پاکستان تحریک انصاف نے اپنا پہلا بجٹ ایوان سےمنظور کروایا۔ یہ بجٹ گو کہ مشکل ترین معاشی حالت میں پیش کیا گیا لیکن اس سے عمران خان کے وژن، سوچ اور عوام دوست پالیسیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ کو سنے اور پڑھے بغیر مسترد کردیا۔ اور مافیا کے ساتھ ملکر مسلسل پروپیگنڈہ اور افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ آج تک نہ تو اپوزیشن مگر نہ ہی کسی مافیا نے وفاقی بجٹ کو پڑھنے کی کوشش کی۔ اس سے زیادہ افسوس اس بات پر کہ سادہ لوح عوام جن کی خاطر عمران خان نے اپنی پرکشش اورآرام دہ زندگی کو خیر باد کہہ کر ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی کبھی کبھار ان کی باتوں میں پھسل جاتے ہیں۔ موجودہ بجٹ غریب دوست بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں سب سے زیادہ سہولیات اور مراعات غریب عوام کے لیے ہیں۔ موجودہ بجٹ کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔
54000 تک ماہانہ تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں۔
1 تا 16 سکیل کےوفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ 17 تا 20 سکیل کی تنخواہوں میں 5 فیصد اضافہ
انڈسٹری کے فروغ کے لیے 80 بلین مختص تاکہ نوجوانوں کے لیے نوکریاں پیدا ہو۔
انصاف ہاؤسنگ سیکم
15 ملین غریب لوگوں کےلئے انصاف صحت کارڈز کا اجراء
توانائی کے شعبے کے لیے 80 بلین مختص
معذور افراد کے لیے کنوینس الاونس 1000 روپے سے بڑھ کر 2000 روپے ماہانہ مقرر
قرآن مجید کی اشاعت کے لیے اعلی کوالٹی کے کاغذات پر ڈیوٹی معاف
کم از کم ماہانہ تنخواہ 17500مقرر
قبائلی اضلاع کے لیے 110 بلین مختص
انسانی تعلیم وترقی کے لیے 58 بلین مختص
کامیاب جوان پروگرام کے لیے 110 بلین مختص
46 بلین کراچی کے لیے مختص
کوئٹہ کی ترقی کے لیے 41 بلین کا پراجیکٹ 30 بلین پانی اور خوبصورتی کے لیے
عورتوں اور بچیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے 500 کفالت سنٹروں کا قیام
ہر ماہ 80000 لوگوں کو سود کے بغیر قرضوں کی فراہمی
راشن کارڈز کے ذریعے 1 ملین لوگوں کو خوراک کی فراہمی
75 فیصد صارفین بجلی 300 سے کم یونٹ استعمال کرتے ہیں۔ ان صارفین کے لیے 200 بلین سبسڈی ،
کیا کبھی ان نکات پر کسی نے بات کی ہے؟ کیا میڈیا نے کبھی ان نکات کے بارے عوام کو آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا ہے؟ کیا کبھی کسی سماجی تنظیم نے غریب پرور بجٹ پر مباحثہ کا انعقاد کیا ہے؟ افسوس کہ یہاں بغض عمران خان کی وجہ سے اپوزیشن اور مافیا نے اس بجٹ کے غریب دوست نکات پر بات نہیں کی۔ الٹا جھوٹی خبروں، افواہوں، اور پروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو حکومت وقت سے متنفر کرنے کی کوشیشیں کی جا رہی ہیں۔ کیونکہ اسی پروپیگنڈے، جھوٹ اور افواہوں کی پشت پر اپنی کرپشن کو چھپا رہے ہے۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی کرپشن کو چھپا نہیں سکتے۔
موجودہ انتہائی مشکل معاشی حالات میں عوام دوست اور متوازن بجٹ پیش کرنے پر حماد اظہر کا شکریہ ادا نہ کرنا کنجوسی ہوگی۔
Tag: پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف کا پہلا بجٹ ۔۔۔ زین خٹک

احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان
وہ ایک جاگیردار اور جاگیردار کا بیٹا تھا۔ شنید ہے بچپن میں کبھی کسی فلم یا ڈرامے کا کردار بھی بنا اور لڑکپن میں سینما ہال کے باہر ٹکٹیں بھی بلیک میں فروخت کیں۔ جوانی میں قدم رکھا تو اس وقت کے سب سے بڑے پاکستانی سیاستدان (ذوالفقار علی بھٹو) کی بیٹی (محترمہ بینظیر بھٹو) کو اُچک لیا۔ کچھ لوگ اسے ڈاکو بھی کہتے ہیں اس بات میں تو سچائی کا علم نہیں البتہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی ہی اہلیہ کے دور حکومت میں ایام زندگی جیل کی کال کوٹھری میں گزارے۔ جس کا دو مرتبہ کی منتخب وزیراعظم (بینظیر بھٹو) اور ملک کی اہم سیاسی جماعت کی سربراہ کا شوہر ہونے کے باوجود کوئی سیاسی کردار نہیں تھا۔ مرحومہ جب جلاوطنی کی زندگی گزار کر واپس آ رہی تھی اور کراچی میں آمد کے ساتھ ہی محترمہ پر خود کش حملہ ہوا جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں گئیں۔ اور پھر خطرے کو دیکھنے کے باوجود مرحومہ نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی یہاں تک کہ راولپنڈی میں ایک اور مہلک حملہ ہوا اور محترمہ اس حملہ میں جاں بحق ہو گئیں تو یہ شخص باہر بیٹھ کر سب کچھ (پلاننگ) دیکھ رہا تھا۔ لوگ جس شخص کو قاتل سمجھ رہے تھے وہ شخص محترمہ بینظیر بھٹو کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ ہی ٹسوے بہاتے ہوئے وطن واپس آ پہنچا اور ساتھ ہی ایک خفیہ خط نکال لایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ میرے بعد آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ 2007 کے عام انتخابات میں بینظیر بھٹو کے نام پر پڑنے والے ووٹ کا خوب فائدہ اٹھایا گیا ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد محترمہ کے قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے کمال چالاکی سے محترمہ کے معتمد ساتھیوں کو بطور خاص ٹھکانے لگا دیا گیا۔ شدید مخالف حزب اختلاف کو بھی خوب مہارت سے ڈیل کیا۔ جو جس پر خوش ہوا اسے اس ضمانت پر دے دیا گیا کہ میری کرسی کو کوئی گرزند نہ پہنچ پاۓ۔ اس تمام عرصہ میں کرپشن اور بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، ملکی شرح نمو زوال پذیر ہوئی، برآمدات و درآمدات میں وسیع خلیج پیدا ہونے کے باعث ڈالر کو پر لگ گئے، قومی اداروں کو خوب نقصان پہنچایا گیا ریلوے، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل مل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں، عدلیہ سے پنگے بازی اور فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے، حسین حقانی جیسے غدار کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا اور میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا، سیاست پوری طرح کاروبار کی شکل اختیار کر گئی مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بچہ بچہ واقف ہوا اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی اور زرداری صاحب کا مشہور زمانہ قول "جمہوریت بہترین انتقام ہے” واقعی ریاست اور عوام سے انتقام لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگلی حکومت "ن” لیگ کی آئی تو مسٹر ٹین پرسنٹ نے بظاہر اپنے حریف کے ہر مشکل وقت میں (اندر خانے) خوب یاری نبھائی۔ ہر بار میثاق جمہوریت کا راگ الاپا، وقتاً فوقتاً سندھ کارڈ بھی کھیلا۔ ایان علی، منی لانڈرنگ، فالودے اور سبزی والوں کے ناموں پر کروڑوں اربوں روپوں کی ٹرانزکشن سمیت سینکڑوں بے نامی اور فیک بینک اکاؤنٹ ظاہر ہونے کے بعد جب متعلقہ حکام نے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا تو یہی صاحب دھمکیاں دینے پر آ گئے۔ کبھی فوج اور عدالتوں کو بڑھکیں لگائی کہ "وہ تین سال کے لیے آتے ہیں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے” اور کبھی "میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا” جیسے جملے کسے۔ وفاقی احتساب کے ادارے نیب کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا! "چیرمین نیب کی کیا حیثیت ہے اسکی کیا مجال ہے جو میرے اوپر کیسس بنواۓ”
پھر یوں گویا ہوئے کہ نیب کو میں تھکا دوں گا۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
بار بار ضمانتیں ہوتی رہی اور آج جب ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تو پھر پوری دنیا نے زرداری کو بھیگی بلی بنا دیکھا۔ گرفتاری کی ویڈیو دیکھ کر بلاول کی ہنسی بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے۔ شائد اپنی والدہ کے قاتل پکڑے جانے کی خوشی ہو واللہ اعلم
نواز شریف اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے اب زرداری صاحب بھی جیل روانہ ہو چکے ہیں جو شاید میاں صاحب کی تنہائی کے ساتھی بنیں گے۔ بار بار کمینی مسکراہٹ کے ساتھ گیارہ سال جیل میں گزارنے کو بطور فخریہ بتانے اور پھر اس بات پر اترانے والوں کے جیالوں کو سوچنا چاہئے کہ جیلوں سے عزت دار لوگ ڈرتے ہیں چوروں ڈاکوؤں کو اس کی عادت ہوتی ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اصل امتحان اب عوام کا بھی ہے کہ وہ ان چوروں ڈاکوؤں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہ بنیں۔ احتسابی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلا تفریق احتساب کا عمل اب رکنا نہیں چاہیے۔

