Baaghi TV

Tag: پی پی پی

  • ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جس ملک میں الیکشن کمیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو۔ پارلیمنٹ بے سود، الیکشن کمیشن مشکوک، سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ قرار دینے میں ایڑھی چوٹی کا زولگاتے ہوں وہاں جمہوریت کیسی؟ پانامہ لیکس میں سینکڑوں شخصیات ملوث تھیں ۔ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص فرد واحد کو تاحیات نااہل کر دیا گیااور سزا سنا دی گئی۔ اب ملک کے ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان کو غدار اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا پانامہ لیکس میں دوسرے افراد پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ سیاستدان کب سمجھیں گے ؟-

    اس وقت مسئلہ جمہوری نظام کے مستقبل کا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جو جمہوریت کا دفاع کرے ۔شہبازشریف جو اس وقت ملک کے وزیراعظم بھی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں نے نوازشریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دفن کر کے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو عوام میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو نوازشریف کے بیانیے کو مل رہی تھی۔ لاہور، پنجاب جو کسی زمانے میں بھٹو کا تھا پھر نوازشریف پنجاب میں سیاسی طاقت بن گئے اور اب عمران خان لاہور میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔

    روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم سے الگ سیاست کر رہی ہے ۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ،ملک اس وقت انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہے مہنگائی کا بے لگام گھوڑا عوام کی لاشوں کو بے دردی سے سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے ۔ایک طرف آٹے کی لائنوں میں لگے بے بس مرد و زن کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف سیاستدان انتقامی سیاست کی حدود کو کراس کر رہے ہیں۔

    یہ وطن کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے ۔عوام کے بنیادی اور ریاست کے مسائل کو حل کرنے میں عمران خان سمیت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی اپنا کردار ادا کرے ۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاشی قاتلوں کے جال میں گھر چکا ہے اور ہمارے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد کے بارے میں بھی سوچیں۔

  • پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری ارسلان تاج گرفتار

    پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری ارسلان تاج گرفتار

    کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ارسلان تاج کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے ترجمان کے مطابق پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری کراچی ارسلان تاج کو ان کی رہائش گاہ گلشن اقبال سے گرفتار کیا گیا ہے ارسلان تاج کو سادہ لباس اہلکاروں نے گرفتار کیا۔

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ارسلان تاج کے گھر تین پولیس کی گاڑیاں آئیں جس میں سادہ لباس کپڑوں میں پولیس اہلکار تھے وہ گھر میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ بھی کی۔

    ترجمان پاکستان تحریک انصاف نے ارسلان تاج کی گرفتاری کی مذمت کی ہے تاہم سندھ حکومت اور پولیس کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔

    دوسری جانب کراچی میں پولیس کی جانب سے فجر کے اوقات رکن سندھ اسمبلی راجا اظہر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا۔

    شیخوپورہ: گالیاں دینے پر ملازم کے ہاتھوں کمپنی مالک سمیت 5 افراد قتل

    ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے راجا اظہر کی فیملی کو ہراساں کیا گیا کراچی پولیس کے چھاپے کے وقت ایم پی اے راجا اظہر گھر پر موجود نہیں تھے۔

    دوسری جانب عمران خان کی جانب سے آج ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ر ینجرز کو طلب کر لیا، ریلیاں نکالنے پر پابندی عائد ہوگی۔

    تُونس کے صدر کا شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ارادہ

  • اگر آج دن 3 بجے تک فیصلہ نہ ہوا تو تمام اضلاع میں ڈی آر او آفس پر دھرنا دیں گے،حافظ نعیم الرحمان

    اگر آج دن 3 بجے تک فیصلہ نہ ہوا تو تمام اضلاع میں ڈی آر او آفس پر دھرنا دیں گے،حافظ نعیم الرحمان

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اگر آج دن 3 بجے تک فیصلہ نہ ہوا تو تمام اضلاع میں ڈی آر او آفس پر دھرنا دیں گے۔

    باغی ٹی وی:ادارہ نور حق میں پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم نے نتائج میں تاخیر پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفسز کے باہر دھرنے دیئے ہیں، جنہیں فی الحال ختم کیا جارہا ہے، اگر دھاندلی سے نتائج تبدیل کرنے کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو بدھ سے ملک گیر احتجاج اور دھرنا ہوگا اور ضرورت پڑی تو پورے ملک کی سڑکیں جام کریں گے۔

    سندھ بلدیاتی انتخابات کےنتائج میں تاخیرکا معاملہ ایوان بالا پہنچ گیا

    انہوں نے کہا کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے تاریخی کم بیک کیا، شہریوں نے اپنی سیاسی وابستگیوں کو چھوڑ کر جماعت اسلامی کو منتخب کیا، الیکشن کمیشن جان بوجھ کر معاملات خراب کررہا ہے، ہمیں ہروا کر پی پی کو جتوایا گیا، الیکشن کمیشن کی ناک کے نیچے آر اوز نے نتائج تبدیل کیے، پی پی اور الیکشن کمیشن نے مل کر کارروائی کی۔

    نعیم الرحمان نے الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی کو جتوایا گیا ہے، پیپلز پارٹی کراچی کے عوام کا مینڈیٹ چرا کر جشن منا رہی ہے پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر ساری کارروائی ڈالی، ہم کراچی کے شہریوں کے مینڈیٹ پر شب خون مارنے نہیں دیں گے، الیکشن کمشنر بتادیں وہ پی پی کیخلاف کچھ نہیں کرسکتے، چیف الیکشن کمشنر کو کراچی آناچاہیے تھا جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق 20 تاریخ کو کراچی پہنچیں گے جس کے بعد ہم یوم تشکر کے ایک بڑے اجتماع کا انعقاد کریں گے۔

    کراچی بلدیاتی انتخابات نتائج میں ہیرا پھیری کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک بھر میں…

    انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے ووٹ پیپلزپارٹی کے ووٹوں سے دگنے سے بھی زیادہ ہیں، پی پی سو سال بھی لگا دے تو کراچی میں اکثریت حاصل نہیں کر سکتی کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا ہوگا، ضرورت پڑی تو پورے ملک کی شاہراہیں جام کردیں گے۔

    نعیم الرحمان نے کہا کہ تین چار بار الیکشن ملتوی کروائے گئے، ووٹر لسٹیں درست نہ ہونے پر بھی ہم الیکشن میں گئے، حلقہ بندیوں میں پڑتے تو الیکشن مزید تاخیر کا شکار ہوتے، عوام کے حقوق کیلیے ہر موقع اور مرحلے پرآواز اٹھائی، شہریوں کیلیے جدوجہد کی اور کرتے رہیں گے اگر کسی نے ہمارے لوگوں اور شہر کا میںڈیٹ چرایا تو اُسے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔

    الیکشن کمیشن نے 25 اراکین پارلیمنٹ کی رکنیت بحال کردی

  • 90فیصد سےزائد ریونیودینےوالےشہرقائد کوحکمرانوں نےتباہ کرکےرکھ دیا ہے:حافظ نعیم الرحمن

    90فیصد سےزائد ریونیودینےوالےشہرقائد کوحکمرانوں نےتباہ کرکےرکھ دیا ہے:حافظ نعیم الرحمن

    کراچی: اس شہرقائد کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا ہے ، اس حوالے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 90 فی صد سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے تباہ کردیا۔

    شہر کی ابتر صورت حال اور عوام کو درپیش مسائل پر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا اعلان تو ہوگیا، لیکن ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے انتظامات کرنے کے منتظر ہیں۔ اگر کرپشن دیکھنا الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے تو کم از کم الیکشن کمیشن یہ تو دیکھ لے کہ نئی اسکیمیں کیوں آ رہی ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جب الیکشن قریب آتے ہیں تو ہر جماعت کام کرنا شروع ہوجاتی ہے۔ پچھلے تین چار برس سے سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہورہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت اپنا اثرورسوخ استعمال کرے گی۔شہر میں مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ سڑکوں کی استرکاری برسات کے کئی ماہ بعد بھی جاری ہے جب کہ اس دوران جو کام کیا جارہا ہے وہ ناکافی اور غیر معیاری ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ماس ٹرانسپورٹیشن پر جو کام کراچی میں کیا جارہا ہے وہ بہت کم ہے۔ نہ جانے حکومت کے کمپنیوں کے ساتھ کیا معاہدے ہیں؟۔ اورنج لائن کے 2 اسٹاپ کے لیے عوام بھاری کرایہ کیوں دیں؟ اس حکومت نے اورنج لائن سروس کو تباہ کردیا۔ گرین لائن نہ ن لیگ نے بنائی اور نہ ہی پی ٹی آئی نے مکمل کیا۔ عمران خان نے ادھورے منصوبے کا افتتاح کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کے تحت پورا یونیورسٹی روڈ توڑ دیا گیا ہے۔ سڑک کی جگہ کم کر کے بیچ میں ریڈ لائن بنائی جارہی ہے۔ سیکڑوں گاڑیوں کو یونیورسٹی روڈ سے روزانہ گزرنا ہوتا ہے، نہ جانے کتنے برس تک اس روڈ پر اب مسافر رُلتے رہیں گے۔ 90 فیصد سے زائد ریونیو دینے والے شہر کو اس حکومت نے تباہ کردیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں سے گزارش ہے کہ 15جنوری کو اپنا لیڈرمنتخب کریں۔ وہ لیڈر جو اس شہر کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈھائی ماہ کا وقت ہے، اختیارات منتقل کیوں نہیں کرتے۔ ایم کیو ایم سے پوچھتے ہیں کہ آپ اتحادی جماعت ہیں آپ اختیارات منتقلی کی بات کیوں نہیں کرتے؟۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے دھرنا دیا تو پوری قوم کے سامنے حکومت نے ہم سے معاہدہ کیا۔ رجیم چینج ہوا تو ایم کیو ایم بڑے مینڈیٹ کے ساتھ جاملی۔ سردیاں شروع ہوچکی ہیں لیکن پھر بھی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کے الیکٹرک کا منصوبہ جو 2019ء میں مکمل ہونا تھا وہ کہاں گیا؟ تین سال گزر گئے مگر یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔

    جماعت اسلامی اگر نہ ہوتی تو یہ ہم سے سردیوں میں بھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے پیسے لیتے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف واضح ہے کہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔ اس کے ساتھ معاہدے میں ایم کیو ایم، پی پی، پی ٹی آئی سب جماعتیں شامل ہیں۔ اس کمپنی کو یہاں سے روانہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب سب خاموش ہوتے ہیں تو جماعت اسلامی تب بھی اپنی مہم چلاتی ہے۔ حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ حق دو کراچی کو تحریک چل رہی ہے اور یہ چلتی رہے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی الوداعی ملاقات

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

     

  • اسمبلیوں میں اکھاڑپچھاڑکےبعدسینیٹ میں جوڑتوڑشروع  :صادق سنجرانی کےخلاف عدم اعتماد کی ریکوزیشن تیار

    اسمبلیوں میں اکھاڑپچھاڑکےبعدسینیٹ میں جوڑتوڑشروع :صادق سنجرانی کےخلاف عدم اعتماد کی ریکوزیشن تیار

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن تیار کر لی۔

    تفصیلات کے مطابق ملک کے حکمران اتحاد کی بڑی جماعتوں پی پی پی اور ن لیگ میں صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن تیار ہے، اور اس پر سینیٹرز سے دستخط کرائے جا رہے ہیں، پی پی اور ن لیگ نے ریکوزیشن پر دستخط کر دیے ہیں۔

    اسلام آباد پولیس نے میری رہائش گاہ پررات ساڑھے 12 بجے چھاپہ مارا ہے،چھاپوں سےنہیں…

    ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن کے حوالے سے ن لیگ اور پی پی کی جانب سے سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں۔

    فیض آباد:پولیس تشدد، پی ٹی آئی کارکنوں کی درخواست پرمقدمہ درج نہ ہوسکا:رکاوٹ…

    جن پارٹیوں سے رابطے ہو رہے ہیں ان میں ایم کیو ایم پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی، جی ڈی اے، ق لیگ، پی کے میپ، اور اے این پی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر چیئرمین سینیٹ کا عہدہ پیپلز پارٹی کو ملے گا، یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    یاد رہے کہ صادق سنجرانی دوسری بار تحریک عدم اعتماد کا سامنا کریں گے، ان کے خلاف پہلی تحریک عدم اعتماد یکم اگست 2019 کو لائی گئی تھی، جو ناکام ہو گئی تھی۔

  • ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے؟ قمر زمان کائرہ

    ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے؟ قمر زمان کائرہ

    لاہور: پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں جانے سے لامتناہی کیسز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

    باغی ٹی وی : پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ق لیگ کے ارکان نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ کاسٹ کیا ہے،کہا گیا عمران خان اور پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،کہا گیا ہے 20،کروڑ40کروڑ پیسہ چلا ہے-

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عدالت نے ٹرسٹی وزیراعلیٰ کہا کہ جس کی آئین میں گنجائش نہیں ہے،چودھری شجاعت نے اپنی جماعت کو عمران خان سے اتحاد کرنے سے منع کردیا،پرویز الہٰی نے پچھلے الیکشن میں انتہائی غیر قانونی اور غیر آئینی کام کیا-

    انہوں نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر ق لیگ کے ووٹ مسترد ہوئے اور پرویز الہٰی کو شکست ہوئی،بہر حال عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں،ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے،مینڈیٹ پارلیمانی پارٹی کا نہیں پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،ق لیگ کے ارکان نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالا-

    انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد نے فل کورٹ ریفرنس سننے کا مطالبہ کیا ہے پارلیمان اور سیاستدانوں کا باقی اداروں سے کم احترام نہیں ہے پرویز الہٰی تھے جنہوں نے ہم سے اتحاد کر کے وزیر اعلیٰ کا امیدوار بننے پر آمادگی ظاہر کی اور ہم سے ڈیل کرنے کے بعد صبح تحریک انصاف کے ساتھ شامل ہو گئے۔

    انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ق لیگ آپ کے ساتھ اتحاد کرے تو اچھا اور ہمارے ساتھ کرے تو غلط۔ مسلم لیگ ق مرکز میں پہلے ہی اتحادی ہے اور تمام جماعتوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے ساتھ رہ کر ووٹ دیا۔

    پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر ق لیگ کے ووٹ مسترد ہوئے اور پرویز الہٰی کو شکست ہوئی۔ عمران خان کو کچھ تو شرم و احساس کرنا چاہیے۔ پارلیمان ماں ہے اور سیاست سے چیزیں جنم لیتی ہیں۔ سیاسی معاملات عدالتوں میں جانے سے لامتناہی کیسز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

  • پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کا اعلان:کرائے کی تفصیلات بھی آگئیں

    پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کا اعلان:کرائے کی تفصیلات بھی آگئیں

    کراچی :سندھ حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں متعارف کرائی گئی پیپلز بس سروس کے تیسرے اور نئے روٹ کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    صوبائی وزیر سرجیل انعام میمن کے مطابق نئے اور تیسرے روٹ میں بس میٹروپول ہوٹل سے سی ویو روڈ تک چلے گی۔وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ تیسرے روٹ پر بسیں میٹروپول سے براستہ تین تلوار، عبداللہ شاہ غازی مزار سے ہو تے ہوئے سی ویو روڈ پہنچیں گی۔

    واضح رہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس سے قبل گزشتہ ماہ 27 جون کو پہلے اور بعد ازاں 30 جون کو دوسرے روٹ پر پیپلز بس سروس کا آغاز ہوچکا ہے۔پہلا روٹ ماڈل کالونی سے ٹاور تک، جب کہ دوسرا روٹ نارتھ کراچی سے انڈس اسپتال لانڈھی روڈ تک جاتا ہے۔ایئرکنڈیشن اور آرام دہ بسوں کا یک طرفہ کرایہ 25 سے 50 روپے کے درمیان ہے۔

    یاد رہے کہ سندھ حکومت نے کراچی کے عوام کو آرام دہ اور بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے پیپلز بس سروس کے نام سے پبلک ٹرانسپورٹ کا افتتاح کیا ہے۔

    پیپلز بس سروس کا باقاعدہ آغاز 27 جون کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا تھا۔اس کے تحت شہر کے 7 مختلف روٹس پر مجموعی طور پر 240 بسیں چلیں گی۔ ان بسوں کے ذریعے لاکھوں افراد روزانہ کی بنیاد پر اپنی منزلوں کو پہنچیں گے۔

  • پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

    پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

    کراچی:پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔

    حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے واقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ جنہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیا گیا جس کے بعد مسلم لیگ ن نے ان کے بھائی ملک امیر حیدر سنگھا کو ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ملک امیر حیدر سنگھا کی فیملی سیاسی بیگ گراؤنڈ رکھتی ہے۔ وہ خود بھی ماضی میں چیئرمین ضلع کونسل خوشاب بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی ملک امیر مختار سنگھا بھی چیئرمین ضلع کونسل خوشاب رہ چکے ہیں۔اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

    ملک حسن اسلم اعوان کی الیکشن مہم میں پی ٹی آئی کے علی محمد خان اور زرتاج گل پیش پیش دکھائی دے رہی ہیں۔ اس حلقے میں آزاد امیدوار بھی اپنی جیت کے لیے پرعزم ہیں۔ ان آزاد امیدواروں میں ملک محمد آصف قابل ذکر ہیں۔ ان کا انتخابی نشان مٹکا ہے۔ملک محمد آصف بھاء تین بار صوبائی اسمبلی کے رُکن رہ چکے ہیں۔ ملک محمد آصف نے 2013ء میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر مسلم لیگ ن کے دورِ اقتدار میں مختلف صوبائی وزارتوں کا قلمبند سنبھالے رکھا، البتہ 2018ء کے انتخابات میں ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    ملک محمد آصف نے اس حلقے سے شیر کے نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کی خواہش ظاہر کی تاہم مسلم لیگ ن کی جانب سے منحرف ایم پی اے کے بھائی غلام رسول سنگھا کو ٹکٹ ملنے کے بعد ملک محمد آصف بھاء نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے ضلع خوشاب میں مسلم لیگ ن کے ووٹرز کی بھی ان کو سپورٹ حاصل ہے۔ ایک اور آزاد امیدوار ملک حامد محمود ڈھل کا شمار حلقے کے بااثر سیاسی گھرانے اور بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔ ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ پی ٹی آئی ضلع خوشاب کے اہم کارکن تھے، اور بلے کے نشان پر انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند تھے، تاہم پارٹی کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ناراض کارکن ملک حامد محمود ڈھل کے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کے باعث حلقہ پی پی 83 خوشاب میں اب پی ٹی آئی دو حصوں میں تقسیم ہے، جس کا فائدہ دیگر امیدواراں کو ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک میں جاری مہنگائی کی لہر ہے جو آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سےگیارہ امیدواروں نے حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کاٹکٹ ملک گل اصغر کو دیا گیا، البتہ وہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتےتھے اس لئے وہ ٹکٹ لینے کے بعد عین اس وقت الیکشن لڑنے سے انکاری ہو گئے جب نشانات بھی الاٹ ہو چکےتھے،جس کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف نے معروف بزنس مین ملک امیر مختار سنگھاا عوان کے بھائی اور سابق تحصیل ناظم ملک غلام رسول سنگھا اعوان کی سپورٹ کی جس کے باعث وہ بھاری مارجن سےجیت گئے۔ انہوں نے 68 ہزار 959 ووٹ لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ان کےمدمقابل ملک محمدآصف بھا جن کاتعلق پاکستان مسلم لیگ ن سےتھااوروہ صوبائی وزیربھی رہے47 ہزار 684 ووٹ لیکر رنراپ رہے۔
    اس حلقے سے تحریک لبیک پاکستان کےامیدوار دلدار حسین رضوی نے9 ہزار 563 اور ایک آزادامیدوارملک ظفرا للہ خان بگٹی نے 10 ہزار 863 ووٹ لئے۔ پی پی کےٹکٹ پر نثار احمد خان نے ایک ہزار 899 ووٹ لئے۔ اس حلقہ میں ہڈالی، مٹھہ ٹونہ،بوتالہ و دیگر علاقے شامل ہیں،

    2013تک مسلم لیگ ن کا ڈنکا بجتا رہا لیکن عمران خان نے بالآخر 2018 میں یہ نشست ایک آزاد امیدوار کی حمایت کرکےجیتی ن لیگ نےسنگھاگروپ کوٹکٹ کنفرم کردیاہےتووہیں ملک آصف بھاءنےآزادالیکشنلڑنےکااعلان کردیاہے،جبکہ پاکستان تحریک انصاف ملک حسن اسلم اعوان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    حلقہ 83 پی پی کے مسائل کی بات کی جائے تو اس حلقے میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ حلقے کی عوام کو پینے کے پانی سے لیکر اراضی سیراب کرنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں صحت کے حوالے سے بنیادی صحت کے مراکز میں زچہ و بچہ کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے۔سابقہ دور حکومت میں پی پی 83 میں تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی گئی اور یہاں ایک بڑی بین الصوبائی شاہرہ کی بھی تعمیر کی گئی جو حلقہ پی پی 83 سے گزرتی ہے۔

    گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں ہار بیٹھی تھی۔ حلقہ پی پی 83 خوشاب میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 93 اور این اے 94 آتا ہے۔ حلقہ این اے 93 میں پاکستان تحریک انصاف کے عمر اسلم خان ایم این اے ہیں، جن کے بھائی ملک حسن اسلم اعوان پی پی 83 خوشاب سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں جبکہ حلقہ این اے 94 سے پی ٹی آئی کے ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ ایم این اے ہیں ۔

    سندھ میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پیپلزپارٹی کی خالدہ سکندر میندھرو نے اپنے نام کرلی ۔

     

     

    ڈاکٹر سکندر میندھرو کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی سندھ میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پولنگ سندھ اسمبلی میں ہوئی، مرحوم ڈاکٹر سکندر میندھرو کی اہلیہ خالد ہ سکندر میندھرو پیپلزپارٹی کی جانب سے امیدوار تھیں اور مقابل میں پی ٹی آئی کے نور الحق قریشی میدان میں تھے البتہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا جبکہ ایم کیوایم پاکستان اور دیگر جماعتوں نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

     

     

    پیپلزپارٹی کی جانب سے 99 میں سے 94 ارکان بشمول وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سمیت پی ٹی آئی کے تین منحرف ارکان اسلم ابڑو، شہریار شر اور کریم بخش گبول نے بھی ووٹ کاسٹ کیا ۔ذاتی مصروفیات کے باعث پیپلزپارٹی کے پانچ ارکان شرمیلا فاروقی،اعجاز شاہ بخاری، عذرا پیچوہو، اسماعیل راہو اور علی نواز مہر نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

  • پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیشرفت نہیں ہوئی:وزیراعظم مداخلت کریں، وسیم اختر

    پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیشرفت نہیں ہوئی:وزیراعظم مداخلت کریں، وسیم اختر

    کراچی :متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما وسیم اختر نےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدے پرکوئی پیش رفت نہیں ہوئی، آصف زرداری ہماری باتوں کو سنجیدہ لیں، وزیراعظم مداخلت کریں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اخترکا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے ساتھ معاملات آگے نہیں بڑھ رہے، وزیر اعظم کو آگاہ کر دیا ہے، آصف زرداری ہماری باتوں کو سنجیدہ لیں، معاہدے پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم مداخلت کریں۔وسیم اختر نےکہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شہری اور دیہی مسائل حل ہوں، آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی کہہ چکے ہیں کہ بلدیاتی نظام با اختیار ہو، مگر حکومت بن گئی اور سب مزےسےبیٹھ گئے لیکن معاہدے پرکوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔

    کراچی ضمنی الیکشن ،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کو ہوش آ گیا

    نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیا بلدیاتی ایکٹ نہیں بنتا تو حکومت کے ساتھ کسی چیز میں حصہ نہیں لیں گے، سندھ حکومت ابھی بھی اختیارات نیچے دینے میں ہچکچا رہی ہے، بلدیاتی نظام کا مسودہ بن گیا ہے تو اسے فوری طور پر قانون بنا دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے وعدوں پر اعتبار ہے اور یقین ہے کہ بلدیاتی نظام کےمعاملے پر سپریم کورٹ کے احکامات پربھی مکمل عملدرآمد کیا جائےگا۔

    اب ہماری جنگ سڑکوں پر ہو گی، ایم کیو ایم کا بڑا اعلان

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ٹرن آؤٹ کم ہے، فائرنگ ہوئی، ووٹرز خوف کا شکار ہیں ، بیلٹ پیپروں سے امیدواروں کے انتخابی نشانات غائب ہیں، الیکشن کمیشن کو اپنی کارکردگی دیکھنی چاہیے۔

    ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ چھوڑ دی

    سابق میئر کراچی کا کہنا تھا اندرون سندھ میں ڈاکو بیلٹ بکس اٹھا کرلےگئے ، سندھ کے 14 اضلاع میں دھاندلی کا بازار گرم ہے۔ پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے لیکن الیکشن کمیشن کے ساتھ ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے گذارش کرتے ہیں کہ سندھ میں جاری بلدیاتی انتخابات فوری روکے جائیں، الیکشن کمشنر بہت اچھے افسر ہیں، ان سے درخواست ہے کہ ووٹرز لسٹوں اورحلقہ بندیوں کو درست کردیں۔

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)