Baaghi TV

Tag: پی ٹی اے

  • پی ٹی اے نے جاز پر 3 کروڑ 89 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    پی ٹی اے نے جاز پر 3 کروڑ 89 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کارپوریٹ پوسٹ پیڈ سمز کے اجرا، تصدیق، ایکٹیویشن اور نگرانی سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں پر پاکستان موبائل کمیونیکیشن لمیٹڈ (جاز) پر 3 کروڑ 89 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

    پی ٹی اے کے مطابق کارروائی ٹارگٹ مارکیٹنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی شکایت پر کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ تقریباً 400 کارپوریٹ سمز کمپنی کی درخواست، منظوری، رضامندی یا اجازت کے بغیر اس کے نام پر جاری کی گئیں۔

    شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بعد ازاں اسے تھرڈ پارٹی ریکوری ایجنسی کے ذریعے 6 لاکھ 26 ہزار 360 روپے سے زائد کے واجبات کی وصولی کا نوٹس بھی موصول ہوا،کمپنی کے مطابق مذکورہ سمز اس کی لاعلمی اور منظوری کے بغیر ایک طویل عرصے تک فعال رہیں۔

    پی ٹی اے نے شکایت پر جاز سے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا، تاہم اتھارٹی کے مطابق کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ نامکمل تھا اور اس میں لازمی کارپو ریٹ اجازت ناموں اور اینڈ یوزر کی اسناد سے متعلق دستاویزات موجود نہیں تھیں،جاز نے این ٹی این سرٹیفکیٹ، ایک پرانا کاروباری معاہدہ، ایک رابطہ شخص کی تفصیلات اور 400 سمز کی فہرست فراہم کی-

    تاہم پی ٹی اے کے مطابق یہ ریکارڈ کارپوریٹ سمز کے صارفین کی مکمل تصدیق اور ان کی شناخت سے متعلق لازمی تقاضوں کی تکمیل ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھا، کارپوریٹ سمز کے اجرا کے بعد بھی آپریٹر پر تصدیق، نگرانی اور صارفین کی شناخت کو قابلِ سراغ رکھنے کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے،یہ ذمہ داری کارپوریٹ صارفین، فرنچائزز، سیلز چینلز یا مجاز نمائندوں کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔

    پی ٹی اے نے جاز کا یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ معاملہ بنیادی طور پر بلنگ یا تجارتی تنازع ہے،معاملہ کارپوریٹ سمز کے اجرا، تصدیق اور بعد از اجرا نگرانی سے متعلق لازمی ریگولیٹری تقاضوں کی عدم تعمیل کا ہے۔

    پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ جاز متعلقہ سبسکرائبرز ریگولیشنز اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کے تحت کارپوریٹ سمز کے اجرا، تصدیق، ایکٹیویشن اور نگرانی سے متعلق تقاضوں کی پابندی یقینی بنانے میں ناکام رہااتھارٹی نے جاز کو 3 کروڑ 89 لاکھ روپے جرمانہ 30 روز کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی ہے، مقررہ مدت میں رقم جمع نہ کرانے کی صورت میں قانون کے تحت مزید کارروائی کی جائے گی۔

  • پی ٹی اے کا پری پیڈ صارفین کے لیے بڑا اقدام

    پی ٹی اے کا پری پیڈ صارفین کے لیے بڑا اقدام

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں پری پیڈ موبائل صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام سیلولر موبائل آپریٹرز کو ہر ریچارج یا بیلنس کے لیے کم از کم 180 دن کی میعاد مقرر کرنے کی ہدایت کردی ہے نئے ضابطے کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

    پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ تعین کے مطابق پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً 97 فیصد سیلولر موبائل صارفین پری پیڈ سروس استعمال کرتے ہیں،غیر استعمال شدہ بیلنس کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی ضبطی سے بالخصوص کم آمدنی والے صارفین متاثر ہوتے ہیں اور انہیں براہ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    نئے فیصلے کے تحت تمام موبائل آپریٹرز کسی بھی رقم کے ریچارج یا بیلنس کے لیے کم از کم 180 دن کی بیلنس ویلیڈیٹی فراہم کرنے کے پابند ہوں گے مزید برآں، اگر کسی فعال سم پر موجود بیلنس کی میعاد ختم ہوجائے تو صارف کے آئندہ ریچارج کرتے ہی وہ بیلنس خودکار طور پر بحال اور قابل استعمال کردیا جائے گا۔

    پی ٹی اے نے موبائل آپریٹرز کو اس فیصلے پر عملدرآمد کے دوران کسی بھی غیر منصفانہ تجارتی طریقہ کار سے بھی روک دیا ہے،یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد کیا گیا، جن میں میعاد ختم ہونے پر پری پیڈ بیلنس کے ضائع ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

    اس معاملے پر پی ٹی اے نے پہلے عوام، صارفین اور موبائل آپریٹرز سے تجاویز طلب کی تھیں،مشاورت میں ایک تجویز یہ تھی کہ بیلنس سم کے فعال رہنے تک برقرار رہے، جبکہ دوسری تجویز میں غیر استعمال شدہ بیلنس کو صارف کے شناختی کارڈ سے منسلک کرکے نئی سم پر بحال کرنے یا رقم واپس کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

    عوام کی اکثریت نے بیلنس کو سم کی فعال مدت تک برقرار رکھنے کی حمایت کی اور اسے صارفین کی محنت کی کمائی قرار دیا،تاہم بیشتر موبائل آپریٹرز نے شناختی کارڈ کی بنیاد پر بیلنس بحالی کے طریقہ کار کی مخالفت کرتے ہوئے تکنیکی پیچیدگیوں، فراڈ کے خدشات، ملکیت کے تنازعات اور اضافی اخراجات کا حوالہ دیا۔

    پی ٹی اے کے مطابق بین الاقوامی تجربات بھی صارفین کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں اتھارٹی نے برطانیہ میں بعض موبائل کمپنیوں کے طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی فعال سم کے ساتھ پری پیڈ بیلنس کے تحفظ اور بعض حالات میں غیر استعمال شدہ بیلنس کی وا پسی کی سہولت موجود ہے۔

    پی ٹی اے نے قرار دیا کہ کم از کم بیلنس ویلیڈیٹی اور ریچارج پر میعاد ختم ہونے والے بیلنس کی بحالی کا نظام صارفین کے حقوق کا تحفظ کرے گا اور موبائل آپریٹرز کی تجارتی پائیداری کو بھی متاثر نہیں کرے گا۔

  • پی ٹی اے کی واٹس ایپ صارفین کیلئے اہم ہدایات جاری

    پی ٹی اے کی واٹس ایپ صارفین کیلئے اہم ہدایات جاری

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واٹس ایپ صارفین کو ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    پی ٹی اے حکام نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ چند آسان سیکیورٹی اقدامات اپنا کر صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو غیر مجاز رسائی سے محفوظ بنا سکتے ہیں،سائبر مجرم مسلسل واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس لیے صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی مزید مضبوط بنائیں۔

    اتھارٹی نے ہدایت کی کہ واٹس ایپ کا سیکیورٹی نوٹیفکیشن فیچر ضرور فعال کیا جائے، اس کے لیے صارفین واٹس ایپ کی سیٹنگ میں جا کر اکاؤنٹ اور پھر سیکیورٹی نوٹیفکیشنز کے آپشن میں “شو سیکیورٹی نوٹیفکیشنز” کو آن کریں، اس فیچر کے فعال ہونے سے اکاؤنٹ کی سیکیورٹی میں کسی بھی تبدیلی کی فوری اطلاع موصول ہو گی۔

    پی ٹی اے نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ساتھ ایک محفوظ اور فعال ای میل ایڈریس بھی منسلک کریں تاکہ ہیکنگ یا کسی ہنگامی صورتحال میں اکاؤنٹ کی بحالی آسانی سے ممکن ہو سکے،اتھارٹی نے “ٹو اسٹیپ ویریفکیشن” کو بھی لازمی فعال کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اضافی حفاظتی فیچر ہیکرز اور سائبر مجرموں کو اکاؤنٹ تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،معمولی سی احتیاط صارفین کے ذاتی ڈیٹا، رابطوں اور ڈیجیٹل زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے، جبکہ غفلت کی صورت میں سائبر فراڈ اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کر دیا

    پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کر دیا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کا شناختی کارڈ غیر فعال یا زائد المعیاد ہے تو اس کے ساتھ رجسٹرڈ سمز کسی بھی وقت معطل کی جا سکتی ہیں-

    پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موبائل سروس کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے صارفین اپنے قومی شناختی کارڈ کی معیاد پر نظر رکھیں اور وقت پر اس کی تجدید کروائیں، بصورت دیگر غیر فعال شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک سمز بند ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ کی معلومات بروقت اپ ڈیٹ کروائیں، اگر کسی کا شناختی کارڈ غیر فعال ہو چکا ہے تو پہلے اسے نادرا سے دوبارہ فعال کرائیں، جس کے بعد موبائل سروس بھی بحال رکھی جا سکے گی، صارفین کو چاہیے کہ وہ متعلقہ موبائل آپریٹر کے سروس سینٹر سے رجوع کریں، بائیو میٹرک تصدیق مکمل کریں اور اپنی سم رجسٹریشن کی موجودہ حیثیت بھی فوری طور پر چیک کریں، خصوصاً اگر ان کا شناختی کارڈ غیر فعال ہے،شناختی دستاویزات کی بروقت تجدید اور معلومات کی درستگی سے صارفین کی موبائل کنیکٹیویٹی متاثر نہیں ہوگی اور وہ کسی بھی ممکنہ معطلی سے محفوظ رہ سکیں گے۔

  • 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے نتائج حتمی ہوں گے،پی ٹی اے

    5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے نتائج حتمی ہوں گے،پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واضح کیا ہے کہ 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے نتائج حتمی ہوں گے اور بعد از نیلامی کوئی اضافی ایڈجسٹمنٹ یا ٹریڈنگ کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔

    اس فیصلے کے ذریعے وہ تجاویز مسترد کر دی گئی ہیں جن میں آپریٹرز کو نیلامی کے بعد اپنے اسپیکٹرم ہولڈنگز میں لچک دینے کی سہولت فراہم کرنے کا کہا گیا تھا مشاورت کے دوران کچھ اسٹیک ہولڈرز نے خبردار کیا تھا کہ بڈنگ کے دوران طلب میں تبدیلی کی وجہ سے کچھ بڈرز غیر معاشی یا ٹکڑے ٹکڑے اسپیکٹر م ہولڈنگز میں پھنس سکتے ہیں، اسٹیک ہولڈرز نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے نیلامی کے بعد یا اسائنمنٹ سے پہلے کسی قسم کی ٹریڈنگ و نڈو یا مشابہہ میکانزم متعارف کرانے کی تجویز دی تھی تاکہ آپریٹرز اپنے اسپیکٹرم پورٹ فولیوز کو بہتر بنا سکیں۔

    پی ٹی اے نے واضح کیا کہ ٹریڈنگ ونڈو نیلامی کے فریم ورک کا حصہ نہیں ہے اور شامل نہیں کی جائے گی،اسپیکٹرم کی الاٹمنٹ اور اسائنمنٹ کے موجودہ مراحل ہی مؤثر نتائج فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں اور کسی اضافی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت نہیں، اسپیکٹرم کی کیپنگ قواعد پوری نیلامی کے دوران نافذ رہیں گے، چاہے کچھ اسپیکٹرم لیٹس فروخت نہ ہوں، موجودہ کیپ، جو کہ انٹرنیشنل موبائل ٹیلی کمیونیکیشنز (IMT) اسپیکٹرم کے لیے 348.5 میگا ہرٹز ہے، بڈنگ کے دوران برقرار رہے گی اور بعد از نیلامی کی پالیسی الگ سے طے کی جائے گی۔

  • کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر  متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، جو انہوں نے اپنی وکیل شیزا قریشی کی وساطت سے دائر کی تھی،عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہا ہے درخواست گزار کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیاد ی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔

  • مسلسل 6 ماہ تک بند سمز سے متعلق پی ٹی اے کا انتباہ جاری

    مسلسل 6 ماہ تک بند سمز سے متعلق پی ٹی اے کا انتباہ جاری

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی موبائل سم کو مسلسل 6 ماہ تک استعمال میں نہ لایا گیا تو متعلقہ ٹیلی کام آپریٹر اسے بند کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

    پی ٹی اے کے مطابق وہ سمز جن پر 180 دن تک کال، ایس ایم ایس یا انٹرنیٹ استعمال کا کوئی ریکارڈ موجود نہ ہو انہیں غیر فعال تصور کیا جائے گا ایسی سمز بند کیے جانے کے بعد ان نمبرز کو کسی دوسرے صارف کو دوبارہ جاری کیا جا سکتا ہے،ایک بار موبائل نمبر نئے صارف کے نام پر جاری ہو جانے کے بعد سابق صارف کا اس نمبر پر کسی قسم کا قانونی حق یا دعویٰ باقی نہیں رہتا۔

    حکام کے مطابق اگر کوئی صارف کسی مجبوری یا وجہ کے باعث عارضی طور پر اپنی سم استعمال نہیں کر پا رہا تو وہ متعلقہ ٹیلی کام آپریٹر کو تحریری درخواست یا ای میل کے ذریعے مخصوص مدت کے لیے نمبر محفوظ رکھنے کی درخواست دے سکتا ہےکسی بھی ممکنہ پریشانی سے بچنے کے لیے اپنی موبائل سمز کا باقاعدہ اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال جاری رکھیں۔

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    
پاکستان لندن سے زیادہ محفوظ ہے، طلال چوہدری

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

  • ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر فعال رہیں گی، پی ٹی اے

    ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر فعال رہیں گی، پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 جنوری کو ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر فعال رہیں گی۔

    پی ٹی اے کے مطابق انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں روٹین سب میرین کیبل کی دیکھ بھال کا عمل جاری ہے، تاہم اس سے انٹرنیٹ سروسز متاثر نہیں ہوں گی،انٹرنیٹ سروسز کے تسلسل اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے نیٹ ورکس کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

    نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا فیصلہ ، ڈیزائن پر غور کیلئے کابینہ کمیٹی تشکیل

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں چاندی کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سرکاری نوکریوں کے نام پر لاکھوں کا فراڈ منظر عام پر

  • پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کر دیا

    پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کر دیا

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے جعلی کالز اور یو اے این نمبروں سے صارفین کو خبردار کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کردیا ہے۔

    پی ٹی اے نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسکیمرز آپ کی ذاتی اور مالی معلومات چرانے کیلئے پی ٹی اے، ایف آئی اے اور بینکوں کی نقالی کر رہے ہیں،کوئی بھی سرکاری ادارہ کبھی بھی کال یا میسج پر آپ سے او ٹی پی، پن، شناختی کارڈ یا بائیو میٹرک نہیں مانگے گا، موبائل صارفین کو چوکنا رہنے اور صرف سرکاری چینلز کے ذریعے تصدیق کرنے کی ہدایت کی۔

    اس سے قبل پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ کسی دوسرے فرد کے نام پر رجسٹرڈ سم کا استعمال متعلقہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

    امریکی فوج کے شام میں داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے

    خیبر میں دلہے کی گاڑی کو حادثہ : 2 سگے بھائیوں سمیت 5 دوست جاں بحق

    کراچی: اولڈ سٹی ایریا میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا،مرتضیٰ وہاب

  • 2 سالوں  کتنےفحش اور غیر قانونی ویب لنکس بلاک کئے؟پی ٹی اے کی رپورٹ جاری

    2 سالوں کتنےفحش اور غیر قانونی ویب لنکس بلاک کئے؟پی ٹی اے کی رپورٹ جاری

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2024 اور 2025 کے دوران مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر موجود 88 ہزار سے زائد غیر قانونی ویب سائٹ لنکس کو بلاک کیا گیا۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 سالوں کے دوران 88,000 سے زائد یو آر ایل بند کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد فحش اور غیر اخلاقی مواد پر مشتمل ویب سائٹس کی تھی،38,214 یو آر ایل فحش اور اخلاقیات کے منافی مواد کی میزبانی کے باعث بلاک کیے گئے، جو مجموعی کارروائیوں کی سب سے بڑی کیٹیگری ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق 31,313 ویب لنکس ایسے مواد پر بند کیے گئے جو پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے خلاف تصور کیے گئے۔ اسی طرح 7,608 یو آر ایل ایسے مواد کے باعث بلاک کیے گئے جو اسلام کے تقدس کے منافی قرار دیا گیا،6,269 یو آر ایل فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کے باعث بند کیے۔

    رپورٹ کے مطابق 2,498 ویب لنکس ہتکِ عزت اور جعل سازی سے متعلق مواد پر بند کیے گئے، جبکہ 353 یو آر ایل توہینِ عدالت کے مواد کی بنیاد پر بلاک کیے گئے اس کے علاوہ 15 یو آر ایل پراکسی سروسز کے ذریعے رسائی کے باعث اور 1,765 یو آر ایل دیگر غیر متعین وجوہات پر محدود کیے گئے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ پابندیاں ٹک ٹاک پر لگائی گئیں، جہاں 35,000 یو آر ایل بلاک کیے گئے اس کے بعد فیس بک پر 25,482، انسٹاگرام پر 13,242 اور یوٹیوب پر 8,586 یو آر ایل محدود کیے گئے،دیگر پلیٹ فارمز میں ایکس پر 2,103، لائیکی پر 991 اور اسنیک ویڈیو پر 345 یو آر ایل بلاک کیے گئے، جبکہ ڈیلی موشن پر صرف تین یو آر ایل بند کیے گئے۔

    پی ٹی اے حکام کے مطابق یہ اقدامات قومی قوانین کے نفاذ اور ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، یہ کارروائیاں غیر قانونی، غیر اخلاقی اور قومی قوانین کے منافی آن لائن مواد کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں اتھارٹی آن لائن پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور سروس فراہم کر نے والوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ غیر قانونی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔