈیا کے ساتھ کام کیا مخلصانہ سوچ اور بڑی محنت سے یہ بل تیار کیا تھا بعض شقوں کے حوالے سے آنے والے تحفظات کا احترام کرتے ہیں آئینی اور جمہوری سوچ پر کبھی سمجھوتہ کیا اور کبھی کر سکتے ہیں جبر،آمریت اور فسطائیت کیخلاف میڈیا کے ساتھ مل کر جدوجہد کی۔

    کامران مائیکل نے کہا کہ پیمرا (ترمیمی) بل 2023ء میں صحافیوں اور ورکرز کی بہبود کے لئے اقدامات منظور کرنے چاہئیں، سرمد علی، صدر اے پی این ایس نے کہا کہ بل کی ایک ایک شق پر مشاورت ہوئی، ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں، اجلاس میں صحافیوں، رپورٹرز نے کھڑے ہو کر بل کی حمایت کا اعلان کر دیا ،مریم اورنگزیب نے کہا کہ پیمرا آرڈیننس 2002ءپرویز مشرف کا کالا قانون تھا، آرٹیکل 19 کو پیمرا بل میں ڈالنے کا مطلب آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانا ہے،بل پر تمام اراکین اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے کا احترام کرتے ہیں، بل میں ادھر چھوڑ کر جا رہی ہوں جو حکومت بھی آئے گی وہ بل پر بحث کرلے گی،میں اپنا کردار ادا کرونگی بل کو آگے لے کر جانے کی اگلی حکومت جو بھی آئے۔

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

    پارلیمنٹ کے دو دن، اب بل پاس نہیں ہو سکتا، اسلئے واپس لیا، مریم اورنگزیب
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے بعد وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بارہ مہینے صحافیوں کی تحفظ کے لیے قانون سازی پر صرف کئے، میں تنقید سے نہیں ڈرتی، آزادی اظہار رائے کو اس قانون کی شقوں میں ڈالا ہے، اے پی این ایس، سی پی این ای، پی پی اے، ایمنڈ اور پی ایف یو جے سے مشاورت کی، یہ کہنا شروع کر دیا گیا کہ اس بل میں کالے قانون ڈال دیئے گے، میں نے صحافیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر آزادی صحافت کی جنگ لڑی، میری قیادت نے سنسر شپ سے لیکر ان کی آواز بندی تک جنگ سڑکوں پر لڑی، گزشتہ حکومت میں پی ایم ڈی اے آرہا تھا ہم نے اس کے لیے دھرنے دیے،کہا گیا کہ میں یہ کام عجلت میں کررہی ہوں اور کسی کہ کہنے پر کر رہی ہوں، میں نے ہمشہ ورکرز کا ساتھ دیا ہے،میڈیا ورکرز کی ہیلتھ انشورنس کرائی کیونکہ مجھے پتہ کہ وہ کن مشکلات کا شکار ہیں، ہم نے بل میں ورکرز کی دو ماہ کے اندر تنخواہوں کی ادائیگی کے شقیں ڈالیںانہوں کہاں کہ میں نے لیبر لاز اور حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، میں نے چئیرمین پیمرا کے سارے اختیار لیکر اتھارٹی کو دیئے،کالا قانون بنانے کے لیے 12 ماہ کی محنت درکار نہیں ہوتی،میری نیت پر الزام لگایا گیا تو میں نے بل واپس لینے کا فیصلہ کیا،اس قانون میں کافی ترامیم کی تجویز دی گئی جن پر مشاورت کے لیے وقت چاہیے، پارلیمنٹ کے دو دن رہ گئے ہیں اس صورت حال میں بل پاس کروانا مشکل ہے،نیا پارلیمان اور نیا مینڈیٹ آئے گا تو تمام قیمتی آر کو بل کا حصہ بنایا جائے گا، اینکرز نے اپنی رائے دی ہے میں نہیں سمجھتی کہ وہ کوئی اعتراض ہیں،ورکنگ جرنلسٹ نے اس بل میں محنت کی جو بہت بڑا کام تھا، میرے پاس دو دن ہیں اس دروان طویل مشاورت مشکل ہیں،

  • ہم نے ڈبہ، بالٹی اور کنستر ڈال کر اظہار رائے کا مقابلہ نہیں کیا،مریم اورنگزیب

    ہم نے ڈبہ، بالٹی اور کنستر ڈال کر اظہار رائے کا مقابلہ نہیں کیا،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کر دیا ہے بل کی تیاری میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال ملک پر سینسر شپ عائد رہی، مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تعریف میں غلطی کی گنجائش رکھی ہے،پی آر اے، تمام میڈیا تنظیموں، پارلیمنٹ، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے اسے منظور کیا ہے،میری خواہش ہے کہ سینیٹرز کی بھی اس میں رائے، اس بل کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتی،میں نے چیئرمین سینیٹ سے درخواست کی کہ اس بل پر سینیٹرز کی رائے لی جائے، چیئرمین سینیٹ نے میری درخواست منظور کرتے ہوئے اس بل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھیج دیا ہے،موجودہ دور وہ دور نہیں جب چلتے پروگرام بند ہوں، جب ملک کے وزیراعظم کو پریڈیٹر کہا جائے،بل کے پراسیس کو مزید تقویت دینے کے لئے بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجا ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال ہم نے ڈبہ، بالٹی اور کنستر ڈال کر اظہار رائے کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ سر اٹھا کر بہادری سے مقابلہ کیا،اس بل پر رائے آنی چاہیئے لیکن یہ رائے تعمیری ہونی چاہیئے،اس بل کی تیاری میں پوری دنیا سے بہترین طریقوں کو شامل کیا گیا ہے، قانون سازی ایک سنجیدہ عمل ہے

    اینکر حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور کہا کہ سینیٹر طاہر بزنجو اور سینیٹر مشتاق احمد خان کا شکریہ کہ انہوں پیمرا ترمیمی بل کی مخالفت کی سینیٹر فیصل سلیم بھی مخالفت کر رہے تھے لیکن انہیں تقریر کی اجازت نہیں ملی ارکان سینیٹ کی اکثریت اس بل کی مخالف ہےاعظم نذیر تارڑ اور یوسف رضا گیلانی کے مشورے پر وزیر اطلاعات نے بل کمیٹی کو بھجوا دیا اب کمیٹی کے چئیرمین فیصل جاوید آئیں گے تو فیصلہ ہو گا

    اس ٹویٹ کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حامد بھائی!ارکان کا یہ کہنا تھا کہ وہ اس بل کو پڑھنا چاہتے ہیں۔ میڈیا کے تمام فریقین سمیت سب کی مشاورت سے ہونے والی قانون سازی کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتی تھی جسے قومی اسمبلی سمیت ہر فورم نے متفقہ طورپر منظور کیا ۔ میں چاہتی ہوں کہ سینٹ سے بھی یہ متفقہ طورپر منظور ہو۔ اس لئے میں نے خود چئیرمین سینٹ سے درخواست کر کے یہ بل قائمہ کمیٹی کو بھجوایا ہے تاکہ سب اسے پڑھ کر اپنی رائے بنائیں۔ میڈیا کو آزادیاں ہم نے دی ہیں، سابق سیاہ دور کی فسطائیت کی زنجیریں توڑی ہیں، خود جس سیاہ دور کو بھگتا ہے، اس کی سیاہی کسی صورت قانون نہیں بننے دیں گے۔ آپ کا بھی شکریہ آپ نے مجھے اپنے پروگرام میں اس قانون سازی کی تفصیل بتانے کا موقع دیا

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

     بل کی ترمیم میں معاونت کرنے والے میڈیا کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

  • پیمرا قانون کے تحت فیصلہ کرے،عمران خان کی درخواست پر عدالت کا حکم

    پیمرا قانون کے تحت فیصلہ کرے،عمران خان کی درخواست پر عدالت کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ: چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے میڈیا پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی ،عدالت نے درخواست گزار کو پیمرا سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے حکم دیا کہ پیمرا قانون کے تحت درخواست دائر ہونے پر فیصلہ کرے

    واضح رہے کہ عمران خان کے اداروں کیخلاف بیانات کی وجہ سے پیمرا نے عمران خان کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ عمران خان نے پابندی کے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عمران خان کی جانب سے بیرسٹر احمد پنسوتا کے ذریعے توہین عدالت کی دائر درخواست میں چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کی پابندی کا نوٹیفیکیشن معطل کر رکھا ہےاس کے باوجود ٹی وی چینلز پر نشر نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو عمران خان کی تقاریر نشر نہ کرنے کے لیے پریشرائز کیا جا رہا ہے۔ پیمرا کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

    عمران خان کی جانب سے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے اور  چیئرمین پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے

    یاد رہےکہ پیمرا نےتمام ٹی وی چینلز پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریربراہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی