Baaghi TV

Tag: پیٹرول

  • ایک لیٹر پٹرول پر حکومت کتنا لیوی ٹیکس لے رہی ہے؟

    ایک لیٹر پٹرول پر حکومت کتنا لیوی ٹیکس لے رہی ہے؟

    اسلام آباد: ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی مالی سال کی پہلی ششماہی میں سب سے زیادہ لیوی کی وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق جولائی تا دسمبر 2024 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصولی 549 ارب 41کروڑ روپے سے زائد رہی جس سے رواں مالی سال ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ لیوی کی وصولی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں ،وصولی کا ہدف 1281ارب روپے مقرر کیا گیا ہے اور فی لیٹر پیٹرول پر60 روپے لیوی وصول کی جارہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں سالانہ بنیاد پر پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں 76 ارب 64 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے،جولائی تا دسمبر 2024 میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 549 ارب41کروڑ وصول کیے گئے جب کہ گزشتہ مالی سال جولائی تا دسمبر میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی472 ارب 77کروڑ روپے تھی۔

    کریم خان امریکی صدر کی پابندیوں کا شکار ہونیوالے پہلے عہدیدار ہوں گے

    پاک فوج کے آفیسر نے زندہ درگور کی گئی لاوارث بچی کو گود لیکر مثال قائم کردی

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش و برفباری کی پیشگوئی

  • نئے سال پر پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ

    نئے سال پر پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ

    حکومت نے نئے سال پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا۔نوٹی فکیشن کے مطابق فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 2 روپے 96 پیسے بڑھا کر 258 روپے 34 پیسے مقرر کر دی گئی۔نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول 56 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 252 روپے66 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔قیمتوں میں اضافے کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا۔واضح رہے کہ پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکل میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہ راست اثر متوسط اور نچلے طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔تاہم ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر شعبہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلتا ہے، اس کی قیمت کو افراط زر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ یعنی ٹرینوں اور زرعی انجنوں جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے اور خاص طور پر سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔اس وقت حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر تقریباً 76 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔

    ننکانہ:ڈپٹی کمشنر کا شدید دھند میں بنیادی مراکز صحت کا اچانک دورہ، عملے کی کارکردگی کو سراہا

    ننکانہ : ریسکیو 1122 کا اسپورٹس گالا، دلچسپ مقابلے اور انعامات کی تقسیم

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی: پیٹرولیم ڈویژن کےذرائع کے مطابق اگلے دو روز میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، اوگرا قیمتوں کے حوالے سے سمری ارسال کرے گا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 4 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہیں۔

    ڈیزل کی قیمت میں بھی 4 روپے فی لیٹر سے زائد اضافے کا امکان ہے پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق پٹرول کی قیمت برقرار بھی رکھی جاسکتی ہیں، مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان 31 دسمبر کو ہوگا، وزیر خزانہ وزیر اعظم کی مشاورت سے نئی قیمتوں کا اعلان کریں گے۔

    زونگ موبائل نیٹ ورک کی درخواست ناقابلِ سماعت ہونے کی بنیاد پر خارج

    حکومتی اتحاد ٹوٹ گیا،جرمن صدر نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی

    اسرائیل کی جانب سے شام پر نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا-

    باٹی وی : حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 72 پیسے اضافہ کر دیا ، پیٹرول کی نئی قیمت 252 روپے 10 پیسے ہوگئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 29 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 12 بجے سے ہو گیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 روز کیلئے کیا گیا ہے۔

  • پیٹرول  کی قیمت میں کمی کا امکان

    پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکان

    اسلام آباد:عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق یکم نومبر سے اگلے 15 روز کے لیے 2 سے 3 روپے فی لیٹر تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے،جبکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اوسط قیمتیں تقریباً 1.5 ڈالر اور 2.5 ڈالر فی بیرل کم ہوئی ہیں موجودہ ٹیکس ریٹس اور شرح تبادلہ کے حساب سے پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں 3 روپے اور 2 روپے 30 پیسے فی لیٹر کی تنزلی ہو سکتی ہے۔

    عالمی منڈی میں پیٹرول کی اوسط فی بیرل قیمت 77.5 ڈالر کے مقابلے میں 76 ڈالر پر آگئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی بیرل نرخ 86.5 ڈالر سے کم ہو کر 84 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کیے گئے موجودہ 15 روز کے دوران پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر امپورٹ پریمیم 8.7 ڈالر اور 5 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا

    دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی کمی آگئی،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 5 فیصد تک گرگئی ہیں اور برطانوی خام تیل برینٹ آئل 73 ڈالرز فی بیرل پر فروخت ہورہا ہے امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 68 ڈالرز فی بیرل کی سطح پر موجود ہے جبکہ عالمی گیس کی قیمت میں ساڑھے 3 فیصد کمی ہوئی ہے گیس 2 ڈالرز 47 سینٹس فی ایم ایم بی ٹی یو میں فروخت ہو رہی ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان ،انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر

  • پیٹرول کی قیمت میں اضافے امکان

    پیٹرول کی قیمت میں اضافے امکان

    اسلام آباد: پیٹرول کی قیمت میں اضافے امکان ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 0.11 روپے فی لیٹر کا معمولی سا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔تاہم، ڈیزل کی قیمت میں 2.11 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے لیکن حکومت کی جانب سے یکم اکتوبر 2024 سے آئندہ 15 روز تک کیلئے پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ کیے جانے کا زیادہ امکان ہے، حکومت 16اکتوبر 2024 سے شروع ہونے والے اگلے 15 دن میں معمولی ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔

  • پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان

    پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان

    لاہور: ملک میں پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ملک میں پیٹرول 12 روپے لیٹر سستا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، انڈسٹری ذرائع کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 12 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت 8 روپے تک کم ہونے کا تخمینہ ہے،حتمی قیمت کا تعین 12 تا 14 ستمبر کی عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے مطابق ہونے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں 31 اگست کو وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی تھی نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1.86 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی تھی، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.32 روپے جب کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 2.15 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی ،اس کے علاوہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2.97 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔

  • پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں  اضافے کا امکان

    پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں اضافے کا امکان

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 7 روپے کی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں حکومت کی جانب سے اضافے کا امکان ہے اگر پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 7 روپے اضافے ہوا تو قیمت بڑھ کر 265.16 روپے ہوجائے گی،ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے 50 پیسے اضافے کا امکان ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 277.89 ہوجائے گی، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی ممکنہ وجہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں یہ نئی ایڈجسٹمنٹ تجویز کی تھی اس سے قبل یہ خبریں بھی آئی تھیں کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کر سکتی ہے جو کہ فی الحال صفر فیصد ہے۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    روسی آرمی چیف، سابق وزیر دفاع کی گرفتاری کے عالمی وارنٹ جاری

    بنوں : صوبائی وزیر کے اسکواڈ کی گاڑی پر بم حملہ، 3 راہ گیر زخمی

  • حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا فیصلہ

    حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا فیصلہ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی :وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو پیٹرول کی قیمت میں 15روپے 40 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 90 پیسے کمی کی ہدایت کردی، کہا کہ موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے اور معاشی استحکام آیا ہے،وزارت خزانہ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا، پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا،

    عالمی مارکیٹ میں مندی کے رجحان کے سبب ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 31 مئی کو تقریباً 6 روپے 50 پیسے سے 7 روپے 50 پیسے تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا گزشتہ 15 دنوں کے دوران عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بالترتیب 3.25 ڈالر اور 2.10 ڈالر فی بیرل کم ہوئی ہے، جبکہ اس سے پچھلے 15 دنوں میں 8.7 ڈالر اور 4.3 ڈالر فی بیرل کی تنزلی ہوئی تھی اور اسی کمی کو دیکھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے 7 روپے تک کی کمی کا امکان تھا۔

    پاک چین دوستی وقت کی کسوٹی پر کھڑی رہی ہے،چین

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے سے زائد کی کمی کی گئی ہےاس سے قبل 15 مئی کو حکومت نے پیٹرول 15 روپے 39 پیسے اور ڈیزل 7 روپے 88 پیسے سستا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    جرمنی:اسلام مخالف سیاسی رہنما پر چاقو سے حملہ کرنیوالے شخص کو پولیس نے …

  • ڈبہ پیٹرول پمپس کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، چیئرمین اوگرا

    ڈبہ پیٹرول پمپس کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، چیئرمین اوگرا

    اسلام آباد: چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا کہنا ہے کہ اس وقت ایل پی جی کا ملکی انرجی مکس میں حصہ 1.3 فیصد ہے جو آئندہ 5 سالوں میں 5 فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔

    باغی ٹی وی :سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ آئل اینڈ گیس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اوگرا مسرور خان کا کہنا تھا اوگرا کا گیس ٹیرف بہت ماہرانہ طریقے سے طے کیا جاتا ہے وائٹ آئل پائپ لائن کا استعمال صرف 40 فیصد ہے، ملک میں 3 ہزار ڈبہ پیٹرول اسٹیشن چل رہے ہیں، ڈبہ پیٹرول پمپس کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان میں آئندہ 5 سالوں میں ایل پی جی کے استعمال میں زبرد ست اضافے کا امکان ہے، ایل پی جی کی اسٹوریج، ٹرانسپورٹیشن اور معیاری سلنڈر میں سرمایہ کار ی کے وسیع مواقع ہیں، ملک میں 200 کلوگرام کے کمرشل سلنڈر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا توانائی کے بحران کا سب کو علم ہے مگر بروقت فیصلے نہیں کیے جاتے، مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ایل پی جی کا استعمال اس لیے بڑھ رہا ہے کہ گیس ختم ہو رہی ہے، پاکستان میں ایک پیٹرول پمپ لگانے میں 3 سال لگ جاتے ہیں، ریفائنری پالیسی 8 سال سے لٹکی ہوئی ہےمسائل کا سب کو علم ہے اب فیصلوں کا وقت ہے، سرکاری افسران سرمایہ کاروں پراعتماد نہیں رکھتے، وہ ان کو پیسہ بنانے والے سمجھتے ہیں، توانائی کے شعبے کی ڈی ریگولیشن کی ضرورت ہے، گیس کی قیمت یکساں ہونی چاہیے۔