Baaghi TV

Tag: پی ایم ایل این

  • کسی بھی مسئلےکےحل کیلئےدرست تشخیص ضروری ہے،احسن اقبال

    کسی بھی مسئلےکےحل کیلئےدرست تشخیص ضروری ہے،احسن اقبال

    لندن: وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی دورمیں ملکی معیشت کونقصان پہنچایا گیا، وزیراعظم شہبازشریف کی قیاد ت میں ملک کودیوالیہ ہونےسےبچایا۔

    باغی ٹی وی: لندن میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نےتقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اڑان پاکستان منصوبہ گیم چینجر ثابت ہوگا، پاکستان نے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کی، 2025پاکستان کی مزیدکامیابیوں کاسال ہوگا، کسی بھی مسئلےکےحل کیلئےدرست تشخیص ضروری ہے، پاکستان میں وسائل اورٹیلنٹ کی کمی نہیں، امن واستحکام کےبغیرترقی ممکن نہیں، نوازشریف کی حکومت کاخاتمہ کرکےملکی ترقی کاراستہ روکاگیا۔

    فلسطینیوں کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، مولانا فضل الرحمان

    وفاقی وزیرنے کہا کہ ہم نےملک سےلوڈشیڈنگ اوردہشتگردی کاخاتمہ کیا، پی ٹی آئی دورمیں ملکی معیشت کونقصان پہنچایاگیا، وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں ملک کودیوالیہ ہونےسےبچایا، حکومتی اقدامات سےعالمی مالیاتی اداروں کااعتمادبحال ہوا،مہنگائی اورپالیسی ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، پاکستان اسٹاک مارکیٹ ملکی تاریخ کی بلندترین سطح پرہے، ترسیلات زراوربرآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، پاکستان آج دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے۔

    سپریم کورٹ میں چندلوگ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں،حامد خان

  • نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں،  بلاول بھٹو زرداری

    نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹیرینز کے چئیر مین بلاول بھٹو نے کہا کہ جس روپ میں میاں صاحب اس بار سامنے آ رہے ہیں، یہ وہ میثاق جمہوریت والے میاں صاحب نہیں ہیں، یہ ووٹ کو عزت دو والے میاں صاحب نہیں، یہ وہی پرانے آئی جے آئی والے میاں صاحب ہیں جن کا ساتھ دینا میرے لیے مشکل ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ان کیلئے تحریک انصاف اور ن لیگ سے اتحاد کا معاملہ کنویں اور کھائی جیسا ہے، دونوں جماعتیں ایک جیسی سیاست کر رہی ہیں۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ جمہوریت اور آئینی حالات میں بھی ایک بحران نظر آ رہا ہے، تقسیم کی سیاست جو بانی پی ٹی آئی کرتے تھے اور میاں صاحب کی بھی روایت تھی، وہ اب ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو گئی ہے، میں پاکستان میں اس تقسیم کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں انتخابی مہم چلا رہی ہے، ہم نے سب سے پہلے انتخابی مہم کا آغاز کیا، سب سے پہلے منشور دیا۔
    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ اگر معیشت، جمہوریت اور دہشت گردی کے مسائل کو حل کرنا ہے تو پہلے اس تقسیم کو ختم کرنا ہوگا، ان تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے میں بہترین پوزیشن میں ہوں، ہماری انتخابی مہم بہت زبردست رہی ہے، عوام کا ردعمل امیدوں سے زیادہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر الیکشن میں گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں، میاں صاحب کو خبردار کرتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے، ا مید ہے کہ نوازشریف کے دباؤ کے باوجود نگران حکومت اور انتظامیہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت اور انتظامیہ نواز شریف کے حق میں جانبدار ہیں، نگران وزیر اعظم کی تقرری شہباز شریف نے راجہ ریاض کے ساتھ ملکر کی، راجہ ریاض اب مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

  • ہم نے بہت پہلے خبردار کر دیا تھا کہ عمران خان بیرونی ایجنٹ ہے،امیر مقام

    ہم نے بہت پہلے خبردار کر دیا تھا کہ عمران خان بیرونی ایجنٹ ہے،امیر مقام

    پشاور میں شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام کا کہنا تھا کہ خیر پختونخوا کے لوگوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہوا کہ بہترین لیڈر نوازشریف ہی ہے،اور اس بات کا اندازہ اج مختصر وقت میں عوام کا سمندر دیکھ کر ہو رہا ہے امیر مقام نے کہا مجھے یقین ہو گیا کہ ائندہ کے پی میں بھی شیر کی حکومت ہو گی،اور میں اب حقیقی تبدیلی دیکھ رہا ہوں، امیر مقام نے کہا ہم پہلے سے کہہ رہے تھے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرونی ایجنٹ ہے، پی ٹی ائی کا ایجنڈا پاکستان کو مغرب کے حوالے کرنا تھا،اس نے کہا پاکستان کو مٹانے والا خود مٹ گیا،انے والے الیکشن میں ائندہ الیکشن میں نا بلا ہو گا نا عمران ہو گا،
    کیونکہ نواز شریف نے عمران کا خواب توڑ کر پاکستان کو نئے ٹریک پر ڈال دیا ہے،
    پشاور: اس نالائق نے چار سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا،اس نے مزید کہا عوام کو پتا چل گیا ہے کہ جھوٹا کون ہے اور سچا کون ہے،اور
    وہ دن دور نہیں جب ہماری حکومت بھی ہوگی اور عوام کے تمام مشکلات بھی حل ہونگے،

  • اے این پی کے رہنما حاجی شیر رحمان نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی۔

    اے این پی کے رہنما حاجی شیر رحمان نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی۔

    پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاستدان حاجی شیر رحمان نے اے این پی کو خیرباد کہہ دیا، اور مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
    آج نیوز کے مطابق شیر رحمان مئیر پشاور کیلئے اے این پی کے امیدوار تھے۔وزیر اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر امیر مقام پشاور میں شمولیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے میں نواز شریف کا کرداراہم ہے، انہوں نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا، اور ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کا کشکول توڑ دیں گے۔امیر مقام نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں مرکز اور صوبہ دونوں شیر کے ہوں گے۔

  • پی سی بی چئیر مین منتخب کرنے پر سیاسی جماعتوں میں چپقلش

    پی سی بی چئیر مین منتخب کرنے پر سیاسی جماعتوں میں چپقلش

    باغی ٹی وی کے مطابق سابق چئیر مین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکاء اشرف کی انٹر پراوینشل کواردڈنیشن کے وزیر احسان اللہ مزاری سے ملاقات ہوئی ہے،ذکاء اشرف چئیر مین کرکٹ بورڈ کے لئے امیدوار ہیں جس کے حوالے سے آئی پی سی کے وزیر سے تبادلہ خیال کیا،باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے امور پر بات چیت ہوئی،باغی ٹی وی کے مطابق آج نجم سیٹھی کی بھی اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے وزیر اعظم نے نجم سیٹھی کی کوششوں کو سراہا ،،، نجم سیٹھی نےایشیا کپ اور ورلڈ کپ کے حوالےسے بھی وزیراعظم سے مشاورت کی ،وزیر اعظم نے نجم سیٹھی کو جلد پی سی بی میں الیکشن کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی،تاہم اس معاملے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اختلافات پائے جاتے ہے کیونکہ دونوں امیدواروں کو سیاسی پارٹیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے،

  • پرویزالہی نےعمران خان کا ساتھ نہ چھوڑا تو میری ان سے ذاتی لڑائی ہے:آصف زرداری

    پرویزالہی نےعمران خان کا ساتھ نہ چھوڑا تو میری ان سے ذاتی لڑائی ہے:آصف زرداری

    لاہور:ایک طرف پنجاب میں وزیراعلیٰ کا کل انتخاب ہونے جارہا ہے اور دوسری طرف اس وقت میدان سیاست کے کھلاڑی آصف علی زرداری اپنے سیاسی کارڈ کھیلنے کی بھرپورکوشش کررہے ہیں ، اس حوالے سے کیا صورت حال اس وقت چل رہی ہے ،اس کی حساسیت کا اندازہ سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے بیان سے بآسانی کیا جاسکتا ہے جن کا کہنا ہے کہ پرویزالہی نےعمران خان ساتھ نہ چھوڑا تو اس کا مطلب ہے یہ میری اور ان کی ذاتی لڑائی ہے۔

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری نے اس سلسلے میں چوہدری شجاعت حسین کو بھی اپروچ کیا لیکن چوہدری شجاعت حسین نے حامی بھرنے سے معذرت کرلی ، بعض تو کہتےہیں کہ اس ملاقات میں آصف زرداری نے چوہدری شجاعت کے توسط سے چوہدری پرویز الہی کو جارحانہ تنبیہ بھی کر ڈالی ہے۔

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ آصف علی زرداری کا کہنا ہےکہ انہوں نے چوہدری پرویزالہی کو وزیراعلی پنجاب بنانے کے لئے نوازشریف کو راضی کیا، اور پرویزالہی کو وزیراعلی پنجاب بننے کی مبارکباد بھی دی اور انہوں نے شکریہ بھی ادا کیا۔

    آصف زرداری نے کہا کہ صبح خبر ملی کہ پرویزالہی ہمارا امیدوار بننے کے بجائےعمران خان کے امیدوار بن گئے، میں چاہتا ہوں کے پرویزالہی عمران خان کے امیدوار کے طور پر سامنے نہ آئیں۔

    آصف زرداری میری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ پرویزالہی کاراستہ روکوں، پرویزالہی نےعمران خان ساتھ نہ چھوڑا تو اس کا مطلب ہے یہ میری اور ان کی ذاتی لڑائی ہے۔

    دوسری طرف تمام سیاسی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے اپنے بیان میں واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار نہیں دو تین بار پہلے بھی یہی بات کہہ چکا ہوں، جن کو مینڈیٹ ملا حکومت کرنا اس کا حق ہے۔

    صدر ق لیگ کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی ہی وزارت اعلیٰ کے لئے پارٹی کے امیدوار ہیں، مجھے صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

    رانا ثناء توہین عدالت کیس: اگر توہین عدالت ہوئی تو ٹھوس ثبوت پیش کریں. سپریم کورٹ

    چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ ملکی مسائل کا حل اسی میں ہے کہ گنتی کے چکروں سے باہر نکلا جائے، غریب آدمی کے مسائل کی طرف توجہ دی جائے، جو غریبوں کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گا حقیقی معنوں میں اسی کی گنتی پوری ہو جائے گی۔

    (ق) لیگ کے صدر نے مزید کہا کہ جو منتخب ہوئے ہیں وہ عوام کی خدمت کریں، اس فکر میں نا پڑیں کہ ایک دوسرے کو کیسے نیچے دکھانا ہے۔ ملکی مسائل کا حل اسی میں ہے کہ سال ڈیڑھ سال حکومت کا موقع ملنا چاہیے یا فوری انتخابات کی طرف جا یا جائے، فوری انتخاب سے مراد فوری ہیں مہینے نہیں۔

    پی پی 7 راولپنڈی، دوبارہ گنتی سے متعلق کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

    17 جولائی کو پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے تھے جس میں تحریک انصاف نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔

    دو روز قبل آصف زرداری نے پنجاب اسمبلی میں حمایت کے لیے چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات بھی کی تھی لیکن چوہدری شجاعت حسین نے کسی قسم کا واضح جواب نہیں دیا تھا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب:صوبائی اسمبلی کیلئےضابطہ اخلاق جاری:دفعہ 144نافذ

  • ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس:عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کا آغاز

    ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس:عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کا آغاز

    اسلام آباد: ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قیادت کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا آغاز ہوگیا، وفاقی کابینہ نے تجاو یز کی تیاری کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی۔

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا، وفاقی کابینہ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دے دیا اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے آئین کا تحفظ یقینی ہوا۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا، کابینہ ارکان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات پر مبارک باد دی تو وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا کہ اللہ کرے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ آخری معاہدہ ہو، وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سابق حکومت کی بچھائی بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنا رہے ہیں، مسائل حل ہونے سے عوام کو ریلیف ملے گا۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے تفصیلی فیصلے میں اٹھائے گئے نکات پر عمل درآمد، آرٹیکل 6 کی کارروائی سمیت مستقبل کے اقدامات کے بارے میں تجاویز کی تیاری کے لئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے سربراہ ہونگے، اتحادی جماعتوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اہم قرارداد منظور کی، سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ سابق حکومت نے آئین شکنی کی، فیصلے کی روشنی میں کابینہ کی خصوصی کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کر کے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی، کابینہ نے عالمی منڈی میں گندم کی گرتی ہوئی قیمت کے مطابق تین ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی، بندرگاہوں پر لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگانے کے دو ہفتوں میں آنے والی لگژری اشیاء پر پانچ فیصد اور اس کے بعد آنے والی اشیاء پر 15 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔

     

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • کراچی ضمنی الیکشن،جوڑتوڑجاری،پی پی اورایم کیوایم کےدرمیان سخت مقابلہ

    کراچی ضمنی الیکشن،جوڑتوڑجاری،پی پی اورایم کیوایم کےدرمیان سخت مقابلہ

    کراچی :کراچی ضمنی الیکشن،جوڑ توڑ جاری،پی پی اورایم کیوایم کے درمیان سخت مقابلہ ،اطلاعات کے مطابق سیاسی ماحول ایک بارپھر گرم ہے اورسیاست کے ایوانوں میں جہاں ایک طرف دوستیاں ہیں تو وہاں دوسری طرف حلقے کی سیاست میں انتہائی مخالفت بھی جاری ہے، کچھ ایسا ہی کراچی میں ہورہا ہے جہاں ایک مرنے والے قومی اسمبلی کے رکن کے حلقے میں ضمنی الیکشن ہونے جارہا ہے ،کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے240 پر کل ضمنی الیکشن ہوگا تاہم پولنگ سے چند گھنٹے قبل متعدد امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    ذرائع کے مطابق کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 240 سے ایم کیو ایم پاکستان کے رُکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی نشست پر پر کل ضمنی الیکشن ہوگا تاہم پولنگ سے ایک روز قبل بھی جوڑ توڑ جاری ہے اور متعدد آزاد امیدواروں نے دستبرداری اور کئی سیاسی جماعتوں اور برادریوں نے انتخابی میدان میں موجود امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق عجیب صورتحال ہے، وہ پارٹیاں‌ اس وقت پارلیمنیٹ میں موجود ہیں وہ وہاں توایک دوسرے کا دم بھررہی ہیں لیکن حلقے میں ایک دوسرے کی مخالفت کررہے ہیں

    الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندی: قومی اسمبلی میں نشستیں کم ہوگئیں

    کراچی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آزاد امیدوار عمیر علی انجم ایم کیو ایم امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں جبکہ آزاد امیدوار نعیم حشمت نے بھی دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف)، مئیو برادری اور قریشی برادری نے اس حلقے سے ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ایک اورآزاد امیدوار شاہین خان نے مہاجر قومی موومنٹ کے امیدوار کے حق میں دستبرداری کا اعلان کردیا ہے، دوسری جانب مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے امیدوار ناصر لودھی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

    دستبرداری اور حمایت کے اعلان کے بعد اب حلقے میں 6 سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سمیت 15 آزاد امیدوار میدان میں باقی رہ گئے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق مذکورہ حلقے میں حلقےمیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، مہاجر قومی موومنٹ اور ٹی ایل پی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    بلاول کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 30روز میں فیصلے کا حکم

    واضح رہے کہ کل این اے 240 پر ہونے والے ضمنی الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتظامات مکمل کرنے کے بلند وبانگ دعوے کئے گئے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔پولنگ سامان کی ترسیل کے لئےحاصل ٹرانسپورٹ ناکافی ہونے کے باعث عملہ انتخابی مواد اپنی مدد آپ کے تحت متعلقہ پولنگ اسٹیشن لے جارہاہے،کل ہونے والے ضمنی الیکشن میں امن وامان کی صورت حال کوبہترکرنےکے لیے متعلقہ سیکورٹی حکام کوشاں ہیں

  • سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس پرردعمل دےدیا

    سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس پرردعمل دےدیا

    اسلام آباد:سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سلیکٹیڈ وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس کا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی گلگت بلتستان کی پریس کانفرنس جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہپں وزیر اعلی کے اپنی کابینہ کے ممبران اس کے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھنے کے لئے تپار نہیں اور دو وفاقی جھوٹوں مراد سعید اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ بیٹھ کر جھوٹ بولے گئے وزیر اعلی کا منصب ایک زمہ دارمنصب ہے اس کا تقاضہ ہے کہ عوام کو حقائق پہنچآئیں جائیں نہ کہ عوام تک باجماعت جھوٹ کا پرچار کیا

    سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ وزیر اعلی خالد خورشید نے سراسر سفید جھوٹ بولا کہ گلگت بلتستان کا پچاس فیصد ترقیاتی بجٹ کاٹا گیا ہے وزیر اعلی کا یہ جھوٹ بھی عمران نیازی کے جھوٹ سیرئز کی طرح ایک سیریئز ہے حقیقت تو یہ ہے کہ جو بجٹ عمران خان کے دور میں گلگت بلتستان کو مل رہا تھا وہی بجٹ اب بھی مل رہا ہے سلیکٹیڈ وزیر اعلی خالد خورشید ہمت کریں اور عوام کو سچ بتائیں کہ گلگت بلتستان کے بجٹ میں کٹوتی عمران خان دور میں ہوئی گلگت بلتستان کے پی ایس ڈی پی منصوبوں کو عمران خان کے دور حکومت میں التوا میں ڈالا گیا میاں نواز شریف نے گلگت بلتستان کے سات ارب کے ترقیاتی بجٹ کو اکیس ارب تک پہنچایا تھا عمران خان نے بر سر اقتدار آتے ہیں اس بجٹ کو کاٹ کر چورہ ارب کر دیا میاں نواز شریف کے دور میں گلگت شںدور ایکسپریس وے کا منصوبہ ستائیس ارب کا تھا اسے پی ایس ڈی پی سے خارج کیا گیا دو سال کے بعد اب وہی ستائس ارب کا منصوبہ اکیاون ارب تک پہنچایا گیاہینزل پاور پراجیکٹ کا منصوبہ ہمارے دور میں ساڈھے نو ارب کا ٹینڈر ہوا تھا گنڈا پور نے اسے روک کر اب چودہ ارب کا ٹینڈر کر دیا ہمارے دور میں اگر سات ارب کے بجٹ کو اکیس ارب تک پہنچایا گیا تو اس کی وجہ بجٹ کا سو فیصد استعمال تھا بجٹ کے صحیح استعمال پر میاں نواز شریف نے پہلے تیرہ ارب کیا پھر اکیس ارب تک پہنچا دیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت جب ختم ہوئی تو اکیس ارب بجٹ تھا جیسے ہی عمران خان کی حکومت آئی اسے چودہ ارب کر دیا اب کس منہ سے بجٹ کٹوتی کا الزام موجودہ وفاقی حکومت پر لگا رہے ہیں

    حافظ حفیظ الرحمن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اتنی نا اہل ہے کہ اسے بجٹ کے استعمال کا ادراک ہی نہیں اور سات ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ واپس ہو چکا ہے بجٹ تو انہیں ملتا ہے جنہیں عوام پر خرچ کرنے کا طریقہ معلوم ہو اور ان کی ترجیع عوام ہو نہ کہ کواڈینٹروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج رکھنے وفاق کے خلاف مہم جوئی کے لئے کروڑوں خرچ کرنے اور پی ٹی آئی کے وفاقی وزرا کو گلگت بلتستان کی سیر کرانے کے لئے خرچ کرتے ہوں اور مبینہ طور پر بنی گالہ کے لئے کروڑوں کا آٹا اور بکرے خرید کر پہنچانے کی زمہ داری ہو۔حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی خالد خورشیدپریس کانفرنس کر کے سفید جھوٹ بولنے سے پہلے ان سوالوں کا جواب بھی عوام کو دیں کہ آپ کے دور میں حکومتی اخراجات کے لئے گیارہ ارب روپے مختص تھے وہ کہاں خرچ کئے جبکہ ہمارے دور میں صرف تین ارب روپے تھے انہیں بھی ہم نے بچا کر ویسٹ منیجمنٹ 1122 جیسے ادارے اور اضلاع بنائے آپ نے کیا بنایا سوائے کواڈینٹروں کی فوج بھرتی کرنے کے؟ہم نے بجٹ کا پورا استعمال کیا تو ہمارا بجٹ سات ارب سے اکیس ارب تک پہنچ چکا تھا آپ کے بجٹ سے سات ارب کیوں واپس ہوئے کیا یہ آپ کی نا اہلی نہیں آپ کو کیسے ادراک ہو کہ گلگت بلتستان کے مسائل کیا ہے دو سال میں بارہ مہینے تو آپ اسلام آباد اور دبئی میں رہے گلگت بلتستان دورے پر آتے رہے جس اسمبلی کے آپ قائد ایوان ہیں اس اسمبلی کی بے توقیری کا یہ عالم ہے کہ رول آف بزنس میں اسمبلی کارروائی کےلئے جتنے دن مختص ہیں اس کا ایک فیصد وقت بھی اسمبلی کی کارروائی نہیں ہوئی کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہوئی اس کے باوجود تیس کروڑ روپے کا بجٹ اسمبلی اخراجات کی مد میں پھونک دیئے جس اسمبلی کی کارروائی آپ کا اپوزیشں کا سامنا نہ کرنے کی وجہ سے چل نہیں رہی تو سوال بنتا ہے کہ اسمبلی کے نام پر تیس کروڑ کہاں خرچ ہوئے وفاق پر الزام لگانے اور تحریک انصاف کے وفاقی جھوٹوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے نام پر جھوٹ کی منڈی سجانے سے قبل ان سوالوں کے جواب دیں

    حافظ حفیظ الرحمن نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں گزشتہ دو سال سے ایفاد جیسے عوامی فلاح کےمنصوبے جس کی مدد سے ہم نے دو لاکھ کنال زمین آباد کر کے عوام کو دی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے کیا یہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ؟ اس کا جواب کون دے گا انہوں نے کہا کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی خالد خورشید نے کتنا بڑا جھوٹ بولا کہ 2005سے اب تک گلگت بلتستان میں پولیس میں بھرتیاں نہیں ہوئیں عجیب بات ہے کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں سپیشل پولیس یونٹ کے نام سے سات سو بھرتیاں کیں اور پانچ سال میں مجموعی طور پر دو ہزار کے قریب پولیس میں بھر تیاں ہوئیں وہ انہیں کیوں نظر نہ آئیں اتنے بڑے جھوٹ بولنے سے قبل انہیں سوچنا چاہئے کہ رسوائی ہوگی لیکن افسوس کہ تحریک انصاف کے وفاقی رہنماوں کی طرح انہیں بھی منہ کی بواسیر کا عارضہ لاحق ہے ورنہ سوچ سمجھ کر بات کرتے۔