Baaghi TV

Tag: پیٹرولیم مصنوعات

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    اسلام آباد: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں آج خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، اوگرا عالمی مارکیٹ کے تناسب سے نئی قیمتوں کا تعین آج کرے گاعالمی مارکیٹ کے تناسب سے پاکستان میں آج قیمتوں میں بڑی کمی متوقع ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ 60 روپے تک اضافہ ہوا، جس میں پیٹرول 24 اور ڈیزل 60 روپے سے زائد مہنگا کیا گیا،حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کو قرار دیا گیا تھا۔

    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے مجوزہ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے کاروباری منصوبہ بندی، اسٹاک مینجمنٹ اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ضرورت ہے۔

  • حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 27 جولائی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 27 جولائی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے حالیہ دنوں میں مسلسل اضافوں کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر پر فروخت ہوگا، نئی قیمتیں 27 جولائی تک نافذ العمل رہیں گی، جس کے بعد آئندہ جائزے کی روشنی میں نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    آئندہ ہفتے کے لیے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان تازہ کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئندہ 15 روزہ جائزے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 18 جولائی سے 40 روپے فی لیٹر تک کا بڑا اضافہ متوقع ہے جب کہ پیٹرول کی قیمت میں بھی تقریباً 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے علاوہ ازیں نیشنل کمیٹی آن مانیٹرنگ اینڈ کوآرڈینیشن نے بعض بدعنوان مارکیٹ عناصر کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اوگرا کو متعلقہ اور ضروری کارروائیاں کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی خبروں کو مسترد کردیا نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کا جامع جائزہ لیا گیا اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، طلب پوری کرنے کے لیے اسٹاک کافی ہے جبکہ این سی ایم سی نے اوگرا اور صوبائی حکومتوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کیخلاف مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل قیمت میں 7 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے جس کے بعد امریکی خام تیل 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے برطانوی برینٹ خام تیل 82 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے متحدہ عرب امارات کا مربن تیل 77 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے کھل چکی ہے جس کے بعد جہازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے، ایران امریکا معاہدے کے بعد اب پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت بھی کم ہونے کا امکان ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں حتمی فیصلہ حکومت کرے گی، امید ہے عوام کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔

    عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل 93 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے، ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے، ماہرین نے اس اضافے کی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان متوقع ڈیل کا نہ ہونا قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر بھی پڑتا ہے، پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے، سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.66 سے بڑھ کر 3.95 درہم فی لیٹر کر دی گئی ہے، اسپیشل 95 پیٹرول 3.55 سے بڑھ کر اب 3.83 درہم فی لیٹر کا ہو گیا ہے-

  • ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں،وزیراعظم

    ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور حکومت عوامی ریلیف کے اقدامات کر رہی ہے،مشکل کی اس گھڑی میں کسی صورت عوام کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے-

    وزیراعظم کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے نفاذ پر پیشرفت کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام شریک ہوئے انٹیلی جینس بیورو نے حکومتی کفایت شعاری اور سادگی اقدامات کے نفاذ پر رپورٹ پیش کی اجلاس کو سبسڈی فراہمی پر پیشرفت کے ساتھ ملک میں ایندھن کے ذخائر اور کھپت پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ منی بس و ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ اور مال بردار گاڑیوں کو 80 ہزار اور ڈیلیوری وینوں کو 35 ہزار روپے سبسڈی دی جا رہی ہےاشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جا رہی ہے، نظام میں شفافیت کیلئے یہ رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جارہی ہے بلوچستان حکومت نے قومی پیکیج کے لیے طے شدہ رقم جمع کرادی ہے جو لائق تحسین ہے، امید ہے باقی صوبے بھی اس پیکیج کے لیے جلد از جلد طے شدہ رقوم جمع کرا دیں گے-

    ایران کے خلیجی ممالک پر حملے،متعدد اہم تنصیبات میں آگ لگ گئی

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا عوامی ریلیف پیکیج دیا گیا، مشکل کی اس گھڑی میں کسی صورت عوام کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، پیٹرول لیوی میں فی الفور 80 روپے فی لیٹر کی کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا گیا جبکہ پاکستان ریلوے 6 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے، مسافر ٹرینوں اور مال گاڑیوں کے کرایوں میں کسی بھی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا، ٹول ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافہ بھی واپس لے لیا گیا ہے، مشکل وقت میں جس قدر ممکن ہے، عوامی ریلیف کے اقدامات کر رہے ہیں، ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔

    اتحاد ایئرویز کا کرایوں میں 50 فیصد کمی کا اعلان

  • سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

    سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے 2022 میں عدم اعتماد کے وقت پیٹرول کی قیمتوں پر سیاست کی تھی، جس کے نتیجے میں ملک کو نقصان اٹھانا پڑا۔

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ایک ناگزیر قدم تھا اور اس سے عوام پر بڑا بوجھ پڑا، تاہم وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہاکہ جب قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، تب عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمت 150 ڈالر فی بیریل تھی، اور ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، اس لیے پیٹرول کی قیمتوں میں شاید اب زیادہ ردوبدل نہ ہو، پاکستان اپنی توانائی کی 90 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے اور ملک نے آئی ایم ایف کے ساتھ شراکت داری اور ذمہ داری کے ساتھ معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔

    Talks with Iran will be held on specific terms, Trump says

    انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی کرے گی وفاقی حکومت فیصلے کرنے سے قبل صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرتی ہے اور اس بار بھی تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا، ڈیزل کی قیمت میں 80 روپے کا اضافہ ہوا، لیکن لیوی کم کرکے قیمت میں اضافے کو محدود کیا گیا۔

    Prime Minister directs to make enforcement more effective to curb tax evasion

    انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں تیل کی ریفائنری خلیجی ممالک سے آنے والے تیل کے لیے ہے اور روسی تیل کمرشل طور پر کمپنی کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر عوام کے لیے زیادہ مؤثر نہیں سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،اگر پیٹرول کی قیمت میں اضا فہ نہ کیا جاتا تو متبادل راستہ کیا ہوتا؟ انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی نے 2022 میں عدم اعتماد کے وقت پیٹرول کی قیمتوں پر سیاست کی تھی، جس کے نتیجے میں ملک کو نقصان اٹھانا پڑا۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، یونیورسٹیاں بند کرنےکا اعلان

    پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، یونیورسٹیاں بند کرنےکا اعلان

    ڈھاکا: بنگلادیش نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث یونیورسٹیاں بند کرنےکا اعلان کردیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بنگلادیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں عید کی تعطیلات وقت سے پہلے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آج سے ملک بھر میں تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیاں عید تک بند رہیں گی، یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے تاکہ بجلی اور ایندھن کی بچت کی جاسکے۔

    حکام نے کہا کہ اس سے نہ صرف بجلی کی کھپت کم ہوگی بلکہ ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا جس سے ایندھن کے ضیاع میں کمی آئے گی، یونیورسٹی کیمپس، رہائشی ہاسٹلز، کلاس رومز، لیبارٹریز اور ائیر کنڈیشننگ کے باعث بڑی مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں، اس لیے قبل از وقت تعطیلات سے ملک بجلی کے نظام پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    آئی ٹی کی تربیت دے کر بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے،ملک وقاص سعید

    واضح رہے کہ بنگلا دیش میں رمضان میں سرکاری اور نجی اسکول پہلے ہی بند ہیں جس کے بعد اب یونیورسٹیاں بھی عید تک بند رہیں گی۔

    ایران میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد پاکستان کا فضائی معیار متاثر ہونے کا خدشہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، یونیورسٹیاں بند کرنےکا اعلان

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شہریوں کی سخت تشویش

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شہریوں کی سخت تشویش

    قصور
    پیٹرول مہنگا ہونے پر قصور میں ٹرانسپورٹ کرایوں اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد قصور میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں
    حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت 266 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 321 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے جس کے بعد شہریوں اور ٹرانسپورٹرز نے تشویش کا اظہار کیا ہے
    مقامی ٹرانسپورٹرز کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کی صورت میں رکشہ، ویگن اور بسوں کے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں پر پڑتا ہے
    دکانداروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے سے سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں
    ماہرین اور شہری حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے غیر ضروری شاہ خرچیاں کم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے

  • ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی  قلت کا خدشہ نہیں،محمد اورنگزیب

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ نہیں،محمد اورنگزیب

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جہاں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے،مارچ کے اختتام تک پیٹرولیم ذخائر دستیاب ہیں، سپلائی کو منظم رکھا جائے گا اور توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    آپریشن غضب للحق : 481 طالبان ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ، 35 پر قبضہ کر لیا گیا

    ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کا 28 دن کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ خام تیل آئندہ 10 روز اور ایل پی جی 15 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب ہے،قطر سے ایل این جی کی درآمد تعطل کا شکار ہے تاہم مقامی گیس کے ذریعے طلب پوری کر لی جائے گی اور متبادل توانائی ذرائع پر بھی غور جاری ہے۔

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    انہوں نے مزید کہاکہ اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی اختیار کی جائے گی آئی ایم ایف مشن کی روانگی کو انہوں نے ادارہ جاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ فنڈ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں،پیٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کی ضرورت نہیں، بہتر نظم و نسق کے ذریعے صورتحال کو سنبھالا جائے گا۔