Baaghi TV

Tag: پیمرا

  • سوشل میڈیا نیا دور ہے جس سے ہم سب گزر رہے ہیں،مریم اورنگزیب

    سوشل میڈیا نیا دور ہے جس سے ہم سب گزر رہے ہیں،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پاکستان الیکٹرانک ترمیمی بل کے حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان میں 140 چینل لائسنسنگ ہے، سوشل میڈیا نیا دور ہے جس سے ہم سب گزر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ 35 نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز، 52 تفریحی چینلز، 25 ریجنل چینلز، نان کمرشل اور ایجوکیشن کے 6، سپورٹس کے 5، ہیلتھ اور ایگرو کے 7 چینلز، ایجوکیشن کمرشل کے 10 چینلز ہیں،2023ءمیں میڈیا کا منظر نامہ بدل چکا ہے، اظہار رائے کا ایک نیا پلیٹ فارم سوشل میڈیا کی صورت میں موجود ہے یہ تمام چینلز سائبر اسپیس پر بھی موجود ہیں، پچھلے دور میں چار سال کے دوران میڈیا پر سنسر شپ رہی، میڈیا کی زبان بندی کی گئی-

    انہوں نے کہا کہ ملک میں 4 سال میڈیا پر سنسر شپ رہی، چیئرمین پی ٹی آئی کو میڈیا پریڈیٹر کا خطاب ملا، انہیں یہ خطاب ان کے سیاسی حریفوں نے نہیں بلکہ عالمی صحافتی اداروں نے دیا، چلتے پروگرام پیمرا کی ایک جنبش سے بند ہوجاتے تھے،چلتے پروگرام بند کئےگئے، ان 4 سالوں میں پی ایم ڈی اے کا بھی شوشہ چھوڑا گیا، جس کی ہم نے بھرپور مخالفت کی اور اس کی منظوری کو ناکام کیا ،چینلز صرف چیئرمین پیمرا کی وجہ سے معطل کر دیئے جاتے تھے، پچھلے چار سال صحافیوں کےپیٹ میں گولیاں ماری گئیں، ان کی ناک کی ہڈیاں ٹوٹیں، انہیں اغواء کیا گیا،میر شکیل الرحمان کو جیل میں بھیجا گیا-

    میرا خواب ہےکہ پاکستان بھارت کی سرزمین پر ورلڈکپ لفٹ کرے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پر کالا قانون لانے کی کوشش کی گئی، اس قانون کے خلاف ہم سب نے دھرنے دیئے، اس کی مخالفت کی، ہر سیاسی پارٹی سمیت میڈیا کی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی، اس وقت کے وزیر اطلاعات صحافیوں کے منہ پر چپیڑیں مارتے تھے پی ایم ڈی اے جب بن رہی تھی تو اس وقت کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں دیکھ لوں گا کہ کیسے قانون منظور نہیں ہوتا-

    انہوں نے کہا کہ 2022ءمیں مجھے پارٹی کے اعتماد سے وزیر اطلاعات کا منصب ملا 23 اپریل 2022 کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی پہلی میٹنگ ہوئی، میڈیا سے تمام افراد اس میٹنگ میں موجود تھے، میٹنگ میں رہنمائی کی گئی کہ کس طرح ذمہ دارانہ میڈیا کی بنیاد رکھ سکتے ہیں،11 ماہ اس پر صلاح و مشورے جاری رہے،ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن میں فرق کو واضح کیا گیا۔

    سیما حیدر نےنریندرمودی اوریوگی آدتیہ ناتھ سے مدد مانگ لی

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ کہا جاتا تھا یہ رپورٹر بہت بولتا ہےاس کو نوکری سے نکالو، ان تمام چیزوں میں شفافیت کیلئےہم مل بیٹھے تھے، یہ بل حکومت نہیں میڈیا اور پاکستان کا بل ہے، نومبر 2021 میں ہیومن رائٹس کمیٹی نےاس بل پر بیان دیاتھا، پاکستان نے اس پرایک قرارداد پاس کی اور انٹرنیشل پریکٹس میں موجود قانون کو دیکھتے ہوئے بل بنایا گیا کچھ لوگوں کوتکلیف ہے یہ قانون کیوں بن گیا، جو لوگ اس بل پر بات کر رہے ہیں یقیناً ان لوگوں نے بل نہیں پڑھا، بل میں جوترامیم کی گئیں وہ عام آدمی کی بھی سمجھ میں ہیں،بل میں ورکرز کے بقایا جات 2ماہ میں ادا کرنےکا بھی لکھا گیا، دو ماہ میں تنخواہ نہیں ملی تو حکومت ادارے کو بزنس نہیں دے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ان تمام تنظیموں کا شکریہ ادا کرتی ہوں، انہوں نے میری معاونت کی کہ کس طرح ہم میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں، تمام تنظیموں کے ساتھ اس بل پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہا، ہم نے پہلی مرتبہ پیمرا قانون میں فیک نیوز، ڈس انفارمیشن، مس انفارمیشن کی تعریف کو شامل کیا-

    منی لانڈرنگ کیس :مونس الہٰی اشتہاری قرار

    دوسری جانب مریم اورنگزیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءمنظور کرلیا، پیمرا بل گزشتہ ایک سال کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا یہ اسٹیک ہولڈرز جوائنٹ کمیٹی کا حصہ ہیں جن میں پی ایف یو جے، پی بی اے، ایمنڈ، سی پی این ای اور اے پی این ایس شامل ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ بل کا بنیادی مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود کوبہتر بنانا اور پاکستان میں آزاد، ذمہ دار اور اخلاقی میڈیا ماحول کو فعال کرناہےجیسا کہ دنیا بھرکےجمہوری ممالک میں رائج ہےیہ بل مختلف اہم دیرینہ مسائل اور معاملات کوحل کرے گا جن میں چیئرمین پیمرا کےغیرمرتکزاختیارات، پیمرا اتھارٹی اورشکایات کونسل میں پی ایف یوجےاورپی بی اے کی نمائندگی کا فقدان، صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تعریف شامل ہیں۔

    توشہ خانہ کیس:چیئرمین تحریک انصاف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

  • غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ روپے کے بجائے ایک کروڑ روپے ہوگا

    غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ روپے کے بجائے ایک کروڑ روپے ہوگا

    اسلام باد: غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ روپے کے بجائے ایک کروڑ روپے ہوگا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے پیمرا ترمیمی بل 2023 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی :کمیٹی نے پیمرا ترمیمی بل 2023ءکو صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے بل کی تیاری میں حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کو سراہا۔ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس جمعہ کو ریڈیو پاکستان میں کمیٹی کی چیئرپرسن جویریہ ظفر آہیر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    اجلاس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2023ءاور دی پریس کونسل آف پاکستان (ترمیمی) بل 2023ءپر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءکے مندرجات پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا آرڈیننس 2002 کے بعد پیمرا قانون میں پہلی مرتبہ ترمیم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا بل پر اپریل 2022ءمیں کام شروع ہوا، اس کی تیاری میں 13 ماہ کا عرصہ لگا جبکہ اس دوران تمام اسٹیک ہولڈرز سے طویل مشاورت ہوئی۔

    جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس …


    وزیراطلاعات نے بتایا کہ میڈیا کا پورا منظر نام بدل چکا ہے، پہلی مرتبہ صحافی کونسل آف کمپلینٹ میں اپنی شکایت درج کروا سکے گا،اس سے پہلے صحافی کو تنخواہ مانگنے پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا تھا پیمرا قانون میں ترمیم وقت کی ضرورت ہے پہلے چئیرمن پیمرا کے پاس چینل کو بند کرنے کا اختیار تھا اب تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے، فیک نیوز کے تدارک کے لئے بھی قانون بنایا، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن پر علیحدہ علیحدہ کام کیادانستہ غلط خبر چلانے پر جرمانہ 10 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کردیا ہے، یہ بل ایک تاریخی بل ہے، ماضی میں پی ایم ڈی اے جیسا کالا قانون لانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔

    تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمے کی ایک اور جے آئی ٹی تشکیل

    انہوں نے کہا کہ پہلے کسی چینل پر غلط خبر چلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ صحافی نے یہ خبر ذاتی حیثیت میں دی، اب اسے چینل سے منسلک کر دیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ پیمرا قانون کی 9 سیکشنز میں ترامیم جبکہ پانچ نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پیمرا بل میں پیمرا قانون کی شقوں 2، 6، 8، 11، 13، 24، 26، 27، 29 میں ترامیم کی گئی ہیں جبکہ اس بل میں 20، 20 اے، 29 اے، 30 بی، 39 اے کی نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بل کے ابتدایئے میں خبر کی جگہ مصدقہ خبر، تحمل و برداشت، معاشی و توانائی کی ترقی، بچوں سے متعلقہ مواد کے الفاظ شامل کئے گئے ہیں، بل کےتحت عوام کی تفریح، تعلیم اورمعلومات کےدائرہ کو وسیع کردیا گیا ہےالیکٹرانک میڈیا، مصدقہ خبروں، معاشرے میں تحمل و برداشت کے فروغ کا مواد اپنی نشریات میں استعمال کرے گا، عمومی ترقی، توانائی، معاشی ترقی سے متعلق مواد بھی نشریات میں شامل کیا جائے گا۔

    چترال :گلیشئیر پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ بل میں الیکٹرانک میڈیا کو ملازمین کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کا پابند بنایا گیا ہے۔ بروقت ادائیگی سے مراد الیکٹرانک میڈیا ملازمین کو دو ماہ کے اندر کی جانے والی ادائیگیاں ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا اور شکایات کونسل کے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے تمام فیصلوں، احکامات کی پاسداری کا پابند بنایا گیا ہےتنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتی اشتہارات متعلقہ الیکٹرانک میڈیا کو فراہم نہیں کئے جائیں گے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ براڈ کاسٹ میڈیا کا لائسنس 20 سال کے لئے اور ڈسٹری بیوشن لائسنس 10 سال کے عرصے کے لئے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پر معمول کے پروگرام کے دوران اشتہار کا دورانیہ پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آنے والی خلاف ورزی اس بل کے تحت ”سنگین خلاف ورزی“ تصور ہوگی۔

    اعظم خان نے عمران خان کیخلاف بیان ریکارڈ کروا دیا

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ ایک تاریخی بل ہے، پیمرا قانون میں پہلی مرتبہ پی ایف یو جے اور پی بی اے کو نمائندگی دی گئی ہے جبکہ ٹی وی چینل کے ضابطہ کار میں ”ڈس انفارمیشن“ نشر نہ کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس، اداروں اور دیگر شکایات کے ازالے کے لئے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں شکایات کونسلز بنائی جائیں گی۔ شکایات کونسلز الیکٹرانک میڈیا میں کم از کم تنخواہ کی حکومتی پالیسی، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کے نفاذ کو یقینی بنائیں گی۔ شکایات کونسل ایک چیئرمین اور پانچ ارکان پر مشتمل ہوگی، اس میں کام کرنے والے افراد کی مدت دو سال ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ پیمرا کے فیصلوں کے خلاف متعلقہ صوبے کی ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔ اس موقع پر کمیٹی کی رکن نفیسہ شاہ نے کہا کہ بل میں ترامیم کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں وقت دیا جائے جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بل کے حوالے سے تمام چیزیں آپ کو مہیا کر دی گئی ہیں، اس بل میں 9 ترامیم کی گئی ہیں جبکہ پانچ نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    باڑہ کمپاؤنڈ پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی چوری کی تھی

    نفیسہ شاہ نے کہا کہ کسی بھی بل کی تیاری میں حکومت ایک سال لگا لیتی ہے لیکن کمیٹی کو کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس ایک دن کا وقت ہے۔ کمیٹی ممبران کو بھی وقت دیا جائے تاکہ مذکورہ بل کو پرکھا جا سکے۔ کمیٹی کی رکن زیب جعفر نے کہا کہ بل کو کمیٹی میں منظور کیا جائے۔ کمیٹی کی رکن ناز بلوچ نے کہا کہ کیا چینلز کا آڈٹ کیا جاتا ہے جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ٹی وی چینلز اپنی سالانہ آڈٹ رپورٹ جمع کروانے کے پابند ہیں۔

    کمیٹی ممبران نے گلہ کیا کہ اس بل پر اگر 13 ماہ کام کیا ہے تو اسے کمیٹی سے اتنی جلدی منظور کروانے کی کیا ضرورت ہے؟ مریم اورنگزیب نے کہا میری گزارش ہے ابھی وقت کم ہے لہذا کمیٹی اس کو منظور کرے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے پیمرا ترمیمی بل 2023 کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

    اسٹیٹ بنک کی رپورٹس ہیں کہ ملک میں مہنگائی کم ہوگی. اسحاق ڈار

    ٹی وی چینلز پر فحش مواد سے متعلق جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی توجہ دلاؤ نوٹس پر بولے میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی نہیں دیکھ سکتا کمیٹی ممبران نے مولانا عبدالاکبر چترالی سے کہا کہ آپ فحاشی کی تشریح کردیں، جس پر مولانا عبدا لاکبر چترالی نے واک آؤٹ کردیا، ان کے واک آؤٹ کے بعد اجلاس کی کاروائی ملتوی کردی گئی-

    اجلاس میں کمیٹی کی ارکان نفیسہ شاہ، زیب جعفر، ناز بلوچ سمیت وفاقی سیکریٹری اطلاعات سہیل علی خان، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ اور ڈی جی ریڈیو طاہر حسن نے شرکت کی۔

    عمران خان کی آئین توڑنے کی روایت پرانی ہے. بلال اظہر کیانی

  • جج کی تصویر نہیں چلے گی نام نہیں چلے گا جو چلائے گا توہین عدالت ہو گی،عدالت

    جج کی تصویر نہیں چلے گی نام نہیں چلے گا جو چلائے گا توہین عدالت ہو گی،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر کی بازیابی درخواست ، آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم نامہ کھلی عدالت میں تحریر کروایا ،عدالت نے مراد اکبر بازیابی کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھیجوا دی ، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ چیف جسٹس کو اس کیس کی فائل بھیجوا رہے ہیں ،ڈویژن بنچ میں بھی اسی طرح کے کیسز زیر التوا ہیں ، مراد اکبر کے اغوا اور پولیس کی وردی استعمال ہونے کے کیسز میں تفتیشی قانون کے مطابق کاروائی کرے ،مراد اکبر کو اٹھانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ،مراد اکبر کی بازیابی کے لیے آئی جی اسلام آباد تحقیقات کروا رہے ہیں ،ویڈیو کلپ سے معلوم ہوتا ہے پولیس کی وردی استعمال ہوئی ،ویڈیو کلپ کے مطابق رینجر کی وردی استعمال نہیں ہوئی ،دانیال اکبر اپنا بیان تفتیشی کو جمع کرائیں ویڈیو کلپ کی کاپی تفتیشی افسر کو فراہم کریں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر عدالت کے سامنے پیش ہوئے،سیکرٹری داخلہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نام ہے آپ کا ؟ سیکرٹری داخلہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سید علی حسن میرا نام ہے ، عدالت نے ریمارکس چلانے پر پابندی لگا دی،عدالت نے حکم دیا کہ کیس کا صرف تحریری حکم چلے گا ،جج کی تصویر نہیں چلے گی نام نہیں چلے گا جو چلائے گا توہین عدالت ہو گی ، میں پیمرا کو بھی لکھ رہا ہوں اگر خلاف ورزی ہوئی تو ٹی وی لائسنس کینسل ہو گا ،

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

  • رویت ہلال کی تشکیل نو کا بل منظور، جھوٹی شہادت دینے پر 3 سال قید اور 50 ہزار تک کا جرمانے کا فیصلہ

    رویت ہلال کی تشکیل نو کا بل منظور، جھوٹی شہادت دینے پر 3 سال قید اور 50 ہزار تک کا جرمانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: حکومت کی طرف سے رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کے حوالے سے پاکستان رویت ہلال بل 2023 قومی اسمبلی میں منظور کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی:قومی اسمبلی میں منظور کردہ بل کے مطابق 15 رکنی وفاقی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو وفاقی رویت ہلال کمیٹی کے طور پر کام کرے گی،وفاقی رویت ہلال کمیٹی میں چاروں صوبوں سے 2,2 علمائے کرام جبکہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے ایک ایک علماء شامل ہوں گے جب کہ ہر صوبہ ضلعی رویت ہلال کمیٹی تشکیل دے گا جو 6 ارکان پر مشتمل ہوگئی-

    پٹرولیم مصنوعات کے بعد آٹے اور ایل پی جی کی قیمت میں بھی بڑی کمی

    وفاقی کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان کیلئے ایم اے اسلامیات اور 15 سال تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے اسلام آباد کی کمیٹی 7 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں چیئرپرسن بھی شامل ہوگا وفاقی کمیٹی میں محکمہ موسمیات، وزارت مذہبی امور، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سپارکو کی بھی نمائندگی ہوگی جبکہ کمیٹی کی معیاد 3 سال رکھی گئی ہے۔

    رویت ہلال بل کے مطابق چاند دیکھنے کی جھوٹی شہادت دینے پر 3 سال قید اور 50 ہزار تک کا جرمانے کا فیصلہ کیا گیا ہےاسی طرح عید کے موقع پر چاند دیکھنے کیلئے غیر سرکاری کمیٹیوں پر بھی پابندی ہوگی احکامات کی خلاف ورزی پر 5 لاکھ تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔

    فیڈرل شریعت کورٹ کے نئے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان نے عہدے کا حلف اٹھا …

    بل کے مطابق سرکاری اعلان سے پہلے الیکٹرانک میڈیا پربھی چاند نظر آنے کی خبر دینے پرپابندی عائد ہوگئی، خلاف ورزی پر پیمرا مذکورہ چینل کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کرے گا۔

  • عمران خان کی تقاریر پر پابندی کیخلاف درخواست قابلِ سماعت؟ فیصلہ محفوظ

    عمران خان کی تقاریر پر پابندی کیخلاف درخواست قابلِ سماعت؟ فیصلہ محفوظ

    لاہور ہائیکورٹ عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کی تقاریر پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے حکم پر عملدرآمد کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو عدالتی حکم کے بعد چیئرمین پیمرا کے پاس جانا چاہئے تھا، چیئرمین پیمرا کے فیصلے کے بعد عدالت کوئی حکم جاری کرسکتی ہے،جسٹس شمس محمود مرزا نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہقانونی طور پرسیاسی جماعتوں کو برابری کےاصول پر ائیر ٹائم ملنا قانونی تقاضا ہے۔ لاہور ہاٸیکورٹ نے عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا نوٹیفیکشن مطل کر دیا تھاعدالت نے پیمرا کو ہدایت کی کہ عمران خان کی تقارریر نشر کرنے پر کوٸی پابندی نہ لگاٸی جاٸے۔عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کی تقاریر نشر کیے جانے سے روکا جا رہا ہے۔عدالتی حکم کی خلاف ورزی توہین عدالت ہے ، عدالت عمران خان کی تقاریر کی نشریات پرعائد پابندی ختم کرنے کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرائے عدالت ذمہ دار افسران کے خلاف توہین عدالت کی کاررواٸی کرے ،

    واضح رہے کہ عمران خان کے اداروں کیخلاف بیانات کی وجہ سے پیمرا نے عمران خان کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ عمران خان نے پابندی کے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

  • عمران خان کی تقاریر پر پابندی، پیمرا کو جواب جمع کروانے کی مہلت

    عمران خان کی تقاریر پر پابندی، پیمرا کو جواب جمع کروانے کی مہلت

    لاہور ہائیکورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی تقاریر پر پابندی کا معاملہ،عدالت نے چیئرمین پیمرا کو جواب جمع کرانے کےلئے مہلت دے دی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے سماعت کی، وکیل عمران خان نے عدالت میں کہا کہ قانونی طور پر سیاسی جماعتوں کو برابری کے اصول پر ائیر ٹائم ملنا قانونی تقاضا ہے۔لاہور ہاٸی کورٹ نے عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا نوٹیفیکشن معطل کر دیا تھا ،عدالت نے پیمرا کو ہدایت کی کہ عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کی تقاریر نشر کیے جانے سے روکا جا رہا ہے۔عدالتی حکم کی خلاف ورزی توہین عدالت ہے ، عدالت زمہ دار افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ،

    واضح رہے کہ عمران خان کے اداروں کیخلاف بیانات کی وجہ سے پیمرا نے عمران خان کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ عمران خان نے پابندی کے اس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پرپابندی، پمیرا سے جواب طلب

    عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پرپابندی، پمیرا سے جواب طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی تقریر نشر کرنے پر پابندی ختم کرنے کے عدالتی حکم نامہ پر عمل نہ کرنے کے حوالہ سے لاہور ہائیکورٹ میں داخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نےعمران خان کی تقاریر کی نشریات پر پابندی ختم کرنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کے معاملے پر پیمرا اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی عمران خان کے وکیل احمد پنسوتہ عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی تقاریر کی نشریات پر پابندی کے خلاف عدالت نے حکم امتناعی جاری کررکھا ہے عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کی تقاریر کی نشریات پر عائد پابندی ختم نہیں کی گئیعام انتخابات کا شیڈول آنے کے بعد انتخابی مہم شروع ہورہی ہے پیمرا کا پابندی کا نوٹیفکیشن بلا جواز اور قانون سے ہٹ کر ہے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان کی تقاریر کی نشریات بحال کرنے کا حکم دیا جائے ، عدالت نے پیمرا اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم، ن لیگی رہنما نوازشریف کی تقاریرنشرکرنے کے خلاف کیس میں عمران خان کے فریق بننے کی متفرق درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس شاہد کریم نے عمران خان کی متفرق درخواست پرسماعت کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت میں نوازشریف کی تقاریرنشرکرنے کیخلاف درخواست پرسماعت ہورہی ہے نوازشریف کے تقاریرنشر،عمران خان کی تقاریروبیانات نہیں دکھائے جا رہے عدالت عمران خان کو اس کیس میں فریق بننے کی اجازت دے ،عدالت نے عمران خان کی فریق بننے کی متفرق درخواست سماعت کیلئے منظورکرتے ہوئے پیمرا سے جواب طلب کرلیا

    یاد رہےکہ پیمرا نےتمام ٹی وی چینلز پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریربراہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • عمران خان کی تقاریر پر پابندی ، پیمرا کو نوٹس جاری، جواب طلب

    عمران خان کی تقاریر پر پابندی ، پیمرا کو نوٹس جاری، جواب طلب

    لاہورہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانات ٹی وی چینلز پر نشرنہ کرنے پر پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت جسٹس شمس محمود مرزا نے درخواست گزار کے وکیل کو کہا کہ آپ کو دستاویزات سے ثابت کرنا ہوگا کہ عدالت کی حکم عدولی ہوئی ہے ،لاہر ہائیکورٹ نے عمران خان کی تقاریر پر پابندی پرپیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا

    عمران خان کی جانب سے بیرسٹر احمد پنسوتا کے ذریعے توہین عدالت کی دائر درخواست میں چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کی پابندی کا نوٹیفیکیشن معطل کر رکھا ہےاس کے باوجود ٹی وی چینلز پر نشر نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو عمران خان کی تقاریر نشر نہ کرنے کے لیے پریشرائز کیا جا رہا ہے۔ پیمرا کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

    عمران خان کی جانب سے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے اور لاہورہائیکورٹ چیئرمین پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے ،عدالت نے چیئرمین پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا

    یاد رہےکہ پیمرا نےتمام ٹی وی چینلز پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریربراہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    لاہور: تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیراعظم کی جانب سے دائر درخواست میں چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پیمرا کی پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کر رکھا ہے نوٹیفکیشن معطلی کے باوجود ٹی وی چینلز پر نشر نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے-

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ٹی وی چینلز پرعمران خان کی تقاریر نشر نہ کرنے کیلئے دباؤڈالا جارہا ہے پیمرا کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کرے اور چیئرمین پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے۔

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    یاد رہےکہ پیمرا نےتمام ٹی وی چینلز پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریربراہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے-

  • عمران خان کی پیشی،پیمرا کی کوریج پر پابندی،درخواست پر اعتراض عائد

    عمران خان کی پیشی،پیمرا کی کوریج پر پابندی،درخواست پر اعتراض عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران خان کی پیشی کے موقع پر پیمرا کی جانب سے کوریج پر پابندی کا کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کردی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے مصدقہ دستاویزات نا ہونے کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی ،وکیل فیصل فرید چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ آرڈر کی مصدقہ کاپیز ساتھ منسلک کریں ،عدالت نے اعتراضات دور ہونے کے بعد نمبر لگانے کی ہدایت کر دی پیمرا نے عمران خان کی پیشی کے موقع پر ایک دن کوریج کی پابندی عائد کی تھی

    واضح رہے کہ 27 مارچ کو عمران خان جب اسلام آباد عدالت میں پیشی کے لئے گئے تھے تو پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی عائد کر دی تھی کوریج پر پابندی امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر عائد کی گئی تھی نوٹیفکیشن کے مطابق پیمرا نےوفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریلیوں، جلسے، جلوس اورعوامی اجتماع کی لائیو اور ریکارڈڈ کوریج پر پابندی عائد کر دی، پابندی اسلام آباد کی حدود میں صرف آج کے لیے جلسوں اور ریلیوں کی کوریج پر عائد کی گئی۔

    پیمرا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پابندی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خط کے تناظر میں عائد کی گئی ہے، چینلز نے پُرتشدد ہجوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کی براہ راست فوٹیجز نشر کیں، ایسی فوٹیجز کی براہ راست نشریات نے افراتفری اور خوف و ہراس پھیلایا۔

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی