Baaghi TV

Tag: پیٹرولیم مصنوعات

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا پٹرول کی قیمت میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ


    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 3،3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پٹرول کی نئی قیمت 147 روپے 83 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی –

    مری میں سیاحوں کے داخلے کی مشروط اجازت

    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 144 روپے 62 پیسے ہو گئی ہے ، مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی تین روپے جب کہ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 33 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 116.48 جب کہ لائٹ ڈیزل کی قیمت 114.54 روپے ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گا۔

    ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کا بیان بھی قابل تسلیم گواہی قراردیا

    دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی پر ردعمل سامنے آیا ہے چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئےحکومت سے نجات ضروری ہےعوام 27 فروری کو اسلام آباد کیلئے نکلیں گے اور عمران خان سے حساب لیں گےپیپلزپارٹی کا لانگ مارچ عوام کو اسی مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے ہے-

    بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پیٹرول مہنگا، بجلی مہنگی، گیس مہنگی، عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے،پاکستان کے فیصلے بیرون ملک میں ہورہے ہیں عمران خان نے ملک آئی ایم ایف کو گروی رکھ دیا ہے-

    آئمہ بیگ ٹیکس نادہندہ،گاڑی ضبط کرنے کا نوٹس جاری

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عوام پر پڑیں گے،پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی جیب پر ڈاکا ہے،بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کا معاشی قتل ہے-

    صدر مملکت نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی

    لاہور:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 15 دسمبر تک کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پٹرول کی قیمت 145 روپے 82 پیسے فی لٹر پر برقرار رہے گی۔ ڈیزل کی قیمت 142 روپے62 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت116 روپے 53 پیسے فی لٹر برقرار رہے گی۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 114 روپے 7 پیسے فی لٹر کی سطح پر برقرار رہے گی۔

     

     

     

    اس سے قبل اوگرا نے دسمبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 14 روپے 31 پیسے فی کلو گرام کمی کی گئی ہے، 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 168 روپے 90 پیسے سستا ہوگیا ہے۔ ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم دسمبر 2021ء کیلئے ہے۔

     

     

    ایل پی جی کی ایک کلوگرام کی نئی قیمت 216 روپے 89 پیسے مقرر کر دی گئی ہے، گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2390 روپے 44 پیسے مقرر کی گئی ہے۔یاد رہے کہ نومبر میں ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 2559 روپے 35 پیسے کا تھا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دنیا نیوز کے پروگرام ’دنیا کامران خان کے ساتھ‘ کا ایک ویڈیو کلپ ری ٹویٹ کیا تھا۔

    ٹویٹر پر شیئر کیے گئے کلپ کے کیپشن میں مزمل اسلم نے لکھا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر 72.91ڈالرفی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

    مزمل اسلم نے لکھا کہ اللہ پاکستان پر مہربان ہے، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر 15 دسمبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کےتعین میں نظر آئےگا۔ یقینی طور تیل کی قیمتوں میں کمی درآمدات اور آئندہ قیمتوں پر اثر انداز ہو گی۔

     

  • پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھنے کا انتظار،سیل روکے رکھی

    پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھنے کا انتظار،سیل روکے رکھی

    قصور
    پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھنے کا انتظار،قصور کے بیشتر پیٹرول پمپوں پر کل سارا دن پیٹرول کی سیل بن رکھی گئی،عوام بائیکس کو دھکے لگا کر لیجاتے رہے

    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں بیشتر پیٹرول پمپوں پر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر پیٹرول فروخت نا کیا گیا تاکہ سٹاک شدہ پیٹرول کو مہنگے داموں فروخت کرکے خوب نفع لیا جائے
    پیٹرول کی عارضی قلت سے لوگ اپنی بائیکس کو دھکا لگا کر لیجاتے رہے مگر لالچ کے مارے بیشتر پیٹرول پمپ مالکان کی غیرت نا جاگی
    اس ساری صورتحال پر ضلعی انتظامیہ بھی حسب سابق کی طرح خاموش ہی رہی جبکہ شہری بیچارے خوب ذلیل ہوتے رہے
    اب پیٹرولیم مصنوعات کی نئی بڑھی ہوئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی سیل دوبارہ شروع کر دی گئی ہے
    شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ گورنمنٹ میں جس قدر بلیک مارکیٹنگ کی جارہی ہے ماضی میں اس قدر نا تھی اور گورنمنٹ بھی ان بلیک میلروں کو ہاتھ ڈالنے سے قاصر ہے جس کے پیش نظر یوں لگتا ہے کی سارا کچھ حکومتی سرپرستی میں ہو رہا ہے اور یہی کارکردگی پی ٹی آئی قیادت کو لے ڈوبے گی

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قلت،  ذخیرہ اندوزی  اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام  ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ذخیرہ اندوزی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے بتایا کہ کرونا وباء کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ڈیمانڈ میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔
    اراکین کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ہر دور میں کسی نہ کسی مسئلے سے دو چار رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ جہاں پیٹرول کی کمی ہو وہاں اسے نہ صرف پورا کیا جائے بلکہ جو عناصر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہوں اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
    جبکہ ٹاپ کی 12کمپنیز جو اس میگا کرپشن میں شامل تھیں ان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا اور جن لوگوں نے باہر کے ممالک میں بیٹھ کر پیسہ لگاہا اور مصنوعی قلت پیدا کی تا کہ وہ اپنی جیبیں بھر سکیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔
    کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔

  • مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    نئی حکومت کے آتے ہی تجاوزات آپریشن کی آڑ میں ن لیگ پیپلز پارٹی کے بااثر شخصیات سے قبضے واگزار کرانے کے لیے اور اپنی دلی تسکین کے لیے پورے ملک میں تباہی مچا دی گئی مگر اس کا حاصل کیا ہوا کیا ان واگزار کروائی گئی لاکھوں ایکڑ زمین سے کوئی فائدہ مل رہا ہے جبکہ اس کو قانونی طریقے سے بولی کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے لیز پر دے کر اچھی خاصی انکم حاصل کی جاسکتی تھی جبکہ دوسری طرف وہ بے روزگار طبقہ بھی کام میں لگ سکتا تھا جو آج اسی تجاوزات اور واگزار آپریشن میں عام مزدور طبقہ ملازم طبقہ متاثر ہوا ہے۔

    لیکن اس آپریشن سے الٹا لوگ بے روزگار کاروبار تباہ املاک تباہ زمینیں واگزار مگر فائدہ کچھ نا ہوا ہے البتہ کرائم روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک میں لوگ پھر یا تو مانگ کر کھائیں گے یا چھین کر اور روز روز بھی کون مانگنے پر دیتا ہے۔۔

    اگر وہی سرکاری املاک یا زمینوں یا پتھاروں پر سال چھے ماہ کے لیے ٹیکس لگا دیا جاتا تو اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا جاسکتا تھا اور ایک سال یا چھے ماہ کا نوٹس دے کر ختم بھی کیا کرایا جاسکتاتھا جس سے نقصان بھی نا ہوتا اور لوگ اپنا کوئی متبادل بھی بنا لیتے یا شفٹ کرلیتے اپنے کاروبار دکانیں وغیرہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ملکی پالیسی یا قانون بنایا جاتا ہے تو پہلے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ لاگو کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں تو قانون اتنے بنا دیے کہ اب اگر لاگو ہوجائیں تو بندہ ایک دن بھی جی نہیں سکتا کسی نا کسی قانون میں دھر لیا جائے گا اور جو قانون بنتا ہے دوسرے دن لاگو اور عمل درآمد شروع جس سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں

    جبکہ دوسری طرف عوام کو این ٹی این کے چکر میں ڈال کر ذلیل و خوار کر دیا گیا۔ آج نیب اور ایف بی آر کے خوف سے پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا اور آج کی ایک اور بری خبر بھی آگئی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے

    حکومت نے عوام پر آج یکم اگست 2019 کو ایک اور بم بھی گرادیا ہے۔‏وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری منظور کر لی ‏اوگرا کی سفارشات پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ ‏پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ۔ ‏پیٹرول کی نئی قیمت 117.83 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 132.47 روپے۔ مقرر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

    آج اپوزیشن کی کی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے مہنگائی کرنے کی ڈیل کی خبریں بھی سچ ہونے لگیں ہیں جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے ہر آنےوالا دن متوسط اور غریب لوگوں پر بم بن کر گر رہا ہے لوگوں میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے

    لوگ ویسے تو ہر دور میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں جبکہ جو چیز پاکستان میں ان کو 100 روپے کی ملتی ہے وہی چیز دوبئی میں 500 روپے کی بڑی خوشی کے ساتھ خریدتے نظر آتے ہیں تو اس مہنگائی کا رونا رونے کی اصل وجہ لوگوں کو آج تک شائد سمجھ نہیں آسکی ہے۔ اصل میں مہنگائی کا رونا انسان اس وقت روتا ہے جب اس کے پاس آمدن ۔ انکم ۔ آمدنی ۔ کاروبار ۔ روزگار ۔ ذرائع آمدن نہیں ہوتے اور ضروری خرچے ہی پورے نہیں ہوتے تو وہ مہنگائی مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں اگر ہر انسان کی بنیادی ضروریات اور خرچے بھی پورے نا ہوں تو وہ بے چارے پریشانی کے عالم میں بس مہنگائی مہنگائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصل بات کی ان کو سمجھ نہیں آتی ہے۔
    یہی صورتحال آجکل کچھ پاکستان اور اس کی عوام کی ہے جو آپ کو بھٹو دور میں بھی شائد اگر کچھ یاد کرنے پر مہنگائی کا رونا روتی نظر آئی ہوگی تو کبھی بے نظیر بھٹو تو کبھی نوازشریف تو کبھی آصف زرداری تو کبھی عمران خان کے دور میں بھی مہنگائی مہنگائی کا رونا روتی نظر آتی ہے

    ضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت پاکستان ایسے حالات اور پالیسیاں مرتب کرے جس سے ملک میں خوش حالی کا دور دورہ ہو لوگ اپنے اپنے کاموں روزگار کاروبار میں مصروف ترین زندگی گزار رہے ہوں

    یہ محاظ آرائی کی موجودہ پالیسیاں عمران خان اور حکومت کا طریقہ عوام میں اور ملک پاکستان میں افراتفری پریشانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہے۔ عوام کو کوئی پرواہ نہیں ہے کسی بھی کرپٹ یا کسی بھی دہشت گرد کوچاہے کسی کو بھی پھانسی لگا دیں مگر خدارا عوام کو اس پریشانی کے عالم سے نکالیے اب آپ کی لچھے دار تقریریں بھی اچھی نہیں لگتی ہیں اب صرف یہی بات بار بار کر کر کے آپ اچھے نہیں بن سکتے کہ فلاں برا تھا فلاں غلط تھا کچھ کر کے آپ کو اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے جو تاحال عملی طور پر کچھ نا ہوسکا ہے البتہ باتیں بہت بڑی بڑی ضرور ہیں کیونکہ عمران خان صاحب اب تک آپ نے پاکستانی عوام کو کچھ نا دیا ہے البتہ چھینا ضرور ہے اور آپ کے اداروں میں بھی عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ان کے کام میرٹ انصاف اور وقت ضائع کیے بغیر نہیں ہو رہے ہیں آج بھی وہی تھانہ کلچر وہی افسر شاہی کلچر وہی کرپشن کلچر وہی لوڈ شیڈنگ وہی سرکاری اداروں میں زلالت اور خواری ہے آج بھی تھانے میں ایم پی اے ایم این اے کی مرضی کے بغیر پولیس والے ایک قدم نہیں اٹھاتے ہیں یا پھر قائد اعظم کی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ہے۔ بس صرف رپورٹیں سب اوکے اوکے اوکے کی ضرور کی جا رہی ہوں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام آج جتنی مشکلات پریشانیوں کا شکار ہے لگتا یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شائد اتنی نا تھی یا شائد ہم نہیں جانتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی 40 سالا زندگی میں اتنے پریشان لوگ نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔۔

    *امید رکھتے ہیں حکومت و حکمرانوں کی آئندہ پالیسیوں کا محور عام آدمی ہوگا اور اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے زبانی سے زیادہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا