Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ گنجائش سے زیادہ قیدی پنجاب میں ہیں۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جیل اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم اور جسٹس شمس محمود ،ہوم اینڈ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹریز، انسپکٹرز جنرل آف پولیس اور جیل خانہ جات، رجسٹرار سپریم کورٹ، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن، سینٹرل جیل لاہور کی سپرنٹنڈنٹ صائمہ امین خواجہ نےبھی ا جلاس میں شرکت کی، اجلاس میں حکومتی رکن سینیٹر احد چیمہ نے بھی شرکت کی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے، جیلوں میں گنجائش 66 ہزار 625 جبکہ قیدیوں کی تعداد 1 لاکھ 8 ہزار 643 ہے پنجاب کی جیلوں میں گنجائش 36 ہزار 365 جبکہ قیدیوں کی تعداد 67 ہزار 837 ہے، قیدیوں میں 36 ہزار 128 ملزمان ٹرائل شروع ہونے کے انتظار میں ہیں، پنجاب میں ان مسائل پر ہنگامی بنیادوں پر زور دینا ہوگا، جیل اصلاحات پر پہلا اجلاس لاہور میں ہورہا ہے گنجائش سے زیادہ قیدی پنجاب میں ہیں-

    پنجاب پولیس میں اربوں روپے کی مالی بےضابطگیوں کا انکشاف

    اجلاس میں فوجداری انصاف میں اصلاحات کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر جیل اصلاحات اور قیدیوں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    جاپان کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ فیوجی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں

  • چیف جسٹس نےتین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ بلا لیا

    چیف جسٹس نےتین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ بلا لیا

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے تین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ واپس بلا لیا ہے

    ان ریسرچرز میں سینئر سول جج ظفر اقبال، سول جج حسن ریاض، اور سول جج وقاص علی مظہر شامل ہیں۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کی ڈیپوٹیشن کے اختتام پر انہیں لاہور ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔ان ریسرچرز میں سے ایک ریسرچر جسٹس منصور علی شاہ کی ٹیم کا حصہ تھے۔اب دوبارہ انہیں سپریم کورٹ میں واپس بلایا گیا ہے،

    چند روز قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نئے سیکریٹری اور ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، سینئر پرائیویٹ سیکریٹری محمد یاسین گریڈ 21 میں چیف جسٹس کے سیکریٹری تعینات ہوئے ہیں، جبکہ سینئر پرائیویٹ سیکریٹری محمد عارف گریڈ 20 میں چیف جسٹس کے ایگزیکٹو آفیسر بنے ہیں۔

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

  • ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں اراضی تنازع کیس کی سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، اس دوران کیسز کو طویل عرصہ لگنے سے متعلق چیف جسٹس یحیٰیٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے ہیں،عدالت میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ تحریری حکم میں ہمیں متعلقہ فورم سے رجوع کی ہدایت کر دے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف ایک اپیل سن رہا تھا، وکیل نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت جاری کرے،حکم میں ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے، کبھی کبھی سپریم کورٹ کے 1 جملہ لکھنے سے 18، 18سال کیسز چلتے رہتے ہیں، جسٹس شاہد بلال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے لکھے بغیر بھی متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتے ہیں،سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

  • چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے دفتر میں اہم افسران تعینات کردیئے-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی منظوری کے بعد نئے افسران کی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا جس کے مطابق چیف جسٹس نے اپنا نیا سیکرٹری اور ایگزیکٹو آفیسرتعینات کر دیا ہے-

    نوٹیفکیشن کے مطابق سینئر پرائیویٹ سیکرٹری محمد یاسین کو گریڈ 21 میں چیف جسٹس پاکستان کا سیکرٹری جبکہ سینئر پرائیویٹ سیکرٹری محمد عارف کو گریڈ 20 میں چیف جسٹس کا ایگزیکٹو آفیسر تعینات کردیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا رجسٹرار سپریم کورٹ بھی جلد تعینات کردیا جائے گا، موجودہ رجسٹرار جزیلہ اسلم کے جج کے طور پر واپسی کے امکانات ہیں جبکہ چیف جسٹس کے اسٹاف افسر کی بھی جلد تعیناتی بھی متوقع ہے۔

    ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی بہت ہیں،وسیم اکرم نے ایسا کیوں کہا؟

    واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 26 اکتوبر 2024 کو پاکستان کے 30 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا،پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے جسٹس یحییٰ آفریدی نے ابتدائی تعلیم لاہور کے ایچیسن کالج سے حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا جبکہ انھوں نے قانون کی تعلیم برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔

    جسٹس آفریدی نے 1990 میں ہائیکورٹ کے وکیل کی حیثیت سے پریکٹس شروع کی جبکہ 2004 میں سپریم کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا۔

    اس دوران وہ خیبر پختونخوا کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی عہدے پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔

    فلائی جناح کا لاہور اور ریاض کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز

    سنہ 2010 میں پشاور ہائیکورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات ہونے سے پہلے وہ ’آفریدی، شاہ اور من اللہ‘ لا فرم کا حصہ تھے۔ یہ وہی ادارہ ہے جس کے دیگر دو شراکت دار وکیل منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ بھی جسٹس آفریدی کی طرح سپریم کورٹ کے جج بنے۔

    سنہ 2012 میں جب جسٹس آفریدی کو پشاور ہائیکورٹ کا مستقل جج تعینات کیا گیا تو انھوں نے اس لا فرم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

    ہائیکورٹ میں چار سال کام کے بعد 30 دسمبر 2016 کو جسٹس آفریدی کو پشاور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا۔ پشاور ہائیکورٹ میں چھ برس کا عرصہ گزارنے کے بعد 28 جون 2018 کو انھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی …

  • چیف جسٹس کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس ہوا،

    اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز نے شرکت کی. سینیئر پیونی جج جسٹس منصور شاہ سعودی عرب سے آن لائن شریک ہوئے.سپریم کورٹ میں فل کورٹ اجلاس ختم ہو چکا ہے،فل کورٹ اجلاس لگ بھگ ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ اجلاس سپریم کورٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے حوالے سے منعقد کیا گیا، مقصد مقدمات کی تعداد میں کمی اور عدالتی کارکردگی کو بڑھانا تھا، سپریم کورٹ کے ججز کا فُل کورٹ اجلاس دو دسمبر کو دوبارہ ہو گا،سپریم کورٹ کے فُل کورٹ اجلاس میں زیرالتواء 59 ہزار سے زائد مقدمات کو نمٹانے اور کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں، رجسٹرار سپریم کورٹ نے زیر التواء مقدمات سے متعلق بریفنگ دی،

    جاری اعلامیہ کے مطابق یہ اجلاس ادارے میں سپریم کورٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور مقدمات کو نمٹانے کے لیے بلایا گیا تھا، جس میں کیس کے بیک لاگ کو کم کرنے اور عدالتی کارکردگی کو بڑھانے کے اقدامات پر توجہ دی گئی تھی۔ رجسٹرار نے موجودہ کیس بوجھ کا ایک جائزہ فراہم کیا اور مقدمات کے بروقت فیصلے کے لیے اقدامات کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے تازہ ترین اعدادوشمار پیش کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت 59,191 مقدمات زیر التوا ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ کے تیار کردہ کیس مینجمنٹ پلان 2023 پر مبنی ایک ماہ کا نیا منصوبہ متعارف کرایا۔ اس منصوبے میں واضح معیارات کا تعین کرنا، تمام زمروں کے مقدمات کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا شامل ہے۔کیس مینجمنٹ پلان کا جائزہ لیتے ہوئے، معزز ججوں نے پلان کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے متعدد حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ فوجداری اور دیوانی مقدمات، جیسا کہ ماہانہ پلان میں تفصیل سے بتایا گیا ہے، خصوصی دو اور تین رکنی بنچوں کو مختص کیے گئے تھے تاکہ کیس کے جلد اور جلد حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ عزت مآب ججز نے نظام کی مزید بہتری کے لیے قیمتی بصیرت اور سفارشات پیش کیں، عزت مآب جسٹس سید منصور علی شاہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہوئے اضافی تجاویز پیش کیں جن کا مقصد کیس کے بیک لاگ کو کم کرنا اور ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے طریقہ کار کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے اور اس کے بعد تین ماہ اور چھ ماہ کے منصوبے شامل ہیں۔ معزز چیف جسٹس نے تمام ججز کا شکریہ ادا کیا کہ وہ کیس مینجمنٹ پلان کو مکمل طور پر لاگو کرنے کے عزم کے ساتھ بیان کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ ہیں۔ 2 دسمبر 2024 کو طے شدہ فل کورٹ میٹنگ کے اگلے سیشن میں پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

    باخبر ذرائع کے مطابق فل کورٹ اجلاس میں ججز کے تحفظات سمیت مختلف عدالتی امور زیر غور آئے،واضح رہےکہ 26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس مقرر کیا تھا،ان کی تقریب حلف برداری میں جسٹس منصور علی شاہ نے عمرے پر ہونے کے سبب شرکت نہیں کی تھی

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا ورکنگ ڈے، ایک گھنٹہ 15 منٹ میں 24 مقدمات کی سماعت مکمل کی۔

    چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے ہفتہ کو چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف لیا تھا، حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی تھی، بعد ازاں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم کورٹ پہنچے تو انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،آج چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا ورکنگ ڈے ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پہلے دن سوا گھنٹے میں ریکارڈ 24 مقدمات کی سماعت مکمل کی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ساڑھے 9 سے پونے 10 بجے تک 15 منٹ میں 30 مقدمات کی سماعت کی۔انہوں نے 30 میں سے 6 مقدمات مختلف وجوہات پر ساڑھے11 بجے تک ملتوی کر دیے۔

    دوسری جانب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت سپریم کورٹ میں فل کورٹ اجلاس آج ہو گا،فل کورٹ اجلاس میں تمام دستیاب جج شریک ہوں گے، جس میں اہم انتظامی فیصلے متوقع ہیں، فل کورٹ اجلاس میں عدالتی اصلاحات پر بھی غور کیا جائے گا،سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ عمرے کی ادائیگی کے باعث فل کورٹ اجلاس شریک نہیں ہو سکیں گے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب

  • 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست

    26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست

    26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کردی گئی ہے

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف نئی درخواست ایڈووکیٹ میاں آصف کی جانب سے 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت ،وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کو فریق بنایا گیا ہے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے، پارلیمان عدلیہ کی آزادی کے خلاف ترمیم نہیں کر سکتی، عدلیہ کی آزادی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا جزو ہے،پارلیمان کی عدالتی امور میں مداخلت عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی فراہمی کو متاثر کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل بھی سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی تھی، افراسیاب خٹک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں ن لیگ، پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیا ہے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے، 26ویں آئینی ترمیم میں ارکان اسمبلی نے ووٹ رضا کارانہ طور پر ڈالا یا دباؤ کے تحت انکوائری کی جائے،سپریم کورٹ معاملے کے خود انکوائری کرے یا جوڈیشیل کمیشن کے ذریعے ارکان پر دباؤ کے معاملے کی انکوائری کروائے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش،فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر کو طلب

    چیف جسٹس یحی آفریدی حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ پہنچ گئے

    چیف جسٹس یحیی آفریدی کو سپریم کورٹ پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،رجسٹرار سپریم کورٹ جزیلہ سلیم نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا،جسٹس یحیی آفریدی نے چیف جسٹس چئمبر سنبھال لیا،سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 28 اکتوبر کو ججز کا فل کورٹ اجلاس بلا لیا

    دوسری جانب سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ کی ویب سائٹ بھی اپڈیٹ کر دی گئی،ویب سائٹ پر قاضی فائز عیسیٰ کی جگہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا نام چیف جسٹس پاکستان کے طور پر اپڈیٹ کر دیا گیا۔ویب سائٹ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سینئر موسٹ جج جسٹس منصور علی شاہ ہیں

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف لے لیا ہے،چیف جسٹس پاکستان کی تقریب حلف برداری ایوان صدر میں ہوئی جہاں صدر مملکت آصف زرداری نے ان سے حلف لیا،تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزرا سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباو کو نظر انداز کیا،جسٹس منصور کا خط

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف لے لیا ہے

    چیف جسٹس پاکستان کی تقریب حلف برداری ایوان صدر میں ہوئی جہاں صدر مملکت آصف زرداری نے ان سے حلف لیا،تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزرا سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی تقریب میں شریک ہوئے،نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی حلف برداری تقریب میں جسٹس منیب اختر ، جسٹس اطہر من اللہ ، جسٹس عائشہ ، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، علی امین گنڈا پور بھی شریک ہوئے

    26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس کیلئے نامزد کیا تھا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آ فریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری دی تھی،صدر زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی 26 اکتوبر سے 3 سال کے لیے کی ہے، صدر پاکستان نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت کی

    جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان کے 30 ویں چیف جسٹس پاکستان مقرر کئے گئے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب ہیں وہ حلف برداری تقریب میں شریک نہ ہوئے.تقریب حلف برداری کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے،

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کاتجربہ، دانشمندی ،قانونی علم قانون کی بالادستی کو مضبوط بنانے میں رہنمائی کرے گا،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چیف جسٹس آف پاکستان کی حلف برداری تقریب میں شرکت کی،وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھانے پر مبارکباد دی،وزیراعظم نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے لئے نیک خواہشات کا اظہارکی اور کہا کہ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،ان کا تجربہ، دانشمندی اور قانونی علم عدلیہ کو انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کو مضبوط بنانے میں رہنمائی کرے گا،مجھے یقین ہے کہ ان کی قیادت میں عدلیہ پاکستانی عوام کو عدل و انصاف کی فراہمی کے لئے دیانتداری سے کام کرتی رہے گی

    دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور چیف جسٹس پاکستان حلف اٹھانے پر مبارکباد دی اور کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اسپیکر قومی اسمبلی نے چیف جسٹس یحیی آفریدی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کا چیف جسٹس بننا انتہائی عزت اور اعزاز کی بات ہے،کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا،عدل و انصاف کا نظام بہتر ہوگا تو جمہوریت مضبوط ہوگی ملک ترقی کرے گا، پر امید ہوں جسٹس آفریدی ملک میں آئین و قانون کے مطابق عدل و انصاف کے نظام کو مزید مستحکم کریں گے،پارلیمان 25 کروڑ عوام کی آواز اور امیدوں کا مرکز ہے، خوشی ہے کہ چیف جسٹس کا تقرر پارلیمان نے آئین کے مطابق عوامی رائے اور ملکی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا،آئین پاکستان کی مکمل پاسداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے،ریاست کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی ائینی ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں سر انجام دیں، چیف جسٹس یحیی آفریدی کی دانشمندانہ قیادت میں عدالتی نظام مذید مستحکم ہو گا ۔ چیف جسٹس عوام کو فوری اور بلا امتیاز انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ اسپیکر نے جسٹس یحیی آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کامیابی کی دعا کی.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباو کو نظر انداز کیا،جسٹس منصور کا خط

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس،کئی ججز شریک نہ ہوئے

    قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس،کئی ججز شریک نہ ہوئے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا

    فل کورٹ ریفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا،فل کورٹ ریفرنس میں ایڈہاک ججز سمیت سپریم کورٹ کے ججز شریک ہیں،سینئر پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ بیرون ملک ہونے کے باعث شریک نہ ہوئے،جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ بھی فل کورٹ میں شریک نہ ہوئے،جسٹس شہزاد احمد خان بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوئے،فل کورٹ ریفرنس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی ،نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججز شریک ہیں ،فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے وکلاء، عدالتی عملہ اور صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہے،ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس جمال خان مندوخیل شریک ہیں،ریفرنس میں جسٹس محمد علی مظہر ،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شریک ہیں،ریفرنس میں جسٹس مسرت ہلالی ،جسٹس عرفان سعادت خان ،جسٹس نعیم اختر افغان شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس عقیل عباسی شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں ایڈہاک ججز جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں بھی شریک ہیں، الوداعی ریفرنس میں شریعت اپیلیٹ بنچ کے دو عالم ججز بھی شریک ہیں،الوداعی ریفرنس میں 12 مستقل جج صاحبان، 2 ایڈہاک ججز اور 2 عالم ججز شریک ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یقینی بنایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز اپنی حدود میں کام کریں، اٹارنی جنرل
    چیف جسٹس پاکستان قاضی عیسیٰ کے لیے الوداعی فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے خود کو بطور قابل وکیل منوایا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی بھی نمائندگی کی، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان میں تعلیمی نظام کی روانی یقینی بنائی، انہوں نے بلوچستان میں جنگلی حیات کو بچانے کے لیے کردار اداکیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان 5 سال خدمات انجام دیں، انہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے کردار ادا کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یقینی بنایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز اپنی حدود میں کام کریں، سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کریں،چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالتے ہی قاضی فائیزعیسیٰ نے طویل وقفے تک نہ بلائی گئی فل کورٹ میٹنگ بلائی اور عوامی اہمیت کے مقدمات کو براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ شفافیت اور عوامی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    میری زندگی میں ویٹو پاور میری اہلیہ کو حاصل،ہر کریڈٹ میں میری اہلیہ کاہاتھ ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
    فل کورٹ ریفرنس ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اردومیں تقریر کی اور کہا کہ میں آج اردو میں خطاب کرنا چاہوں گا،آج آئین اور قانون کی باتیں نہیں کروں گا،تقریب میں شریک تمام افراد کامشکور ہوں، اٹارنی جنرل اورفاروق ایچ نائیک کا بھی مشکورہوں ، ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو یہاں موجود نہیں ،افتخار چودھری کاشکریہ جنہوں نے چیف جسٹس بلوچستان بنایا،میرے پیشے اور شادی کو 42 سال ہوگئے،میری اہلیہ نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا،میری زندگی میں ویٹو پاور میری اہلیہ کو حاصل ہے،ہر کریڈٹ میں میری اہلیہ کاہاتھ ہوتا تھا، مجھے کسی سے سیکھنے کو نہیں ملا، وکیلوں نے مجھے بہت سکھایا، بلوچستان میں ایک غیر فعال عدالت عالیہ کا کام شروع ہوا، بلوچستان میں بہت ساری چیزیں کیں،میرے والد بلوچستان کے پہلے بیرسٹر تھے، میری والدہ نے مجھے نصیحت دی ڈگری کرلو پھر جو مرضی کرلینا، تعلیم کے فوراً بعد میری شادی بھی ہوگئی،مجھے ایک دفعہ کال آئی کہ چیف جسٹس بلا رہے ہیں، میں انگریزی اخبار میں لکھ رہا تھا، مجھے لگا چیف جسٹس نے ڈانٹنے کے لیے بلایا ہے، چیف جسٹس نے کہا بلوچستان میں کوئی جج نہیں، آپ چیف جسٹس بنیں، چیف جسٹس بلوچستان بننے کے بعد زندگی بدل گئی، بلوچستان میں جو کام کیے ان کا لوگوں کو معلوم ہے، بلوچستان میں جو کیا اہلیہ کا کردار تھا لیکن اہلیہ نے کہا نام نہیں لایا جائے گا،بلوچستان کے ہر ڈسٹرکٹ میں اہلیہ کے ساتھ گیا، دو لوگ میرے ساتھ آئے، پروفیسر ڈاکٹر مشتاق بطور پرائیویٹ سیکریٹری اور محمد صادق بلوچستان سے ساتھ آئے، جزیلا اسلم کا بطور رجسٹرار انتخاب کرنا اچھا فیصلہ تھا، کبھی کاز لسٹ بنانے میں دخل نہیں کیا۔

    چیف جسٹس فائز عیسی کو اشتعال دلایا جائے تو جہنم کی آگ بھی ان کے سامنے کچھ نہیں، نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
    نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے جانے پر خوشی بھی ہے اور افسوس بھی، کچھ لوگوں کو شاید عجیب لگے لیکن جسٹس فائز عیسی کو مسکرا کر ملیں تو ایسے ہی جواب ملتا،الوداعی ریفرنس سے نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خطاب پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نرم مجاز انسان ہیں، اگر آپ قاضی فائز عیسیٰ کو اکسائیں گے تو پھر آپ پر قیامت ٹوٹ پڑے گی ان کے غصے سے بچنا مشکل ہے، میں نے بھی ایک مرتبہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز کے غصے کا سامنا کیا،میرا یہ تجزیہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا، اگر چیف جسٹس فائز عیسی کو اشتعال دلایا جائے تو جہنم کی آگ بھی ان کے سامنے کچھ نہیں، چیف جسٹس فائز عیسی جسٹس یحی آفریدی کی باتیں سن کر ہنسنے لگے،نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے اعزاز میں ظہرانہ سرکاری خرچ پہ نہیں بلکہ ذاتی خرچ پر ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے دور میں خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کیا، چیف جسٹس کا موڈ غصے کے آدھے گھنٹے بعد نارمل ہوجاتا تھا،چیف جسٹس کے اعزاز میں آج دیا جانے والا ظہرانہ سرکاری خرچ پر نہیں، چیف جسٹس نے کہا ظہرانے کا خرچ آپ خود اٹھائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کمی محسوس کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اچھا دور گزار کرجارہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بہترین انسان پایا،چیف جسٹس خواتین کے حقوق کے لیے پیش پیش رہے ہیں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے بہت کچھ سیکھا ہے،میں اور ساتھی ججز ساتھی ججز اور متعلقہ ہائی کورٹس کے تعاون سے دعا ہے اللہ ہمیں کامیاب کرے، چیف جسٹس کے اہل خانہ کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کرتا ہوں،قوم کیلئے ضروری ہے کہ اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے، فوری طور پر دور دراز علاقوں کی ضلعی عدلیہ پر توجہ دینا ہوگی، میری پہلی ترجیح دوردراز علاقوں کی ضلعی عدلیہ ہوگی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ پر بیرونی دباو کو نظر انداز کیا،جسٹس منصور کا خط

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے