Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • مسلم لیگ (ن) سندھ کے سینیئر رہنما  پیپلز پارٹی میں شامل

    مسلم لیگ (ن) سندھ کے سینیئر رہنما پیپلز پارٹی میں شامل

    کراچی: مسلم لیگ (ن) سندھ کے سینیئر رہنما رانا احسان نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔

    باغی ٹی وی: کراچی میں وقار مہدی اور ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ ن لیگ سندھ کے سینئر نائب رانا احسان نے اپنے ساتھیوں سمیت شمولیت اختیار کی ہے، ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ رانا احسان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی،میں رانا احسان کو پیپلز پارٹی کو خوش آمدید کہتا ہوں، کراچی میں پیپلز پارٹی مضبوط ہورہی ہے، اب نسبتا الیکشن جیتنا آسان ہوجائے گا۔

    اس موقع پر رانا احسان کا کہنا تھا کہ شمولیتی پروگرام اپنے حلقے میں کروں گا، کثیر تعداد میں لوگوں کو پی پی میں شمولیت کروائیں گے، میں مسلم لیگ (ن) کے مختلف عہدوں پر رہا ہوں، مرکزی و صوبائی عہدوں پر فائز رہا، 2018 میں میں نے 2 انتخاب لڑے تھےجب شہر میں دہشتگردی کا راج تھا تو میرے بھائی نے شہادت پیش کی،کافی عرصے بعد میں نے اپنے نظریے کو بدلا، اس کی وجہ پیپلز پارٹی ہے، اس شہر کی مقبول جماعت پیپلز پارٹی ہے، پیپلز پارٹی کارکنان کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑی ہوتی ہے۔

    سعید غنی نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ہر صورتحال میں ہو سکتے ہیں، عمران خان سے امید نہیں کہ وہ سیاسی اپروچ لائیں گے مذاکرات سے ہم وہ سب نہیں بھول سکتے جو 9مئی کو ہوا تھا، عمران خان سے اچھے فیصلے کی کوئی امید نہیں ہے۔

  • قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    18 دسمبر 1987، ایک ایسی تاریخ ہے جسے میں کبھی نہیں بھول سکتی،یہ وہ دن تھا جب میری قائد، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر، صدر آصف علی زرداری کے درمیان شادی ہوئی تھی۔
    پیپلز پارٹی کی رہنما رکن قومی اسمبلی،سحر کامران نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی، یہ وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہے اور ہمارے دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک کہانی چھوڑ جاتی ہے”۔سحر کامران نے اس دن کی اہمیت اور اس لمحے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو خوش نصیب سمجھتی ہیں کہ انہوں نے اس خوبصورت جوڑے کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شادی صرف ایک رشتہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی محبت کی علامت تھی جو وقت کی قید سے آزاد تھی اور جس نے دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا۔

    سحر کامران نے مزید کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی جوڑی نہ صرف محبت کی مثال تھی بلکہ ان کی شخصیتوں میں وہ وقار، عزت اور وقار تھا جو کہ ایک کامیاب زندگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سحر کامران نے اس یادگار دن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف سیاسی تاریخ کا ایک سنگ میل تھا بلکہ اس نے محبت کی طاقت کو بھی اجاگر کیا۔

    سحر کامران نے اس موقع پر مزید کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کی کہانی ہمیشہ کے لیے ایک مثال بن گئی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ محبت صرف دلوں میں نہیں بلکہ پورے معاشرتی اور سیاسی منظرنامے میں بھی ایک قوی طاقت بن سکتی ہے۔

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    سحرکامران کی اسٹریٹجک ویژن گروپ،روس اسلامک ولڈ کے اجلاس میں شرکت

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

  • بلاول زرداری سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں

    بلاول زرداری سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سندھ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے وزیر محمد علی ملکانی کی ملاقات ہوئی ہے

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سندھ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے وزیر محمد علی ملکانی نے محکمے کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ لائیو اسٹاک کا ملک کے جی ڈی پی میں 14 فیصد حصہ ہے، سندھ کا انسٹی ٹیوٹ آف اینمل ہیلتھ 74 اقسام کی جانوروں کی ادویات خود تیار کرتا ہے، سندھ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ جلد ایف ایم ڈی ویکسین تیار کرلے گا جو گوشت کی برآمد میں معاون ثابت ہوگی، سندھ میں جلد لائیو اسٹاک کی نمائش کا انعقاد بھی کیا جائے گا،

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پی پی پی گھوٹکی کے رہنما اور پیٹرولیم اینڈ سوشل ڈولپمنٹ کمیٹی گھوٹکی کے چیئرمین عبدالباری خان پتافی نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی، اس موقع پر گھوٹکی کی سیاسی صورت حال کے علاوہ ضلع میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل پر بات چیت ہوئی۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے تھرپارکر سے رکن سندھ اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی، اس موقع پر مٹھی کے عوامی مسائل اور ان کے حل پر بریفنگ دی گئی۔

  • خیبر پختونخوا حکومت اداروں سے لڑنے کی بجائے دہشتگردوں سے لڑے،شرجیل میمن

    خیبر پختونخوا حکومت اداروں سے لڑنے کی بجائے دہشتگردوں سے لڑے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ چینی وفد نے شعبہ ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں چینی سرمایہ کاروں نے ای وی (الیکٹرک گاڑیوں) ٹیکسیوں اور ای وی بسوں کے پاکستان میں متعارف کرانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ محکمۂ ٹرانسپورٹ میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے ہر شہری کو سستی اور معیاری سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔ دھابیجی اکنامک زون میں دس سال ٹیکس ہالیڈے، مشنیری کی ٹیکس فری درآمد ہوگی، ہماری پہلی ترجیح لوگوں کو روزگار فراہم کرنا ہے،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی گلوبل رینکنگ میں پاکستان چھٹے نمبر پر سندھ کی وجہ سے ہے، سندھ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نےموٹر گاڑیوں کی فٹنس کےلیےنئے ایس او پیز نافذ کیئےہیں جو 1 دسمبر 2024 سے لاگو ہونگے اس اقدام کا مقصد سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا ماحولیاتی حالات کو بہتر بنانا اور قیمتی انسانی جانوں کےضیاع کو روکنا ہے،وفاقی حکومت ان عناصر کیخلاف کارروائی کرے جو انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، موٹر وہیکل فٹنس کے حوالے سے نئے ایس او پیز یکم دسمبر سے نافذ کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو بہتر اور محفوظ سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ پرانے فٹنس کارڈز کو مسترد کیا جا رہا ہے اور نئے فٹنس کارڈز کے اجراء کے عمل کو شروع کیا جا چکا ہے۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے وفاقی اداروں سے لڑنے کے بجائے دہشت گردوں سے لڑیں اور اپنے صوبے کے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کریں جس کہ ذمہ داری آپ کی حکومت کے کندھوں پر ہے، پی ٹی آئی والے مذاکرات بھی گن پوائنٹ پر کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی عمل میں مسلسل مداخلت اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جو کہ جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ خیبرپختونخوا بہادر لوگوں کا صوبہ ہے، لیکن وہاں کے حکمران نااہل ہیں۔ کے پی کے وزیرِ اعلیٰ عمران خان کی قیادت میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی مؤثر حکمت عملی نہیں اپنائی جا رہی، حالانکہ صوبے کا سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی ہے۔ کے پی کی حکومت کا سربراہ دھمکیوں کو پسند کرتا ہے، اور یہ وہی شخص ہے جس نے پہلے بل جلائے تھے، جو ایک قسم کی سول نافرمانی تھی، وزیرِ اعلیٰ کو چاہیے کہ دہشت گردوں کے خلاف ایک حکمت عملی تیار کرے تاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی دسمبر کے مہینے میں مختلف تقاریب کا انعقاد کر رہی ہے، جن میں اہم ترین تقریب شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کی ہوگی جو کہ گڑھی خدا بخش میں منائی جائے گی۔ یہ تقریب پارٹی کے کارکنوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس موقع پر پیپلز پارٹی کے عزم و حوصلے کو دوبارہ اجاگر کیا جائے گا،پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑے گی اور وہ کسی بھی قسم کی دھمکیوں یا سیاسی چالوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔ پی ٹی آئی والے ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کا عزم اور جرات انہیں شکست دے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ چین،13 ارب کی سرمایہ کاری کا وعدہ

    سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے رکھی،عطا تارڑ

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

  • شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے  تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ڈینگی کے ذمہ داروں کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے سوال کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نیلسن عظیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک جن لوگوں کو پکڑا گیا، ان پر مقدمے درج ہوئے ہیں، ڈی ایچ او اسلام آباد کی ٹیم نے چند علاقوں کو وزٹ کیا اور وہاں سے جو کیس آئے، جو ذمہ دار تھے انکے خلاف مقدمات درج ہوئے، عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں.

    سحر کامران نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے قاتلوں کو معاف کیا جا سکتا ہے نہ ہی سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے نیشنل ایکشن پلان اس واقعہ کے بعد سامنے آیا تھا، میں سمجھتی ہوں اس کی بات کرنا ضروری ہے،ا فواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور کامیابی ملی، دہشت گردوں کو دوبارہ بسایا گیا جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا، احتساب ہونا چاہئے کہ کیونکہ پالیسیز کا تسلسل نہیں ہوتا، قربانیوں کو کیوں ضائع ہونے دیا جا رہا، شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی، سوات آپریشن ہوا تو وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا، نیشنل ایکشن پلان کا دوسرا حصہ انتہا پسندی کے خاتمے کا اس پر عمل نہیں ہو سکا، ہمیں اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے، معاشرے سے نفرت، انتہا پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی معصوم بچوں کے قاتلوں کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم شہدا کی قربانی قوم پہ قرض ہے، ملک سے نفرت، تقسیم، انتہا پسند اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پہ عمل درآمد ضروری ہے۔

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    نواب شاہ: رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے ضلع شہید بینظیر آباد میں پولیو کے خلاف مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس مہم کے تحت ضلع میں پانچ سال سے کم عمر کے 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

    آج نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کے آغاز کے موقع پر ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی سربراہی بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور نے کی۔ اس موقع پر انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو ان کی متاثرکن کارکردگی پر اعترافی اسناد بھی دی گئیں۔رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی اور یہ سال کی آخری پولیو مہم ہے۔ اس سال پاکستان میں پولیو کے 64 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس وبا کے خاتمے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔”انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنائیں۔ "صرف والدین کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ ہمیں اپنے دوستوں، خاندان، اور پڑوسیوں میں بھی پولیو سے متعلق آگاہی پھیلانی ہوگی۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ 5 سال سے کم عمر کا ہر بچہ پولیو کے قطرے ضرور پائے۔”

    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور کہا کہ "یہ مہم صرف ایک صحت کی مہم نہیں، بلکہ قوم کی ذمہ داری ہے۔ پولیو سے بچاؤ کے قطرے ہر بچے کے حق میں ہیں اور ہمیں اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔”

    اس مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا اور پولیو کے کیسز کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اس دوران، علاقے بھر میں بچوں کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پھیلائیں گی اور والدین کو پولیو کے بارے میں آگاہی فراہم کریں گی۔پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو کی روک تھام کی کوششیں جاری ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس خطرناک بیماری سے بچایا جا سکے اور ملک کو پولیو فری بنایا جا سکے۔

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

  • سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر دس سال قبل ہونے والے خون آلود حملے کی یادیں آج بھی قوم کے دلوں میں ایک گھاؤ کی طرح تازہ ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن ،پپپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے اس سانحے کی دسویں برسی کے موقع پر کہا کہ اس سانحے کے اثرات اور زخم آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر کا یہ واقعہ قوم کے دل میں ایک ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا اور ہمیشہ کے لیے چبھتا رہے گا۔ اس وحشیانہ حملے میں 150 سے زائد بے گناہ افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں زیادہ تر معصوم بچے شامل تھے، اور یہ واقعہ انسانیت کو جڑ سے ہلا دینے والا تھا۔

    اپنے پیغام میں سحر کامران نے کہا، "قوم یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان بدصورت عناصر کے خلاف اپنی آخری سانس تک لڑے گی۔” انہوں نے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں اہم بہتری کو سراہا، جسے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز اور ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تندہی اور جانفشانی کی بدولت ہی ہم دہشت گردی کے ناسور کے خلاف لڑنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔تاہم سحر کامران نے اس عزم کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کی مکمل روح کے ساتھ عملداری ضروری ہے تاکہ ہم اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکیں۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور محفوظ مستقبل یقینی بنائیں گے۔”

    یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے میں 150 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 132 بچے شامل تھے، جو اس سانحے کو پاکستان کی تاریخ کا ایک دردناک باب بنا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو کے خلاف 2024 کی آخری مہم کے آغاز کے موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ ملک کو اس موذی بیماری سے مکمل طور پر نجات مل سکے۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا: "ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہمارا کوئی بھی بچہ پولیو سے محفوظ نہ رہے۔ 64 پولیو کے کیسز صرف اس سال رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پولیو کے خلاف جاری اس مہم میں ہر شہری کا کردار انتہائی اہم ہے۔”آصفہ بھٹو نے مزید کہا کہ "یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر بچہ پانچ سال سے کم عمر کو ویکسین ملے۔ آپ کے ایک چھوٹے سے اقدام سے ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔”

    پولیو مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی، جس میں تمام پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا مقصد ہے۔ آصفہ بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسین کے بارے میں اپنے دوستوں، خاندان اور ہمسایوں میں آگاہی پیدا کریں اور اس قومی مہم میں حصہ لیں۔”ہم سب کی کوششوں سے ہی ہم پولیو کو شکست دے سکتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "یہ مہم صرف حکومت کا کام نہیں ہے، بلکہ ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ پولیو کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو اور ہر بچے کو ویکسین کے قطرے پلوانے میں مدد کرے۔ اگر ہم نے اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، تو ہمیں اجتماعی طور پر کوشش کرنی ہوگی۔”

    پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور دیگر ادارے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عوامی تعاون ضروری ہے۔ آصفہ بھٹو نے اس مہم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ محفوظ ہو گا، تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو گا۔انہوں نے مزید کہا: "ہم سب مل کر اپنے بچوں کو پولیو سے بچا سکتے ہیں، اور پاکستان کو اس بیماری سے آزاد کر سکتے ہیں۔”پولیو کے قطرے نہ صرف بچوں کی زندگیوں کو بچاتے ہیں بلکہ ایک بہتر، صحت مند پاکستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ بھر میں سال کی آخری انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہو گئی ہے،محکمۂ صحت سندھ کے مطابق 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 22 دسمبر تک جاری رہے گی،مہم کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، 80 ہزار فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے،انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے لیے 15 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے،پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے 63 کیسز میں سے 17 کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں،محکمۂ صحت سندھ نے والدین سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے بچوں میں قوت مدافعت مضبوط ہو گی،محکمۂ صحت سندھ نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے رہ جانے والے بچوں کے والدین کو ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،پاکستان اور افغانستان میں پولیو ابھی بھی موجود ہے اس لیے میڈیا، کمیونٹی رہنماؤں اور علماء سے انسدادِ پولیو مہم کی حمایت کی درخواست ہے۔

  • پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا پہلے بھی حصہ نہیں تھی، آئندہ بھی نہیں ہو گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شہر اقتدار اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو بعض چیزوں کے حوالے سے تحفظات تھے جس پر مذاکرات جاری ہیں، کوئی حتمی بات ہو گی تو سب کو آگاہ کیا جائے گا۔یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سے حکومت کا جو تحریری معاہدہ ہوا اس پر عمل کیا جائے، تمام سیاسی مسائل کا حل مذاکرات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مہذب دنیا میں مذاکرات سے ہی مسائل کا حل نکالا جاتا ہے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جب بلایا جائے گا تو نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔

    پولیو وائرس ملک کے 8 اضلاع میں موجود

    مریم نواز دورہ چین مکمل کرکے آج لاہور پہنچیں گی

    کراچی میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

  • مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات  کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں

    پاکستان کے صدر مملکت، آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے اس بل کی مختلف شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے بل میں مدارس کی تعریف میں تضاد موجود ہے اور موجودہ قوانین کے تحت نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بل کی منظوری سے مدارس کے حوالے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کا پاکستان کے تعلیمی نظام اور بین الاقوامی شہرت پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    صدر زرداری نے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ قوانین میں مدارس کے لیے واضح ضوابط اور رہنمائی فراہم کی گئی ہے، جس کی بنا پر نئے بل کی ضرورت نہیں ہے۔ ان موجودہ قوانین کو بہتر بنانے اور ان پر عملدرآمد کی کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے۔صدر مملکت نے نئے بل میں مدارس کی تعریف کے حوالے سے تضاد کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بل میں مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد انہیں تعلیمی اداروں کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔ تاہم، یہ تضاد پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مدارس صرف تعلیمی مقصد کے لیے قائم ہیں یا ان کا کردار وسیع تر ہے، جس میں مذہبی، سماجی اور ثقافتی پہلو بھی شامل ہیں۔ اس تضاد کے باعث، بل کی منظوری سے مدارس کے تعلیمی کردار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    صدر زرداری نے یہ بھی کہا کہ مدارس کو بحیثیت سوسائٹی رجسٹر کرانے سے ان کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، جس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا، تو ان کا استعمال تعلیمی مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے مدارس کو صرف تعلیمی اداروں کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ان کے دیگر سماجی، مذہبی یا سیاسی کردار بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    صدر مملکت نے بل کی منظوری کے نتیجے میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مختلف مدارس کو ایک ہی سوسائٹی کے تحت رجسٹر کیا جائے گا، تو ان مدارس میں اختلافات اور فرقہ وارانہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی سوسائٹی میں مختلف مدارس کی موجودگی سے فرقہ وارانہ تشدد اور عدم برداشت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، جس سے ملک میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ جب مدارس مختلف تنظیموں یا افراد کی ملکیت بن جائیں گے، تو ان کے اندر مفادات کی جنگ شروع ہو سکتی ہے، جس سے مدارس کی انتظامیہ میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ نہ صرف مدارس کے اندر بلکہ مقامی کمیونٹی میں بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے بل کی منظوری کے عالمی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے پاکستان کے حوالے سے عالمی اداروں جیسے ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی تنظیموں کے ردعمل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی ادارے پاکستان کے تعلیمی نظام اور مدارس کی رجسٹریشن پر منفی رائے قائم کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ریٹنگز پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس کا اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے نقصان ہو سکتا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن کا اثر نہ صرف مدارس کے تعلیمی نظام پر پڑے گا، بلکہ اس کا پاکستان کے داخلی امن و امان، فرقہ واریت، اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، مدارس کی رجسٹریشن کے لیے موجودہ قوانین میں بہتری لانا اور ان پر مؤثر عمل درآمد کرنا زیادہ مناسب حل ہو گا۔

    اس موقع پر صدر نے تجویز دی کہ حکومت اس بل کو دوبارہ نظرثانی کرے اور مدارس کے حوالے سے موجودہ قانونی فریم ورک میں ضروری اصلاحات کرے تاکہ مدارس کے تعلیمی اور سماجی کردار کو بہتر بنایا جا سکے، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ،مولانا فضل الرحمان

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال