Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • آصف زرداری نےپی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کی،شیر افضل مروت کا دعویٰ

    آصف زرداری نےپی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کی،شیر افضل مروت کا دعویٰ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری منگل کی شب پی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کرتے رہے-

    باغی ٹی وی : بدھ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ ہماری ترجیح ن لیگ کے بجائے پی ٹی آئی ہے، پیپلزپارٹی کے رابطے پر دستیاب پارٹی قیادت کو آگاہ کر دیا تھا کراچی کے تمام حلقوں سے تحریک انصاف جیتی ہے، الیکشن کمیشن کے سامنے تمام فارم 45 رکھے، الیکشن کمیشن ممبران سے عجیب و غریب لطیفے سننے کو ملے۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح پیغام دیا، نگراں حکومت اسی طرح مینڈیٹ چراتی رہی تو جمہوری عمل پاکستان میں ختم ہو جائے گا، ہم حکومت بنانے کے لالچ میں ان پارٹیوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن سب کا ذمے دار ہے، الیکشن کمیشن کے رویے سے لگ رہا ہے جان بوجھ کر کیس لٹکا رہے ہیں، ہمیں ہاتھ پاؤں باندھ کر الیکشنز میں پھینکا گیا تھا، سب کچھ نواز شریف کے لیے کیا گیاوہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ دو تہائی اکثریت سے پی ٹی آئی جیتے گی۔

    بھارتی کسانوں کا احتجاج،مودی حکومت نے دہلی کی ناکہ بندی کر دی

    شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا،فیصل کریم کنڈی
    شیر افضل مروت کے بیان پر پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت کو خواب میں بھی آصف زرداری نظر آرہے ہیں،تحریک انصاف کو اگر سرکاری موقف دینا بھی ہے تو کسی سنجیدہ شخص سے دلوائیں، شیر افضل مروت غیر سنجیدہ شخص ہیں ان کا دعویٰ بچکانہ ہے، شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا، شیرافضل مروت کامیڈی شو تو کرسکتے ہیں، لیکن سنجیدہ سیاستدان نہیں بن سکتے، پی ٹی آئی والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اب ان کی حکومت نہیں بن رہی،ہ اگر پی ٹی آئی سے رابطہ کرنا ہوتا تو کسی سنجیدہ شخص کے ذریعے رابطہ کرتے، ایک ایسا شخص جس کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں اس کے ذریعہ رابطہ کیوں کرتے، کبھی کہتے ہیں 160 سیٹیں ہیں، ہوا میں باتیں کرتے ہیں، انہیں خود بھی نہیں پتہ کتنی سیٹیں ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں دھاندلی والی سیٹیں مل سکتی ہیں تو یہ پیپلز پارٹی یا کوئی اورجماعت نہیں دے سکتی، یہ تو عدالت یا ٹریبونل ہی فیصلہ کرسکتا ہے، وہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ 150 سیٹیں جیتی ہیں تو خواہشات اور خواب دیکھنے پر پابندی نہیں، پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کےلیے شہباز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان کیا، تو پھر ان سے رابطہ کیوں اور کس لیے کریں

    واضح رہے کہ منگل کی شب ہی آصف علی زرداری چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پر شہباز شریف، خالد مقبول، علیم خان اور بی اے پی کے صادق سنجرانی کے ساتھ جمع ہوئے تھے اور اس موقع پر چھ جماعتوں پر مشتمل حکمراں اتحاد کا امکان سامنے آیا تھا۔

    وفاقی وزرا کیلئے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن …

    گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف …

  • پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت بنانا آسان کام نہیں ، مخلوط حکومت میں بارگیننگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی کے پروگرام میں میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت بنانا آسان کام نہیں ، مخلوط حکومت میں بارگیننگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جو بھی حکومت بنے وہ 5 سال کے لیے ہونی چاہیے حکومت سازی کیلئے مزید آزاد ارکان رابطے میں ہیں، پنجاب میں ن لیگ کی مستحکم حکومت آئے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ نے کہا کہ عوام کی خوشحالی کیلئے ن لیگ قیمت دے گی تو پیپلز پارٹی کو بھی قیمت دینا پڑے گی، یہ نہیں ہوسکتا کہ پیپلزپارٹی ہمیں وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا کر نیچے سے سیڑھی کھینچ لے۔

    کیا پاکستان پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے کے انتظار …

    پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ابھی صدر سمیت مختلف عہدوں پر ن لیگ سے کوئی بات نہیں ہوئی،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ولید اقبال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں۔

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو نامزد کردیا جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی امیدوار مریم نواز ہوں گے،مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ نوازشریف نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عہدے کیلئے شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ کیلئے مریم نوازشریف امیدوار ہوں گی وازشریف نے پاکستان کے عوام اور سیاسی تعاون فراہم کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں اورانکےقائدین کا شکریہ ادا کیا ہےنواز شریف نے یقین کا اظہار کیا ہےکہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان معاشی خطرات، عوام مہنگائی سے نجات پائیں گے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ق)، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاق میں اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر ملکی سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں آصف زرداری، شہباز شریف، خالد مقبول صدیقی اور صادق سنجرانی نے شرکت کی۔

    پی ایم ایل این کے صدر شہباز شریف کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان …

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنماؤں نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا، پیپلزپارٹی کی قیادت کامؤقف ہے پہلے مرحلے میں پی پی وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنےگی جبکہ دوسرے مرحلے میں پیپلزپارٹی کابینہ کا حصہ بن سکتی ہے۔

    قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) 79، پیپلزپارٹی 54، متحدہ قومی موومنٹ 17، مسلم لیگ (ق) 3، استحکام پاکستان پارٹی 2 اور بلوچستان عوامی پارٹی نے ایک نشست حاصل کی ہے یوں اس اتحاد کو مجموعی طور پر 156 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور مخصوص نشستیں ملنے کے بعد حکومت بنانے کیلئے 172 کا ہندسہ بآسانی عبور کرجائے گاپاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی تعداد 92 ہے اور دیگر جماعتوں نے ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔

    بلاول بھٹو کا خیال ہے کہ کراچی پر صرف انکا حق ہے، فیصل …

  • ہم اپنی مشاورت کر کے باضابطہ اعلان کریں گے،بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس پر ن لیگ کا  ردعمل

    ہم اپنی مشاورت کر کے باضابطہ اعلان کریں گے،بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس پر ن لیگ کا ردعمل

    لاہور: مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو سپورٹ کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ہمیں حکومت بنانے میں سپورٹ کرنا خوش آئند ہے،پیپلزپارٹی اس معاملے پر ہمیں باضابطہ طور پر بتائے گی،بلاول بھٹو نے ابھی پریس کانفرنس کی ہے ہم اپنی مشاورت کر کے باضابطہ اعلان کریں گے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ سابق صدر و شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری صاحب اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری صاحب سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، مسلم لیگ ن کی حمایت کے اعلان پر قائد میاں نواز شریف کی طرف سے اور اپنی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا، امید کرتے ہیں کہ ہم مل کر پاکستان کو تمام سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے- انشاللہ

    واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اعلان کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ دیں گے لیکن وزارتیں نہیں لیں گے،بلاول کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی کا دو روزہ اجلاس آج ختم ہوا، ہمیں پاکستان کا ساتھ دینا ہے پاکستان کومستحکم بنانا ہے،پیپلزپارٹی کووفاق میں حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں، ہمیں مینڈیٹ نہیں ملا میں تو وزارت عظمیٰ کا امیدوارنہیں ہوں۔

    جماعت اسلامی کی کے پی اسمبلی میں نمائندگی ختم ہو گئی

    حلقہ این اے 64 سے چودھری سالک حسین کی جیت برقرار،قیصرہ الہی کو شکست

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی

  • میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا امیدوار نہیں ہوں جس کا مینڈیٹ ہے اس کا حق ہے

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس وفاق میں حکومت بنانے کیلئے مینڈیٹ نہیں ہے،خود کو وزیر اعظم کیلئے پیش نہیں کرسکتا،فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینا ہے، وقت آ گیا ہے ہم آج بھی کھپے کا نعرہ لگائیں،مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد میں نہیں جاسکتےپیپلز پارٹی کیبنٹ کا حصہ نہیں ہوگی البتہ ن لیگ کے وزیراعظم کو ووٹ دیں گے ، مسلم لیگ ن کے حوالہ سے کمیٹی اجلاس میں دوستوں نے کافی اعتراض کئے، لوگوں نے شکایات کیں کہ انکے کام نہیں ہوئے اٹھارہ ماہ کی حکومت میں، ہم کمیٹی بنا رہے ہیں جو مسلم لیگ ن ، دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرے گی، اس الیکشن میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ایگزیکٹو کمیٹی میں اراکین نے اعتراض شیئر کئے، لیول پلینگ فیلڈ کی بات ہے،تو اس پر ایک یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی احتجاج کے ساتھ تمام نتائج ملک کے لئے قبول کرے گی،ماضی کی طرح بھی الیکشن رزلٹ پر سوالات اٹھائے ،اگر کوئی سیاسی جماعت حکومت نہ بنا سکی تو دوبارہ انتخابات جانا پڑے گا،پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کیساتھ بات نہیں کریں گے اسکا مطلب تحریک انصاف کی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے نیشنل اسمبلی میں ہم سے زیادہ سیٹیں لی ہیں،

    سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،میرا نہیں خیال کہ اپوزیشن لیڈر بن سکوں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سازی کے لیے ن لیگ کو ووٹ دیں گے ،صرف مسلم لیگ نے ہی ہم سے رابطہ کیا ہے،سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں،دوبارہ الیکشن کی طرف نہیں جانا چاہتے اگر جائیں گے تو پہلے بھی ہمارے لوگ شہید ہوئے، دوبارہ الیکشن نظر ہو گئے تو بھی کوئی سیاسی جماعت قبول نہیں کرے گی، پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ملکر کام کریں،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے لے رہی جو جمہوریت کے حق میں نہیں، لوگوں نے ووٹ اس لئے دیا کہ مسائل حل کر سکیں، بات چیت تو کرنی پڑے گی، سنے بغیر اگر وہ اپنے کام کریں گے تو بسم اللہ کریں، لیکن اس کا نقصان ہو گا، پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو ملک کے حالات ہوں عوام پیپلز پارٹی کی طرف دیکھیں ،آج پیپلز پارٹی پاکستان کھپے کا نعرہ لگا رہی ہے، پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں نہیں لے گی، پیپلز پارٹی اپنے منشور پر عمل کروائے گی اور اہم معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، اپوزیشن لیڈر میرا نہیں خیال کہ میں بن سکوں،

    صدر زرداری اگلے صدر مملکت پاکستان کے امیدوار ہوں گے، بلاول
    بلاول کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوشش کریں گے کہ پیپلز پارٹی حکومت بنائے، پی ڈی ایم پارٹ ٹو اب نہیں بنے گا، پیپلز پارٹی بجٹ و دیگر معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، پیپلز پارٹی صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر شپ کے لئے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، ن لیگ یا کسی بھی جماعت کا وزیراعظم کا امیدوار، وہ انکا ہی فیصلہ ہے،ہمارے فیصلے متفقہ ہوں گے، خواہش ہیں کہ صدر کے الیکشن ہوں تو صدر زرداری حصہ لیں اور صدر بنیں، پاکستان جل رہا ہے اگر کوئی صلاحیت رکھتا ہے اس آگ کو بجھانے کی تو وہ آصف زرداری نہیں ، اس ملک کے لئے ضروری ہے کہ آصف زرداری وفاق کا عہدہ سنبھالیں،

    ن لیگ، تحریک انصاف سمیت سب سیاسی جماعتیں اپنا نہیں ملک کا سوچیں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہیں گے کہ پارلیمنٹ مدت مکمل کرے اور وزیراعظم بھی اپنا ٹرم مکمل کرے،اگر جو بھی ن لیگ کا وزیراعظم کا امیدوار ہے اگر وہ پرانی سیاست کرے گا، نفرت ،تقسیم کی سیاست کرنی ہے تو میرا خیال ہے بہت مشکل ہو گا، اب بہت ضروری ہے کہ نہ صرف مسلم لیگ بلکہ تمام سیاسی جماعتیں، تحریک انصاف بھی اپنے لئے نہ سوچیں، پاکستان کی فکر کریں، جو ماحول بن رہا ہے اس ماحول کا فائدہ ملک کے دشمن اٹھانا چاہیں گے،ہم سیاست کریں ، سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کریں انتہا پسندی کی سیاست چھوڑیں، ذاتی انتقام کی سیاست چھوڑنی پڑے گی، الیکشن مہم کے دوران تنقید کرنی پڑتی ہے، ن لیگ کے خلاف جو مہم چلائی وہ چلانی پڑتی ہے، تنقید کرنا یہ جمہوریت کا حصہ ہے، الیکشن کے دوران ذمہ داری ہے کہ دوسروں کی کوتاہیاں سامنے لائیں، عوام کو بتائیں،اب اگر ن لیگ یا پی ٹی آئی کو بلیک میل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے ، ہم نے جو فیصلہ کیا اس سے ہمیں ضرور نقصان ہو گا، اس فیصلے میں میرا سیاسی نقصان ہوسکتا ہے لیکن ملک کی بربادی نہیں ہونی چاہیےہم نے پاکستان کے عوام کی خاطر فیصلہ کیا میرے کارکنان، خاندان نے شہادتیں دیں،پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک سازش کے تحت ہرایا گیا،پیپلز پارٹی کے ساتھ اس الیکشن میں جو ہوا اس کا فیصلہ کرنا پڑے گا، بار بار ہم جمہوریت کی خاطر قربانی دیتے رہیں اور ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہے، آج فارم 45 کیوں ملتے ہیں، بینظیر نے مشرف کے دور میں یہ فارم 45 والا کام کروایا،کس نے کہا پی ٹی آئی کومیدان چھوڑے، آپ چاہتے ہو پیپلز پارٹی انتہا پسندی کی سیاست کرے، وہ نہیں ہو سکتا، میں نے اپنی مہم اور سیاست میں ثابت کر دیا کہ باقی سیاستدان عمر میں ضرور بڑے ہوں گے لیکن میں نے ملک کے لئے اچھا فیصلہ کیا،

    ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں دیں یا 50 ،کراچی کی ترقی اور امن پر کمپرومائز نہیں کریں گے، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو چلانا ہے اور اسےاستحکام دلانا ہے،پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایسا الیکٹورل سسٹم بنائیں کہ اس پر کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکے،تحریک انصاف آج بھی ایسے فیصلے کررہی ہے جو جمہوریت کے حق میں نہیں ،پیپلز پارٹی ایک سنجیدہ جماعت ہے جو پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے،ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں؟میرا بھی یہ سوال ہے، ہمارے اعتراض ہیں انکا جواب چاہئے، جو دہشت گردی میں ملوث لوگ ہیں مجھے بتایا گیا کہ جو انکے دہشت گرد لوگ تھے انکو بھی الیکشن میں آزاد کروایا گیا ہمارے لوگوں پر حملے ہوئے، فائرنگ ہوئی، آپ انکو 18 سیٹ دیں یا 50 دیں ہم کراچی کے امن اور ترقی پر کمپرومائز نہیں کریں گے، انکو پیغام دیں گے کہ نفرت کی بنیاد پر شہر کو تقسیم نہ کریں،پیپلز پارٹی ملک میں مزید افرا تفری نہیں چاہتی.

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے،مراد علی شاہ

    ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے،مراد علی شاہ

    اسلام آباد: سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام کے شکر گزار ہیں کہ بھاری ووٹوں سے پی پی کو کامیاب کیا-

    باغی ٹی وی: مراد علی شاہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیر صاحب پگارا کو ان کے بھائی اور جی ڈی اے نے خراب کیا، انہیں جی ڈی اے نے استعمال کیا، پیر صاحب اپنے دوست بدل لیں آپ کے مخلص دوست نہیں ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب الیکشن کا اعلان کر دیا تو اس کے بعد انہوں نے ہم سے دس نشستیں مانگیں، آپ کا دس سیٹ مانگنے کا حق نہیں بنتا تھا، پی پی وہی فیصلہ کرے گی جو ملک کے مفاد میں ہو، ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے ، انہوں نے ایک سال پہلے بلدیاتی الیکشن میں کہا تھا ہم مقابلے کے لیے تیار نہیں، ایک سال میں کیا بات ہو گئی جن کے پولنگ ایجنٹ بھی نہیں تھے وہ پندرہ نشستیں جیت گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیر پگارا نے احتجاجاً سندھ اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو نشستیں بھی زرداری صاحب کو دے دیں،پیر پگارا نے دعویٰ کیا کہ مجھےکہا گیا کہ زرداری صاحب سے الائنس کرلو، نشستیں مل جائیں گی، منع کیا تو کہا کہ پھر جی ڈی اے کے سامنے صفر لکھا ہوا ہے، ایم کیو ایم کے سامنے15ہے۔

    پیر پگارا کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں، یہ اینٹی اسٹیٹ الیکشن تھا، یہ ریٹرننگ افسران کا نہیں کسی اورکا کام ہے، ہم یہ 2 سیٹیں بھی واپس کر دیں گے، ہم قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے، ہمارے احتجاج میں ایمبولینس کوکوئی نہیں روکےگا، ہم کوئی خیرات کی سیٹیں نہیں لیں گے، مجھے کسی دوست نے مشورہ دیا کہ جی ڈی اے ختم کردو،آپ کو دو تین ایم این اے اور ایم پی اے مل جائیں گے، میں نےکہا کہ میں جی ڈی اے ختم نہیں کرسکتا، کہا گیا ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، ایم کیو ایم کا پی ٹی آئی سے جھگڑا ہے۔

  • پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی(سی ای سی) نے بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے پہلے دن سی ای سی پنجاب کے ارکان نے نگران صوبائی حکومت کے خلاف شکایات کے انبار لگادئیے کہا کہ پنجاب کی نشستوں پر ڈاکا ڈالا گیا جو منتخب ہوئے وہ تو دوڑ میں ہی نہیں تھےجیتی ہوئی نشستوں پرنگران صوبائی حکومت نے انتظامیہ کی مدد سے ہماری کامیابی کوشکست میں بدلا، پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے پی پی بلوچستان کو خراج تحسین پیش کیا اور صوبے میں حکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

    ذرائع کا کہنا ہےکہ سی ای سی میں فیصلہ کیا گیا ہےکہ بلوچستان میں حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں سے رابطوں کے لیے آج اجلاس میں کمیٹی بھی بنائی جائےگی، پہلے دن اجلاس میں (ن) لیگ کی سربراہی میں بننے والی حکومت میں شامل نہ ہونے پر زیاد ہ ارکان نے رائے دی جب کہ ارکان نے پی ٹی آئی کے آزاد ارکان سے بات چیت کرنے پر بھی رائے دی، اجلاس میں تجویز دی گئی کہ (ن) لیگ کی حکومت بنواکر خود مضبوط اپوزیشن کی جائے۔

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • پی پی کے سی ای سی کے اجلاس میں  تحریک انصاف کیساتھ بات چیت کرنے کی بھی تجویز دی

    پی پی کے سی ای سی کے اجلاس میں تحریک انصاف کیساتھ بات چیت کرنے کی بھی تجویز دی

    اسلام آباد: وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اہم اجلاس میں اراکین نے تحریک انصاف کے ساتھ بات کرنے کی بھی تجویز دے دی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاو ل بھٹو زرداری کی سربراہی میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس میں تمام اراکین نے شرکت کی،اجلاس کے آغاز پر شہدائے جمہوریت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے صدر پی پی پی پی آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تمام فیصلوں کا اختیار دے دیا۔

    اجلاس میں عام انتخابات اور اس کے حوالے سے عوام کے ردعمل پر بات چیت کی گئی اور ملک کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی جانب سے ملک کی سیاسی، معاشی اور حکومتی صورت حال کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، پیپلز پارٹی کے سی ای سی کے اجلاس میں اراکین نے مشاورت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کرتےہوئے ن لیگ کے ساتھ اتحاد کی صورت میں چیئرمین سینیٹ سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کےانتخاب پر مشاورت بھی کی۔

    الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 9 اور پنجاب اسمبلی کے 11 نتائج روک دئیے

    ذرائع کے مطابق سی ای سی اجلاس میں اراکین نے ن لیگ کے ساتھ تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت کرنے کی بھی تجویز دی اور یہ بھی کہا کہ قیادت سمجھتی ہے کہ مضبوط اتحادی حکومت نہیں بن رہی تو اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کرے، بعض ارکان کی وزارت عظمی سمیت اہم عہدے ملنے پر حکومت کا حصہ بننے کی تجویز بھی دی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز،خواجہ آصف، علیم خان کی کامیابی کیخلاف درخواستوں پر …

    حکومتوں کا حصہ بننا ہے یا نہیں فیصلے آئندہ چوبیس گھنٹے میں ہو …

  • مراد علی شاہ کو تیسری مرتبہ وزیر اعلی  سندھ بنائے جانے کا امکان

    مراد علی شاہ کو تیسری مرتبہ وزیر اعلی سندھ بنائے جانے کا امکان

    کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں برتری حاصل کرنے کے بعد سندھ میں حکومت بنانے اور کابینہ میں وزارتوں کے قلمدان دینے کے حوالے سے مشاورت شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت اعلی کے لئے سید مراد علی شاہ مضبوط امیدوار ہیں مراد علی شاہ کو تیسری مرتبہ وزیر اعلی بنایا جائے گا، جس کی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زراداری اور آصف زرداری نے منظور دے دی ہےاس کے علاوہ کابینہ میں شرجیل میمن، ناصرشاہ، سعید غنی، امتیاز شیخ، سہیل انور سیال، ارباب لطف اللہ، اسماعیل راہو، عذرا پیچوہو، سردار شاہ، مکیش چاؤلہ ، مخدوم محبوب الزمان کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

    جام خان شورو، تیمور تالپور کو بھی سندھ کابینہ میں شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے تاہم دونوں میں سے کسی ایک کو وزارت دینے کا فیصلہ پارٹی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا،سندھ کابینہ کے حوالے سے پی پی قیادت کی جانب سے فیصلے جلد متوقع ہیں-

    پیر پگارا کا احتجاجاً سندھ اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنےکا اعلان

    دوسری جانب پاور شیئرنگ فارمولے پر پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے،سابق صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، نیئربخاری، شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی ، شازیہ مری، سرفر از بگٹی اجلاس میں شریک ہیں، اس کے علاوہ تاج حیدر ، سعیدغنی، مراد علی شاہ ، عبدالقادر پٹیل اور دیگر اجلاس میں شریک ہیں۔

    راولپنڈی: پی پی 19 سے آزاد امیدوار قاتلانہ حملے میں جاں بحق

    7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی ن لیگ میں شمولیت

  • ‏مسلم لیگ ن کا وفد بلاول ہاؤس لاہور پہنچ گیا

    ‏مسلم لیگ ن کا وفد بلاول ہاؤس لاہور پہنچ گیا

    لاہور: ‏بلاول بھٹو زرداری سے سابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی بلاول ہاؤس میں ملاقات کامشترکہ اعلامیہ جاری –

    باغی ٹی وی : ‏ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی میں سیاس تعاون پر اصولی اتفاق رائے، ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال اور مستقبل میں سیاسی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ،قائدین نے ملک کو سیاسی استحکام سے ہم کنار کرنے کے لئے سیاسی تعاون کرنے پر اتفاق کیا-

    دونوں جماعتوں کے قائدین نے ملاقات میں اتفاق کیا کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں گے، ملاقات میں دونوں جماعتوں نے صورتحال پر مشاورت کی اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا، پی پی پی قیادت نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی تجاویز کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سامنے رکھیں گے عوام کی اکثریت نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے، ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے-

    قبل ازیں مسلم لیگ ن کا وفد بلاول ہاؤس لاہور پہنچا ،مسلم لیگ ن کے وفد میں شہباز شریف ، احسن اقبال، سعد رفیق شامل ہیں ،مسلم لیگی وفد میں رانا تنویر، اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق اور ملک احمد خان بھی شامل ہیں،ن لیگ کا وفد سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے حکومت سازی کے معاملات پر بات چیت کرے گا- پی پی پی قیادت نے ن لیگ وفد کو جواب دیا کہ حکومت سازی میں تعاون کے حوالے سے آپ کی پیش کش پر کل سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں تبادلہ خیال ہوگا-

    https://x.com/MediaCellPPP/status/1756700658240012753?s=20
    واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان حکومت سازی کیلئے ملاقاتوں اور مذاکرات کے دور جاری ہیں، جن میں اس بات پر متفق ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم کون ہوگا اور صدر مملکت کس کو بنایا جائے گا اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان ملاقات کا ایک راؤنڈ ہوچکا ہے، جبکہ دیگر ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، ن لیگ ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں سے بھی رابطے کر رہی ہے۔

    نوازشریف اورآصف زرداری کی آج جاتی امرا میں ملاقات کا امکان

    حکومت کا حصہ بننے کیلئے آزاد امیدواروں کی جانب سے سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا سلسلہ بھی جاری ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں ہونے والی بات چیت میں بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنانے پر مذاکرات جاری ہیں، جبکہ نواز شریف کو صدرِ مملکت بنائے جانے پر بھی غور ہو رہا ہے، یوسف گیلانی کو اسپیکر قومی اسمبلی بنایا جاسکتا ہے،حکومت سازی کے اس فارمولے پر مذاکرات تاحال جاری ہیں-

    نواز شریف کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے این اے 15 کا نتیجہ روک …

    8 فروری کوالیکشن کم اورسودا گری کا بازار زیادہ تھا، ایمل ولی خان

  • نوازشریف اورآصف زرداری کی آج جاتی امرا میں ملاقات کا امکان

    نوازشریف اورآصف زرداری کی آج جاتی امرا میں ملاقات کا امکان

    لاہور: نوازشریف اورآصف زرداری کی آج جاتی امرا میں ملاقات کا امکان تھا تاہم دونوں رہنماؤں کی ملاقات ملتوی ہو گئی-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ آج جاتی امرا میں ہونے والی ملاقات میں آصف زرداری کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری ہوں گے، جب کہ ن لیگ کی جانب سے مریم نواز، شہباز شریف اور اسحاق ڈار موجود ہوں گے، ملاقات میں حکومت سازی کے لیے بات چیت کی جائے گی، دونوں جماعتوں کی جانب سے اپنے اپنے وزیراعظم کا نام دئیے جانے کا بھی امکان ہے، سربراہان فیصلہ کریں گے کہ کس جماعت کا صدر اور کس جماعت کا وزیراعظم ہوگا۔

    آصف زرداری اور بلاول اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں جو جلد لاہور روانہ ہوں گے، توقع ہے کہ ملاقات آج ہی ہوگی، ملاقات کے لیے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی بھی سرگرم ہیں،اگر دونوں جماعتیں متفق نہیں ہوئیں تو آزاد امیدوار اپنی حکومت بنالیں گےجس کےخلاف لائحہ عمل طےکرنے کے لیے ہی آج دونوں جماعتیں جمع ہوں گی، اطلاعات ہیں کہ گزشتہ بات چیت کے حوالے سے اسحاق ڈار نواز شریف کو بریفنگ دے چکے ہیں اور یہ باتیں میڈیا پر سامنے نہیں آئی ہیں۔

    آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے درمیان اندرونی ملاقات کی کہانی …

    تاہم اب ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری سے آج نواز شریف کی ملاقات کا امکان نہیں ہے،آج آصف علی زرداری اسلام آباد جائیں گے، دونوں رہنماؤں کے درمیان کل ملاقات ہونے کا امکان ہے،کل دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوگی، دونوں رہنماؤں کے درمیان حکومت سازی کے معاملات پر بھی مشاورت ہو گی۔

    قومی اسمبلی کی نشستوں پرکامیاب سات آزاد امیدواروں کا پیپلز پارٹی سے رابطہ

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین حکومت سازی کے لئے سرگرم ہیں، اس حوالے سے پارٹی کے مرکزی صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ پراہم ملاقاتیں ہونے جا رہی ہیں ایم کیوایم کا وفد شہباز شریف سے ملاقات کیلئے لاہور روانہ ہوگیا ہے،شہباز شریف کی رہائش گاہ پر سردار ایاز صادق، اسحاق ڈار، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، احد چیمہ، طلحہ برکی، مریم اورنگزیب اورعطاء اللہ تارڑ موجود ہیں۔

    شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اسحاق ڈار آزاد امیدواروں سے کئے گئے رابطوں بارے بریفنگ دیں گے، اعظم نذیر تارڑ آزاد امیدواروں کی پارٹی میں شمولیت کے متعلق قانونی امور پر بریفنگ دیں گے، دوسری جانب لاہور جانے والے ایم کیوایم کے وفد میں خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری شامل ہیں ایم کیو ایم اور ن لیگ کی ملاقات میں سیاسی حکمت عملی پر غور ہوگا۔

    ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانونی جنگ لڑیں گے،حافظ نعیم الرحمان