Baaghi TV

Tag: پی پی پی

  • لیگی رہنماؤں کے بیانات نے ن لیگ میں تقسیم کو مزید واضح کردیا،فواد چوہدری

    لیگی رہنماؤں کے بیانات نے ن لیگ میں تقسیم کو مزید واضح کردیا،فواد چوہدری

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ‏شاہد خاقان اور محمد زبیر کے بیانات نے (ن) لیگ میں تقسیم کو مزید واضح کردیا ہے، پیپلز پارٹی کو بھی آصف زرداری سے آگے نکلنا چاہیے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ‏شاہد خاقان اور محمد زبیر کے بیانات نے (ن) لیگ کے اندر کی تقسیم کو مزید واضح کردیا ہے، (ن) لیگ میں اب نئی قیادت سامنے آجائے گی جو اچھی بات ہے تاہم پیپلز پارٹی کو بھی آصف زرداری سے آگے نکلنا چاہیے، ان خاندانوں نے ملک کی تباہی نکال دی اور اب کرما دیکھ رہے ہیں۔

    ن لیگ،پی پی اور جے یو آئی ف سمیت سیاسی جماعتوں کےکھاتے کھلنے چاہئیں:فواد چودھری

    فواد چوہدری نے کہا کہ ‏اس مہینے خیبرپختونخوا اور اگلے چند ماہ میں پنجاب میں طاقتور مقامی حکومتوں کے انتخابات حکومت کا اعتماد ظاہر کرتے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے پی میں امیدوار بھی کھڑے نہیں کرسکے یہی حالت پنجاب میں ہوگی۔

    بہت جلد پنجاب میں کھویا ہوا مقام حاصل کرلیں گے:ن لیگ عملا ختم ہوچکی:بلاول بھٹو

    واضح رہے کہ ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف مسلم لیگ ن کے صدر ہیں اور وہی وزیراعظم کے لیے ہمارے امیدوار ہوں گےمریم نواز وزارت عظمیٰ کی امیدوار نہیں، وہ الیکشن لڑنے کی اہل نہیں الیکشن جب بھی ہوں ہمارے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف ہوں گے۔

    وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف یا مریم نواز؟ شاہد خاقان عباسی نے بتا دیا

    شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ جو پارٹی کا صدر ہوتا ہے وہ وزیراعظم بنتا ہے،شہباز شریف پارٹی صدر ہیں اور وہی ہمارے امیدوار ہوں گے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی سیاسی جماعت نہیں بلکہ وڈیروں کا گینگ ہے ،عامر خان

  • اپوزیشن دیکھتی رہ گئی : سندھ لوکل گورنمنٹ پی پی نے اپنی خواہشات کے مطابق منظورکروا لیا

    اپوزیشن دیکھتی رہ گئی : سندھ لوکل گورنمنٹ پی پی نے اپنی خواہشات کے مطابق منظورکروا لیا

    کراچی :اپوزیشن دیکھتی رہ گئی : سندھ لوکل گورنمنٹ پی پی نے اپنی خواہشات کے مطابق منظورکروا لیا،اطلاعات کے مطابق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ نئی ترامیم کےساتھ سندھ اسمبلی سے منظور ہوگیا، بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابا اور احتجاج کیا۔

    اپوزیشن ارکان نے ایوان سر پر اُٹھالیا، اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کی، حکومت مخالف بینرز اُٹھائے، نعرے لگائےاور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں، معاملہ تلخ کلامی اور گالم گلوچ سے آگے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ احتجاج کرنے والوں پر ناراض، بولے، وفاق میں تو جاہل حکومت ہے ہی مگر بدقسمتی سے سندھ میں بھی اَن پڑھ اپوزیشن آگئی، بلدیاتی ایکٹ میں اپوزیشن کی دونوں ترامیم شامل کی گئی ہیں، ترمیم شدہ ایکٹ منظوری کیلئے دوبارہ گورنر کو بھجوائیں گے۔

    بلدیاتی ایکٹ کے مطابق میئر کا الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے ہو گا اور منتخب ارکان ہی میئر کا الیکشن لڑ سکیں گے۔ میئر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا شریک چیئرمین اور سالڈ ویسٹ کا چیئرمین ہو گا۔

    اپوزیشن ارکارن نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی اراکین آمنے سامنے آگئے، ایک دوسرے کو دھکے دیے۔

    پیپلزپارٹی اوراپوزیشن اراکین کےدرمیان نامناسب جملوں کاتبادلہ بھی ہوا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بل عوام کی امنگوں کے مطابق ہے، سندھ کے شہری علاقوں میں ٹاؤن سسٹم لایا جائے گا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں پاکستان کاحصہ سمجھو، ایسے حالات پیدا نہ کرو کہ ہم کچھ اور سوچیں۔مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں اور وفاقی حکومت پر بھی شدید تنقید کی۔

    سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بلال غفار نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ایک اور سیاہ دن اور سویلین ڈکٹیٹر شپ ہے۔ حکومت نے سندھ پر قبضے کا قانون منظور کیا اور ہمیں بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

    ایم کیو ایم کے رکن کنور نوید جمیل نے کہا کہ سندھ حکومت نے آمدنی والے ادارے اپنے پاس رکھ لیے۔ بلدیاتی اداروں کے اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی قومیا لیا ہے۔ یہ کرپشن کا قانون لائے ہیں جس پر اپوزیشن کو بات تک نہیں کرنے دی گئی۔

    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رکن عارف مصطفیٰ جتوئی نے کہا کہ پیپلز پارٹی مشرف کے نظام کو ظلم کا نظام قرار دیتی تھی اور خود بھی وہی نظام لانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

    ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے کہا کہ اپوزیشن کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں ان کی ڈکٹیٹر شپ اور بلدیاتی اداروں کے وسائل پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔

  • این اے 133: ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے    فواد چوہدری

    این اے 133: ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے فواد چوہدری

    لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی انتخاب پر وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کی شرح انتہائی کم رہی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے تمام ترپروپیگنڈے کے باوجود تحریک انصاف ہی میدان کی اصل کھلاڑی ہے اور پی ٹی آئی کے بغیرمیدان ویران ہے۔


    شہباز شریف نے این اے 133 لاہور میں کامیابی پر عوام کے مشکور:

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے این اے 133 لاہور میں کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 لاہور کے ضمنی الیکشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی نشست دوبارہ حاصل کرلی ضمنی الیکشن میں کامیابی پر شہباز شریف نے مرحوم پرویز ملک کی نشست پر اُن کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک کی کامیابی پر عوام اور پارٹی رہنماؤں کو مبارکباد دی اور ن لیگ کی قیادت پر ایک بار پھر اعتماد پر عوام سے اظہار تشکر کیا ہے۔

    این اے 133 لاہور کا ضمنی انتخاب مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز نے جیت لیا:

    این اے 133 لاہور کے تمام پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیاضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز ملک نے 46811 ووٹ لیے جبکہ پیپلز پارٹی کے اسلم گل 32313 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

    این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں ووٹنگ کی شرح کم رہنے کے باعث نتائج کا اعلان جلد متوقع ہے، بیشتر علاقوں میں ووٹرز کا جوش و خروش دکھائی نہ دیا، ووٹرز کی تعداد نہایت کم رہی نواحی علاقوں میں صورت حال نسبتاً بہتر رہی، مریم کالونی میں ن لیگ اور پی پی کے کارکنوں کا آمنا سامنا ہوا، دونوں پارٹیوں کے کارکنان کے درمیان دھکم پیل اور تلخ کلامی بھی ہوئی۔

    قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 میں ضمنی الیکشن میں 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، کئی پولنگ اسٹیشنز پر مرد، خواتین، بوڑھے اور جوان ووٹرز کا رش نظر آیا 254 پولنگ اسٹیشنز میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 اور سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن ٹاؤن شپ میں مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پہلا ووٹ کاسٹ ہوا ٹاؤن شپ کے اس پولنگ اسٹیشن میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1550 ہے

    این اے 133 میں ضمنی الیکشن میں 2 ووٹرز دولہا بن کر ووٹ ڈالنے پہنچے تھےلاہور کے ضمنی انتخاب میں روایتی رنگ نظر نہ آئے تو 2 ووٹرز رنگ لگانے کے لیے دولہے بن کر ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئے دولہا بنے ووٹرز نے پولنگ اسٹیشن پر خوب رنگ جمایا اور اپنا ووٹ بھی کاسٹ کیا۔

    ا ین اے 133 الیکشن میں تکنیکی وجہ سے باہر ہوجانا قابل افسوس ہے:سینیٹر فیصل جاوید خان

    اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سینیٹر فیصل جاوید خان کا کہنا تھا کہ این اے 133 الیکشن میں پی ٹی آئی ہوتی تو پولنگ اسٹیشنز پر لوگوں کا ہجوم نظر آتا سوشل میڈیا پر بیان جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ا ین اے 133 الیکشن میں تکنیکی وجہ سے باہر ہوجانا قابل افسوس ہے تحریک انصاف کے کارکنان کا جوش وخروش ہمیشہ قابل ستائش ہوتا ہے این اے 133 الیکشن کی پولنگ میں عوام کی کم دلچسپی سے نون اور پی پی کی صورتحال آشکار ہے۔

    ٹرن آوٹ کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا:حسان خاور

    دوسری جانب حکومت پنجاب کے ترجمان حسان خاور نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن سے عوام کی لاتعلقی اپوزیشن کی احتجاج کی سیاست میں آخری کیل ہےحسان خاور نے کہا ہے کہ ووٹنگ ٹرن آوٹ ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی آئندہ الیکشن میں کلین سوئپ کرے گی ضمنی الیکشن سے عوام کی لاتعلقی اپوزیشن کی احتجاج کی سیاست میں آخری کیل ہے اپوزیشن اب بھی ہوش کے ناخن لے اور احتجاج کی سیاست سے باز آجائے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان حسان خاورنے کہا کہ ٹرن آوٹ کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا عوام نے ووٹ نہ ڈال کر ثابت کر دیا کہ اپوزیشن اب ووٹ کو ترسے گی حسان خاور نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف انتخاب سے آوٹ ہوکر بھی الیکشن جیت گئی ہے۔

    حسان خاور نے کہا کہ پی ٹی آئی کو میدان سے باہر کرنے پر عوام نے احتجاجاً ووٹ کاسٹ نہیں کیے اورتحریک انصاف کے ووٹرز نے اپوزیشن کو سرخ جھنڈی دکھا دی ترجمان پنجاب حکومت نے استفسار کیا کہ جو اپوزیشن ووٹرز کو گھروں سے نہ نکال سکی وہ احتجاج کے لیے عوام کو کیسے نکالے گی؟

    اس سے قبل پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا تھا کہ آج نوٹوں کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے، این اے 133 میں آج جو بھی جیتے عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں این اے 133 میں انتخاب کا پوسٹ مارٹم پہلے ہی ہو چکا، ٹھپہ مافیا کے ماسٹر مائنڈ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے دھاندلی کے پرانے طریقے اب نہیں چلیں گے، آئندہ انتخابات الیکشن اصلاحات کا ٹرائل ہوں گےتحریک انصاف مدمقابل نہ ہونے کے باوجود نون لیگ اور پیپلز پارٹی خوفزدہ ہیں۔

    ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز ملک کو برتری حاصل،ووٹوں کی گنتی جاری:

    این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز ملک کو برتری حاصل ہےاین اے 133 میں صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک بنا کسی وقفے کے جاری رہی اس وقت پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے جس کے تحت ن لیگی امیدوار کو برتری حاصل ہے۔


    254 میں سے 132 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کی شائستہ پرویز 20 ہزار 968 ووٹ لے کر آگے ہیں غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل 13 ہزار 915 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔


    واضح رہے کہ این اے 133 لاہور کی نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی جبکہ این اے 133 پر جمشید چیمہ اور ان کی اہلیہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد حلقے میں پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ کا عمل ختم ہو چکا اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    الیکشن کمیشن کے طریقہ کار کے تحت حلقہ این اے 133 لاہورمیں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ شام 5 بجے تک بنا کسی بھی وقفے کے جاری رہی اعداد و شمار کے مطابق ضمنی انتخاب میں حلقے کے 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے این اے 133 میں 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے ہیں۔ ان میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 جب کہ سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں مرد و خواتین کے لیے علیحٰدہ علیحٰدہ 200 جب کہ مخلوط 54 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں ضمنی انتخاب کے لیے 11 امیدوار میدان میں ہیں۔ نشست کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست این اے133 پرویز ملک کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی این اے 133 میں ضمنی انتخابات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں 6 ایس پیز اور 14 ایس ڈی پی اوز اس ضمن میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    الیکشن کے دوران 44 ایس ایچ اوز، 52 ڈولفن و پیرو اور 7 کوئیک ریسپانس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد افسران و اہل کار تعینات ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔

    عوام نے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہ کر دونوں جماعتوں کی نوٹوں کی چمک کو مسترد کر دیا: حسان خاور

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے انتہائی کم ٹرن آوٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ عوام نے ضمنی انتخاب کو مسترد کردیا ہے ٹرن آوٹ انتہائی کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    جمشید اقبال چیمہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کو میدان سے باہر کرنے پرعوام نے احتجاجاً ووٹ کاسٹ نہیں کئے ہیں بڑی سیاسی جماعت کی شمولیت کے بغیر ضمنی انتخاب کی کوئی حیثیت نہیں ہےاین اے 133 کے عوام نے دونوں جماعتوں کو مسترد کردیا ہے عوام نے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہ کر دونوں جماعتوں کی نوٹوں کی چمک کو مسترد کر دیا۔

  • غریبوں پر طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، گرفتارشدہ ملازمین کو رہا کیا جائے،  بلاول بھٹو

    غریبوں پر طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، گرفتارشدہ ملازمین کو رہا کیا جائے، بلاول بھٹو

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر تشدد کرنے اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے-

    بلاول بھٹو زرداری نے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر تشدد کرنے اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت ملازمین کے جاٸز مطالبات تسلیم کرے، گرفتار ملازمین کو رہا کیا جاٸے- پی ٹی آئی حکومت نے غریب ملازمین کے حتیٰ کہ مطالبات سننے کے بجائے ان کے خلاف طاقت کے استعمال سہارا لیا- پی پی پی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دگنا اضافہ کیا تھا- لیکن پی ٹی آئی حکومت نے سرکاری ملازمین کو مراعات دینے کے بجائے مہنگائی میں رکارڈ اضافہ کیا، معیشت کو تباہ کردیا-
    احتجاج کرنے والے ملازمین کے ساتھ ہیں، ملازمین کے جاٸز مطالبات بلا تاخیر تسلیم کیے جائیں-

  • 41 سال قبل جب بھٹو کو پھانسی دی گئی، خود نوشت نذیر لغاری

    یہ اپریل 1979 ء کی تیسری تاریخ ہے۔ مجھے صبح سویرے اُٹھ کر سندھ ہائیکورٹ پہنچنا ہے جہاں شفیع محمدی نے دوسری بار قسمت آزمائی کرنی ہے۔ قبل ازیں جب سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی اپیل کو ایک متنازع اور منقسم فیصلے کے ذریعے مسترد کرتے ہوئے تین کے مقابلے میں چار ججوں کی اکثریت سے لاہور ہائی کورٹ کے کے انتہائی متعصبانہ فیصلے کو برقراررکھا تھاتو شفیع محمدی ایڈووکیٹ نے اس فیصلے کے خلاف 21 مارچ 1979ء کو سندھ کی شریعت بنچ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس اپیل کی تیاری میں ، میں شفیع محمدی صاحب کے ساتھ ساتھ تھا۔ میں نے ادھر اُدھر کی لائبریریوں اور اردو بازار سے تاریخ طبری، تاریخ مسعودی، طبقات ابن سعد، تاریخ ابنِ خلدون، تاریخِ یعقوبی، تاریخ علامہ جلال الدین السیوطی اور دیگر تاریخی کتب کے حصول میں ان کے ساتھ ساتھ رہاتھا۔ سندھ کی شریعت بنچ کے سربراہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عبدالقادر شیخ تھے جبکہ بنچ کے دیگر دو جج جسٹس ڈاکٹر آئی محمود اور ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا تھے۔ شفیع محمدی نے اپیل کی تیاری میں حضرت علی کی شہادت کے واقعہ کو بطورنظیر پیش کیا تھا۔ نظائر کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی نظیر تھی جسے شریعت کورٹ مسترد نہیں کرسکتی تھی۔ تاریخ کے مطابق کوفہ میں حضرت علی کو شہید کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی، پھر اس سازش پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ منصوبے کے مطابق پہلے مسجدِ کوفہ کے دروازے پر حضرت علی پر وار کیا گیا جو خطا ہوا، دوسرا وار کچھ آگے بڑھنے کے بعد کیا گیا، وہ وار بھی خطا ہوگیا، تیسرا وار منصوبہ کے مطابق حضرت علی کی امامت میں نماز کی ادائیگی کے دوران کیا گیا، اس وار سے حضرت علی کو شدید زخم لگا، حضرت علی کو مسجدِ کوفہ سے ایوانِ امیرالمومنین لایا گیا۔ میں نے مسجد کوفہ میں جاکر حضرت علی کی سجدہ گاہ اور گھر کا وہ مقام دیکھا جہاں پر آپ کو لایا گیا۔ کچھ ہی دیر میں حملہ آور عبدالرحمن ابنِ ملجم کو پکڑ کر حضرت علی کے روبرو پیش کیا گیا۔ آپ کے سامنے تمام حقائق لائے گئے، ابنِ ملجم کا اعترافی بیان بھی آگیا۔ اس پر امیرالمومنین نے فیصلہ دیا کہ جن لوگوں نے قتل کی سازش تیار کی ان میں سے کسی کو کچھ نہ کہا جائے، جس شخص نے پہلا وار کیا اسے بھی کچھ نہ کہا جائے، دوسرا وار کرنے کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اب رہا، ابنِ ملجم تو اگر میں اس وار کی شدت سے بچ گیا تو میں اپنا بدلہ خود لوں گا اور اگر اس وار سے میری جان چلی جائے تو ابنِ ملجم پر ایک ہی وار کیا جائے کیونکہ اس نے مجھ پر ایک ہی وار کیا ہے۔

    تاریخ کی تمام کتابوں میں حضرت علی کے اس فیصلے کو برہانِ قاطع کی حیثیت حاصل تھی۔ اب حقیقت یہ ہے کہ احمدرضا قصوری اور محمد احمد قصوری پر حملہ کے روز بھٹو صاحب ملتان میں تھے، چنانچہ شریعت کے اعتبار سے بھٹو صاحب کو سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔صوبائی شریعت کورٹ کے تین رکنی بنچ نے شفیع محمدی کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اگلے روز کی تاریخ مقرر کردی اور ان سے معلوم کیا کہ آپ کے مقدمہ میں وکیل کون ہوگا، اس دوران شفیع محمدی سے کوئی مشورے کئے بغیر عبدالحفیظ پیرزادہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے کہ میں اس کیس میں شفیع محمدی صاحب کی طرف سے پیش ہوں گا۔ اس کے بعد کورٹ برخاست ہوگئی۔ میں اور شفیع محمدی چیف جسٹس کی کورٹ سے بارروم میں آگئے، یہاں ہمیں عبدالحفیظ پیرزادہ کا انتظار تھا تاکہ وہ آئیں اور ہم سے اس کیس سے متعلق ہماری تیاری کو ایک نظر دیکھ لیں، کیونکہ عدالت نے اگلے روز یعنی 22 مارچ 1979ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔ عبدالحفیظ پیرزادہ بارروم میں نہ آئے، ہم لگ بھگ دو گھنٹوں تک وہاں بیٹھ کر پیرزادہ کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران بار روم کا موضوع گفتگو یہی کیس تھا اور تمام وکلاء اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ اس دور کے کرمنل لاء کے سب سے بڑے ماہر عزیزاللہ شیخ کہہ رہے تھے کہ شفیع صاحب آپ نے شریعت کورٹ کا راستہ اختیار کر کے کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے، اب بھٹو صاحب کو پھانسی دینا آسان نہیں رہا۔ شفیع محمدی اور میں بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ جب بہت وقت گزر جانے کے بعد پیرزادہ نہ آئے تو میں اور شفیع صاحب سندھ مدرستہ الاسلام کے سامنے شفیع صاحب کے دفتر آگئے۔ ہمیں پیرزادہ کا رویہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اب کچھ کچھ پریشانی لاحق ہونے لگی تھی۔

    ہم دونوں شام سات بجے اُٹھ کر سن سیٹ بلیوارڈ پر واقع پیرزادہ کے گھر پر پہنچ گئے۔ وہ مختلف لوگوں سے ملاقاتوں میں مصروف تھے۔ دو گھنٹے انتظار کرانے کے بعد لگ بھگ سوا نو بجے پیرزادہ نے ہمیں شرفِ باریابی بخشا۔ ہم ملے تو بہت مطمئن نظر آئے اور کہنے لگے کہ شفیع صاحب اب تو ہمارے پاس بڑا وقت ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، ہم یہ کیس جیت لیں گے۔ ہم پیرزادہ کے گھر سے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
    اگلے روز چیف جسٹس کی کورٹ میں شریعت بنچ کیلئے تین عدالتی کرسیاں لگی ہوئی تھیں، ٹھیک نو بجے تینوں جج صاحبان چیف جسٹس کے چیمبر سے نمودار ہوئے۔ کورٹ روم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ عدالت میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ پورے ماحول پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کسی کے کھانسنے یا کھنکھارنے کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ لوگوں کے ہاتھوں میں بندھی گھڑیوں کی ٹِک ٹِک اور سینوں میں دھڑکتے دلوں کی دھک دھک کو صاف سنا جا سکتا تھا۔ سندھ شریعت کورٹ میں ایک ہی کیس لگا ہوا تھا۔ جج صاحبان اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تو چیف جسٹس عبدالقادر شیخ کی آواز نے سناٹے کا سینہ چیرتے ہوئے کہا”یس مسٹر پیرزادہ” پیرزادہ اپنی نشست پر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک تباہ کن قیامت خیز جملہ ادا کیا "My lord I withdraw my case” ان کے اس جملہ کہنے شفیع محمدی اور میں حواس باختہ ہوگئے، ہمیں اپنے کانوں اور پیرزادہ کے ادا کئے گئے جملے کا یقین نہیں آرہا تھا۔ شفیع محمدی نے سراپا سوال بن کر شفیع محمدی سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہماری ریویو پٹیشن لگی ہوئی ہے، ہمیں وہاں سے انصاف ملنے کا یقین دلایا گیا ہے۔ شفیع محمدی نے کہا سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کا ہماری شریعت کورٹ کی اپیل سے کیا تعلق ہے۔ پیرزادہ نے روکھے لہجے میں کہا آپ لوگ سپریم کورٹ کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔

    رات کو بی بی سی نے آٹھ بجے کی نشریات میں اس خبر کو شامل کیا اور سیر بین کے تبصرے میں کہا گیا کہ بھٹو کو بچانے کاآخری موقع ضائع کردیا گیا۔
    پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا، سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی نظرثانی کی اپیل مسترد کردی۔ اب شفیع صاحب اور میں دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے، دوبارہ پٹیشن تیار کی گئی اور 2 اپریل کو صوبائی شریعت کورٹ سے اس پٹیشن کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس پٹیشن کی فوری سماعت کی کیا ضرورت ہے۔ شفیع محمدی نے کہا کہ ضیاءالحق بدنیت ہے وہ بھٹو صاحب کو جلد پھانسی دے دے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نقطہ آپ نے پٹیشن میں درج نہیں کیا، شفیع صاحب نے جیب سے قلم نکالتے ہوئے کہا کہ میں اس پٹیشن میں قلم سے یہ جملہ درج کردیتا ہوں۔ چیف جسٹس عبدالقادر شیخ نے کہا کہ اب آپ یہ پٹیشن کل 3 اپریل کو دائر کیجیئے گا۔
    یہ اپریل 1978ء کی تیسری تاریخ ہے، میں صبح صبح پیراڈائز سینیما سے ہائی کورٹ کی بلڈنگ کی طرف جارہا ہوں، مجھے سامنے پاسپورٹ آفس کے قریب شفیع محمدی آتے ہوئے نظرآرہے ہیں، اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میرا دل بجھ گیا۔ میں تقریباً دوڑتے ہوئے ان کے قریب پہنچا اور پوچھا، کیا ہوا؟ شفیع محمدی نے روتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سنتے، میں نے پوچھا کہ کہتے کیاہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ جسٹس ڈاکٹر آئی محمود بیمار ہوگئے ہیں۔ لہذا شریعت بنچ ڈسچارج ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ عدالت سے کہتے ہیں کہ عدالت ہمارے خرچ پر جسٹس آئی محمود کے گھر چلے، وہاں چل کر ہم شریعت کورٹ کے روبرو استدعا کرتے ہیں۔ شفیع محمدی بولے کہ میں یہ بات کرچکا ہوں، چیف جسٹس اور جسٹس ظفر مرزا کہتے ہیں کہ جسٹس آئی محمود بات کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک بار اور چل کر بات کرتے ہیں۔
    ہم دونوں یتیموں کی طرح چیف جسٹس کے چیمبر کے سامنے پہنچے، شفیع محمدی نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو چیف جسٹس نے اُکتاہٹ سے کہا کہ شفیع صاحب آج کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم دروازے سے ہی واپس پلٹ آئے۔ ہم دوسری منزل سے گراؤنڈ فلور پر سامنے لان کی طرف چلے گئے۔ دائیں طرف بلڈنگ کے کونے پر صدیق کھرل، حسین شاہ راشدی، رخسانہ زبیری، بیگم اشرف عباسی اوریو نعمت مولوی کھڑے تھے، ہم دونوں اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب خاموش، سب ہماری ناکامی سے واقف، سب دلگرفتہ، سب مایوس، سب دلگیر۔۔۔اچانک صدیق کھرل کی آواز خاموشی کے سینے اور خود ہمارے دلوں میں خنجر بن کر اُتر گئی۔ "کل ڈیڈ باڈی آرہی ہے” میرے اور شفیع محمدی کے مشترکہ دوست خان رضوانی کی اپنے ذرائع سے یہ قیامت خیز خبر چھپ چکی تھی۔ ہم سب نے بیگم اشرف عباسی سے کہا کہ آپ پیرزادہ سے رابطہ کرکے اصل صورتحال معلوم کریں، رات کو بارہ بجے کے بعد بیگم اشرف عباسی کا حفیظ پیرزادہ سے رابطہ ہوا، پیرزادہ نشے میں تھا، اس نے بیگم اشرف عباسی سے کہا” ڈارلنگ کل تم ایک خوشخبری سنو گی”
    اس رات کو گزرے 41 سال گزر چکے ہیں، میں رات کے اس تیسرے پہر 41 سال پرانے وقت میں جا چکا ہوں، بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان کی میت رات کی تاریکی میں اسلام آباد ائیر پورٹ لائی جاچکی ہے۔ پیرزادہ سو چکا ہوگا، میں اپنے گھر میں جاگ رہا ہوں۔ قمر عالم شامی میرے گھر میرے برابر ایک چارپائی سورہا ہے، نرسری میں میری بہنوں سے بھی زیادہ عزیز بہنوں شاہدہ اور زبیدہ نے شامی کو میرے ساتھ بھیج

    دیا تھا۔ آج کی رات بہت بھاری تھی، اس رات میرے ساتھ کوئی توہو جو مجھے سہارا دے سکے۔ 41 سال گزر گئے، یہ رات آج بھی بھاری ہے۔

    نذیر لغاری

  • احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان

    احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان

    وہ ایک جاگیردار اور جاگیردار کا بیٹا تھا۔ شنید ہے بچپن میں کبھی کسی فلم یا ڈرامے کا کردار بھی بنا اور لڑکپن میں سینما ہال کے باہر ٹکٹیں بھی بلیک میں فروخت کیں۔ جوانی میں قدم رکھا تو اس وقت کے سب سے بڑے پاکستانی سیاستدان (ذوالفقار علی بھٹو) کی بیٹی (محترمہ بینظیر بھٹو) کو اُچک لیا۔ کچھ لوگ اسے ڈاکو بھی کہتے ہیں اس بات میں تو سچائی کا علم نہیں البتہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی ہی اہلیہ کے دور حکومت میں ایام زندگی جیل کی کال کوٹھری میں گزارے۔ جس کا دو مرتبہ کی منتخب وزیراعظم (بینظیر بھٹو) اور ملک کی اہم سیاسی جماعت کی سربراہ کا شوہر ہونے کے باوجود کوئی سیاسی کردار نہیں تھا۔ مرحومہ جب جلاوطنی کی زندگی گزار کر واپس آ رہی تھی اور کراچی میں آمد کے ساتھ ہی محترمہ پر خود کش حملہ ہوا جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں گئیں۔ اور پھر خطرے کو دیکھنے کے باوجود مرحومہ نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی یہاں تک کہ راولپنڈی میں ایک اور مہلک حملہ ہوا اور محترمہ اس حملہ میں جاں بحق ہو گئیں تو یہ شخص باہر بیٹھ کر سب کچھ (پلاننگ) دیکھ رہا تھا۔ لوگ جس شخص کو قاتل سمجھ رہے تھے وہ شخص محترمہ بینظیر بھٹو کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ ہی ٹسوے بہاتے ہوئے وطن واپس آ پہنچا اور ساتھ ہی ایک خفیہ خط نکال لایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ میرے بعد آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ 2007 کے عام انتخابات میں بینظیر بھٹو کے نام پر پڑنے والے ووٹ کا خوب فائدہ اٹھایا گیا ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد محترمہ کے قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے کمال چالاکی سے محترمہ کے معتمد ساتھیوں کو بطور خاص ٹھکانے لگا دیا گیا۔ شدید مخالف حزب اختلاف کو بھی خوب مہارت سے ڈیل کیا۔ جو جس پر خوش ہوا اسے اس ضمانت پر دے دیا گیا کہ میری کرسی کو کوئی گرزند نہ پہنچ پاۓ۔ اس تمام عرصہ میں کرپشن اور بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، ملکی شرح نمو زوال پذیر ہوئی، برآمدات و درآمدات میں وسیع خلیج پیدا ہونے کے باعث ڈالر کو پر لگ گئے، قومی اداروں کو خوب نقصان پہنچایا گیا ریلوے، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل مل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں، عدلیہ سے پنگے بازی اور فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے، حسین حقانی جیسے غدار کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا اور میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا، سیاست پوری طرح کاروبار کی شکل اختیار کر گئی مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بچہ بچہ واقف ہوا اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی اور زرداری صاحب کا مشہور زمانہ قول "جمہوریت بہترین انتقام ہے” واقعی ریاست اور عوام سے انتقام لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگلی حکومت "ن” لیگ کی آئی تو مسٹر ٹین پرسنٹ نے بظاہر اپنے حریف کے ہر مشکل وقت میں (اندر خانے) خوب یاری نبھائی۔ ہر بار میثاق جمہوریت کا راگ الاپا، وقتاً فوقتاً سندھ کارڈ بھی کھیلا۔ ایان علی، منی لانڈرنگ، فالودے اور سبزی والوں کے ناموں پر کروڑوں اربوں روپوں کی ٹرانزکشن سمیت سینکڑوں بے نامی اور فیک بینک اکاؤنٹ ظاہر ہونے کے بعد جب متعلقہ حکام نے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا تو یہی صاحب دھمکیاں دینے پر آ گئے۔ کبھی فوج اور عدالتوں کو بڑھکیں لگائی کہ "وہ تین سال کے لیے آتے ہیں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے” اور کبھی "میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا” جیسے جملے کسے۔ وفاقی احتساب کے ادارے نیب کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا! "چیرمین نیب کی کیا حیثیت ہے اسکی کیا مجال ہے جو میرے اوپر کیسس بنواۓ”
    پھر یوں گویا ہوئے کہ نیب کو میں تھکا دوں گا۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
    بار بار ضمانتیں ہوتی رہی اور آج جب ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تو پھر پوری دنیا نے زرداری کو بھیگی بلی بنا دیکھا۔ گرفتاری کی ویڈیو دیکھ کر بلاول کی ہنسی بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے۔ شائد اپنی والدہ کے قاتل پکڑے جانے کی خوشی ہو واللہ اعلم
    نواز شریف اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے اب زرداری صاحب بھی جیل روانہ ہو چکے ہیں جو شاید میاں صاحب کی تنہائی کے ساتھی بنیں گے۔ بار بار کمینی مسکراہٹ کے ساتھ گیارہ سال جیل میں گزارنے کو بطور فخریہ بتانے اور پھر اس بات پر اترانے والوں کے جیالوں کو سوچنا چاہئے کہ جیلوں سے عزت دار لوگ ڈرتے ہیں چوروں ڈاکوؤں کو اس کی عادت ہوتی ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اصل امتحان اب عوام کا بھی ہے کہ وہ ان چوروں ڈاکوؤں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہ بنیں۔ احتسابی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلا تفریق احتساب کا عمل اب رکنا نہیں چاہیے۔