Baaghi TV

Tag: پی ٹی اے

  • پی ٹی اے کا بڑا اقدام: لاکھوں  چوری شدہ اور جعلی موبائل فونز بلاک

    پی ٹی اے کا بڑا اقدام: لاکھوں چوری شدہ اور جعلی موبائل فونز بلاک

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون فراڈ کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران جدید بلاکنگ سسٹم DIRBS کے تحت 8 لاکھ 26 ہزار چوری شدہ جبکہ 5 کروڑ 50 لاکھ جعلی یا نقل شدہ موبائل فونز بلاک کر دیے۔

    یہ اقدام صارفین کو محفوظ رکھنے اور قومی موبائل نیٹ ورکس پر صرف رجسٹرڈ اور قانونی ڈیوائسز کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔ پی ٹی اے کے مطابق بلاکنگ سسٹم DIRBS کے ذریعے ان تمام رپورٹ شدہ غیر قانونی فونز پر کارروائی کی گئی۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2019 سے اب تک پاکستان میں 13 کروڑ 60 لاکھ موبائل فونز مقامی سطح پر تیار کیے جا چکے ہیں، جن میں 37 فیصد اسمارٹ فونز شامل ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق صرف سال 2024 میں 3 کروڑ 13 لاکھ 80 ہزار جب کہ 2025 کے ابتدائی پانچ ماہ میں 1 کروڑ 20 لاکھ موبائل فونز مقامی سطح پر تیار کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موبائل فونز کی 94 فیصد طلب اب مقامی پیداوار سے پوری کی جا رہی ہے، جب کہ کمرشل درآمدات نمایاں کمی کے بعد صرف 7 لاکھ یونٹس تک محدود ہو چکی ہیں۔ یاد رہے کہ 2019 میں یہی درآمدات 1 کروڑ 62 لاکھ تھیں۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں مقامی سطح پر موبائل فون تیار کرنے والی کمپنیوں کی تعداد 36 ہو چکی ہے، اور اس صنعت کے باعث اب تک تقریباً 60 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انفرادی درآمدی کیٹیگری کے تحت گزشتہ 6 برسوں میں حکومت کو 83 ارب روپے کی آمدن ہوئی، جو مقامی پیداوار کی طرف منتقل ہونے کے باوجود ایک بڑی مالی کامیابی ہے۔

    پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ موبائل ڈیوائسز کے استعمال کے ضوابط کو مزید سخت بنانے اور صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے اس مہم کو مزید وسعت دی جائے گی۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز 2026 میں شیڈول

    میٹا کا انسٹاگرام و فیس بک پر بچوں کے تحفظ کے لیے نئے فیچرز کا اعلان

    26 نومبر احتجاج کیس،حکومت پنجاب کا ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرانے کا فیصلہ

  • پی ٹی اے میں کروڑوں روپے کے غیر قانونی الاؤنسز کا انکشاف

    پی ٹی اے میں کروڑوں روپے کے غیر قانونی الاؤنسز کا انکشاف

    چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی­کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ممبران کی جانب سے خلافِ ضابطہ 5 کروڑ 60 لاکھ روپے کے الاؤنسز لینے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

    کنوینئر ملک عامر ڈوگر کی زیر صدارت پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پی ٹی اے سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

    آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 2008 سے اب تک چیئرمین اور ممبران پی ٹی اے کو ساڑھے پانچ کروڑ روپے کے الاؤنسز دیے گئے، جن میں سے 2021 میں ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کے الاؤنسز خلاف ضابطہ لیے گئے قانون کے تحت ایم پی ون اور ایم پی ٹو گریڈ کے افسران کو علیحدہ الاؤنس دینا خلافِ ضابطہ ہے اور چیئرمین و ممبران پی ٹی اے غیرقانونی طور پر یہ رقوم وصول کرتے رہے ہیں 2011 سے 2013 کے درمیان ان الاؤنسز کی وصولی نہیں کی گئی تھی، جب کہ یہ معاملہ 2008 سے زیر التوا ہے۔

    ممبر فنانس پی ٹی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزارت قانون کی رائے ہے کہ ایم پی ون افسران کے لیے ایسی کوئی قدغن نہیں کہ وہ صرف بنیادی تنخواہ ہی لیں اور اس بارے میں کابینہ نے پی ٹی اے ایکٹ میں ترمیم کی سفارش کی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو ایک اور خط

    چیئرمین پی ٹی اے نے اجلاس میں بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کے حل کے لیے آڈٹ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور وزارت قانون کا مؤقف ہے کہ یہ الاؤنسز خلاف ضابطہ نہیں ہیں معاملہ اب پارلیمنٹ میں ترمیم کے لیے زیر غور ہے۔

    کنوینئر کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ جب تک قانون میں ابہام موجود ہے، کیا چیئرمین اور ممبران پی ٹی اے کو الاؤنسز لینے چاہییں؟ اس پر ممبر کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ اگر ایکٹ میں ترمیم منظور ہو بھی جائے، تب بھی ماضی میں لیے گئے الاؤنسز کی رقم واپس کرنا ہوگی کیونکہ کسی بھی قانون کا اطلاق ماضی پر نہیں ہو سکتا۔

    بعد ازاں پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کو ایک ماہ میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    کواڈ گروپ کے وزرائے خارجہ کی پہلگام حملے کی مذمت

  • پی ٹی اے اور سائبر کرائم ایجنسی کا کلون شدہ موبائل فونز کے خلاف کریک ڈاؤن، 6 افراد گرفتار

    پی ٹی اے اور سائبر کرائم ایجنسی کا کلون شدہ موبائل فونز کے خلاف کریک ڈاؤن، 6 افراد گرفتار

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ساتھ مل کر آئی ایم ای آئی ٹیمپرنگ اور کلون شدہ موبائل فونز کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔

    ترجمان پی ٹی اے کے مطابق زونل آفس ایبٹ آباد نے این سی سی آئی اے کے تعاون سے مانسہرہ میں لاری اڈہ اور صوفی ہوٹل کے قریب واقع موبائل فون مرمت کی دکانوں پر چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران آئی ایم ای آئی تبدیل کرنے میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز اور مخصوص سافٹ ویئرز قبضے میں لے لیے گئے جبکہ موقع پر موجود 6 افراد کو گرفتار کر کے مزید کارروائی کے لیے این سی سی آئی اےکے حوالے کر دیا گیا۔

    پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ آئی ایم ای آئی کی غیرقانونی ٹیمپرنگ اور کلون شدہ موبائل فونز کی ترسیل قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، کیونکہ یہ جرائم پیشہ عناصر کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں، جن میں سائبر کرائم، اغواء، مالی دھوکا دہی اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔اعلامیے میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر کارروائی کر سکیں۔ پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی پر سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

    لاہور قلندرز کا اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے 203 رنز کا ہدف

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    ہارورڈ یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبا پر پابندی، چین کا شدید ردعمل

  • پی ٹی اے نے ایک لاکھ 19 ہزار  سے زائدسائٹس بلاک کردیں

    پی ٹی اے نے ایک لاکھ 19 ہزار سے زائدسائٹس بلاک کردیں

    پی ٹی اے نے ملکی سلامتی کیلئے بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملکی سلامتی اور دفاع کے خلاف مواد پھیلانے والی ایک لاکھ 19 ہزار 496سائٹس بلاک کردیں،پی ٹی اے نے 3 ہزار 248 یوٹیوب سائٹس بھی بلاک کردیں، بند سائٹس کی تفصیلات رازداری اصولوں کے باعث ممکن نہیں۔

    چند دن پہلے پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن اتھارٹی نے ملک میں یوٹیوب کی بندش سے متعلق خبروں کی تردید کی تھی ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یوٹیوب یا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بند کرنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ،یوٹیوب کی بندش سے متعلق پرانی پریس ریلیز سوشل میڈیا پر دوبارہ گردش کر رہی ہے جس سے عوام میں غیر ضروری غلط فہمی کا باعث بن رہی ہے۔

    پی ٹی اے نے ایک لاکھ 19 ہزار سے زائدسائٹس بلاک کردیں

    انہوں نے بتایا کہ یہ پریس ریلیز ستمبر2012 میں سپریم کورٹ کےاحکامات کی تعمیل میں جاری کی گئی تھی، زیرِ گردش مواد پرانا ہے اور موجودہ حالات سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہےپی ٹی اے نے عوام کو مصدقہ معلومات کیلئے پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔

    حکومت کی آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی یقین دہانی

  • پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے پربھارت کے16 یوٹیوب چینلز بلاک کردئیے

    پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے پربھارت کے16 یوٹیوب چینلز بلاک کردئیے

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے پربھارت کے16یوٹیوب چینلز بلاک کردئیے۔

    پی ٹی اے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بھارت کے 31 یوٹیوب ویڈیو لنکس اور 32 ویب سائٹس بھی بلاک کردی گئی ہیں یوٹیوب چینلز، ویڈیولنکس اور ویب سائٹس کی بندش علاقائی صورتحال کے پیش نظر کی گئی یہ اقدام قومی سلامتی اور پاکستان کے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے بلاک کیےگئے مواد میں گمراہ کن اور نقصان دہ بیانیے شامل تھے اس مواد کا مقصد عوامی رائے کو متاثرکرنا اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا تھا۔

    اعلامیے میں کیا گیا ہےکہ پی ٹی اے ٹیلی کام صارفین کے لیے محفوظ وقابل اعتماد انٹرنیٹ ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے، اتھارٹی آن لائن مواد کی نگرانی جاری رکھے گی اور قومی مفادات کےخلاف مواد پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔

  • پی ٹی اے کا  اسٹار لنک کو فوری طور پر لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی اے کا اسٹار لنک کو فوری طور پر لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اسٹار لنک کو فوری طور پر لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رجسٹریشن مشروط ہونے کے باعث اسٹارلنک کو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لائسنس کا اجرا مزید تاخیر کا شکار ہو گیا ہے، پی ٹی اے نے اسٹار لنک کو لائسنس کا اجرا پاکستان اسپیس ایکٹویٹیز ریگولیٹری بورڈ کے ساتھ مستقل رجسٹریشن سے مشروط کردیا ہے۔

    پاکستان اسپیس ایکٹویٹیز ریگولیٹری بورڈ نے 21 مارچ کو اسٹارلنک کی عارضی رجسٹریشن کی تھی، پی ایس اے آربی اسٹارلنک کی مستقل رجسٹریشن کے لیے تمام تکنیکی اور ریگولیٹری معاملات طے کرنے میں مصروف ہے۔

    روس نے یوکرین میں 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ٹی اے پی ایس اے آربی کے ساتھ مستقل رجسٹریشن کا انتظار کرےگا،اسٹارلنک کو لائسنس کے اجرا کے لیےتمام قانونی تقاضےپورا کرنا ہوں گے۔

    اسٹارلنک پاکستان میں سروسز کے آغاز کے لیےلائسنس کے اجراء کا منتظر ہےاسٹارلنک ذرائع کا کہنا ہےکہ لائسنس کےاجرامیں تاخیر پرحکومت پاکستان اور پی ٹی اے ہی بہتر بتا سکتی ہے، مستقل رجسٹریشن کیسے ممکن ہوگی یہ بھی حکومت ہی بتا سکتی ہے۔

    ماہ رنگ بلوچ سمیت 92 سے زائد کارکنوں کی رہائی کا حکم

  • ملک میں انٹرنیٹ کی بندش: انٹرنیشنل کمپنیوں نے آپریشنز بیرون ملک منتقل کرنا شروع کردیئے

    ملک میں انٹرنیٹ کی بندش: انٹرنیشنل کمپنیوں نے آپریشنز بیرون ملک منتقل کرنا شروع کردیئے

    اسلام آباد: ملک میں انٹرنیٹ کی سست روی اور تعطل کے باعث پاکستان میں کام کرنے والی انٹرنیشنل کمپنیوں نے اپنے مختلف آپریشنز بیرون ملک منتقل کرنا شروع کردیئے جبکہ ایکسپورٹ گروتھ صرف 34 فیصد رہ گئی۔

    باغی ٹی وی: انٹرنیٹ کی سست روی اور تعطل آئی ٹی انڈسٹری پر بھاری پڑنے لگی جبکہ عالمی کمپنیوں نے پاکستان میں موجود اپنے مختلف آپریشنز بیرون ملک منتقل کرنا شروع کردیئے پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث وا ٹس ایپ نے سیشن سرور رؤٹنگ پاکستان سے باہر منتقل کردیا ہے۔

    پی ٹی اے نے منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ سی ڈی این کی بیرون ملک منتقلی سے صارفین کو رابطے کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا پی ٹی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں فکسڈ لائن اور موبائل نیٹ ورکس پرانٹرنیٹ بہترہوا ہے، ایک ماہ میں فکسڈ لائن انٹرنیٹ دو درجے بہتر ہوا ہے فکسڈ لائن انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں پاکستان 139 ویں نمبرپرہے جہاں موبائل نیٹ ورک 3 درجے بہتر ہوئی ہے جبکہ موبائل نیٹ ورک میں پاکستان کی رینکنگ 97 ویں نمبر پر ہے۔

    سال 2024 انٹرنیٹ اسپیڈ کےحوالے سے بدترین رہاسب میرین کیبلز میں خرابی کے 4 بڑے واقعات پیش آئے، جس کے باعث صارفین کو 1750 کیگا بایٹس فی سیکنڈ انٹرنیٹ کم ملا جبکہ فائر وال اور ویب منیجمنٹ سسٹم نے بھی پریشانی بڑھادی۔

    نیٹ سروس پروائیڈرز کہتے ہیں ہیں کہ ایک گھنٹہ نیٹ بندش کا مطلب 9 لاکھ ڈالر کا جھٹکا ہے، ایک دن تعطل کی قیمت سوا کروڑ ڈالر بھرنا پڑتی ہےسال 2021 میں ایکسپورٹ گروتھ 47 فیصد تھی جو گزشتہ برس صرف 24 فیصد رہ گئی آئی ٹی ایکسرپٹ نگہت داد کا کہنا ہے انٹرنیٹ کی سست روی کی یہی صورتحال رہی تو آئی ٹی کی کئی مزید کمپنیاں منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ انٹرنیٹ میں سست روی کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے تحقیقات مکمل کر لی ہیں، ٹیلی کام آپریٹرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل کی نشان دہی کی ہے پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وی پی این کے بڑھتے استعمال نے بینڈوتھ پر اضافی بوجھ ڈالا، انٹرنیٹ طلب کو پورا کرنے کے لیے بینڈوڈتھ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

  • ملک میں انٹرنیٹ ایک بار پھر سست روی کا شکار

    ملک میں انٹرنیٹ ایک بار پھر سست روی کا شکار

    پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک کے لیے جوڑنے والی کیبل خراب ہو گئی ۔ پی ٹی اے نے الرٹ جاری کردیا۔

    ترجمان پی ٹی اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ قطر کے قریب زیر سمندر کیبل میں خرابی کی وجہ سے ملک میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پی ٹی اے نے کہا ہے کہ قطر کے قریب زیر سمندر کیبل اے اے ای-1 میں خرابی کی اطلاع ملی ہے۔ یہ کیبل پاکستان کی بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک کے لیے استعمال ہونے والی سات کیبلز میں سے ایک ہے۔پی ٹی اے کے مطابق زیر سمندر کیبل میں خرابی کے باعث ملک بھر میں انٹرنیٹ اور براڈ بینڈ صارفین کی سروس متاثر ہوسکتی ہے،خرابی کو دور کرنے کے لیےمتعلقہ ٹیمیں کام کرہی ہیں۔ترجمان پی ٹی اے کے مطابق متعلقہ ٹیمیں خرابی دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔پی ٹی اے صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے اور ٹیلی کام صارفین کو وقتاً فوقتاً آگاہ کرتا رہے گا۔

    تیونس میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 27 افراد ہلاک

    ایف آئی نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث منظم گینگ بے نقاب کر دیا

    نمائش چورنگی کے اطراف پولیس کی گاڑی، اہلکاروں پرمزید حملوں کا انکشاف

  • غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ آج پہلی بار پتہ چلا کہ انٹرنیٹ کی بندش غلط ہوتی ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی بندش اور اس سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا پر مواد کی 500 شکایات موصول ہوتی ہیں، جس پر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد بلاک کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ تاہم، اجلاس کے دوران مختلف سینیٹرز نے انٹرنیٹ کی بندش کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے اور اس حوالے سے پی ٹی اے کے موقف کو چیلنج کیا۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ "ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرنا ہے؟” اس پر ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے وضاحت دی کہ رولز میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو انٹرنیٹ کی بندش کی ہدایت دے سکتی ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر ایکٹ میں انٹرنیٹ بند کرنے کا جواز نہیں دیا گیا تو پی ٹی اے اس عمل کو کیسے قانونی بنا سکتا ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اگر یہ غلط ہوتا تو حکومت نو سال سے پی ٹی اے کو انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کیوں دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تاریخ اور وقت بتا سکتے ہیں جب انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے اس بات پر زور دیا کہ رولز میں صرف سوشل میڈیا پر مواد کے حوالے سے بات کی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں کسی واضح ذکر کا فقدان ہے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی قانونی رائے وزارت قانون اور وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر کئی بار سوشل میڈیا ایپس بند کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے دوران انٹرنیٹ کی بندش بھی غلط تھی ، سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو بند کیا گیا۔بلوچستان میں ڈیجیٹل ہائی وے بنانا پڑے گا،انٹرنیٹ کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل ہائی وے بنانے پڑیں گے جب تک ڈیجیٹل ہائی وے نہیں بنائیں گے انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا،صوبائی حکومتوں سے درخواست کریں کہ سہولت فراہم کریں یہاں تو کام شروع کرتے ہیں لوگ عدالت میں چلے جاتے ہیں

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ کیا رولز ایکٹ سے آگے جا سکتے ہیں؟ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو کیا وزارت نے اس پر نظرثانی دائر کی ہے؟ اس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ رولز کئی سال پہلے بنے تھے اور ان میں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کسی نئی ترمیم یا نظرثانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    اس اجلاس میں مختلف سینیٹرز اور حکومتی اداروں کے نمائندگان کے درمیان بحث کا محور انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے قانون، حکومت کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے اثرات تھے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس معاملے پر مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزارت قانون اور وزارت داخلہ کی مشاورت ضروری ہو گی۔یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی ایک پیچیدہ قانونی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے واضح قوانین اور ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ اس حوالے سے آئندہ میں کسی قسم کی ابہام کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

  • پی ٹی اے نے 58 لاکھ سے زائد سمز بلاک کر دیں

    پی ٹی اے نے 58 لاکھ سے زائد سمز بلاک کر دیں

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک بھر میں 58 لاکھ سے زائد غیر فعال سمز کو بلاک کردیا گیا ہے۔

    اتھارٹی اعلامیہ کے مطابق غیر قانونی سمز کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں 40 چھاپے مارے گئے۔ چھاپوں میں 7500 سمز اور 152 بائیومیٹرک ویریفکیشن سسٹم ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئیں۔ کارروائیوں کے دوران 47 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔پی ٹی اے کے مطابق مالی سال 24-2023 کے دوران غیر قانونی سمز کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے قصور، کھاریاں، سیالکوٹ، لاہور، پشاور، پنوعاقل، کشمور، سکھر، شیخوپورہ، شرقپور شریف، راولپنڈی، ملتان، ساہیوال اور حسن ابدال میں چھاپے مارے گئے۔پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ٹیلی کمیونیکیشن کے نظام کو محفوظ بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے ہیں، اور یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔

    پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کا بلدیہ عظمی کراچی بلڈنگ میں احتجاج

    نان فائلرز پرحکومت کی جانب پابندیوں کا امکان

    یونان کشتی حادثہ، جاں بحق پاکستانیوں کی تعدادبڑھنے کا خدشہ