Baaghi TV

Tag: پی ٹی ایم

  • کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام

    کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام

    کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام پر آ گئی

    دشمن ایجنسیوں کی فنڈنگ اور حمایت سے وجود میں آنے والی فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا ،خارجی طارق محمود عرف ابو ہشام اور پی ٹی ایم کارندے کی خفیہ کال میں گھناؤنے عزائم آشکار ہو گئے، دوران کال خارجی طارق محمود عرف ابو ہشام نے کہا :”یہ جو نیچے والی سائیڈ پر جرگہ ہورہاہے میرا بہت ارمان ہے کہ میں اس میں شرکت کرسکتا” خارجی طارق محمود کا کہنا تھا کہ”میں اپنے پختون بھائیوں کو بتاتا کہ ہتھیار ، سیاستیں اور دھرنے سارے ایک کریں”” سارے ایک ہو جائیں چاہےوہ عسکری ہوں یا غیر عسکری یاجوطالبان ہیں اوروہ کے پی کے سے تعلق رکھتے ہیں”” پنجابی اور دوسری قوموں کواپنے علاقے سے نکال دیں اور اپنے علاقوں کو اپنا بنائیں”

    دفاعی ماہرین نےخفیہ کال پر تجزیے میں کہاکہ "یہ کال پشتون کارڈ کے ذریعے غیور پشتونوں کو ورغلانے کی سازش ہے””خارجی طارق محمود کا دھرنے میں شرکت کے لیے بے تاب ہونا فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کے گٹھ جوڑ کی واضح دلیل ہے”خفیہ کال میں لسانیت اور قومیت کو بھڑکانے اور غیر پشتونوں کیخلاف اتحاد پر زور دیا گیا ،یہ کال پشتون قبائل میں عسکری اور غیر عسکری قوتوں کو یکجا ہو کر ریاست پاکستان کیخلاف ہتھیار اٹھانے کی ترغیب ہے،کالعدم پی ٹی ایم معصومیت کا ڈرامہ رچاکر پاکستان کی بنیادوں کو کمزور کرنا چاہتی ہے،پی ٹی ایم اور فتنتہ الخوراج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی منظور پشتین سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی منظور پشتین سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے اختیار مانگا ہے، پشتونوں کا مقدمہ میں لڑوں گا

    پشاور میں علی امین گنڈاپور اور منظور پشتین کے درمیان ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ میں نے کہہ دیا جرگہ ہوگا، اس کا میں میزبان ہوں، رکاوٹیں ہٹانے میں تو میں ویسے بھی تگڑا ہوں، رکاوٹیں ہٹا دوں گا، جنہوں نے پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا وہ ملک کیساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، وفاقی حکومت نے صوبے کی روایات پر حملہ کیا جو قابلِ مذمت ہے، قبائل نے پاکستان میں امن کے لیے قربانیاں دی ہیں، جرگہ اپنے طے شدہ مقام پر ہو گا جس میں مسائل پر مشاورت ہو گی، امن ہمارا بڑا مطالبہ ہے، پشتون روایات کے مطابق جرگہ ہو رہا تھا، امن کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکتا، وفاقی حکومت کو بتایا کہ جرگہ کروں گا، آج جرگہ ہو گا، میں اس جرگے کا میزبان ہوں، بڑے مقصد کے لیے چھوٹی باتوں کو درگزر کرنا پڑتا ہے،اب میری کوشش ہے کہ امن کو قائم کروں اور حل صرف مذاکرات ہی سے ممکن ہے،آج جو جرگہ ہوگا اس میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ داری میں نے لی ہے،محسن نقوی نے اگر کسی کو سب سے زیادہ نقصان دیا تو مجھے دیا لیکن عوام کے لیے میں ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں،تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ رکھیں گے،جائز مطالبات ہر حال میں تسلیم کیے جائیں گے،

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم سے جرگہ کا اختیار علی امین گنڈا پور کو دے دیا

    وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم سے جرگہ کا اختیار علی امین گنڈا پور کو دے دیا

    پشاور،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی میزبانی میں گرینڈ جرگہ شروع ہو گیا

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی جرگے میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی بھی جرگے میں شریک ہیں،مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین خیبر پختونخوا اسمبلی اور دیگر پارلیمنٹیرینز جرگے میں شریک ہیں،مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی جرگے میں اپنی اپنی جماعتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں،ایمل ولی خان، پروفیسر ابراہیم ، محسن داوڑ، میاں افتخار حسین، سکندر شیرپاؤ، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی موجود ہیں.وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ اس جرگے کے ذریعے ہم درپیش مسئلے کے پر امن حل کے لئے راستہ نکالنے میں کامیاب ہونگے،جرگے میں شریک تمام سیاسی قائدین کی آراء اور تجاویز کا بھر پور احترام کیا جائے گا، میری دعوت پر جرگے میں شرکت کرنے پر تمام پارلیمنٹیرینز اور سیاسی قائدین کا مشکور ہوں،آج ہم سب سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر صوبے میں امن کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں، کسی بھی مسئلے کا حل تصادم یا تشدد نہیں بلکہ مذاکرات ہی سے ممکن ہے،اس مقصد کے لئے ہم نے پشتون روایات کے مطابق آج یہ جرگہ منعقد کیا ہے،

    ہمارے سیاسی اختلافات موجود مگر صوبے کا امن اور عوام کی خوشحالی ترجیحات ہیں،گورنر خیبرپختونخوا
    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کا امن ہماری ترجیحات اور آج کے جرگہ کا اکلوتا ایجنڈا ہے، جرگے کے انعقاد پر صوبائی حکومت کا شکر گزار ہوں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی آمد پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں،ہمارے سیاسی اختلافات موجود ہیں مگر صوبے کا امن اور عوام کی خوشحالی ترجیحات ہیں،مذاکرات ہی تمام مسائل کا حل ہے ،ضلع خیبر میں افسوسناک واقعہ ہوا، ہمارے پاس وقت کم ہے ہم نے سب کو مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے،جو لوگ اس ملک کے آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہیں ان سے مذاکرات کرنے چاہییں، وزیر اعلیٰ بھی بیٹھے ہیں وزیر داخلہ بھی اور سیاسی قیادت بھی موجود ہے، ہمیں آج اس مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا،صوبے کے متعدد علاقوں میں آج بھی نوگو ایریاز ہیں، ہم سب نے متحد ہو کر اس صوبے کو امن دینا ہوگا،

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی میزبانی میں گرینڈ جرگہ ختم ہوگیا، وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم سے جرگہ کا اختیار علی امین گنڈا پور کو دے دیا، کالعدم پی ٹی ایم عمائدین سے علی امین گنڈا پور خود جرگہ کریں گے

    جرگے کے بعد بیرسٹر سیف نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوا کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے امن کے قیام پر مکمل اتفاق کیا، تمام قائدین نے مسئلے کے پرامن حل کے لیے وزیر اعلیٰ کو مکمل اختیار سونپ دیا، تمام سیاسی جماعتی قائدین نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، چیئرمین پی ٹی آئی، وزیر اعلیٰ، وفاقی وزیر داخلہ، گورنر اور پارٹی سربراہان کی درمیان مشاورت جاری ہے، مشاورت کا مقصد آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرنا ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کل پشتون تحفظ موومنٹ کے جرگہ میں شریک ہوں گے

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کر دیا ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی ایم آئین پاکستان اور ریاست پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، انہیں کسی جلسے جلوس اور سرگرمی کی اجازت نہیں دے سکتے۔

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • گورنر خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں جرگے میں شرکت کا اعلان

    گورنر خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں جرگے میں شرکت کا اعلان

    خیبر پختونخوا کی صورتحال پر گورنرفیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے درمیان رابطہ ہوا ہے

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال سے متعلق جرگے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے،وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے جرگے میں شرکت کرونگا، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی پشاور روانہ ہو گئے

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ حکومت نے پی ٹی ایم کو کالعدم تنظیم قرار دیا تو یہاں حالات کشیدہ ہوگئے، سب مل کر مسائل کا حل نکالیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے اس نے اچھا جواب دیا ہے، سب مل کر متفقہ طور پر اس مسئلے کا پر امن حل نکالیں گے

    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی آج پشاور پہنچ کر وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں شریک ہوں گے،علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی نے ضلع خیبر میں امن وامان کے معاملہ پر بھی خصوصی کمیٹی قائم کردی، خصوصی کمیٹی کی تحریک صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے پیش کی، کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اراکین شامل ہوں گے جبکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہوگا۔

    خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) کی سرگرمیوں پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کر دیا ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا کہ پی ٹی ایم آئین پاکستان اور ریاست پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، انہیں کسی جلسے جلوس اور سرگرمی کی اجازت نہیں دے سکتے۔

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

    وفاقی حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ ،پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے بعد فتنہ الخورج نے پی ٹی ایم کی حمایت کا اعلان کردیا

    وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پی ٹی ایم پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا،وزارت داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ” پی ٹی ایم ملک میں امن و سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے، 1997 کے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 بی کے تحت پی ٹی ایم پر پابندی عائد کی جاتی ہے“۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست پاکستان میں شرانگیزی اور تقسیم پھیلانے کی غرض سے2014میں قائم ہونے والی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں کا محور ریاست مخالف ایجنڈہ ہے، پشتون تحفظ موومنٹ نے 11 اکتوبر2024 کوشرانگیزی کی غرض سے ضلع خیبرمیں نام نہاد”پشتون قومی عدالت“ کے انعقاد کا اعلان کر رکھاتھا،تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے غیور پشتون قبائل میں ریاست مخالف نظریات اور نفرت کا بیج بونے والی کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ فتنتہ الخوارج کا سیاسی روپ دھار چکی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام سے لیکر اب تک اس کی سرگرمیاں بظاہر پشتون عوام کے حقوق کی جنگ ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے،اس کا واضح ثبوت حال ہی میں فتنتہ الخوارج کی جانب سے پشتون قومی عدالت کی حمایت کا اعلان ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ پشتون تحفظ موومنٹ آغاز ہی سے پشتونوں کی مظلومیت کو اپنے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ پشتون قومی عدالت کا انعقاد پاکستان کے حالات کو مزید کشیدگی کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے جس کا واضح ثبوت فتنتہ الخوارج کی حمایت کی صورت میں سامنے ہے۔ فتنتہ الخوارج کو اس کی دہشتگرد سرگرمیوں کی بدولت 2011 میں بین الاقوامی سطح پر کالعدم اور فارن دہشتگرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ فتنتہ الخوراج کے دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں جہاں سے افغان طالبان کی سہولت کاری کے ذریعے پاکستان میں حملے کئے جاتے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ فتنتہ الخوراج ان پشتونوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے جو سب سے زیادہ اس کی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ فتنتہ الخوراج کی جانب سے پشتون قومی عدالت کی حمایت پی ٹی ایم کے ساتھ گٹھ جوڑ کو ثابت کرتی ہے۔

    فتنتہ الخوراج کے بیان کے مطابق ”ہم مظلوم پشتون اقوام بالخصوص آفریدی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں“۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنتہ الخوراج کی جانب سے اس قسم کے بیانات پشتون قوم کو تقسیم کر کے اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ پی ٹی ایم کے سرغنہ منظور پشتین کی جانب سے بھی اکثر ایسے بیانات دیئے گئے ہیں جن سے ان کی ملک دشمنی واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح پی ٹی ایم کی جانب سے پاک فوج اور عوام کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب فتنتہ الخوراج اور پشتون تحفظ موومنٹ مل کر پاکستان کی سا لمیت کے درپے ہیں،ریاست اور ریاستی اداروں کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے ٹھوس پالیسی مرتب کرکے ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ خیبرپختونخوا کے غیور اور باشعور عوام کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ صرف ریاست ہی کرسکتی ہے۔ فتنتہ الخوراج جیسی دہشتگرد تنظیم کے حمایتی اعلان سے پشتون تحفظ موومنٹ کی سیاسی جدوجہد کو شدت پسندی کی جانب موڑا جا رہا ہے۔ مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں فتنتہ الخوراج کمزورہو چکے ہیں جنہیں اب کسی نئے سہارے کی تلاش ہے۔

    چند روز قبل پی ٹی ایم کے منظور پشتین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے بھی ملاقات کی اور پشتون قومی عدالت میں شرکت کی دعوت دی تھی،ایسے شرپسند عناصر کی سرپرستی صرف اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے سوا اور کچھ نہیں

  • ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا

    ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا

    انسداد دہشت گردی عدالت بنوں نے ممبر قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے سرکردہ رہنما علی وزیر کی دو نوں مقدمات میں‌ ضمانت منظور کرلی.،عدالت نے ایک کیس میں 2 لاکھ مچلکے جبکہ دوسرے کیس میں‌80 ہزار مچلکے جمع کرنے کا حکم دیا ہے.
    واضح‌رہے کہ علی وزیر کو 19 مئی کو شمالی وزیرستان میں‌اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ میرانشاہ سے رزمک جارہے تھے.اس سے پہلے 14 جون کو بروز منگل پشاور ہائی کورٹ نے رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر کی 45 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ایم عتیق شاہ پر مشتمل بنچ نے یہ حکم علی وزیر کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا تھا جس میں حکومت کو ان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد سے آگاہ کرنے اور حفاظتی ضمانت دینے کی ہدایت کی درخواست کی گئی تھی۔

  • ممبر قومی اسمبلی  پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر ایک بار پھر گر فتار

    ممبر قومی اسمبلی پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر ایک بار پھر گر فتار

    جنوبی وزیرستان سے ممبرقومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر کو ایک دفعہ پھر شمالی وزیرستان میں گرفتار کیا گیا ہے. علی وزیر میرانشاہ سے رزمک جارہے تھے کہ انھیں ڈمڈیل چیک پوسٹ پر گرفتار کیا گیا سرکاری زرائع کے مطابق علی وزیر،منظورپشتین اور عبدالصمد سمیت پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں کے خلاف شمالی وزیرستان پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے جبکہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو علی وزیرکی گرفتاری کےلئے پہلے سے ہی متحرک کیاگیا تھا تاہم ابھی تک معلوم نہ ہوسکا کہ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں کونسی دفعات درج ہیں اور کس الزام کےتحت ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا ہے۔دوسری جانب پی ٹی ایم نے منظور پشتین کی سربراہی میں میرانشاہ کینٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا شروع کرلیا ہے۔
    اس سے قبل 14 جون کو بروز منگل پشاور ہائی کورٹ نے رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر کی 45 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ایم عتیق شاہ پر مشتمل بنچ نے یہ حکم علی وزیر کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا تھا جس میں حکومت کو ان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد سے آگاہ کرنے اور حفاظتی ضمانت دینے کی ہدایت کی درخواست کی گئی تھی۔علی وزیر کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ درخواست گزار کے خلاف کل 14 مقدمات درج ہیں جن میں سے اب تک وہ پانچ میں ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ دیگر مقدمات کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ان کے موکل کو حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ان کے خلاف درج مقدمات کا سراغ لگایا جا سکے اور اس سلسلے میں متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جا سکے۔انہوں نے دلیل دی کہ درخواست گزار قانون ساز اور قانون کی پاسداری کرنے والا شہری ہے اور باقاعدگی سے عدالتوں میں پیش ہوتا رہا ہے۔ ‘
    انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار کو بھی 2 سال سے زائد عرصے تک جھوٹے الزامات میں سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا لیکن اس کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہو سکا۔واضح رہے کہ اس سے قبل علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو پشاور سے مقامی پولیس نے سندھ پولیس کی درخواست پر کراچی کے سہراب گوٹھ تھانے میں ان کے اور پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔

  • اداروں کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال پر پی ٹی ایم کے  رہنماؤں کو ایف آئی نے طلب کر لیا

    اداروں کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال پر پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو ایف آئی نے طلب کر لیا

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اداروں کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال اور پروپیگنڈہ کرنے پر پشتو ن تحٖفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کےسربراہ منظور پشتین اورایم این اے علی وزیر سمیت 4 افراد کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ سائبرکرائم سرکل پشاورنے اداروں کے خلاف نازیبا الفاظ/ پروپیگنڈہ کی بنیاد پر انکوائری کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت منظورپشتین،ایم این اے علی وزیر ،حضرت نعیم اور عبدالصمد کو 23 جون کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے پی ٹی ایم کے زیر اہتمام ضلع شمالی وزیرستان کے میرانشاہ کینٹ کے سامنے 3 ساتھیوں کی گرفتاری کے خلاف دھرنا شروع ہے۔دھرنے میں منظور پشتین،علی وزیر سمیت پی ٹی ایم کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی ہے۔سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میرانشاہ کینٹ کے باہر دھرنا کے شرکاء جس میں منظور پشتین اور علی وزیر بھی شامل ہیں سخت نعرے بازی کررہے ہیں ۔اس سے قبل گذشتہ رات ڈیر ہ اسماعیل خان پولیس نے منشیات کے الزام میں پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما عالمزیب محسود کو منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں عالمزیب محسود پر 1030 گرام چرس رکھنے کے الزام لگایا گیا ہے۔

  • پشاور ہائی کورٹ نے علی وزیر کی راہداری ضمانت منظور کر لی

    پشاور ہائی کورٹ نے علی وزیر کی راہداری ضمانت منظور کر لی

    پشاور ہائی کورٹ میں ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل اور درج ایف آئی آر کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ہے ،، سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ایس ایم عتیق شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی عدالت نے علی وزیر کی 45 دن کی راہداری ضمانت منظور کرلی گئی،
    سماعت شروع ہوتے ہی درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ علی وزیر کے خلاف صوبے میں 14 مختلف ایف آئی آرز درج کئے گئے ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 5 ایف آئی آرز میں ہم نے ضمانت حاصل کرلی ہے۔ درخواست گزار کے خلاف اگر کوئی اور ایف آئی آر ہے تو اس کی تفصیل ہمیں فراہم کی جائے۔ درخواست گزار وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں, راہداری ضمانت دی جائے تاکہ متعلقہ عدالت میں پیش ہوں جائے۔ جسٹس اعجاز انور نے استدعا منظور کرتے ہوئے،14 دن کی راہداری ضمانت دے کر دوسرے عدالتوں میں پیش ہونے کی مہلت دی، وکیل درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ علی وزیرکے خلاف صوبے کے مختلف علاقوں میں 9 ایف آئی آر درج ہے جس کے لئے سب جگہوں پہ اتنا جلدی پیش ہونا ممکن نہیں، جس پر عدالت نے علی وزیر کی 45 دن کی راہداری ضمانت منظور کر لی،،

  • پی ٹی ایم کے وکیل  قادر خان کے گھر پر چھاپہ:منشیات برآمد

    پی ٹی ایم کے وکیل قادر خان کے گھر پر چھاپہ:منشیات برآمد

    کراچی :پی ٹی ایم کے وکیل قادر خان کے گھر پر چھاپہ:سچ یا جھوٹ:حقائق پوشیدہ ہی رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق وکیل قادر خان کا دعویٰ ہے کہ باوردی اہلکاروں نے گذشتہ شب ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور گھر والوں کو ہراساں کیا، تاہم پولیس کے مطابق انہیں ایسے کسی چھاپے کی اطلاع نہیں، نہ ہی متاثرہ خاندان نے اسے رپورٹ کیا ہے۔

    پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں پر درج مقدمات کی عدالتی پیروی کرنے والے وکیل قادر خان ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ باوردی اہلکاروں نے ان کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور گھر والوں کو ہراساں کیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو ایسے کسی چھاپے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔

    یہ واقعہ مبینہ طور پر قادر خان کی کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع رہائش گاہ پر گذشتہ رات دیر سے پیش آیا، اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اہلکار وکیل کے ایک بیٹے کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

    قادر خان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ کچھ اہلکار گھر میں گھس آئے تھے اور توڑ پھوڑ کے ساتھ بچوں کے سکول بیگ کی بھی تلاشی لے رہے تھے۔ اہلکاروں نے گھر والوں کو ہراساں بھی کیا۔‘قادر خان ایڈووکیٹ کے مطابق اہلکار تین موبائل گاڑیوں اور ایک جیمر والی گاڑی میں آئے تھے۔

    انہوں نے بتایا: ’میں نے رات کو ہی متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو ٹیلی فون کیا، مگر ایس ایچ او نے کہا ان کو چھاپے کے متعلق معلوم نہیں۔ صبح میں نے دوبارہ پولیس اور پیراملٹری سے معلوم کیا، مگر دونوں نے کہا کہ ان کو اس سے متعلق نہیں معلوم کہ چھاپہ کس نے اور کیوں مارا۔‘

    دوسری طرف معتبر ذرائع نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ کوئی پی ٹی ایم کی وکالت کا ایشو نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اطلاع ملنے پولیس کے لوگوں نے ایڈووکیٹ قادر خان کے گھر چھاپہ مارا

     

     

    https://twitter.com/CCtheLegendd/status/1479413828010061824?s=19

    سادہ لباس میں ملبوس اہلکارپی ٹی ایم ایڈووکیٹ قادر خان کے بیٹے اسد خان کو لے گئے،قادر خان کی فیملی کو قریب سے جاننے والے ایک اہم شخص کا دعویٰ‌ ہے کہ اسد خان منشیات کا عادی ہے اورمنشیات فروشی بھی کرتا ہے،اسد خان سے منشیات بھی برآمد ہوئی ہے ، اس شخصیت کا یہ بھی دعویٰ‌ ہے کہ اس سے پہلے اسد خان منشیات فروشی کے جرم میں 4مہینے جیل رہ چکا ہے.

    ادھر پی ٹی ایم کراچی نے واقعے کے خلاف جمعے کی شام کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا، جس دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ قادر خان کے بیٹے کو رہا کیا جائے۔

    احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے قادر خان کے چھوٹے بیٹے حماد خان نے کہا کہ ان کے والد گھر پر نہیں تھے، اور چھاپہ مارنے والے اہلکار ان کے بڑے بھائی اسد خان کو اپنے ساتھ لے گئے، جن کو تاحال رہا نہیں کیا گیا ہے۔