Baaghi TV

Tag: پی آئی اے

  • پی آئی اے کا برطانیہ کیلئے  فلائٹ آپریشن میں توسیع کا فیصلہ

    پی آئی اے کا برطانیہ کیلئے فلائٹ آپریشن میں توسیع کا فیصلہ

    اسلام آباد: قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے کہا ہے کہ آئندہ برس مارچ 2026 سے لندن کے لیے پروازوں کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق کہ پی آئی اے کو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہفتہ وار 4 پروازوں کے لیے سلاٹس مل گئے ہیں جس سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان فضائی رابطے مزید مضبوط ہوں گے یہ سلاٹس ماضی میں پابندی کے باعث محفوظ رکھنے کے لیے ترکش ایئرلائن کو عارضی طور پر دیئے گئے تھے۔

    ایئرلائن ذرائع کے مطابق پابندی کے دوران قیمتی سلاٹس ضائع ہونے سے بچانے کے لیے پی آئی اے نے یہ انتظام کیا تھا جبکہ اب ترکش ایئرلائن سے یہ سلاٹس واپس حاصل کر لیے گئے ہیں، اس حوالے سے ہیتھرو ایئرپورٹ انتظامیہ کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ مارچ 2026 سے قومی ایئرلائن لندن کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔

    لاہور رنگ روڈ پر ٹول ٹیکس میں اضافہ

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن فلائٹ آپریشن کی بحالی اور توسیع سے نہ صرف مسافروں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ پی آئی اے کی آمدن میں بھی اضافہ متوقع ہے،اس پیشرفت سے قومی ایئر لائن کی مالی حالت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی امید ہے۔

    بنگلہ دیشی سابق وزیراعظم کے صاحبزاد ے17 سال بعد بنگلہ دیش پہنچ گئے

  • فیلڈ مارشل کی رہنمائی پی آئی اے کی نجکاری میں اہم ثابت ہوئی ،اویس لغاری

    فیلڈ مارشل کی رہنمائی پی آئی اے کی نجکاری میں اہم ثابت ہوئی ،اویس لغاری

    وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کی رہنمائی پی آئی اے کی نجکاری میں اہم ثابت ہوئی۔

    ایک بیان میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ 135 ارب روپے کی کامیاب بولی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے، وزیرِ اعظم کی قیادت میں نجکاری کا تاریخی مرحلہ مکمل ہوا،مشیرِ نجکاری محمد علی کی کاوشیں، فیلڈ مارشل کی رہنمائی پی آئی اے کی نجکاری میں اہم ثابت ہوئی ہےیہ نجکاری عالمی برادری کے پاکستان پر بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے، عارف حبیب کنسورشیم کی کامیاب بولی معیشت کی بحالی کی علامت ہے،پی آئی اے کی نجکاری سے حکومتی اصلاحات اور شفاف پالیسیوں پر اعتماد کی عکاس ہے، یہ کامیابی پاکستان کے معاشی استحکام کی جانب مضبوط پیشرفت کی نشاندہی کرتی ہے۔

    جنسی مجرم جیفری ایپسٹین فائلز سے متعلق مزید دستاویزات جاری

    واضح رہے کہ آج ہونے والی بولی میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے،عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

    پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،مفتاح اسماعیل

  • پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،مفتاح اسماعیل

    پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ اورعوام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،پی آئی اے کی 135ارب میں نجکاری بڑا قدم ہے۔

    نجی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نےکہا کہ پی آئی اے کی نجکاری پر حکومت پر تنقید کرنا نہیں بنتی،پی آئی اے کی نجکاری حکومت کااچھا فیصلہ ہے،پی آئی اے کی 135ارب میں نجکاری بڑا قدم ہے،2013کی ن لیگ کی حکومت میں بھی پی آئی اے کی نجکاری کی بات ہوتی تھی۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری کرکے حکومت آج بہت بڑے امتحان میں کامیاب ہوگئی،آج یہ دعویٰ بھی ختم ہوگیا کہ موجودہ حکومت پر کوئی اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں،جب مقامی لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں تو پھر باہر سے بھی سرمایہ کاری آتی ہے۔

    رونالڈو نے سعودی عرب میں 2 لگژری ولاز خرید لیے

    انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے دیگر اداروں میں بھی نجکاری کافروغ بڑھے گا،پی آئی اے کی نجکاری کے پیچھے وزیراعظم سمیت بہت سےلوگوں کی محنت ہے،عالمی اداروں کےمطابق پاکستان میں لوگوں کاسرمایہ کاری کیلئے اعتماد بڑھ رہا ہے۔

    تمام ریاستی اداروں کے تعاون سے ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے, وزیراعظم

  • پی آئی اے کی 135 ارب میں فروخت ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے،خواجہ آصف

    پی آئی اے کی 135 ارب میں فروخت ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع و ایوی ایشن خواجہ آصف نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کی 135 ارب روپے میں فروخت ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے-

    سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی 135 ارب روپے میں فروخت ملکی معیشت پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے، حکومت سرکاری تحویل میں کاروباری اداروں کی نجکاری سے نہ صرف ہزاروں کھربوں کے نقصان سے نجات حاصل کرے گی بلکہ معیشت کی بحالی عمل تیز ہوگا۔

    خواجہ آصف نے کہاکہ نجکاری کمیشن کو مبارک ہو آج کی ٹرانزیکشن آنے والے وقت میں مزید کامیابیوں کی نوید ہے،پی ٹی آئی نے پی آئی اے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، آج 3 سال کی محنت سے تحریک انصاف حکومت کے چھوڑے کھنڈروں پر نئی عمارت تعمیر ہو رہی ہے۔

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ

    آج ہونے والی بولی میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

    پی آئی اے کی نجکاری کے دوران عارف حبیب گروپ اور لکی کنسورشیم میں سخت مقابلہ ہوا، تاہم لکی کنسورشیم 134 ارب روپے پر جا کر پیچھے ہٹ گئی اور مزید بولی نہ دی، جس پر عارف حبیب گروپ کی کامیابی کا اعلان کردیا گیا،پی آئی اے کو خریدنے کے لیے 3 کمپنیوں نے بولی جمع کرائی تاہم ایئر بلیو پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو گئی تھی، کیوں کہ انہوں نے سب سے کم 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی لگائی تھی۔

    ننکانہ صاحب: 15 پکار کال پر خون کے عطیات دینے والے پولیس جوانوں میں انعامات کی تقسیم

    پہلے مرحلے میں عارف حبیب گروپ نے سب سے زیادہ 115 ارب روپے کی بولی لگائی۔ اس کے علاوہ لکی کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ روپے، جبکہ ایئر بلیو کی جانب سے 26 ارب، 50 کروڑ کی بولی لگائی گئی۔

    رپورٹس کے مطابق نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی ریزرو قیمت 100 ارب روپے رکھی تھی، جس کے باعث ایئربلیو پہلے مرحلے میں ہی بولی کے عمل سے باہر ہوگئی۔

  • عارف حبیب کنسورشیم  نے135ارب روپے میں پی آئی اے خرید لی

    عارف حبیب کنسورشیم نے135ارب روپے میں پی آئی اے خرید لی

    عارف حبیب کنسورشیم135ارب روپے میں پی آئی اے خرید نے میں کامیاب ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کاعمل مکمل ہوگیا،عارف حبیب کنسورشیم نے135 ارب میں پی آئی اے کی بولی جیت لی،عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے لیے بولی کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگائی اور پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کی،لکی سیمنٹ کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کی 134 ارب روپےکی بولی لگائی گئی ایئر بلیو نے 26 ارب روپے سے زائد کی بولی لگائی۔

    چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری حکومت کی پالیسی ہے،پی آئی اے بڈنگ سے سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی،اپریل میں حکومت نے بڈرز کو اس بارےمیں آگاہ کیا،2بڈرز نے 100فیصد اور 2نے 75 فیصد خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔

    عارف حبیب کنسورشیم نے135ارب روپے میں پی آئی اے خرید لی

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی بولی لگے گی ،پی آئی اے کی نجکاری ایجنڈے کا حصہ ہے،92.5فیصد فنڈز پی آئی اے پر ہی خرچ ہوں گے،اپریل میں 51سے100فیصد شیئرز فروخت کرنےکا فیصلہ کیا۔

    حکومت کا مقصد ادارے کو بیچنا نہیں بلکہ پاؤں پر کھڑا کرناہے،75فیصد شیئرز کے بعد فروخت کا فیصلہ کیا،90روز کے اندر مزید 25فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ کیاہے،دوتہائی پیمنٹ شروع میں حاصل کی جائےگی۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ،

    نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 92.5 فیصد رقم پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جائے گی جبکہ باقی 7.5 فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی، ممکنہ سرمایہ کار کو اگلے پانچ سال کے دوران پی آئی اے کو مستحکم کرنے کے لیے 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

    نئے سرمایہ کار کو ایوی ایشن، کارگو بزنس، ٹریننگ ونگ اور کچن بزنس دیا جائے گا شرائط کے مطابق پی آئی اے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ حاصل ہوگا جبکہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہوں گی،نئے مالکان موجودہ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ ادارے کے مالی استحکام کے لیے فوری سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ انتظام ناگزیر ہوگا۔

    لنڈی کوتل: بجلی اور نیٹ ورک کی عدم دستیابی پر مشران کا پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان

  • پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    بلاول ہاؤس چورنگی پر ییپلز یونٹی کے کارکنان کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کے دوران دھرنا دیا-

    میڈیا سے بات چیت میں صدر پیپلز یونٹی ہدایت اللہ خان نے کہا کہ کراچی پریس کلب پر بھی پریس کانفرنس میں یہ بات واضح کردی تھی کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کی جارہی بلکہ اسے خود خرید رہے ہیں،ہم بلاول ہاؤس آکر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بتانے آئے ہیں کہ ہم آپ کے سپاہی ہیں،بلاول بھٹو زرداری چاہیں تو یہ نجکاری رک سکتی ہے،ہمیں پی آئی اے ملازمین کی پنشن اور ملازمت کی یقین دہانی کرائی جائے ورنہ ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔

    صدر پیپلز یونٹی نے کہا کہ پی آئی اے کی دیگر تنظیموں کو بھی احتجاج میں دعوت دی ہےکنسورشیم میں پھوٹ پڑ چکی ہے،ایک کنسور شیم نجکاری کی دوڑ سے باہر ہوچکا ہے باقی تین بھی آپس میں متفق نہیں ہیں100 ارب روپے کے عوض پی آئی اے کی نجکاری کی اجازت دیکر صرف ساڑھے سات ارب روپے میں اونے پونے بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    ان کا کہنا تھا کہ نجکاری رکوانے کے لیے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گاپارلیمنٹ اور سی سی آئی سے بھی پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری نہیں لی گئی ،نجکاری رکوانے کے لیے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو تمام گزارش پیش کی ہیں ،امید ہے اچھی خبر ملے گی،کل نجکاری نہیں ہوگی اور اچھی خبر آئے گی اگر نجکاری ہوئی تو ہم اپنا احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

  • پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

    حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے) کی نجکاری کا فیصلہ کن مرحلہ مکمل کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولیاں 23 دسمبر (منگل) کو طلب کی جائیں گی، جبکہ اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے بولی کھولنے کی تقریب براہِ راست ٹیلی وژن پر نشر کی جائے گی۔

    نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری پروگرام کے مطابق بولیاں صبح 10:45 سے 11:15 بجے تک جمع کی جائیں گی جبکہ انہیں سہ پہر 3:30 بجے کھولا جائے گا اس مرحلے پر 3 بولی دہندگان مقابلے میں شامل ہیں پہلے کنسورشیم میں لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔

    https://x.com/AajKamranKhan/status/2003002414220341506?s=20

    دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں، جبکہ تیسری بولی ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دی جائے گی۔

    نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر محمد علی کے مطابق فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بولی کے عمل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ بولیاں جمع ہونے کے بعد کمیشن کا بورڈ ریفرنس قیمت مقرر کرے گا، جس کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔

    معاہدے کے تحت پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے، جن میں سے 92.5 فیصد رقم پی آئی اے کو جبکہ 7.5 فیصد قومی خزانے کو ملے گی،حکومت کے پاس 25 فیصد حصص برقرار رہیں گے، جنہیں کامیاب بولی دہندہ بعد میں خریدنے یا حکومت کے پاس چھوڑنے کا اختیار رکھے گا پی آئی اے کی بحالی سے معیشت اور جی ڈی پی پر مثبت اثر پڑے گا انہوں نے کہا کہ بہتر انتظام، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے پی آئی اے دوبارہ اپنے عروج کی طرف لوٹ سکتی ہے۔

    محمد علی کے مطابق باقی 25 فیصد حصص کی قدر کا تعین 75 فیصد حصص کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا حکومت نے بولی دہندگان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ 12 ماہ کے اندر 12 فیصد پریمیم کے ساتھ باقی حصص خریدنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں،بولی دہندگان کو 75 فیصد حصص کے حوالے سے فیصلہ منگل کو کرنا ہوگا، جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی خریداری کے لیے 90 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ بولی دہندگان نے 75 فیصد حصص کی ادائیگی ایک سال میں کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم حکومت نے یہ تجویز قبول نہیں کی ان کے مطابق اگر ایک سال کے دوران پی آئی اے کی کارکردگی خراب ہوتی تو خریدار خریداری سے پیچھے ہٹ سکتا تھا، اور اگر کارکردگی بہتر ہوتی تو خریداری کے حق میں فیصلہ کرتا، جو حکومت کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔

    انہوں نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی جمع کرائے گا، جبکہ باقی ایک تہائی ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی پی آئی اے کی بحالی سے مجموعی قومی پیداوار اور مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گاپاکستان میں ہوا بازی کے شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ سب سے کم ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ حصہ 18 فیصد اور سعودی عرب میں 8.5 فیصد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 1.3 فیصد ہے۔ تاہم پی آئی اے کی صلاحیت کے باعث یہ شرح نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔

    پی آئی اے کے 34 طیاروں کے بیڑے میں سے اس وقت صرف 18 طیارے فعال ہیں تاہم پی آئی اے کے 97 ممالک کے ساتھ فضائی سروس معاہدے موجود ہیں اور 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ رائٹس حاصل ہیں،پی آئی اے اس وقت 11 ارب روپے کا خالص منافع اور 30 ارب روپے کی ایکویٹی رکھتی ہے، جبکہ 26 ارب روپے کی واجبات پی آئی اے کے پاس ہی رہیں گی، جن کی ادائیگی بولی دہندگان پانچ سال میں کریں گے۔

    ملازمین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی 2011 میں پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 11 ہزار 500 تھی، جو اب کم ہو کر 6 ہزار 500 رہ گئی ہے، یعنی پانچ سال میں 5 ہزار ملازمین کی کمی آئی ہے۔

    محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے ایک ایسا اثاثہ ہے جسے اگر درست انداز میں نہ چلایا گیا تو بھاری نقصان ہو سکتا ہے، لیکن بہتر انتظام کے ساتھ یہ غیر معمولی آمدن پیدا کر سکتی ہے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں پی آئی اے کے پاس مسافر، منزلیں، روٹس اور لینڈنگ سلاٹس موجود ہیں۔

    ان کے مطابق پی آئی اے کو سرمایہ کاری، نئے طیاروں کے اضافے اور مؤثر انتظام کی ضرورت ہے، جو حکومت فراہم نہیں کر سکتی، پی آئی اے میں جس نوعیت کے فیصلوں کی ضرورت ہے وہ صرف نجی شعبہ ہی کر سکتا ہے، اور اگر ایئرلائن کو درست طور پر چلایا جائے تو پی آئی اے دوبارہ اپنے سنہری دور میں واپس آ سکتی ہے۔

    سینئیر صحافی کامران خان کا کہنا ہے کہ تمام کارپوریٹ کی نظریں پی آئی اے کی نجکاری پر، جو کہ کل عمل میں لائی جائے گی،پردے کے پیچھے ڈرامہ سامنے آیا ہے۔ حیرت انگیز پیشرفت میں، طیبہ گروپ نے گزشتہ ہفتے پی ایم کی زیرقیادت میٹنگ میں عارف حبیب گروپ کی طرف سے پیش کی گئی مشترکہ منصوبہ بندی کی تجویز کو صاف طور پر مسترد کر دیا – ایک ایسا معاہدہ جس میں 40% عارف حبیب، 40% طیبہ، 20% فوجی فاؤنڈیشن، محمد علی طیبہ بطور چیئرمین PIA (پرائیویٹ) کے ساتھ تقسیم ہو جائے گی۔

    پھر بھی، بیک روم سمجھوتہ کے بجائے، طیبہ گروپ نے کھلی جنگ کا انتخاب کیا، اور اعلان کیا کہ یہ براہ راست بڈنگ میں جائے گا، کوئی بند ڈیل نہیں، کوئی محفوظ انتظام نہیں،اب یہ دو حریف کنسورشیموں میں بند پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری گروپوں کے درمیان ایک شدید، بلند و بالا آمنے سامنے ہونے کو ہے، یہ صرف نجکاری نہیں ہے؛ یہ شفافیت، اور اعصاب کا امتحان ہے۔

  • پی آئی اے نے مسافروں کیلئے الرٹ جاری کردیا

    پی آئی اے نے مسافروں کیلئے الرٹ جاری کردیا

    ملک کے بیشتر شہروں میں شدید دھند کے باعث پی آئی اے نے فوگ الرٹ جاری کر دیا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں شدید دھند کے باعث فضائی آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے دھند کے باعث ملک بھر کے ایئرپورٹس پر پروازوں کی روانگی میں تاخیر یا شیڈول میں تبدیلی ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر قومی ائیر لائن نے اپنے مسافروں کے لیے فوگ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    پی آئی اے نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ٹکٹ بکنگ کے وقت اپنا درست اور متبادل رابطہ نمبر لازمی فراہم کریں تاکہ پروازوں کے شیڈول میں کسی بھی تبدیلی یا تاخیر کے بارے میں مسافروں کو بروقت آگاہ کیا جا سکے،مسافر مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے پی آئی اے کال سینٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • پی آئی اے خریدنے والا ایف بی آر کے واجبات ادا نہیں کرے گا، سیکریٹری نجکاری کمیشن

    پی آئی اے خریدنے والا ایف بی آر کے واجبات ادا نہیں کرے گا، سیکریٹری نجکاری کمیشن

    سیکریٹری نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے خریدنے والا ایف بی آر کے 26ارب 60کروڑروپے کے واجبات ادا نہیں کرے گا۔

    مشیر برائے نجکاری محمد علی کا کہنا ہے کہ پی آئی اے (pia)کی نجکاری 23 دسمبر کو ہوگی، 19دسمبر تک تمام معاملات طے ہو جائیں گے،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری نجکاری کمیشن کا کہنا تھا کہ پی آئی اے خریدنے والے کو نئے جہاز خریدنے پر سیلز ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا،پچھلی بار 33 ارب روپے کے واجبات بھی سرمایہ کار نے ادا کرنے تھےپی آئی اے خریدنے والا ایف بی آر کے 26ارب 60کروڑروپے کے واجبات ادا نہیں کرے گا۔

    عثمان باجوہ نے مزید کہا کہ پی آئی اے کا کامیاب بولی دہندہ پاکستان ایوی ایشن کے 7 ارب روپے بھی ادا نہیں کرے گا،پی آئی اے کے 51 فیصد سے 100 فیصد شیئرز فروخت کیے جائیں گے پچھلی بار آئی ایم ایف سے جی ایس ٹی پر رعایت بروقت نہیں مل سکی تھی،اب تو برطانیہ اور یورپ کے روٹ بھی کھل گئے ہیں۔

    سرمایہ کاروں کیساتھ حتمی کمرشل شرائط آج رات تک طے ہو جائیں گی،سرمایہ کاروں کو بولی میں شرکت کیلئے 2ارب روپے زر ضمانت جمع کرانے ہونگے۔نجکاری کے فورا بعد پی آئی اے میں 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔

  • پی آئی اے  کی نجکاری کیخلاف عالمی عدالت جانے کا اعلان

    پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف عالمی عدالت جانے کا اعلان

    پاکستان پیپلزپارٹی لیبر ڈویژن کے رہنما اور پیپلزیونٹی آف پی آئی اے نے قومی ایئرلائن کی نجکاری کیخلاف عالمی عدالت جانے کا اعلان کردیا۔

    کراچی پریس کلب میں پیپلز یونٹی آف پی آئی اے ایمپلائز کے مرکزی صدر ہدایت اللہ خان، سینئررہنما پاکستان پیپلزپارٹی انچارج لیبرڈویژن پاکستان چوہدری منظور، لیبر ڈویژن سندھ کےصدرحبیب الدین جنیدی نےمشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    صدرپیپلزیونٹی آف پی آئی اے ہدایت اللہ نے کہا کہ پی آئی اے کوسوچے سمجھےمنصوبے کے تحت پرائیوٹائز کیا جارہاہے، ہم نےبھی بولی میں شامل ہونے کی درخواست کی جسے بغیر کسی جائزے کے مسترد کر دیا گیا، اگر ایسا نہ ہوا توآئی ٹی ایف کے ذریعے بین الاقوامی عدالت انصاف کا دروازہ ضرور کھٹکھٹائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ موجودہ اورریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر فوائد کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوگا اور ہمیں تحریری یقین دہانی کرائی جائےمنگل سے علامتی طور پر ایک گھنٹے پر مشتمل احتجاج شروع کررہے ہیں جبکہ 23 دسمبرکو احتجاج کا دائرہ وسیع کیاجائےگا پُرامن احتجاج کے حامی ہیں، کسی انتہائی اقدام کے حامی نہیں ہیں مگرحکومت بھی ہزاروں ملازمین کی پریشانیوں کا احساس کرے۔

    رہنما و انچارج پیپلز پارٹی لیبر ڈویژن چوہدری منظورنے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری 23 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے جوکہ سراسرغیر قانونی اورغیر آئینی ہے، پی آئی اے کا حل نجکاری نہیں بلکہ فضائی بیڑے میں نئے جہازوں کا اضافہ ہے دنیا بھرمیں لیز پر جہازوں کا حصول عام سی بات ہے، بیرون ممالک پاکستانی سرمایہ کار پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پی آئی اے میں حصہ ڈالنے کے لیے آمادہ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہے، گورنمنٹ نے کبھی سبسڈی یا گرانٹ نہیں بلکہ قرض دیا ہے، ایک دفعہ ناکامی کے بعد دوبارہ قوانین کومرضی کے مطابق ڈھال کر کوشش کی جارہی ہے کہ اونے پونے اپنے من پسند افراد کو فروخت کر دی جائے، درپردہ خود ہی موجود ہیں، مطلب خود ہی خریدار ہیں، پیپلز یو نٹی آف پی آئی اے ایک قانونی حیثیت رکھتی ہے مگرجان بوجھ کرنجکاری کے عمل سےسے باہر رکھا گیا۔