Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • بلوچستان میں وزیراعلیٰ ہمارا ہو گا، آصف زرداری

    بلوچستان میں وزیراعلیٰ ہمارا ہو گا، آصف زرداری

    پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں اتحادیوں سے مل کر حکومت بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے

    سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں نیا وزیرِ اعلیٰ ہر صورت ایک جیالا ہی ہو گا،بلوچستان میں حکومت سازی کے لئے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا بلوچستان سے نومنتخب اراکین اسمبلی کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوا ،اجلاس کی صدارت آصف زرداری نے کی، اجلاس میں بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا، پیپلز پارٹی بلوچستان نے اتحادی حکومت بنانے کے لیے بات چیت کا اختیار آصف زرداری کو دے دیا ہے

    دوسری جانب بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے نو منتخب ارکانِ صوبائی اسمبلی کا اسلام آباد میں سرفراز بگٹی کی قیام گاہ پر اجلاس منعقد ہوا،اس موقع پر نو منتخب رکنِ بلوچستان اسمبلی صادق عمرانی نے کہا کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو اکثریت دی ہے تو حکومت بنانا ہمارا حق ہے،بلوچستان میں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے اتحاد میں شامل ہو گی، پارٹی قیادت جسے وزیرِاعلیٰ نامزد کرے گی وہ ہم سب کو قبول ہو گا

    واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی سیٹیں برابر ہیں، پییلز پارٹی اور جے یو آئی کو 11،11 سیٹیں ملی ہیں، 51 کے ایوان میں دس سیٹیں مسلم لیگ ن کو ملی ہیں جبکہ چھ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں،

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • استعفیٰ دیتا ہوں سب مل کر  میری نشست پر الیکشن لڑ لیں ،شرجیل میمن کا چیلنج

    استعفیٰ دیتا ہوں سب مل کر میری نشست پر الیکشن لڑ لیں ،شرجیل میمن کا چیلنج

    پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انتخابات ہوئے ہیں،اس کے بعد کی سیاسی صورتحال پر بات کرنا چاہتا ہوں ۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ 48 گھنٹوں میں جو بھی پیش رفت ہوئی،مولانا فضل الرحمان کی باتوں پر بات کروں گا،سندھ میں پیپلز پارٹی کو تاریخی مینڈیٹ عوام نے دیا۔پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنے ہی ریکارڈ بریک کیے،عوام نے دل کھول کر ووٹ دئیے،بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کے ورکرز کا شکریہ ادا کر نے ٹھٹھہ جائیں گے،آج سندھ میں جی ڈی اے کی جانب سے ایک پروگرام کیا جارہا ہے،میں اپنی نشست سے استعفیٰ دیتا ہوں ، جی ڈی اے، جماعت اسلامی سب مل کر آجائیں میری نشست پر الیکشن لڑ لیں ،پیپلز پارٹی کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے مفاہمت کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے۔آج حیدرآباد میں ہونے والا شو کوئی سیاسی شو نہین ایک روحانی شو ھے جس مین پوری ملک سے اپنے مریدین کو اپنا دیدار کرانے کے لیے بلایا گیا ہے،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جن کے نام مولانا فضل الرحمان نے لئے ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم کو آئینی طور پر ہٹایا گیا، اب مولانا کے الزام مناسب نہیں ہیں،کچھ لوگوں‌کو تحریک انصاف پر رحم آ رہا ہے، 2018 کا الیکشن کس کو یاد نہیں ہے، کیا ہوا تھا کس طرح جعلی مینڈیٹ کے‌ذریعے عمران خان کو کامیاب کروایا گیا تھا، آر ٹی ایس بٹھایا گیا تھا، سیاسی جماعتیں آج جو باتیں کر رہی ہے میں کہتا ہوں پیپلز پارٹی سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے، پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، لیکن آج جو لوگ معصوم بننے کی کوشش کرتے ہیں وہ خود اس پراسیس کی پیداوار ہیں، عمران خان کا 126 دن کا دھرناکس کے کہنے پر ہوا، جہاز بھر کر وفاداریاں‌تبدیلیاں کروائی گئیں، کس کے کہنے پر؟ لوگوں کے مینڈیٹ کو چھینا گیا تھا، پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ لگا لیکن ہم عدالت میں جائیں گے دھرنے نہیں دیں گے، پیپلز پارٹی نے ایسا کیا نہیں کیا کہ اسکو ووٹ نہیں ملنا چاہئے، 21 لاکھ لوگوں کے لئے گھر بن رہے ہیں، ہر ضلع میں ہسپتال بن رہا، سڑکیں بن رہی ہیں، آپ صرف باتیں کر سکتے ہو، عوام کے لئے کچھ نہیں کیا اسی لئے پیپلز پارٹی کو کامیابی ملی ہے، ایشوز ہیں، سو فیصد ہم کام نہیں کر سکے لیکن ہم کریں گے،جلسوں میں تقریریں کرنا، نفرت ، اسکی بھر پور مذمت کرتا ہوں، ہم نے کسی تلخ بات کا تلخ جواب نہیں دینا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں بدامنی ہو، عدم استحکام ہو،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

  • مولانا یہ تو بتائیں پیپلز پارٹی کو کس کے کہنے پر پی ڈی ایم سے نکالا گیا،فیصل کریم کنڈی

    مولانا یہ تو بتائیں پیپلز پارٹی کو کس کے کہنے پر پی ڈی ایم سے نکالا گیا،فیصل کریم کنڈی

    پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی پی نے ڈی آئی خان میں سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں ،کل مولانا نے فیض حمید اور باقی لوگوں کی بات کی،فیض حمید اس وقت پشاور میں سرکاری عہدے پر تھے انکا کوئی تعلق نہیں تھا،

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان کہہ دیتے اور عدم اعتماد میں ساتھ نہ دیتے، عدم اعتماد کے بعد سب سے زیادہ فائدہ فضل الرحمان کو ملا، پی ڈی ایم حکومت آنے کے بعد جے یو آئی کو وزارتیں، گورنر کے پی کا عہدہ ملا، مولانا فضل الرحمان چلے ہوئے کارتوس ہیں،جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا سیاسی اتحاد اچھی بات ہے لیکن پی پی یا ن لیگ ایسا کرتی تو ٹی وی پر ماضی کے بیانات چلتے، مولانا آ نہیں رہا مولانا جا رہا ہے ،دونوں پارٹیوں کےسیاسی نظریات دفن کیسے ہوگئے،یہ الیکشن ہار کر اسلحہ اٹھانے پر تیار ہیں،ڈی چوک کے دھرنےمیں مولانا کے خلاف جو پی ٹی آئی چئیرمین باتیں کرتے تھے وڈیوز موجود ہیں،الیکشن کے بعد ہم نے جے یو آئی آئی اور پی ٹی آئی کا الحاق دیکھا، اب دیکھنا ہے دونوں جماعتوں کے ورکرز کیسے کام کریں گے، دونوں پارٹیوں کے ورکرز ایک دوسروں کے گیتوں پر کیسے بھنگڑے ڈالیں گے، مولانا یہ تو بتائیں پیپلز پارٹی کو کس کے کہنے پر پی ڈی ایم سے نکالا گیا ،اگر ایک سیاسی جماعت نو مئی کے ملزمان کو وزیراعظم یا چیف منسٹر بنا لے کیا وہ سارا کچھ معاف ہو جائے گا، یہ ریاست سے بہت بڑا سوال ہے، ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ مسلم لیگ ن کو سپورٹ کرتے ہیں، اگر ہم اپوزیشن میں بیٹھتے تو یہ ملک ایک اور الیکشن کی طرف جاتا، باقی چیزیں ہمارا جمہوری حق ہے،فضل الرحمان اپنے حلقے سے ہارے ہیں بقول ان کے الیکشن چوری ہوئے ہیں،سب مزے لینے کے بعد فضل الرحمان کی جانب سے ان باتوں کا کیا فائدہ،پی ٹی آئی کے نامزد وزیر اعلیٰ کا بیان ہے ہاتھ مروڑ کر مولانا سے ملوایا جارہا ہے،پی پی سیاسی، جمہوری جماعت ہے ہم اس لیول پر نہیں گئے جہاں یہ گئے ہیں.

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

  • جن کے پاس پولنگ ایجنٹ نہیں تھے وہ جیت گئے،شازیہ مری

    جن کے پاس پولنگ ایجنٹ نہیں تھے وہ جیت گئے،شازیہ مری

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس اتنے نمبر نہیں کہ وہ اپنا وزیراعظم نامزد کریں ،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی جمہوری نظام کو نقصان نہیں پہنچایا، پیپلز پارٹی نے 2018 کے نتائج کو بھی پاکستان کے مفاد میں قبول کیا،سب کو معلوم ہے کراچی میں کیا ہوا، کراچی میں جن کے پاس پولنگ ایجنٹ نہیں تھے وہ جیت گئے،جی ڈی اے کے فرمائشی پروگرام کی لمبی لسٹ تھی،جن لوگوں کی فرمائشیں پوری نہیں ہوئی وہ سڑکیں بند کررہے ہیں.ہم ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتے جس سے ملک کو نقصان ہو، کبھی اپنے مفاد کیلئے سیاست نہیں کی، ہم نے پاکستان کیلئے لاتعداد قربانیاں دی ہیں،انہوں نے غنڈہ گردی کے ذریعے انتخابات جیتنے کی کوشش کی۔ہم ہر کام آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کریں گے،ہمارے پاس اتنے نمبر نہیں کہ وزیراعظم بنا سکیں،بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس ایک لیڈر کی پریس کانفرنس تھی،جی ڈی اے سیاسی یتیموں کا گروپ ہے،میرے حلقے میں 45 منٹ تک فائرنگ کی گئی

    آراوز کو دھمکایا گیا کہ بات نہیں مانیں گے تو گندی ویڈیو بنائینگے،شازیہ مری
    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ سانگھڑ میں ہمارے کارکنوں کو شہید کیا گیا ان پر فائرنگ کی گئی ضلع بدین سانگھڑ اور تھرپارکر میں جی ڈی اے والوں نے باھر سے غنڈے منگوا کر الیکشن کے دن دھشتگردی کی اور ووٹرز کو حراسان بھی کیا، ارباب غلام رحیم مسلح افراد تھر پار کر میں لائے، دہشت پھیلانے، انہوں نے دہشت پھیلائے، پیپلز پارٹی کے ووٹر کو روکا گیا، جی ڈی اے کا یہ کام تھا تو میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کے جمہوری نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے، پیپلز پارٹی کے ووٹرز کو پولنگ سے روکا گیا، یہ کیسے ہو سکتاہے کہ ہمارے ووٹ زیرو اور انکو ہزار مل گئے،ہم ہوا میں بات نہیں کر رہے،پولنگ ڈے والے دن کہہ رہے تھے سب ٹھیک ہے، انہوں نے بدمعاشی سے الیکشن جیتنے کی کوشش کی، سانگھر میں مجھے جانے سے روکا گیا میں نہیں گئی، چھ فروری کو میں نے پریس کانفرنس کر کے بتایا تھا کہ آر اوز کو دھمکایا گیا اور کہا گیا کہ ہماری باتیں نہیں مانیں گے تو گندی ویڈیو بنائیں گے، اس حد تک ہمارے مخالفین گئے ہیں، اب نتیجہ پیپلز پارٹی کے حق میں آ گیا تو رونے لگ گئے، مجھے دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ تھر پارکر میں جو لوکل لوگوں کو مارنے آئے تھے وہ باہر سے لائے گئے تھے، بدین میں بھی اسی طرح ہوا، پیپلز پارٹی کی پولنگ کو سلو کیا گیا، خواتین کی پولنگ کو سلو کیا گیا،مجھے دکھ ہے جتنی زیادتی سانگھڑ میں دیکھ کر آئی، آپ چاہتے ہیں شاہراہوں کو روکیں، جو جی ڈی اے کے ہیڈ ہیں انکو اندھا دھند بدمعاشی کا نہیں بتایا میں دو بار پیر صاحب کے پاس گئی تب انہوں نے کہا تھا کہ وہ سیاست سے دور ہیں اور انکے بھائی سیاست کو دیکھتے ہیں،الیکشن کے دوران انہوں نے کہا کہ دس سیٹیں چاہئے، فرمائشی پروگرام نہیں چلتے، دو سیٹیں دھاندلی کے ساتھ جیتے، رویئے بدلیں، ان لوگوں پر انحصار کرنا چھوڑیں، عوامی سیاست کریں، پنجاب میں پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگایا گیا تب بھی بلاول نے کہا کہ ہم نتائج قبول کریں گے،

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

  • آصف زرداری نےپی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کی،شیر افضل مروت کا دعویٰ

    آصف زرداری نےپی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کی،شیر افضل مروت کا دعویٰ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری منگل کی شب پی ٹی آئی سے رابطے کی کوشش کرتے رہے-

    باغی ٹی وی : بدھ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ ہماری ترجیح ن لیگ کے بجائے پی ٹی آئی ہے، پیپلزپارٹی کے رابطے پر دستیاب پارٹی قیادت کو آگاہ کر دیا تھا کراچی کے تمام حلقوں سے تحریک انصاف جیتی ہے، الیکشن کمیشن کے سامنے تمام فارم 45 رکھے، الیکشن کمیشن ممبران سے عجیب و غریب لطیفے سننے کو ملے۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح پیغام دیا، نگراں حکومت اسی طرح مینڈیٹ چراتی رہی تو جمہوری عمل پاکستان میں ختم ہو جائے گا، ہم حکومت بنانے کے لالچ میں ان پارٹیوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن سب کا ذمے دار ہے، الیکشن کمیشن کے رویے سے لگ رہا ہے جان بوجھ کر کیس لٹکا رہے ہیں، ہمیں ہاتھ پاؤں باندھ کر الیکشنز میں پھینکا گیا تھا، سب کچھ نواز شریف کے لیے کیا گیاوہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ دو تہائی اکثریت سے پی ٹی آئی جیتے گی۔

    بھارتی کسانوں کا احتجاج،مودی حکومت نے دہلی کی ناکہ بندی کر دی

    شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا،فیصل کریم کنڈی
    شیر افضل مروت کے بیان پر پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت کو خواب میں بھی آصف زرداری نظر آرہے ہیں،تحریک انصاف کو اگر سرکاری موقف دینا بھی ہے تو کسی سنجیدہ شخص سے دلوائیں، شیر افضل مروت غیر سنجیدہ شخص ہیں ان کا دعویٰ بچکانہ ہے، شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا، شیرافضل مروت کامیڈی شو تو کرسکتے ہیں، لیکن سنجیدہ سیاستدان نہیں بن سکتے، پی ٹی آئی والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اب ان کی حکومت نہیں بن رہی،ہ اگر پی ٹی آئی سے رابطہ کرنا ہوتا تو کسی سنجیدہ شخص کے ذریعے رابطہ کرتے، ایک ایسا شخص جس کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں اس کے ذریعہ رابطہ کیوں کرتے، کبھی کہتے ہیں 160 سیٹیں ہیں، ہوا میں باتیں کرتے ہیں، انہیں خود بھی نہیں پتہ کتنی سیٹیں ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں دھاندلی والی سیٹیں مل سکتی ہیں تو یہ پیپلز پارٹی یا کوئی اورجماعت نہیں دے سکتی، یہ تو عدالت یا ٹریبونل ہی فیصلہ کرسکتا ہے، وہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ 150 سیٹیں جیتی ہیں تو خواہشات اور خواب دیکھنے پر پابندی نہیں، پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کےلیے شہباز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان کیا، تو پھر ان سے رابطہ کیوں اور کس لیے کریں

    واضح رہے کہ منگل کی شب ہی آصف علی زرداری چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پر شہباز شریف، خالد مقبول، علیم خان اور بی اے پی کے صادق سنجرانی کے ساتھ جمع ہوئے تھے اور اس موقع پر چھ جماعتوں پر مشتمل حکمراں اتحاد کا امکان سامنے آیا تھا۔

    وفاقی وزرا کیلئے 15 سینئر رہنماؤں کے نام زیر غور،پی ٹی آئی کا اپوزیشن …

    گلگت بلتستان کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کی آئینی حیثیت کیا ہے،چیف …

  • پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں،پی ٹی آئی سینیٹر

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت بنانا آسان کام نہیں ، مخلوط حکومت میں بارگیننگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی کے پروگرام میں میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت بنانا آسان کام نہیں ، مخلوط حکومت میں بارگیننگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جو بھی حکومت بنے وہ 5 سال کے لیے ہونی چاہیے حکومت سازی کیلئے مزید آزاد ارکان رابطے میں ہیں، پنجاب میں ن لیگ کی مستحکم حکومت آئے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ نے کہا کہ عوام کی خوشحالی کیلئے ن لیگ قیمت دے گی تو پیپلز پارٹی کو بھی قیمت دینا پڑے گی، یہ نہیں ہوسکتا کہ پیپلزپارٹی ہمیں وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا کر نیچے سے سیڑھی کھینچ لے۔

    کیا پاکستان پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے کے انتظار …

    پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ابھی صدر سمیت مختلف عہدوں پر ن لیگ سے کوئی بات نہیں ہوئی،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ولید اقبال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک سکے کے دو رخ ہیں۔

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو نامزد کردیا جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی امیدوار مریم نواز ہوں گے،مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ نوازشریف نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عہدے کیلئے شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے جب کہ وزیراعلیٰ کیلئے مریم نوازشریف امیدوار ہوں گی وازشریف نے پاکستان کے عوام اور سیاسی تعاون فراہم کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں اورانکےقائدین کا شکریہ ادا کیا ہےنواز شریف نے یقین کا اظہار کیا ہےکہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان معاشی خطرات، عوام مہنگائی سے نجات پائیں گے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ق)، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاق میں اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر ملکی سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں آصف زرداری، شہباز شریف، خالد مقبول صدیقی اور صادق سنجرانی نے شرکت کی۔

    پی ایم ایل این کے صدر شہباز شریف کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان …

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنماؤں نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا، پیپلزپارٹی کی قیادت کامؤقف ہے پہلے مرحلے میں پی پی وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنےگی جبکہ دوسرے مرحلے میں پیپلزپارٹی کابینہ کا حصہ بن سکتی ہے۔

    قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) 79، پیپلزپارٹی 54، متحدہ قومی موومنٹ 17، مسلم لیگ (ق) 3، استحکام پاکستان پارٹی 2 اور بلوچستان عوامی پارٹی نے ایک نشست حاصل کی ہے یوں اس اتحاد کو مجموعی طور پر 156 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور مخصوص نشستیں ملنے کے بعد حکومت بنانے کیلئے 172 کا ہندسہ بآسانی عبور کرجائے گاپاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی تعداد 92 ہے اور دیگر جماعتوں نے ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔

    بلاول بھٹو کا خیال ہے کہ کراچی پر صرف انکا حق ہے، فیصل …

  • ہم اپنی مشاورت کر کے باضابطہ اعلان کریں گے،بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس پر ن لیگ کا  ردعمل

    ہم اپنی مشاورت کر کے باضابطہ اعلان کریں گے،بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس پر ن لیگ کا ردعمل

    لاہور: مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو سپورٹ کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ہمیں حکومت بنانے میں سپورٹ کرنا خوش آئند ہے،پیپلزپارٹی اس معاملے پر ہمیں باضابطہ طور پر بتائے گی،بلاول بھٹو نے ابھی پریس کانفرنس کی ہے ہم اپنی مشاورت کر کے باضابطہ اعلان کریں گے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ سابق صدر و شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری صاحب اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری صاحب سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، مسلم لیگ ن کی حمایت کے اعلان پر قائد میاں نواز شریف کی طرف سے اور اپنی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا، امید کرتے ہیں کہ ہم مل کر پاکستان کو تمام سیاسی اور معاشی بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے- انشاللہ

    واضح رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اعلان کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ دیں گے لیکن وزارتیں نہیں لیں گے،بلاول کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی کا دو روزہ اجلاس آج ختم ہوا، ہمیں پاکستان کا ساتھ دینا ہے پاکستان کومستحکم بنانا ہے،پیپلزپارٹی کووفاق میں حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں، ہمیں مینڈیٹ نہیں ملا میں تو وزارت عظمیٰ کا امیدوارنہیں ہوں۔

    جماعت اسلامی کی کے پی اسمبلی میں نمائندگی ختم ہو گئی

    حلقہ این اے 64 سے چودھری سالک حسین کی جیت برقرار،قیصرہ الہی کو شکست

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی

  • میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا امیدوار نہیں ہوں جس کا مینڈیٹ ہے اس کا حق ہے

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس وفاق میں حکومت بنانے کیلئے مینڈیٹ نہیں ہے،خود کو وزیر اعظم کیلئے پیش نہیں کرسکتا،فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینا ہے، وقت آ گیا ہے ہم آج بھی کھپے کا نعرہ لگائیں،مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد میں نہیں جاسکتےپیپلز پارٹی کیبنٹ کا حصہ نہیں ہوگی البتہ ن لیگ کے وزیراعظم کو ووٹ دیں گے ، مسلم لیگ ن کے حوالہ سے کمیٹی اجلاس میں دوستوں نے کافی اعتراض کئے، لوگوں نے شکایات کیں کہ انکے کام نہیں ہوئے اٹھارہ ماہ کی حکومت میں، ہم کمیٹی بنا رہے ہیں جو مسلم لیگ ن ، دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرے گی، اس الیکشن میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ایگزیکٹو کمیٹی میں اراکین نے اعتراض شیئر کئے، لیول پلینگ فیلڈ کی بات ہے،تو اس پر ایک یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی احتجاج کے ساتھ تمام نتائج ملک کے لئے قبول کرے گی،ماضی کی طرح بھی الیکشن رزلٹ پر سوالات اٹھائے ،اگر کوئی سیاسی جماعت حکومت نہ بنا سکی تو دوبارہ انتخابات جانا پڑے گا،پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کیساتھ بات نہیں کریں گے اسکا مطلب تحریک انصاف کی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے نیشنل اسمبلی میں ہم سے زیادہ سیٹیں لی ہیں،

    سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،میرا نہیں خیال کہ اپوزیشن لیڈر بن سکوں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سازی کے لیے ن لیگ کو ووٹ دیں گے ،صرف مسلم لیگ نے ہی ہم سے رابطہ کیا ہے،سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں،دوبارہ الیکشن کی طرف نہیں جانا چاہتے اگر جائیں گے تو پہلے بھی ہمارے لوگ شہید ہوئے، دوبارہ الیکشن نظر ہو گئے تو بھی کوئی سیاسی جماعت قبول نہیں کرے گی، پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ملکر کام کریں،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے لے رہی جو جمہوریت کے حق میں نہیں، لوگوں نے ووٹ اس لئے دیا کہ مسائل حل کر سکیں، بات چیت تو کرنی پڑے گی، سنے بغیر اگر وہ اپنے کام کریں گے تو بسم اللہ کریں، لیکن اس کا نقصان ہو گا، پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو ملک کے حالات ہوں عوام پیپلز پارٹی کی طرف دیکھیں ،آج پیپلز پارٹی پاکستان کھپے کا نعرہ لگا رہی ہے، پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں نہیں لے گی، پیپلز پارٹی اپنے منشور پر عمل کروائے گی اور اہم معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، اپوزیشن لیڈر میرا نہیں خیال کہ میں بن سکوں،

    صدر زرداری اگلے صدر مملکت پاکستان کے امیدوار ہوں گے، بلاول
    بلاول کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوشش کریں گے کہ پیپلز پارٹی حکومت بنائے، پی ڈی ایم پارٹ ٹو اب نہیں بنے گا، پیپلز پارٹی بجٹ و دیگر معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، پیپلز پارٹی صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر شپ کے لئے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، ن لیگ یا کسی بھی جماعت کا وزیراعظم کا امیدوار، وہ انکا ہی فیصلہ ہے،ہمارے فیصلے متفقہ ہوں گے، خواہش ہیں کہ صدر کے الیکشن ہوں تو صدر زرداری حصہ لیں اور صدر بنیں، پاکستان جل رہا ہے اگر کوئی صلاحیت رکھتا ہے اس آگ کو بجھانے کی تو وہ آصف زرداری نہیں ، اس ملک کے لئے ضروری ہے کہ آصف زرداری وفاق کا عہدہ سنبھالیں،

    ن لیگ، تحریک انصاف سمیت سب سیاسی جماعتیں اپنا نہیں ملک کا سوچیں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہیں گے کہ پارلیمنٹ مدت مکمل کرے اور وزیراعظم بھی اپنا ٹرم مکمل کرے،اگر جو بھی ن لیگ کا وزیراعظم کا امیدوار ہے اگر وہ پرانی سیاست کرے گا، نفرت ،تقسیم کی سیاست کرنی ہے تو میرا خیال ہے بہت مشکل ہو گا، اب بہت ضروری ہے کہ نہ صرف مسلم لیگ بلکہ تمام سیاسی جماعتیں، تحریک انصاف بھی اپنے لئے نہ سوچیں، پاکستان کی فکر کریں، جو ماحول بن رہا ہے اس ماحول کا فائدہ ملک کے دشمن اٹھانا چاہیں گے،ہم سیاست کریں ، سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کریں انتہا پسندی کی سیاست چھوڑیں، ذاتی انتقام کی سیاست چھوڑنی پڑے گی، الیکشن مہم کے دوران تنقید کرنی پڑتی ہے، ن لیگ کے خلاف جو مہم چلائی وہ چلانی پڑتی ہے، تنقید کرنا یہ جمہوریت کا حصہ ہے، الیکشن کے دوران ذمہ داری ہے کہ دوسروں کی کوتاہیاں سامنے لائیں، عوام کو بتائیں،اب اگر ن لیگ یا پی ٹی آئی کو بلیک میل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے ، ہم نے جو فیصلہ کیا اس سے ہمیں ضرور نقصان ہو گا، اس فیصلے میں میرا سیاسی نقصان ہوسکتا ہے لیکن ملک کی بربادی نہیں ہونی چاہیےہم نے پاکستان کے عوام کی خاطر فیصلہ کیا میرے کارکنان، خاندان نے شہادتیں دیں،پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک سازش کے تحت ہرایا گیا،پیپلز پارٹی کے ساتھ اس الیکشن میں جو ہوا اس کا فیصلہ کرنا پڑے گا، بار بار ہم جمہوریت کی خاطر قربانی دیتے رہیں اور ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہے، آج فارم 45 کیوں ملتے ہیں، بینظیر نے مشرف کے دور میں یہ فارم 45 والا کام کروایا،کس نے کہا پی ٹی آئی کومیدان چھوڑے، آپ چاہتے ہو پیپلز پارٹی انتہا پسندی کی سیاست کرے، وہ نہیں ہو سکتا، میں نے اپنی مہم اور سیاست میں ثابت کر دیا کہ باقی سیاستدان عمر میں ضرور بڑے ہوں گے لیکن میں نے ملک کے لئے اچھا فیصلہ کیا،

    ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں دیں یا 50 ،کراچی کی ترقی اور امن پر کمپرومائز نہیں کریں گے، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو چلانا ہے اور اسےاستحکام دلانا ہے،پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایسا الیکٹورل سسٹم بنائیں کہ اس پر کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکے،تحریک انصاف آج بھی ایسے فیصلے کررہی ہے جو جمہوریت کے حق میں نہیں ،پیپلز پارٹی ایک سنجیدہ جماعت ہے جو پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے،ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں؟میرا بھی یہ سوال ہے، ہمارے اعتراض ہیں انکا جواب چاہئے، جو دہشت گردی میں ملوث لوگ ہیں مجھے بتایا گیا کہ جو انکے دہشت گرد لوگ تھے انکو بھی الیکشن میں آزاد کروایا گیا ہمارے لوگوں پر حملے ہوئے، فائرنگ ہوئی، آپ انکو 18 سیٹ دیں یا 50 دیں ہم کراچی کے امن اور ترقی پر کمپرومائز نہیں کریں گے، انکو پیغام دیں گے کہ نفرت کی بنیاد پر شہر کو تقسیم نہ کریں،پیپلز پارٹی ملک میں مزید افرا تفری نہیں چاہتی.

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے،مراد علی شاہ

    ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے،مراد علی شاہ

    اسلام آباد: سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام کے شکر گزار ہیں کہ بھاری ووٹوں سے پی پی کو کامیاب کیا-

    باغی ٹی وی: مراد علی شاہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیر صاحب پگارا کو ان کے بھائی اور جی ڈی اے نے خراب کیا، انہیں جی ڈی اے نے استعمال کیا، پیر صاحب اپنے دوست بدل لیں آپ کے مخلص دوست نہیں ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب الیکشن کا اعلان کر دیا تو اس کے بعد انہوں نے ہم سے دس نشستیں مانگیں، آپ کا دس سیٹ مانگنے کا حق نہیں بنتا تھا، پی پی وہی فیصلہ کرے گی جو ملک کے مفاد میں ہو، ایم کیوایم کی پندرہ نشستوں پر حیرت ہے اس کا جائزہ لیں گے ، انہوں نے ایک سال پہلے بلدیاتی الیکشن میں کہا تھا ہم مقابلے کے لیے تیار نہیں، ایک سال میں کیا بات ہو گئی جن کے پولنگ ایجنٹ بھی نہیں تھے وہ پندرہ نشستیں جیت گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیر پگارا نے احتجاجاً سندھ اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو نشستیں بھی زرداری صاحب کو دے دیں،پیر پگارا نے دعویٰ کیا کہ مجھےکہا گیا کہ زرداری صاحب سے الائنس کرلو، نشستیں مل جائیں گی، منع کیا تو کہا کہ پھر جی ڈی اے کے سامنے صفر لکھا ہوا ہے، ایم کیو ایم کے سامنے15ہے۔

    پیر پگارا کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں، یہ اینٹی اسٹیٹ الیکشن تھا، یہ ریٹرننگ افسران کا نہیں کسی اورکا کام ہے، ہم یہ 2 سیٹیں بھی واپس کر دیں گے، ہم قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے، ہمارے احتجاج میں ایمبولینس کوکوئی نہیں روکےگا، ہم کوئی خیرات کی سیٹیں نہیں لیں گے، مجھے کسی دوست نے مشورہ دیا کہ جی ڈی اے ختم کردو،آپ کو دو تین ایم این اے اور ایم پی اے مل جائیں گے، میں نےکہا کہ میں جی ڈی اے ختم نہیں کرسکتا، کہا گیا ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں، ایم کیو ایم کا پی ٹی آئی سے جھگڑا ہے۔

  • پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی(سی ای سی) نے بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز پیپلزپارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے پہلے دن سی ای سی پنجاب کے ارکان نے نگران صوبائی حکومت کے خلاف شکایات کے انبار لگادئیے کہا کہ پنجاب کی نشستوں پر ڈاکا ڈالا گیا جو منتخب ہوئے وہ تو دوڑ میں ہی نہیں تھےجیتی ہوئی نشستوں پرنگران صوبائی حکومت نے انتظامیہ کی مدد سے ہماری کامیابی کوشکست میں بدلا، پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے پی پی بلوچستان کو خراج تحسین پیش کیا اور صوبے میں حکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

    ذرائع کا کہنا ہےکہ سی ای سی میں فیصلہ کیا گیا ہےکہ بلوچستان میں حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں سے رابطوں کے لیے آج اجلاس میں کمیٹی بھی بنائی جائےگی، پہلے دن اجلاس میں (ن) لیگ کی سربراہی میں بننے والی حکومت میں شامل نہ ہونے پر زیاد ہ ارکان نے رائے دی جب کہ ارکان نے پی ٹی آئی کے آزاد ارکان سے بات چیت کرنے پر بھی رائے دی، اجلاس میں تجویز دی گئی کہ (ن) لیگ کی حکومت بنواکر خود مضبوط اپوزیشن کی جائے۔

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف