Baaghi TV

Tag: پیپلز پارٹی

  • کُرم بدامنی کی آگ میں جل رہا ، خیبرپختونخواہ حکومت صوبے سے لاپتہ،بلاول

    کُرم بدامنی کی آگ میں جل رہا ، خیبرپختونخواہ حکومت صوبے سے لاپتہ،بلاول

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخواہ کے ضلع کُرم میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر اظہارِ تشویش کیا ہے

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخواہ کے گورنر سے ضلع کُرم کی صورتحال پر رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ ضلع کُرم بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے، خیبرپختونخواہ حکومت صوبے سے لاپتہ ہے،تین دنوں میں 80 شہری قتل ہوچکے، ضلع کُرم میں لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں،بدامنی کے دوران حکومت کا خاموش تماشائی بننا دہشتگردوں کا اتحادی بننے کے مترادف ہے،امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، پی ٹی آئی حکومت شہریوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ثابت ہوچکی،ضلع کُرم میں پی ٹی آئی حکومت کی مجرمانہ غفلت کی مذمت کرتے ہیں،ہلاکتوں پر دل خون کے آنسو بہا رہا ہے، خیبرپختونخواہ کو یوں بدامنی کی آگ میں جلتا نہیں دیکھ سکتے،ضلع کُرم سمیت پورے خیبرپختونخواہ میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پیپلز پارٹی اپنا کردار ادا کرے گی

    کرم سانحہ اور سیاست کا گھناؤنا کھیل

    کرم واقعہ،ایرانی صدر،ترجمان امریکی سفارتخانہ کی مذمت

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

  • وزیر اعظم کی   اسپیکرز کو پیپلز پارٹی کے تحفطات دور کرنے کی ہدایت

    وزیر اعظم کی اسپیکرز کو پیپلز پارٹی کے تحفطات دور کرنے کی ہدایت

    لاہور: :وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کو پیپلز پارٹی کے تحفطات دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ہدایت کر دی۔

    باغی ٹی وی: پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ماڈل ٹاون میں مشاورتی نشست ہوئی جس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے شرکت کی، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی کی فائنل کال کی احتجاجی صورتحال بھی زیرغور آئی۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے۔

  • حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کہا ہے کہ سیاسی تناؤ کم کرنے اور حالات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے سحر کامران کا کہنا تھا کہ بانی تحریک انصاف کا مقصد ملک میں عدم استحکام اور انتشار کی کیفیت رکھنا ہے، اس میں کوئی شک نہیں، 2014 کا دھرنا ہو، اسمبلیوں سے استعفے ہوں،اسلام آباد کی گرین بیلٹ کو آگ لگانے کے واقعات ہوں، سایفر کا ایشو ہو، ماڈل ٹاؤن سے پیٹرول بم پھینکنے ہوں یا 9 مئی کے افسوسناک حملے، ایسا لگتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت اشتعال انگیزی کی فضا بنائی جا رہی ہے۔ ایک بلو پرنٹ بنا ہوا ہے، جس کے مطابق مختلف حربے اپنائے جا رہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کا بیان ملک کے سفارتی تعلقات خراب کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک سازش ہے۔ نفرت اور تقسیم کا بیانیہ نہ ملک کے مفاد میں ہے، نہ ہی عوام کے مفاد میں ہے، اس کے بجائے مفاہمت کی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، سیاسی تناؤ کم کرنے اور حالات بہتر کرنے کا واحد راستہ مزاکرت اور مفاہمت ہے۔

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ حکومت میں تھے تو ایسے لگتا تھا کہ حکومت کی جانب اپوزیشن میں تھے، اس میں گورننس نہیں تھی، انتقام تھا، پارلیمنٹ کی تضحیک کی گئی، 9 مئی کا واقعہ ہوا، یہ ایک سیریز ہے،کفن باندھنا یہ کیا ہے، احتجاج ،جلسے جلوس جمہوری حق ہے بات الجہاد کے نعروں، رویوں،کفن باندھنے دھمکیوں سے ہے،کبھی کوئی بیان آتا ہے ،سائفر، رجیم چینج، پھر امریکہ میں ہی لابنگ ،یہ کتنا تضاد ہے، سعودی عرب پاکستان کا دوست ملک ہے،جہاں وہ جوش و خروش سے جاتے تھے، ایک دوست ملک ہے،وہ انویسمنٹ کرنا چاہ رہا ہے،ا سکے وفود آ رہے ہیں، وزیراعظم کے دو دورے ہوئے، آرمی چیف کا دورہ ہوا ،اب یہ بیان دے کر پاکستان میں کیا چاہتے ہیں یہ سب منصوبہ بندی سے کر رہے ہیں پہلے بھی ایک لیڈر نے بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ذاتی رائے ہے، اب کس کی رائے ہے، عمران خان کے بارے میں جمائما کی ٹویٹ آتی ہے،لابنگ کہاں سے ہوتی ہے، لابنگ فرم کہاں سے ہائر ہوتی ہیں، پاکستان کی اتنی پرواہ ہے کہ غزہ کی لاشیں نظر نہیں آتیں،

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ اشتعال انگیری جو اس وقت کی جا رہی ہے اس پر کور نہیں ڈالا جا سکتا، ہم لہجے، لفظوں کا چناؤ، پیغام اس کو دیکھنا ہو گا، لہجے عوام کو کہاں لے جاتے ہیں، کتنے لوگ ابھی بھی اشتعال انگیزی کی وجہ سے مقدمے بھگت رہے ہیں لیڈر شپ تو نکلتی ہی نہیں، وزیراعلیٰ جلوس چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں،یہ کس طرح کے پیغامات دے رہے ہیں، اب الجہاد،کے نعرے، سیاسی جدوجہد کی جا سکتی ہے، یہ الجہاد کہاں سے اور کن معنوں میں استعمال ہو رہا ہے،

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سحر کامران نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور فریڈرش نومن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ ایک اہم کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاکستان میں پسماندہ طبقات کی سیاسی بااختیاری اور انتخابی عمل میں شمولیت کو فروغ دینے کے موضوع پر مرکوز تھی۔

    سحر کامران نے اپنی شرکت کو ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم مسئلے پر بات کرنے اور مختلف طبقوں کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کانفرنس کے منتظمین، خصوصاً انسانی حقوق کمیشن اور فریڈرش نومن فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔کانفرنس میں پسماندہ طبقات، بشمول خواتین، اقلیتوں، اور معذور افراد کی انتخابی عمل میں شرکت کو بڑھانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشنز  کا انعقاد کیا گیا، جن میں نمایاں ماہرین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس پاکستانی سماج میں ایک مثبت تبدیلی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جہاں پسماندہ طبقات کے حقوق اور ان کے انتخابی عمل میں کردار کو اہمیت دی جائے،

    کانفرنس کا اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) اور فریڈرک نومن فاؤنڈیشن فار فریڈم (ایف این ایف) کے اشتراک سے منعقدہ ایک کانفرنس میں خواتین، ٹرانس جینڈر افراد، مذہبی اقلیتوں اور معذوری کا شکار افراد سمیت پسماندہ طبقات کے سیاسی اختیار اور انتخابی عمل میں شرکت میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت پھل پھول سکتی ہے جب ہر شہری کو سیاسی عمل میں مساوی شرکت کا موقع ملے۔ ایف این ایف کی سربراہ بیرگٹ لام نے کہا کہ شہری ووٹ ڈالنے کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور ووٹ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وکیل اور محقق ماورا غزنوی نے کہا کہ سب سے اہم مسئلہ دور دراز علاقوں میں خواتین اور معذوری کا شکار افراد کی پولنگ اسٹیشنز تک رسائی ہے۔ معذوری کا شکار افراد کے حقوق کے کارکن زاہد عبداللہ نے کہا کہ معذوری کا شکار خواتین کی بطور ووٹر کم نمائندگی ہونا باعث تشویش ہے۔ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کی کارکن نایاب علی نے نشاندہی کی کہ ٹرانس جینڈر ووٹروں کی صنفی شناخت اور صنفی اظہار سے جڑے کلنک کے باعث ان کے خلاف امتیازی سلوک اب بھی عام ہے۔ ماہر تعلیم اور سماجی کارکن فرزانہ باری نے سیاست میں خواتین، مزدور طبقے، معذوری کا شکار افراد اور ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی نشاندہی کی۔

    وکیل محمود افتخار احمد نے کہا کہ احمدی کمیونٹی کے لیے علیحدہ انتخابی فہرستوں نے انہیں مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے کیونکہ ان کا ذاتی ڈیٹا قابل رسائی ہے جسے احمدیوں کے گھروں اور کاروبار کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے تجویز دی کہ عام شہریوں کے لیے انتخابی فہرست میں اپنا نام تلاش کرنے کے عمل کو آسان بنایا جانا چاہئے۔ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار اور جے یو آئی (ف) کی رہنما آسیہ ناصر نے الزام لگایا کہ خواتین ووٹرز اور مذہبی اقلیتوں کے ووٹرز کو پولنگ کے دن تشدد کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔انتخابی امور کے ماہر طاہر مہدی نے کہا کہ جب تک جمہوری نظام اشرافیہ کے زیر تسلط رہے گا، معذور افراد کے لیے ریمپ یا خواتین کے لیے مخصوص نشستوں جیسے علامتی اقدامات کمزور طبقات کے مسائل کا دیرپا حل ثابت نہیں ہوں گے۔ انسانی حقوق کی کارکن رومانہ بشیر نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتوں کو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے مختص کوٹہ پر عملدرآمد کرنا چاہیے، لیکن اہم بات یہ کہ انہیں اس حد تک بااختیار بنانا چاہیے کہ یہ کوٹے بالآخر غیر ضروری ہو جائیں۔

    ایم کیو ایم (پاکستان) کی رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ نے کہا کہ وہ ہمیشہ معذوری کا شکار افراد کے لیے مخصوص نشستوں کے خیال کی حامی رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا کہ بیشتر خواتین قانون سازوں کا اعلیٰ سطح کے فیصلوں میں کردار اب بھی انتہائی محدود ہے۔نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالحسیب نے شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ ووٹرز کے قومی شناختی کارڈز تک رسائی بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر (جینڈر) آمنہ سردار نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ووٹرز کے پولنگ اسٹیشنز کو بغیر کسی وجہ کے تبدیل نہ کیا جائے۔ایچ آر سی پی کے کونسل ممبر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ووٹروں کو رجسٹریشن کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کرنا ایک ثانوی مسئلہ ہے۔ اس کے بجائے، الیکشن کمیشن، نادرا اور سیاسی جماعتوں کو پسماندہ ووٹروں اور امیدواروں سے متعلق ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل کے لیےکام کرنا چاہیے۔ کانفرنس کے اختتام پر ایچ آر سی پی کی وائس چیئر اسلام آباد نسرین اظہر نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • متنازع منصوبوں کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں،بلاول

    متنازع منصوبوں کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےدریائے سندھ پر مزید کینالوں کے وفاقی منصوبے کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کیا ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اگر سندھ و بلوچستان کے اعتراضات نہیں سنیں گے تو اس پورے منصوبے کو متنازعہ بنائیں گے۔ متنازع منصوبوں کو شروع کرنے کے بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں، اپنی رائے کے زبردستی نفاذ سے منفی اثر ہوگا۔ زراعت ہماری معیشت میں ریڈھ کی ہڈی ہے۔ کوشش ہے کہ وفاقی حکومت کو سمجھائیں کہ ایسے منصوبے نہ بنائیں جو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ ہوں ،صوبوں کے درمیان اتفاق رائے بنائیں ہم گرین پاکستان منصوبے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ زبردستی رائے مسلط کرنے سے سیاسی عدم استحکام و معیشت پر منفی اثر ہوگا

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    سندھ کا پانی کسی صورت چوری کرنے نہیں دیں گے، پیر پگارا

  • وفاقی حکومت سے مذاکرات،بلاول نے کمیٹی تشکیل دے دی

    وفاقی حکومت سے مذاکرات،بلاول نے کمیٹی تشکیل دے دی

    پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت سے بات چیت کےلیے کمیٹی تشکیل دے دی
    مذاکراتی کمیٹی چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے تشکیل دی، پیپلز پارٹی کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، شیری رحمان اورمخدوم احمد محمود شامل ہیں،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، گورنر پنجاب اور فیصل کریم کنڈی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں، ترجمان بلاول زرداری کے مطابق کمیٹی وفاقی حکومت کے ساتھ معاملات اٹھائے گی،کمیٹی رپورٹ اگلے ماہ سینٹرل ایکزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پیش کرے گی

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی تھی اس ضمن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو ٹاسک دیا گیا تھا

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھاکہ وفاق میں نہ عزت دی جاتی ہے، نہ سیاست کی جاتی ہے، نہ معاہدے پر عمل ہورہا ہے، وہ 26 ویں ترمیم میں مصروف تھے اور حکومت نے پیچھے کینالز کی منظوری دے دی، وفاقی حکومت نے آئین سازی کے وقت برابری کی باتیں کیں، لیکن آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی، دیہی سندھ سے ججز ہوتے تو برا بری کی بات کرتا، جوڈیشل کمیشن میں ہوتا تو آئینی بینچ میں فرق پر بات کرتا، میں جوڈیشل کمیشن سے احتجاجاً الگ ہوا۔

  • نوجوان نسل سوشل میڈیا کو اچھے کاموں کےلئے استعمال کرے، شرجیل میمن

    نوجوان نسل سوشل میڈیا کو اچھے کاموں کےلئے استعمال کرے، شرجیل میمن

    حیدرآباد، سندھ کے سینئر وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل سوشل میڈیا کو اچھے کاموں کےلئے استعمال کرے، مایوس نہ ہوں، اچھے دن آنے والے ہیں

    اسرا یونیورسٹی میں ورلڈ سسٹینبل ٹرانسپورٹ ڈے کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد کیا گیا،اسرا یونیورسٹی کی جانب سے پائیدار ٹرانسپورٹ کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اہم ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، نوجوانوں کو باعزت روزگار دینے کیلئے جلد پروگرام لائیں گے، پاکستان کا بڑا مسئلہ بجلی کا ہے جس کا حل بھی سندھ حکومت نے دیا،تھر کے کوئلے سے سستی بجلی بنائی جارہی ہے، حیدرآباد میں آج پولیس افسران سے ملوں گا، میں نے کہا تھا کہ میڈیا کے دوست بھی کمیٹی میں آ جائیں، جہاں نشہ مل رہا میں ساتھ چلنے کو تیار ہوں، منشیات کے خاتمے کے لئے جان بھی گئی تو اللہ کی امانت ہے

    حکومتوں کو گن پوائنٹ کے ذریعے یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ 24 نومبر کو پھر انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، طلبا کو سیاست میں آنا چاہئے، سیاست بری چیز نہیں لیکن چند لوگ جو سیاست کو آلودہ کرتے ہیں وہ بری چیز ہے، 24 نومبر والی کال بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کچھ نہیں ہو گا، حکومتوں کو گن پوائنٹ کے ذریعے یرغمال نہیں بنا سکتے،ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک ہو، امریکی عوام نے انہیں چنا، جو ہمارے دوست خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ صدر اس لئے بنا کہ کسی کو چھڑائے گا تو اس خوش فہمی سے نکلیں، یہ وہی لوگ جو کسی کے غلام نہیں کے نعرے لگاتے تھے اب امریکی غلامی میں کیوں جا رہے، امریکہ کے لئے اپنا مفاد ہے وہ اپنے ملک کے لئے کام کریں گے،

    بدمعاشی کرکے ریاست سے اپنی باتیں نہیں منوائی جاسکتیں،شرجیل میمن

    غیر قانونی بس اڈوں کیخلاف آپریشن سے کراچی کے ٹریفک دباؤ میں کمی آئی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    اب کوئی بھی غیر رجسٹرڈ گاڑی سڑکوں پر نہیں چل سکے گی،شرجیل میمن

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    چاہتے ہیں کہ دعوے کم اور کام زیادہ کر کے دکھائیں،شرجیل میمن

    عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن

  • خیبر پختونخوا حکومت کی کوششیں انتشار پھیلانے پر مبنی ہیں،شیری رحمان

    خیبر پختونخوا حکومت کی کوششیں انتشار پھیلانے پر مبنی ہیں،شیری رحمان

    پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے تحریک انصاف کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان آج بھی اداروں سے مذاکرات کا مطالبہ کر رہے ہیں، یہ مذاکرات کی نہیں ڈیل کی درخواست ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اب تو عالمی اخبارات بھی لکھ رہے ہیں کہ عمران خان اداروں سے ڈیل چاہتے ہیں، پی ٹی آئی کا احتجاج پُرامن ہے تو اسلام آباد انتظامیہ سے اجازت کیوں نہیں لی گئی؟ الٹا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نمٹنے کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے، یہ کسی بھی حوالے سے پُرامن سیاسی احتجاج اور اجتماع کا ارادہ نہیں رکھتے،کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت ایک بار پھر اسلام آباد پر یلغار کی تیاری میں مصروف ہے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے،صوبے میں امن و ترقی کے بجائے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کوششیں انتشار پھیلانے پر مبنی ہیں۔

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

    ملتان ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک بار پھر انتشار اور تشدد کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے، پی ٹی آئی نے ابھی تک نومئی سے کچھ نہیں سیکھا، کیا اب بھی ان کو لگتا ہے کہ دھمکیوں، تشدد اور انتشار کی سیاست میں کوئی جگہ ہے، ہمارے قائدین نے بھی جیل کاٹی ہے، ہم نے کبھی یہ دھمکی نہیں دی کہ ہم جتھوں اور تشدد سے اپنے قائدین کو رہا کرائیں گے، اداروں نے ان سے بات کرنے سے انکار کیا تو یہ پھر دھونس دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔کیا تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں؟ ملزمان کو جتھوں کی مدد سے چھڑانے کی دھمکی سیاسی جماعتیں نہیں مسلح گروہ دیتے ہیں،

  • پیپلز پارٹی  کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے ضلع سانگھڑ کے تعلقہ سنجھورو کا دورہ کیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دورے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پیغام میں سحر کامران کا کہنا تھا کہ گندم کی بوائی کا عمل دیکھنا ایک متاثر کن تجربہ تھا۔ مقامی کاشتکار تمام چیلنجز کے باوجود پیپلز پارٹی کی قیادت پر مضبوط یقین رکھتے ہیں کہ وہ ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کا تحفظ کرے گی۔ سحر کامران نے سنجھورو کی کمیونٹی کی جانب سے ملنے والی محبت اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ یہ دورہ نہایت حوصلہ افزا تھا۔ گندم کی بوائی کے عمل کو قریب سے دیکھنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے دیہی علاقوں کے کاشتکار تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود اپنے کام سے جڑے ہوئے ہیں اور زراعت کے شعبے میں اپنی محنت اور لگن کے ذریعے ملک کی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ کاشتکاروں کا پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر یقین اور اعتماد ان کے مسائل کے حل کے لیے ہماری جماعت کی سنجیدگی اور کوششوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    انہوں نے سنجھورو کی کمیونٹی کی گرمجوشی اور محبت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور خلوص نے اس دورے کو مزید یادگار بنا دیا۔ سحر کامران نے کہا کہ ایسے دورے نہ صرف عوامی مسائل کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ پارٹی قیادت اور عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • بدمعاشی کرکے ریاست سے اپنی باتیں نہیں منوائی جاسکتیں،شرجیل میمن

    بدمعاشی کرکے ریاست سے اپنی باتیں نہیں منوائی جاسکتیں،شرجیل میمن

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات ، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کھیلوں سمیت تمام شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے،

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کردیا،اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئےشرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آج ہم نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کیا ہے، کراچی میں پیپلز بس سروس چل رہی ہیں،پیپلز بس سروس کی لائیو ویڈیوز سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹر ہوں گی، بس ڈرائیور اور کنڈیکٹرز کوبھی کیمروں کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا، یہ اسٹیٹ آف دی آرٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شروع کی ہے، ہم یہ ماڈل ای وی بس سروس کیلئے بھی لارہے ہیں، امن وامان کی صورتحال کیلئے بھی یہ سسٹم ہونا چاہیے، ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ بسوں میں کونسے مسافر سفر کررہے ہیں،بس میں سفر کرنے والوں کی جیو فینسنگ بھی ہوگی، شکایات کی صورت میں شہریوں کیلئے کمپلین سیل بنایا ہے، کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ بھی مانیٹر ہورہا ہے،

    بشریٰ بی بی کہتی ہیں ہر شخص 5ہزار آدمیوں کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کرے،یہ نو مئی دوہرانا چاہتے ہیں، شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو ورغلایا جارہا ہے، وہی ٹولہ ہے جس کا مقصد ہے پاکستان میں انارکی پھیلائی جائے، پی ٹی آئی کے کارکن معصوم ہیں، پی ٹی آئی کا مقصد ہے ملک کو کسی طرح بند کرنا، سب سے پہلے پاکستان ہے، معیشت بہتر ہوئی ہے، اسٹاک مارکیٹ بھی بلندیوں پر جارہی ہے، ایک قوت ہے جو چاہتی ہے ملک میں معیشت کا پہیہ نہ چلے، بشریٰ بی بی کی بھی آڈیو آئی ہے، بشریٰ بی بی کہتی ہیں ہر شخص 5ہزار آدمیوں کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کرے، آڈیو میں کہا جارہا ہے آدمی نہ لائے تو پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیں گے،یہ ٹولہ چاہتا ہے ملک میں انارکی، افراتفری ہو، 9مئی جیسے واقعات یہ لوگ دوبارہ دہرانا چاہتے ہیں، یہ جب بھی اسلام آباد آئے تو پرامن طریقے سے نہیں آئے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور صوبے کے وسائل استعمال کررہے ہیں، تشدد کسی بھی چیز کا حل نہیں ہوتا، آپ صوبے کی مشینری وفاق پر چڑھائی کیلئے استعمال کرتے ہیں، بدمعاشی کرکے ریاست سے اپنی باتیں نہیں منوائی جاسکتیں،

    جب بھی پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی بدترین میڈیا ٹرائل ہوالیکن کبھی میڈیا پر پابندی عائد نہیں کی،شرجیل میمن
    شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ سندھ پانی کی قلت کا سامنا کررہا ہے، کنال والے معاملے پر ہمارا مؤقف اٹل ہے، چاہتے ہیں ہمارا ملک دن بدن ترقی کرے، بدقسمتی سے ہر چیز کا برا استعمال کرنے والے لوگ اچھی کو بھی برا بنادیتے ہیں، کچھ لوگوں نے ڈیجیٹل دہشتگردی شروع کی ہوئی ہے، چاہتے ہیں وی پی این جیسی چیزوں کو اداروں کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے، ہم ہمیشہ آزادی صحافت کی بات کرتے ہیں، جب بھی پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی بدترین میڈیا ٹرائل خلاف ہوا، پیپلز پارٹی نے کبھی میڈیا پر پابندی عائد نہیں کی، پیپلز پارٹی کا 2008 میں میڈیا ٹرائل کیا گیا،ہم نے کسی کو پریشان نہیں کیا نہ پابندی لگائی، پیپلز پارٹی میڈیا کی آزادی کیلئے کوشش کرتی رہتی ہے، ہم حکومت کے اتحادی نہیں ہیں، ہم نے حکومت کی مدد کی تاکہ سسٹم آگے چل سکے،پی ٹی آئی نے کہا کسی پارٹی سے بات کرنے کو تیار نہیں، ہم بھی کسی سے بات نہ کرتے تو اسمبلی عمل میں نہ آتی، ہمارا کوئی ذاتی نوعیت کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ اجتماعی تھے، ہم نے کہا تھا پی ایس ڈی پی میں مشورہ کیا جائے،حیدر آباد ،سکھر موٹروے کی پورے پاکستان کو ضرورت ہے، پورٹ سے چیزوں کی ترسیل کیلئے یہ موٹروے واحد راستہ ہے، حکومت سکھر حیدر آباد موٹروے کو ترجیح نہیں دے رہی، ہمارے سپریم کورٹ میں 120 ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں،اگر وہ 120 ارب روپے مل جائیں تو ہم اپنے مسائل خود حل کرلیں، وفاق سے ہم نے کہا ہے ہمارا حق ہمیں دیا جائے، منشیات کے خلاف قدم اٹھایا تھا تو لیڈر شپ کے کہنے پر،چیئرمین بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ منشیات کا خاتمہ ہو، شخصیات کے بدلنے سے حکومت کی پالیسی نہیں بدلتی، پہلے بھی گورنمنٹ کی رٹ کو منوایا ہے،

    غیر قانونی بس اڈوں کیخلاف آپریشن سے کراچی کے ٹریفک دباؤ میں کمی آئی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    اب کوئی بھی غیر رجسٹرڈ گاڑی سڑکوں پر نہیں چل سکے گی،شرجیل میمن

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    چاہتے ہیں کہ دعوے کم اور کام زیادہ کر کے دکھائیں،شرجیل میمن

    عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن