Baaghi TV

Tag: پی پی پی

  • پی ٹی آئی کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس چھپانے کا دعویٰ

    پی ٹی آئی کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس چھپانے کا دعویٰ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اقتصادی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس کے بارے مفصل رپورٹ تیار کی ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے کے مطابق 28 صفحات پر مشتمل مرتب کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے 9 خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے کروڑوں روپے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے چھپائےاور استفسار پر صرف 2 ظاہر کیے گئے مسلم لیگ (ن) 62 کروڑ 98 لاکھ سے زائد رقم اور عطیات کی مد میں 45 کروڑ 61 لاکھ کا ریکارڈ دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ن لیگ کو مختلف ڈونرز سے 27 کروڑ کی مشتبہ ٹرانزیکشنز موصول ہوئیں، محمد حنیف نامی ڈونر کے ذریعے ساڑھے چار کروڑ کی ٹرانزیکشنز ہوئیں بھاون داس کے ذریعے 3 کروڑ، حاجی عارف کے ذریعے 3 کروڑ، یوسف عباس شریف کے ذریعے 6 کروڑ جبکہ چوہدری تنویر کے ذریعے 10 کروڑ کی مشتبہ ٹرانزیکشنز ہوئیں اور تمام مشکوک ٹرانزیکشنز حبیب بینک کے ایک ہی اکاؤنٹ میں ہوئیں۔

    جب تک ٹیکس ریونیواکٹھا نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرسکتا،شوکت ترین

    نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کے مطابق پی ٹی آئی کی فنانشل ٹیم نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اراکین صوبائی اسمبلی سے 82 لاکھ روپے کے فنڈز لیے مگر مسلم لیگ (ن) نے بینک ریکارڈ ظاہر نہ کئے۔

    جسٹس عائشہ ملک کی تقرری، پاکستان بار کونسل کا عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

    پی ٹی آئی کے اقتصادی ماہرین کے مطابق پیپلز پارٹی نے 2013 میں 9، 2014 میں 11 اور 2015 میں 10 اکاؤنٹس ای سی پی سے خفیہ رکھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کو عطیات، پارٹی فنڈز، پارٹی ٹکٹس، ممبر شپ فیس سمیت دیگر مد میں کل 63 کروڑ 91 لاکھ روپے وصول کیے۔

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 2013 میں 12 میں سے 9 اکاؤنٹس کے ذریعے 14 کروڑ سے زائد رقم چھپائی جبکہ 2014 میں 11 خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے 15 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز ظاہر نہیں کیے گئے 2015 میں 10 اکاؤنٹس کو خفیہ رکھا اور 4 کروڑ روپے کے فنڈز ظاہر نہیں کیے اس طرح مجموعی طور پر 34 کروڑ 29 لاکھ 53 ہزار سے زائد کی رقوم کو پیپلز پارٹی نے ای سی پی سے چھپائی۔

    نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ رپورٹ آئندہ روز (4 جنوری) کو الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کرائی جائے گی اور الیکشن کمیشن سے تمام ریکارڈز کا جائزہ لے کر اپنی حتمی رپورٹ جاری کرنے کی درخواست کی جائے گی الیکشن کمیشن کو درخواست کی جائے گی کہ فارن فنڈنگ کیسز سے متعلق تمام کیسز کو ایک ساتھ سنا جائے اور آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق مساوی سلوک کیا جائے۔

    جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ کاانکشاف، ایڈووکیٹ صفدر شاہین کے خلاف مقدمہ درج

  • کیا ن لیگ کوواقعی پاکستان مخالف قوتوں نے پارٹی فنڈنگ کی؟فارن فنڈنگ کیس:بڑے انکشافات

    کیا ن لیگ کوواقعی پاکستان مخالف قوتوں نے پارٹی فنڈنگ کی؟فارن فنڈنگ کیس:بڑے انکشافات

    اسلام آباد: کیا ن لیگ کوواقعی پاکستان مخالف قوتوں نے پارٹی فنڈنگ کی؟فارن فنڈنگ کیس:بڑے انکشافات ،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن میں جاری فارن فنڈنگ کیس میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس کروڑوں کے عطیات کی رسیدیں نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیس کے معاملے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی فنڈنگ کے حوالے سے نیا پنڈورا باکس کھلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی، ن لیگ کی الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ تفصیلات میں کئی انکشافات ہوئے ہیں، اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعتراضات سامنے آ گئے ہیں، پی ٹی آئی آئندہ ہفتے یہ اعتراضات اسکروٹنی کمیٹی کو جمع کرائے گی۔

    ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ اور پی پی کے پاس کروڑوں روپے مالیت کے عطیات کی رسیدیں نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، کس نے چندہ اور کس نے امداد دی، اس سلسلے میں بڑی اہم رقوم کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

    ذرائع کے مطابق ن لیگ کے 9 اکاؤنٹس میں سے 7 اکاؤنٹس کی بینک اسٹیٹمنٹ نہیں دی گئی ہے، پی ٹی آئی آڈیٹرز نے اس سلسلے میں 2013 سے 15 تک ن لیگ کے مبینہ 7 اکاؤنٹس کی نشان دہی کر دی ہے جو الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے ، ان میں سے 5 اکاؤنٹ پنجاب، کے پی اور سندھ میں چل رہے تھے۔

    اعتراضات پر مبنی پی ٹی آئی کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ن لیگ مبینہ طور پر 45 کروڑ سے زائد کا حساب دینے میں ناکام رہی ہے، اور صرف 2 فی صد کا مسلم لیگ ن ریکارڈ پیش کر سکی ہے، پارٹی ٹکٹ کی مد میں ساڑھے 16 کروڑ کا ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق حنیف خان کے نام سے 45 کروڑ، بھون داس کے 3 کروڑ کا ریکارڈ پیش نہیں ہوا، ن لیگ کو 2013 سے 15 کے 3 سال میں 46 کروڑ کے عطیات آئے، ایک کروڑ 65 لاکھ کے اخراجات کا کوئی حساب نہ دیا جا سکا۔

    اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی اور پی پی پارلیمنٹیرین کے ایک دوسرے کو رقوم منتقل کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی پی پارلیمٹیرین نے 10 کروڑ کے قریب پی پی کو خلاف ضابطہ دیے۔پیپلز پارٹی کا 45 کروڑ عطیات کا تصدیق شدہ ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، جب کہ 10 اکاؤنٹس کی پیپلز پارٹی نے بینک اسٹیٹمنٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی۔

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ن لیگ کی پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کی مہم اصل میں اپنے خفیہ فنڈز سے توجہ ہٹانے کا ایک منصوبہ تھے جو آج بہت سے نئے الزامات کے ساتھ خود ن لیگ کے گلے کی ہڈی بن گیا

  • مقدس ایوان کے مہذب رویے:شگفتہ جمانی نے غزالہ سیفی کو تھپڑ ماردیا:یہ ہےجمہوریت کا حُسن

    مقدس ایوان کے مہذب رویے:شگفتہ جمانی نے غزالہ سیفی کو تھپڑ ماردیا:یہ ہےجمہوریت کا حُسن

    اسلام آباد:مقدس ایوان کے مہذب رویے:شگفتہ جمانی نے غزالہ سیفی کو تھپڑ ماردیا:یہ ہےجمہوریت کا حُسن ،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں منی بجٹ کے حوالے سے جاری اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن شگفتہ جمانی نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی غزالہ سیفی کو تھپڑ ماردیا۔

    قومی اسمبلی ذرائع کے مطابق آج بل پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے اور شدید احتجاج کیا۔

    اپوزیشن ارکان نے مہنگائی کیخلاف نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اسی ہنگامہ آرائی کے دوران قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے حکومتی جماعت تحریک انصاف کی رکن غزالہ سیفی کو تھپڑ دے مارا۔

    واقعے کے بعد تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی ایوان سے باہر آگئیں اور اس دوران انہوں نے بتایا کہ میرا ہاتھ مروڑا گیا ہے، انگلی فریکچر ہوگئی ہے۔غزالہ سیفی نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی سے گاہے گاہے پوچھ لینا چاہیے کہ انہوں نے کہاں تعلیم حاصل کی ہے؟

    تحریک انصاف کی رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ وہ ہسپتال آئی ہیں جہاں ڈاکٹرز نے کہہ دیا ہے کہ ان کی انگلی میں فریکچر ہے، ان کا ایکسرے ہونا ابھی باقی ہے۔ اس واقعے کیخلاف درخواست دوں گی۔

    دوسری طرف میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شگفتہ جمانی نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر احتجاج کر رہے تھے،غزالہ سیفی نے آکر بینر پھاڑا اور تھپڑ مارا، شروعات غزالہ سیفی نے کی۔ تیاری کے ساتھ تھپڑ مارتی تو غزالہ سیفی اٹھ بھی نہیں سکتی تھیں،

  • پیپلزپارٹی ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں کرتی،جیالے تیاری پکڑیں، کٹھ پتلی کے خلاف اب وار کا وقت آگیا ہے،بلاول بھٹو

    پیپلزپارٹی ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں کرتی،جیالے تیاری پکڑیں، کٹھ پتلی کے خلاف اب وار کا وقت آگیا ہے،بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ غریب عوام لاوارث ہیں، عوام سلیکٹڈ راج بھگت رہے ہیں اور اس نااہل کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جیالے تیاری پکڑیں، کٹھ پتلی کے خلاف اب وار کرنے اور اعلان کرنے کا وقت آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بے نظیر بھٹو کی 14ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید بی بی آپ کا پاکستان مشکل میں ہے، آپ کے پاکستان میں جمہوریت نام کی ہے، یہاں نہ بولنے کی نہ سانس لینے کی آزادی ہے، آپ کے غریب عوام لاوارث ہیں، عوام سلیکٹڈ راج بھگت رہے ہیں اور اس نااہل کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

    بینظیر بھٹو کی برسی،تیاریاں آخری مراحل میں داخل، مریم نواز شریک ہوں گی یا نہیں؟

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    مولانا فضل الرحمان کواب اپنے حلوے کا بھی حساب دینا ہو گا،فارن فنڈنگ کیس میں نئی پیشرفت

    ،نوازشریف بتائیں اسامہ سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں اور کتنا چندہ کیوں لیا،

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے کہا تھا جمہوریت بہترین انتقام ہے، ہم نے پارلیمنٹ کو تمام اختیارات دیئے، لیکن جمہوریت پر حملے ہوتے رہے اور نقصان پہنچتا رہا، کبھی آراو الیکشن تو کبھی آر ٹی ایس کا الیکشن، عوام کے ووٹ پر ڈاکا مارا گیا،جمہوریت چھینی گئی، الیکشن پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے کبھی کسی چوہدری کو استعمال کیا گیا کبھی کسی نثار کو، پیپلزپارٹی ڈیل کی سیاست پر یقین نہیں کرتی، جبکہ موجودہ حکمران ، صدر،وزیراعظم دہشتگردوں سے ڈیل کیلئے بھیک مانگ رہے ہیں، دہشت گردوں نے انہیں جواب دیدیا ہے۔

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ڈیل ڈیل کی باتیں کرنے والے27دسمبر2007کو بھی یہی باتیں کررہے تھے، پیپلزپارٹی کسی بھی صورت ان پر یقین نہیں رکھتی، پی پی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے،غیر جمہوری رویہ نہیں اپنا سکتی، سندھ سے لے کر کشمیر تک پارٹی کارکنوں سے ملاقات کریں گے، صوبائی صدور کو ہدایت کرتاہوں تیارپکڑلیں، کٹھ پتلی نے ضمنی، بلدیاتی الیکشن سب میں شکست کھائی، آپ کے شانہ بشانہ جدوجہد کریں گے، اگلا الیکشن ہمارا ہے، وزیراعظم پی پی کا ہوگا۔

    بینظیر نے اپنی کتاب میں لکھا نواز شریف نے اسامہ بن لادن سے پیسے لیے،فرخ حبیب

    بلاول نے کہا کہ جیالے تیاری کریں، کٹھ پتلی کے جانے میں دیر نہیں ہے، اس کٹھ پتلی کے خلاف اب وار کرنے اور اعلان کرنے کا وقت آگیا ہے، پیپلزپارٹی کی سی ای سی کا اجلاس 5 جنوری کو لاہور میں ہوگا، لاہور کو ہم اپنا بیس کیمپ بنائیں گے، اس حکومت کے خاتمے کی کہانی اس شہر سے شروع ہوگی جہاں سے پی پی کی بنیاد رکھی گئی تھی، کٹھ پتلی کا جانا دیوار پر لکھا جاچکا، ہر کسی کی یہی آواز ہے کٹھ پتلی کو جانا ہوگا۔

    بلاول نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو استعفے دینے اور الیکشن نہ لڑنے کے حق میں تھے، وہ بھی الیکشن کے مزے لوٹ رہے ہیں اور مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔

    بینظیر کا قتل پوری قوم کو قتل کرنے کی سازش تھی،بلاول

    واضح رہے کہ بے نطیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں جنہیں 27 دسمر 2007 کو لیاقت باغ میں جلسے کے بعد جلسہ گاہ سے باہرنکلتے ہوئے بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا تھا .بے نظیر کی شہادت کے بعد ہونیوالے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تھی اور آصف زرداری صدر پاکستان بنے تھے. پیپلزپارٹی نے حکومت بنانے کے بعد بے نظیر قتل کی تحقیقات اپنے پرانے مطالبے کے مطابق اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے درخواست دی جو اس نے قبول کر لی تھی۔ آصف علی زرداری نے بے نظیر کے قتل کی پہلی برسی پر دعویٰ کیا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ قاتل کون ہیں۔ لیکن صدر مملکت بن جانے کے بعد قتل کی دوسری برسی پر اپنی تقریر میں اس حوالہ سے کچھ نہیں کہا .

    انسدا دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے 9 سال8ماہ بعد بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا .عدالت کے جج اصغر خان نے فیصلہ سناتے ہوئے پولیس افسران ، سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی سٹی خرم شہزاد کو مجموعی طور پر17، 17سال قید ، پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے5 ملزمان بری کردیے تھے-

    ملک کی آزادی، خودداری اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے، آصف زرداری

  • پاکستان کی ترقی کیلئے بھرپور کردار ادا کیا زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ،آصف علی زرداری

    پاکستان کی ترقی کیلئے بھرپور کردار ادا کیا زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ،آصف علی زرداری

    نواب شاہ: سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہمیں انجنیئرڈ الیکشن میں پھنسا کراپنوں کو لایا گیا تو میں نے ان کو کہا اب ان کو چلا کر دکھاؤ۔

    باغی ٹی وی :زرداری ہاؤس نوابشاہ میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان آصف زرداری نے کہا کہ جب خیبر پختونخوا کا نام رکھا تو اسفندیار ولی جیسا دلیر شخص رو پڑا۔

    کابینہ اجلاس اندرونی کہانی،وزیراعظم نے بڑا فیصلہ کرلیا

    انہوں نے پارٹی کارکنان کو سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے منشور میں کبھی جھوٹے وعدے نہیں کیے اور ہر زخم پر مرہم رکھے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملکی ترقی کے لیے آگے بڑھ کر کام کیا پاکستان کو آگے لے کر جانے کے لیے پیپلزپارٹی نے بھرپور کردار ادا کیا زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔

    لاہورقلندرزاوریارکشائرکاؤنٹی کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ:پاکستان کرکٹ پھلنے پھولنے لگی

    اس سے قبل بھی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پارٹی کارکنان کو سرمایہ و طاقت قرار دیا تھا واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ بلاول بھٹو پاکستان پیپلزپارٹی کے اگلے وزیراعظم ہوں گے ہم سب مل کر اس حکومت کو گھر بھیجیں گے پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں کہ ان سے حکومت نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے جس سے غریب آدمی پریشان ہے۔

    قلات میں اومی کرون کے 30 مشتبہ مریضوں کا انکشاف

    آصف زرداری نے کہا تھا کہ وفاق کے سندھ کے ساتھ مسائل چل رہے ہیں مسائل چلتے رہتے ہیں لیکن ہمارا قافلہ نہیں رکے گا ملک کے حالات بہت نازک دور سے گزر رہے ہیں پیپلزپارٹی کے پاس قیادت موجود ہے جو پاکستان چلائے گی تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کے حالات خراب کردیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت غریب عوام سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم اس ملک کو چلا بھی سکتے ہیں اور بنا بھی سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن ہی کہہ دیا تھا حکومت ان لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے۔

  • لیگی رہنماؤں کے بیانات نے ن لیگ میں تقسیم کو مزید واضح کردیا،فواد چوہدری

    لیگی رہنماؤں کے بیانات نے ن لیگ میں تقسیم کو مزید واضح کردیا،فواد چوہدری

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ‏شاہد خاقان اور محمد زبیر کے بیانات نے (ن) لیگ میں تقسیم کو مزید واضح کردیا ہے، پیپلز پارٹی کو بھی آصف زرداری سے آگے نکلنا چاہیے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ‏شاہد خاقان اور محمد زبیر کے بیانات نے (ن) لیگ کے اندر کی تقسیم کو مزید واضح کردیا ہے، (ن) لیگ میں اب نئی قیادت سامنے آجائے گی جو اچھی بات ہے تاہم پیپلز پارٹی کو بھی آصف زرداری سے آگے نکلنا چاہیے، ان خاندانوں نے ملک کی تباہی نکال دی اور اب کرما دیکھ رہے ہیں۔

    ن لیگ،پی پی اور جے یو آئی ف سمیت سیاسی جماعتوں کےکھاتے کھلنے چاہئیں:فواد چودھری

    فواد چوہدری نے کہا کہ ‏اس مہینے خیبرپختونخوا اور اگلے چند ماہ میں پنجاب میں طاقتور مقامی حکومتوں کے انتخابات حکومت کا اعتماد ظاہر کرتے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے پی میں امیدوار بھی کھڑے نہیں کرسکے یہی حالت پنجاب میں ہوگی۔

    بہت جلد پنجاب میں کھویا ہوا مقام حاصل کرلیں گے:ن لیگ عملا ختم ہوچکی:بلاول بھٹو

    واضح رہے کہ ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف مسلم لیگ ن کے صدر ہیں اور وہی وزیراعظم کے لیے ہمارے امیدوار ہوں گےمریم نواز وزارت عظمیٰ کی امیدوار نہیں، وہ الیکشن لڑنے کی اہل نہیں الیکشن جب بھی ہوں ہمارے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف ہوں گے۔

    وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف یا مریم نواز؟ شاہد خاقان عباسی نے بتا دیا

    شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ جو پارٹی کا صدر ہوتا ہے وہ وزیراعظم بنتا ہے،شہباز شریف پارٹی صدر ہیں اور وہی ہمارے امیدوار ہوں گے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی سیاسی جماعت نہیں بلکہ وڈیروں کا گینگ ہے ،عامر خان

  • اپوزیشن دیکھتی رہ گئی : سندھ لوکل گورنمنٹ پی پی نے اپنی خواہشات کے مطابق منظورکروا لیا

    اپوزیشن دیکھتی رہ گئی : سندھ لوکل گورنمنٹ پی پی نے اپنی خواہشات کے مطابق منظورکروا لیا

    کراچی :اپوزیشن دیکھتی رہ گئی : سندھ لوکل گورنمنٹ پی پی نے اپنی خواہشات کے مطابق منظورکروا لیا،اطلاعات کے مطابق سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ نئی ترامیم کےساتھ سندھ اسمبلی سے منظور ہوگیا، بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابا اور احتجاج کیا۔

    اپوزیشن ارکان نے ایوان سر پر اُٹھالیا، اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کی، حکومت مخالف بینرز اُٹھائے، نعرے لگائےاور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں، معاملہ تلخ کلامی اور گالم گلوچ سے آگے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ احتجاج کرنے والوں پر ناراض، بولے، وفاق میں تو جاہل حکومت ہے ہی مگر بدقسمتی سے سندھ میں بھی اَن پڑھ اپوزیشن آگئی، بلدیاتی ایکٹ میں اپوزیشن کی دونوں ترامیم شامل کی گئی ہیں، ترمیم شدہ ایکٹ منظوری کیلئے دوبارہ گورنر کو بھجوائیں گے۔

    بلدیاتی ایکٹ کے مطابق میئر کا الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے ہو گا اور منتخب ارکان ہی میئر کا الیکشن لڑ سکیں گے۔ میئر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا شریک چیئرمین اور سالڈ ویسٹ کا چیئرمین ہو گا۔

    اپوزیشن ارکارن نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی اراکین آمنے سامنے آگئے، ایک دوسرے کو دھکے دیے۔

    پیپلزپارٹی اوراپوزیشن اراکین کےدرمیان نامناسب جملوں کاتبادلہ بھی ہوا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بل عوام کی امنگوں کے مطابق ہے، سندھ کے شہری علاقوں میں ٹاؤن سسٹم لایا جائے گا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں پاکستان کاحصہ سمجھو، ایسے حالات پیدا نہ کرو کہ ہم کچھ اور سوچیں۔مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں اور وفاقی حکومت پر بھی شدید تنقید کی۔

    سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بلال غفار نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ایک اور سیاہ دن اور سویلین ڈکٹیٹر شپ ہے۔ حکومت نے سندھ پر قبضے کا قانون منظور کیا اور ہمیں بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

    ایم کیو ایم کے رکن کنور نوید جمیل نے کہا کہ سندھ حکومت نے آمدنی والے ادارے اپنے پاس رکھ لیے۔ بلدیاتی اداروں کے اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی قومیا لیا ہے۔ یہ کرپشن کا قانون لائے ہیں جس پر اپوزیشن کو بات تک نہیں کرنے دی گئی۔

    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رکن عارف مصطفیٰ جتوئی نے کہا کہ پیپلز پارٹی مشرف کے نظام کو ظلم کا نظام قرار دیتی تھی اور خود بھی وہی نظام لانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

    ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے کہا کہ اپوزیشن کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں ان کی ڈکٹیٹر شپ اور بلدیاتی اداروں کے وسائل پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔

  • این اے 133: ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے    فواد چوہدری

    این اے 133: ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے فواد چوہدری

    لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی انتخاب پر وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کی شرح انتہائی کم رہی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے تمام ترپروپیگنڈے کے باوجود تحریک انصاف ہی میدان کی اصل کھلاڑی ہے اور پی ٹی آئی کے بغیرمیدان ویران ہے۔


    شہباز شریف نے این اے 133 لاہور میں کامیابی پر عوام کے مشکور:

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے این اے 133 لاہور میں کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 لاہور کے ضمنی الیکشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی نشست دوبارہ حاصل کرلی ضمنی الیکشن میں کامیابی پر شہباز شریف نے مرحوم پرویز ملک کی نشست پر اُن کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک کی کامیابی پر عوام اور پارٹی رہنماؤں کو مبارکباد دی اور ن لیگ کی قیادت پر ایک بار پھر اعتماد پر عوام سے اظہار تشکر کیا ہے۔

    این اے 133 لاہور کا ضمنی انتخاب مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز نے جیت لیا:

    این اے 133 لاہور کے تمام پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیاضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز ملک نے 46811 ووٹ لیے جبکہ پیپلز پارٹی کے اسلم گل 32313 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

    این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں ووٹنگ کی شرح کم رہنے کے باعث نتائج کا اعلان جلد متوقع ہے، بیشتر علاقوں میں ووٹرز کا جوش و خروش دکھائی نہ دیا، ووٹرز کی تعداد نہایت کم رہی نواحی علاقوں میں صورت حال نسبتاً بہتر رہی، مریم کالونی میں ن لیگ اور پی پی کے کارکنوں کا آمنا سامنا ہوا، دونوں پارٹیوں کے کارکنان کے درمیان دھکم پیل اور تلخ کلامی بھی ہوئی۔

    قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 میں ضمنی الیکشن میں 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، کئی پولنگ اسٹیشنز پر مرد، خواتین، بوڑھے اور جوان ووٹرز کا رش نظر آیا 254 پولنگ اسٹیشنز میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 اور سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن ٹاؤن شپ میں مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پہلا ووٹ کاسٹ ہوا ٹاؤن شپ کے اس پولنگ اسٹیشن میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1550 ہے

    این اے 133 میں ضمنی الیکشن میں 2 ووٹرز دولہا بن کر ووٹ ڈالنے پہنچے تھےلاہور کے ضمنی انتخاب میں روایتی رنگ نظر نہ آئے تو 2 ووٹرز رنگ لگانے کے لیے دولہے بن کر ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئے دولہا بنے ووٹرز نے پولنگ اسٹیشن پر خوب رنگ جمایا اور اپنا ووٹ بھی کاسٹ کیا۔

    ا ین اے 133 الیکشن میں تکنیکی وجہ سے باہر ہوجانا قابل افسوس ہے:سینیٹر فیصل جاوید خان

    اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سینیٹر فیصل جاوید خان کا کہنا تھا کہ این اے 133 الیکشن میں پی ٹی آئی ہوتی تو پولنگ اسٹیشنز پر لوگوں کا ہجوم نظر آتا سوشل میڈیا پر بیان جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ا ین اے 133 الیکشن میں تکنیکی وجہ سے باہر ہوجانا قابل افسوس ہے تحریک انصاف کے کارکنان کا جوش وخروش ہمیشہ قابل ستائش ہوتا ہے این اے 133 الیکشن کی پولنگ میں عوام کی کم دلچسپی سے نون اور پی پی کی صورتحال آشکار ہے۔

    ٹرن آوٹ کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا:حسان خاور

    دوسری جانب حکومت پنجاب کے ترجمان حسان خاور نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن سے عوام کی لاتعلقی اپوزیشن کی احتجاج کی سیاست میں آخری کیل ہےحسان خاور نے کہا ہے کہ ووٹنگ ٹرن آوٹ ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی آئندہ الیکشن میں کلین سوئپ کرے گی ضمنی الیکشن سے عوام کی لاتعلقی اپوزیشن کی احتجاج کی سیاست میں آخری کیل ہے اپوزیشن اب بھی ہوش کے ناخن لے اور احتجاج کی سیاست سے باز آجائے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان حسان خاورنے کہا کہ ٹرن آوٹ کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا عوام نے ووٹ نہ ڈال کر ثابت کر دیا کہ اپوزیشن اب ووٹ کو ترسے گی حسان خاور نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف انتخاب سے آوٹ ہوکر بھی الیکشن جیت گئی ہے۔

    حسان خاور نے کہا کہ پی ٹی آئی کو میدان سے باہر کرنے پر عوام نے احتجاجاً ووٹ کاسٹ نہیں کیے اورتحریک انصاف کے ووٹرز نے اپوزیشن کو سرخ جھنڈی دکھا دی ترجمان پنجاب حکومت نے استفسار کیا کہ جو اپوزیشن ووٹرز کو گھروں سے نہ نکال سکی وہ احتجاج کے لیے عوام کو کیسے نکالے گی؟

    اس سے قبل پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا تھا کہ آج نوٹوں کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے، این اے 133 میں آج جو بھی جیتے عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں این اے 133 میں انتخاب کا پوسٹ مارٹم پہلے ہی ہو چکا، ٹھپہ مافیا کے ماسٹر مائنڈ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے دھاندلی کے پرانے طریقے اب نہیں چلیں گے، آئندہ انتخابات الیکشن اصلاحات کا ٹرائل ہوں گےتحریک انصاف مدمقابل نہ ہونے کے باوجود نون لیگ اور پیپلز پارٹی خوفزدہ ہیں۔

    ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز ملک کو برتری حاصل،ووٹوں کی گنتی جاری:

    این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز ملک کو برتری حاصل ہےاین اے 133 میں صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک بنا کسی وقفے کے جاری رہی اس وقت پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے جس کے تحت ن لیگی امیدوار کو برتری حاصل ہے۔


    254 میں سے 132 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کی شائستہ پرویز 20 ہزار 968 ووٹ لے کر آگے ہیں غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل 13 ہزار 915 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔


    واضح رہے کہ این اے 133 لاہور کی نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی جبکہ این اے 133 پر جمشید چیمہ اور ان کی اہلیہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد حلقے میں پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ کا عمل ختم ہو چکا اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    الیکشن کمیشن کے طریقہ کار کے تحت حلقہ این اے 133 لاہورمیں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ شام 5 بجے تک بنا کسی بھی وقفے کے جاری رہی اعداد و شمار کے مطابق ضمنی انتخاب میں حلقے کے 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے این اے 133 میں 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے ہیں۔ ان میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 جب کہ سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں مرد و خواتین کے لیے علیحٰدہ علیحٰدہ 200 جب کہ مخلوط 54 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں ضمنی انتخاب کے لیے 11 امیدوار میدان میں ہیں۔ نشست کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست این اے133 پرویز ملک کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی این اے 133 میں ضمنی انتخابات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں 6 ایس پیز اور 14 ایس ڈی پی اوز اس ضمن میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    الیکشن کے دوران 44 ایس ایچ اوز، 52 ڈولفن و پیرو اور 7 کوئیک ریسپانس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد افسران و اہل کار تعینات ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔

    عوام نے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہ کر دونوں جماعتوں کی نوٹوں کی چمک کو مسترد کر دیا: حسان خاور

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے انتہائی کم ٹرن آوٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ عوام نے ضمنی انتخاب کو مسترد کردیا ہے ٹرن آوٹ انتہائی کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    جمشید اقبال چیمہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کو میدان سے باہر کرنے پرعوام نے احتجاجاً ووٹ کاسٹ نہیں کئے ہیں بڑی سیاسی جماعت کی شمولیت کے بغیر ضمنی انتخاب کی کوئی حیثیت نہیں ہےاین اے 133 کے عوام نے دونوں جماعتوں کو مسترد کردیا ہے عوام نے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہ کر دونوں جماعتوں کی نوٹوں کی چمک کو مسترد کر دیا۔

  • غریبوں پر طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، گرفتارشدہ ملازمین کو رہا کیا جائے،  بلاول بھٹو

    غریبوں پر طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، گرفتارشدہ ملازمین کو رہا کیا جائے، بلاول بھٹو

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر تشدد کرنے اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے-

    بلاول بھٹو زرداری نے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر تشدد کرنے اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت ملازمین کے جاٸز مطالبات تسلیم کرے، گرفتار ملازمین کو رہا کیا جاٸے- پی ٹی آئی حکومت نے غریب ملازمین کے حتیٰ کہ مطالبات سننے کے بجائے ان کے خلاف طاقت کے استعمال سہارا لیا- پی پی پی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دگنا اضافہ کیا تھا- لیکن پی ٹی آئی حکومت نے سرکاری ملازمین کو مراعات دینے کے بجائے مہنگائی میں رکارڈ اضافہ کیا، معیشت کو تباہ کردیا-
    احتجاج کرنے والے ملازمین کے ساتھ ہیں، ملازمین کے جاٸز مطالبات بلا تاخیر تسلیم کیے جائیں-

  • 41 سال قبل جب بھٹو کو پھانسی دی گئی، خود نوشت نذیر لغاری

    یہ اپریل 1979 ء کی تیسری تاریخ ہے۔ مجھے صبح سویرے اُٹھ کر سندھ ہائیکورٹ پہنچنا ہے جہاں شفیع محمدی نے دوسری بار قسمت آزمائی کرنی ہے۔ قبل ازیں جب سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی اپیل کو ایک متنازع اور منقسم فیصلے کے ذریعے مسترد کرتے ہوئے تین کے مقابلے میں چار ججوں کی اکثریت سے لاہور ہائی کورٹ کے کے انتہائی متعصبانہ فیصلے کو برقراررکھا تھاتو شفیع محمدی ایڈووکیٹ نے اس فیصلے کے خلاف 21 مارچ 1979ء کو سندھ کی شریعت بنچ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس اپیل کی تیاری میں ، میں شفیع محمدی صاحب کے ساتھ ساتھ تھا۔ میں نے ادھر اُدھر کی لائبریریوں اور اردو بازار سے تاریخ طبری، تاریخ مسعودی، طبقات ابن سعد، تاریخ ابنِ خلدون، تاریخِ یعقوبی، تاریخ علامہ جلال الدین السیوطی اور دیگر تاریخی کتب کے حصول میں ان کے ساتھ ساتھ رہاتھا۔ سندھ کی شریعت بنچ کے سربراہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عبدالقادر شیخ تھے جبکہ بنچ کے دیگر دو جج جسٹس ڈاکٹر آئی محمود اور ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا تھے۔ شفیع محمدی نے اپیل کی تیاری میں حضرت علی کی شہادت کے واقعہ کو بطورنظیر پیش کیا تھا۔ نظائر کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی نظیر تھی جسے شریعت کورٹ مسترد نہیں کرسکتی تھی۔ تاریخ کے مطابق کوفہ میں حضرت علی کو شہید کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی، پھر اس سازش پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ منصوبے کے مطابق پہلے مسجدِ کوفہ کے دروازے پر حضرت علی پر وار کیا گیا جو خطا ہوا، دوسرا وار کچھ آگے بڑھنے کے بعد کیا گیا، وہ وار بھی خطا ہوگیا، تیسرا وار منصوبہ کے مطابق حضرت علی کی امامت میں نماز کی ادائیگی کے دوران کیا گیا، اس وار سے حضرت علی کو شدید زخم لگا، حضرت علی کو مسجدِ کوفہ سے ایوانِ امیرالمومنین لایا گیا۔ میں نے مسجد کوفہ میں جاکر حضرت علی کی سجدہ گاہ اور گھر کا وہ مقام دیکھا جہاں پر آپ کو لایا گیا۔ کچھ ہی دیر میں حملہ آور عبدالرحمن ابنِ ملجم کو پکڑ کر حضرت علی کے روبرو پیش کیا گیا۔ آپ کے سامنے تمام حقائق لائے گئے، ابنِ ملجم کا اعترافی بیان بھی آگیا۔ اس پر امیرالمومنین نے فیصلہ دیا کہ جن لوگوں نے قتل کی سازش تیار کی ان میں سے کسی کو کچھ نہ کہا جائے، جس شخص نے پہلا وار کیا اسے بھی کچھ نہ کہا جائے، دوسرا وار کرنے کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اب رہا، ابنِ ملجم تو اگر میں اس وار کی شدت سے بچ گیا تو میں اپنا بدلہ خود لوں گا اور اگر اس وار سے میری جان چلی جائے تو ابنِ ملجم پر ایک ہی وار کیا جائے کیونکہ اس نے مجھ پر ایک ہی وار کیا ہے۔

    تاریخ کی تمام کتابوں میں حضرت علی کے اس فیصلے کو برہانِ قاطع کی حیثیت حاصل تھی۔ اب حقیقت یہ ہے کہ احمدرضا قصوری اور محمد احمد قصوری پر حملہ کے روز بھٹو صاحب ملتان میں تھے، چنانچہ شریعت کے اعتبار سے بھٹو صاحب کو سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔صوبائی شریعت کورٹ کے تین رکنی بنچ نے شفیع محمدی کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اگلے روز کی تاریخ مقرر کردی اور ان سے معلوم کیا کہ آپ کے مقدمہ میں وکیل کون ہوگا، اس دوران شفیع محمدی سے کوئی مشورے کئے بغیر عبدالحفیظ پیرزادہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے کہ میں اس کیس میں شفیع محمدی صاحب کی طرف سے پیش ہوں گا۔ اس کے بعد کورٹ برخاست ہوگئی۔ میں اور شفیع محمدی چیف جسٹس کی کورٹ سے بارروم میں آگئے، یہاں ہمیں عبدالحفیظ پیرزادہ کا انتظار تھا تاکہ وہ آئیں اور ہم سے اس کیس سے متعلق ہماری تیاری کو ایک نظر دیکھ لیں، کیونکہ عدالت نے اگلے روز یعنی 22 مارچ 1979ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔ عبدالحفیظ پیرزادہ بارروم میں نہ آئے، ہم لگ بھگ دو گھنٹوں تک وہاں بیٹھ کر پیرزادہ کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران بار روم کا موضوع گفتگو یہی کیس تھا اور تمام وکلاء اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ اس دور کے کرمنل لاء کے سب سے بڑے ماہر عزیزاللہ شیخ کہہ رہے تھے کہ شفیع صاحب آپ نے شریعت کورٹ کا راستہ اختیار کر کے کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے، اب بھٹو صاحب کو پھانسی دینا آسان نہیں رہا۔ شفیع محمدی اور میں بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ جب بہت وقت گزر جانے کے بعد پیرزادہ نہ آئے تو میں اور شفیع صاحب سندھ مدرستہ الاسلام کے سامنے شفیع صاحب کے دفتر آگئے۔ ہمیں پیرزادہ کا رویہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اب کچھ کچھ پریشانی لاحق ہونے لگی تھی۔

    ہم دونوں شام سات بجے اُٹھ کر سن سیٹ بلیوارڈ پر واقع پیرزادہ کے گھر پر پہنچ گئے۔ وہ مختلف لوگوں سے ملاقاتوں میں مصروف تھے۔ دو گھنٹے انتظار کرانے کے بعد لگ بھگ سوا نو بجے پیرزادہ نے ہمیں شرفِ باریابی بخشا۔ ہم ملے تو بہت مطمئن نظر آئے اور کہنے لگے کہ شفیع صاحب اب تو ہمارے پاس بڑا وقت ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، ہم یہ کیس جیت لیں گے۔ ہم پیرزادہ کے گھر سے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
    اگلے روز چیف جسٹس کی کورٹ میں شریعت بنچ کیلئے تین عدالتی کرسیاں لگی ہوئی تھیں، ٹھیک نو بجے تینوں جج صاحبان چیف جسٹس کے چیمبر سے نمودار ہوئے۔ کورٹ روم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ عدالت میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ پورے ماحول پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کسی کے کھانسنے یا کھنکھارنے کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ لوگوں کے ہاتھوں میں بندھی گھڑیوں کی ٹِک ٹِک اور سینوں میں دھڑکتے دلوں کی دھک دھک کو صاف سنا جا سکتا تھا۔ سندھ شریعت کورٹ میں ایک ہی کیس لگا ہوا تھا۔ جج صاحبان اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تو چیف جسٹس عبدالقادر شیخ کی آواز نے سناٹے کا سینہ چیرتے ہوئے کہا”یس مسٹر پیرزادہ” پیرزادہ اپنی نشست پر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک تباہ کن قیامت خیز جملہ ادا کیا "My lord I withdraw my case” ان کے اس جملہ کہنے شفیع محمدی اور میں حواس باختہ ہوگئے، ہمیں اپنے کانوں اور پیرزادہ کے ادا کئے گئے جملے کا یقین نہیں آرہا تھا۔ شفیع محمدی نے سراپا سوال بن کر شفیع محمدی سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہماری ریویو پٹیشن لگی ہوئی ہے، ہمیں وہاں سے انصاف ملنے کا یقین دلایا گیا ہے۔ شفیع محمدی نے کہا سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کا ہماری شریعت کورٹ کی اپیل سے کیا تعلق ہے۔ پیرزادہ نے روکھے لہجے میں کہا آپ لوگ سپریم کورٹ کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔

    رات کو بی بی سی نے آٹھ بجے کی نشریات میں اس خبر کو شامل کیا اور سیر بین کے تبصرے میں کہا گیا کہ بھٹو کو بچانے کاآخری موقع ضائع کردیا گیا۔
    پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا، سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی نظرثانی کی اپیل مسترد کردی۔ اب شفیع صاحب اور میں دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے، دوبارہ پٹیشن تیار کی گئی اور 2 اپریل کو صوبائی شریعت کورٹ سے اس پٹیشن کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس پٹیشن کی فوری سماعت کی کیا ضرورت ہے۔ شفیع محمدی نے کہا کہ ضیاءالحق بدنیت ہے وہ بھٹو صاحب کو جلد پھانسی دے دے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نقطہ آپ نے پٹیشن میں درج نہیں کیا، شفیع صاحب نے جیب سے قلم نکالتے ہوئے کہا کہ میں اس پٹیشن میں قلم سے یہ جملہ درج کردیتا ہوں۔ چیف جسٹس عبدالقادر شیخ نے کہا کہ اب آپ یہ پٹیشن کل 3 اپریل کو دائر کیجیئے گا۔
    یہ اپریل 1978ء کی تیسری تاریخ ہے، میں صبح صبح پیراڈائز سینیما سے ہائی کورٹ کی بلڈنگ کی طرف جارہا ہوں، مجھے سامنے پاسپورٹ آفس کے قریب شفیع محمدی آتے ہوئے نظرآرہے ہیں، اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میرا دل بجھ گیا۔ میں تقریباً دوڑتے ہوئے ان کے قریب پہنچا اور پوچھا، کیا ہوا؟ شفیع محمدی نے روتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سنتے، میں نے پوچھا کہ کہتے کیاہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ جسٹس ڈاکٹر آئی محمود بیمار ہوگئے ہیں۔ لہذا شریعت بنچ ڈسچارج ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ عدالت سے کہتے ہیں کہ عدالت ہمارے خرچ پر جسٹس آئی محمود کے گھر چلے، وہاں چل کر ہم شریعت کورٹ کے روبرو استدعا کرتے ہیں۔ شفیع محمدی بولے کہ میں یہ بات کرچکا ہوں، چیف جسٹس اور جسٹس ظفر مرزا کہتے ہیں کہ جسٹس آئی محمود بات کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک بار اور چل کر بات کرتے ہیں۔
    ہم دونوں یتیموں کی طرح چیف جسٹس کے چیمبر کے سامنے پہنچے، شفیع محمدی نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو چیف جسٹس نے اُکتاہٹ سے کہا کہ شفیع صاحب آج کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم دروازے سے ہی واپس پلٹ آئے۔ ہم دوسری منزل سے گراؤنڈ فلور پر سامنے لان کی طرف چلے گئے۔ دائیں طرف بلڈنگ کے کونے پر صدیق کھرل، حسین شاہ راشدی، رخسانہ زبیری، بیگم اشرف عباسی اوریو نعمت مولوی کھڑے تھے، ہم دونوں اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب خاموش، سب ہماری ناکامی سے واقف، سب دلگرفتہ، سب مایوس، سب دلگیر۔۔۔اچانک صدیق کھرل کی آواز خاموشی کے سینے اور خود ہمارے دلوں میں خنجر بن کر اُتر گئی۔ "کل ڈیڈ باڈی آرہی ہے” میرے اور شفیع محمدی کے مشترکہ دوست خان رضوانی کی اپنے ذرائع سے یہ قیامت خیز خبر چھپ چکی تھی۔ ہم سب نے بیگم اشرف عباسی سے کہا کہ آپ پیرزادہ سے رابطہ کرکے اصل صورتحال معلوم کریں، رات کو بارہ بجے کے بعد بیگم اشرف عباسی کا حفیظ پیرزادہ سے رابطہ ہوا، پیرزادہ نشے میں تھا، اس نے بیگم اشرف عباسی سے کہا” ڈارلنگ کل تم ایک خوشخبری سنو گی”
    اس رات کو گزرے 41 سال گزر چکے ہیں، میں رات کے اس تیسرے پہر 41 سال پرانے وقت میں جا چکا ہوں، بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان کی میت رات کی تاریکی میں اسلام آباد ائیر پورٹ لائی جاچکی ہے۔ پیرزادہ سو چکا ہوگا، میں اپنے گھر میں جاگ رہا ہوں۔ قمر عالم شامی میرے گھر میرے برابر ایک چارپائی سورہا ہے، نرسری میں میری بہنوں سے بھی زیادہ عزیز بہنوں شاہدہ اور زبیدہ نے شامی کو میرے ساتھ بھیج

    دیا تھا۔ آج کی رات بہت بھاری تھی، اس رات میرے ساتھ کوئی توہو جو مجھے سہارا دے سکے۔ 41 سال گزر گئے، یہ رات آج بھی بھاری ہے۔

    نذیر لغاری