Baaghi TV

Tag: پیمرا

  • اشتہاری ملزمان کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پیمرا حکام طلب

    اشتہاری ملزمان کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پیمرا حکام طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف ،اسحق ڈار سمیت دیگر اشتہاری ملزمان کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پیمرا کے ڈی جی آپریشنز کو آئندہ سماعت پر زاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر فریقین عدالت میں اپنا تفصیلی جواب کرائیں،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین پر عمل کیوں نہیں کر رہا ،جسٹس شاہد وحید نے شہری شبیر اسماعیل کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ پیمرا سے 2019 میں اشتہاری اور سز یافتہ ملزمان کے ٹی وی پر آنے پر پابندی عائد کی تھی ،نواز شریف اوراسحق ڈار کی تقاریر اور پریس کانفرنس ٹی وی دکھائی جا رہی ہیں پیمرا اپنے ہی احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے عدالت پیمرا کو اشتہاری ملزمان کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی کا حکم دے

    عمران خان بھی "جیو” پر مہربان، اشتہارات کی ادائیگی میں پہلا نمبر

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران تشدد اور شیلنگ کے واقع کی تحقیقات کے لیے دائر متفرق درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے آئی جی پنجاب ،ہوم سیکرٹری سمیت دیگر سے دوبارہ جواب طلب کیا عدالت نے کیس کی سماعت 6 اکتوںر تک ملتوی کردی جسٹس انوار الحق پنوں نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 25مئی کو لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں پر تشدد کیا پولیس نے ایکسپائر شیل استمعال کیے ،پولیس نے کس نے کہنے پر تشدد اور شیلنگ کی ابھی تک تحقیقات مکمل نہیں ہوسکیں ،عدالت نے 25 مئی کے واقع کی تحقیقات مکمل کرنے کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    نیب نے فرح خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح بھاگ گئی،کچھ کیا نہیں تو ڈر کیسا؟ سعد رفیق

    فرح خان کیخلاف ریکارڈ کے حصول کیلئے نیب متحرک

  • عمران خان کو لائیو کیوں دکھایا؟پیمرا کا اے آروائی اوربول ٹی وی کو شوکازنوٹسز

    عمران خان کو لائیو کیوں دکھایا؟پیمرا کا اے آروائی اوربول ٹی وی کو شوکازنوٹسز

    اسلام آباد:عمران خان کو لائیو کیوں دکھایا؟پیمرا کا اے آروائی اوربول کو شوکازنوٹسز،اطلاعات کے مطابق پیمرا نے ایک بار پھرعمران خان کو لائیو دکھانے پراے آروائی اور بول ٹی وی کو شوکاز نوٹسز روانہ کردیئے ہیں، پیمرا کی طرف سے شوکازنوٹسز جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان کو قوم کے سامنے لائیو دکھانے پرپابندی کےباوجود دکھایا گیا جو کہ پیمرا کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے

     

    پمرا کی طرف سے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے پیمرا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ M/s کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (C.E.O.) اے آر وائی کمیونیکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ (اے آر وائی نیوز) اور بول نیوز کو تین (05) دنوں کے اندر تحریری طور پر وجہ ظاہر کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے، کیوں کہ مذکورہ بالا خلاف ورزیوں کے لیے چینل کے خلاف مناسب قانونی کارروائی جا سکتی ہے، بشمول جرمانہ، معطلی وغیرہ۔ اور سیکشن 29، 30 کے تحت لائسنس کی منسوخی اور پیمرا آرڈیننس 2002 کے ترمیم شدہ پیمرا (ترمیمی) ایکٹ کے کچھ بھی کارروائی کی جاسکتی ہے

    پیمرا کی طرف سے جاری شوکاز نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ ان اداروں کے نمائندے مورخہ پندرہ ستمبر کو پیمرا کو جواب جمع کروائیں اور اگراے آر وائی اور بول نیوز نے پیمرا کے شوکاز نوٹسز کا کوئی معقول جواب نہ دیا تو پھر ان ٹی وی چینلز کو جرمانہ بھی ہوسکتا ہے اور نشریات پربھی پابندی لگ سکتی ہے، اس لیے ضروری ہےکہ پیمرا کی طرف سے مقرر کردہ وقت اور دن کو پیمرا ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر جواب دیا جائے

  • پیمرا کونسل آف کمپلین کے چیئرمین اورارکان کی تقرری کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    پیمرا کونسل آف کمپلین کے چیئرمین اورارکان کی تقرری کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ،پیمرا کونسل آف کمپلین کے چیئرمین اور ارکان کی تقرری کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ عوامی عہدوں پر تعیناتی ایک مقدس فریضہ ہے جو شفاف انداز میں ادا ہونا چاہیے، تمام تقرریوں اور تعیناتیوں کا عمل شفاف، غیرجانبدار ہونا چاہیے،شفاف عمل کے ذریعے اہل، قابل اور عہدے کے مستحق شخص کی تقرری یقینی بنانی چاہیے،کونسل آف کمپلین کے چیئرمین اور ارکان کی تقرری بذریعہ اشتہار ہونی چاہیے، آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں، سروس آف پاکستان میں تعیناتی میں برابری کے حوالے سے آرٹیکل 27 واضح ہے، تعیناتیوں میں یکساں مواقع دینا اعزازی عہدوں کیلئے بھی لازمی ہے،پیمرا کونسل آف کمپلین کا کام اہمیت کا حامل ہے،وکلاکے مطابق بہت سے اہل افراد تعیناتیوں کیلئے خود درخواست نہیں دیتے،اہل افراد سے خود رابطہ کرکے انکی رضامندی کا بطور درخواست جائزہ لیا جا سکتا ہے عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پیمرا کی اپیل نمٹا دی

    عمران خان بھی "جیو” پر مہربان، اشتہارات کی ادائیگی میں پہلا نمبر

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

  • آپ نےعمران خان کا گزشتہ روزکا بیان سنا کیا پولیٹیکل لیڈرشپ اس طرح ہوتی ہے؟ عدالت

    آپ نےعمران خان کا گزشتہ روزکا بیان سنا کیا پولیٹیکل لیڈرشپ اس طرح ہوتی ہے؟ عدالت

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقریر لائیو دکھانے پر پابندی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی لائیو تقریر پر پابندی کے پیمراء آرڈر کے خلاف درخواست نمٹا دی ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی عمران خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے، وکیل پیمرا نے کہا کہ شوکاز نوٹس جاری کرنے کا مقصد صرف تقریر میں ڈیلے کرنا مقصد تھا، عدالت نے وکیل پیمرا سے استفسار کیا کہ آپ ڈیلے پالیسی پر عمل درآمد کیوں نہیں کرتے ؟ بڑے زمہ دار لوگ غیر زمہ دارانہ بیان دیتے ہیں،قانون کے مطابق آپ نے کام کرنا ہے، عدالت کوئی مداخلت نہیں کرے گی، وکیل پیمرا نے کہا کہ ہمارا ڈائرکشن کسی ایک خاص شخص کے لیے نہیں تھا،عدالت نے وکیل پیمرا سے سوال کیا کہ کیا آپ اس عدالت کے آخری آرڈر سے متفق ہیں؟ پیمرا کے وکیل کا عدالت سے متفق ہونے پر عدالت نے عمران خان کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چیزیں مشکل نہ بنائے، آپ کے موکل کی جانب سے بھی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا گیا،وکیل پیمرا نے کہا کہ ٹی وی پر چیزیں تاخیر سے چلانے پر سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ موجود ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو کہا ہے وہ تو پیمرا نے کرنا ہی ہے،

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے عمران خان کا گزشتہ روز کا بیان سنا ہے؟ کیا پولیٹیکل لیڈرشپ اس طرح ہوتی ہے؟گیم آف تھرونز کیلئے ہر چیز کو اسٹیک پر لگا دیا جاتا ہے؟ آرمڈ فورسز ہمارے لیے جان قربان کرتے ہیں،اگر کوئی غیرقانونی کام کرتا ہے تو سب تنقید کرتے ہیں،اپنی بھی خود احتسابی کریں کہ آپ کرنا کیا چاہ رہے ہیں، آپ چاہتے ہیں جو مرضی کہتے رہیں اور ریگولیٹر ریگولیٹ بھی نہ کرے، عدالتوں سے ریلیف کی امید نہ رکھیں یہ عدالت کا استحقاق ہے،ہر شہری محب وطن ہے کسی کے پاس یہ سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار نہیں آرمڈ فورسز کے بارے میں اس طرح کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟ کوئی بیان دے کہ کوئی محب وطن ہے اور کوئی نہیں پھر آپ کہتے ہیں ان کو کھلی چھٹی دے دیں آرمڈ فورسز کے بارے میں اس طرح کا بیان دے کر کیا آپ ان کا مورال ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ آرمڈ فورسز میں کوئی محب وطن نہیں ہو گا؟جو کچھ گزشتہ روز کہا گیا کیا اس کو کیا اس کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ اس وقت آرمڈ فورسز عوام کو ریسکیو کر رہے ہیں کیا کوئی اس بیان کو جسٹیفائی کر سکتا ہے ؟جب آپ پبلک میں کوئی بیان دیتے ہیں تو اس کی اثر زیادہ ہوتا ہے

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد:سابق وزیراعظم چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں عمران خان کی نااہلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس درخواست کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائردرخواست پر سماعت قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامرفاروق پیر کو کریں گے۔

    عمران خان کے خلاف مقدمہ،وزارت داخلہ میں اہم اجلاس،ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے رائے طلب

    اسلام آباد کے ایک شہری نےعمران خان کی نااہلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔اس شہری کاکہنا ہےکہ سابق وزیراعظم نے حقائق چھپائے ہیں اس لیے ان کو نااہل کردیا جائے درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نےکاغذات نامزدگی میں معلومات چھپائیں، اور انہوں نے اپنی بیٹی کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم

    ادھر دوسری طرف عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس میں بھی سزا دلوانے کے لیے کوششیں ہورہی ہیں ، اس سلسلے میں پی ڈی ایم اتحاد کی جماعتوں نے عمران خان کی نااہلی کے لیے ریفرنس بھی جمع کروا دیا ہے ، جبکہ دوسری طر عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بالکل حقائق نہیں چپھائے یہ سب سازش کی جارہی ہے اورمیں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب مل بھی جائیں تو مجھے نااہل نہیں کرواسکتے ،

  • ریاستی اداروں کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈے،پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کردیں

    ریاستی اداروں کیخلاف گمراہ کن پروپیگنڈے،پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کردیں

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے پر تمام ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کر دیں۔

    ایک بیان میں پیمرا کی جانب سےکہا گیا ہےکہ مشاہدے میں آیا ہےکہ کچھ ٹی وی چینلز ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، کچھ ٹی وی چینلز پر اینکرز اور تجزیہ کار غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، چینلز پر اس طرح کے ٹرینڈز ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈےکا حصہ ہیں۔

    پیمرا کا کہنا ہےکہ ایسا مواد آن ایئر کرنا پیمرا کے کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، اس طرح کا مواد آن ایئر کرنا اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    پیمرا کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اظہار رائے کی آزادی کا حق قانون کے مطابق متعدد پابندیوں سے مشروط ہے، تمام ٹی وی چینلز اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں اور پیمرا قوانین پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

  • موادآرٹیکل19کی شق20اے کی خلاف ورزی،عمران خان کےبیان نےقومی سلامتی خطرے میں ڈالی ہے:پیمرا

    موادآرٹیکل19کی شق20اے کی خلاف ورزی،عمران خان کےبیان نےقومی سلامتی خطرے میں ڈالی ہے:پیمرا

    اسلام آباد:پیمرا نے عمران خان کے حالیہ ٹی وی انٹرویو کا متنازع مواد نشر کرنے پر پابندی لگادی،اطلاعات کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کے حالیہ ٹی وی انٹرویو کا متنازع مواد نشر کرنے پر پابندی لگادی۔

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیمرا کا کہنا ہے کہ یہ مواد آئین کے آرٹیکل 19 کی شق 20 اے کی خلاف ورزی ہے، عمران خان کے بیان نے قومی سلامتی سنگین خطرے میں ڈالی ہے، عمران خان کے بیان نے ملک کی آزادی، خود مختاری، سالمیت کو سنگین خطرےمیں ڈالا ہے۔

     

    پیمرا کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کا بیان لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرسکتا ہے، عمران خان کا بیان امن وامان کیلئے نقصان دہ ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق عمران خان کا بیان قومی سلامتی، خودمختاری، آزادی، سالمیت اور ملکی نظریے کے خلاف تھا جس سے عوام میں نفرت آمیز جذبات ابھرنے کا خدشہ ہے۔

    نوٹیفکیشن میں اس بیان کو مختلف قانونی دفعات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سمیع ابراہیم کے پروگرام ‘تجزیہ’ کو بند کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سمیع ابراہیم کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت درست فیصلے نا کیے تو میں لکھ کر دیتا ہوں کہ یہ بھی تباہ ہوں گے اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی، کیونکہ ملک دیوالیہ ہوجائے گا اور اگر ہم دیوالیہ ہوگئے تو پاک فوج ہِٹ ہوگی اور جب فوج ہِٹ ہوگی تو ہم سےایٹمی پروگرام چھن جائے، اگر اس وقت درست فیصلے نا ہوئے تو ملک کے تین ٹکڑے ہوسکتے ہیں۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • پیمراکااے آروائی کو شوکازنوٹس

    پیمراکااے آروائی کو شوکازنوٹس

    اسلام آباد:پیمراکااے آروائی کو شوکازنوٹس،اطلاعات کے مطابق پیمرا نے پاکستان کے بڑے ٹی وی چینل اے آر وائی کی انتظامیہ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ایک پروگرام میں اینکرچوہدری غلام حسین نے بہت حساس باتیں‌ کی ہیں

     

    اس شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چوہدری غلام حسین نے اے آر وائی کے ایک پروگرام "رپورٹر” مین اینکرماریہ میمن سے گفتگو کرتےہوئے چوہدری غلام حسین نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ایسا موقع پر آیا جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سی پیک کے حوالے سے بڑی اہم معلومات شیئر کیں‌، چوہدری غلام حسین کے بقول اس موقع پر اور لوگ بھی موجود تھے جن کے سامنے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ سی پیک بنیادی اور ابتدائی طور پر 19 ارب ڈالرز کا ایک پراجیکٹ تھا

    چوہدری غلام حسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرمی چیف نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ ان 19 ارب ڈالرز میں سے 10 ارب ڈالرز تو مختلف پراجیکٹس پر خرچ ہوگئے جن کا ریکارڈ بھی موجود ہے جبکہ بقایا 9 ارب ڈالرز نوازشریف ،شہبازشریف جو کہ اس وقت صاحب اقتدار تھے ، ان لوگوں نے باقی 9 ارب ڈالرز اپنے من پسند ٹھیکیداروں ،لوگوں‌ اور دیگر اپنے خاص لوگوں کو دیئے ،

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”500880″ /]

    پیمرا کی طرف سے جاری شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام میں یہ بھی گفتگو ہوئی کہ چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے آرمی چیف سے سوال کیا کہ چائنیز تو کہتے ہیں کہ اس کرپشن میں ہمارے لوگ شامل ہوئے تو ہم ان کو ضرور سزا دیں گے مگرآپ ان لوگوں کو سزا کب دیں گے تو جواب دیاگیاکہ ہم ان کو کھلے عام ایسے کٹہرے میں نہیں لاسکتے

    پیمرا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس من گھڑت خبر اور فیک نیوزسے حساسیت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ غیرمتعلقہ گفتگو ہےجس کا کوئی جواز نہیں بنتا اور نہ ہی ایسی کوئی بات ہوئی ہے ، اس لیے ان دعووں کی وضاحت پیش کی جائے کہ یہ حقیقت ہے یا پھر افسانہ ،پیمرا کی طرف سے جواب طلب کیا گیا ہے کہ اے آروائی اس کی وضاحت پیش کرے

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور نفرت انگیز مواد نشر کرنے پر پیمرا کا نوٹس

    ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور نفرت انگیز مواد نشر کرنے پر پیمرا کا نوٹس

    ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور نفرت انگیز مواد نشر کرنے پر پیمرا کا نوٹس

    پیمرا نے نیوز وکرنٹ افیئرز چینلز پر پروگراموں، ٹاک شوز اورمختلف عوامی ریلیوں اور جلسوں کی براہ راست کوریج کے دوران ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ اور فوج کے خلاف منفی، توہین آمیز اور نفرت انگیز مواد نشر کرنے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے تمام ٹی وی چینلز کو متنبہ کیا ہے کہ ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ اور فوج کی تضحیک سے باز رہیں اور پیمرا قوانین اور اس ضمن میں جاری شدہ عدالتی حکم ناموں کی من وعن پاسداری کریں۔

    یاد رہے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ٹی وی چینلز کو بارہا مختلف ہدایت ناموں کے ذریعے تاکید کرتا رہا ہے کہ پیمرا قوانین اور عدالتی حکم ناموں کی پیروی کریں تاہم گذشتہ چند ہفتوں سے چینل نشریات میں اس حوالے سے کافی تشویش ناک مواد نشر کیا گیا جو کہ سراسر ریاستی اداروں کی ہرزہ سرائی اور توہین کے زمرے میں آتا ہے اور ریاستی اداروں کے خلاف بادی النظر میں پراپیگنڈا ہے۔

    پیمرا نے ایک بار پھر تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو سختی سے ہدایات کیں ہیں کہ وہ اپنی نشریات آن ایئر کرنے بالخصوص عوامی جلسوں، ریلیوں کی کوریج کرتے ہوئے مؤثر تاخیری نظام وضع کریں اور الیکٹرانک میڈیا (اشتہارات و پروگرامز) ضابطہئ اخلاق 2015ء کے تحت غیر جانبدار اور آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دیں۔ اتھارٹی نے سیٹلائٹ چینلز کو مزید خبردار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اپنے پلیٹ فارم پر کسی بھی ریاستی ادارے بشمول عدلیہ اور مسلح افواج کے خلاف کسی بھی طرح کا توہین آمیز مواد نشر کرنے سے گریز کریں۔

    تمام چینلز کو حتمی طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ اس ضمن میں کسی بھی قسم کی دانستہ /غیردانستہ غلطی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 ترمیم شدہ پیمرا(ترمیمی)ایکٹ 2007 کی شق 27 کے مطابق بغیر نوٹس پروگرام/ ٹاک شوکی بندش، شق 29 کے تحت دس لاکھ تک کا جرمانہ اور شق 30 کے تحت لائسنس کی معطلی یا منسوخی اور نشریات کی بندش جیسی قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    نیب نے فرح خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح بھاگ گئی،کچھ کیا نہیں تو ڈر کیسا؟ سعد رفیق

    فرح خان کیخلاف ریکارڈ کے حصول کیلئے نیب متحرک

  • فوج اورعدلیہ کے خلاف مواد نشر کرنے پر قانونی کاروائی کی جائے گی،پیمرا کی الیکٹرانک میڈیا کو سخت وارننگ جاری

    فوج اورعدلیہ کے خلاف مواد نشر کرنے پر قانونی کاروائی کی جائے گی،پیمرا کی الیکٹرانک میڈیا کو سخت وارننگ جاری

    پیمرا نے ریاستی اداروں کے خلاف مواد نشر کرنے سے باز رہنے کی ہدایا ت جاری کردیں۔

    باغی ٹی وی : پیمرا کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ چند سیٹلائٹ ٹی وی چینلز ایسا مواد نشر کر رہے ہیں جو ریاستی اداروں یعنی مسلح افواج اور عدلیہ کے خلاف نفرت پھیلانے کے مترادف ہے ایسے مواد کو نشر کرنا پیمرا الیکٹرانک میڈیا (پروگرامز اینڈ ایڈورٹائزمنٹ) کی اتھارٹی کی دفعات کی جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔

    سوزوکی نے رواں سال تیسری مرتبہ اپنی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھا دیں


    نوٹس میں کہا گیا کہ ضابطہ اخلاق 2015 اور سپریم کورٹ کی طرف سے وضع کردہ اصولوں کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم یہ حق اسلام کی شان و شوکت یا پاکستان کی سالمیت کے تحفظ یا دفاع کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کی گئی معقول پابندیوں کے ساتھ مشروط ہے یا اس کے کسی حصے کے ساتھ غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات عامہ کے امن عامہ یا اخلاقیات یا توہین عدالت [کمیشن] کے سلسلے میں ایک جرم ہے-

    مندرجہ بالا تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کے لائسنسوں کو یہاں سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بتائے گئے اصولوں پر عمل کریں ۔ معزز اسلام آباد ہائی کورٹ اسلام آباد کے کرمنل اوریجنل نمبر 270/2019 مورخہ 25-11-2019 میں سنائے گئے فیصلے پر عمل کریں اور سخت شکایت کو یقینی بنائیں۔ پیمرا قوانین کی مندرجہ ذیل متعلقہ دفعات جو یہاں ذیل میں تیار حوالہ کے لیے پیش کی گئی ہیں:

    میر جعفر اور صادق وہ ہوتے ہیں جو قوموں میں تقسیم پیدا کریں ،طاہر اشرفی

    پیمرا آرڈیننس 2002 کا سیکشن 20(ایف) جیسا کہ پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 میں ترمیم کی گئی ہے:

    اس آرڈیننس کے تحت لائسنس جاری کرنے والا شخص اتھارٹی کے منظور کردہ پروگراموں اور اشتہارات کے ضابطوں کی تعمیل کرے گا اور کوڈ کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کو مطلع کرتے ہوئے اندرون خانہ مانیٹرنگ کمیٹی کا تقرر کرے گا۔

    پیمرا کے قواعد 15(1) پیمرا کے قوانین: نشریاتی میڈیا یا ڈسٹری بیوشن سروس آپریٹر کے ذریعے نشر یا تقسیم کیے جانے والے پروگراموں اور اشتہارات کا مواد آرڈیننس تھیسس کے سیکشن 20 کے ضابطوں کی تصدیق کرے گا جو ضابطہ لائسنس کی شرائط و ضوابط شیڈول اے کے سیکشن میں بیان کیا گیا ہے –

    الیکٹرونک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015: 3(1)(j) کے بنیادی اصول:- لائسنس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جس میں عدلیہ یا افواج پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی ہو۔

    مسجد وزیر خان کیس: صبا قمر اور بلال سعید الزامات سے بری

    خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگرام: لائسنس اس بات کو یقینی بنائے گا کہ:- ذیلی عدالتی معاملات پر پروگرام معلوماتی انداز میں نشر کیے جاسکتے ہیں اور انہیں عارضی طور پر ہینڈل کیا جائے گا بشرطیکہ کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جو عدالتی ٹربیونل یا کسی دوسرے عدالتی یا نیم عدالتی فورم کے ذریعے فیصلہ کو متعصبانہ کرتا ہو۔

    4: مزید برآں تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو مزید ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وقت میں تاخیر کا ایک موثر طریقہ کار وضع کیا جائے اور الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی شق 17 کے تحت ایک غیر جانبدار اور آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دیا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کا پلیٹ فارم کسی کی طرف سے کسی بھی ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی طرح سے توہین آمیز تبصرے نپہیں کر رہا خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 ،29، 30 اور 33 کو ختم کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی جیسا کہ پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 میں ترمیم کی گئی ہے۔

    کہا گیا کہ یہ معاملہ چیئرمین پیمرا کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم