Baaghi TV

Tag: پی آئی اے

  • پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی ایک اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سعودی عرب سے ملتان جانے والی پرواز کے مسافر 12 گھنٹے سے لاہور ایئر پورٹ پر بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔

    پی آئی اے کی پرواز جدہ سے ملتان کے لیے روانہ ہوئی تھی، لیکن خراب موسم اور دھند کی وجہ سے اسے لاہور اتارنا پڑا۔مسافروں کا کہنا ہے کہ جب پرواز لاہور پہنچی تو انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جلد ہی ملتان روانہ کیا جائے گا، لیکن اس کے باوجود 12 گھنٹے گزر جانے کے باوجود کوئی حل نہیں نکالا گیا۔ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافر سخت پریشانی کا شکار ہیں اور پی آئی اے کے عملے کے ساتھ ان کے برتاؤ کو لے کر شدید غم و غصہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    مسافروں کی ایک ویڈیو سانے آئی ہے جس میں وہ احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک مسافر نے بتایا کہ وہ رات 11 بجے سے ایئر پورٹ پر بیٹھے ہیں اور انہیں مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ اگلے کچھ وقت میں پرواز ملتان کے لیے روانہ ہو جائے گی۔ تاہم، اب تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں ٹھوس معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں اور وہ گھنٹوں گزر جانے کے باوجود ملتان روانہ نہیں ہو سکے۔ویڈیو میں مسافروں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دے رہی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور تمام مسافر پی آئی اے کی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ایک مسافر کا کہنا تھا کہ "ہم نے پی آئی اے پر بھروسہ کیا تھا لیکن اب یہاں آ کر ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے کتنا بڑا غلط فیصلہ کیا تھا۔”مسافروں کی جانب سے مزید شکایات یہ بھی ہیں کہ ایئر پورٹ پر کوئی مناسب رہنمائی یا سہولت فراہم نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئر لائن کی طرف سے رابطہ کرنے کے لئے کوئی نمبر نہیں دیا جا رہا اور پی آئی اے کا عملہ صرف وقت گزاری کر رہا ہے، جبکہ مسافر سخت پریشانی کا شکار ہیں۔ لاہور ایئر پورٹ پر اس وقت پی آئی اے کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے اور مسافر اس وقت تک ایئرپورٹ پر موجود ہیں جب تک کہ ان کا معاملہ حل نہیں کیا جاتا۔

    پی آئی اے کی پروازیں تاخیر کا شکار

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

  • پی آئی اے کی پروازیں تاخیر کا شکار

    پی آئی اے کی پروازیں تاخیر کا شکار

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی کراچی سے اسلام آباد اور لاہور جانے والی پروازوں میں تاخیر کا سامنا ہوا ہے۔

    پی آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ تاخیر جہازوں کی روٹین کی مینٹیننس کے دوران ایک جہاز کے سافٹ ویئر اپڈیٹ میں تاخیر کی وجہ سے ہوئی۔پی کے 300 جو کہ کراچی سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والی تھی، اس کی روانگی میں تاخیر ہوگئی۔ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ پرواز اب دوپہر 1:30 بجے روانہ ہوگی۔اسی طرح پی کے 301 کی پرواز بھی متاثر ہوئی ہے، جو اسلام آباد سے کراچی واپس آنا تھی۔ یہ پرواز بھی معمولی تاخیر کا شکار ہوئی ہے اور پی آئی اے کے مطابق یہ پرواز بھی جلد روانہ ہوگی۔پی آئی اے حکام نے یہ بھی بتایا کہ لاہور جانے والی پرواز پی کے 304 کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ تاہم، اس پرواز کے مسافروں کو متبادل پروازوں پر روانہ کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

    پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) خود اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے مسافروں کی سہولت اور آرام کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔پی آئی اے حکام نے مسافروں کو یقین دلایا کہ تمام متاثرہ پروازوں کے لیے متبادل انتظامات کیے گئے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ اور محفوظ سفر کر سکیں۔تاخیر اور منسوخی کے باوجود پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مسافروں کو اس صورت حال میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔

    اداکارہ بلیک لائیولی کاساتھی اداکار پر جنسی ہراسانی کا مقدمہ، اداکاروں کی حمایت

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

  • آئندہ برس  8 طیارے پی آئی اے  میں شامل ہونگے،سی ای او پی آئی اے

    آئندہ برس 8 طیارے پی آئی اے میں شامل ہونگے،سی ای او پی آئی اے

    سی ای او پی آئی اے خرم مشتاق نے کہا ہے کہ آئندہ سال 8 طیارےقومی ائیرلائن کے بیڑے میں شامل ہونگے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی نوابزادہ افتخار کی زیر صدارت ہوا ،اجلاس میں ممبران شریک ہوئے جبکہ سی ای او قومی ائیرلائن نے بریفنگ دی،اجلاس کے دوران کمیٹی چیئرمین نے ارکان سے کہا کہ سی ای او قومی ائیرلائن نئے آئے ہیں، ان کے سامنے سوالات رکھ دیں،بیرسٹر عقیل ملک نے سوال کیا کہ قومی ائیرلائن اگلےمہینےنئے جہاز خرید رہا ہےتو کیا لانگ رینج جہاز خریدےجائیں گے؟ پچھلےتین سال میں قومی ائیرلائن کے کتنے ملازمین بیرون ملک فرار ہوئے ہیں؟ ملازمین بیرون ملک پناہ نہ لیں، اس کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟سی ای او قومی ائیرلائن نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک 8 نئے 777 طیارے قومی ائیرلائن کے بیڑے میں شامل ہونگے، 4 سال بعد یورپی یونین کی پابندی ختم ہوگئی ہے، پیرس میں ہمیں ٹرمینل 3 ملا ہے، یورپ جانے والےٹرمینل تک قومی ائیرلائن کو رسائی ملے گی توکنکٹنگ فلائٹ بھی جاسکے گی، اسلام آباد سے پیرس کے لیے ہفتہ وار 2 پروازیں چلائی جائیں گی، ائیر فرانس کے معاہدےکی وجہ سے یورپی مسافروں کوبھی سہولت ملے گی، ایس پی ایس معاہدےکے تحت پیرس کے ساتھ دیگریورپی ممالک کےسفرکی سہولت بھی ملے گی۔

    ممبر کمیٹی مہرین بھٹو نے اجلاس میں کہا کہ قومی ائیرلائن کی فوڈ کوالٹی پر تو الگ سے کمیٹی ایجنڈا ہوگا ، ممبر شریف خان نے کہا کہ قومی ائیر لائن میں فلائٹ اسٹاف کا رویہ بہت تضحیک آمیز ہوتا ہے، اس موقع پر سی ای او نے جواب دیا کہ قومی ائیرلائن کی فلائٹس میں فوڈ کوالٹی بہتر بنا دی ہے،چیئرمین کمیٹی نے ائیرپورٹ ڈویلپمنٹس پر 4 رکنی ذیلی کمیٹی بناتے ہوئے کہا کہ ذیلی کمیٹی ائیرپورٹس کی ڈویلپمنٹ اور جاری کام پر پیشرفت رپورٹ دے گی۔

    ٹریول ایجنٹس نے آج تک قومی ایئرلائن کوکتنا نقصان پہنچایا،تفصیلات طلب
    اجلاس میں قومی ائیرلائن کے ملازمین کی تعداد، پروموشن اورپوسٹنگ سے متعلق تفصیلات ممبران کوپیش کی گئی،کمیٹی ممبر رمیش لال نے بتایا کہ قومی ائیرلائن کےکچھ ملازمین کی 10سال سے پروموشن نہیں ہوئی، مکمل بریفنگ دی جائے تاکہ معلوم ہو کیا کیا جا رہا ہے،اجلاس میں اراکین نے سوال کیےکہ قومی ائیرلائن کے ایئرمارشل (ر) سی ای او تھےتو کتنی پروازیں تھیں اور اب کتنی ہیں؟ ایک ممبر نے کہا کہ ٹریول ایجنٹس نے آج تک قومی ایئرلائن کوکتنا نقصان پہنچایا، تفصیلات آئندہ میٹنگ میں فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے حکام کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں اس پر دوبارہ بریفنگ دی جائے۔

    قائمہ کمیٹی ایوی ایشن نے ملتان کے فلائنگ کلب کے عہدیداروں کو طلب کر لیا
    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کے چیئرمین نوابزادہ افتخار نے اگلے اجلاس میں ملتان کے فلائنگ کلب کے عہدیداروں کو طلب کر لیا،کمیٹی اجلاس میں ملتان فلائنگ کلب کے آڈٹ سے متعلق ایجنڈا زیرِ بحث لایا گیا،ممبر کمیٹی رمیش لال نے اس دوران کہا کہ فلائنگ کلب ملتان کے ڈی جی کے پیش نہ ہونے پر کیا کارروائی ہونی چاہیے،ممبر کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے اجلاس کے دوران سوال اٹھایا کہ فلائنگ کلب ملتان کے آڈٹ کو بغیر ضوابط کیوں کرایا گیا؟ فلائنگ کلب میں تربیت پانے والے بچے اب متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ سروس نہیں دی جا رہی، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہر کام نیب اور ایف آئی اے کے حوالے ہو جائے۔

    سیکریٹری ایوی ایشن نے کہا کہ فلائنگ کلب وزارت ہوا بازی کے تحت کام کرتے ہیں، فلائنگ اسکولز کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،ہ بچوں نے لاکھوں روپے فیس بھری تو ان کو ٹریننگ کیوں نہیں مل رہی، یہ دیکھنا ہو گا، ابھی بھی آپ کے پاس حل نہیں ہے، آج تو ذیلی کمیٹی کی سفارشات آنا تھیں، میرا مدعا ہے کہ بچوں کو فیس واپس کرنے کے بجائے ٹریننگ مکمل کرائی جائے،ہم ایک ماہ میں فلائنگ اسکولز کے نئے رولز بنا کر کمیٹی کو پیش کریں گے، مریدکے میں ایئرپورٹ اتھارٹی نے اپنی فنڈنگ سے فلائنگ اسکول بنایا جو 15 جنوری کو فعال ہو جائے گا، ملک کو نئے پائلٹس کی اشد ضرورت ہے، ملتان فلائنگ کلب ٹرسٹ ہے تو اس پر ٹرسٹیز کا معاملہ بھی دیکھنا ہو گا۔

    اجلاس کے دوران ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ سول ایوی ایشن نے ایئر لائنز کے لیے پائلٹ ٹریننگ اور فراہمی کی نئی پالیسی بنائی ہے جو پیش کی جائے گی،چیئرمین کمیٹی نوابزادہ افتخار نے کہا کہ اگلا اجلاس ملتان میں ہوگا اور وہاں فلائنگ کلب کے عہدیدار پیش ہوں۔

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    آئندہ پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

  • کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    کراچی سے اسلام آباد،پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،ہنگامی لینڈنگ

    پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز میں فنی خرابی کی وجہ سے اسے روانگی کے 25 منٹ بعد واپس کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کروا لیا گیا۔

    ، پی آئی اے کی پرواز پی کے 300 نے کراچی سے اسلام آباد کے لیے روانگی لی تھی، تاہم طیارے کے ٹیک آف کے بعد اس میں ایک فنی خرابی کا سامنا ہوا۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق، طیارے کا لینڈنگ گیئر صحیح طریقے سے بند نہیں ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے کپتان نے حفاظتی اقدامات کے تحت فوری طور پر واپس کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کا فیصلہ کیا۔یہ واقعہ روانگی کے تقریباً 25 منٹ بعد پیش آیا، اور طیارہ بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر واپس پہنچا۔ پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ تمام مسافر محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    پی آئی اے کے سی ای او، خرم مشتاق، بھی اس پرواز میں سوار تھے، ترجمان نے مزید بتایا کہ طیارے کو تبدیل کر کے مسافروں کو روانہ کر دیا گیا اور ان کی سفری سہولت میں کوئی خلل نہیں آیا۔پی آئی اے کی انتظامیہ نے اس واقعہ کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں.

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    آئندہ پی آئی اے نیلامی میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے،وزیر قانون

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

  • سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    پاکستان کی قومی ائیر لائن، پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز) کی نجکاری کی پہلی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے جس پر حکومتی اتحادیوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومتی اتحادیوں نے نجکاری کی اس کوشش کو ناکامی قرار دیتے ہوئے موجودہ حکومت کو سخت الفاظ میں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دوسری بار پی آئی اے کی نجکاری میں کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی اس عمل میں کامیاب ہوگی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش پر کڑی تنقید کی۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی، سحر کامران نے کہا کہ "اب تک جو کچھ بھی پرائیوٹائزیشن کے نام پر ہوا، وہ صرف ناکامی ہی ثابت ہوا۔ پی آئی اے کو کچھ حاصل نہیں ہوا، صرف 6.8 ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی، لیکن قومی ائیر لائن کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مارکیٹنگ پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔”انہوں نے مزید کہا کہ "یہ 2015 سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی جائے گی،پیپلز پارٹی کی تنقید کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ، آسیہ اسحاق صدیقی نے کہا کہ حکومت ہر پہلو پر نظر ڈال کر فیصلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم فنانشل ایڈوائزر کی مدد سے تمام حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ہر فنانشل ایڈوائزر کی اپنی شرائط اور ٹرمز ہوتی ہیں، اور ہم ان کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔”

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں ناکامی "انتظامیہ کی نااہلی” کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر انتظامیہ نے صحیح طریقے سے کام کیا ہوتا تو یہ ناکامی نہ ہوتی۔”دوسری جانب نبیل گبول نے کہا کہ "پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش نہایت غیر پیشہ ورانہ اور عجلت میں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے یہ ناکام ہوئی۔”پی آئی اے کی جتنی بولی دی گئی، اتنی تو کراچی اسلام آباد بس سروس کے لائسنس کی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بولی اس بات کا ثبوت ہے کہ نجکاری میں شفافیت کی کمی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے قانون، اعظم نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اب یورپ اور دیگر اہم روٹس بحال ہو چکے ہیں، جس سے پی آئی اے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ نجکاری کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مزید آفرز آئیں گی۔”حکومت کی جانب سے 85 ارب روپے کی توقع کی گئی تھی، لیکن جب پی آئی اے کی نجکاری کی بولی کی گئی، تو صرف 10 ارب روپے کی پیشکش ملی۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں اور آئندہ کی کوششوں میں مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ حکومت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ پہلی کوشش میں ناکامی کے باوجود حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ نجکاری کے عمل میں ایک دن کامیابی حاصل کی جائے گی۔ تاہم اس ناکامی نے حکومت کے اتحادیوں میں اضطراب پیدا کیا ہے، اور یہ معاملہ قومی سیاست میں ایک نیا تنازعہ بن چکا ہے۔حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش پر اب تمام نظریں ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئندہ کی کوششیں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گی اور اس میں عوامی مفاد کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت کس طرح اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر اس مشکل عمل کو مکمل کرتی ہے۔نجکاری کے اس پیچیدہ عمل میں کامیابی نہ صرف پی آئی اے کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ حکومت کی نجکاری کی پالیسی کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

    قائد بینظیر،آصف زرداری کی شادی،یادگارلمحہ تھی،سحرکامران

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

    سانحہ اے پی ایس، ایسا زخم ہے جو کبھی بھی نہیں بھرے گا،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

  • گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    20 جولائی 2019 کو پی آئی اے کی پرواز 605، جو ایک ATR 42-500 طیارہ تھا اور رجسٹریشن نمبر AP-BHP کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور جا رہی تھی، ایک سنگین حادثے کا شکار ہو گئی تھی اس واقعے کے بعد پاکستانی ایوی ایشن کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔

    پی آئی اے فلائٹ کا طیارہ ATR 42-500 تھا، اس واقعہ میں طیارہ غیرمعمولی رفتار سے لینڈنگ کرنے کے دوران رن وے سے باہر نکل آیا۔ کپتان نے غیر معیاری طریقے سے تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا اور اس کے دائیں طرف کا لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود تمام مسافر محفوظ رہے اور انہیں فوری طور پر طیارے سے نکال لیا گیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ کپتان بار بار تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کے عادی تھے اور اس بار بھی انہوں نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، جس کا نتیجہ غیر معمولی لینڈنگ اور طیارے کے رن وے سے باہر نکلنے کی صورت میں نکلا۔ پی آئی اے نے اس حادثے کے بعد طیارے کو مستقل طور پر ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    پی آئی اے کی پرواز پی آئی اے 605، جس کا طیارہ ATR 42-500 تھا (رجسٹریشن نمبر AP-BHP)، سنگین حادثے کا شکار ہوئی۔ یہ پرواز اسلام آباد سے گلگت کے لیے روانہ ہوئی تھی اور فلائٹ کے دوران کپتان اور فرسٹ آفیسر کی طرف سے کئی سنگین غلطیاں کی گئیں جس کے باعث طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا۔ طیارے کا وزن: 18,600 کلوگرام تھا،گلگت میں موسم صاف اور معمولی تھا۔پرواز سے قبل طیارے میں کوئی غیر معمولی یا تکنیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی۔ کپتان نے پرواز کی قیادت کی تھی، اور فرسٹ آفیسر کو معاونت دی جا رہی تھی۔ پرواز کے آغاز کے بعد، 260 فٹ پر آٹومیٹک پائلٹ کو فعال کیا گیا۔ تاہم، 1,900 فٹ کی بلندی کے بعد، کپتان نے فلیپ کنٹرول کے بجائے وی ایس (Vertical Speed) موڈ کا انتخاب کیا جو فنی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا۔ وی ایس موڈ میں +400 فٹ/منٹ کی رفتار سے کلائمب شروع کیا گیا، جو بعد میں +1,700 فٹ/منٹ اور پھر +2,000 فٹ/منٹ تک پہنچ گیا۔ اس سے طیارے کا زاویہ 15 ڈگری تک بڑھ گیا اور رفتار 130 ناٹ سے کم ہو کر 160 ناٹ کی معیاری کلائمب اسپیڈ سے کم ہو گئی۔ پرواز کے دوران طیارہ FL165 پر کروز کر رہا تھا۔ بلندی 13,200 فٹ کے قریب، وی ایس موڈ کے باوجود رفتار میں مزید کمی آئی۔
    gilgit

    گلگت ایئرپورٹ کے لیے ڈیسنٹ شروع کیا گیا، اور اس دوران طیارہ 245 ناٹ کی تیز رفتار پر تھا، جو کہ پی آئی اے کے ایس او پیز کے خلاف تھا کیونکہ اس رفتار کو کم کر کے 200 ناٹ رکھا جانا چاہیے تھا۔ فرسٹ آفیسر نے کپتان کو اس بات کی اطلاع دی، لیکن کپتان نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچا تو 7.1 ناٹیکل میل دور 7,630 فٹ کی بلندی پر، EGPWS نے "Too Low Terrain” کا الرٹ جاری کیا۔ اس الرٹ کی وجہ زمین کی بلندی تھی اور اگر طیارہ ایس او پیز کے مطابق رفتار میں کمی کرتا تو یہ وارننگ نہیں آتی۔ کپتان نے طیارہ 175 ناٹ کی رفتار سے 15 ڈگری فلیپ پر لینڈنگ کی تیاری کی، حالانکہ اس رفتار پر فلیپ کو نیچے کرنے کا معیاری حد 180 ناٹ تھی۔ طیارہ رن وے 25 پر 160 ناٹ کی رفتار سے داخل ہوا اور تقریباً 2,000 فٹ نیچے رن وے پر ٹچ ڈاؤن کیا۔ اس وقت رن وے پر 3,400 فٹ کا فاصلہ باقی تھا، جس میں طیارہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک طیارے کی رفتار بہت زیادہ تھی (150 ناٹ)، جس کے باعث طیارہ رن وے پر زیادہ فاصلے تک "فلوٹ” کرتا رہا۔ کپتان نے تھرسٹ ریوڑسر کی بجائے صرف بریکس لگائیں، جو کہ اتنی مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ زیادہ رفتار اور ناکافی بریکنگ کے باعث طیارہ رن وے کے آخر میں پہنچ گیا اور پھر کپتان نے طیارہ دائیں طرف موڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ رن وے سے باہر نہ جائے۔ رن وے سے باہر نکلنے کے دوران طیارے کا دایاں لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا، جس کے باعث طیارے کو شدید ساختی نقصان پہنچا۔ طیارے کے دائیں انجن کو شدید نقصان پہنچا جب اس کا پروپیلر زمین سے ٹکرا گیا۔ کپتان نے فوری طور پر انجن بند کر دیے اور اس کے بعد تمام سسٹمز کو آف کر دیا۔ تمام مسافروں کو فوراً طیارے سے نکال لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کپتان تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا عادی تھا اور اس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرمعیاری طریقے سے لینڈنگ کی۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے پی آئی اے میں کئی دیگر فلائٹس میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی، لیکن اس مرتبہ نتیجہ سنگین نکلا۔کریو ریسورس مینجمنٹ کی کمی بھی دیکھنے کو ملی، خاص طور پر اس بات میں کہ فرسٹ آفیسر نے کپتان کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ وہ کپتان کے اعلیٰ رینک اور تجربے کی وجہ سے اپنی رائے دینے میں محتاط تھا۔ مکمل تحقیقات کے بعد نشاندہی کی گئی کہ کپتان کی طرف سے جان بوجھ کر تیز رفتار لینڈنگ کی گئی جس سے طیارہ رن وے سے باہر نکلا۔ طیارے کے لینڈنگ کی تیاری اور اسپیڈ کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقوں کی خلاف ورزی کی گئی، نقصانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقص فیصلہ سازی کی گئی،فرسٹ آفیسر کی طرف سے مناسب طریقے سے آواز نہیں اٹھائی گئی،

    پی آئی اے کی انٹرنل انویسٹیگیشن رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ کیپٹن نے دوران پرواز ایک انتہائی تیز رفتار اپروچ اور لینڈنگ کی کوشش کی جس کی وجہ سے طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا، جو کہ "رن وے ایکسرشن” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی آئی اے کے طیارے کے کیپٹن کو کبھی بھی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی خلاف ورزی پر کوئی تنبیہ یا سرزنش نہیں کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ (FDA Analysis) ایک نظرانداز شدہ شعبہ تھا۔ ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ پی آئی اے کے تمام پروازوں کا صرف 5% حصہ تھی، جو کہ ایک سنگین کمی تھی۔ مزید برآں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے FDA ڈی بریفنگ کی نگرانی میں بھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، حالانکہ PCAA کی ذمہ داری تھی کہ وہ پی آئی اے کی حفاظتی طریقہ کار کی نگرانی کرے۔

    پی آئی اے 605 کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر پاکستانی ایوی ایشن کی حفاظتی سسٹمز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جہاں ایک طرف عملے کی تربیت اور ایس اوپیز کی پیروی میں بہتری کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف ایوی ایشن کی نگرانی اور حادثات کے بعد کی کارروائیوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب تک ایئرلائنسز کی طرف سے حفاظتی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، تب تک ایسے حادثات کا سامنا ممکن ہے، جو نہ صرف مسافروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ ایوی ایشن کے شعبے پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔


    اس حادثے میں کیپٹن مریم مسعود کا نام سامنے آیا ہے جو طیارے کو چلا رہی تھی اور اس حادثے کی ذمہ دار تھیَ مریم مسعود کیپٹن عارف مجید کی بہنوئی ہیں، مریم مسعود کی بہن ارم مسعود بھی ہوابازی کی دنیا سے منسلک ہیں، اگست 2016 میں دونوں بہنوں مریم اور ارم نے ایک ساتھ دو بوئنگ 777 اڑائے تھے دونوں کے والد بھی پائلٹ رہ چکے ہیں۔مریم مسعود کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گلگت کی طرف ہی پروازوں میں کام کریں،

    گلگت میں حادثے کا شکار پی آئی اے کا ناکارہ اے ٹی آر طیارہ 83 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے، 4 ہزار کلوگرام وزنی اس طیارے کی نیلامی میں کامیاب بولی گلگت کے مقامی ٹھیکے دارکو دی گئی،ایئر پورٹ پر کھڑے اس ناکارہ طیارے کے دونوں انجنوں اور دیگر میکینیکل آلات نکال کر وزن کے حساب سے نیلام کیا گیا ہے طیارے کا وزن 4 ہزار کلو گرام تھا،طیارے کی نیلامی کا عمل شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کی روشنی میں سر انجام دیا گیا، نیلامی کے لیے اس طیارے کی قیمت 0.844 ملین رکھی گئی تھی تاہم اسے مقررہ قیمت سے10 گنا زائد پر نیلام کیا گیا۔

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

  • پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے کراچی سے تربت کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی آئی اے کی پہلی پرواز 16 دسمبر 2024 کو کراچی سے تربت روانہ ہوگی۔ اس کے علاوہ، پی آئی اے تربت کے لیے ہفتے میں دو پروازیں آپریٹ کرے گا، جو پیر اور بدھ کے دن ہوں گی۔

    پی آئی اے کے اس اقدام سے نہ صرف تربت اور گوادر کے درمیان فضائی رابطے کی بہتری آئے گی، بلکہ یہ سی پیک منصوبوں کی تکمیل اور ترقی کے لیے بھی اہم قدم ثابت ہوگا۔ پی آئی اے نے اپنے آپریشنز کو ازسر نو مضبوط کرنے اور ان علاقوں کے لیے فضائی سروس فراہم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جہاں سی پیک کے تحت اہم ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ تربت اور گوادر کے فضائی آپریشنز کو از سر نو تقویت دینے سے ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔ ان اقدامات سے نہ صرف مقامی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ سی پیک کی تکمیل میں تیز رفتاری بھی آئے گی۔

    یہ فیصلہ پی آئی اے کی جانب سے بلوچستان کے اہم شہروں کو بہتر فضائی رابطوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تربت اور گوادر کی فضائی سروس کی بحالی سے مقامی عوام اور کاروباری افراد کو سفری سہولتیں ملیں گی اور ان شہروں میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔پی آئی اے نے اس بات پر زور دیا کہ ان پروازوں کے آغاز سے نہ صرف بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل میں مدد ملے گی بلکہ یہ علاقے عالمی سطح پر بھی بہتر شناخت حاصل کریں گے۔

  • پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ وہ 10 جنوری سے یورپ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرے گی، جس کا آغاز پیرس سے کیا جائے گا،

    پی آئی اے کی یورپی یونین میں آپریٹ کرنے کی اجازت جون 2020 میں اس وقت معطل کر دی گئی تھی جب پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متعلقہ حکام کی جانب سے بین الاقوامی ایوی ایشن کے معیارات کے مطابق عملدرآمد کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اپنی پہلی پرواز کے شیڈول کی منظوری مل گئی ہے جسے ہم نے پہلے ہی دائر کیا تھا”، انہوں نے مزید کہا کہ ایئر لائن 9 دسمبر سے اپنی 10 جنوری کی پرواز کے لیے بکنگ شروع کر دے گی۔ یہ پرواز بوئنگ 777 کے ذریعے پیرس کے لیے روانہ ہو گی۔

    یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی اور برطانیہ نے پی آئی اے کو اس وقت یورپ میں آپریٹ کرنے کی اجازت معطل کر دی تھی جب پاکستان نے پائلٹس کے لائسنسوں کی حیثیت کے حوالے سے ایک اسکینڈل کی تحقیقات شروع کی تھیں،

    عبداللہ حفیظ خان نے مزید بتایا کہ پی آئی اے جلد ہی برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ سے برطانیہ کے راستوں کی بحالی کے لیے اجازت طلب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار DfT سے منظوری ملنے کے بعد لندن، مانچسٹر اور برمنگھم پی آئی اے کی پروازوں کے اہم مقامات بن جائیں گے۔

    اس پابندی کی وجہ سے پی آئی اے کو سالانہ تقریباً 40 ارب روپے (144 ملین ڈالر) کا نقصان ہو رہا تھا۔

    پی آئی اے پاکستان کی گھریلو ایوی ایشن مارکیٹ میں 23 فیصد حصے کے ساتھ کام کر رہی ہے، مگر اس کی 34 طیاروں کے بیڑے کو مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جو 60 فیصد مارکیٹ شیئر رکھتی ہیں۔ پی آئی اے کی عالمی سطح پر 87 ممالک کے ساتھ معاہدے اور اہم لینڈنگ سلاٹس ہونے کے باوجود، اس کے لیے براہ راست پروازوں کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔

    پی آئی اے کی نجکاری کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں، جب اسے اپنے مطلوبہ قیمت سے کہیں کم ایک ہی پیشکش ملی تھی۔یہ فیصلہ پی آئی اے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے، جو اپنی مالی مشکلات میں کمی لانے اور یورپ کے لیے پروازوں کی دوبارہ بحالی کے ذریعے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • عدالت  اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری روکنے کا حکم واپس لے کر پی آئی اے نجکاری کا کیس نمٹا دیا

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری کیس کی سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے پی آئی اے انتظامیہ کو نئے پروفیشنلز بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی، حکومت کی جانب سے پی آئی اے نجکاری کا عمل شروع کیا تھا، نجکاری کے عمل سے پی آئی اے میں نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں،پی آئی اے نجکاری کا عمل کمیشن دوبارہ کرنے جا رہا ہے، پی آئی اے فلائٹ آپریشن پر پابندی بھی ختم ہو گئی ہے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ دوبارہ نجکاری کے عمل میں اب شائد ریٹ زیادہ ملے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی آئی اے نجکاری کر کے حکومت کہیں سپریم کورٹ آرڈر کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا نجکاری عدالت کو اعتماد میں لے کر کی جائے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجکاری پر اعتماد میں لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت اپنا اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب کیطرف سے جسٹس منصور علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ محتسب کیطرف سے جسٹس منصور کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا،وفاقی محتسب نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا ہے،وفاقی محتسب نے اپنی متفرق درخواست بھی واپس لے لی ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ کیس تو ایسا لگتا ہے ایک ہائیکورٹ نے دوسری ہائیکورٹ کو نوٹسز کیے،

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • روز ویلٹ ہوٹل، ٹرمپ کے بھارتی نژاد مشیر راما سوامی کا بیان سامنے آ گیا

    روز ویلٹ ہوٹل، ٹرمپ کے بھارتی نژاد مشیر راما سوامی کا بیان سامنے آ گیا

    نیویارک: امریکی بھارتی نژاد مشیر ووک راما سوامی نے نیویارک کے مشہور ہوٹل روز ویلٹ کے حوالے سے ایک جانبدارانہ بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ نیویارک کی شہری انتظامیہ نے صرف پی آئی اے کی زیرملکیت ہوٹل کو کرائے پر نہیں لیا، بلکہ دیگر ہوٹلوں کو بھی کرائے پر حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق نیویارک سٹی حکومت نے 14,000 کمروں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے روز ویلٹ سمیت 100 سے زائد چھوٹے بڑے ہوٹلوں کو کرایہ پر حاصل کیا ہے، جن میں سے کئی ہوٹلز غیر ملکی اور غیر امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔

    امریکی حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نامزد عہدیدار اور نائب صدر جے ڈی وینس کے انتہائی قریبی دوست بھارتی نژاد امریکن نوجوان ووک گھناپتی راماسوامی نے اپنے ایک تازہ جانبدارانہ بیان کے ذریعہ پی آئی اے انوسٹمنٹ کی زیر ملکیت نیویارک کے ہوٹل روز ویلٹ کے تلخ حقائق پر مبنی تاریخ کے باب کو بیک وقت امریکی، بھارتی اور پاکستانی توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔راما سوامی نے عہدے کا حلف بھی نہیں لیا، شہری حکومت کے اخراجات بھی ان کے دائرہ کار میں نہیں، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کی زیر ملکیت ہوٹل کو بعض پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے امریکی دولت مند خانوں کو بطور تحفہ دینے کے مبینہ وعدے بھی کرڈالے گئے ہیں ۔

    راما سوامی نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ نیویارک سٹی حکومت نے روز ویلٹ ہوٹل کا کرایہ 220 ملین ڈالرز میں ادا کیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے انوسٹمنٹ کی ملکیت میں موجود اس ہوٹل کا کرایہ اور لیز کی شرائط کچھ مختلف ہیں۔ ان کے مطابق، پی آئی اے انوسٹمنٹ جو کہ ایک نیم سرکاری کارپوریشن ہے، اس نے اس ہوٹل کی لیز پر 220 ملین ڈالرز کی رقم کی بات کی ہے لیکن حقیقت میں اس لیز پر تین سال کے دوران پی آئی اے انوسٹمنٹ کو صرف 18 ملین ڈالرز کیش حاصل ہوں گے۔

    راما سوامی نے اس موقع پر پی آئی اے انوسٹمنٹ کی ملکیت کے بارے میں تمام حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جانبدارانہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نیویارک سٹی کی انتظامیہ کی اس کوشش کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ وہ غیر قانونی امیگرنٹس کے لیے رہائش فراہم کرنے کے لیے مختلف ہوٹلز کرایہ پر حاصل کر رہی ہے، جس میں پی آئی اے کا ہوٹل روز ویلٹ بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ نیویارک کی شہری انتظامیہ نے نہ صرف روز ویلٹ ہوٹل بلکہ شہر بھر میں مختلف ہوٹلز کو کرایہ پر حاصل کیا ہے، اور ان میں کئی بھارتی اور غیر ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، بھارتی تاج گروپ اور ایئر انڈیا کی ملکیت والے ہوٹل بھی اس پروگرام میں شامل ہیں۔راما سوامی کے اس بیان کے ذریعے پی آئی اے کی ملکیت میں ہونے والے اس ہوٹل کی تاریخ پر بحث نے امریکی، بھارتی اور پاکستانی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔ راما سوامی نے اگرچہ اپنی سیاسی وابستگی اور مالیاتی مفادات کی بنیاد پر یہ بیان دیا، تاہم ان کے دعووں میں کئی اہم پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

    نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز کی حکومت نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا تاکہ غیر قانونی امیگرنٹس کو رہائش فراہم کی جا سکے، لیکن اس میں ان ہوٹلوں کو کرایہ پر حاصل کرنے کے بعد ان کے مالکوں سے وابستہ حقیقتوں کو نظرانداز کیا گیا۔ پی آئی اے کی ملکیت میں ہوٹل روز ویلٹ ایک اہم پراپرٹی ہے، لیکن راما سوامی نے اس پراپرٹی کے مالیاتی پہلو پر مناسب تحقیق کیے بغیر ہی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اس کا تذکرہ کیا۔

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس