Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک خط لکھا گیا ہے۔

    یہ خط شریعت اپیلیٹ بینچ کے جج، قبلہ ایاز کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے، جس میں یونیورسٹی کے قائم مقام ریکٹر ڈاکٹر مختار احمد کی کارکردگی اور بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے دوران ان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مختار احمد کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے قائم مقام ریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم ان کا بورڈ آف گورننگ کے اجلاس میں رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے معاملات مزید پیچیدہ اور خراب ہوگئے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے میٹنگ مینٹس تیار نہیں کیے گئے، جس سے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور غفلت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ آف ٹرسٹی کا آئندہ اجلاس جدہ میں رکھا گیا ہے، جہاں یونیورسٹی کے نئے صدر کے انتخاب کا امکان ہے۔ تاہم، اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس نئے صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

    قبلہ ایاز نے خط میں یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور ممبر بورڈ آف ٹرسٹی یونیورسٹی کے معاملات کی رپورٹ طلب کرنی چاہیے تاکہ اس اہم مسئلے پر فوری کارروائی کی جا سکے اور یونیورسٹی کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔یہ خط اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی بحران اور اس کے اثرات کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ایک سنگین مداخلت کی علامت ہے، جو ادارے کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ
    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    جیل ریفارمز کمیٹی ممبر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا.

    چیف جسٹس جیل ریفارمز کمیٹی نے کل اڈیالہ جیل کا وزٹ کیا لیکن کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی قائم کردہ جیل ریفارمز کمیٹی احد چیمہ ، خدیجہ شاہ اور آمنہ قدیر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ہے کمیٹی ممبران کو جیل افسران کی جانب سے مختلف جگہوں کا دورہ کرایا گیا کمیٹی کو عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرایا گیا، جس پر خدیجہ شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دلانے کے لئے یہ خط لکھ رہی ہوں جو ہماری سب کمیٹی کے اڈیالہ جیل، راولپنڈی کے دورے کے دوران پیش آیا۔ ہمارے وفد کو جیل انتظامیہ، بشمول سپرنٹنڈنٹ، نے جیل کی سہولتوں کا دورہ کرایا۔ہمارے دورے کے دوران ہم نے مشاہدہ کیا کہ تمام علاقوں کو ہمارے استقبال کے لئے تیار کیا گیا تھا اور ماحول بہت صاف ستھرا تھا۔ جیل کے عملے کی بڑی تعداد ہمارے ہمراہ تھی۔ ہم نے مختلف حصوں کا دورہ کیا، جن میں ہسپتال، خواتین کے بیرک، ذہنی بیماریوں اور نشے کی لت میں مبتلا قیدیوں کے لئے مخصوص علاقے شامل تھے۔ ہم نے سزائے موت کے قیدیوں کا بھی معائنہ کیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہماری سب کمیٹی قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کی حالتوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ قیدیوں کے حقوق کے معیارات، جیسے مینڈیلا رولز اور بنکاک رپورٹ کے مطابق جانچ رہی ہے۔ ملک گزشتہ دو سالوں سے بحران میں ہے، اور اس کا اثر جیلوں کی آبادی پر پڑا ہے، جہاں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے خط میں کہا کہ اڈیالہ جیل ایک ایسی جیل ہے جہاں گذشتہ دو سالوں میں اور تاریخاً بہت سے سیاسی قیدی رکھے گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی وہاں قید ہیں۔ ان سے رائے لینا ضروری تھا کیونکہ یہ ہمیں سیاسی قیدیوں کے حالات اور ان کے حقوق کے بارے میں اصلاحات کی سمت سمجھنے میں مدد دے سکتا تھا۔آپ نے جیل انتظامیہ اور حکومتی افسران کو ہمارے جیل اصلاحات کے اجلاسوں میں صاف طور پر ہدایت دی تھی کہ سب کمیٹی کو جیل کے تمام حصوں تک مکمل رسائی دی جائے اور ہمیں قیدیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں جیل عملے کی نگرانی کے بغیر آزادی کے ساتھ جیل کے اندر حرکت کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔بدقسمتی سے، ہمارے جیل کے دورے کے بعد جب ہم نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے کمروں تک رسائی کی درخواست کی تو ہمیں ان تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔ پہلے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ جیل کی سماعت میں ہیں، اور جب ہم نے اصرار کیا کہ ہم ان کے رہائشی حالات کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ڈی آئی جی عبدالرؤف رانا آئے اور انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہمیں ان تک رسائی نہیں دی جائے گی۔مجھے اس رسائی کے انکار پر بہت حیرانی ہوئی، کیونکہ جب میں خود قید تھی، تو ہم نے ان تمام کمیٹیوں اور حکومتی اراکین سے ملاقات کی تھی جو کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کی حالتوں کا جائزہ لینے آئی تھیں۔ ہم نے اپنی رائے دی تھی، جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیا حمزہ بھی شامل تھیں، جو سابقہ حکومت کی اراکین تھیں اور سیاسی قیدی بھی رہ چکی ہیں۔اس واقعے سے نہ صرف ہماری سب کمیٹی کی آزادی میں رکاوٹ آئی بلکہ اس سے قیدیوں کے حقوق کے بارے میں ہمارے جائزہ اور مشاہدے کی اہمیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ہم نے ہمیشہ جیلوں میں قیدیوں کی حالتوں کا معقول اور شفاف جائزہ لینے کی کوشش کی ہے تاکہ اصلاحات کی جا سکیں اور اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جیل اصلاحات کی نگرانی اور قیدیوں کے حقوق کی بہتری کے لئے مناسب اقدامات کریں۔

    قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ پاکستانی جیلوں میں بھی اصلاحات ہونگی،جیل اصلاحات کی کمیٹی مختلف جیلوں کا دورہ کر رہی ہے، ہم قیدیوں سے تاثرات پتہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ ہے، انسانی حقوق متاثر ہو رہے یا نہیں، میں خود بھی قیدی رہی ہوں، تمام دورے مکمل ہونے کے بعد ہم اپنی رپورٹ دیں گے، ہم سیاسی قیدی تھے، میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، نومئی کے مقدمے میں مجھے جیل میں ڈالا گیا تھا،ضمانت میر ا حق تھا بہت عرصے تک نہیں دی گئی، میری چیزیں جیل میں اندر نہیں آ سکتی تھیں، سزا یافتہ قیدیوں کے ساتھ مجھے رکھا گیا تھا حالانکہ مجھے سزا نہیں ہوئی تھی، اسکے باوجود،اور پھر مجھے بلوچستان بھی بھیجا، یہ کسی طرح بھی قانون کے مطابق نہیں ہے، جن لوگوں نے جرائم کئے اور وہ جیل میں ہیں، انکے ساتھ برتاؤ کو دیکھنا ہے

    لائیو اسٹاک ایمپلائز ایسوسی ایشن پنجاب کے انتخابات، شاہین گروپ کامیاب

    ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ پنجاب اسمبلی کا شرمناک عمل ہے،حافظ نعیم

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    چیف جسٹس آف پاکستان، یحییٰ خان آفریدی، آج سیشن کورٹ گھوٹکی پہنچے، جس کے ساتھ ہی شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ عدالت کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی گھوٹکی آمد کے موقع پر شہید صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا نے احتجاج کیا۔ شہید صحافی کے بچوں اور دیگر اہل خانہ نے چیف جسٹس کے روٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ نصراللہ گڈانی کے قتل کے معاملے کا از خود نوٹس لیں۔مظاہرین نے قومی شاہراہ پر کھڑے ہو کر احتجاج ریکارڈ کروایا اور نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کو ابھی تک پولیس نے گرفتار نہیں کیا، اور اس سنگین واقعے میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں تعینات رہ کر صورتحال پر قابو پایا۔ تاہم، مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی۔

    یاد رہے کہ نصراللہ گڈانی 2023 میں ایک انتہائی وحشیانہ حملے میں شہید ہوگئے تھے، جس کی تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں۔ ورثا کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے کیس میں سنجیدگی سے تفتیش نہیں کی جا رہی، جس کے باعث وہ چیف جسٹس سے مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔

    میر ماتھیلو :شہیدصحافی نصر اللہ گڈانی کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر احتجاجی ریلی نکالی گئی

    میرپور ماتھیلو:نصراللہ گڈانی قتل کیس،گرفتارملزم کوانسداددہشت گردی عدالت میں پیش کیاگیا

    میرپورماتھیلو:شہید صحافی نصراللہ گڈانی قتل کیس، ملزمان کی ضمانتیں کنفرم نہ ہوسکیں

  • بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس پاکستان یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کیس سے متعلق عدالتی ریفرنس پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا، جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں، ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پرکسی حد تک بات کی گئی ہے، سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے، تاہم فیئر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف 186 سے اتفاق کرتا ہوں، یہ ریفرنس شاید سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا موجب بنے،جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹر ویو کےکچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے، اس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضا میں دباؤ نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا، یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ آئینی طرز حکمرانی سے انحراف سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیرضروری اثر ڈالتا ہے، ایسے حالات میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ نے جرات مندانہ اختلاف کیا،ان ججزکا اختلاف بھلے نتائج تبدیل کرنے میں ناکام رہا مگر غیرجانبداری کے پائیدار اصولوں کا ثبوت ہے، اس نتیجے پرپہنچاکہ ذوالفقاربھٹو کیس میں ٹرائل اوراپیل میں فیئرٹرائل کے تقاضوں کوپورا نہیں کیا گیا۔

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری کی دبئی میں گلوبل ویمنز فورم میں شرکت

    بھٹو ریفرنس فیصلے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ جاری

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلنے کا عزم

  • سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کیلئے آن لائن فیڈ بیک فارم کا اجرا کر دیا

    سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کیلئے آن لائن فیڈ بیک فارم کا اجرا کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کے لیے آن لائن فیڈ بیک فارم کا اجرا کر دیا-

    باغی ٹی وی: اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں نمائندہ سپریم کورٹ بار محمد اورنگزیب خان، رجسٹرار محمد سلیم خان اور دیگر نے شرکت کی، اجلاس کا مقصد عدالتی اصلاحات، آئی ٹی انفراسٹرکچر میں پیش رفت کا جائزہ لینا تھا، اجلاس کا مقصد کیس مینجمنٹ، تربیتی پروگرام، فیڈبیک میکا نزم کے قیام کا جائزہ لینا تھا۔

    اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اصلاحات عدالتی نظام میں تبدیلی لانے کے لیے ہیں، یہ اصلاحات سپریم کورٹ سے لے کر ماتحت عدالتوں تک نافذ کی جائیں گی اجلاس کے دوران چیف جسٹس نے عدالتی اصلاحات میں ججز، وکلا اور عوام کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا، چیف جسٹس کو آن لائن فیڈبیک فارم، اسٹیک ہولڈرز کی شرکت برائے عدالتی اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔

    اعلامیے کے مطابق فیڈ بیک فارم اب سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، عوام سے خدمات کی بہتری اور شفافیت کے حوالے سے تجاویز طلب کی جا رہی ہیں، چیف جسٹس نے عدالتی اصلاحات کے تمام شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، اجلاس کا اختتام ایک شفاف، مؤثر اور جامع عدالتی نظام کے قیام کے عزم کے ساتھ ہوا۔

  • سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف 30 شکایات خارج کردی،جبکہ 5 شکایات پر ججز سے جواب طلب کرلیا,سپریم کورٹ ترجمان نے جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاسسسپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جو سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز جناب جسٹس منصور علی شاہ، جناب جسٹس منیب اختر، جناب جسٹس عامر فاروق (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) اور جناب جسٹس محمد ہاشم کاکڑ (چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں دستور کے آرٹیکل 209(8) اور 2005 کے سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کی بنیاد پر ججوں کے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کی بابت ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی جناب جسٹس منیب اختر کریں گے، تاکہ ضابطہ اخلاق اور انکوائری کے طریقہ کار میں مناسب ترامیم کی تجویز پیش کی جا سکے۔

    کونسل نے دستور کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر کردہ 35 شکایات کا جائزہ لیا۔ ان شکایات میں سے 30 شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ 5 شکایات پر جواب طلب کر لیا گیا ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • چیف جسٹس کا  گوادر سب جیل کا دورہ

    چیف جسٹس کا گوادر سب جیل کا دورہ

    اسلا م آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے گوادر سب جیل کا دورہ کیا۔

    باغی ٹی وی: اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ملک کے دور دراز اضلاع کے دورے جاری رکھتے ہوئے گوا در سب جیل کا دورہ کیا اس دوران چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور دیگر ججز بھی ان کے ہمراہ تھے چیف جسٹس نے انڈر ٹرائل قید یوں کو فراہم کی جانےوالی سہولیات کا جائزہ لیا، انہوں نےقیدیوں کی فلاح و بہبود اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر زور دیا۔

    علاوہ ازیں چیف جسٹس نے بلوچستان کے ہر ڈویژن میں جیل کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا، حکام نے چیف جسٹس کو مکران اور ژوب میں جیلوں کے قیام کی یقین دہانی کروائی، یہ دورہ قیدیوں کی حالت بہتر بنانے اور جیل کے نظام میں بہتری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

  • لندن،قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کی تحقیقات بند

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کی تحقیقات بند

    لندن: لندن پولیس نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر مبینہ حملے کے کیس کی تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حملے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تھے، جس دوران پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔

    پاکستانی ہائی کمیشن نے اس حملے کے حوالے سے پولیس کو شکایت درج کرائی تھی اور دفتر خارجہ نے ہائی کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ واقعے کی فوٹیج کا جائزہ لے کر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ پاکستان ہائی کمیشن نے تمام دستیاب شواہد پولیس کے حوالے کیے تھے، لیکن پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چونکہ حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور کوئی اور نقصان بھی نہیں پہنچا، اس لیے وہ کسی پر فرد جرم عائد نہیں کر سکتی۔پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مزید تحقیقات یا قانونی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت نے 23 مبینہ ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے اور ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے تاکہ ان افراد کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے۔

    یہ واقعہ مڈل ٹیمپل میں ایک بینچر تقریب کے دوران پیش آیا، جس میں پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور کارکنوں نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کی گاڑی پر حملہ کیا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں، جن میں ملیکہ بخاری، ذلفی بخاری، اور اظہر مشوانی شامل تھے، نے اس احتجاجی مظاہرے میں خطاب کیا تھا۔

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

  • 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا،

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے خط26 آئینی ترمیم درخواستوں پر سماعت کیلئے تحریر کیا اور کہا کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیں۔چیف جسٹس چیف جسٹس آفریدی رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواستیں سماعت کیلئے لگانے کا حکم دیں،خط میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے، اس کے فیصلے میں کسی واضح معیار اور طریقہ کار کا فقدان ہے۔ ججز کی تقرری کا عمل صرف "ایگزیکٹو کی ووٹنگ طاقت” کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جو کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کمیشن کو دی گئی ہے۔ ا ان تقرریوں کا کوئی معقول جواز نہیں ہے اور کمیشن کی میٹنگز کے منٹس عوام کے سامنے نہیں لائے جا رہے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مزید کہا کہ کمیشن کا اصل مقصد آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری ہے، جو کہ عوامی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ تاہم، ان تقرریوں کے متعلق میٹنگز کے منٹس کو عوام کے ساتھ شیئر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 19 اے کی خلاف ورزی ہے، جو ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا کہ عدلیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے معلومات تک رسائی کی آزادی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے فیصلوں کے بارے میں معلومات کا شائع نہ کرنا عوام میں مشکوک اندازوں کو جنم دیتا ہے اور عدلیہ کی اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کا یقین نہیں ہوتا۔ شفاف طریقے سے تقرریوں کی اطلاعات دینا عدلیہ کی ساکھ کو بہتر بنانے اور ججز کو اپنے فیصلوں میں آزادی اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے، جو کہ جمہوریت کے بنیادی ستون کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو اجلاس طلب کیا جائے تاکہ 26ویں آئینی ترمیم پر زیر التوا درخواستوں کی سماعت کی جا سکے۔ انہوں نے مزید درخواست کی کہ پاکستان کے نئے عدالتی کمیشن کا اجلاس اس وقت تک ملتوی کر دیا جائے جب تک وہ درخواستیں فل کورٹ کے سامنے نہیں آ جاتیں، اور کمیشن اپنے طریقہ کار کے اصول آئین کے آرٹیکل 175 اے (4) کے تحت وضع نہیں کرتا۔عدالتی کمیشن کے فیصلوں کی شفافیت اور معلومات تک رسائی کا حق ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔”

    خط میں کہا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی گئی تھی،26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دو درجن سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں منظور بھی ہو سکتی ہیں اور مسترد بھی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست منظور ہوتی ہیں تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی وقت ختم ہو جائے گی ایسی صورتحال ادارے اور ممبران کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی،

  • چیف جسٹس کا اِن چیمبر سماعتوں کیلئے ججز کی تعداد بڑھانے پر  اتفاق

    چیف جسٹس کا اِن چیمبر سماعتوں کیلئے ججز کی تعداد بڑھانے پر اتفاق

    اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطا اور جنرل سیکرٹری سلمان منصور نے پیر کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں وکلا کو درپیش مسائل کے حوالے سے مختلف امور زیر بحث آئے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بار ایسوسی ایشن کے بہت سے جائز مطالبات کی تائید کی چیف جسٹس نے ضمانت کی درخواستیں دائری کے فوری بعد سماعت کیلئےمقرر کرنے کی حامی بھری، چیف جسٹس نےعبوری و حکم امتناع کےمقدمات کی اِن چیمبر سما عت کی بحالی پر بھی حامی بھری۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نامزد ججز پورا ہفتہ اِن چیمبر سماعت جاری رکھیں گے چیف جسٹس نے اِن چیمبر سماعتوں کیلئے ججز کی تعداد بڑھانے پر بھی اتفاق کیا،چیف جسٹس نے وکلا کی ویڈیو لنک پر پیش ہونے کی درخواستیں سماعت کے روز ہی سننے کی منظوری دی۔

    پی ٹی آئی احتجاج:مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے

    اعلامیے کے مطابق اس اقدام سے دور دراز علاقے سے عدالت میں پیش ہونے والے وکلاء کیلئے آسانی پیدا ہوگی، چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نظام کو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے بہتر و مؤثر بنایا جا رہا ہے، آن لائن سہولیات کیلئے تمام ایڈووکیٹ اپنے ای میلز اور واٹس ایپ نمبرز درج کروائیں، چیف جسٹس نے قانونی برادری کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    غزہ : اسرائیل انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر …