Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • وزیرِ اعظم  کی چیف جسٹس کو  لاپتا افراد کے حوالے سے مؤثر اقدامات  کی  یقین دہانی

    وزیرِ اعظم کی چیف جسٹس کو لاپتا افراد کے حوالے سے مؤثر اقدامات کی یقین دہانی

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے چیف جسٹس ہاؤس میں ملاقات کی –

    باغی ٹی وی :وزیرِاعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی سے چیف جسٹس ہاؤس میں ملاقات کی، وزیرِ اعظم نے چیف جسٹس کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیرِ اعظم نے چیف جسٹس کے جنوبی پنجاب، اندرون سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں کا دورہ کرنے اور ملک میں انصاف کی مؤثر و بروقت فراہمی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے اقدام کو سراہا۔

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے ملکی معاشی صورتحال اور معاشی و سیکیورٹی چیلنجز پر بھی گفتگو کی وزیرِ اعظم نے ملک کی مختلف عدالتوں میں طویل مدت سے زیر التوا ٹیکس تنازعات کے حوالے سے آگاہ کیا وزیرِ اعظم نے چیف جسٹس سے ان کیسز میں میرٹ پر جلد فیصلوں کی استدعا کی۔

    ننکانہ:گورنمنٹ ویمن کالج بچیکی میں اقلیتی لیکچرار کو ہراسانی کا سامنا، کارروائی التوا کا شکار

    چیف جسٹس نے وزیرِ اعظم سے نظام انصاف میں بہتری لانے کیلئے تجاویز بھی مانگ لیں اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وزیرِاعظم کی جانب سے نظام انصاف کی بہتری کیلئے کی گئی گفتگو کا خیر مقدم کیاوزیرِ اعظم نے چیف جسٹس کو لاپتا افراد کے حوالے سے مؤثر اقدامات میں تیزی لانے کی بھی یقین دہانی کروائی۔

    ملاقات میں وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، رجسٹرار سپریم کورٹ محمد سلیم خان، سیکریٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان تنزیلہ صباحت بھی شریک تھے۔

    اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات

    دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کی۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی ملاقات چیف جسٹس کی ریفارمز ایجنڈے کا حصہ ہے، چیف جسٹس نے عدالتی پالیسی ساز کمیٹی اجلاس کے ایجنڈا بھیج کر تجاویز مانگی تھیں، ملاقات میں چیف جسٹس نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی پالیسی سازی پر اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لوں گا، اپوزیشن سے بھی تجاویز لیں گے تاکہ اصلاحات غیرمتنازع اور پائیدار ہوں۔

    چاہت فتح علی خان نے ’چل چھیاں چھیاں‘ کا ری میک بھی بنا دیا

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ وزیر قانون اور مشیر احمد چیمہ بھی تھے ملاقات میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن بھی شریک ہوئیں، چیف جسٹس کی جانب سے وزیراعظم کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی-

  • چیف جسٹس سے اطالوی  سفیر کی ملاقات

    چیف جسٹس سے اطالوی سفیر کی ملاقات

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے پاکستان میں تعینات اٹلی کی سفیر نے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان اور اٹلی کے درمیان عدالتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ’کمرشل لٹیگیشن کوریڈور‘ کے قیام کا اعلان کیا، چیف جسٹس نے کہاکہ تجارتی تنازعات کے فوری حل سے معیشت کو فروغ ملے گا، پاکستانی عدلیہ آئین کی تشریح میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں اٹلی اور پاکستان کے عدالتی نظام میں یکسانیت پر گفتگو کی گئی، جبکہ عدالتی تبادلے اور تربیتی پروگراموں پر غور کیا گیا چیف جسٹس نے کہاکہ پاکستانی عدالتی اصلاحات میں شفافیت اور عوامی شمولیت ضروری ہےاطالوی سفیر نے کہاکہ پاکستانی برادری اٹلی میں اہم کردار ادا کررہی ہے، انہوں نے عدالتی اصلاحات میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    پی ٹی آئی میں کسی کا مستقبل محفوظ نہیں، شیر افضل مروت

    ایلون مسک کو ”رائل سوسائٹی“ سے نکالے جانے کا امکان

    کرم روڈ پر 120 سکیورٹی پوسٹیں قائم کی جائیں گی،خیبر پختونخوا کابینہ

  • لاہور ہائیکورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا معاملہ، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس کل ہوگا

    لاہور ہائیکورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا معاملہ، جوڈیشل کمیشن کا اجلاس کل ہوگا

    لاہور ہائیکورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا معاملہ،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس کل 6 فروری کو ہوگا-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس کل 6فروری کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوگا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس سپریم کورٹ کمیٹی روم میں دن 2 بجے ہوگا، جوڈیشل کمیشن کو 10 ایڈیشنل ججز کیلئے 49 نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں، 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کیلئے 4 ڈسٹرکٹ سیشن ججز اور 45 سینئر وکلاء کے ناموں پر غور ہوگا۔

    لاہور ہائیکورٹ کیلئے 4 ڈسٹرکٹ سیشن ججز کے ناموں پر غور ہوگاجن میں ڈسٹرکٹ سیشن جج قیصر نذیر بٹ، ڈسٹرکٹ سیشن جج محمد اکمل خان، ڈسٹرکٹ سیشن جج جزیلہ اسلم، ڈسٹرکٹ سیشن جج ابہر گل خان کے ناموں پر غور ہوگا، اجلاس میں 45سینئر وکلاء کے ناموں پر غور ہوگا۔

    ’وہ بہترین آپریشن تھا‘ٹرمپ کی نیتن یاہو کے لبنان میں پیجر دھماکوں کی تعریف

    جبکہ اجلاس میں ایڈووکیٹ عدنان شجاع بٹ، ایان طارق بھٹہ، امبرین انور راجہ اسد محمود عباسی،عصمہ حامد،بشریٰ قمر ، اقبال احمد خان، سلطان محمود، غلام سرور ،حیدر رسول مرزا، حارث عظمت، حسیب شکور پراچہ ، حسن نواز مخدوم، ہماں اعجاز زمان ، خالد اسحاق، ملک جاوید اقبال وئیں، ملک محمد اویس خالد کے ناموں پر غور ہوگا۔

    ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی پلیئرز کی رینکنگ جاری،محمد رضوان بابر اعظم کی تنزلی

    اسی طرح اجلاس میں ملک وقار حیدر اعوان،میاں بلال بشیر، مغیث اسلم ملک ، محمد اورنگزیب خان، محمد جواد ظفر، محمد نوید فرحان ، نوازش علی پیرزادہ، ساجد خان تنولی، ثاقب جیلانی ، محمد زبیر خالد، منور السلام، مقتدر اختر شبیر مشتاق احمد مہل، نجف مزمل خان، نوید احمد خواجہ،قادر بخش، قاسم علی چوہان، رافع زیشان جاوید الطاف ، رانا شمشاد خان، رضوان اختر اعوان، صباحت رضوی سلمان احمد، سمیعہ خالد، سردار اکبر علی شیغن اعجاز، سید احسن رضا کاظمی ، انتخاب حسین شاہ اور عثمان اکرم ساہی کے ناموں پر غور ہوگا۔

    یومِ یکجہتی کشمیر: ملک بھر میں جوش و خروش سے ریلیوں کا انعقاد

  • جوڈیشل آرڈر نہ مان کر    قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    بینچز اختیارات کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے تین ججز نےچیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    آئینی بینچ کے سربرا ہ جسٹس امین الدین خان کو بھی تینوں ججزنے خط لکھا ہے، خط جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نےلکھا،تینوں ججز کی جانب سے خط میں بینچ اختیارات سے متعلق کیس کا ذکر کیا گیا،خط میں کہا گیا کہ جسٹس عقیل عباسی کو 16 جنوری کو بینچ میں شامل کیا گیا،جسٹس عقیل عباسی سندھ ہائی کورٹ میں کیس سن چکے ہیں،خط میں 20جنوری کو کیس سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کی شکایت کی گئی،خط میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی 17 جنوری اجلاس کا ذکر کیا گیا،جسٹس منصورعلی شاہ نےکمیٹی کو آگاہ کیاا ان کا نقطہ نظر ریکارڈ پر ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کمیٹی اجلاس میں شرکت سے انکار کیاجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا انہیں کمیٹی میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں کمیٹی کو پہلے والا بینچ تشکیل دیکر 20 جنوری کو سماعت فکس کر سکتی تھی،جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے معاملے کو توہین عدالت قرار دیا،

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • چیف جسٹس کی  سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران  سے ملاقات

    چیف جسٹس کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ملاقات

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحیی آفریدی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے داران سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: اعلامیے کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس عائشہ ملک بھی ملاقات میں شریک تھیں،فوری اور حکم امتناع کے معاملات کی جلد سماعت پر غور کیا گیا، چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے مطالبات کو قبول کیا-

    اعلامیے کے مطابق فوری نوعیت کے معاملات فوری بنیادوں پر سماعت کیلئے مقرر کرنے پر اتفاق ہوا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے تمام ججز کا شکریہ ادا کیا، فوری نوعیت کے معاملات فوری بنیادوں پر سماعت کے لیے مقرر کرنے پر اتفاق ہوا، فوری نوعیت کی درخواستوں میں وضاحت کے ساتھ ثبوت فراہم کرنا ہو گا، سرکاری ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دھمکی آمیز یا غیر موافق کارروائی کو فوری مقرر کیا جائے گا،کسی بھی دھمکی آمیز کارروائی کے ثبوت کے ساتھ درخواست جمع کروانا ضروری ہو گا-

    بسکونی کی پریمیئم بسکٹ رینج کو ‘ہوم برانڈ آف دی ایئر’ ایف ایم سی جی ایشیا ایوارڈز 2024 میں اعزاز

    پنجاب:جنگلی جانوروں پر تشدد، قبضہ اور دیگر جرائم پر کارروائی کیلئے عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ

    پی ایس ایل ڈرافٹ میں شامل کیے جانے پر احمد شہزاد بورڈ پر برس پڑے

  • حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان، یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے اور وہ ہر کیس کو اپنے انداز سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے ججز کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے، اور ان پر تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر وہ تنقید تعمیراتی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ ان کے چیف جسٹس پاکستان بننے کا فیصلہ بہت جلدی میں ہوا تھا اور اس وقت وہ اپنی حلف برداری کے لیے نیا سوٹ تک نہیں خرید سکے تھے۔ انہوں نے عدلیہ کے اندر اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ میں کئی ریفارمز کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ہائیکورٹ کی اتھارٹی کے احترام کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہائیکورٹ کے ماتحت ہے، اس لیے براہ راست ہائیکورٹ کی اتھارٹی یا ماتحت عدلیہ میں مداخلت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی سمت کو تبدیل کر کے انصاف کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

    ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے دورے کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ جب وہ کوئٹہ گئے تھے، تو بار ایسوسی ایشنز نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے شکایات کیں۔ اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آفریدی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا ایشو ان کے دل میں گہرا اثر چھوڑ گیا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

  • چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اجلاس کی نوعیت اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس دوران مختلف اقدامات اور اصلاحات پر بات چیت کی گئی، جو مستقبل میں عدالتی عمل کو مزید موثر، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے اہم ہوں گے۔

    اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان اصلاحات کا مقصد عدالتی عمل کو مزید مؤثر اور عوام کے لیے قابل رسائی بنانا تھا۔عدالتی عمل کو ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا گیا تاکہ عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کی جانے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ اجلاس میں عوامی انصاف کی رسائی کو وسیع کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عدالتی نظام تک عوام کی رسائی کو آسان بنایا جائے، تاکہ عوام کو فوری انصاف مل سکے۔عدالتی شفافیت اور تیز انصاف کے حوالے سے اصلاحات کے بنیادی اہداف مقرر کیے گئے۔ ان اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کے عمل کو نہ صرف شفاف بنایا جائے گا بلکہ عوام کو تیز ترین انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ کیسز کے التواء کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اقدامات کیسز کی جلد سماعت اور ان کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم ہوں گے۔ عوام سے تجاویز لینے کے لیے "آن لائن فیڈبیک فارم” کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ عوام اپنی آراء اور شکایات کو براہ راست عدلیہ تک پہنچا سکیں اور عدالتی اصلاحات میں فعال کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں عدلیہ کے وقار کو عالمی سطح پر بحال کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا، خصوصاً ورلڈ جسٹس انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کا عزم کیا ہے، تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں مکمل اعتماد ہو۔اجلاس میں عدلیہ کے افسران کی تجاویز اور آراء پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں مختلف موضوعات پر تفصیل سے بحث کی گئی۔

    اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کے یہ اقدامات نہ صرف عدالتی نظام کی بہتری کی طرف اہم قدم ہیں، بلکہ عوام کے لیے انصاف کی رسائی کو آسان اور مؤثر بنائیں گے۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اصلاحات جلد نافذ کی جائیں گی اور عدلیہ میں اصلاحات کی یہ راہ عوام کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس،بچوں سے زیادتی ، چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل منظور

    بچوں کا جنسی استحصال،برطانوی وزیراعظم ایلون مسک کی پوسٹوں پر پھٹ پڑے

  • سپریم کورٹ ، تین ماہ میں کیسز نمٹانے کی تفصیلات جاری

    سپریم کورٹ ، تین ماہ میں کیسز نمٹانے کی تفصیلات جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 اکتوبر 2024 سے 3 جنوری 2025 تک کے دوران نمٹائے جانے والے مقدمات کی تفصیلات جاری کر دیں۔ عدالت عظمیٰ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، اس مدت میں مجموعی طور پر 7482 مقدمات نمٹائے گئے ہیں۔

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں عدالت نے مقدمات کے فوری فیصلے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالتی کارکردگی میں قابل ذکر بہتری آئی ہے۔ ان اقدامات میں مقدمات کی منصوبہ بندی، وسائل کا مؤثر استعمال اور انتظامی سطح پر بہتری شامل ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی نظام میں اصلاحات کا آغاز کیا ہے جن میں ای حلف نامہ (ای-افیڈیوٹ) اور فوری تصدیق شدہ کاپیوں کی فراہمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، قانونی ماہرین، فریقین اور سول سوسائٹی سے فیڈ بیک لینے کا عمل بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ عدالتی عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ملک کے دور دراز اضلاع کا دورہ کیا اور ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ ان دوروں کا مقصد ضلعی عدلیہ کے وسائل میں اضافہ کرنا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ اس دوران ضلعی عدالتوں کی کارکردگی کے جائزے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید وسائل فراہم کرنے کے اقدامات کیے گئے۔سپریم کورٹ میں اس مدت کے دوران نئے مقدمات کی تعداد 2,950 رہی۔ اس کے ساتھ ہی عدالتی نظام میں شفافیت اور مؤثریت کو بڑھانے کے لیے جدید آئی ٹی سسٹم کا انضمام بھی کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات عدلیہ کے عمل کو مزید تیز اور شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام کو عوامی ضروریات کے مطابق جوابدہ اور آسان بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو فوری اور انصاف پر مبنی فیصلے فراہم کرنا ہے۔سپریم کورٹ نے ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف مقدمات کے فیصلوں میں تیزی لائی ہے بلکہ عدالتی عمل میں شفافیت، عوامی اعتماد اور کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری کی کوشش کی ہے۔ اس سے نہ صرف قانونی ماہرین اور فریقین کا اعتماد بڑھا ہے بلکہ عوام کے لیے بھی عدلیہ تک رسائی کو مزید آسان اور مؤثر بنایا گیا ہے

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    خواتین کو بیہوش کر کے جنسی زیادتی ،ویڈیو بنانے والا ڈاکٹر گرفتار

    سیاحتی مقام پر جانے والی ایئر ہوسٹس کی عزت لٹ گئی

  • اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک خط لکھا گیا ہے۔

    یہ خط شریعت اپیلیٹ بینچ کے جج، قبلہ ایاز کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے، جس میں یونیورسٹی کے قائم مقام ریکٹر ڈاکٹر مختار احمد کی کارکردگی اور بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے دوران ان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مختار احمد کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے قائم مقام ریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم ان کا بورڈ آف گورننگ کے اجلاس میں رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے معاملات مزید پیچیدہ اور خراب ہوگئے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے میٹنگ مینٹس تیار نہیں کیے گئے، جس سے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور غفلت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ آف ٹرسٹی کا آئندہ اجلاس جدہ میں رکھا گیا ہے، جہاں یونیورسٹی کے نئے صدر کے انتخاب کا امکان ہے۔ تاہم، اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس نئے صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

    قبلہ ایاز نے خط میں یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور ممبر بورڈ آف ٹرسٹی یونیورسٹی کے معاملات کی رپورٹ طلب کرنی چاہیے تاکہ اس اہم مسئلے پر فوری کارروائی کی جا سکے اور یونیورسٹی کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔یہ خط اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی بحران اور اس کے اثرات کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ایک سنگین مداخلت کی علامت ہے، جو ادارے کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ
    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    جیل ریفارمز کمیٹی ممبر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا.

    چیف جسٹس جیل ریفارمز کمیٹی نے کل اڈیالہ جیل کا وزٹ کیا لیکن کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی قائم کردہ جیل ریفارمز کمیٹی احد چیمہ ، خدیجہ شاہ اور آمنہ قدیر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ہے کمیٹی ممبران کو جیل افسران کی جانب سے مختلف جگہوں کا دورہ کرایا گیا کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرایا گیا، جس پر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دلانے کے لئے یہ خط لکھ رہی ہوں جو ہماری سب کمیٹی کے اڈیالہ جیل، راولپنڈی کے دورے کے دوران پیش آیا۔ ہمارے وفد کو جیل انتظامیہ، بشمول سپرنٹنڈنٹ، نے جیل کی سہولتوں کا دورہ کرایا۔ہمارے دورے کے دوران ہم نے مشاہدہ کیا کہ تمام علاقوں کو ہمارے استقبال کے لئے تیار کیا گیا تھا اور ماحول بہت صاف ستھرا تھا۔ جیل کے عملے کی بڑی تعداد ہمارے ہمراہ تھی۔ ہم نے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں ہسپتال، خواتین کے بیرک، ذہنی بیماریوں اور نشے کی لت میں مبتلا قیدیوں کے لئے مخصوص علاقے شامل تھے۔ ہم نے سزائے موت کے قیدیوں کا بھی معائنہ کیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہماری سب کمیٹی قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کی حالتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قیدیوں کے حقوق کے معیارات، جیسے مینڈیلا رولز اور بنکاک رپورٹ کے مطابق جانچ رہی ہے۔ ملک گزشتہ دو سالوں سے بحران میں ہے، اور اس کا اثر جیلوں کی آبادی پر پڑا ہے، جہاں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے خط میں کہا کہ اڈیالہ جیل ایک ایسی جیل ہے جہاں گذشتہ دو سالوں میں اور تاریخاً بہت سے سیاسی قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی وہاں قید ہیں۔ ان سے رائے لینا ضروری تھا کیونکہ یہ ہمیں سیاسی قیدیوں کے حالات اور ان کے حقوق کے بارے میں اصلاحات کی سمت سمجھنے میں مدد دے سکتا تھا۔آپ نے جیل انتظامیہ اور حکومتی افسران کو ہمارے جیل اصلاحات کے اجلاسوں میں صاف طور پر ہدایت دی تھی کہ سب کمیٹی کو جیل کے تمام حصوں تک مکمل رسائی دی جائے اور ہمیں قیدیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں جیل عملے کی نگرانی کے بغیر آزادی کے ساتھ جیل کے اندر حرکت کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔بدقسمتی سے، ہمارے جیل کے دورے کے بعد جب ہم نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کمروں تک رسائی کی درخواست کی تو ہمیں ان تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ پہلے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ جیل کی سماعت میں ہیں، اور جب ہم نے اصرار کیا کہ ہم ان کے رہائشی حالات کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ڈی آئی جی عبدالرؤف رانا آئے اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہمیں ان تک رسائی نہیں دی جائے گی۔مجھے اس رسائی کے انکار پر بہت حیرانی ہوئی، کیونکہ جب میں خود قید تھی، تو ہم نے ان تمام کمیٹیوں اور حکومتی اراکین سے ملاقات کی تھی جو کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کی حالتوں کا جائزہ لینے آئی تھیں۔ ہم نے اپنی رائے دی تھی، جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیا حمزہ بھی شامل تھیں، جو سابقہ حکومت کی اراکین تھیں اور سیاسی قیدی بھی رہ چکی ہیں۔اس واقعے سے نہ صرف ہماری سب کمیٹی کی آزادی میں رکاوٹ آئی بلکہ اس سے قیدیوں کے حقوق کے بارے میں ہمارے جائزہ اور مشاہدے کی اہمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہم نے ہمیشہ جیلوں میں قیدیوں کی حالتوں کا معقول اور شفاف جائزہ لینے کی کوشش کی ہے تاکہ اصلاحات کی جا سکیں اور اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جیل اصلاحات کی نگرانی اور قیدیوں کے حقوق کی بہتری کے لئے مناسب اقدامات کریں۔

    قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ پاکستانی جیلوں میں بھی اصلاحات ہونگی،جیل اصلاحات کی کمیٹی مختلف جیلوں کا دورہ کر رہی ہے، ہم قیدیوں سے تاثرات پتہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ ہے، انسانی حقوق متاثر ہو رہے یا نہیں، میں خود بھی قیدی رہی ہوں، تمام دورے مکمل ہونے کے بعد ہم اپنی رپورٹ دیں گے، ہم سیاسی قیدی تھے، میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، نومئی کے مقدمے میں مجھے جیل میں ڈالا گیا تھا،ضمانت میر ا حق تھا بہت عرصے تک نہیں دی گئی، میری چیزیں جیل میں اندر نہیں آ سکتی تھیں، سزا یافتہ قیدیوں کے ساتھ مجھے رکھا گیا تھا حالانکہ مجھے سزا نہیں ہوئی تھی، اسکے باوجود،اور پھر مجھے بلوچستان بھی بھیجا، یہ کسی طرح بھی قانون کے مطابق نہیں ہے، جن لوگوں نے جرائم کئے اور وہ جیل میں ہیں، انکے ساتھ برتاؤ کو دیکھنا ہے

    لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ پنجاب اسمبلی کا شرمناک عمل ہے،حافظ نعیم

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر