Baaghi TV

Tag: پی آئی اے

  • کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز میں فنی خرابی کی وجہ سے اسے روانگی کے 25 منٹ بعد واپس کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کروا لیا گیا۔

    ، پی آئی اے کی پرواز پی کے 300 نے کراچی سے اسلام آباد کے لیے روانگی لی تھی، تاہم طیارے کے ٹیک آف کے بعد اس میں ایک فنی خرابی کا سامنا ہوا۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق، طیارے کا لینڈنگ گیئر صحیح طریقے سے بند نہیں ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے کپتان نے حفاظتی اقدامات کے تحت فوری طور پر واپس کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کا فیصلہ کیا۔یہ واقعہ روانگی کے تقریباً 25 منٹ بعد پیش آیا، اور طیارہ بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر واپس پہنچا۔ پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ تمام مسافر محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    پی آئی اے کے سی ای او، خرم مشتاق، بھی اس پرواز میں سوار تھے، ترجمان نے مزید بتایا کہ طیارے کو تبدیل کر کے مسافروں کو روانہ کر دیا گیا اور ان کی سفری سہولت میں کوئی خلل نہیں آیا۔پی آئی اے کی انتظامیہ نے اس واقعہ کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں.

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    آئندہ پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

  • سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    پاکستان کی قومی ائیر لائن، پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز) کی نجکاری کی پہلی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے جس پر حکومتی اتحادیوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی اتحادیوں نے نجکاری کی اس کوشش کو ناکامی قرار دیتے ہوئے موجودہ حکومت کو سخت الفاظ میں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دوسری بار پی آئی اے کی نجکاری میں کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی اس عمل میں کامیاب ہوگی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش پر کڑی تنقید کی۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی، سحر کامران نے کہا کہ "اب تک جو کچھ بھی پرائیوٹائزیشن کے نام پر ہوا، وہ صرف ناکامی ہی ثابت ہوا۔ پی آئی اے کو کچھ حاصل نہیں ہوا، صرف 6.8 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی، لیکن قومی ائیر لائن کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مارکیٹنگ پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔”انہوں نے مزید کہا کہ "یہ 2015 سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی جائے گی،پیپلز پارٹی کی تنقید کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ، آسیہ اسحاق صدیقی نے کہا کہ حکومت ہر پہلو پر نظر ڈال کر فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم فنانشل ایڈوائزر کی مدد سے تمام حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ہر فنانشل ایڈوائزر کی اپنی شرائط اور ٹرمز ہوتی ہیں، اور ہم ان کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔”

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں ناکامی "انتظامیہ کی نااہلی” کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر انتظامیہ نے صحیح طریقے سے کام کیا ہوتا تو یہ ناکامی نہ ہوتی۔”دوسری جانب نبیل گبول نے کہا کہ "پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش نہایت غیر پیشہ ورانہ اور عجلت میں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے یہ ناکام ہوئی۔”پی آئی اے کی جتنی بولی دی گئی، اتنی تو کراچی اسلام آباد بس سروس کے لائسنس کی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بولی اس بات کا ثبوت ہے کہ نجکاری میں شفافیت کی کمی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے قانون، اعظم نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اب یورپ اور دیگر اہم روٹس بحال ہو چکے ہیں، جس سے پی آئی اے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ نجکاری کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مزید آفرز آئیں گی۔”حکومت کی جانب سے 85 ارب روپے کی توقع کی گئی تھی، لیکن جب پی آئی اے کی نجکاری کی بولی کی گئی، تو صرف 10 ارب روپے کی پیشکش ملی۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں اور آئندہ کی کوششوں میں مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ پہلی کوشش میں ناکامی کے باوجود حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نجکاری کے عمل میں ایک دن کامیابی حاصل کی جائے گی۔ تاہم اس ناکامی نے حکومت کے اتحادیوں میں اضطراب پیدا کیا ہے، اور یہ معاملہ قومی سیاست میں ایک نیا تنازعہ بن چکا ہے۔حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش پر اب تمام نظریں ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئندہ کی کوششیں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گی اور اس میں عوامی مفاد کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت کس طرح اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر اس مشکل عمل کو مکمل کرتی ہے۔نجکاری کے اس پیچیدہ عمل میں کامیابی نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

  • گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    20 جولائی 2019 کو پی آئی اے کی پرواز 605، جو ایک ATR 42-500 طیارہ تھا اور رجسٹریشن نمبر AP-BHP کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور جا رہی تھی، ایک سنگین حادثے کا شکار ہو گئی تھی اس واقعے کے بعد پاکستانی ایوی ایشن کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔

    پی آئی اے فلائٹ کا طیارہ ATR 42-500 تھا، اس واقعہ میں طیارہ غیرمعمولی رفتار سے لینڈنگ کرنے کے دوران رن وے سے باہر نکل آیا۔ کپتان نے غیر معیاری طریقے سے تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا اور اس کے دائیں طرف کا لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود تمام مسافر محفوظ رہے اور انہیں فوری طور پر طیارے سے نکال لیا گیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ کپتان بار بار تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کے عادی تھے اور اس بار بھی انہوں نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، جس کا نتیجہ غیر معمولی لینڈنگ اور طیارے کے رن وے سے باہر نکلنے کی صورت میں نکلا۔ پی آئی اے نے اس حادثے کے بعد طیارے کو مستقل طور پر ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    پی آئی اے کی پرواز پی آئی اے 605، جس کا طیارہ ATR 42-500 تھا (رجسٹریشن نمبر AP-BHP)، سنگین حادثے کا شکار ہوئی۔ یہ پرواز اسلام آباد سے گلگت کے لیے روانہ ہوئی تھی اور فلائٹ کے دوران کپتان اور فرسٹ آفیسر کی طرف سے کئی سنگین غلطیاں کی گئیں جس کے باعث طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا۔ طیارے کا وزن: 18,600 کلوگرام تھا،گلگت میں موسم صاف اور معمولی تھا۔پرواز سے قبل طیارے میں کوئی غیر معمولی یا تکنیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی۔ کپتان نے پرواز کی قیادت کی تھی، اور فرسٹ آفیسر کو معاونت دی جا رہی تھی۔ پرواز کے آغاز کے بعد، 260 فٹ پر آٹومیٹک پائلٹ کو فعال کیا گیا۔ تاہم، 1,900 فٹ کی بلندی کے بعد، کپتان نے فلیپ کنٹرول کے بجائے وی ایس (Vertical Speed) موڈ کا انتخاب کیا جو فنی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا۔ وی ایس موڈ میں +400 فٹ/منٹ کی رفتار سے کلائمب شروع کیا گیا، جو بعد میں +1,700 فٹ/منٹ اور پھر +2,000 فٹ/منٹ تک پہنچ گیا۔ اس سے طیارے کا زاویہ 15 ڈگری تک بڑھ گیا اور رفتار 130 ناٹ سے کم ہو کر 160 ناٹ کی معیاری کلائمب اسپیڈ سے کم ہو گئی۔ پرواز کے دوران طیارہ FL165 پر کروز کر رہا تھا۔ بلندی 13,200 فٹ کے قریب، وی ایس موڈ کے باوجود رفتار میں مزید کمی آئی۔
    gilgit

    گلگت ایئرپورٹ کے لیے ڈیسنٹ شروع کیا گیا، اور اس دوران طیارہ 245 ناٹ کی تیز رفتار پر تھا، جو کہ پی آئی اے کے ایس او پیز کے خلاف تھا کیونکہ اس رفتار کو کم کر کے 200 ناٹ رکھا جانا چاہیے تھا۔ فرسٹ آفیسر نے کپتان کو اس بات کی اطلاع دی، لیکن کپتان نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچا تو 7.1 ناٹیکل میل دور 7,630 فٹ کی بلندی پر، EGPWS نے "Too Low Terrain” کا الرٹ جاری کیا۔ اس الرٹ کی وجہ زمین کی بلندی تھی اور اگر طیارہ ایس او پیز کے مطابق رفتار میں کمی کرتا تو یہ وارننگ نہیں آتی۔ کپتان نے طیارہ 175 ناٹ کی رفتار سے 15 ڈگری فلیپ پر لینڈنگ کی تیاری کی، حالانکہ اس رفتار پر فلیپ کو نیچے کرنے کا معیاری حد 180 ناٹ تھی۔ طیارہ رن وے 25 پر 160 ناٹ کی رفتار سے داخل ہوا اور تقریباً 2,000 فٹ نیچے رن وے پر ٹچ ڈاؤن کیا۔ اس وقت رن وے پر 3,400 فٹ کا فاصلہ باقی تھا، جس میں طیارہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک طیارے کی رفتار بہت زیادہ تھی (150 ناٹ)، جس کے باعث طیارہ رن وے پر زیادہ فاصلے تک "فلوٹ” کرتا رہا۔ کپتان نے تھرسٹ ریوڑسر کی بجائے صرف بریکس لگائیں، جو کہ اتنی مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ زیادہ رفتار اور ناکافی بریکنگ کے باعث طیارہ رن وے کے آخر میں پہنچ گیا اور پھر کپتان نے طیارہ دائیں طرف موڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ رن وے سے باہر نہ جائے۔ رن وے سے باہر نکلنے کے دوران طیارے کا دایاں لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا، جس کے باعث طیارے کو شدید ساختی نقصان پہنچا۔ طیارے کے دائیں انجن کو شدید نقصان پہنچا جب اس کا پروپیلر زمین سے ٹکرا گیا۔ کپتان نے فوری طور پر انجن بند کر دیے اور اس کے بعد تمام سسٹمز کو آف کر دیا۔ تمام مسافروں کو فوراً طیارے سے نکال لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کپتان تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا عادی تھا اور اس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرمعیاری طریقے سے لینڈنگ کی۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے پی آئی اے میں کئی دیگر فلائٹس میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی، لیکن اس مرتبہ نتیجہ سنگین نکلا۔کریو ریسورس مینجمنٹ کی کمی بھی دیکھنے کو ملی، خاص طور پر اس بات میں کہ فرسٹ آفیسر نے کپتان کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ وہ کپتان کے اعلیٰ رینک اور تجربے کی وجہ سے اپنی رائے دینے میں محتاط تھا۔ مکمل تحقیقات کے بعد نشاندہی کی گئی کہ کپتان کی طرف سے جان بوجھ کر تیز رفتار لینڈنگ کی گئی جس سے طیارہ رن وے سے باہر نکلا۔ طیارے کے لینڈنگ کی تیاری اور اسپیڈ کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقوں کی خلاف ورزی کی گئی، نقصانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقص فیصلہ سازی کی گئی،فرسٹ آفیسر کی طرف سے مناسب طریقے سے آواز نہیں اٹھائی گئی،

    پی آئی اے کی انٹرنل انویسٹیگیشن رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ کیپٹن نے دوران پرواز ایک انتہائی تیز رفتار اپروچ اور لینڈنگ کی کوشش کی جس کی وجہ سے طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا، جو کہ "رن وے ایکسرشن” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی آئی اے کے طیارے کے کیپٹن کو کبھی بھی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی خلاف ورزی پر کوئی تنبیہ یا سرزنش نہیں کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ (FDA Analysis) ایک نظرانداز شدہ شعبہ تھا۔ ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ پی آئی اے کے تمام پروازوں کا صرف 5% حصہ تھی، جو کہ ایک سنگین کمی تھی۔ مزید برآں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے FDA ڈی بریفنگ کی نگرانی میں بھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، حالانکہ PCAA کی ذمہ داری تھی کہ وہ پی آئی اے کی حفاظتی طریقہ کار کی نگرانی کرے۔

    پی آئی اے 605 کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر پاکستانی ایوی ایشن کی حفاظتی سسٹمز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جہاں ایک طرف عملے کی تربیت اور ایس اوپیز کی پیروی میں بہتری کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف ایوی ایشن کی نگرانی اور حادثات کے بعد کی کارروائیوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب تک ایئرلائنسز کی طرف سے حفاظتی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، تب تک ایسے حادثات کا سامنا ممکن ہے، جو نہ صرف مسافروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ ایوی ایشن کے شعبے پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔


    اس حادثے میں کیپٹن مریم مسعود کا نام سامنے آیا ہے جو طیارے کو چلا رہی تھی اور اس حادثے کی ذمہ دار تھیَ مریم مسعود کیپٹن عارف مجید کی بہنوئی ہیں، مریم مسعود کی بہن ارم مسعود بھی ہوابازی کی دنیا سے منسلک ہیں، اگست 2016 میں دونوں بہنوں مریم اور ارم نے ایک ساتھ دو بوئنگ 777 اڑائے تھے دونوں کے والد بھی پائلٹ رہ چکے ہیں۔مریم مسعود کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گلگت کی طرف ہی پروازوں میں کام کریں،

    گلگت میں حادثے کا شکار پی آئی اے کا ناکارہ اے ٹی آر طیارہ 83 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے، 4 ہزار کلوگرام وزنی اس طیارے کی نیلامی میں کامیاب بولی گلگت کے مقامی ٹھیکے دارکو دی گئی،ایئر پورٹ پر کھڑے اس ناکارہ طیارے کے دونوں انجنوں اور دیگر میکینیکل آلات نکال کر وزن کے حساب سے نیلام کیا گیا ہے طیارے کا وزن 4 ہزار کلو گرام تھا،طیارے کی نیلامی کا عمل شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کی روشنی میں سر انجام دیا گیا، نیلامی کے لیے اس طیارے کی قیمت 0.844 ملین رکھی گئی تھی تاہم اسے مقررہ قیمت سے10 گنا زائد پر نیلام کیا گیا۔

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

  • پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے کراچی سے تربت کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی آئی اے کی پہلی پرواز 16 دسمبر 2024 کو کراچی سے تربت روانہ ہوگی۔ اس کے علاوہ، پی آئی اے تربت کے لیے ہفتے میں دو پروازیں آپریٹ کرے گا، جو پیر اور بدھ کے دن ہوں گی۔

    پی آئی اے کے اس اقدام سے نہ صرف تربت اور گوادر کے درمیان فضائی رابطے کی بہتری آئے گی، بلکہ یہ سی پیک منصوبوں کی تکمیل اور ترقی کے لیے بھی اہم قدم ثابت ہوگا۔ پی آئی اے نے اپنے آپریشنز کو ازسر نو مضبوط کرنے اور ان علاقوں کے لیے فضائی سروس فراہم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جہاں سی پیک کے تحت اہم ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ تربت اور گوادر کے فضائی آپریشنز کو از سر نو تقویت دینے سے ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔ ان اقدامات سے نہ صرف مقامی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ سی پیک کی تکمیل میں تیز رفتاری بھی آئے گی۔

    یہ فیصلہ پی آئی اے کی جانب سے بلوچستان کے اہم شہروں کو بہتر فضائی رابطوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تربت اور گوادر کی فضائی سروس کی بحالی سے مقامی عوام اور کاروباری افراد کو سفری سہولتیں ملیں گی اور ان شہروں میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔پی آئی اے نے اس بات پر زور دیا کہ ان پروازوں کے آغاز سے نہ صرف بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل میں مدد ملے گی بلکہ یہ علاقے عالمی سطح پر بھی بہتر شناخت حاصل کریں گے۔

  • پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ وہ 10 جنوری سے یورپ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرے گی، جس کا آغاز پیرس سے کیا جائے گا،

    پی آئی اے کی یورپی یونین میں آپریٹ کرنے کی اجازت جون 2020 میں اس وقت معطل کر دی گئی تھی جب پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ حکام کی جانب سے بین الاقوامی ایوی ایشن کے معیارات کے مطابق عملدرآمد کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اپنی پہلی پرواز کے شیڈول کی منظوری مل گئی ہے جسے ہم نے پہلے ہی دائر کیا تھا”، انہوں نے مزید کہا کہ ایئر لائن 9 دسمبر سے اپنی 10 جنوری کی پرواز کے لیے بکنگ شروع کر دے گی۔ یہ پرواز بوئنگ 777 کے ذریعے پیرس کے لیے روانہ ہو گی۔

    یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی اور برطانیہ نے پی آئی اے کو اس وقت یورپ میں آپریٹ کرنے کی اجازت معطل کر دی تھی جب پاکستان نے پائلٹس کے لائسنسوں کی حیثیت کے حوالے سے ایک اسکینڈل کی تحقیقات شروع کی تھیں،

    عبداللہ حفیظ خان نے مزید بتایا کہ پی آئی اے جلد ہی برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ سے برطانیہ کے راستوں کی بحالی کے لیے اجازت طلب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار DfT سے منظوری ملنے کے بعد لندن، مانچسٹر اور برمنگھم پی آئی اے کی پروازوں کے اہم مقامات بن جائیں گے۔

    اس پابندی کی وجہ سے پی آئی اے کو سالانہ تقریباً 40 ارب روپے (144 ملین ڈالر) کا نقصان ہو رہا تھا۔

    پی آئی اے پاکستان کی گھریلو ایوی ایشن مارکیٹ میں 23 فیصد حصے کے ساتھ کام کر رہی ہے، مگر اس کی 34 طیاروں کے بیڑے کو مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جو 60 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتی ہیں۔ پی آئی اے کی عالمی سطح پر 87 ممالک کے ساتھ معاہدے اور اہم لینڈنگ سلاٹس ہونے کے باوجود، اس کے لیے براہ راست پروازوں کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔

    پی آئی اے کی نجکاری کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں، جب اسے اپنے مطلوبہ قیمت سے کہیں کم ایک ہی پیشکش ملی تھی۔یہ فیصلہ پی آئی اے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے، جو اپنی مالی مشکلات میں کمی لانے اور یورپ کے لیے پروازوں کی دوبارہ بحالی کے ذریعے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • عدالت  اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لے کر پی آئی اے نجکاری کا کیس نمٹا دیا

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری کیس کی سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے پی آئی اے انتظامیہ کو نئے پروفیشنلز بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی، حکومت کی جانب سے پی آئی اے نجکاری کا عمل شروع کیا تھا، نجکاری کے عمل سے پی آئی اے میں نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں،پی آئی اے نجکاری کا عمل کمیشن دوبارہ کرنے جا رہا ہے، پی آئی اے فلائٹ آپریشن پر پابندی بھی ختم ہو گئی ہے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ دوبارہ نجکاری کے عمل میں اب شائد ریٹ زیادہ ملے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی آئی اے نجکاری کر کے حکومت کہیں سپریم کورٹ آرڈر کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا نجکاری عدالت کو اعتماد میں لے کر کی جائے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجکاری پر اعتماد میں لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت اپنا اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب کیطرف سے جسٹس منصور علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ محتسب کیطرف سے جسٹس منصور کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا،وفاقی محتسب نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے،وفاقی محتسب نے اپنی متفرق درخواست بھی واپس لے لی ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ کیس تو ایسا لگتا ہے ایک ہائیکورٹ نے دوسری ہائیکورٹ کو نوٹسز کیے،

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • روز ویلٹ ہوٹل، ٹرمپ کے بھارتی نژاد مشیر راما سوامی کا بیان سامنے آ گیا

    روز ویلٹ ہوٹل، ٹرمپ کے بھارتی نژاد مشیر راما سوامی کا بیان سامنے آ گیا

    نیویارک: امریکی بھارتی نژاد مشیر ووک راما سوامی نے نیویارک کے مشہور ہوٹل روز ویلٹ کے حوالے سے ایک جانبدارانہ بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ نیویارک کی شہری انتظامیہ نے صرف پی آئی اے کی زیرملکیت ہوٹل کو کرائے پر نہیں لیا، بلکہ دیگر ہوٹلوں کو بھی کرائے پر حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق نیویارک سٹی حکومت نے 14,000 کمروں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے روز ویلٹ سمیت 100 سے زائد چھوٹے بڑے ہوٹلوں کو کرایہ پر حاصل کیا ہے، جن میں سے کئی ہوٹلز غیر ملکی اور غیر امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔

    امریکی حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نامزد عہدیدار اور نائب صدر جے ڈی وینس کے انتہائی قریبی دوست بھارتی نژاد امریکن نوجوان ووک گھناپتی راماسوامی نے اپنے ایک تازہ جانبدارانہ بیان کے ذریعہ پی آئی اے انوسٹمنٹ کی زیر ملکیت نیویارک کے ہوٹل روز ویلٹ کے تلخ حقائق پر مبنی تاریخ کے باب کو بیک وقت امریکی، بھارتی اور پاکستانی توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔راما سوامی نے عہدے کا حلف بھی نہیں لیا، شہری حکومت کے اخراجات بھی ان کے دائرہ کار میں نہیں، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کی زیر ملکیت ہوٹل کو بعض پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے امریکی دولت مند خانوں کو بطور تحفہ دینے کے مبینہ وعدے بھی کرڈالے گئے ہیں ۔

    راما سوامی نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ نیویارک سٹی حکومت نے روز ویلٹ ہوٹل کا کرایہ 220 ملین ڈالرز میں ادا کیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے انوسٹمنٹ کی ملکیت میں موجود اس ہوٹل کا کرایہ اور لیز کی شرائط کچھ مختلف ہیں۔ ان کے مطابق، پی آئی اے انوسٹمنٹ جو کہ ایک نیم سرکاری کارپوریشن ہے، اس نے اس ہوٹل کی لیز پر 220 ملین ڈالرز کی رقم کی بات کی ہے لیکن حقیقت میں اس لیز پر تین سال کے دوران پی آئی اے انوسٹمنٹ کو صرف 18 ملین ڈالرز کیش حاصل ہوں گے۔

    راما سوامی نے اس موقع پر پی آئی اے انوسٹمنٹ کی ملکیت کے بارے میں تمام حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جانبدارانہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نیویارک سٹی کی انتظامیہ کی اس کوشش کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ وہ غیر قانونی امیگرنٹس کے لیے رہائش فراہم کرنے کے لیے مختلف ہوٹلز کرایہ پر حاصل کر رہی ہے، جس میں پی آئی اے کا ہوٹل روز ویلٹ بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ نیویارک کی شہری انتظامیہ نے نہ صرف روز ویلٹ ہوٹل بلکہ شہر بھر میں مختلف ہوٹلز کو کرایہ پر حاصل کیا ہے، اور ان میں کئی بھارتی اور غیر ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، بھارتی تاج گروپ اور ایئر انڈیا کی ملکیت والے ہوٹل بھی اس پروگرام میں شامل ہیں۔راما سوامی کے اس بیان کے ذریعے پی آئی اے کی ملکیت میں ہونے والے اس ہوٹل کی تاریخ پر بحث نے امریکی، بھارتی اور پاکستانی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔ راما سوامی نے اگرچہ اپنی سیاسی وابستگی اور مالیاتی مفادات کی بنیاد پر یہ بیان دیا، تاہم ان کے دعووں میں کئی اہم پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

    نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز کی حکومت نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا تاکہ غیر قانونی امیگرنٹس کو رہائش فراہم کی جا سکے، لیکن اس میں ان ہوٹلوں کو کرایہ پر حاصل کرنے کے بعد ان کے مالکوں سے وابستہ حقیقتوں کو نظرانداز کیا گیا۔ پی آئی اے کی ملکیت میں ہوٹل روز ویلٹ ایک اہم پراپرٹی ہے، لیکن راما سوامی نے اس پراپرٹی کے مالیاتی پہلو پر مناسب تحقیق کیے بغیر ہی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اس کا تذکرہ کیا۔

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی تنزلی اور ناکامی کی وجوہات پر طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، اور اس میں مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز کو الزام دیا جاتا رہا ہے۔ اس کی ابتداء 1980 کی دہائی سے ہوئی تھی، جب پی آئی اے کی کارکردگی میں کمی آئی اور اس کی کامیابی کے دن ختم ہوئے۔ پی آئی اے کی ناکامی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں بدعنوانی، اقربا پروری اور غیر پیشہ ورانہ انتظامیہ شامل ہیں۔

    پی آئی اے کی بدحالی کا آغاز پیپلز پارٹی کی حکومت سے ہوا، جب اس ادارے کو سیاسی طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ پی پی پی کے دور حکومت میں پی آئی اے کی انتظامیہ میں اقربا پروری اور بدعنوانی کے واقعات سامنے آئے، جس سے ادارہ مزید کمزور ہو گیا۔ سیاسی اثر و رسوخ نے ایئر لائن کی صلاحیتوں کو متاثر کیا، اور اس کے نتیجے میں ملازمین کی بھرتی اور دیگر اہم فیصلے ذاتی مفادات کے تحت ہونے لگے۔

    پی آئی اے کی ناکامی کے بعد مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز، جیسے ایمریٹس، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز نے اس خلا کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہ ایئرلائنز اپنی خدمات، معیار اور جدید طیاروں کے ساتھ پی آئی اے سے کہیں آگے نکل گئیں۔ یہ ایئرلائنز نہ صرف بین الاقوامی پروازوں کے لیے ترجیح بن گئیں بلکہ انہوں نے پاکستانی مسافروں کے لیے بھی بہترین خدمات فراہم کرنا شروع کر دیں۔ ان ایئرلائنز نے اپنے نیٹ ورک، پائیداری اور وقت کی پابندی کے ذریعے پی آئی اے کے مقابلے میں اپنی ساکھ بنائی۔

    پی آئی اے کی سروسز، نیٹ ورک اور وقت کی پابندی میں کمی کا شکار ہوئیں۔ صارفین کو ایسے ایئر لائن کے ساتھ سفر کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا تھا جو نہ صرف غیر مستحکم ہو بلکہ جس کے طیارے بھی پرانے اور غیر محفوظ ہوں؟ وقت کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کے طیاروں کی حالت خراب ہوئی اور اس کی فضائی سروسز نے عالمی معیار کو برقرار رکھنے میں ناکامی کی۔ اس کے نتیجے میں مسافر دیگر ایئرلائنز کو ترجیح دینے لگے۔

    پی آئی اے کی زبوں حالی میں ایک اور سنگین موڑ اس وقت آیا جب پی ٹی آئی دور حکومت میں غلام سرور خان وفاقی وزیر ہوابازی تھے اور انہوں نے کراچی میں پی آئی اے جہاز کے حادثے کے بعد پارلیمنٹ میں پائلٹ کے جعلی لائسنس کے حوالے سے بیان دیا، اس کے بعد پی آئی اے کو شدید نقصان پہنچا۔پی ٹی آئی دور حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں نے نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو مزید بگاڑ دیا بلکہ ایئر لائن کے ادارتی ڈھانچے میں بھی بے ترتیبی پیدا کی۔ ان کے فیصلوں نے ایک طرف جہاں ادارے کی کارکردگی کو متاثر کیا، وہیں دوسری طرف پی آئی اے کی ساکھ اور شہرت بھی مزید خراب ہوئی۔

    اگر پی آئی اے کی موجودہ حالت میں کوئی بہتری لانا ہے تو حکومت کو اس کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ بدعنوانی اور اقربا پروری کی روک تھام اور پیشہ ورانہ معیار کو دوبارہ قائم کرنا ایک لازمی ضرورت ہے تاکہ پی آئی اے ایک مرتبہ پھر اپنی ساکھ بحال کر سکے۔

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم

  • پی آئی اے پروازوں کی بحالی  پاکستان کے لئے  بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) پر عائد یورپی یونین کی پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد قومی ایئرلائن کو دوبارہ یورپ کی فضاؤں میں پروازیں بھرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    پاکستان کی معروف سیاستدان اور پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنماسحر کامران نے اس خوشی کے موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا،”الحمداللہ! یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی ) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔ یہ ایک سنگ میل ہے اور ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات ہے۔ پی آئی اے کی پروازوں کا یورپ میں دوبارہ آغاز نہ صرف ایئرلائن کے لئے بلکہ پورے پاکستان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔””یہ فیصلے پی آئی اے کی محنت اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ اب پاکستانی عوام کو ایک نئی اُمید اور عزت کا موقع ملے گا اور انٹرنیشنل پروازوں کے حوالے سے بھی مزید کامیابیاں سامنے آئیں گی۔”

    یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں پی آئی اے نے ایوی ایشن کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں اب یہ پابندی اٹھا لی گئی ہے۔پی آئی اے نے بھی اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم قدم ہے اور قومی ایئرلائن کی دوبارہ یورپ میں پروازیں بھرنا اس کی ترقی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

    سحر کامران نے پی آئی اے کی ٹیم اور ایوی ایشن حکام کو اس کامیابی پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ پی آئی اے مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کی پروازوں سے پابندی اٹھائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر دفاع خواجہ آصف، وزارت ہوا بازی، سی اے اے حکام اور پی آئی اے انتظامیہ کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی اور اسے مالی طور پر بھی فائدہ ہوگا، یہ پاکستان کی کامیاب پالیسیوں کا مظہر ہے،یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کیلئے ہوائی سفر میں آسانی پیدا ہوگی۔

    دوسری جانب پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ پابندی ختم ہونے کے بعد پی آئی اے سب سے پہلے پیرس کیلئے پروازیں چلائے گی،پیرس کیلئے فلائٹ آپریشن چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا،برطانیہ کیلئے پروازوں پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ برطانوی حکام کریں گے، اب برطانوی پابندی کے بھی جلد خاتمہ کی امید ہے

    واضح رہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی اٹھا لی ہے،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن اور یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم کر دی، ایئر بلیو لمیٹڈ، کو بھی تھرڈ کنٹری آپریٹر کی اجازت مل گئی،یہ کامیابی وزارتِ ہوا بازی کی مکمل توجہ کے باعث ممکن ہوئی،آج ایک تاریخی دن ہے،وزارت ہوابازی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا،بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم کے معیار کے مطابق حفاظتی نگرانی کو یقینی بنایا گیا،

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب