Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی  رہنما حماد اظہر  گرفتار

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر گرفتار

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر کو گرفتار کرلیا گیا-

    پولیس ذرائع نے کہا کہ حماد اظہر کو ملتان سے گرفتار کر کے لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا، حماد اظہر 9 مئی کے واقعات میں مختلف مقدمات میں ملوث ہیں، حماد اطہر 9 مئی 2023 سے اشتہاری تھے،حماد اظہر کو آر اے بازار کے قریب سے حراست میں لیاگیا، حماد اظہر کو ان کے قریبی دوست کے گھر سے حرا ست میں لیاگیا رہنماء پی ٹی آئی حماد اظہر 9 مئی جی او آر گیٹ حملہ کیس میں مطلوب تھے۔

    انسداد دہشتگری کی عدالت نےعدم پیشی پر حماد اظہر کو اشتہاری قرار دے رکھا تھا، عدالت نے حماد اظہر کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے تھے،حماد اظہر کو انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا گیا ہے، حماد اظہر 9 مئی کے 50 سے زائد مقدمات میں بھی نامزد ملزم ہیں، حماد اظہر نے لاہور اور پشاور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کےلئے رجوع کررکھا ہے،مقدمات کے اندراج کے بعد حماد اظہر نے پارٹی عہدے سے استعفی دے دیاتھا، پی ٹی آئی نے حماد اظہر کو پنجاب کے صدر کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی۔

  • عمران خان سے متعلق غیر ملکی میڈیا رپورٹس مسترد

    عمران خان سے متعلق غیر ملکی میڈیا رپورٹس مسترد

    حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے متعلق بعض غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے نشر کی جانے والی رپورٹس کومسترد کر دیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات کے کی جانب سے ایکس پر جاری کردہ بیان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کسی انتظامی حراست میں نہیں بلکہ مجاز عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں قید ہیں اور انہیں پاکستانی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔

    حکومت نے عمران خان کو مبینہ طور پر قید تنہائی، تشدد یا بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی انتظامات کے مطابق ملاقات، ٹیلی فون، مطالعے کا مواد اور ٹیلی ویژن کی سہولت حاصل ہے۔ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش کا سامان اور مناسب غذائی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

    سرکاری مؤقف کے مطابق عمران خان کو سات سیلز پر مشتمل علیحدہ کمپاؤنڈ دیا گیا ہے، جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔ جبکہ انہیں الگ سے تیار کیا گیا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، چکن، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل کا پانی شامل ہیں۔

    حکومت کے مطابق عمران خان کو اہل خانہ سے ملاقات نہ کرانے کا دعویٰ بھی غلط ہے۔ قید کے دوران تقریباً 198 ملاقاتوں کے سیشنز ریکارڈ ہوئے، جن میں 900 سے زائد افراد نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں ان کی بہنیں، اہل خانہ، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی نمائندگان اور دیگر منظور شدہ افراد شامل ہیں۔ اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی، جبکہ تازہ ترین ملاقات 4 اگست 2026 کو کرائی گئی ہے۔

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان اور بیرون ملک موجود اہل خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ بھی کرایا جاتا رہا ہے۔ جبکہ 21 مارچ 2026 کو قیدی کی اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کرائی گئی۔ اس کے علاوہ 18، 19 اور 25 اگست کو بہنوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

    حکومت نے طبی سہولیات سے متعلق الزامات بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قید کے دوران بانی پی ٹی آئی کے تقریباً 30 طبی معائنے ماہرین اور میڈیکل بورڈز نے کیے۔ جن میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال کے ماہرین شامل رہے۔

    حکام کے مطابق آنکھ کے پردے سے متعلق بیماری کی تشخیص کے بعد عمران خان کو ماہرین کی نگرانی میں علاج فراہم کیا گیا، جس میں اینٹی وی ای جی ایف کے 5 انجیکشن، ریٹینل امیجنگ، ادویات اور فالو اَپ معائنے شامل ہیں۔

    حکومت نے عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے حالیہ میڈیا بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سو فیصد تندرست قرار دیا۔ بلڈ پریشر نارمل اور آنکھ کو بھی بہتر قرار دیا۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی مکمل عملدرآمد کیا گیا اور قیدی کا عدالتی ہدایات کے مطابق طبی معائنہ کرایا گیا، جس کے دوران ان کی بہن بھی موجود تھیں۔

    حکومت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مزید کارروائی تک عمران خان کے اہل خانہ، سیاسی جماعت کے ارکان اور متعلقہ وکلا کو اس کی صحت یا میڈیکل رپورٹس میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر کرنے سے روکا۔ طبی معاملات کو سیاسی مہم یا عوامی پیغام رسانی کا ذریعہ بنانے کے بجائے کلینیکل ریکارڈ اور عدالتی ہدایات کی بنیاد پر دیکھنے کا حکم دیا۔

    حکومت نے مزید واضح کیا کہ جیل میں عمران خان تک رسائی کو سیاسی سرگرمی یا جیل سے بلا روک ٹوک سیاسی رابطوں کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا۔ جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق ملاقاتوں اور رابطوں کی مناسب پابندی کو قیدی سے مکمل رابطہ منقطع کرنے کے مترادف نہیں کہا جا سکتا۔

    عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آکر والد سے ملاقات نہ کرانے سے متعلق رپورٹس پر حکومت نے کہا کہ دونوں کے پاس اوورسیز پاکستانی شناختی کارڈ (این آئی سی او پی) موجود ہیں، جو پاکستان میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویز ہے۔ ان کے پاکستان آنے کی صلاحیت کو جیل میں ملاقات کے الگ معاملے سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔

    حکومت نے غیر ملکی میڈیا اداروں پر زور دیا ہے کہ آئندہ رپورٹنگ میں دستاویزی حقائق کو مدنظر رکھا جائے اور تصدیق شدہ جیل و طبی ریکارڈ کو سیاسی طور پر متنازع الزامات سے الگ رکھا جائے۔

  • عمران خان کے ا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

    عمران خان کے ا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں کا بھی عدالت سے رجوع

    بانی پی ٹی آئی کا نجی اسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں نے بھی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کےجج جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی،اور اڈیالہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلیے۔

    بیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، دو ماہ میں 10 مرتبہ اسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، اس مسئلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء اسپتال میں ہی ممکن ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اگر بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے-

    بیرسٹر اختر چھینہ نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے نے واضع کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

    درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیے کہ درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج معالجہ کروانا قیدی کا بنیادی حق ہے، سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہیں لہٰذا شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    تیسرے قیدی کے وکیل نے دلائل دیے کہ درخواست گزار محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، ایک بھائی دبئی ہوتا ہے لیکن سالوں سے رابطہ نہیں ہے، جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروائی جائے۔

    عدالت نے تینوں کیسز میں جیل حکام کو جواب کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔

  • توہین عدالت تو پی ٹی آئی نے کی ہے جو اسپتال کے باہر جمع ہوئے تھے،طلال چوہدری

    توہین عدالت تو پی ٹی آئی نے کی ہے جو اسپتال کے باہر جمع ہوئے تھے،طلال چوہدری

    وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو اسپتال لانے کی ضرورت ہو تو انہیں بغیر کسی عدالتی حکم کے اسپتال لایا جاتا ہے

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان بالکل تندرست ہیں،اگر عمران خان کو اسپتال لانے کی ضرورت ہو تو انہیں بغیر کسی عدالتی حکم کے اسپتال لایا جاتا ہے، یہ لوگ ہمدردی کا کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں عدالتیں بدل چکی ہیں، یہ نئی عدلیہ ہے جو جوڈیشل این آر او دینے کے لیے نہیں ہے یہ اپنی خواہشات کا اظہار کرتے رہیں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    طلال چوہدری نے کہاکہ عمران خان کی طبیعت ٹھیک ہے اور وہ تندرست ہیں عمران خان کی بہن اس بہانے سے کوئی این آر او لینا چاہتی ہیں تو یہ پھر ان کی اپنی خواہش ہے توہین عدالت تو ان لوگوں نے کی ہے جو اسپتال کے باہر جمع ہوئے تھےجیل میں عمران خان کا تین بار چیک اپ ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم حکومت نے سابق وزیراعظم کا پمز اسپتال میں چیک اپ کرانے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا ہے،دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخوا ست دائر کردی ہے،جبکہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی گئی ہے۔

  • سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،عطا تارڑ

    سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ صحت کے معاملات میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، ہمارا کل اور آج بھی یہی مؤقف ہے۔

    اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد بھی حکومت نے کوئی توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا صحت کے معاملے کو سیاست سے دور رکھا جائے، حکومت کا واضح مؤقف ہے اور حکومت آئین و قانون کی روشنی میں ہی تمام معاملات آگے بڑھائے گی،کسی قیدی کو خصوصی سہولت دینے سے استثنیٰ کا تاثر نہیں ملنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ریویو درخواست میں بھی یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا یہی سہولت ہر قیدی کو میسر ہے؟ ریویو کے گراؤنڈز قوم کے سامنے ہیں، کسی کو خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی، ہر قیدی کے لیے یکساں سہولت ہونی چاہیے، خصوصی ٹریٹمنٹ نہیں ہونی چاہیے، صحت کے معاملے پر حکومت کا مؤقف تبدیل ہوا ہے نہ آئندہ تبدیل ہوگا حکومت نے صحت کے معاملے پر کسی قسم کی طنز یا تضحیک نہیں کی سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کرتے ہوئے شفاف طبی معائنہ کرایا گیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے،سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل تھے انتظامیہ نے آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنایاعدالت کے حکم کی منشا کے مطابق تمام معاملات شفاف طریقے سے آگے بڑھائے گئے۔

    سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پمز میں مکمل اور شفاف طبی معائنہ کرایا گیا معائنے کے دوران شفا ہسپتال کے اوتھمالوجسٹ بھی موجود تھے، جبکہ شفا اسپتال کے آئی اسپیشلسٹ کی موجودگی سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا ثبوت ہےمعائنہ ہمشیرہ کی موجودگی میں شفاف طریقے سے کرایا گیا اور سپریم کورٹ کے آرڈر پر عمل ہوا میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے بغیر علاج کی جگہ کا تعین ممکن نہیں۔ تمام قیدیوں کو ایسی سہولت میسر نہیں، پھر بھی سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل ہوا اور اس کی روح کے مطابق تمام ضروری اقدامات مکمل کیے گئے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ شفا اسپتال کے باہر لوگوں کو کس نے جمع کیا؟ یہ پہلا سوال ہے،عدالت نے سیاست سے منع کیا تھا لیکن تحریک انصاف نے مجمع اکٹھا کرکے حکم کی خلاف ورزی کی شفا اسپتال کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے سیاسی جماعت نے معاملہ متنازع بنایا سوشل میڈیا ریلز، ٹک ٹاکس اور مجمع اکٹھا کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہےم کورٹ نے سیاسی بیان بازی سے منع کیا تھا، اس کے باوجود پریس کانفرنسز کی گئیں۔

    عطا تارڑ نے کہاکہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن اور پارٹی ذمہ دار ہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی اور پارٹی عدالت کی توہین کی مرتکب ہوئی سیاسی کارکنوں نے انتظامیہ کے لیے رکاوٹیں پیدا کیں، قیدی کو جیل سے اسپتال منتقل کرنا تھا لیکن خود رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ پہلی بار دیکھا کہ کسی سیاسی جماعت نے اپنے ہی لیڈر کے علاج میں رکاوٹ ڈالی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منتقلی کے راستے میں لوگوں کو جمع کرکے رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورٹ نے سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سیاسی کارکنوں نے انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کیں کنٹیمپٹ کس نے اور کیسے کیا، تمام حقائق قوم کے سامنے رکھوں گاابتدائی رپورٹس کے مطابق طبیعت شاداب ہے، بیماری کی کوئی سنگینی سامنے نہیں آئی، بلڈ پریشر کے علاوہ باقی چیزیں ماشااللہ پرفیکٹ ہیں، آئی سائٹ بھی سکس بائی سکس ہےبیماری کی نوعیت ایسی نہیں کہ اس پر سیاست کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ کس بیماری پر سیاست کر رہے ہیں؟ صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔

    عطا تارڑ نے واضح کیاکہ قانونی معاملہ الگ ہے اور صحت کا معاملہ الگ ہے، دونوں کو اپنی اپنی ڈومین میں رہنے دیں،صحت کے معاملے کو ڈاکٹرز نے دیکھنا ہے، ڈاکٹرز ہی اس بارے میں بہتر رائے دے سکتے ہیں حکومت نے ایک دن بھی علاج نہیں روکا، علاج ہوتا آیا ہے، ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوگا ضرورت پڑنے پر علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی،صحت کے معاملے کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے، یہ قانونی اور طبی معاملہ ہے.سیاست کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہونے سے بھی گریز کریں، اسی میں آپ کی بہتری ہے۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ نہیں، اگر دال میں کچھ کالا ہے تو  نکال کر باہر پھینک دیں گے،رانا ثنا اللہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ نہیں، اگر دال میں کچھ کالا ہے تو نکال کر باہر پھینک دیں گے،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بیک چینل رابطہ نہیں،اسپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کو ریلیف ملے گا، تاہم بنی گالا کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا ،بلاول بھٹو کو دال میں کالا نظر آرہا ہے، اگر ایسا کچھ ہے تو اسے نکال کر باہر پھینک دیں گے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی بیک چینل یا سیاسی عمل کا نتیجہ نہیں ہے اگر بلاول بھٹو کو دال میں کالا نظر آرہا ہے، اگر ایسا کچھ ہے تو اسے نکال کر باہر پھینک دیں گے، ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اعتراض نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے، بلاول بھٹو کی اپوزیشن سے ملاقات تبدیلی نہیں بلکہ مثبت عمل ہے-

    صوبوں کے لیے 28ویں ترمیم کی ضرورت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبوں کے لیے پیشرفت ہونی ہے تو اس کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے،میرے علم میں نہیں کہ صوبوں کے لیے کوئی ترمیم لائی جارہی ہے، کوئی چیز آنی ہے تو کابینہ میں آئے گی، عمران خان کے علاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، نواز شریف کا کیس مختلف تھا جیل سے مریض کو سرکاری اسپتال میں ہی لایا جاتا ہے، جیل اسپتال میں انجیوگرافی کی سہولت موجود ہے۔

    انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں عمران خان کی انجیوگرافی نہیں ہوئی۔ کسی کو کوئی شکایت ہوتی ہے تو انجیوگرافی ہوتی ہے، میرا خیال ہے کہ عمران خان کو دل کا کوئی مسئلہ نہیں ان کو کئی مرتبہ پمز اسپتال لایا گیاسپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کو ریلیف ملے گا، تاہم بنی گالا کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا سیاسی اور عسکری قیادت پوری طرح کمیٹڈ ہے۔

  • تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے رابطوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی-

    باوثوق زرائع کے مطابق تحریک انصاف اور جمعیت علما اسلام (ف) کے بڑوں کے اہم رابطے ہوئے جس میں دونوں اطراف سے باہمی تعلقات کو بہتر کرنے پر تجاویز دی گئی تاکہ یہ مل کر حکومت وقت کے خلاف ایک مضبوط محاذ بنا سکیں۔

    جمعیت کی طرف سے اہم شرط یہ تھی کہ مولانا کے بھائی عطاالرحمان صاحب کو وزیر اعلی خیبر پختونخواہ بنایا جائے تحریک انصاف کے وفد نے جب کہا کہ آپ کے پاس اتنی سیٹس نہیں کہ آپ یہ ڈیمانڈ کر سکیں تو جمعیت کے وفد نے کہا کہ آپ نے پنجاب میں ق لیگ کی دس سیٹیں ہونے کے باوجود پرویز الہی صاحب پر جب اعتماد کیا تو پھر ہم پر کیوں نہیں۔

    دوسری اہم پیشکش مولانا فضل الرحمان کو جوائنٹ اپوزیشن لیڈر بنانے کی تھی،دونوں وفود اس بات پر متفق نظر آئے کے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ایک کمزور انتخاب ثابت ہوئے، ان کی نہ اسمبلی میں طاقت ہے اور نہ ہی یہ میدان میں کچھ خاطر خواہ کام کر سکے، تحریک انصاف انہیں اپنی مدد کے لیے لے کر آئی لیکن یہ تحریک انصاف کے سہارے سانس لے رہیں ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمان کا خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اچھا خاصا اثر ہے، اگر یہ تحریک انصاف کے ساتھ مل گئے تو طاقت دوگنا ہو گی۔

    مولانا کی تجاویز کو جب تحریک انصاف کے حلقوں میں علیحدہ جانچہ گیا تو علیمہ خانم گروپ کے ممبران نے وزارت اعلی اور اپوزیشن لیڈر والی تجاویز پر سخت تشویش ظاہر کی، ان کے مطابق یہ اپنے ہاتھ کٹانے کے برابر ہے، اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف کو جمعیت ہائجیک کر لے گی، دوسری طرف بیرسٹر گوہر گروپ اور انفرادی طور پر سہیل آفریدی مولانا کی تجاویز پرلبیک کہتے نظر آئے۔

    اب تو یہ وقت بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا لیکن یہ رابطے سیاست میں ایک ہلچل پھیلانے کا پیش خیمہ ہے-

  • 26 نومبر احتجاج کیس : پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب اشتہاری قرار

    26 نومبر احتجاج کیس : پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب اشتہاری قرار

    سلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کو اشتہاری قرار دے دیا۔

    اسلام آباد سیشن کورٹ میں 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت ہوئی،جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کیس کی سماعت کی جس دوران عدالت نے عمر ایوب کے دائمی وارنٹِ گرفتاری بھی جاری کر دیے عدالتی حکم کے مطابق مسلسل طلبی کے باوجود ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    پولیس کے مطابق عمر ایوب کے خلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔

  • پی ٹی آئی کا ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں کا اعلان

    پی ٹی آئی کا ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا ہے-

    پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ اجلاس کا ایک مخصوص ایجنڈا تھا، تاہم اس دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیاپارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ 5 اگست وہ دن ہے جب 2023 میں بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت کی جانب سے تین سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھاپارلیمانی پارٹی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مسلسل قید کی مذمت کی ہے، پا ر ٹی نے مختلف مقدمات میں عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے، تاہم اب تک اپیلوں پر فیصلے سامنے نہیں آئے۔

    انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اور اپوزیشن اتحاد مشترکہ طور پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے 5 اگست کو ہونے والا احتجاج ماضی کے احتجا جی مظاہروں سے مختلف نوعیت کا ہوگا، تاہم اس کی تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی،احتجاجی ریلیوں کا مقصد اپنے سیاسی مؤقف کو عوام کے سامنے رکھنا اور بانی پارٹی کی رہائی کے مطالبے کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ تاہم احتجاج کی نوعیت، مقامات اور شیڈول سے متعلق مزید تفصیلا ت پارٹی کی جانب سے بعد میں جاری کی جائیں گی۔

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتقال کی خبریں ،پی ٹی آئی کا بیان سامنے آگیا

    ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتقال کی خبریں ،پی ٹی آئی کا بیان سامنے آگیا

    پاکستان تحریک انصاف نے9 مئی کے کیسز میں سزا یافتہ اور کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کی بزرگ خاتون رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتقال کی خبروں پر وضاحت جاری کردی ہے۔

    سوشل میڈیا پر یہ یہ خبر زیر گردش تھی کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کی بزرگ رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی طبیعت اچانک خراب ہوئی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تو وہ دوران علاج خالق حقیقی سے جا ملیں،جس کے بعد پی ٹی آئی نے وضاحت جاری کی ہے-

    پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے سماجی رابطے کی سائٹ پر لکھا کہ اللہ کا شکر ہے ڈاکٹر یاسمین راشد زندہ اور وہ کوٹ لکھپت جیل میں ہیں، انہیں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے پر غیرقانونی حراست اور سخت سزاؤں کا سامنا ہے،ڈاکٹر یاسمین راشد کے بارے میں پھیلائی جانے والی تمام خبریں جھوٹی ہیں اور اُن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ڈاکٹر یاسمین راشد الحمداللہ حیات ہیں اور کوٹ لکھپت جیل میں اپنے لیڈر عمران خان کے نظریے کی خاطر قید و صعوبت کی قربانی دے رہی ہیں، عوام کسی افواہ پر کان نا دھرے۔

    شیخ وقاص اکرم نے پی ٹی آئی کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوالے سے کسی بھی قسم کی افواہ پر یقین نہ کریں کیونکہ یہ سب خبریں بے بنیاد ہیں، جیل حکام نے بھی تصدیق کی کہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کی طبیعت ناساز ہے جس سے عدالت اور جیل حکام آگاہ ہیں-