Baaghi TV

Tag: پی ڈی ایم

  • عمران خان کا الیکشن کرانے کا مطالبہ حکومتی اتحاد نے مسترد کر دیا

    عمران خان کا الیکشن کرانے کا مطالبہ حکومتی اتحاد نے مسترد کر دیا

    حکومت کی اتحادی جماعتوں نے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کا الیکشن جلد کرانے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اپنے مشترکہ بیان میں اتحادی جماعتوں نے سابق صدر آصف علی زرداری ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے خلاف بیان اور الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    انہوں نے بیان میں کہا کہ ملک میں انتخابات کب ہونے ہیں، اس کا فیصلہ حکومتی اتحادی جماعتیں کریں گی کسی جتھے کو طاقت کی بنیاد پر فیصلہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو آئین اور قانون کے مطابق نمٹیں گے وزیراعظم پاکستان قانون کے مطابق آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ کریں گے، فارن فنڈڈ فتنے کی دھونس، دھمکی اور ڈکٹیشن پر نہیں ہوگی۔

    بیان میں کہاگیا کہ آرمی چیف، حساس اداروں کی قیادت، افسران، چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر کو نشانہ بنانے کا مقصد ’بلیک میلنگ‘ ہے جو قطعاً سیاسی رویہ نہیں بلکہ سازش کا حصہ ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آئین اور قانون میں واضح ہے کہ آرمی چیف سمیت دیگر عہدوں پر تقرری وزریراعظم کا دستوری اختیار ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ اقتدار سےمحروم شخص قومی اداروں کو ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے تحت نشانہ بنارہا ہے۔ پاک فوج کے شہداءکے خلاف غلیظ مہم، فوج میں بغاوت کےبیانات اور حوصلہ افزائی جیسےاقدامات ملک دشمنی کے مترادف ہیں جن سےآئین اور قانون کے مطابق نمٹاجائے گا۔غنڈہ گردی اور دھونس کی بنیاد پر آئین ، جمہوریت اور نظام کوغلام نہیں بننے دیاجائے گا۔

    بیان میں یہ بھی واضح کیا گیاکہ ملک کی معیشت اور سیلاب متاثرین کی بحالی اس وقت اولین قومی ترجیح ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ حکومت، اداروں اور عوام کا اتفاق ہے کہ سیاسی عدم استحکام پیداکرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ معیشت کو پٹڑی سے اتارنے اور وسائل کی متاثرین سیلاب تک رسائی کے عمل کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا وقت آچکا، عمران خان نے گاڑی مس کر دی نجی خبررساں ادرے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں نوازشریف آرمی چیف کی تعیناتی میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ وزیراعظم ہی کریں گے، سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگا-

    انہوں نے کہا کہ جتھے کے ذریعے الیکشن کی تاریخ نہیں دیں گے، فیصلہ جتھے سے ہوا تو الیکشن کے بجائے جتھے کی تیاری کریں گے عمران خان پچیس مئی کی کال نہ دیتے تو شائد اسی وقت الیکشن کی تاریخ آجاتی حکومت کی وجہ سے پی ٹی آئی والوں کی بدتمیزی برداشت کر رہے ہیں، نگران سیٹ اپ آتے ہیں پارٹی کو ہدایت دیں گے، جہاں تحریک انصاف والے بدتمیزی کریں، وہیں انہیں دبوچ لیں۔

    لانگ مارچ: تاجربرادری کا اسلام آباد کو احتجاج فری شہر بنانے کا مطالبہ

  • عمران نیازی کا لانگ مارچ،ٹھس مارچ ثابت ہو گا، ترجمان پی ڈی ایم

    عمران نیازی کا لانگ مارچ،ٹھس مارچ ثابت ہو گا، ترجمان پی ڈی ایم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان ملک میں سیاسی بحران پیدا کرنے کی ناپاک کوشش کررہا ہے

    ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ ستمبر میں مارچ کی کال اسی ناپاک ایجنڈے کا حصہ ہے مارچ لانگ ہو یا شارٹ یا کوئیک یہ ٹھس مارچ ثابت ہو گا الیکشن اکتوبر 2023 میں وقت مقررہ پر ہونگے آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ وزیراعظم کی صوابدید ہے جو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوگا فیصلے عمران خان کی خواہش پر نہیں آئین اورقانون کے مطابق ہونگے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے مطابق تم سر ٹیفائیڈ بددیانت آئین شکن جھوٹے اور انٹرنیشنل منی لانڈرر ثابت ہوچکے ہو تم پارٹی سمیت امپورٹڈ بیرونی فنڈڈ اور ایڈڈ ثابت ہوچکے ہو تم صادق اور امین نہیں رہے اگر تم واقعی ملک میں الیکشن چاہتے ہو تو پنجاب اسمبلی اور کے پی کے اسمبلی توڑ دیں آپ کو پیٹنے چیخنے بھڑکیں اور دھونس دھمکیوں سے کچھ نہیں ملے گا

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے شہباز گل کی بنی گالہ میں گزشتہ روز ملاقات ہوئی ہے

    قبل ازیں سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیئر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ عمران خان احتجاج کی کال دو تمہاری مس کال کا کوئی جواب نہیں دے گا، عمران خان کو سرکاری ہیلی کاپٹر کے جھولے یاد آ رہے ہیں پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ اور عہدیداران بھی عمران خان کے قومی اداروں کی تقسیم سے متعلق بیانیے سے نالاں ہیں، عمران خان پارٹی کا اعتماد کھو چکا ہے، پی ٹی آئی بکھر چکی اب صرف اعلان باقی ہے، کپتان مانگے تانگے کی سواریوں کا اکیلا تانگہ بان بن چکا ہے، آئین اور قانون شکن شخص پر پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ کی بڑی تعداد پہلے ہی عدم اعتماد کر چکی ہے،خیبر پختونخواہ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدگان بے سروسامانی کی حالت میں پی ٹی آئی حکومتوں کی مدد کے منتظر ہیں،

  • پشاور:نواز شریف،مولانا فضل الرحمان سمیت پی ڈی ایم قیادت کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع

    پشاور:نواز شریف،مولانا فضل الرحمان سمیت پی ڈی ایم قیادت کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع

    پشاور کے تھانے میں پی ڈی ایم قیادت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست جمع کرائی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف ، مریم نواز ، مولانا فضل الرحمان ، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ،عطا تارڑ،خواجہ سعد رفیق سمیت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت کے خلاف پشاور کےتھانے میں مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست جمع کرادی گئی۔

    خاتون جج کیلئے توہین آمیز الفاظ،اسلام آباد میں خواتین کا مظاہرہ،عمران خان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست ایک وکیل نورشیر مہمند ایڈووکیٹ کی جانب سے تھانہ شرقی میں جمع کرائی گئی نورشیر مہمند کے مطابق ان کا تعلق انصاف لائرز فورم سے ہے۔

    پارلیمنٹ لاجز میں شہباز گل کے زیراستعمال کمرے پرچھاپہ ،پستول اور سیٹلائیٹ فون برآمد

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں وزیر اعظم شہباز شریف،سابق وزیراعظم نوازشریف،مریم نواز ، مولانا فضل الرحمان ، رانا ثناء اللہ ، خواجہ سعد رفیق ،عطا تارڑ اور پرویز رشید سمیت دیگر پی ڈی ایم کی شخصیات نے فوج کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور تقاریر کیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کے بیانات کے ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں ، درخواست کے مطابق نفرت انگیز بیانات دشمن ملک کی ایما پر دیئے گئے ہیں ۔

    عمران خان اور شہباز گل میں سچا کون؟

  • عمران خان  ملزم نہیں مجرم،فوری کاروائی کی جائے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان ملزم نہیں مجرم،فوری کاروائی کی جائے، مولانا فضل الرحمان

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد کا وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اجلاس میں پیپلزپارٹی اوردیگر اتحادی جماعتیں شریک تھیں آفتاب شیرپاؤ،محمود اچکزئی ،کشور زہرہ شریک تھے خورشید شاہ،فیصل کریم کنڈی،پلوشہ بہرام اور فاروق نائیک شریک تھے ن لیگ کی نائب صدرمریم نواز بھی پی ڈی ایم اجلاس میں شریک تھیں مریم اورنگزیب،اعظم نذیرتارڑ،رانا تنویر نے بھی شرکت کی ،اجلاس میں الیکشن کمیشن فیصلے پرعمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور کیا گیا پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کیخلاف کارروائی شروع ہوگی پورے پاکستان میں مختلف ٹیمیں بیک وقت کارروائی کریں گی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے کارروائی کریں گے عمران خان کیخلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی ہو گی،عمران خان کی نااہلی کیلئے قانونی کارروائی کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا

    نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری اورقانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی، پی ٹی آئی سینٹرل سیکریٹریٹ کے4 ملازمین کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے پی ٹی آئی کے مرکزی فنانس بورڈ کے 6 ارکان کیخلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی،

    دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف فرد جرم آچکا ہے،عمران خان ایک ملزم نہیں بلکہ اب مجرم بھی قراردیا جا رہا ہے .ثابت ہوچکا ہے کہ تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ ہوئی ہے ,عمران خان الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد صادق اور امین نہیں رہے عمران خان نے 5سال تک الیکشن کمیشن کے سامنے جھوٹ بولاعمران خان کا بیانیہ ہر دن تبدیل ہوتارہا ہے،الیکشن کمیشن میں جھوٹے سرٹیفکیٹ اور حلف نامہ جمع کیا گیا،ممنوعہ فنڈنگ کیس عمران خان کے خلاف فرد جرم ہے،اب آئین اور قانون کے مطابق کارروئی کی جائے گی،عمران خان عملی طور پر پاکستان کے نااہل ترین حکمران ثابت ہوئے،اس نے اسرائیل اور ہندوستان سے فنڈنگ لی ہے،عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا،16 بینک اکاونٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے، ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں آگیا،عمران خان نے متعدد غیرملکی کمپنیوں اور غیرملکی شہریوں سے فنڈنگ لی،الیکشن کمیشن کو بلیک میل کیا جا رہا ہے،پی ٹی آئی کی 2013کے بعد کی فنڈنگ کا بھی حساب لیا جائے،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پران کیخلاف کارروائی کرے، ڈاکٹر عارف علوی کو فوری طور پر عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے،فوری طور پر ان کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں جن کے نا م پر اکاونٹس کھولے گئے ہیں ان کو بھی گرفتار کر کے تحقیقات کی جائیں

    قبل ازیں ن لیگی رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ پی ٹی آ ئی والوں نے فیصلہ رکوانے کی کوشش کی ،ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ درخواست اکبر ایس بابر نے دی تھی جو پی ٹی آئی کے ہی رکن ہیں،ہم سمجھے تھے کہہ یہ لوگ تھوڑا بہت شرمندہ ہونگے مگر نہیں ،اگر کوئی مسئلہ نہیں تھا تو 8 سال سے رکوانے کی کوشش کیوں کی ،پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ سامنے نہ آنے کیلئے دباؤ ڈالا، پی ٹی آئی والے انگلی اٹھا اٹھا کر پچھلے 10 سال سے ہر ایک پر الزام لگاتے رہے،پی ٹی آئی سپورٹرز 7 صفحے پڑھ لیں ، عمران خان اور پی ٹی آئی سے سوال کریں ،عارف نقوی نے 2012 میں کوئی غلط کام نہیں کیا،آج فواد چودھری نے کہا عارف نقوی پرتو کوئی کیس ہی نہیں،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • پی ڈی ایم اجلاس، مفاہمت کی پالیسی ترک کرنے کی تجویزآ گئی

    پی ڈی ایم اجلاس، مفاہمت کی پالیسی ترک کرنے کی تجویزآ گئی

    پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اورمریم اورنگزیب شریک تھے اجلاس میں آفتاب شیر پاو،اویس نورانی ،طاہر بزنجو ،غفور حیدری و دیگر کی بھی شرکت ہوئی ہے اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، پنجاب میں تبدیلی اور عدالتی فیصلے پر گفتگوکی گئی نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک تھے

    مریم نواز نے اجلاس میں کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے فل کورٹ کا جائز مطالبہ نہیں مانا گیا،اب ہمیں نظرثانی میں جانا ہے یا خاموش رہنا ہے، فیصلہ کرنا ہو گا،اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے قومی اسمبلی سے منظور قرارداد کا خیر مقدم کیا گیا مریم نواز نے پی ڈی ایم اجلاس میں مفاہمت کی پالیسی ترک کرنے کی تجویز دی،مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فوری آئندہ انتخابات کیلئے لائحہ عمل طے کیا جائے،مریم نواز نے پی ٹی آئی کے استعفے فوری منظور کرنے کا مشورہ دیا، مولانا فضل الرحمان نے عدالتی فیصلے کے خلاف یوم سیاہ منانے کی تجویزدے دی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں واضح سمت کا تعین کرنا ہو گا،کھیل کے سارے کرداروں سے متعلق بھی جاننا ہو گا ،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مفاہمتی پالیسی نے شروع دن سے ہی ہمیں نقصان پہنچایا، نواز شریف کا کہنا تھا کہ لاڈلے کا 4 سالہ گند ہم پر ڈال دیا گیا،صرف ملک بچانے کیلئے حکومت میں آنا قبول کیا، ورنہ تو پہلے دن سے ہی حکومت میں آنے کا مخالف تھا،

    مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو باقاعدہ پی ڈی ایم میں واپسی کی دعوت دی پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن سے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنانے کا مطالبہ کیا

    مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف کی نرم پالیسی کے خلاف پھٹ پڑے،مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی ضمانت منسوخ کرانے کیلئے وفاقی حکومت سے فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کردیا

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس بہترین مثال ہے کہ کیسے لاڈلے کوتحفظ دیا جا رہا ہے، نوازشریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینےکےالزام پر نااہل کر دیا گیا ،لاڈلے کوکھلی چھوٹ دی گئی ،فارن فنڈنگ کا8سال سے فیصلہ نہیں آیا، فارن فنڈنگ کیس رکوانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں9رٹ پٹیشنز دائر کی گئیں،فارن فنڈنگ کیس کو 50 بار التوا دیا گیا

  • نواز شریف نے حکومت چھوڑنے کے حوالہ سے بات شروع کر دی

    نواز شریف نے حکومت چھوڑنے کے حوالہ سے بات شروع کر دی

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی قیادت سے وفاقی حکومت چھوڑنے کے حوالہ سے بات شروع کر دی ہے

    نجی ٹی وی جیو کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں ہیں تا ہم انکی پاکستان میں ن لیگ کی قیادت سے بات چیت ہوئی ہے، نواز شریف نے پارٹی قیادت سے قبل از وقت الیکشن کے آپشن پر بھی بات کی، نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق نواز شریف نے پی ڈی ایم رہنماؤں اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر سے قبل از وقت الیکشن اور وفاقی حکومت چھوڑنے کے حوالہ سے کئی بار بات چیت کی تا ہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری، اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت چھوڑنے کی مخالفت کی ہے

    دوسری جانب پی ڈی ایم جماعتوں کا اہم اجلاس آج مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ہو گا اجلاس میں موجودہ ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ،اجلاس میں پنجاب کی صورتحال اور سپریم کورٹ کے فیصلے بارے بھی مشاورت کی جائے گی، اجلاس میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے قائدین شریک ہوں گے،

    اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانئے کو ناکام بنانے کے لئے بھی مشاورت کی جائے گی، اجلاس میں تحریک انصاف کے قومی اسمبلی سے استعفے منظور کرنے یا نہ کرنے کے حوالہ سے بھی مشاورت ہو گی، اجلاس میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف کیسز، آئین شکنی کے حوالہ سے کاروائی پر بھی غور کیا جائے گا

    نواز شریف نہیں آئے گا، شیخ رشید

    علاوہ ازیں سابق وزیر داخلہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی خودمختاری کو آئینی تحفظ حاصل ہے،اسکے اختیارات کو بڑھایا جا سکتا ہے گھٹایا نہیں جا سکتا۔ سپریم کورٹ کو جیب کی گھڑی ہاتھ کی چھڑی نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہی گورنر راج لگایا جا سکتا ہے۔ ڈالر 250 کا اور 7 ارب ڈالر کے ذخائر کم ہو گئے ہیں

    ایک اور ٹویٹ میں شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پنجاب کا سیاسی کوڑا کرکٹ گٹر میں پھینکا جائے گا۔نیب کی من پسند ترمیم بھی ختم ہو گی،اوورسیز کو ووٹ کا حق بھی ملے گا۔ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کو انصاف ملے گا۔ملکی اثاثے بیچنے سے پہلے ہی انکا کھیل ختم ہو جائے گا۔نہ من پسند قانون سازی ہوگی،نہ نواز شریف آئے گا۔اکتوبر،نومبر میں الیکشن ہونگے

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب کرلیا گیا ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اتحادی جماعتوں کے سربراہان کااجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا ،اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا جائیگا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجا ب کے حوالے سے سپریم کورٹ بھی اپنا فیصلہ کچھ دیر میں سنائے گی ۔ پی ڈی ایم جماعتوں کے سربراہان پہلے ہی عدالتی پراسیس کا حصہ بننے سے انکار کرچکے ہیں

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سنائے جانے سے کچھ وقت قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے حکومت کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔


    انہوں نے لکھا کہ حکومت مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے یا سٹیٹس کو کا شکار بنے۔ حکومت کو چاہیے سخت موقف اختیار کرے اور ڈٹ جائے۔لیڈر تب بنتا ہے جب وہ مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے۔

    دوسری جانب ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ فیصلے سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو پنجاب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک رکھنے اور پی ڈی ایم کے رہنماؤں سے بھی مشاورت جاری رکھنے کی ہدایت کی ٹیلیفونک رابطہ میں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو پی ڈی ایم کا اتحاد پنجاب میں مزید منظم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • آصف علی زرداری اچانک دبئی روانہ ہوگئے

    آصف علی زرداری اچانک دبئی روانہ ہوگئے

    اسلام آباد:سابق صدر آصف علی زرداری اچانک دبئی پہنچ گئے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری آج امارات ایئرلائن کی پروازای کے 603 سے اچانک دبئی روانہ ہوگئے ہیں۔

     

     

    ذرایع کے مطابق آصف علی زرداری چند دن دبئی قیام کے بعد وطن واپس پہنچیں گے۔

     

     

    یاد رہے کہ کل ہی حکومتی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سوموار والے سب ملکر  سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا

     

     

    حکومتی اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

     

     

    یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے قائدین کل صبح مشترکہ پریس کانفرنس میں اہم اعلان کریں گے، اور پریس کانفرنس کے بعد وکلاء کے ہمراہ مشترکہ طور پر سپریم کورٹ جائیں گے، جہاں سپریم کورٹ بارکی نظرثانی ودیگردرخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

     

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی ، جے یو آئی (ف) سپریم کورٹ جائیں گے، اور درخواستگزاروں میں ایم کیوایم، اےاین پی، بی این پی، باپ اور دیگر اتحادی جماعتیں بھی شامل ہوں گی۔

     

    اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعت جاری ہے، حمزہ شہباز اکثریتی ووٹ لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، چوہدری پرویزکی درخواست پررات ایک بجےپھرعدالت کوکھولاگیا، سیاسی جماعت کےافرادنےسپریم کورٹ کی دیواریں پھلانگیں۔

    وزیرقانون نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کے5سابق صدورنےبھی فل کورٹ کامطالبہ کیا، حمزہ شہبازکےوکلاء بھی مقدمےمیں فل کورٹ کےحق میں ہیں،جب کہ انصاف اورشفافیت کا تقاضہ بھی ہے 63 اے کی تشریح کا کیس تمام جج سنیں۔

     

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی پارٹی قائد کی ہدايت کے مطابق ووٹ دينے کے پابند ہيں، اور ہم آئین اور قانون کے ساتھ اپنے حق کی آواز اٹھانے پر بھی یقین رکھتے ہیں، اداروں کے خلاف الزامات لگانے کی بات کو مسترد کرتے ہیں، اور اداروں کی عزت اور تکریم کو معتبر جانتے ہیں۔

     

    لیکن ان وعدوں کے باوجود اس وقت سابق صدرآصف علی زرداری کی اچانک روانگی کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے

  • حکومت اپنی مدت پوری کرےگی، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد کیا جائے،پی ڈی ایم

    حکومت اپنی مدت پوری کرےگی، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد کیا جائے،پی ڈی ایم

    وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پنجاب کے انتخابات کسی کی مقبولیت اور غیر مقبولیت کا تعین نہیں کر رہے، مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کا اجلاس ہوا،یہ صرف20 نشستوں پر الیکشن تھا اس میں ہمارے ووٹ بڑھے ہیں،جھوٹ، فتنوں اور سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، حکومت اپنی مدت پوری کرےگی.

    ماڈل ٹاون لاہور میں اتحادیوں کے اجلاس کے بعد تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ضمنی الیکشن میں ن لیگ نے 2018سےزیادہ ووٹ لیے،عمران خان سازش کے ذریعے اقتدار تک پہنچا،عمران خان کی وجہ سے پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوا،ہماری قیادت نے ملک کی خاطر قربانیاں دیں ،جیلیں کاٹیں،شام تک دھاندلی کا شور مچاتے رہے،رزلٹ آنا شروع ہوگیا تو خاموش ہوگئے،ان کو مرضی کے چیف جسٹس چاہئے،نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے نہیں ہونے چاہییں،کسی کی ذاتی خواہش پر فیصلے نہیں کریں گے،ضمنی الیکشن میں ہم نے آپ سے پانچ نشستیں چھینی ہیں،کس بات کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں، یہ طوفان جو اٹھایا گیا ہے یہ تھمے گا اور اس کے آگے بند بھی باندھا جائے گا، اس جھوٹ اور فتنے سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہمارے ممبر توڑے جائیں تو وہ حاجی بن جاتے ہیں، اگر عمران خان کے ساتھی انہیں ڈنکے کی چوٹ پر چھوڑ جائیں تو وہ برے بن جاتے ہیں،یہ وہ شخص ہے جس پر شیاطین اترتے ہیں،یہ گمراہ آدمی ہے اور اس نے گمراہوں کا ایک گروہ تیار کیا ہے جو ہر جگہ موجود ہے، بعض لوگ ابھی تک اپنی اصلاح کے لئے تیار نہیں ہیں، ایک جھوٹا جو سازش کر کے بچہ جمہورہ بن کر اقتدار میں آیا تھا وہ ووٹ کو عزت دو کی بات کرتا ہے، ہماری جماعتوں نے اس ملک میں آئین کی سربلندی کے لئے جیلیں کاٹیں، جلا وطنی برداشت کی، جانی و مالی قربانیاں دی ہیں،عمران خان پرویز مشرف کے گھٹنوں پر بوٹ پالش کرنے کے لئے جھکا تھا ،اس شخص کے چار سال کے کرتوتوں کی وجہ سے پاکستان معاشی دیوالیہ پن کی دہلیز پر کھڑا ہے،ہمیں پیچھے ہٹنا اور اپنی سیاست بچانا خوب آتا تھا لیکن ہم نے پاکستان کے وسیع مفاد میں کانٹوں کا ہار اپنے گلے میں ڈالا، ہمیں معلوم تھا کہ بارودی سرنگیں ڈالی ہوئی ہیں لیکن ہم اپنے ملک کو چھوڑ کر نہیں بھاگے.

    وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں صحافیوں کو زنجیریں پہنائی گئیں، سیاسی کارکنان کو اختلاف رائے پر جیلوں میں ڈالا گیا،نیب کے پرانے قانون کی حمایت کرنے والا آئین اور جمہوریت کا دوست نہیں ہو سکتا، لوگوں کو رسوا کیا اور بدنام کیا، پونے چار سال یہ ثبوت پیش نہیں کر سکے، پچھلے چار سال اخبار کی خبروں پر نیب کارروائی کرتا تھا، اب کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ ،آج کے اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کرتا؟ برسوں سے زیر التواء فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہونا چاہئے، 20 میں سے 15 سیٹیں پی ٹی آئی جیتی تو کہا گیا کہ الیکشن کمشنر جانبدار ہے، وہ استعفیٰ دے، پی ٹی آئی کو مرضی کا چیف جسٹس، مرضی کا چیف آف آرمی اسٹاف، مرضی کا وزیراعظم، مرضی کا میڈیا چاہئے،یہ سب دے سکتے ہیں تو نام نہاد امیر المومنین کے سینے میں ٹھنڈ پڑے گی.

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ 63 اے کی تشریح پر عدالتی فیصلے پر ہمارے تحفظات ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ آئین کی روح سے متصادم ہے،سپریم کورٹ بار کی نظرثانی کی پٹیشن سپریم کورٹ میں کئی دنوں سے پڑی ہوئی ہے، ہماری اپیل ہے کہ اس نظرثانی پٹیشن کو فل کورٹ سنے اور اس پر جلد از جلد فیصلہ دیا جائے، آئین میں اختیارات کی تقسیم واضح ہے، قانون سازی پارلیمان کا حق ہے، اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے، فتنہ عمرانیہ چاہتا ہے کہ عدالتوں کے کندھوں پر چڑھ کر آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کروائے، عمران خان اداروں کو متنازعہ بنانے کی سازش کر رہا ہے،عمران خان کے ساتھی کہتے ہیں کہ ان کے منہ کو خون لگا ہوا ہے، جب فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق آتا ہے تو یہ ٹارگٹ کر دیتے ہیں، عمران کے شیطانی عمل کا ٹکا کر جواب دیا جائے گا، جسے پانچ سیٹیں ملی ہیں وہ الیکشن کمیشن کی تحسین کر رہا ہے اور جسے 15 ملی ہیں وہ رو رہا ہے،قانون سازی پارلیمان کا حق ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،قانون سازی پارلیما ن کا حق ہے ہم سمجھتے ہیں اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے.

    جے یو آئی رہنما اکرم درانی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے،سپریم کورٹ عمران خان کے حق میں بات کرے تو ٹھیک،عمران خان نے ملک کے ٹکڑے ہونے کی بات کی ،عمران خان اداروں کی تذلیل کررہے ہیں،پاکستان کی معیشت کو انہوں نے تباہ وبرباد کیا،عمران خان ایک ایجنڈے پر آئے ہیں، عمران خان اس ایجنڈے کو ملک کے کونے کونے میں پھیلا رہے ہیں،بڑوں کا ادب ہمارے کلچر کا حصہ تھا، اسے ختم کر دیا گیا.

  • وزیراعظم اور وزیرخارجہ میں ون ٹو ون ملاقات، ملک کے اہم معاملات زیر بحث

    وزیراعظم اور وزیرخارجہ میں ون ٹو ون ملاقات، ملک کے اہم معاملات زیر بحث

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درمیان ایک ون ٹو ون ملاقات ہوئی جس میں ملک اہم معاملات پر ایک دوسرے سے اظہار خیال کیا گیا.

    وزیر اعظم آفس زرائع کے مطابق: شہباز شریف نے وزیر خارجہ سے منگل کو ون ٹو ون ملاقات ہوئی ہے جس میں ملک اہم عمور پر گفتگو کی گئی.

    انہوں نے مزید بتایا کہ: وزیراعظم نے وزیر خارجہ بلاول زرداری کے اقدامات کو سراہا اور دونوں نے مل جل ملکی معیشت اور فارن پالیسی کو بہتر بنانے کی ایک دوسرے کو یقین دہانی کروائی،

    ان کے مطابق: اس ون ٹو ون ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بالخصوص اتحادی جماعتوں کی جانب سے منظرعام پر آنے والے تحفظات کے معاملات پر بھی دونوں نے ایک دوسرے سے بحث کی اور تمام اتحادیوں کو ساتھ ملا کر حکومت کو چلانے پر اتفاق کیا.

    اس اہم ملاقات میں دونوں نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے پر بالخصوص زور دیا