Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں،چیف جسٹس

    آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں،چیف جسٹس

    پرویزمشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آل پاکستان مسلم لیگ کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آل پاکستان مسلم لیگ نے اکاونٹس کی تفصیل نہیں دی اس لیے جماعت ڈی لسٹ کی گئی، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا آل پاکستان مسلم لیگ نے انٹرا پارٹی انتخابات کرائے،

    وکیل آل پاکستان مسلم لیگ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بدنیتی دکھائی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں پر بد نیتی کا الزام لگا کر تباہ نہ کریں بتائیں الیکشن کمیشن کے آرڈر میں غلطی کیا ہے بس بد نیتی کا الزام لگا دیا بس۔،دکھائیں کیا غلطی ہے الیکشن کمیشن کے فیصلہ میں،پاکستان میں ایک عادت ہو گئی ہے کہ ہر آدمی کو ڈس کریڈٹ کرو اُس پر الزام لگا دو،

    اے پی ایم ایل کے وکیل نے ماسک ناک کے نیچے پہن کر دلائل دینے کی کوشش کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو سن نہیں پا رہا، یا آپ ماسک پہنیں یا اتار دیں،سانس تو ناک سے بھی اندر جا رہی ہے،منہ کور کرنے کا تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،وکیل نے ماسک اتار کر جیب میں ڈال لیا.

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،سپریم کورٹ

    ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،ڈی سی اسلام آباد کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیا حکم جاری کیا تھا؟ وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ شہریار آفریدی کی نظربندی کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت کہاں ہوئی یہ بتائیں، ابھی تو کوئی کارروائی ہوئی ہی نہیں تو اپیل کس لئے کر دی؟ ہوسکتا ہے ہائی کورٹ ڈپٹی کمشنر کی بات سے اتفاق کر لے، وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد نے توہین عدالت نہیں کی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ سمجھتی ہے توہین عدالت ہوئی ہے تو کارروائی سے کیسے روکیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہائی کورٹ کو روکا تو کسی کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ اگر سزا دے تو اپیل سن سکتے ہیں، ڈی سی اسلام آباد عدالت سے معافی مانگیں یا اپنا دفاع کریں،وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد پر فردجرم عائد ہوچکی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یا تو ہائی کورٹ کا حکم نامہ چیلنج کریں تو دیکھا جا سکتا ہے توہین عدالت کی کارروائی نہیں دیکھیں گے، وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ڈی سی اسلام آباد سپریم کورٹ فرد جرم عائد کرنے سے کیسے روک سکتی ہے؟ ایسا دروازہ کھولا تو ہر قتل کا کیس بھی فرد جرم عائد کرنے سے پہلے سپریم کورٹ آجائے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رضوان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانونی بات کر رہے ہیں یا بھیک مانگ رہے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا توہین عدالت کا اختیار ختم کر دیں؟وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ فرد جرم عائد کرنے کے بعد مزید کوئی کارروائی نہیں ہوئی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی گئی

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

    سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا،

    کونسل کے ممبر جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،جسٹس امیرحسین بھٹی، جسٹس نعیم افغان بلوچ اور جسٹس سردار طارق مسعود شریک ہوئے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا کوئی وکیل اجلاس میں پیش نہ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں بیٹھنا نہیں چاہتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفیٰ کا متن پڑھ کر سنایا، متن میں کہا گیا کہ صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف نے استعفیٰ منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ استعفیٰ سے متعلق آئین کا آرٹیکل 179کیا کہتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے اجلاس میں آرٹیکل 179بھی پڑھ کر سنایا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت کی کہ آرٹیکل 209کو بھی استعفیٰ کے تناظر میں پڑھیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ کوئی جج مستعفی ہو جائے تو کونسل رولز کے مطابق اس کیخلاف مزید کارروائی نہیں ہو سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کونسل کی کارروائی میں مختصر وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے ایک ممبر جسٹس اعجاز الاحسن اجلاس میں شریک نہیں، ان کے بعد سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ ہیں، ہم جسٹس منصور سے انکی دستیابی کا پوچھ لیتے ہیں، اگر وہ دستیاب ہوئے تو کونسل کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

    وقفے کے بعد چیئرمین جوڈیشل کونسل کی سربراہی میں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو جسٹس منصور علی شاہ بطور ممبر کونسل اجلاس میں شریک ہوگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب معاونت کریں کیا معاملہ ختم ہوگیا،یہ استعفی کونسل کارروائی کے آغاز میں نہیں دیا گیا، کونسل کی جانب سے شوکاز جاری کرنے کے بعد استعفی دیا گیا،ممکن ہے درخواستیں غلط ہوں اور جج نے دباؤ پر استعفیٰ دیا ہو،جج کی جانب سے دباؤ پر استعفی دینے سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا،یقینی طور پر جج کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی تو ختم ہو گئی،استعفی دینا جج کا ذاتی فیصلہ ہے، ہمارے سامنے غیر معمولی صورتحال ہے، جج کی برطرفی کا سوال اب غیر متعلقہ ہو چکا ہے، ابھی تک کونسل نے صدر مملکت کو صرف رپورٹ بھیجی تھی اگر الزامات ثابت ہوجاتے تو کونسل صدر مملکت کو جج کی برطرفی کیلئے لکھتی.

    ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک جج ادارے کی ساکھ خراب کر کے استعفی دے کر بغیر احتساب چلا جائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے،ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ایک جج ادارے کی ساکھ خراب کر کے استعفی دے کر بغیر احتساب چلا جائے،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟اپنی تباہ شدہ ساکھ کی سرجری کیسے کریں گے؟کیا آئین کی دستاویز صرف ججز یا بیوروکریسی کیلئے ہے؟آئین پاکستان عوام کیلئے ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوامی اعتماد کا شفافیت سے براہ راست تعلق ہے، کونسل کے سامنے سوال یہ ہے کہ جج کے استعفی کا کاروائی پر اثر کیا ہوگا،جج کو ہٹانے کا طریقہ کار رولز آف پروسجر 2005 میں درج ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثاقب نثار کے معاملے میں تو کاروائی شروع نہیں ہوئی تھی جبکہ اب ہو چکی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے جس کا سامنا سپریم جوڈیشل کونسل کر رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل رائے نہیں دے سکتی، اگر کونسل میں سے جج کا کوئی دوست کاروائی کے آخری دن بتا دے کہ برطرف کرنے لگے اور وہ استعفی دے جائے تو کیا ہوگا؟اٹارنی جنرل کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کاروائی کے دوران جج کا استعفی دے جانا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم یہاں اپنی خدمت کیلئے نہیں بیٹھے،ہم یہاں اپنی آئینی زمہ داری ادا کرنے کیلئے بیٹھے ہیں،اگر ایک چیز سب سیکھ لیں تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے،عدالت عظمٰی سمیت ادارے عوام کو جوابدہ ہیں،

    سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی فوری ختم نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا،سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا،سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جج پر الزام لگے اور استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں اور تمام مراعات لیتے رہیں ؟ نہ کوئی احتساب نہ کوئی جوابدہی ؟ یہ ادارے کی عزت کا سوال بھی ہے، صرف استعفی دینے سے کیا معاملہ ختم ہوگیا لوگوں کا حق ہے کہ وہ جائیں سچ کیا ہے؟ اگر مظاہر نقوی کے وکلاء نے وقت مانگا تو شکایت گزاروں کو سنا جائے گا،جسٹس ر مظاہر نقوی کل خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہو سکتے ہیں،جسٹس مظاہر نقوی کو استفعی کے باوجود بھی حق دفاع بھی دے دیا گیا، جسٹس (ر) سید مظاہر علی اکبر نقوی کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کی درخواست نمٹا دی گئی

    انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کی درخواست نمٹا دی گئی

    سپریم کورٹ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات میں تاخیر کا معاملہ ،تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کیلئے سید ظفر علی شاہ کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے سید ظفر علی شاہ کی درخواست غیر موثر ہونے پر نمٹا دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ 8 فروری کو انتخابات کی تاریخ کے بعد موجودہ درخواست غیر موثر ہوچکی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب تو انتخابات کی تاریخ آچکی ہے ہم کیسے آپکی درخواست سنیں،انتخابات سے متعلق تمام مقدمات ترجیجی بنیادوں پر سن رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ظفر علی شاہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ انتخابات نہیں چاہتے،ظفر علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ میں انتخابات چاہتا ہوں مگر جو لوگ تاخیر کے ذمہ دار ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے،میں نے 22 مارچ 2023 کا انتخابات نہ کرانے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا،پنجاب اور کے پی میں انتخابات نہ کرانے والوں کیخلاف کاروائی ہونی چاہیے،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہمارے سامنے کسی کیخلاف کاروائی کی درخواست ہی نہیں تو کیسے حکم دے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی درخواست وقت پر مقرر نہ ہونے کا ذمہ دار ادارہ ہوسکتا ہے میں نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • جسٹس مظاہر علی نقوی کا استعفیٰ منظور

    جسٹس مظاہر علی نقوی کا استعفیٰ منظور

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا

    جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو اب صدر مملکت نے منظور کر لیا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر تھی اور ان کے خلاف آج 11 جنوری کو دن 1 بجے سماعت ہونا تھی اب استعفی کے بعد کاروائی نہیں ہو سکے گی۔

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیر سماعت ہے جس سلسلے میں انہوں نے کونسل کو اپنا تفصیلی جواب جمع کرایا تھا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت عارف علوی کو بھجوایا جس میں کہا گیا ہےکہ میرے لیے اپنے عہدے پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں، میں نے لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فرائض انجام دیئے،

    غلطی سے غلط تاریخ لکھ دی، استعفیٰ منظور کیا جائے، جسٹس مظاہر نقوی کا صدر مملکت کو مراسلہ
    سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفے پر غلط تاریخ درج ہونے پر ان کے سیکرٹری نے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ بھیج دیا جس میں کہا گیا کہ تاریخ غلطی سے غلط لکھی گئی، استعفیٰ منظور کیا جائے،جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے استعفے پر تاریخ کی جگہ 2024 کی جگہ 10 جنوری 2023 لکھا تھا،تا ہم اب جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے سیکرٹری نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو مراسلہ روانہ کیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ تاریخ غلطی سے 2023 لکھی گئی، استعفے پر غیردانستہ طورپر 2024 کے بجائے 2023 لکھا گیا،تاریخ 2024 تصور کرتے ہوئے استعفیٰ منظور کیا جائے

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفی میں بڑی غلطی سامنے آگئی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفی پر سال 2023 لکھا ہوا ہے،استعفیٰ پر تاریخ دس جنوری 2023 لکھی ہوئی ہے جبکہ تاریخ 10 جنوری 2024 لکھی ہونی چاہئے تھے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے سٹاف کا ٹائپ کردہ استعفی سائن کیا،بطور جج انہوں نے اپنے استعفی کا متن بھی نہ پڑھا بلکہ ویسے ہی دستخط کر دیئے،استعفیٰ کی کاپی صدر مملکت اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھجوائی گئی ہے،استعفی پر تاریخ درست نہیں ہے، جہاں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے دستخط ہیں وہاں بھی تاریخ کا اندارج نہیں ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ اعتراف جرم قوم کی جیت،سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، میاں داؤد ایڈوکیٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والے وکیل میاں داؤد ایڈوکیٹ کا ردعمل سامنے آیاہے، میاں داؤد ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ کرپٹ ترین جج جسٹس مظاہر نقوی کا استعفی پوری قوم اور پاکستان کے وکلاء کی جیت ہے تاہم ابھی منزل باقی ہے۔ جسٹس نقوی کا استعفی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کرپٹ جج جب رنگ ہاتھوں پکڑا جائے تو استعفی دے کر گھر چلاجائے اور عوام کے پیسوں پر پنشن لیکر عیاشی کرتا رہے،پہلی بار ہوا کہ سپریم کورٹ کے جج کا احتساب ہوا، ثبوتوں کی بنیاد پر کاروائی آگے بڑھی، میری شکایت کو متنازعہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن ٹھوس شواہد تھے، جسٹس مظاہر نقوی کے پاس دفاع کے لئے کچھ نہیں تھا، مظاہر نقوی کا استعفیٰ ان کا اعتراف جرم ہے،ہم اس استعفیٰ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے،انکی پنشن بند ہونی چاہئے، ریفرنسز چلنے چاہئے لوٹی ہوئی دولت برآمد ہونی چاہئے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ "استعفیٰ کی منظوری کافی نہیں ہو گی۔ اثاثوں کی چھان بین سیاستدان کیطرح جج صاحب اور انکی آل اولاد سب کی ہونے چاہئیے ۔ ترازو پکڑنے والے ہاتھ کا حساب آخرت میں تو اللہ کی صوابدید ہے۔ مگر دنیا میں نہیں کرینگے تو ہم سب برابر کے گناہ گار ہونگے”

    قبل ازیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کو شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ،جسٹس مظاہر نقوی نے خود پر عائد الزامات کی تردید کر دی، جواب میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کیخلاف معلومات لے سکتی ہے کسی کی شکایت پر کارروائی نہیں کر سکتی، سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری احکامات رولز کی توہین کے مترادف ہیں، رولز کے مطابق کونسل کو معلومات فراہم کرنے والے کا کارروائی میں کوئی کردار نہیں ہوتا،

    میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،جسٹس مظاہر نقوی
    جسٹس مظاہر نقوی نے اٹارنی جنرل کی بطور پراسیکیوٹر تعیناتی پر بھی اعتراض کر دیا اور کہا کہ کونسل میں ایک شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل بھی ہے،اٹارنی جنرل شکایت کنندہ پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ہیں،بار کونسلز کی شکایات سیاسی اور پی ڈی ایم حکومت کی ایماء پر دائر کی گئی ہیں، پاکستان بار کی 21فروری کو اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی،شہباز شریف سے ملاقات کے روز ہی پاکستان بار کونسل نے شکایت دائر کرنے کی قرارداد منظور کی،شوکاز کا جواب جمع کرانے سے پہلے ہی گواہان کو طلب کرنے کا حکم خلاف قانون ہے، یہ الزام سراسر غلط ہے کہ مجھ سے کوئی بھی شخص باآسانی رجوع کر سکتا ہے، غلام محمود ڈوگر کیس خود اپنے سامنے مقرر کر ہی نہیں سکتا تھا یہ انتظامی معاملہ ہے، غلام محمود ڈوگر کیس میں کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا تھا، لاہور کینٹ میں خریدا گیا گھر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ ہے، ایس ٹی جونز پارک میں واقع گھر کی قیمت کا تخمینہ ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا گیا تھا، اختیارات کا ناجائز استعمال کیا نہ ہی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا،گوجرانوالہ میں خریدا گیا پلاٹ جج بننے سے پہلے کا ہے اور اثاثوں میں ظاہر ہے، زاہد رفیق نامی شخص کو کوئی ریلیف دیا نہ ہی انکے بزنس سے کوئی تعلق ہے،میرے بیٹوں کو اگر زاہد رفیق نے پلاٹ دیا ہے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،دونوں بیٹے وکیل اور 2017 سے ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں،جسٹس فائز عیسی کیس میں طے شدہ اصول ہے کہ بچوں کے معاملے پر جوڈیشل کونسل کارروائی نہیں کر سکتی، پارک روڈ اسلام آباد کے پلاٹ کی ادائیگی اپنے سیلری اکائونٹ سے کی تھی،الائیڈ پلازہ گجرا نوالہ سے کسی صورت کوئی تعلق نہیں ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے شکایات خارج اور کارروائی ختم کرنے کی استدعا کر دی

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

  • بھٹو پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس،پیپلز پارٹی نے جواب جمع کروا دیا

    بھٹو پھانسی کیخلاف صدارتی ریفرنس،پیپلز پارٹی نے جواب جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ،سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ،پاکستان پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    تحریری جواب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ میں جمع کروایا،تحریری جواب میں مختلف کتابوں کے حوالہ جات موجود ہیں،تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی تفصیلات شامل ہیں،تحریری جواب میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی یو ایس بی اور سی ڈی بھی جمع کروا دی گئی ،تحریری جواب میں انٹرویو کی انگریزی اور اردو میں ٹرانسکرپٹ بھی جمع کروائی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ 8 جنوری کو ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت کرے گا,9 رکنی لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی معاونین کی تقرری کیلئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی درخواست منظورکر لی گئی، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس میں خالد جاوید خان، صلاح الدین احمد اور زاہد ابراہیم بطور عدالتی معاون مقررکئے گئے ہیں،یاسر قریشی اور ریما عمر کوبھی عدالتی معاون کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاونین کا تقرر آئینی اور قانونی امور میں شرکت کے لیے کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس منظور احمد ملک اور پشاور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس اسد اللہ خان چمکنی کو عدالتی معاون مقررکیا جاتا ہے،دونوں معزز سابق جج صاحبان آئینی و قانونی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں،عدالت دونوں سابق جج صاحبان کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتی ہے، دونوں سابق جج صاحبان زبانی یا تحریری طور پر عدالت کی معاونت کرسکتے ہیں،

  • براہ راست  سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا، چیف جسٹس

    براہ راست سماعت سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا، چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس بنا تو پتہ چلا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا چیئرمین بھی ہوں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بورڈ کے اراکین میں تمام اہم شخصیات شامل ہیں،فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی مضبوط بورڈ کے تحت کام کررہی ہے،فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی رابطے کا بہترین ذریعہ ہے، اکیڈمی میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات ہیں، جوڈیشل اکیڈمی مختلف علاقوں ، صوبوں سے آئے ججز کو اکٹھے کرنے کا ذریعہ ہے،ہم نے اپنے کورٹ اسٹاف کو پہلے کبھی اہمیت نہیں دی،یہ پہلی بار ہے کہ کورٹ اسٹاف کو بھی جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت دینگے،اکیڈمی میں مختلف مراحل کے تحت تربیت فراہم کی جارہی ہے،جسٹس منصورعلی شاہ نے اپنی تعیناتی کے بعد اکیڈمی میں بنیادی تبدیلیاں کیں ، ملک بھر میں 3200 ججز اہم فرائض انجام دے رہے ہیں،ججز اکیڈمی آکر اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں،ہائیکورٹس کے چیف جسٹس بھی اکیڈمیز میں عملہ کی تربیت کا اہتمام کریں،اکیڈمی میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھ کر اطمینان محسوس کررہا ہوں،سول ججز تربیت یافتہ ہونگے تو اعلیٰ عدلیہ پر کیسز کا دباؤ کم ہوگا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میں پہلا چیف جسٹس ہوں جس نے کیسز کی لائیو کوریج کو مُتعارف کروایا۔ بطور چیف جسٹس پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کو براہ راست نشر کیا،سماعت براہ راست سے عام شہری بھی انصاف ہوتا دیکھے گا،یہ عمل انصاف کے نظام میں مزید شفافیت لائے گا،ٹیکنالوجی قلم کی طرح اہم ذریعہ ہے،یہ علم کے لیے اہم ذریعہ ہے،قانون کے طالبعلم براہ راست کیسز کی سماعت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں،عام لوگوں میں یہ اعتماد بحال کروانا ضروری ہے کہ انصاف ہو رہا ہے ،انصاف کا بہتر نظام مقدمات کا دباؤ کم کرے گا،براہ راست نشریات کی کچھ ڈاون سائیڈز بھی ہیں، گھر جاتا ہوں تو بیگم کہتی ہیں آپ ٹھیک سے نہیں بیٹھے تھے،انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے میں یہ جملہ روز اپنے ذہن میں رکھتے عدالت آتا ہوں،بطور وکیل اپنے خلاف فیصلے آنے پر کبھی برا نہیں منایا تھا،

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    قاضی کا کھڑاک،الیکشن 8 فروری کو،عدت میں بدعت،جنرل فیض حاضر ہو

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کرلیا

    وزیراعظم کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن انچیف کے طور پر نوٹس جاری کیا گیا، صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد خالد سجاد کھوکھر کی درخواست پر نوٹسز جاری کیے گئے،پٹیشنر نے اپنی جگہ طارق منصور بگٹی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ایڈہاک بنیاد پر صدر بنانے کا نوٹی فکیشن چیلنج کیا تھا،کیس کی سماعت کے تحریری حکمنامہ میں لکھا گیا کہ پٹیشنر کے وکیل کے مطابق وزیراعظم نے 21 دسمبر 2023 کو طارق بگٹی کو ہاکی فیڈریشن کا صدر مقرر کیا، وکیل کے مطابق پٹیشنر 18 اگست 2022 کو چار سال کی مدت کے لیے ہاکی فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے،پٹیشنر کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی چار سالہ مدت مکمل ہونے پر آئندہ الیکشن 2026 میں ہوں گے، پٹیشنر کے وکیل نے کہا ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن انچیف کے پاس صدر کو ہٹا کر کسی اور کو عہدہ دینے کا اختیار نہیں،

    صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن میرطارق حسین بگٹی نے پانچ رکنی کمیٹی بنادی۔

    پاکستان واپڈا ٹیم ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی چیمپین بن گئی

    حیدر حسین کی جگہ رانا مجاہد ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری منتخب

  • تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    تاحیات نااہلی کیس،سپریم کورٹ میں دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ ،سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس امین الدین خان،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بینچ کا حصہ ہیں،عدالتی کاروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھائی جارہی ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نااہلی سے متعلق انفرادی مقدمات اگلے ہفتے سنیں گے، اس وقت قانونی اور آئینی معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ اسی عدالت کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں سوال اٹھایا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انفرادی لوگوں کے الیکشن معاملات آئندہ ہفتے سنیں گے، ہو سکتا ہے تب تک ہمارا اس کیس میں آرڈر بھی آچکا ہو، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کیمطابق نااہلی کا ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا، سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمر ختم نہیں ہوتا،کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی،کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق الیکشن سے پہلے ہی ہوتا ہے یا بعد بھی ہو سکتا ہے؟

    ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم خود کو آئین کی صرف ایک مخصوص جز تک محدود کیوں کر رہے ہیں،ہم آئینی تاریخ کو ، بنیادی حقوق کو نظرانداز کیوں کر رہے ہیں،آئین پر جنرل ایوب سے لیکر تجاوز کیا گیا، مخصوص نئی جزئیات داخل کرنے سے کیا باقی حقوق لے لیے گئے؟ ہم پاکستان کی تاریخ کو بھول نہیں سکتے، پورے ملک کو تباہ کرنے والا پانچ سال بعد اہل ہوجاتا ہے، صرف کاغذات نامزدگی میں غلطی ہو جائے تو تاحیات نااہل؟ صرف ایک جنرل نے یہ شق ڈال دی تو ہم سب پابند ہو گئے؟خود کو محدود نہ کریں بطور آئینی ماہر ہمیں وسیع تناظر میں سمجھائیں،کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے، اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ پاکستان کی پارلیمان کا جو امتحان ہے، کیا وہ دنیا کی کسی پارلیمان کا ہے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کہا گیا کہ عام قانون سازی آئینی ترمیم کا راستہ کھول سکتی ہے،اسکا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنی مرضی سے جو فیصلہ چاہیں کردیں؟ کیا ہمارے پارلیمان میں بیٹھے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے سکتا ہے، الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا دو سال ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کرتا ہے،کیا سزا تاحیات ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے، نیب قانون میں بھی سزا دس سال کرائی گئی، آئین وکلاء کیلئے نہیں عوام پاکستان کیلئے ہے،آئین کو آسان کریں،آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں، فلسفانہ باتوں کے بجائے آسان بات کریں،اگر کوئی سونا چند گرام لکھوایا تو کیا ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لوگوں کو طے کرنے دیں کون سچا ہے کون ایماندار ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایک مخصوص کیس کے باعث حلقے کے لوگ اپنے نمائندے سے محروم کیوں ہوں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر عدالت ڈکلیریشن کی ہی تشریح کر دے تو کیا مسئلہ حل ہوجائے گا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ماضی کا حصہ بنے ہوئے ڈیکلریشن کا عدالت دوبارہ کیسے جائزہ لے سکتی ہے؟جو مقدمات قانونی چارہ جوئی کے بعد حتمی ہوچکے انہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ڈیکلریشن حتمی ہوچکا ہے تو الیکشن پر اس کے اثرات کیا ہونگے؟
    مدت پانچ سال طے کرنے کا معاملہ عدالت آیا، کیا ہم 232 تین کو ریڈ ڈاون کرسکتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ بہت مشکوک نظریہ ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ پارلیمنٹ 232تین کو اسطرح طے کرے کہ سول کورٹ سے ڈگری ہوئی تو سزا پانچ سال ہوگی، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ 185 کے تحت اپیلیں سن رہا ہے، 232 تین کو اگلی پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے،عدالت نے طے کرنا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس درست تھا یا نہیں، اگر سمیع اللہ بلوچ کیس کالعدم قرار دیا گیا تو قانون کا اطلاق ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم سیکشن 232 دو کو کیسے کالعدم قرار دیں وہ تو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کا اصول عدالتی فیصلے سے طے ہوا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں فیصلے میں تاحیات کا زکر نہیں ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا جب تک ڈیکلریشن رہے گا نااہلی رہے گی،

    پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا،چیف جسٹس
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیصل واوڈا کیس میں آپکا کیا خیال ہے ، جسٹس منصور علی خان نے کہا کہ وہاں ڈکلیریشن نہیں تھا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پارلیمنٹ نے نا اہلی کی مدت طے کرائی تو یہ سوال تو اکیڈمک سوال ہوا کہ نا اہلی کی مدت کیا ہو گی ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو کالعدم قرار دیں تو سزا کتنی ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ کہہ چکا ہے نا اہلی 5 سال ہو گی ، کیا سمیع اللہ بلوچ کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس دیا گیا تھا؟ ریکارڈ منگوا لیں , جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 232 دو عدالتی معاون کے مطابق سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو بے اثر کر دیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دیکھے ، سیکشن 232 تین چیلنج ہی نہیں ، امریکہ میں قانون کالعدم ہو تو کانگرس نیا قانون بنا لیتی ہے، امریکی کانگرس اپنی عدالت کو قائل کرتی ہے کہ اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس لے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ واپس ہونے تک مدت کم نہیں ہوسکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ڈیکلریشن کی مدت پانچ سال کی گئی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کی مدت مناسب وقت کیلئے ہونی چاہیے تاحیات نہیں، اگر کوئی قانون چیلنج کرے پھر عدالت دیکھے گی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پورا پاکستان 5 سال نا اہلی مدت کے قانون سے خوش ہے،کسی نے قانون چیلنج ہی نہیں کیا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو ختم کریں کیونکہ بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا، سربراہ پی ٹی آئی کو نا اہل نہیں کیا گیا ،شکیل اعوان، خواجہ آصف، شیخ رشید کیسز دیکھیں تو تا حیات نا اہلی کا فیصلہ لکھنے والے جج آہستہ آہستہ مؤقف بدلتے رہے ،

    نواز شریف کا نام لینے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لیں،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی فیس نہ ملی ہو
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ایسی کوئی مثال ہے سمیع اللہ بلوچ کے بعد کیس کو تا حیات نا اہل کیا گیا ہو ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ڈکلیریشن کو ختم کیا گیا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ثناء اللہ بلوچ کے لیے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں کچھ کہا گیا ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف کو نا اہل کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کا نام نہ لینا ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تنخواہ لینے کا سہارا لے کر نا اہلی کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ بات نا کریں جو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں ،وکیل وہ کیس نہیں لڑتا جس کی اسے فیس نہ ملی ہو ،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی فیصلے تک ہر شخص کی صادق اور امین ہوگا، ایک دو غلطیوں سے کسی کو بے ایمان قرار نہیں دیا جا سکتا،اگر کوئی غلطی ہو بھی تو پانچ سال کی مدت مقرر کر دی گئی ہے، ایسا کوئی ڈیکلریشن آج تک نہیں آیا کہ کوئی صادق اور امین نہ ہو، جرائم پیشہ افراد کو ایماندار اور امین قرار نہیں دیا جا سکتا، نااہلی کا ڈیکلریشن شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کسی کو نااہل قرار نہیں دے سکتیں،

    تاحیات نااہلی کیس، وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز، اٹارنی جنرل کے دلائل
    دوبارہ وقفے کے بعد سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے 2015 کے اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ کورٹ آف لا کیا ہو گی 2015 میں سات رکنی بنچ نے یہ معاملہ اٹھایا، سمیع اللہ بلوچ کیس نے کورٹ آف لا کے سوال کا جواب نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں کیا اسحاق خاکوانی کیس کا حوالہ موجود ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں خاکوانی کیس کو ڈسکس نہیں کیا گیا، جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا تھا یہ معاملہ متعلقہ کیس میں دیکھیں گے، اس کے بعد مگر یہ معاملہ کبھی نہیں دیکھا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی نے یہ نہیں کہا یہ معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اختیارمیں ہے؟ اسلامی معاملات پر دائرہ اختیار تو شریعت کورٹ کا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ آف لاء سے متعلق سمیع اللہ بلوچ نے فیصلہ نہیں کیا لیکن اسحاق خاکوانی کیس میں 2015 میں یہ معاملہ اٹھا تھا، اسحاق خاکوانی کیس میں 7 رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں نااہلی کی ڈکلئیریشن پر سوالات اٹھائے، اسحاق خاکوانی کیس میں یہ کہا گیا کہ نااہلی سے متعلق سوالات کا آئندہ کسی کیس میں عدالت فیصلہ کرے گی، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو سوالات اسحاق خاکوانی کیس میں اٹھائے گئے ان کا فیصلہ ہم کریں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو مختلف آئینی سوالات کا تعین کرنا ہو گا،عدالت فیصلہ کرے کہ نااہلی کی ڈکلیریشن کس نے دینی ہے،عدالت فیصلہ کرے کہ کورٹ آف لاء کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسحاق خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ فیصلہ کر چکا تھا تو پانچ رکنی بنچ نے وہ فیصلہ کیوں نہ دیکھا؟سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ سات رکنی بنچ کے فیصلے کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے؟سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے ماضی کے فیصلے کو نظرانداز کر کے تاحیات نااہلی کا فیصلہ کر دیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سابق جسٹس عمر عطا بندیال کے سمیع اللہ بلوچ کیس فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خاکوانی کیس میں سات رکنی بنچ تھا، سمیع اللہ بلوچ میں پانچ رکنی بنچ تھا،سات رکنی بنچ نے کہا یہ معاملہ لارجر بنچ دیکھے گا، بعد میں پانچ رکنی بنچ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں پانچ رکنی بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ کیسے دیا؟یاتو ہم کہیں سپریم کورٹ ججز کا احترام کرنا ہے یا کہیں نہیں کرنا،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خاکوانی کیس میں بھاری نوٹ لکھا، میں اس نوٹ سے اختلاف کر نہیں پا رہا انہوں نے کہا ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے ابھی ہم نے پہلی رکاوٹ ہی عبور نہیں کی، ڈیکلیریشن کا طریقہ کار کیا ہو گا یہ ہم کیسے طے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے طے کر دی ہے پانچ سال کی مدت، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے صرف نااہلی کی مدت کا تعین کیا ہے،نااہلی کی ڈکلئیریشن اور طریقہ کار کا تعین ابھی نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منصور صاحب اس کا جواب یہ دیں کہ پارلیمنٹ آئندہ یہ بھی طے کر لے گی،عدالتیں قانون نہیں بناتیں، عدالتیں صرف پارلیمنٹ کے بنائے قانون کا جائزہ لے سکتا ہے کہ قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں، آئین بنانے کے ماہرین نے 1973 کا آئین بنا دیا،پھر ٹہلتے ہوئے آئے کہا ایسی چیزیں ڈال دیں کہ سر نہ اٹھا سکیں،جس کو چاہیں نااہل کردیں ،صحیح یا غلط باسٹھ ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا،نااہلی کی مدت کا تعین نہ کرنا انکا فیصلہ تھا میں کیوں کروں، مبشر حسن کیس میں سترہ ججز نے 62 ون ایف کو خود سے لاگو ہونے نہ ہونے کا کہا، آج ہم سب بھی بیٹھ جائیں تو سترہ ججز نہیں بنتے

    تاحیات نااہلی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہو رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خوش آمدید،کب سے انتظار کر رہے تھے کہ کوئی سیاسی جماعت آئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم فرد واحد کے لیے کی گئی، آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق آئینی ترمیم لازمی ہوگی،الیکشن ترمیمی ایکٹ میں خامیاں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سے مسئلہ ہے تو اسے چیلنج کریں،تحریک انصاف نے ہمارے سامنے کوئی درخواست دائر نہیں کی، جسٹس مندوخیل نے پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہم تو آج کل دیر ہی کر رہے ہیں،

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مختصر فیصلہ جلد سنایا جائیگا،ممکنہ طور پر آج فیصلہ نہیں سنایا جائیگا،

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    تحریک انصاف کے رہنما ،شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی پی ٹی آئی وکلا اور مقدمات میں جو کمنٹ ہیں وہ انصاف کے مطابق نہیں،

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کاغذات جو مسترد ہوئے،وہ سپریم کورٹ کو نظر نہیں آ رہا، ملک بھر میں تجویز کنندہ اغوا ہو رہے ہیں اور چیف جسٹس صاحب سمجھ آ رہے ہیں کہ ملک میں امن ہے، پہلی بار تحریک انصاف چیف جسٹس کے اس کنڈکٹ کو انتہائی نامناسب سمجھتی ہے،اگر ہمیں کوئی انصاف نہیں دے سکتا تو ہماری توہین نہ کی جائے، ہمارا مذاق نہ اڑایا جائے،سپریم کورٹ کو علم ہے کہ ہر دور میں لوگ اغوا ہوئے، سپریم کورٹ عوام کے حق کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے، پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ہمارے دور میں جو ریفرنس چیف جسٹس کے خلاف دائر کیا گیا تھا، شاید چیف جسٹس دل سے اسے نکال نہیں سکے، اس وجہ سے انکے کمنٹس آتے ہیں، نواز شریف کی نااہلی ختم کرنے پر بینچ بن گیا، عمران خان کے لئے نہیں، انصاف کا تقاضا ہوتا کہ عمران خان کے لئے بھی بینچ بن جاتا، ہمارے مقدمات تاخیر کا شکار ہیں، پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ہوتے ہوئے ہمیں انصاف نہیں ملنے والا،پورا نظام ہمارے خلاف لگا ہوا ہے،ایسے میں عدل سے وابستہ اداروں سے ہماری تضحیک، کیسوں‌کا نظر انداز ہونا، یہ کسی جج کے کنڈکٹ کے شایان شان نہیں.ہماری تضحیک کرنے سے باز آ‌جائیں، کوئی حق نہیں کہ ہمیں نشانہ ستم بنائیں، عمران خان نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے،عمیر نیازی کو جونوٹس بھیجا گیا وہ دیکھ لیں، آر او کو کٹہرے میں کرنے کی بجائے عمیر نیازی کو نوٹس بھیجا گیا، الیکشن کمیشن ،آئی جی سےباز پرس نہیں کی گئی، تجویز، تائید کنندہ اغوا ہو رہے ہیں،یہ کیسی لیول پلینگ فیلڈ ہے،

    جےیو آئی شیرانی کے ساتھ سیٹ جسٹمنٹ ہو گی،شیر افضل مروت
    شیر افضل مروت کا کہناتھا کہ عمران خان نے جے یو آئی شیرانی کے ساتھ الائنس کی منظوری دے دی ہے، دو رکنی کمیٹی بنا دی ہے، جو الائنس پر کام کرے گی، جے یو آئی شیرانی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گی، عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ سپریم کورٹ میں جو ہمارے مقدمات ہیں، انکی سماعت کے لئے پٹیشن دائر ہونی چاہئے،ہم نے قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بننے پر خیر مقدم کیا تھا لیکن اب سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں کر رہے بلکہ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں،توہین کوئی برداشت نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ سے ہمیں انتظامی طور پر کوئی ریلیف نہیں ملا،

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ