Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر دس سال قبل ہونے والے خون آلود حملے کی یادیں آج بھی قوم کے دلوں میں ایک گھاؤ کی طرح تازہ ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن ،پپپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے اس سانحے کی دسویں برسی کے موقع پر کہا کہ اس سانحے کے اثرات اور زخم آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر کا یہ واقعہ قوم کے دل میں ایک ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا اور ہمیشہ کے لیے چبھتا رہے گا۔ اس وحشیانہ حملے میں 150 سے زائد بے گناہ افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں زیادہ تر معصوم بچے شامل تھے، اور یہ واقعہ انسانیت کو جڑ سے ہلا دینے والا تھا۔

    اپنے پیغام میں سحر کامران نے کہا، "قوم یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان بدصورت عناصر کے خلاف اپنی آخری سانس تک لڑے گی۔” انہوں نے پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں اہم بہتری کو سراہا، جسے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز اور ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تندہی اور جانفشانی کی بدولت ہی ہم دہشت گردی کے ناسور کے خلاف لڑنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔تاہم سحر کامران نے اس عزم کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کی مکمل روح کے ساتھ عملداری ضروری ہے تاکہ ہم اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکیں۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور محفوظ مستقبل یقینی بنائیں گے۔”

    یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملے میں 150 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 132 بچے شامل تھے، جو اس سانحے کو پاکستان کی تاریخ کا ایک دردناک باب بنا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

  • ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو کے خلاف 2024 کی آخری مہم کے آغاز کے موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ ملک کو اس موذی بیماری سے مکمل طور پر نجات مل سکے۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا: "ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہمارا کوئی بھی بچہ پولیو سے محفوظ نہ رہے۔ 64 پولیو کے کیسز صرف اس سال رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پولیو کے خلاف جاری اس مہم میں ہر شہری کا کردار انتہائی اہم ہے۔”آصفہ بھٹو نے مزید کہا کہ "یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر بچہ پانچ سال سے کم عمر کو ویکسین ملے۔ آپ کے ایک چھوٹے سے اقدام سے ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔”

    پولیو مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی، جس میں تمام پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا مقصد ہے۔ آصفہ بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسین کے بارے میں اپنے دوستوں، خاندان اور ہمسایوں میں آگاہی پیدا کریں اور اس قومی مہم میں حصہ لیں۔”ہم سب کی کوششوں سے ہی ہم پولیو کو شکست دے سکتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "یہ مہم صرف حکومت کا کام نہیں ہے، بلکہ ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ پولیو کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو اور ہر بچے کو ویکسین کے قطرے پلوانے میں مدد کرے۔ اگر ہم نے اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، تو ہمیں اجتماعی طور پر کوشش کرنی ہوگی۔”

    پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور دیگر ادارے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عوامی تعاون ضروری ہے۔ آصفہ بھٹو نے اس مہم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ محفوظ ہو گا، تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو گا۔انہوں نے مزید کہا: "ہم سب مل کر اپنے بچوں کو پولیو سے بچا سکتے ہیں، اور پاکستان کو اس بیماری سے آزاد کر سکتے ہیں۔”پولیو کے قطرے نہ صرف بچوں کی زندگیوں کو بچاتے ہیں بلکہ ایک بہتر، صحت مند پاکستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ بھر میں سال کی آخری انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہو گئی ہے،محکمۂ صحت سندھ کے مطابق 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 22 دسمبر تک جاری رہے گی،مہم کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، 80 ہزار فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے،انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے لیے 15 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے،پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے 63 کیسز میں سے 17 کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں،محکمۂ صحت سندھ نے والدین سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے بچوں میں قوت مدافعت مضبوط ہو گی،محکمۂ صحت سندھ نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے رہ جانے والے بچوں کے والدین کو ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،پاکستان اور افغانستان میں پولیو ابھی بھی موجود ہے اس لیے میڈیا، کمیونٹی رہنماؤں اور علماء سے انسدادِ پولیو مہم کی حمایت کی درخواست ہے۔

  • پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

    پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا پہلے بھی حصہ نہیں تھی، آئندہ بھی نہیں ہو گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شہر اقتدار اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو بعض چیزوں کے حوالے سے تحفظات تھے جس پر مذاکرات جاری ہیں، کوئی حتمی بات ہو گی تو سب کو آگاہ کیا جائے گا۔یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سے حکومت کا جو تحریری معاہدہ ہوا اس پر عمل کیا جائے، تمام سیاسی مسائل کا حل مذاکرات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مہذب دنیا میں مذاکرات سے ہی مسائل کا حل نکالا جاتا ہے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جب بلایا جائے گا تو نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔

    پولیو وائرس ملک کے 8 اضلاع میں موجود

    مریم نواز دورہ چین مکمل کرکے آج لاہور پہنچیں گی

    کراچی میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

  • مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات  کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات

    مدارس رجسٹریشن بل پر صدر مملکت کے اعتراضات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں

    پاکستان کے صدر مملکت، آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے اس بل کی مختلف شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے بل میں مدارس کی تعریف میں تضاد موجود ہے اور موجودہ قوانین کے تحت نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بل کی منظوری سے مدارس کے حوالے سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کا پاکستان کے تعلیمی نظام اور بین الاقوامی شہرت پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    صدر زرداری نے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ قوانین میں مدارس کے لیے واضح ضوابط اور رہنمائی فراہم کی گئی ہے، جس کی بنا پر نئے بل کی ضرورت نہیں ہے۔ ان موجودہ قوانین کو بہتر بنانے اور ان پر عملدرآمد کی کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے۔صدر مملکت نے نئے بل میں مدارس کی تعریف کے حوالے سے تضاد کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بل میں مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد انہیں تعلیمی اداروں کے طور پر تسلیم کرنا ہے۔ تاہم، یہ تضاد پیدا ہو رہا ہے کہ کیا مدارس صرف تعلیمی مقصد کے لیے قائم ہیں یا ان کا کردار وسیع تر ہے، جس میں مذہبی، سماجی اور ثقافتی پہلو بھی شامل ہیں۔ اس تضاد کے باعث، بل کی منظوری سے مدارس کے تعلیمی کردار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    صدر زرداری نے یہ بھی کہا کہ مدارس کو بحیثیت سوسائٹی رجسٹر کرانے سے ان کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، جس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا، تو ان کا استعمال تعلیمی مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے مدارس کو صرف تعلیمی اداروں کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ان کے دیگر سماجی، مذہبی یا سیاسی کردار بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    صدر مملکت نے بل کی منظوری کے نتیجے میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مختلف مدارس کو ایک ہی سوسائٹی کے تحت رجسٹر کیا جائے گا، تو ان مدارس میں اختلافات اور فرقہ وارانہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی سوسائٹی میں مختلف مدارس کی موجودگی سے فرقہ وارانہ تشدد اور عدم برداشت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، جس سے ملک میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ مدارس کو سوسائٹی کے طور پر رجسٹر کرانے سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ جب مدارس مختلف تنظیموں یا افراد کی ملکیت بن جائیں گے، تو ان کے اندر مفادات کی جنگ شروع ہو سکتی ہے، جس سے مدارس کی انتظامیہ میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ نہ صرف مدارس کے اندر بلکہ مقامی کمیونٹی میں بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے بل کی منظوری کے عالمی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری سے پاکستان کے حوالے سے عالمی اداروں جیسے ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی تنظیموں کے ردعمل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی ادارے پاکستان کے تعلیمی نظام اور مدارس کی رجسٹریشن پر منفی رائے قائم کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ریٹنگز پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جس کا اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے نقصان ہو سکتا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں، جن کا اثر نہ صرف مدارس کے تعلیمی نظام پر پڑے گا، بلکہ اس کا پاکستان کے داخلی امن و امان، فرقہ واریت، اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، مدارس کی رجسٹریشن کے لیے موجودہ قوانین میں بہتری لانا اور ان پر مؤثر عمل درآمد کرنا زیادہ مناسب حل ہو گا۔

    اس موقع پر صدر نے تجویز دی کہ حکومت اس بل کو دوبارہ نظرثانی کرے اور مدارس کے حوالے سے موجودہ قانونی فریم ورک میں ضروری اصلاحات کرے تاکہ مدارس کے تعلیمی اور سماجی کردار کو بہتر بنایا جا سکے، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    حکومت نے آج اجلاس بلا کر علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی ،مولانا فضل الرحمان

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    لگتا ہے وزرا نے ایوان کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا، شازیہ مری

    ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شہریار خان آفریدی کی ہمشیرہ کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات سے قبل نکتہ اعتراض دینے سے انکار کردیا ،شازیہ مری نے کہا کہ آپ کی رولنگ کے باوجود آج بھی ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔ کیا آپ کی ناراضی یا رولنگ کا حکومت کو کوئی خیال نہیں ہے؟ پارلیمانی سیکرٹری کا میں احترام کرتی ہوں لیکن ایوان پر ،عوام پر مہربانی کریں، وفاقی حکومت ذمہ دار ہے کیا آپ کے رولنگ کی وقعت نہیں، آج بھی کوئی وزیر ایوان میں موجود نہیں،شاید وزیروں نے کاروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سارے معاملے پر کل خط لکھا ہے۔پہلے وقفہ سوالات، ایجنڈا اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جاسکتا ہے،

    اپوزیشن ارکان کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کی اجازت مانگی گئی ،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس طرح ایجنڈا رہ جاتا ہے، شازیہ مری نےپارلیمانی سیکرٹری سے اپنے سوال کا جواب لینے سے انکار کر دیا،شازیہ مری نے کہا کہ میرا سوال اتنا اہم ہے، سانگھڑ کے لوگوں کو تیل کے ذخائر کے عوض کیا مل رہا ہے؟ اسد قیصر نے کہا کہ آپ کے مسلسل نوٹس لینے کے باوجود حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی۔حکومت مسائل کا حل تلاش کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اسد قیصر نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرنے کا مطالبہ کر دیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ دس منٹ کا وقفہ لے رہے ہیں۔وقفے کے بعد وزراء کے نے آنے پر ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی جائے گی۔

    واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔اسد قیصر
    وقفے کے بعد دوبارہ اجلاس ہوا،پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کل میڈیا پر جو خبریں چل رہی ہیں میرے بارے میں کہ کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ ہو رہے ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کرنے گیا تھا، وہاں کوئی مذاکرات یا ڈائیلاگ نہیں ہوئے۔ کل مزید خبریں چلیں کہ حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو میں پھر سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت یا ڈائیلاگ نہیں ہوئی۔ ہم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، اور جب حکومت سنجیدگی دکھائے گی اور عمران خان کی اجازت ہو گی، تب بات چیت کی جائے گی۔

    رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے درآمدی گیس اور مقامی گیس کو ایک قیمت پر دینے کے مضحکہ خیز تجویز کو مسترد کر دیا۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ جہاں ڈومیسٹک کنزیومر کی ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے، ہر ایک کو کھانا بنانے کے لئے گیس چاہئے، گیس نہیں مل رہی، ہمارا اور عوام کا درست جواب نہ دے کر ٹائم ضائع کیا جا رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ آر ایل این کے گاہک نہیں، یہ مہنگی گیس ہے،

    حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی،شازیہ مری
    اپوزیشن اراکین کو فلور نا ملنے پر احتجاج کیا گیا، آغا رفیع اللہ نے اسد قیصر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو اپنے لیڈر کے حوالے سے بات کرنی ہے پریس کانفرنس کر لیں۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ایران عالمی عدالت میں گیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حکومت گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی۔ گیس کی طلب بڑھنے کے باوجود قدرتی گیس کیپٹو پاور پلانٹس کو کیوں دی جا رہی ہے؟وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں میں نے کیا کہا جس پر اتنی ناراضی ہوگئی۔ آج تو پیپلز پارٹی والے سارے بہت ناراض لگ رہے ہیں۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو قدرتی گیس ایل این جی کی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس دستیاب ایل این جی کی کی قیمت زیادہ ہے۔ جب تک ہم گیس کی یکساں قیمت نہیں کریں گے تب تک اس کے خریدار نہیں ہوں گے،گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی یکساں قیمتوں پر منحصر ہے ۔ ۔یہ عوامی اور ملکی مقدمہ ہے۔اس حوالے سے پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پُر عزم ہیں، دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے دوروں نے برادرانہ تعلقات کو تقویت دی ہے، دوروں اور معاہدوں سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے،منصوبے سے دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلۂ خیال ہوا،سی پیک سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی، 2 لاکھ 36 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں، یہ منصوبہ پاکستان کے جغر افیائی محلِ وقوع کو اقتصادی فائدے میں بدل رہا ہے۔

    گوجرہ: چوری کی کوشش ناکام، چور روشن دان میں پھنس کر ہلاک

    ڈیرہ غازیخان:انسدادِ پولیو مہم,8 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے

    دہلی،شامی سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرا دیا گیا

  • پی ٹی آئی نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں،شیری رحمان

    پی ٹی آئی نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں،شیری رحمان

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے روز بیانیہ بدلتے ہیں، سول نافرمانی کی بات کرتے ہیں اور مذاکرات کی بھی، پی ٹی آئی کو معافی مانگنا پڑے گی۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ میں دوران خطاب شیری رحمان نے کہا نو مئی کو آپ نے جو کیا وہ کسی پارٹی نے نہیں کیا، بات چیت یکطرفہ طور پر نہیں ہوسکتی، جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے پی ٹی آئی والے روز بیانیہ بدلتے ہیں، سول نافرمانی کی بات کرتے ہیں اور مذاکرا ت کی بھی، پی ٹی آئی کو معافی مانگنا پڑے گی، کسی کو یاد ہے کہ پی ٹی آئی دور میں مخالفین کیخلاف کیسز بنائے گئے؟ ہم جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے، ہم نے ایسی آزادی نہیں مانگی جو پی ٹی آئی والے مانگتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے سیل میں جوکچھ موجود ہے، ہم اسے نہیں ہٹانا چاہتے، اگر ہم آپ کے ساتھ ناانصافی کریں گے تو ہمارے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی، آپ نے گالم گلوچ کا راج قائم کیا اور ڈنڈے لے کر چلتے ہیں، مذاکرات کے لیے یکطرفہ شرائط نہیں ہوسکتیں، ملک کا استحکام اس وقت نازک مرحلے پر ہے، پی ٹی آئی کو اپنے کیے پر معافی مانگنا پڑے گی، معافی آپ مانگیں، ہم سے کس منہ سے معافی منگوا رہے ہیں؟

    شیری رحمان نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں لانگ مارچ کیا لیکن ایک گملا نہیں ٹوٹا، آپ کا لیڈر کہتا ہے میں ہوں تو سب کچھ ہےآپ آئی ایم ایف کو خط لکھتے ہیں تاکہ ملک کی معیشت تباہ ہو، آپ کے پاس آنسو گیس کے شیل کہاں سے آئے تھے؟ تحریک انصاف نے ریاست پر حملہ کیا، اب آپ لوگوں کےِ’’فیض یاب‘’ ہونے کا وقت گزرچکا۔

    انہوں نےکہا کہ بنیادی حقوق کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا نام نہ لیا جائے، ہم نے ہمیشہ سیاسی تحمل سے کام لیا ہے،آپ ایک ایک طرف سول نافرمانی کی کال دیں، اور دوسری طرف مذاکرات، یہ نہیں ہوسکتا کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر احتجاج ہو، سنگجانی کی اجازت دی تو وہاں احتجاج کر لیتے، آپ نے دارالخلافہ میں تماشا کیا، پُرتشدد احتجاج کی کسی طور اجازت نہیں ہونی چاہیےآپ نے ریاست پر حملہ کیا، جس کے شواہد موجود ہیں، جمہور کے لیے لڑائی زہر کے پیالے پی کرکی جاتی ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ ہم ہیرو اور آپ زیرو ہیں، آپ نے 9 مئی کو جو کچھ کیا وہ آج تک کسی سیاسی پارٹی نے نہیں کیا کسی طور پر پرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہم نے ایسی آزادی نہیں مانگی جو پی ٹی آئی والے مانگتے ہیں، آزادی ذمہ داری سے آتی ہے، ہم جلاؤ گھیراؤ کو آزادی نہیں سمجھتے خود کو بچانے سے پہلے ملک بچانےکی بات ہونا چاہیے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ صدر زرداری گرفتار ہوئے توانہوں نے ڈنڈے نہیں برسائے ، ہم آپ کے ساتھ ناانصافی کریں گے تو ہم بھی بھگتیں گے، میں نے کئی بار کہا کہ اتنا ظلم کرو جتنا برداشت کرسکوپیپلزپارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں، ہم نے ڈنڈے کھائے ہیں ، چلائے نہیں، آپ نے فریال تالپور اور مریم نواز کو کیسے اٹھایا تھا؟

  • افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک منقسم پارٹی بن چکی ہے اور اس کے اندر کا کوئی فرد نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کسی کا قبلہ ایک طرف ہے تو کسی کا قبلہ دوسری طرف ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنما ایک دوسرے سے متضاد نظریات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے ہدایات لے رہے ہیں۔ "کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ یہ پارلیمان میں آئیں اور یہاں آ کر سیاست کریں۔”شرمیلا فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما ملک دشمن بن جائیں گے اور مسلح افواج کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ "اگر آپ اپنی مسلح افواج کے خلاف ہوں گے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، کیونکہ ملکی دفاع اور افواج کا وقار ہر شہری کا فرض ہوتا ہے۔”

    شرمیلا فاروقی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاست کو پارلیمنٹ کے اندر کریں اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں۔ پی ٹی آئی میں بے چینی اور انتشار کا ماحول ہے اور پارٹی کے داخلی اختلافات اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    طیفی بٹ بہنوئی قتل کیس،امیر فتح ٹیپو کی ضمانت خارج

    امریکہ میں پاکستانی سفیر کی امریکی کانگریس کے اراکین سے ملاقاتیں

  • پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے اور میڈیکل سٹی کے قیام کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ شہر میں صحت کی سہولتیں مزید بہتر ہو سکیں۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان دنیا کے بہترین ممالک میں شامل ہے جہاں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر طرح کا موسم، قدرتی وسائل، اور مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے کئی مواقع ہیں جن سے دنیا بھر کے سرمایہ کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سندھ حکومت تھر پارکر میں کوئلہ نکالنے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے، جس کے ذریعے 200 سال تک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، تھر پارکر میں کوئلہ کی وسیع مقدار کا موجود ہونا پاکستان کے توانائی کے بحران کے حل کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔شرجیل میمن نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ملک میں کئی کامیاب منصوبوں کی بنیاد رکھی ہے، جنہیں نہ صرف ملک بھر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے منصوبے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک نمونہ بنے ہیں، اور ان منصوبوں کی کامیابی نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چین کے سرمایہ کار مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، جن میں میڈیکل سٹی کے منصوبے کا قیام بھی شامل ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ یہ میڈیکل سٹی کراچی کے شہریوں کو عالمی معیار کی صحت کی سہولتیں فراہم کرے گا، اور اس منصوبے کی تکمیل سے شہر میں صحت کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مختلف منصوبوں کے ذریعے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید تقویت ملے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ کی یہ تمام کاوشیں سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہیں اور ان کا مقصد ترقی کی راہوں پر مزید تیزی سے آگے بڑھنا ہے۔

    کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر چل رہی ہے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    کیا کوئی شخص گولیاں، شاٹ گن لے کر مظاہرے میں شریک ہوتا ہے؟ شرجیل میمن

    عظمیٰ بخاری پہلے زمینی حقائق معلوم کریں پھر بیان دیں،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    شرجیل میمن سے یو اے ای کے قونصل جنرل کی ملاقات

  • عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    پاکستان کی معروف سیاستدان اور پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کوالالمپور میں "اسٹرٹیجک ویژن گروپ رشیا اسلامک ورلڈ کے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا،

    اجلاس میں اس موقع پر ملائشیا کے وزیرِ اعظم ، تاتارستان کے صدر اور دیگر اہم عالمی شخصیات بھی موجود تھیں۔سحرکامران نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ "یہ وقت ہے کہ ہم عالمی سطح پر روس اور اسلامی دنیا کے درمیان پائیدار اور مضبوط تعلقات کو فروغ دیں تاکہ دونوں طرف کے عوام کو امن، استحکام اور خوشحالی حاصل ہو۔ عالمی سیاست میں نئے چیلنجز اور مواقع سامنے آ رہے ہیں، اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔”انہوں نے اس موقع پر فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی قبضے کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا: "ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے متحد ہیں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔” سحرکامران نے اجلاس کے شرکاء کی توجہ اس بات پر دلائی کہ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف فلسطینیوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    اجلاس میں روس اور اسلامی دنیا کے درمیان مشترکہ مسائل پر بھی تفصیل سے بحث کی گئی۔ اسٹرٹیجک ویژن گروپ نے عالمی سطح پر مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مختلف بین الاقوامی مسائل بشمول دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی، اور انسانی حقوق کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ایک گروپ فوٹوگرافی کی گئی جس میں سحر کامران، وزیرِ اعظم ملائشیا، تاتارستان کے صدر، اور دیگر شرکاء شامل تھے۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    سحرکامران کی اسٹریٹجک ویژن گروپ،روس اسلامک ولڈ کے اجلاس میں شرکت

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ،حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔بلاول

    عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ،حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک تفصیلی پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے انسانی حقوق کی اہمیت، پاکستان میں ان کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ "انسانی حقوق کی پاسداری ایک منصفانہ، جامع اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں اور ان کا تحفظ ایک پائیدار اور خوشحال مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق صرف قابلِ حصول مقاصد نہیں ہیں بلکہ یہ وقار، مساوات اور انصاف کے لیے بنیادی ستون ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی کامیابی کی بنیاد ہوتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ "کسی بھی معاشرے کا مستقبل ان حقوق کو بلا تفریق تمام افراد کے لیے یقینی بنانے پر منحصر ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ "1973ء کے آئین میں شہید بھٹو کی جانب سے شامل کیے گئے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہم پرعزم ہیں۔” انہوں نے قائدِ عوام کا مشہور نعرہ "ایک شہری، ایک ووٹ” یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول عوام کو طاقت کا اصل سرچشمہ بنانے کی بنیاد ہے۔

    بلاول زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "بی بی شہید نے خواتین کی خودمختاری، صنفی امتیاز کے خاتمے، غیرت کے نام پر قتل و تشدد کے خلاف اہم اقدامات کیے۔” بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ شہید بینظیر بھٹو نے آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے آمرانہ دور کے قوانین کا خاتمہ کیا اور اقلیتوں اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد، سابق صدر آصف علی زرداری کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "صدر زرداری کے دور میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جمہوری اصولوں کو بحال کیا گیا اور انسانی حقوق کو محفوظ بنایا گیا۔” انہوں نے بتایا کہ "آرٹیکل 25-اے کی شکل میں تعلیم کے حق کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے اور گھریلو تشدد کے خلاف قوانین کے نفاذ کو بھی نمایاں کیا گیا۔”انہوں نے کہا کہ "بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات نے پسماندہ طبقوں، خاص طور پر غریب خواتین، کے لیے ایک سماجی تحفظ فراہم کیا، اور یہ پیپلز پارٹی کے جامعیت اور سماجی انصاف کے عزم کا ثبوت ہیں۔”بلاول بھٹو زرداری نے حکومتِ سندھ کی انسانی حقوق کی پالیسی کی توثیق کرتے ہوئے اس کے مرحلہ وار نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ "متعلقہ حکام اس پالیسی کو کامیابی سے نافذ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ شہری آزادیوں کا تحفظ اور جامع ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔”

    بلاول زرداری نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں جاری ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر اور غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہیے۔” بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے اصولوں پر اپنے عزم کا دوبارہ اظہار کرے۔آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ "پیپلز پارٹی ہر شہری کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ہم ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں جو آزادی، مساوات اور انصاف کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہو۔” انہوں نے کہا کہ "پیپلز پارٹی کا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔”چیئرمین پی پی پی نے اقوام متحدہ کی رواں سال کی تھیم کی بھی توثیق کی اور کہا کہ "ہم عالمی سطح پر انسانی حقوق کی ضمانت دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔”

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل