Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • سپریم کورٹ، وکیل کی چیف جسٹس سے تلخ کلامی،وکیل کو روسٹرم سے ہٹا دیا گیا

    سپریم کورٹ، وکیل کی چیف جسٹس سے تلخ کلامی،وکیل کو روسٹرم سے ہٹا دیا گیا

    آپ سمجھتے ہیں اخلاقیات صرف آپ کو آتی ہیں،مجھے بھی عزت دی جائے، وکیل کا چیف جسٹس سے مکالمہ
    اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے وکیل اکرام چوہدری میں تلخ کلامی ہوئی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے سوال کیا کہ ملک بھر میں کتنے گوردوارے ہیں؟وکیل اکرام چوہدری نے عدالت میں کہا کہ یہ مقدمہ 6 گوردواروں کا ہے، ملک بھر کی تفصیل گزشتہ سماعتوں میں جمع کرا چکے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ حقائق کیوں چھپانا چاہتے ہیں؟ سچ عوام کے سامنے آنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟جس پر وکیل نے کہا کہ تمام حقائق عدالت کو دے چکے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کچھ تو احترام کریں جس پر وکیل اکرام چوہدری نے کہا کہ بطور وکیل عدالت بھی میرا احترام کرے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکرام چوہدری کو روسٹرم سے ہٹنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اخلاق تو ختم ہی ہو گیا ہے،

    وکیل اکرام چوہدری نے کہا کہ وکالت کرتے ہوئے 35 سال ہوگئے ہیں، آپ سمجھتے ہیں اخلاقیات صرف آپ کو ہی آتی ہیں، بار کا سینئر رکن ہوں مجھے بھی عزت دی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ ہمیں آپ سے نہیں متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین سے بات کرنی ہے

    متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین نے عدالت میں کہا کہ ملک بھر میں فعال گوردواروں کی تعداد 19 ہے، چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ تمام گوردواروں کی تفصیلات اور تصاویر ویب سائٹ پر کیوں نہیں ڈالتے؟انگریز کا دور ختم ہو چکا ہے اب سر سر نہ کیا کریں، غلامی کی زنجیریں توڑ دیں

    عدالت نے تمام گوردواروں اور مندروں کی تصاویر سمیت مکمل تفصیلات ویب سائٹ پر جاری کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مخصوص اقلیتوں اور عوام کی پراپرٹی ہے، ساری زمینیں ہتھیائی جاتی ہیں اس لیے حقائق چھپائے جا رہے ہیں، پہلے عدالت پر چڑھائی کر دو پھر جج کو سوال بھی نہ پوچھنے دو،

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسلام آباد میں مندر کی تعمیربارے بڑا بیان آ گیا

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ،ساتھ مزید کس کو زمین الاٹ کی گئی؟ عدالت میں نیا انکشاف

    مندر کی تعمیر پر اعتراض کرنے والے خواجہ آصف کی اپنی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    مندر کی تعمیر کے فیصلے کو فوری واپس لیا جائے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    اسلام آباد میں مندر کی تعمیر، مولانا فضل الرحمان کا موقف بھی آ گیا

    مندر کی تعمیر کی مخالفت وہ عناصر کر رہے ھیں جو پاکستان کے سافٹ امیج کے مخالف ہیں۔ لال مالہی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،چیف جسٹس عامر فاروق کی سنگل بینچ کے تمام مقدمات کی کازلسٹ منسوخ

    اسلام آباد ہائیکورٹ،چیف جسٹس عامر فاروق کی سنگل بینچ کے تمام مقدمات کی کازلسٹ منسوخ

    اسلام آباد ہائی کورٹ،چیف جسٹس عامر فاروق کی سنگل بینچ کے تمام مقدمات کی کازلسٹ منسوخ کر دی گئی

    بانی پی ٹی آئی اور وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم کی درخواستوں کی کازلسٹ بھی کینسل کر دی گئی،بانی پی ٹی آئی اور سکندر ذوالقرنین نے دو سرکاری ڈیفنس کونسل مقرر کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی ، درخواست میں کہا گیا تھا کہ سرکاری ڈیفنس کونسل مقرر کرکے حق جراح ختم کیا گیا ، کازلسٹ منسوخ ہونے سے بانی پی ٹی آئی اور وکیل سکندر ذوالقرنین کا کیس بھی کینسل ہوگیا،سائفر کیس میں ملزمان کے لیے سرکاری وکلا صفائی کے تقرر کے خلاف درخواست پر سماعت نا ہو سکی ،بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا ،بانی پی ٹی آئی نے گواہوں پر سرکاری وکلا صفائی کے ذریعے جرح کو چیلنج کیا تھا ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکلا کی عدم حاضری پر جرح کے لیے سرکاری وکلا کا تقرر کیا تھا،سائفر کیس کا فیصلہ آنے کے باعث درخواست پہلے ہی غیر موثر ہو چکی ہے

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    میں وعدے کر کے یوٹرن نہیں لیتا تھا، نواز شریف

    خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

     نواز شریف کے مخالف عبرت ناک انجام کو پہنچ رہے ہیں

    پاکستان کو نواز دو کے سلوگن سے مسلم لیگ ن نے انتخابی منشور جاری 

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

  • صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس،ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں،چیف جسٹس

    صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس،ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے کوئی اکھاڑہ یا پارلیمان نہیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں، سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور عامر میر کے وکیل جہانگیر جدون روسٹرم پر آئے-

    جہانگیر جدون نے کل کا حکمنامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ حکومت سے پوچھا جائے کہ عامر میر کیس میں عدالتی احکامات پرعمل ہوا یا نہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس حکومت سے پوچھیں؟ جس پر جہانگیر جدون نے کہا کہ وفاقی حکومت سے پوچھیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آرڈر بھی آپ کے خلاف پاس ہوگا، آپ کے موکل کیا ایک وزیر ہیں؟جہانگیر جدون نے کہا کہ جی وہ وزیر ہیں۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    چیف جسٹس نے پوچھا، کیا وہ بطور وزیر بے یارومددگار ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی وہ ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر وہ کون پراسرار ہے جو ملک چلا رہا ہے؟جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ سب کو پتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں مت کریں یہ کورٹ ہے اکھاڑہ نہیں، ہم اب از خود نوٹس نہیں لیں گے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صدر پریس ایسوسی ایشن کہہ رہے ہیں نوٹسز کی فہرست نہیں، ان کو لسٹ دیں یا نا دیں لیکن آ پ کے پاس تو ہوگی ، کیا کل کوئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں سر کوئی پیش نہیں ہوا، میں نے جے آئی ٹی کو بتا دیا تھا کیس چل رہا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت کریں گے، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں۔

    گھریلو تشدد کے الزامات، اینکر پرسن اشفاق اسحق ستی معطل

    چیف جسٹس نے صحافیوں کی جانب سے متفرق درخواست دائر نہ ہونے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تحریری طور پر ہمارے سامنے کچھ نہیں آئے گا ہم آرڈر کیسے جاری کریں، اب سپریم کورٹ میں تین رکنی کمیٹی ہے وہ طے کرتی ہے کہ درخواست آنے کے بعد طے کرے گی، کوئی بندہ اپنا کام کرنے کوتیارنہیں، ہم پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو دیکھ رہے ہیں، اس قانون سے متعلق کیس براہ راست نشرہوا تھا جسے پورے ملک نے دیکھا، ہمیں کوئی کاغذ تو دکھائیں ہم اس کیس میں آگے کیسے بڑھیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ توقع تھی کوئی تحریری درخواست آئے گی، جب تک ججز کمیٹی میں معاملہ نہ چلا جائےعدالت کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی، پہلے عدالت میں درخواست لے کر کارروائی کی تھی، اب قانون کے مطابق سسٹم بن چکا ہے، کمیٹی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، جے آئی ٹی کونوٹیفکشن کہاں ہے؟

    9وزیر اعظم،4عام انتخابات،2024انتخابات کتنےسابق وزرائے اعظم میدان میں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگرعدالت ایسے سوموٹولے تو بھی صحافی اعتراض کریں گے، سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے کوئی اکھاڑہ یا پارلیمان نہیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، تنقید سے اعتراض نہیں بلکہ قانون کی خلاف ورزی پر اعتراض ہے، عدالت قانون کے مطابق ہی چلے گی۔

    حیدر وحید ایڈووکیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ سٹیک ہولڈرز سے مل کر سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق بنائیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ایسا حکم جاری کر سکتی ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے کوئی قانون نہیں ہے، جوقانون ہے وہ صرف فوجداری کارروائی کیلئے ہے یوٹیوب پر ہتک عزت قانون تو لاگو ہوتا ہے لیکن کوئی ریگولیٹری قانون نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت قانون کی تشریح کر سکتی ہے جب قانون ہی نہیں تو کیا کریں؟ عدالت صرف سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بیٹھنے کی درخواست کر سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کل عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی، باضابطہ درخواست تو آئے ایسے حکم کیسے جاری کر سکتے ہیں۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے …

    صدر پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن کے باوجود نوٹسز واپس نہیں ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تنقید سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو یقین دہانی کرائی تھی اس پر قائم ہوں، نوٹس واپس کرنے کا طریقہ کار ہے۔

    عدالت نے آج کی سماعت کے حکم نامے میں لکھوایا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق ابصار عالم پر حملے کا ذکر کرنا بھول گئے تھے، عدالت نے ابصارعالم پرحملے کی تحقیقاتی رپورٹ بھی مانگ لی سپریم کورٹ نےپی ایف یوجے کو مقدمہ میں فریق بننے کی اجازت دے دی۔

    حکم نامہ میں کہا گیا کہ پریس ایسوسی ایشن میڈیا کی آزادی اور موجودہ حالات پر درخواست دائرکرنا چاہتی ہے، عدالت نے پریس ایسوسی ایشن کی درخواست ملنے پر رجسٹرار آفس کو فوری نمبر لگانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ رجسٹرار آفس درخواست ملتے ہی ججز کمیٹی کے سا منے پیش کرے اٹارنی جنرل نے انتخابات تک صحافیوں کو جاری نوٹسز پر کارروائی مؤخر کرنے کی یقین دہانی کرائی، اور کہا کہ الیکشن کے بعد دوبارہ نوٹسزجاری کئے جائیں گے،بعدا زاں سپریم کورٹ نے مزید سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

    کراچی میں صبح سویرے بارش سے سردی بڑھ گئی

  • تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    سپریم کورٹ،ایف ائی اے کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،ہراساں کیے جانے والے صحافی کورٹ میں پیش ہوئے،صحافیوں میں عبد القیوم صدیقی ، سہیل رشید، فیاض محمود اور ثاقب بشیر شامل تھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزارہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بار کے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے،سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟ صحافی نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بنچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بنچ نے طے کیا کہ 184 تین کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے،عبدالقیوم صدیقی آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کیس کو چلانا نہیں چاہتے، صحافی نے کہا کہ جب معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کے بنچ میں گیا تو کہا تھا کہ کیس نہیں چلانا چاہتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا، بتائیں کہ تب کیا درخواست تھی آپ کی اور اب کیا ہے،

    اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور پر تشدد ہوا کیا ان کا پتہ چلا کہ کون لوگ تھے؟کیا آپ ان کی شکلیں پہچان سکتے ہیں؟اسد طور نے کہا کہ جی بالکل میں ان کی شکلیں پہچان سکتا ہوں، جو ایف آئی آر دی تھی اس میں بھی میں تشدد کرنے والوں نے اپنا تعارف کروایا تھا.اسد طور نے درخواست واپس لینے کی استدعا کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسد طور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹا الزام لگایا ہے؟ اگر آپ پر دباؤ ہے تو ہم آپ کو پیچھے نہیں ہٹنے دیں گے، اسد طور نے کہا کہ میں ایف آئی آر کو اون کر رہا ہوں لیکن اس درخواست میں مجھے غیر ضروری طور پر شامل کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسد طور صاحب آپ کی مرضی نہیں ہے کہ ٹہلتے ہوئے آئیں اور کہیں کہ اپنی درخواست واپس لے رہا ہوں،کیا اسد طور کا کیس فعال ہے یا سرد خانے کی نظر ہوگیا ہے؟ اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں دائر کی گئی پٹیشن میں مجھے ٹریپ کیا گیا تھا، تین سال پرانی درخواست سے خود کو الگ کر رہا ہوں، جو حالیہ اعلامیہ ہے اس سے متفق ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے جھوٹے الزامات لگائے تھے؟ اسد طور نے کہا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات پر قائم ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ آپ کیس بھلے نہ چلائیں ہم آپ کو بنیادی حقوق دلوائیں گے، آپ پر دبائو ہے تو کیس واپس نہیں لینے دینگے، اسد طور نے کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت کو روسٹرم پر بلا لیا ، اسد طور نے کہا کہ سال 2021 میں جب درخواست دائر ہوئی تو سمجھا تھا کہ مطیع اللہ جان بھی ساتھ ہیں،جس انداز میں کمرہ عدالت میں درخواست دی گئی وہ طریقہ کار درست نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس انداز میں درخواست لگی اس سے میں بھی مطمئن نہیں ہوں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان کا ہر صحافی جو لکھنا چاہے وہ آزادی کے ساتھ لکھ سکے۔صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس سرد خانے میں چلا گیا،ہم کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے،ہمیں سچ بولنا چاہیے،اگر ہم سے غلطی ہوئی تو انگلی اٹھائیں، یہاں مٹی پاؤ نظام چل رہا ہے،جب تک کسی کو قابل احتساب نہیں ٹھہرائیں گے ایسا ہوتا رہے گا،

    میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کو جاری ایف آئی اے نوٹس فوری واپس لینے کا حکم دے دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اگر تنقید کرنے پر نوٹس دیئے گئے ہیں تو وہ واپس لیں، اگر خامیاں تنقید کے ذریعے اجاگر نہیں کریں گے تو میں اپنی اصلاح کیسے کروں گا،پریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہمارا مقدمہ صرف صحافیوں کی حد تک ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے تفریق کی بات کر دی،دل کھول کر تنقید کریں،تنقید سے اصلاح ہوتی ہے،فیصلوں پر تنقید کو خوش آمدید کہتا ہوں،تنقید روکنے کے سخت خلاف ہوں، آزادی صحافت آئین میں ہے، میرا مذاق بھی اڑائیں مجھے کوئی فکر نہیں، کسی کو تشدد پر اکسانے یا دیگر انتشار پھیلانے کا معاملہ الگ ہے، سپریم کورٹ بارے تنقید پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوگا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اداروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تھمب نیل پر جو کچھ لکھاہوتاہے وہ اندر نہیں ہوتا،یہ بہت عجیب ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھ رہے کہ تنقید روک کر میرا یا سپریم کورٹ کا فائدہ کر رہے ہیں تو آپ میرا نقصان کر رہے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ گالم گلوچ الگ بات ہے، ایف آئی اے تنقید کی بناء پر کارروائی نہ کرے،عدلیہ کا مذاق اڑائیں گے تو ملک کا نقصان ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اگر آرٹیکل 19 کا خیال ہے تو کچھ خیال آرٹیکل 14 کا بھی کریں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فئیر تنقید میں مسئلہ نہیں لیکن جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ غلط ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کسی صحافی کے خلاف تنقید پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گالم گلوچ غلط ہے لیکن تنقید پر ممانعت نہیں، اگر کسی صحافی کو صرف تنقید کرنے پر پکڑا جائے تو یہ غلط ہے، مجھے تو گالم گلوچ سے بھی فرق نہیں پڑتا لیکن حدود ہونی چاہئے،صحافی قیوم صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جے آئی ٹی کس کے کہنے پر بنی کیونکہ بہت قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ان کو بھی حقوق دلائیں گے جو ہمارے سامنے نہیں ہیں، خود پر تنقید کو ویلکم کرتا ہوں، کچھ باتیں قائد اعظم کی کر لیتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انہوں نے تو قائد اعظم کا بھی مذاق اڑایا ہے،

    ارشد شریف قتل کیس بھی مقرر کیا جائے، مطیع اللہ جان کی چیف جسٹس سے استدعا
    مطیع اللہ جان نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا سوموٹو بھی مقرر کیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ارشد شریف کا کیس ہوسکتا ہے آئندہ سماعت پر ساتھ ہی لگا دیں، اس وقت کوئی ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو ارشد شریف کے کیس میں جاری احکامات سے متصادم ہوں، صدر سپریم کورٹ بارنے کہا کہ فیصلے پر تنقید ہونی چاہیے لیکن ججز کے خلاف من گھڑت کہانیاں نہیں بنانی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یوٹیوب کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہوتا،
    ٹی وی کیلئے تو پیمرا کا ضابطہ اخلاق موجود ہے،جو کچھ یوٹیوب کے تھمب نیل میں ہوتا ہے وہ ویڈیو میں نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کیساتھ کچھ اور چیزیں بھی صرف پاکستان میں ہی ہوتی ہیں، پولیو ورکرز کو قتل کر دیا جاتا ہے، خواتین کے سکولوں میں بم مارے جاتے ہیں، انتہاء پسند سوچ کیخلاف حکومت کیوں کچھ نہیں کرتی؟ خواتین کو ووٹ ڈالنے اور پولیو قطروں سے روکنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟جڑانوالہ میں دیکھیں کیا ہوا، سب نفرت کا نتیجہ ہے، ان لوگوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے اب یہ اژدھا بن گئے ہیں،خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ مطیع اللہ جان نے کہا کہ میڈیا پوری دنیا میں خود احتسابی اور اپنے ضابطہ اخلاق پر چلتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میڈیا خود ضابطہ اخلاق بنانا چاہتا ہے تو بتائے کس کی مدد درکار ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا پریس ایسوسی ایشن کسی غلط خبر کی تردید کرتی ہے؟ہتک عزت کیس ہوجائے تو پچاس سال فیصلہ ہی نہیں ہوگا، سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی
    خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • پانچ کروڑ کا جرمانہ نہیں دیا،الیکشن نہ لڑیں گھربیٹھیں، چیف جسٹس،درخواست مسترد

    پانچ کروڑ کا جرمانہ نہیں دیا،الیکشن نہ لڑیں گھربیٹھیں، چیف جسٹس،درخواست مسترد

    سپریم کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار عبدالحفیظ لونی کو الیکشن لڑنے سے روک دیا

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 252 سے انتحابات میں حصہ لینے سے متعلق کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ نے جے یو آئی امیدوار عبدالحفیظ کی اپیل مسترد کردی اور الیکشن ٹربیونل اور بلوچستان ہائیکورٹ کا کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا،وکیل نے عدالت میں کہا کہ عبدالحفیظ لونی کی نیب کیس میں سزا پوری ہوچکی، الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا مؤکل صرف 2 سال اور 2 ماہ جیل میں رہا، نیب کورٹ نے 10 سال کی سزا اور 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا تھا،آٹھ سال تک آپ کا مؤکل پے رول پر جیل سے باہر رہا، آپ کے مؤکل نے 5 کروڑ کا جرمانہ ادا نہیں کیا، ایسے لوگ بلوچستان کے عوام کی نمائندگی نہ کریں، الیکشن نہ لڑیں گھر بیٹھیں، الیکشن میں آپ کا خرچہ ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ 5 کروڑ کا جرمانہ ادا نہ کرنے پر اس کی جائیداد ضبط ہونی چاہیے

  • وفاق نے کاروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    وفاق نے کاروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    ریٹائر جج کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا اختیار دینے کی طرف اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،وفاق نے کارروائی کا اختیار ختم کرنے والے عافیہ شیربانو کیس میں اپیل دائر کر دی

    اٹارنی جنرل نے شوکت صدیقی کیس کے ساتھ اپیل بھی سننے کی تجویز دے دی،اٹارنی جنرل نے اپیل دائر کرنے سے عدالت کو آگاہ کر دیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ توقع ہے ہماری اپیل پر آج یا کل نمبر لگ جائے گا،عافیہ شیربانو کیس فیصلہ کالعدم ہوجائے تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے، شوکت صدیقی کیس میں ان کی مراعات بحال کرنے کا آرڈر بھی ہوسکتا ہے، وسیع تناظر میں دیکھنا ہو تو معاملہ کونسل میں جا سکتا ہے ،جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا نہیں جا سکتا یہ بنیادی حق کا معاملہ ہے،عافیہ شیربانو کیس میں ہماری اپیل کو اس کیس سے یکجا کیا جائے،عافیہ شیربانو فیصلہ کالعدم کر کے ہی معاملہ کونسل کو واپس بھیجا جا سکتا ہے،

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    سپریم کورٹ،سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں،خواجہ حارث روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور عرفان رامے کا وکیل ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ نے کوئی جواب جمع کروایا ہے؟ کیا آپ نے اپنے اوپر لگے الزامات مانے ہیں ہیں مسترد کئے ہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے سابق رجسٹرار کو بھی نوٹس جاری کیا تھا،

    وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ میں سابق چیف جسٹس انوار کانسی کی نمائندگی کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان سے استفسارکیا کہ خان صاحب اب اس کیس کو کیسے چلائیں ؟ حامد خان نے کہا کہ میرا کیس واضح ہے کہ جوڈیشل کونسل کو انکوائری کرنی چاہیے، جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے دوران ہمیں ہمارے گواہان پیش کرنے کی اجازت دی جائے،فیض حمید الزامات کی تردید کر رہے ہیں، یہی ہمارا کیس ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو پہلے انکوائری کروانا چاہئے تھی، انکوائری میں ہمیں فیض حمید پر جرح کا موقع ملتا، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا انکوائری کی گئی تھی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب شوکت صدیقی نے تقریر تسلیم کر لی تھی تو انکوائری نہیں کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کہہ چکے حقائق کی انکوائری نہیں ہوئی،

    کیل حامد خان کی شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت عزیز صدیقی کیس حل کیا ہے ؟ حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کالعدم کر دیں تو پھر بغیر انکوائری یہ سمجھا جائے گا آپ کے الزامات درست ہیں ،حامد خان نے کہا کہ پھر آپ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریمانڈ بیک کر دیں ، وکیل حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی ساکھ کا معاملہ ہے، ہم ایک سکے کو ہوا میں پھینک کر فیصلہ نہیں کر سکتے ۔اگر شوکت صدیقی کے الزامات سچے نہیں تو کیا ہوگا؟شوکت صدیقی جو کہہ رہے ہیں مخالف فریق اسے جھٹلا رہے ہیں،کون سچا ہے کون نہیں یہ پتا لگانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟انکوائری میں اگر ثابت ہو آپ کے الزامات درست ہیں کیا پھر بھی عہدے ہٹایا جا سکتا ہے؟ہمیں مسئلے کا حل بھی ساتھ ساتھ بتایا جائے،اگر انکوائری کے بعد الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو کیا جج کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رہے گا،جن پر الزامات لگایا گیا ہم نے انکو فریق بنانے کا کہا،اب سچ کی کھوج کون لگائے گا؟ہم مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، دوسری طرف سے یہ بات ہو سکتی ہے کہ الزامات کو پرکھا ہی نہیں گیا،

    مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آگے کیسے بڑھیں دونوں فریقین میں سے کوئی سچ سامنے نہیں لارہا،پوری قوم کی نظریں ہم پر ہیں ،یہاں آئینی اداروں کی تکریم کا سوال ہے،ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ہم کیا حکمنامہ جاری کریں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر الزامات درست بھی ہیں تو کیا شوکت عزیز صدیقی کا بطور جج طریقہ کار مناسب تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر بھی دو طرح کی ہوتی ہیں،جج پر تقریر کرنے پر پابندی نہیں ہے، ایسا ہوتا تو بار میں تقاریر پر کئی ججز فارغ ہوجاتے،مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،برطانیہ میں ججز انٹرویو بھی دیتے ہیں، امریکہ میں سپریم کورٹ ججز مباحثوں میں بھی حصہ لیتے ہیں،کیا عدالت خود اس معاملے کی تحقیقات کر سکتی ہے؟بلاوجہ الزام لگانا کسی حکومت کے ماتحت ادارے پر بھی اچھی بات نہیں، جس پر الزام لگایا گیا میں اسے ادارہ نہیں بلکہ حکومت کے ماتحت ادارہ کہوں گا،

    شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس آئینی طور پر ریمانڈ ہوسکتا ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس واپس نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی ریٹائر ہوچکے، بطور جج بحال نہیں ہوسکتے،سپریم جوڈیشل کونسل اب شوکت عزیز صدیقی کا معاملہ نہیں دیکھ سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم ہوئی تو الزامات درست تصور ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ فیض حمید پر تقریر میں کوئی الزام لگایا گیا نہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے، جوڈیشل کونسل نے کہا عزیز صدیقی نے عدلیہ کو بے توقیر کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ کی بے توقیری کا معاملہ کہاں سے آ گیا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو پبلک میں جا کر تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو عوامی اور سیاسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے شہرت حاصل کرنے کیلئے تو تقریر نہیں کی ہوگی،

    تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں،چیف جسٹس
    وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پوری انکوائری کالعدم قرار دیکر معاملہ دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ ایسا کر سکتی ہے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کونسل نے مکمل انکوائری ہی نہیں کی، وکیل فیض حمید نے کہا کہ معاملہ دوبارہ کونسل کو نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج مدت بھی ختم ہو چکی، جو الزامات لگائے گئے وہ باتیں نہ کونسل کے جوابات میں کہی گئیں نہ ہی تقریر میں آئیں، شوکت عزیز صدیقی کی اپنی تقریر ہی کافی ہے کہ انھوں نے مس کنڈکٹ کا مظاہرہ کیا،تقریر میں عدلیہ کی تضحیک کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں، آپ ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پڑھ لیں،

    عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان چیف جسٹس کے طلب کرنے پر کمرہ عدالت پہنچ گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی چیلنج نہیں ہوسکتی،اگر عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا گیا،سوال یہی ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کی اپیل منظور ہوجائے تو نتائج کیا ہونگے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج کیخلاف ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ پہلے شکایت آئے اور بغیر انکوائری برطرفی کی سفارش ہو تو کیا ہوگا؟کیا جج کے پاس اپنی صفائی دینے کیلئے کوئی فورم نہیں ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نکتے کو طے کرنے کی ضرورت ہے کہ جوڈیشل کونسل جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کیس سن سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام فریقین تسلیم کر رہے ہیں مکمل انکوائری نہیں ہوئی،جب کسی جج کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو پوچھا جاتا ہے اسکا شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کسی بغیر تحقیقات کیے کسی کو ہوا میں اڑا دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو بغیر انکوائری ہٹانا طے شدہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے،

    جسٹس ر انور کاسی کے وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ کو کیس ریمانڈ بیک کرنے سے آئین نہیں روکتا، عدالت مکمل انصاف کے دائرہ اختیار میں بھی جا سکتی ہے، حامد خان نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا جہاں جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا گیا، ایک تفصیلی فیصلہ آنا چاہئے جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کیوں ضروری ہے، 1956 اور 1962 کے آئین میں صدارتی ریفرنس کے بغیر جج کو ہٹایا نہیں جا سکتا تھا،1973 کے آئین میں بھی پہلے یہی شرط تھی ،2005 میں پہلی بار آئین میں صدارتی ریفرنس کے علاوہ طریقہ کار متعارف کرایاگیا،

    جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ شوکت صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا،کیا جب کونسل ازخود کارروائی کرے تو بھی انکوائری کرنا ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کونسل نے خود کیسے کارروائی کا آغاز کیا ہمیں رجسٹرار آفس کا نوٹ دکھائیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سیکرٹری کونسل کیسے ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کونسل نے ہی سیکرٹری کونسل کو کہا ہو، کونسل میں کتنی مرتبہ کیس لگا،حامد خان نے کہا کہ صرف ایک مرتبہ کیس لگا جس میں شوکت صدیقی کو بلایا گیا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے،شوکت عزیز صدیقی پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے کیس میں انکوائری لازم ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت صدیقی کیخلاف شکایت کس نے کی یا رجسٹرار نے خود سب کچھ کونسل کو بھیجا،رجسٹرار کس حیثیت میں جج کے خلاف کونسل کو نوٹ لکھ سکتا ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ جب شوکت صدیقی کے الزامات آئے تو جسٹس ر انور کاسی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری تھی،شوکت صدیقی کے الزامات مسترد کرنے پر انور کانسی کو بری کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب ہم سپریم جوڈیشل کونسل پر ایسے انگلیاں نہیں اٹھائیں گے،

    سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل پر واچ ڈاگ نہیں ہے،ہمیں آئین سازوں کے بنائے بیلنس کو برقرار رکھنا ہو گا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کیخلاف ریفرنس کی بنیاد تقریر ہے، آپ اس تقریر کے متن سے انکار نہیں کر رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی باڈی ہے، آپ کہہ رہے تھے انکوائری کمیشن بنا دیں لیکن جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟آرٹیکل 210 پڑھیں تو سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں،ہر آئینی باڈی یا ادارے کے پاس آزادانہ فیصلے کا حق ہے، سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگران نہیں ہے، سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،موجودہ کیس میں بہت محتاط چلنا ہو گا کہ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نا ہو، شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ بھی 50 سالوں تک عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے،

    جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ریکارڈ دیکھیں تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ شوکت صدیقی کو موقع نہیں دیا گیا، دو ماہ سے زیادہ کارروائی چلی ، ان کے جوابات کا جائزہ بھی لیا گیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ پر الزام یہ نہیں تھا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں یا غلط،آپ پر الزام تھا کہ پبلک میں عدلیہ کو بدنام کیا، آپ نے اس تقریر سے انکار تو نہیں کیا تھا،

    کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟ چیف جسٹس
    سندھ بار کے وکیل صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں شوکت صدیقی کے الزامات پر الگ سے انکوائری ہوسکتی ہے، اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا کالعدم شدہ فیصلہ بحال ہو جائے گا؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ الزامات غلط ثابت ہوئے تو شوکت صدیقی کیخلاف فوجداری کارروائی ہوسکتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے بغیر سابق جج کیخلاف فوجداری کارروائی کیسے ممکن ہے؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہججز قانون سے بالاتر نہیں ہوتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کوئی بھی انکوائری کمیشن کیسے قائم کر سکتی ہے؟ کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟مجھے تو یہ دلیل سمجھ نہیں آ رہی، کچھ آگے بڑھنے والی بات کریں، مناسب ہوگا اپنے نکات تحریری طور پر دیں،

    کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟ چیف جسٹس
    جسٹس عرفان سعادت خان نےکہا کہ کیا شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب نہیں ہوئے؟ اس نکتے پر عدالت کی کوئی معاونت نہیں کی گئی، یہ تو سب کہ رہے ہیں کہ انکوائری نہیں ہوئی، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اگر تقریر حقائق کے خلاف تھی تو شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار محدود ہے، اگر عدالت چاہے تو کمیشن بنا کر شوکت صدیقی کے الزامات کی انکوائری کر سکتی ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تین کے تحت معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم گواہان کے بیانات اور ان پر جرح کریں؟ صلاح الدین نے کہا کہ ہائیکورٹ بھی آرٹیکل 199 کے تحت یہ اختیار استعمال کرتی ہے تو سپریم کورٹ بھی کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی رائے یا احساسات نہیں قانونی معاونت درکار ہے، آپ نے 184 تھری کی درخواست دائر کی تو صرف جج کی پنشن بحالی کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک نکتے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انکوائری کیوں نہیں ہوئی تھی، ہم پرانے کورس کو درست کر رہے ہیں،اگر آپ ایک جج کی ذاتی حثیت میں پنشن بحالی چاہتے ہیں تو پھر آپ کی 184 تھری کی درخواست خارج کر دیتے ہیں، آپ کی درخواست سے مفاد عامہ کا کیا معاملہ طے ہو گا؟کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟

    ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،چیف جسٹس
    حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اصول طے کر چکی ہے کہ جج کو مکمل انکوائری کا موقع ملنا چاہئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 10اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، کسی نائب قاصد کو بھی ہٹانے کیلئے پورا طریقہ کار طے شدہ ہے، ہم بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کر سکتے،انکوائری کو نظر انداز کرکے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ کو ایک لائن کھینچنی ہے، سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے درمیان فرق کی لکیر کھینچی ہے،اداروں کی تضحیک کا سوال ہے، سوال یہ ہے کہ جج نے جو کہا سچ ہے یا سچ نہیں ہے، ملاقاتوں کی نفی کی گئی ہے،ہم ہوا میں طے نہیں کر سکتے، ہوا میں طے نہیں کر سکتے کون سچ کہہ رہا ہے کون سچ نہیں کہہ رہا،ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،عوام کو سچ جاننے کا مکمل حق ہے، یہ عوامی معاملہ ہے، کیا ہم کونسل کو بھیج سکتے ہیں یا نہیں سوال یہ بھی اہم ہے، ہم فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، اگر ضرورت سمجھی تو کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر بھی کر سکتے ہیں،

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • فیض آباد دھرنا کیس،انکوائری کمیشن اپنا کام  مکمل کرے،چیف جسٹس

    فیض آباد دھرنا کیس،انکوائری کمیشن اپنا کام مکمل کرے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے انکوائری کمیشن کے ٹی او آرز بڑھا دیئے،انکوائری کمیشن کو ایک ماہ کی توسیع دی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ے کہا کہ انکوائری کمیشن کو دیکھنا تو حکومت کا کام ہے،کب تک کمیشن کو وقت دیا گیا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 14 فروری تک انکوائری کمیشن کو توسیع دی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے کمیشن اپنا کام مکمل کرے،عدالت نے کہا کہ مناسب حکم جاری کیا جائے گا، سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دی ہے،

    واضح رہے کہ نومبر 2023ء میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 3 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا,

    جنرل رقمر جاوید باجوہ، فیض حمید پر مقدمہ کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    شوکت عزیز صدیقی کیس، فیض حمید،بریگیڈئر ر عرفان رامے،سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس

  • مثبت روشنی دکھانے سے معاشرہ تبدیل ہوسکتا ہے،چیف جسٹس

    مثبت روشنی دکھانے سے معاشرہ تبدیل ہوسکتا ہے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےصحافیوں کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس ورکشاپ میں دعوت دی،کورٹ رپورٹرز کے ذریعے ہی عدالتی کارروائی عوام تک پہنچتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہآئین کا آرٹیکل 17 آزادی صحافت سے متعلق ہے ،بچپن میں میری والدہ کپڑے دھوپ میں ڈالتی تھیں جن سے جراثیم ختم ہوتے تھے، امریکی جج نے کہا تھا کہ سب سے اچھی جراثیم کش روشنی سورج کی ہے، میڈیا کے ذریعے دھوپ اور روشنی عوام تک پہنچتی ہے، دھوپ سے کیڑوں مکوڑوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے ،دھوپ اور روشنی دکھاتے چلے جائیں تو معاشرہ تبدیل ہو سکتا ہے،معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، سپریم کورٹ نے اپنے ہی ادارے سے متعلق معلومات کا بھی حکم دیا، آئین کے آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے، کچھ روز قبل ایک درخواست آئی جس میں شہری نے سپریم کورٹ کے ملازمین کی تفصیلات مانگی تھیں، سپریم کورٹ کا ادارہ آپ کا ہے یہ عوام کا ادارہ ہے یہ آپ کے پیسوں سے چل رہا ہے ،ہم نے فیصلہ لکھا کہ شہریوں کو اگر معلومات تک رسائی ہو گی تو یہ اداروں کے لیے اچھا ہے،معلومات سے ہی اداروں کے احتساب بھی ہوتا ہے، چیف جسٹس بننے کے بعد اہم مقدمات کو براہ راست دکھانا بھی شروع کیا، سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اسے ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا،سپریم کورٹ آرٹیکل 19 کے تابع ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مقدمات نمٹائیں،ہم اہم کیسز کی براہ راست کارروائی دکھا رہے ہیں، لوگ کارروائی کو سمجھنے کے بعد اُس پر بات کریں،لائیو سپریم کورٹ ٹرانسمیشن کا سہرا جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ کے سر ہے۔عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی تجویز کی تمام ججوں نے تائید کی تھی

    اگر کسی قوم کی تقدیر بدلنا ہو تو سب سے اہم چیز ہے تعلیم،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے خود کو عوام کے سامنے احتساب کیلئے پیش کیا ہے، سپریم کورٹ کچھ دیر بعد اپنی کارکردگی کی سہ ماہی رپورٹ جاری کر رہی ہے یہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کی پہلی کارکردگی رپورٹ ہے، اطہر من اللہ صاحب ہمیشہ کی طرح بہت سمارٹ لگ رہے ہیں،سترہ ستمبر سے سولہ دسمبر تک کی سہ ماہی رپورٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے،17 ستمبر کو حلف اٹھایا آج چیف جسٹس بنے 3 ماہ مکمل ہو چکے ہیں،میرے 3 ماہ کے اب تک کے دور میں پانچ ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کتنے مقدمات کا فیصلہ ہوا اور کتنے نئے دائر ہوئے، تین ماہ میں پانچ ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے ہیں،رپورٹ میں اہم فیصلوں کے لنک بھی موجود ہیں، رواں ہفتے 504 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ 326 نئے دائر ہوئے، بلا مانگے معلومات فراہم کرنے سے شفافیت آتی ہے،

    چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کی یادگار بنانے کا اعلان
    سپریم کورٹ کے سامنے سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں،سپریم کورٹ میں بنیادی حقوق کی ایک یادگار بھی بنا رہے ہیں، یادگار عوام کیلئے کھلی ہو گی، پہلے لوگ سپریم کورٹ کے سامنے سڑک پر کھڑے ہوکر تصاویر بنواتے تھے،سپریم کورٹ میں پچاس لوگوں کے لیے اضافی پارکنگ بھی بنائی گئی ہے، کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کیلئے سات ایکڑ اراضی ہائیکورٹ کے پاس مختص کی گئی تھی، سیکرٹری ہائوسنگ کو کہا کہ 36 وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کو اس مختص زمین پر منتقل کیا جائے،تمام وفاقی عدالتیں اور ٹربیونلز کرائے کی عمارتوں میں چل رہے تھے، عدلیہ کا ہدف ایک ہی ہونا چاہیے، اچھے ججز تعینات کریں، ساتھی ججز کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں یہ سوچیں کہ دیگر ججز بھی آپ کا ہاتھ بٹانے آئے ہیں۔کسی بھی قوم کی تقدیر بدلنا ہو تو میرے خیال میں اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ ہے تعلیم،مجھے کسی نے کہا تھا صحافیوں کو حال دل نہ سنایئے گا،کہاگیا تھا ایک شعر سنا دیتا ہوں
    صحافیوں کو کہاں حال دل سنا بیٹھے
    یہ ایک بات کئی زاویوں سے لکھیں گے
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے حال دل نہیں سنایا،سچائی میں ہی ہماری نجات ہے، ہدف ہر شہری کا سچائی ہونا چاہیے ہم سے اتفاق ہو یا نہ ہو،

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس عدالتی حکم پر ضبط

    ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،جسٹس اطہرمن اللہ

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا توپاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے،جسٹس اطہرمن اللہ

    اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا توپاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے،جسٹس اطہرمن اللہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے کورٹ رپورٹرز کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکور ہوں منتظمین کا جنہوں نے سیمینار میں شرکت کا موقع دیا،یہ موضوع انتہائی اہم ہے،کورٹ رپورٹرز اور صحافیوں کیساتھ وکلاء تحریک میں رابطہ رہا،کورٹ رپورٹرز کو علم ہوتا ہے کونسی چیزیں کرنی ہیں یا نہیں کرنی،پروفیشنل اقدار ہر کورٹ رپورٹر کو ادراک ہوتا ہے،میں نے کورٹ رپورٹرز کے زریعے بہت ساری چیزیں سیکھی ہیں،

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیاد بھی اظہار رائے کے پہراہے میں اچھی نہیں رہی،قائد اعظم کی تقریر کو ریاست نے سینسر کیا،وہاں سے ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوا،بدقسمتی سے ہماری آدھی سے زیادہ تاریخ ڈکٹیٹر شپ سے گزری جہاں میڈیا کی آزادی نہیں ہوتی،آزادی اظہار رائے میں صحافیوں کا کلیدی کردار رہا ہے،صحافیوں نے آزادی اظہار رائے کیلئے کوڑے بھی کھائے،ایک ملزم کے خلاف کتنا ہی بڑا الزام کیوں نہ ہوئے، اسکی معصومیت کا عنصر موجود رہتا ہے،میں جج بنا تو پہلا کیس ایک ضمانت کا سنا,ملزم 16 سال کا لڑکا تھا ،الزام ایک بینر لگانے کا تھا، ٹرائل کورٹ نے ضمانت مسترد اس لیے کی تھی کہ سپریم کورٹ کے جج کا معاملہ تھا،کسی نے یہ پتا چلانے کی کوشش نہیں کہ وہ بینرز لگوائے کس نے تھے،بحیثیت جج ہم اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتے،عدلیہ پر دو طرح کی تنقید ہوتی ہے،الزام لگایا جاتا ہے کہ دانستہ طور پر فیصلے ہو رہے ہیں،ایک وہ تنقید ہوتی ہے جسے میں پسند نہیں کر رہا اسے ریلیف کیوں ملا,وقت کے ساتھ سچائی سامنے آ جاتی ہے،توہین عدالت کے اصول برطانیہ میں جج کے تحفظ کیلئے نہیں بنے,کسی ناپسندیدہ شخص کو ریلیف ملنے پر ججز پر تنقید کی جاتی ہے، جج کو کبھی کسی تنقید سے گھبرانا نہیں چاہئے، تنقید ہر ایک کرے مگر پھر عدلیہ پر اعتماد بھی کرے,ایک خودمختار جج پر جتنی بھی تنقید ہو اس کو اثر نہیں لینا چاہیے، اگر کوئی جج تنقید کا اثر لیتا ہے تو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتا ہے،اظہار رائے کو دبانے کی کوشش نہیں کرنی چائیے، کورٹ رپورٹرز کے لیے ایک نیا چیلنج بھی ہے، رپورٹنگ کے ساتھ وی لاگ بھی کیا جاتا ہے، جوڈیشری کو خائف نہیں ہونا چائیے،تمام چیزوں کا حل آئین میں ہے، حل اظہار رائے کا احترام کرنا ہے،فیصلے غلط ہیں یا صحیح وہ سچائی کی صورت میں سامنے آئینگے، کسی جج کو اظہار رائے پر قدغن نہیں لگانی چاہیئے، سچ ہی آخر میں قائم ؤ دائم رہتاہے

    جب کوئی سیاسی لیڈر کمزور ہوتا ہے اسے عدالتی سزا سے پہلے ہی سزا دی جا چکی ہوتی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ کاکہنا تھا کہ مجھ پر الزامات لگتے رہے کہ وٹس ایپ پر کسی سے رابطے میں ہوں، کبھی کہا جاتا ہے کہ میں نے 2 پلاٹ لے لئے مگر مجھے الزامات سے فرق نہیں پڑتا، سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہئے،اظہار رائے کو پنپنے دیا ہوتا تو نہ پاکستان دو لخت ہوتا نہ ہمارے لیڈر سولی پر چڑھتے، سچ سب کو پتہ تھا، سچ کو دباتے دباتے 75 سال میں ہم یہاں تک پہنچ گئے،1971 میں کورٹ رپورٹنگ اور میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان کبھی نا ٹوٹتا۔جب کوئی سیاسی لیڈر کمزور ہوتا ہے اسے عدالتی سزا سے پہلے ہی سزا دی جا چکی ہوتی ہے، ذوالفقار علی بھٹو ٹرائل زمانے کے اخبارات دیکھ لیں جرم ثابت ہونے تک بے گناہی کا تصور موجود نہیں تھا،

    ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کی مخالفت بہت قوتیں تھیں ، سپریم کورٹ سے توقع کی جارہی تھی کہ اٹھارویں ترمیم کالعدم قرار دے گی، مجھ سے پوچھنے پر میں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اٹھارویں ترمیم کالعدم قرار نہیں دینی چاہئیے،میں نے کہا میری رائے ہے کہ سپریم کورٹ کو کسی آئینی ترمیم کو نہیں چھیڑنا چاہیے، میں نے کہا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اگر کالعدم ہو گئی تو استعفیٰ دے دوں گا، اگلے روز سرخی لگی کہ اطہر امن اللہ نے عدالت کو دھمکی دی،اظہار رائے سر عام ہونی چاہئیے،مجھے اعتزاز احسن نے کہا کہ اس خبر کا کچھ کرتے ہیں تو میں نے کہا نہیں میں نے یہی کہا تھا، اظہار رائے کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے، بحثیت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ چار سالوں میں کھبی عدالتی رپورٹنگ پر اثر انداز نہ ہوا، ایک غریب مالی نے پوچھا کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟ میں نے مالی سے پوچھا کہ تمہارے ارد گرد سچائی ہے؟ مالی نے کہا آج کل سچ کا دور نہیں ہے،سچ سب کو معلوم ہے، میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ کسی کورٹ رپورٹر کو بتاوں کے اس کے اصول کیا ہیں، اگر 1971 میں میڈیا آزاد ہوتا تو پاکستان دولخت نا ہوتا، ہر ایک کو اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہئے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں، کیا ہم آج اصول پر کھڑے ہیں؟ ہم آج بھی اپنی مرضی کے فیصلے اور گفتگو چاہتے ہیں، ٹیکنالوجی کے دور میں ریاستیں اظہار رائے کو کنٹرول نہیں کر سکتیں،ججز اس صورتحال میں بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا حل آئین اظہار رائے کی آزادی دے کر دے چکا،

    جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ ہم اچھے ہیں یا برے یہ ہمارے فیصلے طے کرتے ہیں،کسی جج کو کسی کورٹ رپورٹ پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اسے بتائے کیا رپورٹ کرنا ہے، جھوٹ جتنا بھی بولا جائے آخر سچ کا ہی بول بالا ہوتا ہے،
    جب کوئی ایدھی امین کی طرح اظہار رائے پر پابندی لگاتا ہے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے