Baaghi TV

Tag: پیٹرول

  • آٹا اور پیٹرول نایاب شہری سخت پریشان

    آٹا اور پیٹرول نایاب شہری سخت پریشان

    قصور
    پھول نگر میں آٹا اور پیٹرول نایاب ہو گیا شہری پریشان

    تفصیلات کے مطابق پھول نگر شہر اور قرب وجوار میں پٹرول پمپس پر پٹرول کی قلت تاحال برقرار ہے چند پٹرول پمپ صارف کی مرضی کے مطابق پٹرول مہیا کررہے ہیں جبکہ بیشتر پٹرول پمپس موٹرسائیکل سواروں کو فی کس 80 سے 100 روپے اور کار سواروں کو 500 سے 1000 روپے فی گاڑی پٹرول مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ مقررہ حکومتی نرخوں سے زائد رقم بھی وصول کررہے ہیں اسی طرح آٹا بھی تاحال مارکیٹ سے غائب ہے دوکانداروں نے انتظامیہ کے چھاپوں جرمانوں اور مقدمات کے اندراج کے خوف سے آٹا بیچنا ہی چھوڑ دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ساڑھے نو سو روپے تھیلا خرید کر 820 روپے میں کیونکر بیچا جا سکتا ہے جبکہ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز 1800روپے فی من میں بھی گندم دستیاب نہیں تھی اس بھاو گندم خرید کر پراسیس کرنے کے بعد حکومتی نرخوں پر مارکیٹ میں فراہم کرنا کسی صورت ممکن ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ بیشتر ملیں نقصان کی وجہ سے بند پڑی ہیں دوکاندار بیچاروں کا تو کوئی قصور ہی نہیں گندم کے موجودہ نرخون پر دوکاندار کسی صورت 1000 روپے سے کم 20 کلو کا تھیلہ فروخت نہیں کرسکتا جبکہ حکومت کی طرف سے 20 کلو تھیلے کی قیمت 820 روپے مقرر کی گئی ہے انتظامی اہلکار دوکانداروں کو سرکاری نرخوں پر آٹا بیچنے پر مجبور کرتے ہیں حکم عدولی پر انھیں بھاری جرمانوں سمیت مقدمات اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس بناء پر دوکانداروں کی اکثریٹ آٹا ہی نہیں منگوا رہی جس پر لوگ چکیوں سے چکی مالکان کے من مانے نرخوں پر آٹا خریدنے پر مجبور ہیں

  • پیٹرول کے باعث کرونا کا پھیلاؤ

    پیٹرول کے باعث کرونا کا پھیلاؤ

    قصور
    پیٹرول تاحال نایاب حکومت بحالی کروانے میں ناکام منی پیٹرول پمپوں پر ڈاکو راج
    تفصیلات کے مطابق یکم جون سے قصور میں بھی پورے ملک کی طرح پیٹرول نایاب ہے مگر افسوس کے گلی محلوں میں موجود منی پیٹرول پمپوں پر دستیاب ہے جو کہ اپنی مرضی کے ریٹوں پر فروخت کر رہے ہیں
    قصور سے رائیونڈ تک قصور بائی پاس پر واقع ٹوٹل کمپنی کے پیٹرول پمپ کے علاوہ کسی پمپ کے پاس پیٹرول نہیں مگر جہاں موجود ہے وہاں باری گھنٹوں بعد ہی آتی ہے اور بہت زیادہ رش کے باعث ایس او پیز کی دھجیاں بکھر رہی ہیں جس سے کرونا کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی ہے کیونکہ اب تک قصور شہر میں بہت سے کرونا مریض کنفرم ہو چکے ہیں لہذہ گورنمنٹ جلد سے جلد پیٹرول کی سپلائی بحال کروائے ورنہ کرونا کے پھیلاؤ کا شدید خطرہ ہے

  • سستا ہونے پر غائب،مہنگا ہونے پر وافر

    سستا ہونے پر غائب،مہنگا ہونے پر وافر

    قصور
    پیٹرول پمپوں سے پیٹرول غائب ہوئے تین دن ہو گئے شہری پریشان پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ سپلائی نہیں مل رہی لوگوں کے مطابق پیٹرول سستا ہونے پر ہر ماہ ایسا ہی ہوتا ہے
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں آج تین دنوں سے پیٹرول نہیں مل رہا پورے قصور شہر میں چند ایک پیٹرول پمپوں سے پیٹرول مل رہا ہے باقی پر دستیاب نہیں اس بابت پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی سپلائی نہیں مل رہی جبکہ دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ جب پندراں پندراں روپیہ فی لیٹر پیٹرول مہنگا ہونا ہوتا تھا تب یہ لوگ ہزاروں لیٹر پہلے سے خرید کر جمع کر لیتے تھے اب جب سے پیٹرول سستا ہونا شروع ہوا ہے تب سے پیٹرول غائب ہونا شروع ہو گیا ہے جو کہ سراسر پیٹرول پمپ مالکان کی بے ایمانی اور خوف الہٰی کا نا ہونا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ پمپ مالکان نے جان بوجھ کر پہلے پیٹرول نہیں منگوایا تھا کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ قیمتیں کم ہونی ہیں مگر جب پیٹرول کی قیمتیں زیادہ ہونی ہوتی تھیں تب یہ لوگ لاکھوں لیٹر پہلے سے لے کر ذخیرہ کر لیتے تھے لہذہ اوگرا اور وزیراعظم ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس کینسل کرے اور ساتھ جرمانے بھی

  • اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے کئی پٹرول پمپس سے پیٹرول غائب

    اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے کئی پٹرول پمپس سے پیٹرول غائب

    اوکاڑہ( علی حسین مرزا) تحصیل دیپالپور میں پٹرول پمپس سے پٹرول غائب عوام بے حال۔ وفاقی حکومت نے جب سے تیل کی قیمت کم کی ہے تب سے پیٹرول پمپ منافع خور مافیا کو یہ ہضم نہیں ہورہا لہذا آج دیپالپور کے کئی پٹرول پمپس پر پیٹرول نہیں مل رہا۔ مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ عوام نے باغی ٹی وی کی وساطت سے اجتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں کمی ہوئی ہے اور مزید پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا کوئی حکومتی اعلان نہیں تو پیٹرول پمپس مالکان کا عوام کو پیٹرول فروخت نہ کرنا بے وجہ ہے۔

  • اوکاڑہ، پیٹرول کی قیمت میں کمی لیکن کرائے کم نہ ہوسکے

    اوکاڑہ، پیٹرول کی قیمت میں کمی لیکن کرائے کم نہ ہوسکے

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے تاحال کم نہ ہوسکے۔ باغی ٹی وی کے سروے کے دوران مختلف شہریوں نے بتایا ہے کہ پہلے پیٹرول 130 روپے فی لیٹر تھا جو کم ہوکر 80 روپے فی لیٹر ہوگیا۔ 50 روپے کی کمی کے باوجود بسوں، ویگنوں، رکشوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذرائع کے کرائے کم نہیں کیے جارہے بلکہ ناجائز منافع خوری کا بازار گرم ہے۔ شہریوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی رمضان سے پہلے کی گئی لہذا رمضان میں پبلک کو ریلیف ملنا چاہیے تھا جو نہیں مل سکا۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کرائے میں کمی کرائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

  • مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    نئی حکومت کے آتے ہی تجاوزات آپریشن کی آڑ میں ن لیگ پیپلز پارٹی کے بااثر شخصیات سے قبضے واگزار کرانے کے لیے اور اپنی دلی تسکین کے لیے پورے ملک میں تباہی مچا دی گئی مگر اس کا حاصل کیا ہوا کیا ان واگزار کروائی گئی لاکھوں ایکڑ زمین سے کوئی فائدہ مل رہا ہے جبکہ اس کو قانونی طریقے سے بولی کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے لیز پر دے کر اچھی خاصی انکم حاصل کی جاسکتی تھی جبکہ دوسری طرف وہ بے روزگار طبقہ بھی کام میں لگ سکتا تھا جو آج اسی تجاوزات اور واگزار آپریشن میں عام مزدور طبقہ ملازم طبقہ متاثر ہوا ہے۔

    لیکن اس آپریشن سے الٹا لوگ بے روزگار کاروبار تباہ املاک تباہ زمینیں واگزار مگر فائدہ کچھ نا ہوا ہے البتہ کرائم روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک میں لوگ پھر یا تو مانگ کر کھائیں گے یا چھین کر اور روز روز بھی کون مانگنے پر دیتا ہے۔۔

    اگر وہی سرکاری املاک یا زمینوں یا پتھاروں پر سال چھے ماہ کے لیے ٹیکس لگا دیا جاتا تو اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا جاسکتا تھا اور ایک سال یا چھے ماہ کا نوٹس دے کر ختم بھی کیا کرایا جاسکتاتھا جس سے نقصان بھی نا ہوتا اور لوگ اپنا کوئی متبادل بھی بنا لیتے یا شفٹ کرلیتے اپنے کاروبار دکانیں وغیرہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ملکی پالیسی یا قانون بنایا جاتا ہے تو پہلے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ لاگو کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں تو قانون اتنے بنا دیے کہ اب اگر لاگو ہوجائیں تو بندہ ایک دن بھی جی نہیں سکتا کسی نا کسی قانون میں دھر لیا جائے گا اور جو قانون بنتا ہے دوسرے دن لاگو اور عمل درآمد شروع جس سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں

    جبکہ دوسری طرف عوام کو این ٹی این کے چکر میں ڈال کر ذلیل و خوار کر دیا گیا۔ آج نیب اور ایف بی آر کے خوف سے پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا اور آج کی ایک اور بری خبر بھی آگئی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے

    حکومت نے عوام پر آج یکم اگست 2019 کو ایک اور بم بھی گرادیا ہے۔‏وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری منظور کر لی ‏اوگرا کی سفارشات پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ ‏پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ۔ ‏پیٹرول کی نئی قیمت 117.83 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 132.47 روپے۔ مقرر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

    آج اپوزیشن کی کی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے مہنگائی کرنے کی ڈیل کی خبریں بھی سچ ہونے لگیں ہیں جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے ہر آنےوالا دن متوسط اور غریب لوگوں پر بم بن کر گر رہا ہے لوگوں میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے

    لوگ ویسے تو ہر دور میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں جبکہ جو چیز پاکستان میں ان کو 100 روپے کی ملتی ہے وہی چیز دوبئی میں 500 روپے کی بڑی خوشی کے ساتھ خریدتے نظر آتے ہیں تو اس مہنگائی کا رونا رونے کی اصل وجہ لوگوں کو آج تک شائد سمجھ نہیں آسکی ہے۔ اصل میں مہنگائی کا رونا انسان اس وقت روتا ہے جب اس کے پاس آمدن ۔ انکم ۔ آمدنی ۔ کاروبار ۔ روزگار ۔ ذرائع آمدن نہیں ہوتے اور ضروری خرچے ہی پورے نہیں ہوتے تو وہ مہنگائی مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں اگر ہر انسان کی بنیادی ضروریات اور خرچے بھی پورے نا ہوں تو وہ بے چارے پریشانی کے عالم میں بس مہنگائی مہنگائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصل بات کی ان کو سمجھ نہیں آتی ہے۔
    یہی صورتحال آجکل کچھ پاکستان اور اس کی عوام کی ہے جو آپ کو بھٹو دور میں بھی شائد اگر کچھ یاد کرنے پر مہنگائی کا رونا روتی نظر آئی ہوگی تو کبھی بے نظیر بھٹو تو کبھی نوازشریف تو کبھی آصف زرداری تو کبھی عمران خان کے دور میں بھی مہنگائی مہنگائی کا رونا روتی نظر آتی ہے

    ضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت پاکستان ایسے حالات اور پالیسیاں مرتب کرے جس سے ملک میں خوش حالی کا دور دورہ ہو لوگ اپنے اپنے کاموں روزگار کاروبار میں مصروف ترین زندگی گزار رہے ہوں

    یہ محاظ آرائی کی موجودہ پالیسیاں عمران خان اور حکومت کا طریقہ عوام میں اور ملک پاکستان میں افراتفری پریشانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہے۔ عوام کو کوئی پرواہ نہیں ہے کسی بھی کرپٹ یا کسی بھی دہشت گرد کوچاہے کسی کو بھی پھانسی لگا دیں مگر خدارا عوام کو اس پریشانی کے عالم سے نکالیے اب آپ کی لچھے دار تقریریں بھی اچھی نہیں لگتی ہیں اب صرف یہی بات بار بار کر کر کے آپ اچھے نہیں بن سکتے کہ فلاں برا تھا فلاں غلط تھا کچھ کر کے آپ کو اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے جو تاحال عملی طور پر کچھ نا ہوسکا ہے البتہ باتیں بہت بڑی بڑی ضرور ہیں کیونکہ عمران خان صاحب اب تک آپ نے پاکستانی عوام کو کچھ نا دیا ہے البتہ چھینا ضرور ہے اور آپ کے اداروں میں بھی عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ان کے کام میرٹ انصاف اور وقت ضائع کیے بغیر نہیں ہو رہے ہیں آج بھی وہی تھانہ کلچر وہی افسر شاہی کلچر وہی کرپشن کلچر وہی لوڈ شیڈنگ وہی سرکاری اداروں میں زلالت اور خواری ہے آج بھی تھانے میں ایم پی اے ایم این اے کی مرضی کے بغیر پولیس والے ایک قدم نہیں اٹھاتے ہیں یا پھر قائد اعظم کی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ہے۔ بس صرف رپورٹیں سب اوکے اوکے اوکے کی ضرور کی جا رہی ہوں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام آج جتنی مشکلات پریشانیوں کا شکار ہے لگتا یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شائد اتنی نا تھی یا شائد ہم نہیں جانتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی 40 سالا زندگی میں اتنے پریشان لوگ نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔۔

    *امید رکھتے ہیں حکومت و حکمرانوں کی آئندہ پالیسیوں کا محور عام آدمی ہوگا اور اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے زبانی سے زیادہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا