Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • بانی پی ٹی آئی کی جیل میں خبارات اور ٹی وی ملنےاور بیٹوں کے پاکستان آنے کی تصدیق

    بانی پی ٹی آئی کی جیل میں خبارات اور ٹی وی ملنےاور بیٹوں کے پاکستان آنے کی تصدیق

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے تصدیق کی ہے کہ ان کی اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر طویل گفتگو کروائی گئی ہے۔

    عمران خان نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر طویل گفتگو کروائی گئی ہے، عمران خان نے بتایا کہ ان کی ’ڈیڑھ گھنٹے سے زائد بچوں سے بات ہوئی ہے،میرے بچے مجھ سے ملنے پاکستان آئیں گے، اور خوشی ہے کہ اب مجھے اخبارات بھی مل رہے ہیں اور ٹی وی کی سہولت بھی دستیاب ہے،انہوں نے واضح کیا کہ ان کے بچے ’کسی سیاسی سرگرمی یا احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے بچوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کسی تحریک کا حصہ ہوں گے۔

    سلیمان شہباز کیخلاف اندراج مقدمہ کا حکم معطل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے مشال یوسفزئی کے سینیٹر بننے پر علیمہ خان کے بیان کو غیر ضروری قرار دیا اور کہاکہ علیمہ خان کو سیاسی بات نہیں کرنی چاہیے،بانی پی ٹی آئی نےکہا علی امین گنڈا پور اگر صوبےمیں امن و امان قائم نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دے دینا چاہیے، علی امین گنڈا پور اگر گورننس کے مسائل حل نہیں کرسکتا تو کسی اور کو موقع دینا چاہیے۔

    اس حوالے سے جب علیمہ خان سے سوال کیا گیا کہ کیا عمران خان کے بیٹے پاکستان آ رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کے پاس اوور سیز پاکستانیوں کیلئے جاری کیا جانے والا شناختی کارڈ (نائیکوپ) تھا لیکن وہ گم ہو گیا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ بچوں نے نئے نائیکوپ اور ویزے کیلئے درخواست دی ہے مگر حیران کن طور پر سفارت خانے نے کہا ہے کہ انہیں ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

    غزالہ جاوید نے مرحوم اداکارہ حمیرا اصغر کی والدہ کو کھری کھری سنادیں

    علیمہ خان نے کہاکہ،میرے پاس بچوں کی دی گئی درخواست کا ٹریکنگ نمبر موجود ہے۔ ایک دوست نے پاکستانی سفیر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ سے اجازت لینی ہوگی میں نے انہیں کہا کہ اجازت جس سے بھی لینی ہو، محسن نقوی سے لے لیں کل خبر آئی کہ وزارتِ خارجہ ویزا دے گی، اب ایمبیسڈر صاحب کسی سوال کا جواب نہیں دے رہے۔

    یمن کا اسرائیلی ایئرپورٹ پر میزائل حملہ

  • پی ٹی آئی کو مزید ارشد شریف جیسا کھیل نہیں کھیلنے دوں گا،فیصل واوڈا

    پی ٹی آئی کو مزید ارشد شریف جیسا کھیل نہیں کھیلنے دوں گا،فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کا ایک خطرناک منصوبہ منظر عام پر لاؤں گا،پی ٹی آئی کو مزید ارشد شریف جیسا کھیل نہیں کھیلنے دوں گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر پوسٹ میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ قوم کو وقت سے پہلے بتادیا تھا کہ امریکا سے مثبت خبر آنے والی ہے وہ آ چکی ہے، وقت سے پہلے بتا دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے نظریاتی لوگ جو بانی اور پی ٹی آئی کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں بشمول میرا دوست گنڈا پور جو اپنے اقتدار کے آخری مراحل میں ہے اور اس وقت بھی اپنی خدمات پیش کر رہا ہے تاکہ بچت ہوسکے۔

    https://x.com/FaisalVawdaPTI/status/1950860469570253308

    https://x.com/FaisalVawdaPTI/status/1950860693273518173

    فیصل واوڈا نے کہا کہ کیسے کیسے خنجر مارا گیا یہ سب قوم کو وطن واپسی پر بتاؤں گا، سینیٹ میں پی ٹی آئی کی 8 سیٹوں کے بجائے 5 سیٹیں کیسے؟ اور کیوں؟ مراد سعید کو سینیٹر بنانے کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ آنے والے دنوں میں PTI کی مزید نا اہلیوں کا سلسلہ؟ سب بتاؤں گا، یہ بھی بتاؤں گا کہ پی ٹی آئی کے اربوں روپے کے لین دین کے معاملات کیا ہیں؟ پھر اچانک سے گنڈا پور اور پارٹی کا اداروں کو بدنام کرنے کا سلسلہ آخر کیوں اچانک شروع ہوا؟ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کا ایک خطرناک منصوبہ منظر عام پر لاؤں گا،پی ٹی آئی کو مزید ارشد شریف جیسا کھیل نہیں کھیلنے دوں گا۔

    https://x.com/FaisalVawdaPTI/status/1950860849561620509

  • علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 41 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

    علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 41 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد:سابق صدر عارف علوی، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، فیصل جاوید، سلمان اکرم راجا سمیت 41 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    26 نومبر احتجاج کے سلسلے میں تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمے کی سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے 41 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتار ی عدالت نے آج جاری کیے جب کہ 9 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں، اس طرح مجموعی طور پر 50 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ہیں۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ملزمان کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ جاری کیے عدالت نے ملزمان کو فوری گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمہ نمبر 1193 میں جاری کیے گئے، ان ملزمان میں عارف علوی، عبدالقیوم نیازی، شبلی فراز، فیصل جاوید، سلمان اکرم راجا، روف حسن، مراد سعید، احمد نیازی بھی شامل ہیں۔

    مودی سرکار کی آپریشن سندور میں ناکامی پر خاموشی اور اپوزیشن کے مشکل سوالات

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، حماد اظہر، عاطف خان ، شعیب شاہین، اعظم خان سواتی، عمر ایوب، صاحبزاہ حامد رضا، علیمہ خانم، شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، شاندانہ گلزار، شیرافضل مروت کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں 24 اور 26 نومبر کے 32 مقدمات درج ہیں، جس میں بشریٰ بی بی تھانہ ٹیکسلا میں 26 نومبر کانسٹیبل قتل کیس میں بھی نامزد ہیں، 26 نومبر 2024 کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں خیبرپختونخوا سے آنے والے احتجاجی مارچ نے اسلام آباد میں بیلاروس کے صدر کی موجودگی میں مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی تھی۔

    پاکستان کی اسپیس تحقیق ترقی کی جانب گامزن ہے،ڈی جی اسپارکو

    اس دوران فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں 2 رینجرز اہلکار جاں بحق جب کہ درجنوں پولیس اہلکاز زخمی ہوگئے تھےپی ٹی آئی نے بھی اپنے کارکنوں کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے تھےوزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی احتجاج چھوڑ کر چلے گئے تھے، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں احتجاج کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنان کے خلاف دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھےپی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج اور پرتشدد مظاہروں پر مختلف تھانوں میں مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے،مظاہرین پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، مجمع جمع کرکے شاہراہوں کو بند کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    حماد اظہر کا پشاور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لینے کا فیصلہ

  • حماد اظہر کا  پشاور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لینے کا فیصلہ

    حماد اظہر کا پشاور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لینے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے 9 مئی کے مقدمات میں پولیس کو براہِ راست گرفتاری دینے کے بجائے قانونی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، حماد اظہر ن نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ پہلے پشاور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کریں گے اور بعد میں متعلقہ عدالتوں سے ضمانت کے لیے رجوع کریں گے،حماد اظہر کے خلاف لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں 50 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات میں وہ متعدد بار اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں اور پولیس کو مطلوب بھی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حماد اظہر نے تمام مقدمات کے ریکارڈ کی تفصیلات اکٹھی کر لی ہیں اور ان کی لیگل ٹیم نے حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے وہ جلد پشاور ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہو کر ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

    واضح رہے کہ حماد اظہر گزشتہ تقریباً دو برس سے روپوش تھے اور 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد سے سکیورٹی اداروں کو مسلسل مطلوب تھے تاہم والد کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی روپوشی ختم کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا تھا، لیکن اب انہوں نے براہِ راست گرفتاری دینے کے بجائے قانونی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں ہمیں دبانے کی کوشش ہے،بیرسٹر گوہر

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں ہمیں دبانے کی کوشش ہے،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ 5 اگست کو اسلام آباد نہیں جارہے ہر جگہ پرامن احتجاج ہوگا-

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں ہمیں دبانے کی کوشش ہے، ہمارے39 پارلیمنٹیرین پر تلوار لٹک رہی ہے، ہمارے 2 ایم این ایز اور سینیٹر کو سزا ہوچکی ہے ابھی 4 اکتوبر کے کیسز رہتے ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ تھا کہ جو بھی ملوث ہوں ان کے خلاف کارروائی کی جائے، صاف اور شفاف تحقیقات کرکے سزا دی جائے۔

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ڈٹ کرکھڑی ہے اور مقابلہ کرے گی، مراد سعید کامیاب ہوچکے ہیں اب یہ ان کا فیصلہ ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، سینیٹ انتخابات کے وقت وہاں موجود نہیں تھا مگر کوئی بھی ووٹ باہر نہیں نکالا تھا، اتنے پاپولر لیڈر اور ان کی فیملی کو اتنے لمبے عرصہ تک جیل میں نہیں رکھ سکتے، سینیٹ انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کے تمام امیدوار عمران خان کے نامزد کردہ تھے، 5 اگست کو اسلام آباد نہیں جارہے ہر جگہ پرامن احتجاج ہوگا، کورٹ کے سامنے 11،11 بجے تک ٹرائل نہ چلے، آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق ٹرائل ہونے چاہیئے۔

    بلوچستان دہرا قتل کیس:مقتولہ کی ماں گرفتار

    آخری ٹی ٹوئنٹی : بنگلا دیش کی ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت

    سبی: بولان میل کو تباہ کرنے کی کوشش ناکام ،ریلوے ٹریک دھماکے سے تباہ

  • پی ٹی آئی کا مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان،اجازت کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی

    پی ٹی آئی کا مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان،اجازت کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5 اگست کو لاہور کے تاریخی مقام مینار پاکستان پر بڑے سیاسی جلسے کا اعلان کیا ہے-

    پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو جلسے کی اجازت کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہےدرخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جلسے کا مقصد پارٹی کے بانی کی رہائی کے لیے عوامی رائے کو اجاگر کرنا ہے اگر مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت ممکن نہ ہو تو کسی متبادل مقام پر اجتماع کی اجازت دی جائے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 5 اگست کو شام 4 بجے سے رات 10 بجے تک پارٹی قیادت اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی شرکت کے ساتھ جلسہ منعقد کیا جائے گا،یہ جلسہ پرامن ہوگا اور جمہوری تقاضوں کے مطابق عوامی رائے کے اظہار کا ذریعہ ہوگا۔

    حمیرا اصغر کیس: پولیس نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی

    دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا ہے کہ اب مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے اور آئندہ جو بھی سیاسی پیش رفت ہوگی، وہ پارٹی کے بانی کی ہدایات کے مطابق ہوگی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جو افسوسناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لوگ خود بخود ہمارے ساتھ جڑتے ہیں بانی تحریک انصاف جیل سے ہی احتجاج کی قیادت کریں گے اور کارکنوں کو واضح پیغام دیں گے ’دو سال ہو چکے ہیں، اب سختیاں ختم ہونی چاہئیں، ہر کسی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔‘

    سینیٹ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں انتخابی عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہوا، مخصوص نشستوں کی وجہ سے کچھ تاخیر ضرور ہوئی، مگر مجموعی طور پر نتیجہ ہماری توقعات سے بہتر رہا،انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ نومئی 2023 کے بعد پریس کانفرنس کرنے والوں کو پارٹی ٹکٹ دیے جا رہے ہیں۔

    بھارتی پارلیمنٹ میں پہلگام حملے اور آپریشن سندور پر ہنگامہ آرائی

    مرزا آفریدی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا نام بانی پی ٹی آئی نے خود فائنل کیا تھا اور وہ پارٹی کے خلاف کبھی کسی قسم کا بیان نہیں دے چکے پارٹی میں فیصلے بانی کی مشاورت سے ہی کیے جاتے ہیں، مارچ 2024 میں اس حوالے سے تمام امور طے پا گئے تھے، اور اب پارٹی ایک واضح لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

  • پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

    کے پہ اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے لیے آج ہونے والا اجلاس دو گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد شروع ہوااجلاس کے لیے اپوزیشن اراکین ایوان پہنچ گئے تاہم پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو اسمبلی ہال کے بجائے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت ہوا جس میں اسمبلی اجلاس سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کی حلف برداری پی ٹی آئی کی حکمت عملی کے باعث مکل نہ ہوسکی۔ آج حلف برداری کے لیے طلب کیا گیا اجلاس ڈھائی گھنٹے تاخیر کے بعد شروع ہوا لیکن اجلاس شروع ہوتے ہی کورم کی نشاندہی کردی گئی اجلاس کے لیے صبح 9 بجے کا وقت مقرر تھا، جس پر گھنٹیاں بھی بجائی گئیں، مگر ایوان خالی ہونے سے کارروائی تاخیر کا شکار ہو گئی حکومت کی جانب سے حلف برداری سے راہ فرار کیلئے حکمت عملی کے تحت کورم کی نشاندہی کی گئی پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔

    اجلاس کی صدارت اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کی، اجلاس میں مخصوص نشستوں پر نومنتخب ارکان موجود تھے، جبکہ اپوزیشن کے تمام ارکان بھی موجود تھے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے چند ارکان موجود تھے۔

    اسمبلی اجلاس شروع ہوتے ہی حکومتی اراکین نے کورم کی نشاندہی کردی حکومتی اراکین کورم کی نشاہدہی کرکے ہال سے نکلنا شروع ہوگئے۔ ایم پی اے شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاہدہی کی۔ جس کے بعد اپوزیشن اراکین نے اسپیکر کو حلف لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پی ٹی آئی کے صرف چار ارکان کے پی اسمبلی میں موجود تھے۔

    اس دوران اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ اسمبلی میں ارکان کی تعداد 25 ہے، کورم پورا نہیں ہے۔ جس پر خاتون رکن اسمبلی نے کہا کہ تلاوت کے دوران کوئی کورم کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔ اسپیکر نے خاتون کو جواب دیا کہ تقریریں نہ کریں پہلے کورم کی گنتی کرلیں جس پر اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی میں نعرے بازی شروع کردی گئی اور اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اس دوران خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 24 جولائی دن 2 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر عباداللہ نے حکومت کی جانب سے حلف برداری اجلاس میں کورم کی نشاندہی اور اجلاس ملتوی کرنے پر عدالت جانے کا اعلان کردیا ہےاپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباداللہ نے کہا کہ غیرآئینی کام کیلئے رات 12 بجے بھی سیشن بلاتے ہیں، سیاسی نابالغ 12 سال سے خیبرپختونخوا میں بیٹھے ہیں پی ٹی آئی نے گورننس اور دیگرچیزوں میں تباہی کی، اب پی ٹی آئی والے اسمبلی کے ساتھ بھی کھلواڑ کر رہے ہیں، یہ چاہتے ہیں سیاسی اسپیس کسی اور کے حوالے نہ کرو۔

    شمالی ایران میں زلزلے کے شدید جھٹکے، آفٹر شاکس کا خدشہ

    انہوں نے کہا کہ اگرحلف برداری ابھی نہیں ہوئی تو شام کو یا کل ہوجائے گی ایک سال سے سینیٹ میں کیبرپختونخوا صوبے کی نمائندگی نہیں ہے، 50 فیصد خواتین کی نمائندگی نہیں ہے، ایوان میں اقلیتوں کی نمائندگی نہیں ہے اور یہ حلف نہیں لے رہے، خیبرپختونخوا سیاسی نابالغوں کے ہاتھوں میں ہے۔

    شمالی ایران میں زلزلے کے شدید جھٹکے، آفٹر شاکس کا خدشہ

  • سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے،رانا ثنااللہ

    سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے اور وہ سیاستدانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہاں ہے، اپوزیشن اور حکومت دونوں کے لیے، اور سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے-

    رانا ثنااللہ نےپی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سیاستدانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہاں ہے، ان کے احتجاج کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، علی امین گنڈا پور کے الفاظ سے واضح ہے کہ پی ٹی آئی کا مقصد ’معرکہ حق کے فوراً بعد‘ جس سے پاکستان کو استحکام کا موقع ملا کو غیر مستحکم کرنا ہے اس کے علاوہ ان کا اور کیا ایجنڈا ہے، یہ معلوم نہیں ہے،اگر یہ پُرامن رہیں تو ٹھیک ہے، احتجاج ان کا جمہوری حق ہے، لیکن اگر انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تو پھر قانون اپنا راستہ لے گا ملک کو غیر مستحکم کرنا ’شروع سے ہی پی ٹی آئی کا ایجنڈا رہی ہے‘، انہوں نے آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر بھی مظاہرہ کیا تھا، تاکہ پاکستان کو دیے گئے ہنگامی قرضے کی مخالفت کی جا سکے۔

    ایف سی میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے ونگز بنائے جائیں گے، طلال چودھری

    انہوں نے یہ تاثر مسترد کیا کہ حکومت، جو اب نسبتاً مستحکم ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے مذاکرات میں زیادہ نرمی برتے گی پی ٹی آئی نے خود پہلے مذاکرات میں یہ مؤقف اپنایا تھا کہ عمران خان کی رہائی پر بات نہیں ہو گی، کیونکہ عمران خان نے خود کہا تھا کہ وہ اپنے کیس میں میرٹ پر بری ہونا چاہتے ہیں حکومت پی ٹی آئی سے دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پارٹی کی حالیہ اپیلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ’حکومت سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں یا سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، وہ اب بھی اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے دوبارہ اقتدار میں آئیں،ہماری صرف ایک خواہش اور کوشش پاکستان کی معیشت کی بحالی اور کامیابی ہےتاکہ ہر شہری کی فلاح کو یقینی بنایا جا سکےاور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے طور پر عالمی نقشے پر مقام ملے اگر پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں اس مقصد کے لیے تعاون پر تیار ہوں تو حکومت مذاکرات کے لیے بیٹھنے کو تیار ہے، یہ سب کے باہمی مفاد میں ہے، اپوزیشن اور حکومت دونوں کے لیے، اور سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے، جب کہ اس حوالے سے ہم ہر مفاہمت یا معاہدے کے لیے تیار ہیں۔

    پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

    واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک کا باضابطہ آغاز کرنے کے لیے لاہور کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کی حکمت عملی ترتیب دینا تھا اور اس کا آغاز 5 اگست سے ہوگا، جس دن سابق وزیراعظم کو جیل میں 2 سال مکمل ہوں گے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایک روز قبل ریاستی اداروں سے پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کو جوابدہ بھی ٹھہرائیں-

  • 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا،علی امین

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی نے تحریک چلائی ہے تو وہ بانی پی ٹی آئی نے چلائی ہے، تحریک شروع ہو چکی ، حکومت میں رہیں یا نہ رہیں ، 90 دن میں آر یا پار کریں گے۔

    لاہور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی کیخلاف بوگس اورسیاسی کیسز ہیں ، ہمارے خلاف کیسز میں انہیں کچھ نہیں ملا،ہمارے خلاف ابھی بھی کارروائیاں جاری ہیں، پی ٹی آئی کو احتجاج کرنے کے آئینی حق سے روکا جا رہا ہے، پاکستان کے ہر شہر اور محلے سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے، تحریک کو آگے کیسے لے کرجائیں گے اس حوالے سے لائحہ عمل دیں گے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کے لیے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، مذاکرات فیصلہ سازوں سے ہوں گے ، ملک میں آئین اور قانون کی عملداری ہونی چاہیے ،ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو سزا کے لیے تیار ہیں، اگر سازش ثابت ہو جائے تو مجھے چوک میں لٹکا دیں، اگر سزا پر بات آئے تو پھر سب کو سزا ہو گی،تحریک کا اعلان بانی نے کیا وہی لیڈ کریںگے ، ہماری گزارش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، عوام دیگر سیاسی جماعتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    انہوں نے کہ میں نے اپنی غیرموجودگی میں مولانا فضل الرحمان کو ہرایا ،میرے بھائی نے بھی مولانا فضل الرحمان کو شکست دی، مولانا فضل الرحمان اپنے حلقے میں الیکشن نہیں لڑ سکتےمجھے کہا گیا فضل الرحمان کے بارے میں بات نہ کریں، مولانا فضل الرحمان اور پورے صوبے میں ان لوگ فارم 47 پر آئے، مولانا اندر سے اب بھی ملے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، بانی پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردی پر قابو پایا گیا، امن قائم ہوا اور ملک کی معیشت نے بہتری کی راہ پکڑی۔ موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، لیکن وقت آنے پر ہمارے سیاسی مخالفین خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

    علی امین گنڈاپور خود تین میں ہیں نہ تیرہ میں،ووٹ سے نہیں بلکہ نوٹ سے جتوایا گیا، حافظ حمد اللہ

    علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا، حکومت نے ہمارے خلاف درجنوں مقدمات بنائے لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا ’ہم نے ہمیشہ آئینی راستہ اپنایا، سڑکوں پر احتجاج کرنا میرا قانونی اور جمہوری حق ہے جسے کوئی طاقت مجھ سے نہیں چھین سکتی، موجودہ سیاسی و معاشی بحران کا حل صرف اور صرف شفاف انتخابات اور آئینی بالادستی میں ہے، اور اس کیلئے پی ٹی آئی کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریاتی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے۔ ’آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘

    تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھولے جارہے ہیں، دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ، ایڈوائزری جاری

  • 90 روزہ تحریک  لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    90 روزہ تحریک لگتاہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے،عظمی بخاری

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا مطالعاتی دورے پر لاہور آئے ہیں ، 90 روزہ تحریک حکومت بچانے کا بہانہ ہے،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں-

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ علی امین گنڈاپور بطور وزیر اعلیٰ آئیں تو ان کی مہمان نوازی کریں گے، اگر اسلحے کیساتھ آئیں گے تواس کی اجازت نہیں ہو گی کسی کو پنجاب میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، پنجاب کی ترقی کو آگ نہ لگائیں تو ہمیں وزیراعلیٰ کے لاہور آنے پر کوئی اعتراض نہیں،علی امین گنڈا پور صرف بڑھکیں مارتے ہیں، سیاسی لوگ ہی سیاسی لوگوں سے مذاکرات کرتے ہیں ، جن پر تنقید کرتے ہیں انہی لوگوں کو ہی مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں ،ایک اور 90 دن کا پلان آیا ہے، لگتا ہے وزیراعلیٰ نے اپنی نوکری کیلئے وقت مانگا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اب تحریک باقاعدہ طور پر شروع کی جا رہی ہے پاکستان میں صرف بانی پی ٹی آئی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں تحریک چلائی اور ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، ان میں کچھ بھی نہیں، اور دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں کسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کے باوجود پی ٹی آئی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ’ہم ہر گلی، کوچے، اور قصبے سے عوام کو جمع کریں گے، ہم سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں ملک کو قانون کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں،سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے، اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریا تی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے،آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘