Baaghi TV

Tag: پیمرا

  • کیا مزید چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ عدالت

    کیا مزید چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ عدالت

    کیا مزید چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیادہ ٹی وی چینلز کو لائسنس دینے سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا مطمئن کرے کہ اس کے پاس زیادہ چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے، پیمرا ریگولیٹر ہے اسے صرف رقم جمع کرنے پر توجہ نہیں دینی چاہیے، وکیل پیمرا نے کہاکہ عدالت یہ معاملہ دوبارہ پیمرا کو بھجوا دے، وکیل نے کہا کہ پیمرا انڈی پینڈنٹ کنسلٹنٹ سے سٹڈی کرا لے کہ کتنے چینلز دکھانے کی کتنی گنجائش ہے؟ جب تک ڈی ٹی ایچ سسٹم نہیں آتا زیادہ چینلز کو لائسنس دینے سے متاثر ہوں گے،ڈی ٹی ایچ ڈسٹری بیوشن کا نظام ہے، ڈائریکٹ ٹو ہوم سسٹم لانے پر کوئی اعتراض نہیں،وکیل بی بی اے نے کہا کہ ابھی اس وقت دستیاب ڈسٹری بیوشن سسٹم اینالاگ ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمپی ٹیشن بڑھانے کے لیے اچھا نہیں کہ زیادہ چینلز آئیں؟ وکیل بی بی اے نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ زیادہ چینلز آئیں اور ہماری ایسوسی ایشن کے ممبر بنیں، ہم نئے اور پرانے تمام ممبرز کے حقوق کا تحفظ کریں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کے افسر کو بلا لیں جو عدالت میں تحریری بیان دے کہ چینلز دکھانے کی گنجائش ہے، وکیل پیمرا نے کہا کہ یہ تو سبسکرائبرز کی چوائس ہو گی کہ وہ زیادہ پیسے دے کر ڈیجیٹلائز سبسکرپشن لیں یا اینالاگ، بھارت میں ایک ہزار چینلز ہیں، وہ بھی تمام دکھانے کا سسٹم نہیں رکھتے ہم کسی کنزیومر کو فورس نہیں کر سکتے کہ وہ لازمی ڈیجیٹلائز سبسکرپشن لے، آپشن ضرور دے سکتے ہیں،

    عدالت نے ڈی جی لائسنسنگ پیمرا کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی،عدالت نے حکم دیا کہ بتائیں کہ دنیا بھر میں کیا پریکٹس ہے اور کیا مزید چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ زیادہ ٹی وی چینلز کو لائسنس دینے سے روکنے کی درخواست پر سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی گئی

    پیمرا کی کارکردگی ناقص،نوٹس دیکر خاموش ہو جاتا،عدالت نے چیئرمین پیمرا کو طلب کر لیا

    پیمرا کے وکیل بھی کورونا کا شکار،اہم کیس کی سماعت ملتوی

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    زیادتی کے مجرموں کو خصوصی عدالت کے ذریعے فی الفور سزا دی جائے،کل مسالک علماء بورڈ

    آبروریزی کے بڑھتے واقعات کسی بڑی تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں، علامہ عبدالخالق اسدی

    پنجاب پولیس کی اعلیٰ کارکردگی،موٹروے زیادتی کیس کے ملزم تیسرے روز بھی گرفتار نہ ہو سکے

    موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، واحد عینی شاہد نے کیا منظر دیکھا؟ بتا دیا

  • منفی اصطلاحات،رویوں پرتنقید،نام اورکردارپرحملے:اب نہیں چلیں گے:کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کا فیصلہ

    منفی اصطلاحات،رویوں پرتنقید،نام اورکردارپرحملے:اب نہیں چلیں گے:کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کا فیصلہ

    لاہور:منفی اصطلاحات،رویوں پرتنقید،نام اورکردارپرحملے:اب نہیں چلیں گے:کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کا فیصلہ اطلاعات کے مطابق کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کا 115 واں اجلاس بیرسٹرمحمد احمد پنسوتا کی سربراہی میں ہوا جس میں پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس نے ان سوالات کے جوابات بڑے احسن انداز سے دے دیئے ہیں جن کے بارے میں کافی شبہات اوراشکالات تھے اور اس میں سرکاری محکموں کے حوالے سے ٹی وی شوز میں بےمقصد اورانتقامی رپورٹنگ ہورہی تھی

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”476947″ /]

    بیرسٹر محمد احمد پنسوٹا کی سربراہی میں کونسل آف کمپلینٹس، پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ کسی بھی ٹی وی شو میں پولیس کے جوانوں اور دیگر سکورٹی اداروں کے اہلکاروں کے حوالے سے منفی تنقید اور منفی رویے برداشت نہیں کیے جائیں گے

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ کونسل آف کمپلینٹس پیمرا آرڈیننس 2002 کے تحت پاکستان بھر میں نجی الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا،یہ درخواست پولیس کے اے آئی جی آپریشنز لاہور کی طرف سے پیمرا کو بھیجی گئی تھی جس میں مختلف ٹی وی شوز میں پولیس کے حوالے سے منفی رویوں کی شکایت کی گئی تھی

    یہ فیصلہ اسی شکایت کے سلسلے میں کیا گیا ہے کہ ڈراموں‌اور شوز میں پولیس کے نام بگاڑ کرنہ لیئے جائیں وہ بھی ہم میں سے کسی کے بھائی توکسی کے بیٹے اور کسی کے باپ ہوتے ہیں اس لیے ان کی تحقیرسے ان کے اہل خانہ کو بہت زیادہ پریشانی ہوتی ہےاور محکمے کی رسوائی ہوتی ہے

    ذرائع کے مطابق کونسل آف کمپلینٹس (COC) نے اپنی 115ویں میٹنگ میں سفارشات پیش کی گئیں۔

    سفارشات کے مطابق، چیئرمین کونسل آف کمپلینٹس بیرسٹر محمد پنسوٹا نے ہدایت کی کہ آئندہ کسی چینل کی طرف سے اس قسم کے منفی رویوں کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جوکسی کی تحقیر کا سبب بنا تواس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی

    کونسل آف کمپلینٹس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مواد/حقائق اور ارد گرد کے حالات کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان حقائق کا جائزہ لیا گیا ہے کہ واقعی کچھ چینل اس قسم کی گھٹیا حرکات کے مرتکب ٹھہرے ہیں اور ان کو وارننگ دی جاتی ہے

  • مفادات کا ٹکراو نہیں ہو گا تو ہی اظہار رائے کی آزادی ہو گی،عدالت

    مفادات کا ٹکراو نہیں ہو گا تو ہی اظہار رائے کی آزادی ہو گی،عدالت

    مفادات کا ٹکراو نہیں ہو گا تو ہی اظہار رائے کی آزادی ہو گی،عدالت

    پیمرا کی استعداد سے زیادہ لائسنس جاری کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے مفادات کے ٹکراؤ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے معلومات تک آزادانہ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے

    پی ایف یوجے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیمرا سے ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہ دینے والے ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی کی تفصیلات بھی طلب کیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسے ملازمین کو معاوضہ نہ دینے والوں کا لائسنس منسوخ کر دینا چاہیے مفادات کا ٹکراو نہیں ہو گا تو ہی اظہار رائے کی آزادی ہو گی پوری دنیا میں مفادات کے ٹکراو کو دیکھا جاتا ہے یہ تو یہاں کوئی نہیں پوچھتا پیمرا جو 3 سو لائسنس دے رہا ہے یہ کس کو دے رہا ہے کس بنیاد پر دے رہا ہے؟

    عدالت نے پیمرا سے استفسار کیا کہ اس نے آزاد صحافیوں کی ملازمت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کس طرح نظر رکھی ہوئی ہے وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ لائسنس یافتہ چینلز کو سیلف سنسر شپ نہ کرنی پڑے

    عدلیہ کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز ریمارکس،عدالت نے ڈی جی پیمرا، اینکر پرسن کو طلب کر لیا

    پیمرا کی کارکردگی ناقص،نوٹس دیکر خاموش ہو جاتا،عدالت نے چیئرمین پیمرا کو طلب کر لیا

    پیمرا کے وکیل بھی کورونا کا شکار،اہم کیس کی سماعت ملتوی

    موٹروے زیادتی کیس،تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، عدالت میں درخواست دائر

    موٹروے زیادتی کیس، ملزم کی گرفتاری کی خبر پر آئی جی پنجاب میدان میں آ گئے

    موٹروے زیادتی کیس، متاثرہ خاتون سے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے پولیس کا رابطہ،خاتون نے کیا دیا جواب؟

    موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی او کے بیان پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،عدالت،ریکارڈ طلب

    موٹرے پر سفر ذرا احتیاط سے، سینیٹر کی گاڑی پر حملہ،پولیس کا روایتی بیان،ملزم فرار

    ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی بجائے کونسی سزا دینی چاہئے؟ انصار عباسی کی تجویز

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    موٹروے زیادتی کیس،گجرپورہ سے تفتیش تبدیل ،مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بلاک

  • اظہاررائےکامطلب بدتمیزی،الزام تراشی اورذاتیات پرحملے        نہیں:پیمرا نےنفرت پھیلانےوالوں کونوٹس بھیج دیئے

    اظہاررائےکامطلب بدتمیزی،الزام تراشی اورذاتیات پرحملے نہیں:پیمرا نےنفرت پھیلانےوالوں کونوٹس بھیج دیئے

    اسلام آباد:اظہار رائے کا مطلب بدتمیزی،الزام تراشی اورکی ذات پرمجرمانہ حملے نہیں:پیمرا نے نفرت پھیلانے والوں کونوٹس بھیج دیئے،اطلاعات کے مطابق پیمرا کی طرف سے کچھ ایسے نام نہاد تجزیہ نگاروں کونوٹسز بھیجے گئے ہیں جن کی زبان سے کبھی خیر نہیں نکلی

    اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے کچھ ایسے اینکروں کونوٹسز جاری کیئے گئے ہیں جو اپنے ہی ہم وطنوں کی کردار کُشی اور ان کی توہین میں تمام حدیں پار کرجاتےہیں ، اس حوالے سے ویسے تو پیمرا نے جن اینکروں کے نام لیے ہیں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں مگران کے بارے میں سوشل میڈیا پران کو جاننے والوں کی طرف سے بہت زیادہ وضاحت کی جارہی ہے کہ یہ ایسے شرپسند ہیں کہ جو پیسے کی خاطر اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے اہل وطن کی توہین کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں‌

     

     

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی وزیر مرادسعید کی کردار کشی کرنے میں محسن بیگ ، افتخاراحمد اور غریدہ فاروقی کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیمرا نے یہ فیصلہ عوامی ردعمل کے بعد لیا جب ہر طرف سے ان شرپسند اینکروں کی زبان سے پاکستان کے باسیوں کے بارے میں زہر اور غلط بیانی نکل رہی تھی

     

     

     

    اس حوالے سے پیمرا نے غریدہ فاروقی ، محسن بیگ ، افتخار احمد اور طارق محمود شامل ہیں ، دوسری طرف سوشل میڈیا پر اس وقت مطالبہ کیا جارہاہےکہ نفرت کے ان بیوپاریوں کی زبانوں کو تالے لگنے چاہیں

     

     

  • کیا کوئی ایک پولیٹیکل پارٹی چینل کا لائسنس لے سکتی ہے؟ عدالت

    کیا کوئی ایک پولیٹیکل پارٹی چینل کا لائسنس لے سکتی ہے؟ عدالت

    کیا کوئی ایک پولیٹیکل پارٹی چینل کا لائسنس لے سکتی ہے؟ عدالت

    پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کی پیمرا کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی بی اے کی درخواست پر سماعت کی پی بی اے نے پیمرا کو اینالاگ سسٹم کی استعداد سے زیادہ ٹی وی لائسنس جاری کرنے سے روکنے کی استدعا کر رکھی ہے ،پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، وکیل پی بی اے نے کہا کہ پہلے ہی 109 سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز کو لائسنس دیے جا چکے ہیں، لینڈنگ رائٹس والے چینلز ملا کر تعداد ڈیڑھ سو تک پہنچ جاتی ہے،اینالاگ سسٹم میں اتنے ٹی وی چینلز کو دکھانے کی گنجائش ہی نہیں،پیمرا کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن کے بعد استعداد بڑھ کر ساڑھے تین سو چینلز تک بھی ہو سکتی ہے، اس بات پر اعتراض نہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے لائسنس جاری کرتے ہوئے دیکھنا ہے کہ مفادات کا ٹکراؤ بھی نا ہو، اگر پروپرائیٹر معلومات تک رسائی کو سینسر کرنا شروع کر دے تو یہ آرٹیکل 19 اور 19 اے کے خلاف ہے، کوئی ایسا بزنس کر رہا ہو جو مفادات کے لیے معلومات کو چھپائے تو یہ فریڈم آف پریس کے خلاف ہے،مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا تو ہی اظہار رائے کی آزادی ہو گی،پوری دنیا میں مفادات کے ٹکراؤ کو دیکھا جاتا ہے یہ تو یہاں کوئی نہیں پوچھتا ، پیمرا جو تین سو لائسنس دے رہا ہے یہ کس کو دے رہا ہے کس بنیاد پر دے رہا ہے؟ وکیل پیمرا نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو باقاعدہ ایک پراسیس کے تحت لائسنس جاری کیا جاتا ہے، عدالت نے کہا کہ کیا کوئی ایک پولیٹیکل پارٹی لائسنس لے سکتی ہے؟ وکیل پیمرا نے کہا کہ یہ باتیں اس پٹیشن میں تو نہیں مگر اس نکتے پر بھی عدالت کی معاونت کریں گے، وکیل پی بی اے نے کہا کہ ایک ٹی وی چینل کو ڈسٹری بیوشن کا لائسنس نہیں مل سکتا،

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    چیف الیکشن کمشنر پر الزامات، ن لیگ نے بڑا اعلان کر دیا

    چیف الیکشن کمشنر کوحکم دیں کیونکہ تمہارے پاس اس کی بھی ویڈیوز ہونگی،شہری کا مریم نواز کو جواب

    عام انتخابات کی تیاری کی جائے، چیف الیکشن کمشنر کا حکم آ گیا

    علی امین گنڈا پور پر جرمانہ کے باوجود کسی قسم کا اثر نہیں ہوا،چیف الیکشن کمشنر

  • غیراخلاقی اصطلاحات اورمنفی رویوں پراعتراضات : کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کا جواب

    غیراخلاقی اصطلاحات اورمنفی رویوں پراعتراضات : کونسل آف کمپلینٹس پیمرا کا جواب

    لاہور:سوشل میڈیا پرغیراخلاقی اصطلاحات اورمنفی رویوں کونسل آف کمپلینٹس کی درخواست پرپیمرا کا جواب ،اطلاعات کے مطابق بیرسٹر محمد احمد پنسوتا کی سربراہی میں پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس نے ان سوالات کے جوابات بڑے احسن انداز سے دے دیئے ہیں جن کے بارے میں کافی شبہات اوراشکالات تھے

    بیرسٹر محمد احمد پنسوٹا کی سربراہی میں کونسل آف کمپلینٹس، پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) نے ہدایت کی ہے کہ "غیر اخلاقی” کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے آئین 1973 کے تحت اس کی مناسب تعریف کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ کونسل آف کمپلینٹس پیمرا آرڈیننس 2002 کے تحت پاکستان بھر میں نجی الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے مواد کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا،اس کم نے مبینہ طور پر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ جناب فیض اللہ خان نیازی اور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ جناب ندیم سرور کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا۔

    یہ فیصلہ اصل میں غیر اخلاقی مواد نشر کرنے کے لیے مشہورانٹرٹینمنٹ چینل HUM TV پرنشرہونے والا زیربحث مواد ایک ٹیلی ویژن ڈرامہ تھا جس میں انتہائی غیر اخلاقی مواد کے گرد یہ ڈرامہ نشر کیا گیا تھا

    ذرائع کے مطابق کونسل آف کمپلینٹس (COC) نے اپنی 113ویں میٹنگ میں ایڈوکیٹ مسٹر نیازی اور ایڈووکیٹ مسٹر سرور کی طرف سے دائر کی گئی شکایت پر غور کیا۔ چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سی او سی کی جانب سے سفارشات پیش کی گئیں۔

    سفارشات کے مطابق، چیئرمین کونسل آف کمپلینٹس بیرسٹر محمد پنسوٹا نے ہدایت کی کہ "بے حیائی، فحش یا غیر اخلاقی” کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہی آئین، قانون اور ضابطہ کے تحت ان کی تعریف اور حدود متعین کی جاچکی ہیں‌۔ COC نے مزید طے کیا کہ زیر بحث مواد نہ تو غیر مہذب تھا اور نہ ہی فحش۔

     

    پیمرا، لاہور نے موقف اختیار کیا کہ غیر اخلاقی، فحش یا غیر اخلاقی الفاظ کی تعریف فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ آئین، قانون اور قانون کے تحت پہلے ہی فراہم کیا جا چکا ہے۔ کوڈ اور مناسب فورم اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا مواد غیر اخلاقی، فحش، بے ہودہ یا غیر اخلاقی ہے،

    کونسل آف کمپلینٹس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مواد/حقائق اور ارد گرد کے حالات کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ تعریفوں پر فیصلہ کرنے سے کچھ انتہائی خوفناک لیکن اہم سماجی مسائل کے متعلق آگہی میم کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا ہوگی جو سماجی بیداری پیدا کرتے ہیں – جیسے بچوں کے ساتھ بدسلوکی، عصمت دری، غیرت کے نام پر قتل، انسانی سمگلنگ کی اصطلاحات ہیں‌

     

    یاد رہے کہ 23 ستمبر 2021 کو منعقدہ COC اجلاس میں محترمہ سحر زرین بندیال، محترمہ سارہ احمد، محترمہ شمیم ​​زیدی، جناب توقیر ناصر اور جناب شاہجہاں خان نے شرکت کی۔ شکایات کے مطابق HUM TV کے ذریعے نشر کیے گئے مواد میں "دو رضاعی بہن بھائیوں کے درمیان تعلقات کی شکل میں دکھائے جانے والے بے حیائی کا حساس/متنازع موضوع” شامل تھا۔ اس وقت، مواد کو بنیادی طور پر بے حیائی کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا۔

  • میڈیا،صحافیوں اورشخصیات کیخلاف مریم نوازکاپراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا

    میڈیا،صحافیوں اورشخصیات کیخلاف مریم نوازکاپراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا

    اسلام آباد:میڈیا ،صحافیوں اورمحترم شخصیات کےخلاف مریم نوازکا پراپیگنڈہ اوران کی کردارکُشی:پیمرا کوخط لکھ دیا گیا ،اطلاعات کے مطابق مریم نواز کی مبینہ آڈیو کا معاملہ اس قدر حساس ہوگیا ہے کہ اب توہرصحافی اوراینکرپرسن مریم نواز کی سازشوں سے خوف کھانے لگا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صحافیوں نے مریم نواز کی سازشوں سے بچنے اورمحفوظ رہنے کے لیے ہاتھ پاوں مارنے شروع کردیئے ہیں‌

    اس حوالے سے اسلام آباد سے اہم خبریں آرہی ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا کے دیگربڑے بڑے ناموں‌ کومریم نواز کی پراکسی سے بچانے کے لیے پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ نے آگے بڑھ کرکچھ کرنے کا عزم کیا ہے ، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عالیہ حمزہ نے مریم نواز کی سازشوں سے بچنے کےلیے چیئرمین پیمرا کو خط بھی لکھ دیاہے

    عالیہ حمزہ نے چیئرمین پیمرا کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ خدا را مریم صفدر کے خلاف کاروائی کریں ورنہ یہ بہت نقصان کرے گی

    عالیہ حمزہ نے خط میں‌ یہ بھی یاد دلوایا ہے کہ میں پہلے بھی دو خطوط لکھ چکی، جن کا تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔ عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌کہ ایک بار پھر آپ کی توجہ مریم صفدر کی پےدر پے آنیوالی آڈیوز سے متعلق لکھ رہی ہوں‌

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں کہ جناب چیئرمین اس طرح‌ تو دنیا میں‌ کہں بھی ہوتا جس طرح مریم نواز اپنی گینگ کے ساتھ مل کرکررہی ہیں‌، عالیہ کہتی ہیں‌کہ مریم نواز کی آڈیو لیک آزاد میڈیا کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ مریم صفدر مبینہ آڈیو میں سینئر صحافی حسن نثاراور ارشاد بھٹی پر الزامات لگارہی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے بڑے دکھ کے ساتھ چیئرمین پیمرا کو یہ بھی بتایا کہ جناب ! مریم صفدر نےسینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبات کلمات بھی کہے ، ان کی توہین کی ، ان کی کردار کُشی کی لیکن مہذب اور جمہوری ہونے والوں میں سے کسی نے مریم نواز کے اس رویے کی مذمت تک نہ کی

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ لیکڈ آڈیو میں مریم نواز اور پرویز رشید نےصحافیوں کو بھونکنے والے کتے قرار دیا۔ مبینہ آڈیو میں پرویز رشید،مریم صفدر کو جیو گروپ کو ہدایات دینے پر بات کر رہے ہیں۔ جسں میں وہ سینئر صحافی حسن نثار، ارشاد بھٹی، مظہر عباس، ستار بابر پر ن لیگ کے مؤقف کے خلاف جانے کے گھٹیا الزامات لگا رہے ہیں۔

    عالیہ حمزہ نے اپنے خط میں میڈیا گروپ کو کنٹرول کرنےاور ان کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کے حوالےسے کہا ہے کہ رشید مریم صفدر کو میر شکیل سے باز پرس کرنے کی درخواست کر رہے ہیں، عالیہ حمزہ نے خط میں لکھا ہے کہ کتنی بد قسمتی ہے ہماری کہ ایک شرپسند خاتون کھلے عام "ریوڑیاں”بانٹ رہی ہے،پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ مبینہ آڈیو میں مریم صفدر دو باسکٹس نصرت جاوید اور رانا جواد کو بھجوانے کا ذکر ہے۔

    عالیہ حمزہ کہتی ہیں‌ کہ سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کا کردار کارکردگی صفر اور پیسے کے زور پر صحافت کو خرید کر اپنےحق میں پروگرام کروائےجاتے ہیں، جو حق میں نہیں بولتا اس کےخلاف گالیاں بولی جاتی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے اس موقع پر ایک سوالیہ انداز سے میں‌ یہ بھی لکھا ہے کہ کیا یہ ہے میڈیا اور صحافیوں کی ٹوٹل اوقات ان نابالغ قومی لیڈران کی نظر میں؟

    عالیہ حمزہ نے خط میں لکھا ہے کہ ان لوگوں کا مکروہ چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب ہورہا ہے۔ان لوگوں نے اپنی کرپشن عوام سے چھپانے کے لئے ہر ادارے میں کرپٹ لوگوں کو پروان چڑھایا۔ میڈیا کی آزادی ن لیگ مافیاز نے یرغمال بنا رکھی ہے۔ صحافتی تنظیمیں سوال کریں کہ یہ مجرمہ کس طرح آزادی راے پر نقب لگا سکتی ہے؟

    عالیہ حمزہ نے ایک ٹیکنیکل سوال بھی پوچھا ہے کہ کیا مجرمہ مریم صفدر کی جیو نیوز نے ایچ آر یا پروگرام کوآرڈینیٹر ہے؟؟جو اپنی من پسند خبروں اور بتائی ہوئی جھوٹی باتوں کو جیو پر نشر کرنے کے احکامات صادر کرتی رہی ہیں۔ ان چند کرپٹ لوگوں کی وجہ سے سارا میڈیا یرغامال بنا ہوا ہے۔ عالیہ حمزہ نے آخر میں‌ لکھا ہے کہ مجھے آپ کے منصب سے امید ہے پیمرا اختیارات کہ اندر رہ کر مریم صفدر اور پرویز رشید کا اختساب ضرور کرینگے۔

  • پیمرا کا سابق چیئرمین پیمرا ابصارعالم کیخلاف ایکشن”جولُٹ مچائی سی واپس کردیو” کا پیغام

    پیمرا کا سابق چیئرمین پیمرا ابصارعالم کیخلاف ایکشن”جولُٹ مچائی سی واپس کردیو” کا پیغام

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف ایکشن لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق پیمرا نے سابق چیئرمین ابصار عالم کو پوری تنخواہ واپس کرنے کی ہدایت کردی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے ابصار عالم کی چیئرمین پیمرا تقرری غیرقانونی قرار دی تھی۔

    یاد رہے کہ نوازشریف کے کار خاص ابصار عالم دسمبر 2015 سے دسمبر 2017 تک چیئرمین پیمرا کے عہدے پر فائز رہے۔

    انہوں نے بطور چیئرمین پیمرا 5 کروڑ 3 لاکھ سے زائد رقم تنخواہ کی مد میں لی تھی، پیمرا نے ہدایت کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ابصار عالم تنخواہ وابس پریں۔پیمرا کا کہنا ہے کہ ابصار عالم تقرری سے عدالتی فیصلے تک تنخواہ کا حق رکھنے کا قانونی جواز نہیں رکھتے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیمرا نے سابق چیئرمین پیمرا کو 25 کروڑ 3 لاکھ 66 ہزار روپے پیمرا کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین پیمرا ابصار عالم کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت کو شفاف اور قانونی طریقہ کار کے مطابق نئے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔

    تین سال قبل ابصار عالم کی تعیناتی کے خلاف ایڈووکیٹ اظہر صدیقی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سماعت کی۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین کی تعیناتی کے وقت پیمرا آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی کی گئی اور سیاسی بنیادوں پر ابصار عالم کی تقرری کی گئی۔

    ہائیکورٹ میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت چیئرمین پیمرا ابصار عالم کو نواز رہی ہے۔ ابصار عالم کو صدر اور وزیر اعظم سے زیادہ تنخواہ دی جا رہی ہے، ان کو ملنے والی 15 لاکھ روپے تنخواہ اور لاکھوں روپے کی مراعات قوانین اور قواعد وضوابط کے خلاف ہیں۔

    درخواست گزار کی جانب سے مزید کہا گیا کہ چییرمین پیمرا کے عہدے پر ابصار عالم کو نوازنے کے لیے ماسٹرز کے بجائے تعلیمی قابلیت کو گریجویشن کردیا گیا جو قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا ان کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے۔

    جسٹس شاہد کریم نے چند روز قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ چیئرمین پیمرا کو میرٹ سے ہٹ کر تعینات کیا گیا۔ چیئرمین پیمرا کی تعیناتی شفاف طریقے سے نہیں ہوئی۔اس سماعت کے بعد لاہورہائی کورٹ نے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

  • ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نور مقدم کیس کا مکمل چلان پیش ہونے کے بعد آج ایک اہم سماعت ہوئی۔ آج کی سماعت میں کیا اہم پیش رفت ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے جو مکمل چالان پیش کیا گیا ہے اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ لیکن پہلے اسلام آباد میں ہونے والی ایک اور درندگی کے بارے میں بات ہو گی،اب سے تقریبا دو ہفتے پہلے آٹھ نومبر کی صبح اسلام آباد کے میٹرو سٹیشن میں موجود زیر تعمیر واش روم سے پولیس کو ایک نامعلوم بچی کی لاش ملی تھی۔ اس بچی نے سفید لباس پہنا ہوا تھا اور اس کی گردن کے سامنے والی ہڈی فریکچر تھی اور چہرے پر نشانات تھے۔اسی روز اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر تلاش ورثا کے عنوان سے ایک اپیل پوسٹ کی جس میں شہریوں سے بچی کی شناخت میں مدد دینے کو کہا گیا۔ پہلے تو کئی دنوں تک اس پر کوئی ریسپانس نہ آیا لیکن پولیس نے دوبارہ مزید تفصیل کے ساتھ پوسٹ کی اور تصویر بھی ساتھ ڈالی گئی جس کے بعد اس کے چند رشتےداروں نے اس کو پہچان لیا انہوں نے پہلے تو اس کے والد سے رابطہ کیا لیکن والد نے اپنے رشتےداروں سے بھی بولا کہ وہ بچی اس کے پاس ہی ہے اور سو رہی ہے جس پر اس کے رشتے داروں نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اور جب پولیس نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ خود کو غمزدہ اور مظلوم دکھانے والا باپ ہی اصل میں وہ درندہ ہے جس نے اس معصوم بچی کو قتل کیا۔ ابھی یہ تفتیش ہونا تو باقی ہے کہ کہیں اس بچی کے ساتھ قتل سے پہلے زیادتی تو نہیں کی گئی۔ لیکن اس درندے باپ نے یہ کہتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے کہ وہ بچی اس پر بوجھ تھی اس لئے اس نے بچی کو مار کر اس سے جان چھڑا لی اور ظلم کی انتہا دیکھیں کہ قتل کے فورا بعد وہ ایک دفتر میں گیا اور وہاں جاکر کہا کہ میں اپنی بیٹی کو اس کے چچا اور دادی کے پاس چھوڑ آیا ہوں اس لئے مجھے نوکری دے دی جائے۔ اس طرح پولیس کو معلوم ہونے سے پہلے ہی وہ فتح جنگ میں کسی کے ہاں ڈرائیونگ کی نوکری بھی حاصل کر چکا تھا۔ اور اب جب اس درندے کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے تو وہاں یہ خود کو بچانے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔اب بات کرتے ہیں دوسرے درندے ظاہر جعفر کی۔۔ نور مقدم قتل کیس کی ایک اہم سماعت ہوئی۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو 29 سمتبر کو کیس کا ٹرائل آٹھ ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ آٹھ ہفتے آج پورے ہو گئے ہیں۔ ویسے تو ملزمان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے18 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا آٹھ ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم نامہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اب وہ آٹھ ہفتے تو پورے ہو گئے ہیں لیکن مکمل چالان بھی دو دن پہلے پیش ہوا ہے اور ابھی تک صرف گیارہ گواہان کے بیانات قلمبند کرائے جا چکے ہیں جن پر جرح مکمل کر لی گئی ہے لیکن مزید سات گواہان کی بیانات قلمبند کروانے باقی ہیں۔

    آج تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی کی درخواست پر سماعت جلد کی گئی جبکہ مدعی کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے اور ان کی جگہ بابر حیات کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ملزمان کے وکیل اکرم قریشی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کی فوٹیج وائرل ہونے سے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالت اس حوالے سے کوئی مناسب حکم نامہ جاری کرے۔ انہوں نے عدالت سے ایک بار پھر درخواست کی کہ عدالت اس کیس کو ان کیمرا رکھنے اور میڈیا کوریج پر مکمل پابندی کا حکم نامہ جاری کرے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ درندے اور اس کے خاندان کی یہ بہت پرانی خواہش ہے کہ کسی طرح میڈیا کو اس کیس سے دور رکھا جائے تاکہ عوام تک اس کیس کی کوئی اپ ڈیٹس نہ پہنچ سکیں انصاف کے لئے کوئی پبلک پریشر نہ ہو اور اس کے بعد جس طرح سے یہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے کیس کا رخ موڑنا چاہیں وہ موڑ سکیں۔ میڈیا کوریج سے روکنے کے لئے وکیل کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ ہمیں گالیاں پڑ رہی ہیں ہمارا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ہماری فیملیز مشکل میں ہیں حالانکہ ہم تو یہاں صرف قانون کے مطابق Factsپر بات کر رہے ہیں۔ تو میرا سوال ان وکلا سے یہ ہے کہ جب آپ کو آپکی فیس سے بھی کئی گنا زیادہ پیسے لگائے گئے اور آپ نے یہ کیس لڑنے کی حامی بھری تو اس وقت آپ نے کیوں نہیں سوچا کہ جس درندے اور اس کے خاندان کو آپDefendکرنے جا رہے ہیں ان کا مکروہ اور گھناونا عمل تو پہلے ہی پوری دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ جب آپ اتنی درندگی کرنے والے خاندان اور ان کے حمایتیوں کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر یہ سب تو ہو گا۔ اور ساتھ ہی وکیل اسد جمال نے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے متعلق دلائل دیے۔ وکیل نے کہا کہ ہمیں صرف کچھ منٹس کے کلپس ہی فراہم کیے گئے ہیں ملزمان کا حق ہے کہ مکمل فوٹیج فراہم کی جائے تاکہ انہیں دفاع کا موقع دیا جا سکے۔ حق تو ملزمان کا ضرور ہے لیکن عدالت پہلے ہی ان کو کچھ کلپس دے کر دیکھ چکی ہے کہ وہ انھوں نے کیسے وائرل کروائے تھے اس لئے اب ان کو مکمل فوٹیج دینا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ویسے تو یہ اسد جمال صاحب کو چاہیے کہ فوٹیج میں جو کچھ یہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کی تفصیلات یہ اپنی موکلہ عصمت آدم جی سے پوچھ لیں کیونکہ وہ تمام سی سی ٹی وی کیمرے عصمت آدم، درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر کے فون کے ساتھ لنک تھے۔ یہ دونوں خود نور مقدم پر ہونے والے ظلم کے تمام مناظر اپنے فونز پر دیکھتے رہے ہیں اور صرف دیکھتے ہی نہیں رہے یہ نور مقدم کی چیخ و پکار بھی سنتے رہے ہیں۔ اب اس فوٹیج کی آڈیو بھی سامنے آچکی ہے لیکن کیونکہ پیمرا کی جانب سے اجازت نہیں ہے تو وہ آپ کو سنوائی نہیں جا سکتی۔

    وکلا کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے وائرل ہونے اور مکمل فوٹیج حاصل کرنے کے حوالے سے دلائل کے بعد ان دونوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ جو کہ اگلی سماعت پر سنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کی سماعت میں استغاثہ کے گواہ محمد جابر جو کہ کمپیوٹر آپریٹر ہے اس کا بیان بھی قلمبند کیا گیا اور اس پر جرح بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ لیکن درندے ظاہر جعفر نے آج پھر عدالت میں وہی ڈرامہ کیا جو کہ وہ کئی بار کر چکا ہے آج کی سماعت تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہنے رہی اور ملزمان کو سماعت کے آخر پر کمرہ عدالت میں لایا گیا۔ آج کی سماعت پر پھر درندے ظاہر جعفر کی جانب سے ایک اور وکیل پیش ہوا جس کا نام سکندر ذولقرنین سلیم ہے جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں۔ ان کو درندے کی فیملی کی جانب سے ہی ہائر کیا گیا لیکن پچھلی سماعت کی طرح ان وکیل صاحب کے پاس بھی وکالت نامے پر درندے کے دستخط نہیں تھے۔ اور جب درندے کو عدالت میں لایا گیا اور اس سے دستخط کروانے کو کہا تو اس نے ایک بار پھر انکار کر دیا اور کہا کہ میں وکیل سے میٹنگ کرنے کے بعد اپنا وکیل مقرر کروں گا۔ اس کی فرمائشیں دیکھا کریں آپ کہ جیسے پتہ نہیں کونسا اعلی کارنامہ کرکے یہ موصوف بیٹھے ہیں حالانکہ اس نے جو کچھ کیا ہے اس کے بعد تو یہ انسان کہلانے کے بھی لاءق نہیں ہے۔اس کے علاوہ عصمت آدم جی کی درخواست پر کمرہ عدالت میں ہی ان کی درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر سے ملاقات کرائی گئی۔ اپنے وکیل کی موجودگی میں پہلے عصمت آدم جی نے درندے ظاہر جعفر سے کچھ دیر بات چیت کی اس کے بعد جب درندے کو کمرہ عدالت سے باہر لے جایا گیا۔ تو عصمت آدم جی نے کچھ دیر اپنے شوہر ذاکر جعفر سے بھی ملاقات کی۔اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پولیس کی جانب سے جو پورا چالان پیش کیا گیا اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی۔ ایک طرف تو پولیس نے اپنے آپ کو نیوٹرل ثابت کرنے کے لئے تمام کے تمام لوگوں کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا تھراپی ورکس کی جانب سے درخواست کے باوجود ان کو گواہان میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہاں تک تو سب بہت اچھا ہے۔ لیکن سوچیں کہ یہ پولیس درندے سے اس کے فون کا پاسورڈ نہیں لے سکی۔ کیا یہ پولیس کی نااہلی نہیں ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی نااہلی ایف آئی اے کی ہے جس نے صاف انکار کر دیا کہ ہم فون کا ڈیٹا نہیں نکال سکتے۔ یعنی اب جو مکمل چالان ہے اس میں درندے کے فون اور لیب ٹاپ کا ڈیٹا شامل ہی نہیں ہے سوچیں کہ اس ڈیٹا کے بغیر کیا گیا ٹرائل کیسے مکمل اور انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ویسے تو جج صاحب نے بھی پولیس والوں کو کہا تھا کہ اگر آپ سے نہیں ہوتا تو مارکیٹ سے کسی ہیکر کو پکڑ کر فون کھلوا لیں لیکن نہیں پولیس نے کوئی کوشش نہیں کی۔ اور اگر اسلام آباد پولیس اتنی ہی نا اہل ہے تو اس درندے کو پنجاب پولیس کے حوالے ہی کر دیں جب ان کے ہاتھ درندے کو لگیں گے تو اس کو خود ہی پاسورڈ یاد آجائے گا۔ لیکن خیر اب اس عدالتی کاروائی پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اب تو دیکھنا ہے کہ کب ٹرائل پورا ہو گا اور اس کا کیا نتیجہ سامنے آئے گا۔

  • کیا نئے پاکستان میں آزادی صحافت کی کوئی جگہ نہیں؟ صحافیوں کا احتجاج

    کیا نئے پاکستان میں آزادی صحافت کی کوئی جگہ نہیں؟ صحافیوں کا احتجاج

    صحافتی فنڈز کی بندش اور بول چینل پر بے جا پابندی کی وجہ سے ہزاروں صحافیوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ اور آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔ جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور دیگر صحافتی تنظیموں کا مشترکہ اعلامیہ –

    اسلام آباد میں جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی اور چیئرمین جناب ایس ۔اے۔ صہبائی ‘ صدر جناب مجیب شامی سرپرست اعلی جناب ڈاکٹر شاہد مسعود ‘ چیف آرگنائزر جناب مبشر لقمان سیکرٹری جنرل جناب قاسم منیر کی طرف سے ایک واضح پیغام کے مطابق آزادی صحافت پر حملے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں – جنرل سیکرٹری جرنلسٹس ایسوسی ایشن پاکستان قاسم منیر ‘ قاسم جمشید’ غلام نبی کشمیری ‘ سدھیر کیانی ‘ ابوبکر’ بابر خان ناصر خان ،واجد جدون دیدار اور کبری بی بی کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے دیگر صحافیوں نے مظاہرے میں شرکت کی اور آزادی صحافت پر حملے کی بھر پور مذمت کی-

    سیکرٹری جنرل قاسم منیر نے چیرمین جناب ایس۔ اے۔ صہبائی کا پیغام قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے ظالمانہ اقدامات اور میڈیا ورکرز کے فنڈز کی بندش اپنی ناکامی چھپانے کے لئے آزادی صحافت پر حملہ ہیں- حکومتی گٹھ جوڑ اور پیمرا کی ملی بھگت سے سچ کی آواز کو دبانے کی نا ممکن کوشش کی گئی- بول نیوز کی جبری بندش اور پانچ ہزار ملازمین کا بے روزگار ہونے کا امکان آزادی صحافت پر سنگین حملہ ہے- جس کے پیچھے حکومتی ناقص پالیسی اور پیمرا چیئرمین کا گٹھ جوڑ شامل ہے – حقائق کو دبانے کے لئے ہر دور میں آزادی صحافت پر حملے کیے گئے ہیں -آزادی صحافت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا قابل قبول نہیں ہے –

    حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے – حکومت مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہ ملک کے چوتھے ستون کے ساتھ ناروا برتاؤ کر رہی ہے- آج اسلام آباد اور راولپنڈی سے بڑی تعداد میں پیمرا آفس کے باہر صحافیوں نے احتجاج کیا – جس میں انہوں نے واضح موقف اختیار کیا آزادی صحافت پر حملے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی بے روزگاری کے خلاف ہم خون کے آخری قطرے تک پر امن احتجاج کرتے رہیں گے – حقائق اور سچ کی آواز کو کسی بھی صورت دبنے نہیں دیں گے
    موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اگر مصلحت سے کام نہ لیا تو اپنی ہی ہارس ٹریڈنگ کے جال میں پھنس کر حکومتی کرسی سے محروم ہو جائیں گے۔ موجودہ حکومت بڑے بحران کے ساتھ ساتھ بڑے مسائل کا شکار ہوجائے گی – حکومت کو اپنی ساخت بہتر بنانے کے لئے فوری طور پر احسن اقدامات کرنے ہوں گے – تاکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے-